94. Surah Ash-Sharh

الشرحThe Consolation · 8 ayahsتفسیرِ جلالین

Ayah 94:1

اَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَۙ Open ayah 94:1 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ کیا ہم نے تمہارا سینہ کھول نہیں دیا

ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، اے محمد ﷺ کیا ہم نے تیرا سینہ نبوت وغیرہ کے لئے نہیں کھول دیا استفہام تقریری ہے، یعنی کھول دیا اور ہم نے تجھ سے تیرا وہ بوجھ اتار دیا جس نے تیری پیٹھ توڑ دی یعنی جس نے تیری کمر کو گراں بار کردیا، اور یہ ایسا ہی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا قول ’ دلیغفر لک اللہ ماتقدم من ذنبک وما تاخر “ اور ہم نے تیرا ذکر بلند کردیا بایں طور کہ اذان و اقامت میں اور تشہد اور خطبہ وغیرہ میں میرے ذکر کے ساتھ تیرا بھی ذکر کیا جاتا ہے یقینامشکل کے ساتھ آسانی ہے بیشک مشکل کے ساتھ آسانی ہے، اور نبی ﷺ نے کفار کی جانب سے (بہت) اذیت برداشت فرمائی، پھر آپ کو آسانی حاصل ہوئی آپ کو ان پر فتح دے کر اور جب آپ نماز سے فارغ ہوجائیں تو دعا میں کوشش کیجیے اور اپنے رب ہی کی طرف توجہ رکھئے یعنی عاجزی انکسای کیجیے۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : الم نشرح لک صدرک استفہام تقریری ہے، اس لئے کہ لم نشرح منفی ہے اور اس پر استفہام انکاری داخل ہے، لہٰذا منفی کے نفی ہوئی اور مفنی کے نفی تقریر کاف ائدہ دیتی ہے، مفسر علام نے ای شرحنا کہہ کر اسی کی طرف اشارہ کیا ہے۔ قولہ : وغیرھا اس سے شق صدر کی طرف اشارہ ہے۔ قولہ : وزر کسرہ کے ساتھ۔ بوجھ، گرانی قولہ : وھذا کقولہ ” لیغفرلک اللہ الخ “ مطلب یہ ہے کہ جس طرح لیغفرلک اللہ ماتقدم اپنے ظاہر سے مئو ول ہے اسی طرح الذی انقض ظھرک بھی اپنے ظاہر سے مئو ول ہے، مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ سے سہو ونسیان کو معاف کردیا گیا ہے اور بعض نے کہا ہے کہ امت کے گناہ مراد ہیں اور بعض نے کہا ہے کہ ترک اولی مراد ہے۔ قولہ : ان مع العسر یسراً اس میں تاکید کا بھی احتمال ہے اور تاسیس کا بھی دوسری صورت میں جملہ مستانفہ ہوگا۔ تفسیر و تشریح الم نشرح لک صدرک گزشتہ سورت میں آپ پر تین انعاموں کا ذکر تھا اس سورت میں مزید تین احسانات کا ذکر ہے، ان میں سے پہلا سینہ کھول دینا ہے اس کا مطلب ہے سینے کا منور اور فراخ ہوجانا، شرح صدر ہوجان، تاکہ حق واضح ہو کر دل میں سما جائے اسی مفہوم میں قرآن کریم کی یہ آیت ” فمن یرد اللہ ان یھدیہ یشرح صدرہ للاسلام “ ( سورة انعام) جس کو اللہ ہدایت سے نوازنے کا ارادہ کرتا ہے اس کا سینہ اسلام کے لئے کھول دیتا ہے، اس شرح صدر میں وہ شق صدر بھی آجاتا ہے جو معتبر روایات کی رو سے دو مرتبہ نبی ﷺ کا کیا گیا، ایک مرتبہ بچپن میں جب کہ آپ ﷺ عمر کے چوتھے سال میں تھے، حضرت جبرئیل (علیہ الصلوۃ والسلام) آئے اور آپ ﷺ کا سینہ مبارک چیر کر وہ شیاطنی حصہ نکال دیا جو ہر انسان کے اندر موجود ہوتا ہے پھر اس دھوکہ بند کردیا۔ (صحیح مسلم کتاب الایمان باب الاسراء) دوسری مرتبہ معراج کے موقع پر اس موقع پر آپ ﷺ کا سینہ مبارک چاک کر کے آپ ﷺ کا دل نکالا اسے آب زم زم سے دھو کر اپنی جگہ رکھ دیا اور اسے ایمان و حکمت سے بھر دیا گیا، (صحیحین ابواب المعراج و کتاب الصلوۃ) مگر علامہ آلوسی (علیہ الصلوۃ والسلام) لکھتے ہیں،” حمل الشرح فی الآیۃ علی شق الصدر ضعیف عندالمحققین “ محققین کے نزدیک اس آیت میں شرح صدر کو شق صدر پر محمول کرنا کمزور بات ہے۔
Ayahs 94:2–4

وَ وَضَعْنَا عَنْكَ وِزْرَكَۙ Open ayah 94:2 in the Quran reader

بیشک کھول دیا اور تم سے بوجھ بھی اتار دیا

الَّذِیْۤ اَنْقَضَ ظَهْرَكَۙ Open ayah 94:3 in the Quran reader

جس نے تمہاری پیٹھ توڑ رکھی تھی

وَ رَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَؕ Open ayah 94:4 in the Quran reader

اور تمہارا ذکر بلند کیا

ووضعناعنک وزرک الذی انقض ظھرک وزر کے معنی بوجھ کے ہیں اور نقض کے معنی کمر توڑ دینے یعنی کمر جھکا دینے کے ہیں، اس آیت میں ارشاد یہ ہے کہ وہ بوجھ جس نے آپ ﷺ کی کمر جھکا دی تھی ہم نے اس کو آپ سے ہٹا دیا وہ بوجھ کیا تھا . بعض مفسرین کہتے ہیں کہ وہ بوجھ جائز اور مباح کام ہیں جن کو بعض اوقات آپ ﷺ نے قرین حکمت و مصلحت سمجھ کر اختیار فرمایا بعد میں معلوم ہوا کہ یہ مصلحت کے خلاف یا خلاف اولی تھے رسول اللہ ﷺ کو اپنی علوشان اور تقرب الٰہی میں خاص مقام حاصل ہونے کی بنا پر ایسی چیزوں پر بھی سخت رنج و ملال اور صدمہ ہوتا تھا حق تعالیٰ نے اس آیت میں بشارت سنا کر وہ بوجھ آپ سے ہٹا دیا کہ ایسی چیزوں پر آپ سے مواخذہ نہیں ہوگا۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ یہ بوجھ نبوت سے قبل چالیس سالہ دور زندگی سے متعلق ہے اس دور میں اگرچہ اللہ نے آپ ﷺ کو محفوظ رکھا کسی بات کے سامنے آپ ﷺ نے سجدہ نہیں کیا نہ کبھی آپ ﷺ نے شراب پی بلکہ تمام برائیوں سے آپ ہمیشہ دامن کش رہے تاہم معروف معنی میں اللہ کی عبادت اور اطاعت کا نہ آپ ﷺ کو علم تھا نہ آپ ﷺ نے کی، اس لئے آپ ﷺ کے دل و دماغ پر اس چالیس سالہ عدم عبادت اور عدم اطاعت کا بوجھ تھا جو حقیقت میں تو نہیں تھا لیکن آپ ﷺ کے احساس اور شعور نے اسے بوجھ بنا رکھا تھا اللہ نے اسے اتار دینے کا اعلان فرمایا یہ گویا وہی مفہوم ہے جو ” لیغفرلک اللہ ما تقدم من ذنبک وما تاخر “ (سورۃ الفتح) کا ہے، بعض کہتے ہیں کہ یہ بار نبوت تھا جسے اللہ نے ہلکا کردیا یعنی اس راہ کی مشکلات برداشت کرنے کا وہ حوصلہ، وہ ہمت، وہ اولوالعزمی اور وہ وسعت قلب عطا فرما دی جو اس منصب عظیم کی ذمہ داریاں سنبھلانے کے لئے درکار تھی آپ ﷺ اس وسیع علم کے حامل ہوگئے جو آپ ﷺ کے سوا کسی انسان کے ذہن میں سما نہ سکتا تھا۔
Ayahs 94:5–8

فَاِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًاۙ Open ayah 94:5 in the Quran reader

(اور) بیشک مشکل کے ساتھ آسانی ہے

اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًاؕ Open ayah 94:6 in the Quran reader

(اور) بیشک مشکل کے ساتھ آسانی ہے

فَاِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْۙ Open ayah 94:7 in the Quran reader

تو جب فارغ ہوا کرو تو (عبادت میں) محنت کیا کرو

وَ اِلٰى رَبِّكَ فَارْغَبْ۠ Open ayah 94:8 in the Quran reader

اور اپنے پروردگار کی طرف متوجہ ہوجایا کرو

فان مع العسر یسراً ان مع العسر یسراً مشہور قاعدہ ہے کہ معرفہ کو اگر بعینہ مکرر لایا جائے تو اس کا مصداق وہی ہوتا ہے جو پہلے کلمہ کا تھا اور اگر بغیر الف لام تعریف کے مکرر لایا جائے تو دونوں کے مصداق اگ الگ ہوتے ہیں اس آیت میں العسر مکرر آیا ہے، تو معلوم ہوا کہ اس سے پہلا ہی عسر مراد ہے اور لفظ یسر دونوں جگہ بغیر الف لام کے نکرہ لایا گیا ہے جس سے معلوم ہوا کہ دوسرا یسر پہلییسر کے علاوہ ہے تو اس آی میں ان مع العسر یسراً کے تکرار سے یہ نتیجہ نکلا کہ ایک ہی عسر کے لئے دو آسانیو کا وعدہ ہے اور دو سے بھی خاص دو کا عدد مراد نہیں بلکہ متعدد ہونا مراد ہے مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ کو ایک عسر کے ساتھ متعدد آسانیاں دی جائیں گی۔ فائدہ :۔ یعنی صالحین نے سورة الم نشرح کے کچھ خواص ذکر کئے ہیں ان میں سے بعض مندرجہ ذیل ہیں اگر کوئی شخص سورة الم نشرح کو کسی کانچ یا چینی کے برتن میں لکھ کر اور گلاب کے پانی سے دھوکر پیئے تو اس سے رنج، غم اور دل تنگی زائل ہوجائے گی اور اگر کسی بھی برتن میں لکھ کر اور دھوکر پیئے تو حفظ و فہم کے لئے مفید ہے اور جو شخص ہر فرض نماز کے بعد مذکورہ سورت دس مرتبہ پڑھنے کا التزام کرے تو اس کو رزق میں سہولت حاصل ہوگی اور عبادت کی توفیق ہوگی اور کسی اہم مقصد کے لئے با طہارت قبلہ رو ہو کر بیٹھے اور اس سورت کو اس کی تعداد حروف کی مقدار جو کہ 103 ہے پڑھے اور اپنے مقصد کے لئے دعاء کرے تو انشاء اللہ دعاء قبول ہوگی۔ (یہ محرب اور صحیح ہے، صاوی)