Ayahs 93:1–3ترجمہ :۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، قسم ہے شروع دن کی یا پورے دن کی اور قسم ہے رات کی جب وہ اپنی تاریکی کے ساتھ چھا جائے یا پرسکون ہوجائے (اے محمد ﷺ ! ) تمہارے رب نے تم کو ہرگز نہیں چھوڑا اور نہ وہ آپ سے ناراض ہوا یہ سورت اس وقت نازل ہوئی جب آپ ﷺ سے پندرہ روز تک وحی کا سلسلہ منقطع ہوگیا تو کفار نے کہا تھا کہ : محمد ﷺ کو تو اس کے رب نے چھوڑ دیا اور اس سے نارضا ہوگیا اور یقینا آپ ﷺ کے لئے آخرت دنیا سے بہتر ہے اس لئے کہ آخرت میں (آپ ﷺ کے لئے) عظمتیں ہیں اور عنقریب یقینا آپ ﷺ کا رب آپ ﷺ کو آخرت میں خیر سے اور بےانتہا انعامات سے نوازے گا، کہ آپ ﷺ اس سے خوش ہوجائیں گے تو آپ ﷺ نے فرمایا تب تو میں اس وقت تک راضی نہیں ہوں گا جب تک میرا ایک امتی بھی دوزخ میں رہے گا، یہاں تک جواب قسم دو منفی انعاموں کے بعد دو مثبت انعاموں پر ختم ہوگیا، کیا اس نے آپ ﷺ کو یتیم نہیں پایا آپ ﷺ کے والد کے، آپ ﷺ کی ولادت یا اس کے بعد فوت ہوجانے کی وجہ سے اور پھر ٹھکانہ فراہم کیا ؟ استفہام تقریر کے لئے ہے یعنی آپ ﷺ کو یتیم پایا اس طریقہ پر کہ آپ ﷺ کو آپ ﷺ کے چچا ابو طالب کے ساتھ ملا دیا اور آپ ﷺ کو اس شریعت سے بیخبر پایا جس پر آپ ﷺ اب ہیں تو اس نے آپ ﷺ کی اس کی طرف رہنمائی فرمائی اور آپ ﷺ کو نادار پایا پھر آپ ﷺ کو مستغنی کردیا اس مال غنیمت وغیرہ کے ذریعہ جس پر آپ ﷺ نے قناعت کی اور حدیث میں ہے غ نا مال و متاع کی کثرت سے نہیں ہے بلکہ غنا تو دل کا غنا ہوتا ہے، لہٰذا تم بھی یتیم پر اس کا مال وغیرہ لے کر سختی نہ کرنا اور نہ سائل کو فقر کی وجہ سے جھڑکنا اور اپنے اوپر اپنے رب کی نبوت وغیرہ نعمتوں کو ظاہر کرتے رہنا بیان کرتے رہنا اور بعض افعال سے آپ ﷺ کی (طرف لوٹنے والی) ضمیریں فواصل کی رعایت کی وجہ سے حذف کردی گئی ہیں۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : ضحیٰ دن چڑھے، چاشت کا وقت، ضحیٰ مذکر و مئونث دونوں طرح استعمال ہوتا ہے۔
قولہ : سجی (نصر) سے ماضی واحد مذکر غائب، اس نے سکون پایا، وہ چھا گیا۔
قولہ : وما قلی یہ اصل میں قلک تھا، مفعول بہ کو ماقبل پر قیاس کرتے ہوئے حذف کردیا۔
قولہ : قلی (ض ن) ماضی واحد مذکر غائب سخت نفرت کرنا۔
قولہ : جزیل بہت زیادہ، کثیر۔
قولہ : تم جواب القسم بمثبتین بعد المنفقین جواب قسم ماودع سے شروع ہو کر فترضی پر ختم ہوا ہے، اس میں چار چیزوں کا بیان ہے اول دو یعنی ماودع اور وما قلی منفی ہیں اور اس کے بعد ولاخرۃ خیر لک من الاولی اور لسوف یعطیک ربک فترضیٰ اس میں دو چیزوں کا بیان ہے یعنی خیر آخرت اور اعطاء رب اور یہ دونوں مثبت ہیں۔
قولہ : فاما الیتیم فلاتقھر، الیتیم فلا تقھر کی وجہ سے منصوب (مفعول بہ مقدم) ہے۔
قولہ : وحذف ضمیرہ ﷺ فی بعض الافعال رعایۃ للفواصل اور وہ تین افعال ہیں، (1) ینی فاوی اصل میں فائوک تھا (2) فھدی ای فھداک (3) فاغنی ای فاغنک تھا، مذکورہ تینوں افعال میں سے ضمیر مفعولی کو فواصل کی رعایت کی وجہ سے حذف کردیا گیا ہے۔
تفسیر و تشریح
شان نزول :
اس سورت کے سبب نزول کے متعلق بخاری و مسلم میں حضرت جندب بن عبد اللہ ؓ کی روایت سے آیا ہے اور ترمذی نے حضرت جندب سے روایت کیا ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ کی ایک انگلی زخمی ہوگئی اس سے خون جاری ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا :
ھل انت الا اصبع دمیت وفی سبیل اللہ مالقیت
” یعنی تو ایک انگلی ہی تو ہے جو خون آلود ہوگئی اور جو تکلیف تجھے پہنچی وہ اللہ کی راہ میں ہے “ (اس لئے کیا غم ہے ؟ ) حضرت جندب ؓ نے یہ واقعہ نقل کرنے کے بعد فرمایا کہ اس واقعہ کے بعد (کچھ روز) جبرئیل امین (علیہ الصلوۃ والسلام) جی لے کر نہیں آئے تو مشرکین مکہ نے یہ طعنہ دینا شروع کردیا کہ محمد (ﷺ) کو ان کے خدا نے چھوڑ دیا اور ناراض ہوگیا، اس پر یہ سورت نازل ہوئی، حضرت جندب ؓ کی روایت جو بخاری میں ہے اس میں ایک دورات تہجد کے لئے نہ اٹھنے کا ذکر ہے، وحی کی تاخیر کا ذکر نہیں اور ترمذی میں تہجد میں ایک دورات نہ اٹھنے کا ذکر نہیں صرف وحی میں تاخیر کا ذکر ہے، ظاہر ہے کہ ان دونوں میں کوئی تعارض نہیں ہوسکتا ہے کہ دونوں باتیں پیش آئی ہوں، راوی نے کبھی ایک کو بیان کیا اور کبھی دوسرے کو اور جس نے آپ ﷺ کو طنہ دیا وہ ابولہب کی بیوی ام جمیل تھی، جیسا کہ دوسری روایت میں اس کی صراحت موجود ہے اور تاخیر وحی کے واقعات متعدد مرتبہ پیش آئے ہیں ایک شروع نزول قرآن کے وقت پیش آیا جس کو مانہ فترت وجحی کہا جاتا ہے، یہ سب سے زیادہ طویل تھا ایک واقعہ تاخیر وحی کا اس وقت پیش آیا جب کہ مشرکین اور یہود نے آنحضرت ﷺ سے روح کی حقیقت کے متعلق سوال کیا تھا اور آپ ﷺ نے بعد میں جواب دینے کا وعدہ فرمایا تھا، مگر انشاء اللہ نہ کہنے کی وجہ سے کچھ روز تک سلسلہ وحی بند رہا اس پر مشرکین نے یہ طعنہ دینا شروع کردیا کہ محمد (ﷺ) کا خدا ان سے نارضا ہوگیا اور ان کو چھوڑ دیا اسی طرح کا یہ واقعہ ہے جو سورة ضحیٰ کے نزول کا سبب ہوا یہ ضروری نہیں کہ یہ سب واقعات ایک ہی زمانہ میں پیش آئے ہوں، بلکہ آگے پیچھے بھی ہوسکتے ہیں۔ (معارف)
Ayah 93:4ولاخرۃ خیر لک من الاولی بعض مفسرین نے آخرت اور اولیٰ سے دنیا و آخرت مراد لی ہے اور بعض دیگر مفسرین نے اولی سے ابتدائی دور اور آخرۃ سے بعد کا دور مراد لیا ہے، یہ خوشخبری اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو ایسی حالت میں دی تھی جب کہ چند مٹھی بھر افراد آپ ﷺ کے ساتھ تھے، ساری قوم آپ ﷺ کی مخالف تھی، بظاہر کامیابی کے آثار دور دور تک نظر نہیں آرہے تھے اسلام کی شمع مکہ میں ٹمٹما رہی تھی اور اسی کو بجھانے کے لئے چاروں طرف سے طوفان اٹھ رہے تھے اس وقت اللہ نے اپنے نبی ﷺ سے فرمایا کہ ابتدائی دور کی مشکلات سے آپ ﷺ کی عزت و شوکت اور آپ ﷺ کی قدر و منزلت برابر بڑھتی چلی جائے گی اور آپ ﷺ کا نفوذ واثر پھیلتا چلا جائے گا، پھر یہ وعدہ صرف دنیا ہی تک محدود نہیں ہے اس میں یہ وعدہھی شامل ہے کہ آخرت میں جو مرتبہ آپ ﷺ کو ملے گا وہ اس مرتبہ سے بھی بدر جہا بڑھ کر ہوگا جو دنیا میں آپ ﷺ کو حاصل ہوگا، طبرانی نے اوسط میں اور بیہقی نے دلائل میں ابن عباس ؓ کی روایت نقل کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا میرے سامنے وہ تمام فتوحات پیش کی گئیں جو میرے بعد میری امت کو حاصل ہونے والی ہیں اس پر مجھے بڑی خوشی ہوئی، تب اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد نازل فرمایا کہ آخرت تمہارے لئے دنیا سے بہتر ہے۔
Ayah 93:5ولسوف یعطیک ربک فترضی یعنی آپ ﷺ کا رب آپ ﷺ کو اتنا دے گا کہ آپ ﷺ راضی ہوجائیں، اس میں حق تعالیٰ نے یہ متعین کر کے نہیں بتلایا کہ کیا دیں گیڈ اس میں اشارہ عموم کی طرف ہے کہ آپ ﷺ کی ہر پسندیدہ چیز اتنی عطا کی جائے گی کہ آپ خوش ہوجائیں گے، آپ ﷺ کی مرغوب چیزوں میں اسلام کی ترقی، دین اسلام کا عام طور پر دنیا میں پھیلنا وغیرہ وغیرہ سب داخل ہیں، یعنی اگرچہ دینے میں کچھ تاخیر ہوگی لیکن وہ وقت دور نہیں کہ جب آپ ﷺ پر آپ ﷺ کے رب کی عطا و بخشش کی وہ بارش ہوگی کہ آپ ﷺ خوش ہوجائیں گے یہ وعدہ آپ ﷺ کی زندگی ہی میں اس طرح پورا ہوا کہ سارا ملک عرب جنوب کے سوا حل سے لے کر شمال میں سلطنت روم کی شامی اور سطنت فارس کی عرقای سرحدوں تک اور مشرق میں خلیج فارس سے لے کر مغرب میں بحر احمر تک آپ ﷺ کے زیر نگیں ہوگیا، عرب کی تاریخ میں یہ سرزمین پہلی مرتبہ ایک قانون اور ضابطہ کی تابع ہوگئی تھی، جو طاقت بھی اس سے ٹکرائی وہ پاش پاش ہو کر رہ گئی، لوگوں کے صرف سرہی اطاعت کے لئے نہیں جھک گئے بلکہ ان کے قلوب بھی مسخر ہوگئے پوری انسانی تاریخ میں اس کی نظری نہیں ملتی کہ ایک جاہلیت کی تاریکی میں ڈوبی ہوئی قوم صرف 23 سال کے اندر اتنی بدل گئی ہو، اس کے بعد آپ ﷺ کی برپا کی ہوئی تحریک اس طاقت کے ساتھ اٹھی کہ ایشیا افریقہ اور یورپ کے ایک بڑے حصے پر چھا گئی اور دنیا کے گوشے گوشے میں اس کے اثرات پھیل گئے یہ کچھ تو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو دنیا میں عطا فرمایا اور آخرت میں جو کچھ عطا کرے گا اس کی عظمت کا تصور بھی کوئی نہیں کرسکتا۔ حدیث شریف میں ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو آپ ﷺ نے فرمایا ” اذا لا ارضی وواحد من امتی فی النار “ یعنی جب یہ بات ہے تو میں اس وقت تک راضی نہ ہوں گا جب تک میری امت کا ایک فرد بھی جہنم میں رہے گا۔ (قرطبی)
صحیح مسلم میں حضرت عمرو بن عاص ؓ کی روایت ہے کہ ایک روز رسول اللہ ﷺ نے وہ آیت تلاوت فرمائی جو حضرت ابراہیم (علیہ الصلوۃ والسلام) کے متعلق ہے ’ دفمن تبعنی فانہ میں ومن عصانی فانک غفور رحیم “ پھر دوسری آیت تلاوت فرمائی جس میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا قول ” ان تعذبھم فانھم عبادک “ پھر آپ ﷺ نے دعا کے لئے دونوں ہاتھ اٹھائے اور گریہ وز اری شروع کی اور بار بار فرماتے تھے ” اللھم امتی امتی “ حق تعالیٰ نے جبرئیل امین (علیہ الصلوۃ والسلام) کو بھجیا کہ آپ سے دریافت کریں کہ آپ ﷺ کیوں روتے ہیں ؟ (اور یہ بھی فرمایا کہ اگرچہ ہمیں سب معلوم ہے) جبرئیل امین (علیہ الصلوۃ والسلام) آئے اور سوال کیا، آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں امت کی مغفرت چاہتا ہوں حق تعالیٰ نے جبرئیل امین (علیہ الصلوۃ والسلام) سے فرمایا کہ پھر جائو اور کہہ دو کہ للہ تعالیٰ آپ ﷺ سے فرماتے ہیں کہ ہم آپ ﷺ کو آپ ﷺ کی امت کے بارے میں راضی کردیں گے اور آپ ﷺ کو رنجیدہ نہ کریں گے۔ (معارف)
Ayah 93:6الم یجدک یتیماً فاوی یعنی آپ ﷺ کو چھوڑ دینے اور آپ ﷺ سے ناراض ہوجانے کا کیا سوال ؟ ہم تو آپ ﷺ پر اس وقت سے مہربان ہیں جب آپ ﷺ یتیم پیدا ہوئے تھے آپ ﷺ ابھی بطن مادر میں چھ ماہ ہی کے تھے کہ آپ ﷺ کے والد ماجدہ کا انتقال ہوگیا تھا، اس لئے آپ ﷺ دنیا میں یتیم کی حیثیت سے تشریف لائے مگر اللہ تعالیٰ نے ایک دن بھی آپ ﷺ کو بےسہارا نہیں چھوڑا، چھ سال کی عمر تک والدہ ماجدہ نے آپ ﷺ کی پرورش کی، ان کی شفقت سے محروم ہوئے تو آٹھ سال کی عمر تک آپ ﷺ کے جد امجد نے آپ ﷺ کی نگرانی اور پرورش فرمائی اور نہ صرف یہ کہ پرورش فرمائی بلکہ ان کو آپ ﷺ پر فخر تھا اور وہ لوگوں سے کہا کرتے تھے کہ میرا یہ بیٹا ایک دن دنیا میں بڑا نام پیدا کرے گا جب دادا کا بھی انتقال ہوگیا تو آپ ﷺ کے حقیقی چچا ابو طالب نے آپ ﷺ کی کفالت اپنے ذمہ لے لی اور آپ ﷺ کے ساتھ ایسی محبت کا برتائو کیا کہ کوئی باپ بھی اس یس زیادہ نہیں کرسکتا، حتی کہ نبوت کے بعد ساری قوم آپ ﷺ کی دشمن ہوگئی تھی اس وقت دس سال تک وہی آپ ﷺ کی حمایت میں سینہ سپر رہے۔
Ayah 93:7ووجدک ضالاً فھدی لفظ ضال کے معنی گمراہ کے بھی آتے ہیں اور ناواقف وبے خبر کے بھی، یہاں دوسرے معنی مراد ہیں کہ نبوت سے پہلے آپ ﷺ شریعت الٰہیہ کے احکام اور علوم سے بیخبر تھے، اللہ نے آپ ﷺ کو منصب نبوت پر فائز فرما کر آپ ﷺ کی رہنمائی فرمائی۔
Ayahs 93:8–10ووجدک عالاً فاغنی ” غنی کرنے “ کا مطلب ہے کہ ہم نے آپ ﷺ کو اپنے سواہر ایک سے بےنیاز کردیا پس آپ ﷺ فقر میں صابر اور غنی میں شاکر رہے خود نبی ﷺ کا بھی فرمان ہے کہ تو نگری ساز و سامان کی کثرت کا نام نہیں اصل تو نگری دل کی تو نگری ہے۔ (صحیح مسلم کتاب الزکوۃ)
Ayah 93:11واما بنعمۃ ربک فحدث، حدث تحدیث سے مشتق ہے اس کے معنی بات کرنے کے ہیں، مطلب یہ کہ آپ ﷺ اللہ کی نعمتوں کا لوگوں کے سامنے ذکر کیا کریں، کہ یہ بھی شکر گزاری کا ایک طریقہ ہے حتی کہ آدمی جو کسی پر احسان کرے اس کا بھی شکر ادا کرنے کا حکم ہے۔
مسئلہ :۔ ہر نعمت کا شکر ادا کرنا واجب ہے، مالی نعمت کا شکریہ ہے کہ اس مال میں سے کچھ اللہ کے لئے اخلاص نیت کے ساتھ خرچ کرے اور نعمت بدنی کا شکریہ ہے کہ جسمانی طاقت کو اللہ تعالیٰ کے واجبات ادا کرنے میں صرف کرے۔