Ayah 95:1ترجمہ،۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، قسم ہے انجیر کی اور زیتون کی یعنی کھائے جانے والے دونوں پھلوں کی، یا قسم ہے دو پہاڑوں کی جن پر (مذکورہ) دونوں پھل پیدا ہوتے ہیں ملک شام میں اور قسم ہے طور سینین کی یعنی اس پہاڑ کی کہ جس پر موسیٰ (علیہ الصلوۃ والسلام) سے اللہ تعالیٰ ہم کلام ہوئے تھے اور سینین کے معنی مبارک (یا وہ مقام ہے) جو پھل دار درختوں کی وجہ سے حسین ہو اور قسم ہے اس پر امن شہر مکہ کی اس میں لوگوں کے زمانہ جاہلیت اور اسلام میں مامون ہونے کی وجہ سے اور ہم نے جنس انسان کو بہترین معتدل صورت پر پیدا کیا پھر ہم نے اس کے بعض افراد کو نیچوں سے نیچ کردیا یہ بڑھاپے اور ضعف سے کنایہ ہے، چناچہ مومن کا عمل (بڑھاپے کے زمانہ میں) شباب کے زمانہ کی بہ نسبت گھٹ جاتا ہے، مگر اس کے اجر کا سلسلہ بدستور جاری رہتا ہے، اللہ تعالیٰ کے قول ” الا الذین آمنوا “ الآیۃ کی دلیل سے مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے ان کے لئے ختم نہ ہونے والا اجر ہے اور حدیث شریف میں ہے، جب مومن بڑھاپے کی وجہ سے اس حالت کو پہنچ جاتا ہے کہ جو اس کو عمل سے عاجز کردیتی ہے تو اس کے لئے وہی اجر لکھا جاتا ہے جو وہ (زمانہ شباب میں) کیا کرتا تھا، پس اے کافر ! تجھے اب یعنی مذکورہ صورت حال کے بعد اور وہ صورت حال، انسان کو احسن صورت میں پیدا کرنا پھ اس کو گھٹیا ترین عمر تک پہنچا دینا ہے جو کہ بعث (بعد الموت) پر قدرت رکھنے پر دلالت کرتی ہے، روز جزاء کے جھٹلانے پر کس چیز نے آمادہ کیا ؟ وہ جزا کہ جو بعث اور حساب کے بعد ہوگی، یعنی کس چیز نے تجھے اس کی تکذیب کرنے والا بنادیا ؟ حالانکہ اس کا کوئی سبب نہیں ہے، کیا اللہ تعالیٰ سب حاکموں کا حاکم نہیں ہے ؟ یعنی وہ تمام فیصلہ کرنے والوں میں سب سے بڑا فیصلہ کرنے والا ہے، اور اس کے جزا کا حکم کرنے کا تعلق بھی اسی فیصلہ سے ہے اور حدیث شریف میں آیا ہے کہ جو پوری سورة تین پڑھے اس کو ” بلی وانا علی ذلک من الشاھدین “ کہنا چاہیے۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : والتین والزیتون، طور سینین، وھذا البلد الامین اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک مقسم علیہ کے لئے چار قسمیں کھائی ہیں، اس لئے کہ مقسم علیہ کی عظمت اور اہمیت پر دلالت مقصود ہے اور مقسم علیہ ” لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم “ ہے۔
قولہ : والتین والزیتون، تین اور زیتون سے کیا مراد ہے اس میں دو قول ہیں، ابن عباس ؓ نے فرمایا، اس سے مراد انجیر اور زیتون دونوں پھل ہیں۔
فائدہ،۔ انجیر، غذا، دوا اور پھل، تینوں اوصاف کا جامع ہے، اطباء کیر ائے ہے کہ انجیر لطیف اور زود ہضم غذا ہے، معدہ میں زیادہ دیر نہیں ٹھہرتا، طبیعت کی تسکین کرتا ہے، بلغم کو کم کرتا ہے گردوں کی تطہیر کرتا ہ، نیز ریگ مثانہ کو خارج کرتا ہے، مثانہ کو تقویت دیتا ہے، بدن کو فربہ کرتا ہے اور جگر اور تلی کے سدوں کو کھولتا ہے اور بعض حضرات نے کہا ہے کہ انجیر کھانا منہ کی بدبو کو زائل کرتا ہے اور بالوں کو دراز کرتا ہے، روح المعانی میں یہ بھی ہے کہ انجیر بہترین غذا ہے اگر نہار منہ کھایا جائے اور اس کے بعد کچھ نہ کھائے، اور مزید لکھا ہے کہ یہ کثیر النفع دوا ہے، سدوں کو کھولتا ہے جگر کو قوی کرتا ہے ورم طحال کو زائل کرتا ہے اور عسر البول میں نافع ہے ہزال الکلی (ذبول گردہ) اور خفقان اور قیض النفس نیز کھانسی اور وجع الصدر وغیرہ میں مفید ہے۔ (روح المعانی) اگر خواب میں کسی نے انجیر پایا تو اس کو مال حاصل ہوگا اور اگر انجیر کھایا تو اس کو اولاد نصیب ہوگی۔ (جمل، صاوی)
بعض حضرات نے کہا ہے کہ تین اور زیتون ملک شام کے دو پہاڑ ہیں، مفسر علام نے بہت سے اقوال میں سے دو قوال نقل کئے ہیں۔
قولہ : وطور سینین یہ اضافت موصوف الی الصفت کے قبیل سے ہے۔
قولہ : فی بعض افرادہ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ آیت میں صنعت است خدام ہے اس طریقہ پر کہ انسان کو اولاً جنس انسان کے معنی میں لیا پھر جب رددناہ کی ضمیر کو اس کی طرف لوٹایا تو انسان کے دوسرے معنی یعنی بعض افراد انسان کے معنی میں اور پھر ضمیر کو انسان کی طرف لوٹایا۔
تفسیر و تشریح
والتین والزیتون اس آیت کی تفسیر میں مفسرین کے درمیان بہت اختلاف ہے، حسن بصری، عکرمہ، عطا بن ابی رباح جابر بن زید (علیہ الصلوۃ والسلام) وغیرہ کہتے ہیں کہ انجیر سے یہی انجیر مراد ہے جسے لوگ کھاتے ہیں اور زیتون سے مراد وہی پھل ہے جو مشہور ہے جس سے روغن زیتون نکالا جاتا ہے اور عام طور پر دستیاب ہے، ابن ابی حاتم (علیہ الصلوۃ والسلام) اور حاکم نے ایک قول عبداللہ بن عباس ؓ سے بھی اس کی تائید میں نقل کیا ہے۔
بعض مفسرین نے تین اور زیتون سے وہ مقامات مراد لئے ہیں جن مقامات میں یہ پیدا ہوتے ہیں، کعب ؓ احبار اور قتادہ اور ابن زید ؓ کہتے ہیں کہ تین سے مراد دمشق ہے اور زیتون سے مراد بیت المقدس۔
Ayahs 95:2–3وطور سینین، سینین جزیرہ نمائے سینا کا دوسرا نام ہے اس کو سینا اور سینا بھی کہتے ہیں۔
Ayah 95:4لقد خلقنا الانسان الخ یہی ہے وہ بات جس پر مذکورہ چاروں قسمیں کھائی گئی ہیں، انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اس کو وہ اعلیٰ درجہ کا جسم عطا کیا ہے کہ جو دوسری کسی جاندار مخلوق کو نہیں دا گیا اور اسے فکر و فہم اور علم و عقل کی وہ بلند پایہ قابلیتیں بخشی گئی ہیں جو کسی دوسرے مخلوق کو نہیں بخشی گئیں۔
حسن انسانی کا ایک عجیب واقعہ :
قرطبی نے نقل کیا ہے کہ عیسیٰ بن موسیٰ ہاشمی جو خلیفہ ابوجعفر منصور کے دربار کے مخصوص لوگوں میں سے تھے، اور اپنی بیوی سے بہت محبت رکھتے تھے ایک روز چاندنی رات میں بیوی کے ساتھ بیٹھے ہوئے بول اٹھے، اگر تو چاند سے زیادہ خوبصورت نہ ہو تو تجھے تین طلاق، یہ سنتے ہی بیوی پردے میں چلی گئی کہ آپ نے مجھے طلاق دے دی، بات اگرچہ ہنسی دل لگی کی تھی، مگر طالق کا حکم یہی ہے کہ ہنسی مذاق میں بھی واقع ہوجاتی ہے، عیسیٰ بن موسیٰ نے رات بڑے کرب و بےچینی میں گذاری، صبح کو خلیفہ وقت ابوجعفر منصور کی مجلس میں حاض ر ہوئے اور رات کا اپنا قصہ سنایا اور اپنی پریشانی کا اظہار کیا، خلیفہ نے شہر کے فقہاء اور اہل فتویٰ کو جمع کر کے سوال کیا سب نے ایک ہی جواب دیا کہ طلاق واقع ہوگئی، کیونکہ چاند سے زیادہ حسین ہونے کا کسی انسان کے لئے امکان ہی نہیں، مگر ایک عالم جو امام ابوحنیفہ (علیہ الصلوۃ والسلام) کے شاگردوں میں سے تھے خاموش بیٹھے رہے منصور نے پوچھا آپ کیوں خاموش ہیں ؟ تب یہ بولے اور بسم اللہ الرحمٰن الرحمیم پڑھ کر سورة والتین کی تلاوت کی اور فرمایا امیر المومنین اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کا احسن تقویم ہونا بیان فرما دیا ہے، کوئی شئی اس سے حسین نہیں، یہ سن کر سب علماء اور فقہاء حیران رہ گئے اور کسی نے مخالف نہیں کی اور منصور نے حکم دے دیا کہ طلاق نہیں ہوئی۔
Ayahs 95:5–8ثمر رددناہ اسفل سافلین، مفسرین نے بالعموم اس کے دو مطلب بیان کئے ہیں ایک یہ کہ ہم نے اسے ارذل العمر یعنی بڑھاپے کی ایسی حالت کی طرف پھیر دیا جس میں وہ کچھ سوچنے سمجھنے اور کام کرنے کے قال نہ رہا، دوسرے یہ کہ ہم نے اسے جہنم کے سب سے نیچے درجے کی طرف پھیر دیا، لیکن یہ دونوں معنی اس مقصود کلام کے لئے دلیل نہیں بن سکتے جسے ثابت کرنے کے لئے یہ سورت نازل ہوئی ہے، سورت کا مقصد جزا اور سزا کے برحق ہونے پر استدلال کرنا ہے اس پر نہ یہ بات دلالت کرتی ہے کہ انسانوں میں سے بعض لوگ بڑھاپے کی انتہائی کمزور حالت کو پہنچا دیئے جاتے ہیں اور نہ یہ بات دلالت کرتی ہے کہ انسانوں کا ایک گروہ جہنم میں ڈالا جائے گا پہلی بات اس لئے جزا سوزا کی دلیل نہیں بن سکتی کہ بڑھاپے کی حالت اچھے اور برے دونوں قسم کے لوگوں پر طاری ہوتی ہے اور کسی کا اس حالت کو پہنچنا کوئی سزا نہیں ہے جو اسے اس کے اعمال پر دی جاتی ہو، رہی دوسری بات تو وہ آخرت میں پیش آنے والا معاملہ ہے اسے ان لوگوں کے سامنے دلیل کے طور پر کیسے پیش کیا جاسکتا ہے ؟ جنہیں آخرت ہی کی جزا سزا کا قائل کرنے کے لئے یہ سارا استدلال کیا جا رہا ہے اس لئے آیت کا صحیح مفہوم یہ معلوم ہوتا ہے کہ بہترین ساخت پر پیدا کرنے کے بعد انسان اپن جسم اور ذہن کی طاقتوں کو برائی کے راستے میں استعمال کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے برائی ہی کی توفیق دیتا ہے اور گراتے گراتے اسے گراوٹ کی اس انتہاء تک پہنچا دیتا ہے کہ کوئی مخلوق گراوٹ میں اس حد کو پہنچی ہوئی نہیں ہوتی، یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو انسانی معاشرے کے اندر بکثرت مشاہدہ میں آتی ہے، حرص، طمع، خود غرضی، شہوت پرستی، نشہ بازی، کمینہ پن، غیظ و غضب اور ایسی ہی دوسری خصلتوں میں جو لوگ غرق ہوجاتے ہیں وہ اخلاقی حیثیت سے فی الواقع سب نیچوں سے نیچ ہو کر رہ جاتے ہیں، مثال کے طور پر صرف اسی بات کو لے لیجیے کہ ایک قوم جب دوسری قوم کی دشمنی میں اندھی ہوجاتی ہے تو کس طرح درندگی میں تمام درندوں کو مات کردیتی ہے، درندہ تو صرف اپنی غذا کے لئے کسی جانور کا شکار کرتا ہے جانوروں کا قتل عام نہیں کرتا مگر انسان خود اپنے ہی ہم جنس انسانوں کا قتل عام کرتا ہے، درندہ صرف اپنے پنجوں اور دانتوں ہی سے کام لیتا ہے مگر یہ احسن تقویم پر پیدا ہونے والا انسان اپنی عقل سے کام لے کر توپ، بندوق، ٹینک، ہوائی جہاز، راکٹ، میزائل، اور ایٹم بم جیسے خطرناک ہتھیار بناتا ہے، تاہ آن کی آن میں پوری بستیوں کی بستیوں کو تباہ کر کے رکھ دے اور انتقام کی آگ ٹھنڈی کرنے کے لئے کمینہ پن کی اس انتہاء کو پہنچتا ہے کہ عورتوں کے ننگے جلوس نکالتا ہے، ایک ایک عورت کو دس دس بیس بیس آدمی اپنی ہوس کا نشانہ بناتے ہیں اور باپوں اور بھائیوں اور شوہروں کے سامنے ان کے گھر کی عورتوں کی عصمت لوٹتے ہیں، بچوں کو ان کے ماں باپ کے سامنے قتل کرتے ہیں، مائوں کو اپنے بچوں کا خون پینے پر مجبور کرتے ہیں، انسانوں کو زندہ جلانے میں جھجک محسوس نہیں کرتے، دنیا میں وحشی سے وحشی جانوروں کی بھی کوئی قسم ایسی نہیں ہے جو انسان کی اس وحشت کا کسی درجہ میں بھی مقابلہ کرسکتی ہو، شاہ ولی اللہ صاحب انسان کی اسی ارذل صفت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ : اس کو لائق بنایا فرشتوں کے مقام کا پھر جب منکر ہوا تو جانوروں سے بدتر ہے۔ (فوائد عثمانی)
یہی حال دوسری بری صفات کا بھی ہے کہ ان میں سے جس طرف بھی انسان رخ کرتا ہے اپنے آپ کو ارذل المخلوقات ثابت کردیا ہے حتی کہ مذہب جو انسان کے لئے مقدس ترین شئی ہے اس کو بھی وہ اتنا گرا دیتا ہے کہ درختوں اور جانوروں اور پتھروں کو پوجتے پوجتے پستی کی انتہاء کو پہنچ کر مرد اور عورت کی شرمگاہوں کو پوج ڈالتا ہے۔
جن مفسرین نے اسفل سافلین سے مراد بڑھاپے کی وہ حالت لی ہیں جس میں انسا ناپنے ہوش و حواس کھو بیٹھتا ہے، وہ اس آیت کا مطلب یہ بیان کرتے ہیں، جن لوگوں نے اپنی جوانی اور تندرتی کی حالت میں ایمان لا کر نیک عمل کئے ہوں ان کے لئے بڑھاپے کی اس حالت میں بھی وہی نیکیاں لکھی جائیں گی، ان کے اجر میں اس بنا پر کوئی کمی نہ کی جائے گی کہ عمر کے اس دور میں ان سے وہ نیکیاں صادر نہیں ہوئیں، اور جو مفسرین اسفل سافلین کی طرف پھیرے جانے کا مطلب، جہنم کے اسفل ترین درجہ میں پھینک دیا جانا لیتے ہیں، ان کے نزدیک اس آیت کے معنی یہ ہیں کہ ایمان لا کر عمل صالح کرنے والے لوگ اس سے مستثنیٰ ہیں، وہ اس درجہ کی طرف نہیں پھیرے جائیں گے، بلکہ ان کو وہ اجر ملے گا جو کبھی منقطع نہ ہوگا۔