Ayah 93:1[وَالضُّحٰى: قسم ہے چاشت کے وقت کی ]
نوٹ۔ 1: اس سورة میں پہلے آفاق کے شواہد سے اس حقیقت کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ جس طرح اس دنیا کی مادی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لیے دن کی حرارت و روشنی کی ضرورت ہے اور رات کی خنکی اور تاریکی کی بھی، اسی طرح انسانی فطرت کی مخفی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے ضروری ہے کہ انسان کو تنگی اور آسانی، دکھ اور سکھ، رنج اور راحت، دونوں طرح کے حالات سے گزارا جائے۔ جو لوگ زندگی کی تربیت میں ان امتحانوں کا مقام سمجھتے ہیں اور ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں، ان کی اعلیٰ صلاحیتیں پروان چڑھتی ہیں اور جو لوگ ان امتحانوں کی حکمت سے ناواقف ہوتے ہیں یا اپنی کم ہمتی کی وجہ سے ان سے وہ فائدہ نہیں اٹھاتے جس کے لیے قدرت نے ان کو مقدر کیا ہے، وہ اپنے آپ کو اس مقام بلند سے محروم کرلیتے ہیں۔ جو اس امتحان سے گزرے بغیر انسان کو حاصل نہیں ہوتا۔ اس اصولی حقیقت کو بیان کرنے کے بعد نبی ﷺ کو خطاب کر کے تسلی دی ہے کہ جس امتحان سے آپ گزر رہے ہیں وہ خدا کی طرف سے کسی عتاب کے سبب پیش نہیں آیا ہے بلکہ یہ اسی امتحان کا ایک حصہ ہے جو انسان کی روحانی و اخلاقی تربیت کے لیے ضروری ہے۔ (تدبر قرآن)
نوٹ۔ 2: روایات میں ہے کہ جبریل (علیہ السلام) دیر تک رسول اللہ ﷺ کے پاس نہ آئے، یعنی وحی قرآنی بند رہی تو مشرکین کہنے لگے کہ محمد (1) کو اس کے رب نے رخصت کردیا۔ اس کے جواب میں یہ آیات نازل ہوئیں۔ لیکن میرا گمان یہ ہے کہ مخالفین نے اس وقت اس طرح کی باتیں کی ہوں جب سورة اِقرأ کی ابتدائی آیات نازل ہونے کے بعد ایک طویل مدت تک وحی رکی رہی اور حضور 1 خود اس فترت (بندش) کے زمانے میں مضطرب رہے۔ یہاں تک کہ فرشتہ نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یٰـاَیُّھَا الْمُدَّثِّرُ کا خطاب سنایا۔ چناچہ ابن کثیر (رح) نے ابن اسحاق وغیرہ سے جو الفاظ نقل کیے ہیں وہ اسی احتمال کی تائید کرتے ہیں۔ ممکن ہے اسی دوران وہ قصہ بھی پیش آیا ہو جو بعض احادیث میں بیان ہوا ہے کہ ایک مرتبہ حضور 1 بیماری کی وجہ سے دو تین رات نہ اٹھ سکے تو ایک عورت کہنے لگی ” اے محمد ﷺ معلوم ہوتا ہے تیرے شیطان نے تجھ کو چھوڑ دیا ہے۔ “ (العیاذباللہ) ۔ غرض ان سب خرافات کا جواب اس سورة میں دیا گیا ہے۔ (ترجمہ شیخ الہند (رح) )
واضح رہے کہ مکی دور میں جب قریش کی مخالفت زیادہ شدت اختیار کرگئی تو اس سے آپ 1 کو خاص پریشانی جو ہوئی وہ یہی ہوئی کہ ہوسکتا ہے ان لوگوں کی اس بیزاری میں آپ 1 کی کسی کوتاہی یا بےتدبیری کا کوئی دخل ہو جو اللہ تعالیٰ کے عتاب کا سبب بنی ہے۔ جس کے باعث یہ حالات پیش آ رہے ہیں۔ اس پریشانی میں قدرتی طور پر آپ 1 کو وحی کا انتظار ہوتا کیونکہ یہی وہ واحد چیز ہے جو تاریک حالات میں روشنی بھی دکھا سکتی ہے اور اسی سے آپ 1 کو یہ اندازہ بھی ہوسکتا تھا کہ آپ 1 فریضۂ دعوت رب کی منشا کے مطابق انجام دے رہے ہیں یا نہیں۔ حضور 1 کی ان پریشانیوں کا ذکر مکی سورتوں میں جگہ جگہ ہوا ہے۔ اس آیت (نمبر 3) میں آپ 1 کو جو تسلی دی گئی ہے وہ ایسے ہی حالات میں دی گئی ہے۔ (تدبر قرآن)
Ayah 93:2[وَالَّيْلِ اِذَا سَـجٰى: اور قسم ہے رات کی جب سناٹا ہوجاتا ہے ]
س ج و
[سَجْوًا : (ن) رات کا پرسکون ہونا۔ سنسان ہونا۔ خاموش ہونا۔ پھر اس سے مراد لیتے ہیں رات کا چھا جانا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 2 ۔
(اس کا مادہ ناقص واوی ہے اور اس کا ماضی کا صیغہ سجا یا ییلکھا جاتا ہے یہاں اس کو سبحیٰ (ناقص پاپی کی طرح لکھنا قرآن کا مخصوص املا ہے)
ترکیب : (آیت۔ 2) سَبحٰی ماضی ہے لیکن اِذَا کی وجہ سے ترجمہ حال میں ہوگا۔
Ayah 93:3[مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ : نہ الوداع کہا آپ ﷺ کو آپ ﷺ کے رب نے ][ وَمَا قَلٰى: اور نہ وہ بیزار ہوا (آپ ﷺ سے)]
Ayah 93:4[وَلَلْاٰخِرَةُ : اور یقینا بعد میں آنے والی (حالت)][ خَيْرٌ لَّكَ : بہتر ہے آپ ﷺ کے لیے ][ مِنَ الْاُوْلٰى: پہلی سے ]
نوٹ۔ 3: آیت۔ 4 ۔ میں اٰخرۃ اور اُولٰی کے الفاظ دنیا اور آخرت کے اصطلاحی مفہوم میں نہیں بلکہ عام مفہوم میں ہیں۔ یعنی دعوت کے آخری دور اور ابتدائی دور کے یا دعوت کے موجودہ دور اور اس کے مستقبل کے مفہوم میں استعمال ہوئے ہیں۔ اور یہ اسی تسلی کی مزید وضاحت ہے کہ اس وقت جو حالات میں وہ بدل جائیں گے اور مستقبل موجودہ حال سے بہت بہتر ہوگا۔ قدیم صحیفوں میں آنحضرت ﷺ سے متعلق جو پیشن گوئیاں وارد ہوئی ہیں ان میں آپ 1 کی دعوت کے آغاز کو رائی کے دانے کی تمثیل سے سمجھایا ہے جو ہوتا تو نہایت چھوٹا ہے لیکن جب اگتا ہے تو اس کا پودا سب ترکاریوں سے بڑا ہوجاتا ہے یہاں تک کہ پرندے اس میں بسیرا لیتے ہیں۔ (تدبر قرآن)
یہ خوشخبری اللہ تعالیٰ نے ایسی حالت میں دی تھی جبکہ مٹھی بھر آدمی آپ 1 کے ساتھ تھے، ساری قوم آپ 1 کی مخالف تھی اور بظاہر کامیابی کے آثار دور دور کہیں نظر نہ آتے تھے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ابتدائی دور کی مشکلات سے آپ 1 پریشان نہ ہوں۔ ہر بعد کا دور پہلے دور سے آپ 1 کے لیے بہتر ہوگا۔ آپ 1 کی قوت، عزت اور قدرومنزلت برابر بڑھتی چلی جائے گی اور آپ 1 کا نفوذ واثر پھیلتا چلا جائے گا۔ اور اس میں یہ وعدہ بھی شامل ہے کہ آخرت میں جو مرتبہ آپ ﷺ کو ملے گا وہ اس مرتبہ سے بدرجہا بڑھ کر ہوگا جو دنیا میں آپ 1 کو حاصل ہوگا۔ ایک حدیث میں حضور 1 نے فرمایا کہ میرے سامنے وہ تمام فتوحات پیش کی گئیں جو میرے بعد میری امت کو حاصل ہونے والی ہیں۔ اس پر مجھے بڑی خوشی ہوئی۔ تب اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد نازل فرمایا کہ آخرت تمہارے لیے دنیا سے بھی بہتر ہے۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 93:5[وَلَسَوْفَ يُعْطِيْكَ رَبُّكَ : اور یقینا عنقریب عطا کرے گا آپ ﷺ کو آپ ﷺ کا رب ][ فَتَرْضٰى: نتیجتاً آپ ﷺ راضی ہوجائیں گے ]
نوٹ۔ 4: آیت۔ 5 ۔ کا مطلب ہے کہ آپ 1 کا رب آپ (علیہ السلام) 1 کو اتنا دے گا کہ آپ 1 راضی ہوجائیں گے۔ اس میں حق تعالیٰ نے یہ متعین کر کے نہیں بتایا کہ کیا دیں گے۔ اس میں اشارہ عموم کی طرف ہے کہ آپ 1 کی ہر مرغوب چیز آپ 1 کو اتنی دیں گے کہ آپ 1 راضی ہوجائیں۔ آپ 1 کی مرغوب چیزوں میں امت کی ہر ضرورت، زمین میں اللہ کا کلمہ بلند کرنا اور دین حق پھیلانا سب داخل ہیں۔ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ میری امت کے بارے میں میری شفاعت قبول فرمائیں گے یہاں تک کہ حق تعالیٰ فرمائیں گے اے محمد ﷺ اب آپ راضی ہیں، تو میں عرض کروں گا اے میرے پروردگار میں راضی ہوں۔ ایک دوسری حدیث میں ہے کہ ایک روز رسول اللہ ﷺ نے وہ آیت تلاوت فرمائی جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے متعلق ہے۔ فَمَنْ تَبِعَنِیْ فَاِنَّہٗ مِنِّیْ وَمَنْ عَصَانِیْ فَاِنَّکَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ (سورہ ابراہیم (علیہ السلام) ۔ 36) پھر دوسری آیت تلاوت فرمائی جس میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا قول ہے اِنْ تُعَذِّبْھُمْ فَاِنَّھُمْ عِبَادُکَ (المائدہ۔ 118)
پھر آپ 1 نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھا دئیے۔ آپ 1 روتے رہے اور بار بار فرماتے تھے اَللّٰھُمَّ اُمَّتِیْ اُمَّتِی۔ اللہ تعالیٰ کے حکم پر جبریل (علیہ السلام) تشریف لائے اور پوچھا کہ آپ کیوں روتے ہیں۔ تو آپ 1 نے فرمایا کہ میں اپنی امت کی مغفرت چاہتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے جبریل (علیہ السلام) سے فرمایا کہ جائو اور کہہ دو کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم آپ 1 کو آپ 1 کی امت کے بارے میں راضی کردیں گے۔ (معارف القرآن)
Ayah 93:6[اَلَمْ يَجِدْكَ : کیا اس نے نہیں پایا آپ ﷺ کو ][ يَتِيْمًـا فَاٰوٰى: یتیم تو اس نے رہنے کی جگہ دی آپ ﷺ کو ]
(آیات۔ 6 ۔ 7 ۔ اور 8 ۔ میں فَاٰوٰی، فَھَدیٰ اور فَاَغْنٰی، اِن تینوں کے آگے ضمیر مفعولی کَ محذوف ہے۔
نوٹ۔ 5: آنحضرت ﷺ کی ولادت سے پہلے ہی آپ 1 کے والد وفات پاچکے تھے۔ چھ سال کی عمر تھی کہ والدہ نے رحلت کی پھر آٹھ سال کی عمر تک اپنے دادا عبدالمطلب کی کفالت میں رہے۔ آخر میں ظاہری تربیت و پرورش کی سعادت آپ 1 کے چچا ابوطالب کے حصے میں آئی۔ انھوں نے زندگی بھر آپ 1 کی نصرت و حمایت میں کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھا۔ ہجرت سے کچھ پہلے وہ بھی دنیا سے رخصت ہوئے۔ پھر یہ امانت الٰہی اللہ کے حکم سے انصارِ مدینہ کے گھر پہنچ گئی۔ اوس اور خزرج کی قسمت کا ستارہ چمک اٹھا اور انھوں نے اس کی حفاظت اس طرح کی جس کی نظیر چشم فلک نے کبھی نہ دیکھی ہوگی۔ یہ سب صورتیں درجہ بدرجہ فَاٰویٰ کے تحت میں داخل ہیں۔ (ترجمہ اشیخ الہند (رح) )
نوٹ۔ 6: یہ بات معلوم ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو جو رسوم و روایات خاندان کے بزرگوں سے ملیں ان پر آپ 1 کی سلیم فطرت مطمئن نہ ہوسکی اور دوسری کوئی ایسی روشنی تھی نہیں جو آپ 1 کے لیے سرمایۂ تسکین بنتی۔ آسمانی مذاہب کے پیروکار جو آپ 1 کے اردگرد تھے ان کے عقائد و اعمال اس قدر مسخ ہوچکے تھے کہ کوئی حقیقت کو تلاش کرنے والا ان سے کوئی رہنمائی حاصل نہیں کرسکتا تھا۔ اس صورت حال نے آپ 1 کو ذہنی کشمکش میں ڈال دیا تھا۔ آپ 1 کی اسی کشمکش کو آیت۔ 7 ۔ میں وَوَجَدَکَ ضَالًّا کے الفاظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ انبیاء (علیہم السلام) بعثت سے پہلے بھی فطرت سلیم پر ہوتے ہیں۔ لیکن فطرت عقائد و اعمال کی موٹی موٹی باتوں ہی میں رہنمائی کرتی ہے لیکن عقائد و اعمال کے تمام لوازمات کی وہ تشریح نہیں کرسکتی۔ اس وجہ سے فطرت پر ہونے کے باوجود ایک شخص یہ جاننے کا محتاج رہتا ہے کہ جس خدا کے وجود پر اس کا دل گواہی دے رہا ہے اس کی صفات کیا ہیں اور ان صفات کے تقاضے کیا ہیں۔ اس کے کیا حقوق بندے پر عائد ہوتے ہیں اور وہ کس طرح ادا کرنے ہیں۔ زندگی کی ایسی ضابطہ بندی کس طرح کی جائے کہ وہ پوری کی پوری خالق کی پسند کے مطابق ہوجائے یہی سوالات ہیں جو نبی ﷺ کے دل پر زندگی کے اس دور میں مستولی تھے جس کی طرف وَوَجَدَکَ ضَالًّا کے الفاظ اشارہ کر رہے ہیں۔ بعثت سے پہلے غار حرا کی تنہائیوں میں آپ 1 انہی گتھیوں کو سلجھانے میں گم رہے۔
رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے پہلے عرب میں دین حنیفی کے پیروکاروں کا حال کتابوں میں اس طرح بیان ہوا ہے کہ ان میں سے بعض افراد ایسی شدید الجھن میں مبتلا تھے کہ وہ بیت اللہ سے ٹیک لگا کر حرم میں بیٹھ جاتے تھے اور نہایت حسرت کے ساتھ کہتے تھے کہ اے رب ہم نہیں جانتے کہ تیری عبادت کس طرح کریں ورنہ اسی طرح کرتے۔ یہی حال اس وقت تک نبی ﷺ کا بھی رہا ہوگا جب تک آپ 1 کتاب سے روشناس نہیں ہوئے۔ چناچہ سورة شوریٰ کی آیت۔ 52 ۔ میں اسی حالت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ” اور اسی طرح ہم نے تمہاری طرف ایک روح وحی کی جو ہمارے امر میں سے ہے۔ نہ تم کتاب سے آشنا تھے اور نہ ایمان سے لیکن ہم نے اس وحی کو روشنی بنایا جس سے ہم اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتے ہیں راہ دکھاتے ہیں۔ “ (تدبر قرآن)
Ayah 93:7[وَوَجَدَكَ : اور اس نے پایا آپ ﷺ کو ][ ضَاۗلًّا : راہ تلاش کرنے والا ][ فَهَدٰى: تو اس نے رہنمائی کی (آپ ﷺ کی)]
(آیت۔ 7) اس میں ضَالاًّ اسم الفاعل ہے۔ سورة الفاتحہ میں اس کی جمع ضَالِیْنَ آئی ہے۔ وہاں اس کا ترجمہ گمراہ کیا جاتا ہے۔ جبکہ یہاں اس کا ترجمہ راستہ تلاش کرنے والا کیا جاتا ہے۔ اس کی وضاحت کے لیے استادِ محترم پروفیسر حافظ احمد یار صاحب مرحوم نے فرمایا کہ انھوں نے متعدد ڈکشنریاں اور کتب دیکھیں تو اس لفظ کے کوئی بارہ مختلف مفاہیم میں استعمال سامنے آئے۔ اور قرآن مجید میں بھی یہ متعدد مفاہیم میں آیا ہے۔ پھر انھوں نے تلاش کیا کہ اس لفظ کا وہ بنیادی معنی کیا ہے جس سے یہ تمام مفاہیم نکلتے ہیں۔ تو انھوں نے امام راغب اصفہانی (رح) کے بیان کردہ معنی کو اس لحاظ سے سب سے زیادہ تسلی بخش پایا۔ امام صاحب نے اس کے معنی بتائے ہیں کہ مطلوبہ راستہ سے ہٹ جانا، خواہ قصداً ہو یا سہواً ، معمولی ہو یا زیادہ۔ قرآن میں اس کے مختلف استعمال کا ایک خاکہ ذہن نشین کرنے کے لیے طلبا زیر حوالہ آیات کو قرآن میں دیکھ لیں۔ واضح رہے کہ یہ مکمل فہرست نہیں ہے البقرہ۔ 282 (اَنْ تَضِلَّ اِحْدَ الھُمَا) ۔ الانعام۔ 24 ۔ بنی اسرائیل۔ 67 ۔ الکھف۔ 104 ۔ طٰہٰ ۔ 52 ۔ محمد ﷺ ۔ 1 ۔
Ayah 93:8[وَوَجَدَكَ عَاۗىِٕلًا : اور اس نے پایا آپ ﷺ کو تنگ دست ][ فَاَغْنٰى : تو اس نے غنی کیا (آپ ﷺ کو) ]
Ayah 93:9[فَاَمَا : پس وہ جو ہے، تو ][ الْيَتِيْمَ فَلَا تَقْهَرْ : کسی بھی یتیم کو پس آپ ﷺ ذلیل مت کریں ]
(آیات۔ 9 تا 11) ۔ اَلْیَتِیْمَ اور اَلسَّائِلَ کی نصب بتارہی ہے کہ یہ لَا تَقْھَرْ اور لَاتَنْھَرْ کے مفعول مقدم میں اور حَدَّثَ کے مفعول پر بِ کا صلہ آتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ یہ پورا فقرہ حَدِّثْ کا مفعول مقدم ہے۔ اَلْیَتِیْمَ اور اَلسَّائِلَ پر لام جنس ہے۔
Ayah 93:10[وَاَمَا : اور وہ جو ہے، تو ][ السَّاۗىِٕلَ فَلَا تَنْهَرْ : کسی بھی مانگنے والے کو پس آپ ﷺ مت جھڑکیں ]
نوٹ۔ 7: آیت۔ 10 ۔ کے دو معنی ہیں۔ اگر سائل کو مدد مانگنے والے حاجت مند کے معنی میں لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر مدد کرسکتے ہو تو کر دو ، ورنہ نرمی کے ساتھ معذرت کرلو، مگر بہرحال اسے جھڑ کو نہیں۔ اور اگر سائل کو پوچھنے والے کے معنی میں لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ پوچھنے والا خواہ کیسا ہی جاہل اور اجڈ ہو اور خواہ کتنے ہی نامعقول طریقے سے سوال کرے، بہرحال اسے شفقت کے ساتھ جواب دو اور علم کا زعم رکھنے والے بدمزاج لوگوں کی طرح اسے جھڑک کر دور مت کرو۔ (تفہیم القرآن)
نوٹ۔ 8: نعمت کا لفظ عام ہے۔ اس سے مراد وہ نعمتیں بھی ہیں جو اس سورة کے نزول تک اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو عطا فرمائی تھیں اور وہ نعمتیں بھی جو بعد میں عطا کیں۔ پھر حکم یہ ہے کہ اے نبی ﷺ ہر نعمت جو اللہ نے تم کو دی ہے اس کا ذکر اور اس کا اظہار کرو۔ اب یہ ظاہر بات ہے کہ ہر نعمت اپنی نوعیت کے لحاظ سے اظہار کی ایک صورت چاہتی ہے۔ مجموعی طور پر تمام نعمتوں کے اظہار کی صورت یہ ہے کہ زبان سے اللہ کا شکر ادا کرے اور اس بات کا اقرار و اعتراف کرے کہ جو نعمتیں بھی مجھے حاصل ہیں یہ سب اللہ کا فضل و احسان ہیں اور کوئی چیز بھی میرے کسی ذاتی کمال کا نتیجہ نہیں ہے۔ نعمت نبوت کا اظہار یہ ہے کہ دعوت و تبلیغ کا حق ادا کیا جائے۔ نعمت قرآن کا اظہار یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ اس کی اشاعت کی جائے اور اس کی تعلیمات لوگوں کے ذہن نشین کی جائیں۔ نعمت ہدایت کا اظہار یہ ہے کہ اللہ کی بھٹکی ہوئی مخلوق کو سیدھا راستہ بتایا جائے اور اس کام کی ساری تلخیوں اور ترشیوں کو صبر کے ساتھ برداشت کیا جائے۔ الغرض یہ ایک بڑی جامع ہدایت تھی جو اللہ تعالیٰ نے اس مختصر سے فقرے میں دی۔ (تفہیم القرآن)
ہر نعمت کا شکر ادا کرنا واجب ہے۔ مالی نعمت کا شکریہ ہے کہ اس مال میں سے کچھ اللہ کے لیے اخلاص نیت کے ساتھ خرچ کرے۔ نعمت بدن کا شکر یہ ہے کہ جسمانی طاقت کو اللہ تعالیٰ کے واجبات ادا کرنے میں صرف کرے۔ علم و معرفت کا شکریہ ہے کہ دوسروں کو اس کی تعلیم دے۔ (معارف القرآن)
نوٹ۔ 9: سورة والضحیٰ سے آخر قرآن تک ہر سورت کے ساتھ تکبیر کہنا سنت ہے۔ اس تکبیر کے الفاظ شیخ صالح مصری نے لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرُ بتلائے ہیں۔ ابن کثیر نے ہر سورت کے ختم پر اور بغوی نے ہر سورت کے شروع میں ایک مرتبہ تکبیر کہنے کو سنت کہا ہے۔ دونوں میں سے جو صورت بھی اختیار کرے سنت ادا ہوجائے گی۔
سورة ضحی سے آخر قرآن تک بیشتر سورتوں میں رسول اللہ ﷺ پر حق تعالیٰ کے خاص انعامات اور آپ 1 کے مخصوص فضائل کا ذکر ہے اور چند سورتوں میں قیامت اور اس کے احوال کا۔ قرآن حکیم کا شروع خود قرآن کی عظمت اور ناقابل شک و شبہہ ہونے سے کیا گیا اور ختم قرآن اس ذات کی عظمت وشان پر کیا گیا جس پر قرآن نازل ہوا۔ (معارف القرآن)
مورخہ 23 ۔ ذی الحجہ 1431 ھ بمطابق 30 ۔ نومبر 2010 ء
Ayah 93:11[وَاَمَا : اور وہ جو ہے آپ ][ بِنِعْمَةِ رَبِكَ فَحَدِّثْ : اپنے رب کی نعمت کا آپ ﷺ چرچا کریں ]