Ayah 94:1[اَلَمْ نَشْرَحْ : کیا ہم نے کھول نہیں دیا ][ لَكَ صَدْرَكَ : آپ ﷺ کے لیے آپ ﷺ کے سینے کو ]
نوٹ 1: شرح صدر (سینہ کھولنے) کا لفظ قرآن میں جن مواقع پر آیا ہے ان پر نگاہ ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے دو معنی ہیں۔ ایک یہ کہ ہر قسم کے ذہنی خلجان اور تردد سے پاک ہوکر اس بات پر مطمئن ہوجانا کہ اسلام کا راستہ ہی برحق ہے۔ دوسرا یہ کہ نبوت کی عظیم ذمہ داریاں سنبھالنے کی اس میں ہمت پیدا ہوجائے۔ مثلاً سورة انعام۔ آیت۔ 125 ۔ میں ہے کہ جس شخص کو اللہ تعالیٰ ہدایت بخشنے کا ارادہ فرماتا ہے اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے۔ یہاں یہ لفظ پہلے معنی میں ہے۔ جبکہ سورة طٰہٰ ۔ آیات 25 ۔ 26 ۔ میں ہے کہ نبوت ملنے کے موقعہ پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دعا مانگی تھی کہ اے میرے رب میرا سینہ میرے لیے کھول دے اور میرا کام میرے لیے آسان کر دے۔ یہاں یہ دوسرے معنی میں ہے غور کیا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ اس سورة کی پہلی آیت میں رسول اللہ ﷺ کا سینہ کھول دینے سے یہ دونوں معنی مراد ہیں۔ (تفہیم القرآن)
نوٹ 2: وِزْرَ سے مراد غم کا بوجھ ہے جو بعثت سے پہلے آپ ﷺ کے دل پر اس سبب سے تھا کہ آپ ﷺ حقیقت کی تلاش میں سرگرداں تھے لیکن اس کا کوئی سراغ نہیں مل رہا تھا۔ پھر جب اللہ نے آپ ﷺ پر ہدایت کی راہ کھول دی تو اس غم پر مزید اضافہ اس سبب سے ہوا کہ آپ ﷺ کی پوری قوم دشمن بن کر کھڑی ہوگئی۔ اور توقع کے خلاف جب آپ ﷺ نے دیکھا کہ جتنی دعوت کی راہ میں آپ ﷺ کی سرگرمی بڑھتی جا رہی تھی اتنی ہی لوگوں کی مخالفت میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا، تو قدرتی طور پر آپ ﷺ کو یہ گمان گزرا کہ شاید آپ ﷺ کی جدوجہد میں کہیں کوئی کمی ہے۔ علاوہ ازیں اس طرح کے حالات میں اگر وحی کے آنے میں کچھ وقفہ ہوجاتا تو یہ وقفہ بھی آپ ﷺ کی پریشانی میں اضافہ کردیتا۔ حضور ﷺ کی ان پریشانیوں کو دور کرنے کے لیے جس طرح پچھلی سورة میں تسلی دی گئی ہے اسی طرح یہاں بھی دی گئی ہے۔ (تدبر قرآن)
نوٹ 3: رسول اللہ ﷺ کا ذکر بلند کرنے کی بات اس زمانے میں فرمائی گئی تھی جب کوئی یہ سوچ بھی نہ سکتا تھا کہ جس کے ساتھ گنتی کے چند آدمی ہیں اور وہ بھی صرف شہر مکہ تک محدود ہیں اس کا ذکر دنیا بھر میں کیسے بلند ہوگا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان ہی حالات میں یہ خوشخبری سنائی اور پھر عجیب طریقہ سے اسے پورا کیا۔ سب سے پہلے اس نے آپ ﷺ کے رفع ذکر کا کام خود آپ ﷺ کے دشمنوں سے لیا۔ حج کے موقع پر جب تمام عرب سے لوگ ان کے شہر میں آتے تھے، اس زمانے میں کفار مکہ کے وفود حاجیوں کے ڈیرے پر جاتے اور لوگوں کو خبردار کرتے کہ یہاں ایک شخص ہے جو لوگوں پر جادو کرتا ہے تو باپ بیٹے، بھائی بھائی اور شوہر بیوی میں جدائی پڑجاتی ہے۔ اس لیے اس سے بچ کے رہنا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ عرب کے گوشے گوشے میں آپ ﷺ کا نام پہنچ گیا۔ اس کے بعد ہجرت سے دوسرے مرحلے کا آغاز ہوا جس میں منافقین، یہود اور تمام عرب کے مشرکین آپ ﷺ کو بدنام کرنے میں سرگرم تھے۔ دشمنوں نے جنگ سے حضور ﷺ کے اثر کو مٹانے کی کوشش کی مگر آپ ﷺ کی قیادت میں اہل ایمان کی جو جماعت تیار ہوئی تھی اس نے نظم وضبط، شجاعت اور اخلاقی حدود کی پابندی سے اپنی برتری ثابت کر کے سارے عرب سے اپنا لوہا منوا لیا۔ اور دس سال کے اندر اندر حضور ﷺ کا رفع ذکر اس طرح ہوا کہ عرب کا گوشہ گوشہ کلمۂ شہادت کی صدا سے گونج اٹھا۔
پھر تیسرے مرحلے کا آغاز خلافتِ راشدہ کے دور سے ہوا جب آپ ﷺ کا نام مبارک تمام روئے زمین میں بلند ہونا شروع ہوا۔ یہ سلسلہ آج تک بڑھتا ہی جا رہا ہے اور انشاء اللہ قیامت تک بڑھتا چلا جائے گا۔ دنیا میں کوئی جگہ ایسی نہیں ہے جہاں مسلمانوں کی کوئی بستی موجود ہو اور دن میں پانچ مرتبہ اذان میں آپ ﷺ کی رسالت کا اعلان نہ ہو رہا ہو، نمازوں میں آپ ﷺ پر درود نہ بھیجا جا رہا ہو، جمعہ کے خطبوں میں آپ ﷺ کا ذکر خیر نہ ہو۔ سال کے بارہ مہینوں میں سے کوئی دن، اور دن کے 24 گھنٹوں میں سے کوئی وقت ایسا نہیں ہے جب روئے زمین میں کسی نہ کسی جگہ آپ ﷺ کا ذکر نہ ہو رہا ہو۔ نبوت کے ابتدائی دور میں جس وقت اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ رَفَعْنَا لَکَ ذِکرَکَ اس وقت کوئی بھی یہ اندازہ نہیں کرسکتا تھا کہ یہ رفع ذکر اس شان سے اور اتنے بڑے پیمانے پر ہوگا۔ یہ قرآن کی صداقت کا ایک اور کھلا ہوا ثبوت ہے۔ (تفہیم القرآن) ۔
Ayah 94:2[وَوَضَعْنَا : اور ہم نے اتارا ][ عَنْكَ وِزْرَكَ : آپ ﷺ سے آپ ﷺ کے بوجھ کو ]
Ayah 94:3[الَّذِيٓ انقَضَ : وہ (بوجھ) جس نے ٹوٹنے کے قریب کیا ][ ظَهْرَكَ : آپ ﷺ کی پیٹھ کو ]
Ayah 94:4[وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ : اور ہم نے بلند کیا آپ ﷺ کے لیے آپ ﷺ کے ذکر کو ]
Ayah 94:5[فَان مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا : پس یقینا سختی کے ساتھ ایک نرمی ہے ]
نوٹ 4: آیات۔ 5 ۔ 6 ۔ سے پہلے جو باتیں کہی گئیں ہیں وہ رسول اللہ ﷺ کی ذات کے ساتھ مخصوص ہیں۔ ہم نے آپ ﷺ کے لیے آپ ﷺ کا سینہ کھولا۔ آپ ﷺ سے آپ ﷺ کا بوجھ بٹایا۔ آپ ﷺ کے لیے آپ ﷺ کا ذکر بلند کیا۔ لیکن ان آیات میں یہ نہیں کہا کہ آپ ﷺ کی مشکل کے ساتھ آسانی ہے، بلکہ بات کو عمومی انداز میں کہا گیا ہے اس سے معلوم ہوا کہ یہ دراصل آفاقی صداقت (Classical Truth) کا بیان ہے یہ ایک ایسا قاعدہ ہے جو رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے پہلے بھی رائج تھا۔ البتہ حیات طیبہ کے دوران وہ اپنے عروج کو پہنچ گیا۔ لیکن اس کے بعد یہ قاعدہ ختم نہیں ہوگیا۔ بلکہ آج بھی ہلکے پیمانے پر جاری ہے۔ اور مومن۔ مسلم۔ کافر۔ دہر یہ سب کی زندگی میں اس کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔ (مرتب) ۔ اب اگر دنیا میں کسی شخص کو عسر کے بعد یسر نصیب نہ ہو تو وہ اس آیت کے منافی نہیں ہے۔ البتہ عادۃُ اللہ اب بھی یہی ہے کہ جو شخص سختی پر صبر کرے اور آسانی میں دیر ہونے سے آس نہ توڑ بیٹھے تو ضرور اللہ تعالیٰ اس کے حق میں آسانی کر دے گا۔ بعض روایات حدیث میں بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ (معارف القرآن)
یہاں اس پہلو پر بھی نظر رہے کہ ایک ہی بات دو مرتبہ فرمائی گئی ہے۔ یہ تکرار محض تاکید کے لیے نہیں ہے، بلکہ اس سے مقصود اس حقیقت کا اظہار ہے کہ یہ عسر اور یسر دنیا میں لازم وملزوم ہیں۔ ایک گھاٹی کسی نے پار کرلی تو وہ یہ نہ سمجھ بیٹھے کہ بس اب کسی گھاٹی سے اس کو سابقہ نہیں پیش آنا ہے بلکہ دوسری اور تیسری گھاٹی بھی آسکتی ہے۔ چاہیے کہ ان کو عبور کرنے کا حوصلہ بھی قائم رکھے۔ زندگی مسلسل جدوجہد سے عبارت ہے۔ اس جہاں میں ہر مسافر کو نشیب و فراز سے سابقہ پیش آتا ہے اور ان سے گزرنے کے بعد ہی کوئی مسافر منزل مقصود پر پہنچتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا یہی معاملہ حق کے راستے پر چلنے والوں سے بھی ہے۔ جو لوگ اس راستہ پر چلنے کا ارادہ کرتے ہیں ان کے لیے یہ نہیں ہوتا کہ راستے کی تمام مشکلات خودبخود دور ہوجائیں، بلکہ ان کو دور کرنے کے لیے خود ان کو جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔ البتہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے لیے یہ ضمانت ضرور ہے کہ اگر وہ راہ کی رکاوٹوں سے ہمت نہیں ہاریں گے تو وہ ان کے لیے ہر مشکل کے بعد آسانی پیدا کرے گا جس سے تازہ دم ہو کر وہ آگے کے سفر کے لیے مزید عزم و حوصلہ حاصل کرلیں گے۔ اس طرح ایک کے بعد دوسری مشکل سے لڑتے اور اس کو سر کرتے ہوئے بالآخر منزل مطلوب پر پہنچ جائیں گے۔ (تدبر قرآن)
Ayah 94:6[ان مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا : بیشک مشکل کے ساتھ آسانی ہے ]
Ayah 94:7[فَاِذَا فَرَغْتَ : پھر جب آپ ﷺ فارغ ہوں ][ فَانصَبْ : تو آپ ﷺ کوشش کریں ]
نوٹ 5: آیات۔ 7 ۔ 8 ۔ کا مطلب یہ ہے کہ جب آپ ﷺ دعوت حق اور تبلیغ احکام سے فارغ ہوں تو دوسری محنت کے لیے تیار ہوجائیے۔ وہ یہ کہ نماز، ذکر اللہ اور دعاواستغفار میں لگ جائیں۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی دعوت و تبلیغ، خلق خدا کو راستہ دکھانا اور ان کی اصلاح کی فکر، یہ آپ ﷺ کی سب سے بڑی عبادت تھی۔ مگر یہ عبادت بواسطہ مخلوق تھی۔ آیت کا مقصود یہ ہے کہ اسی عبادت بالواسطہ پر آپ ﷺ قناعت نہ کریں، بلکہ جب اس سے فرصت ملے خلوت میں بلاواسطہ حق تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوں اور اسی سے ہر کام میں کامیابی کی دعا کریں۔ اصل مقصود جس کے لیے انسان پیدا کیا گیا ہے وہ عبادت بلاواسطہ ہی ہے۔ شاید اسی لیے عبادت بالواسطہ سے فراغت کا ذکر فرمایا کہ وہ کام ایک ضرورت کے لیے ہے، اس سے فراغت ہوسکتی ہے اور توجہ الی اللہ ایسی چیز ہے کہ اس سے فراغت مومن کو کبھی نہیں ہوسکتی۔ اس سے معلوم ہوا کہ تعلیم و تبلیغ کا کام کرنے والوں کو اس سے غافل نہیں ہونا چاہیے اور کچھ وقت توجہ الی اللہ کے لیے بھی مخصوص ہونا چاہیے۔ اس کے بغیر تبلیغ مؤثر نہیں ہوتی اور اس میں نوروبرکت نہیں ہوتی۔ (معارف القرآن) ۔
9 محرم الحرام 1432 ھ بمطابق 16 ۔ دسمبر 2010 ئ۔
Ayah 94:8[وَاِلٰى رَبِكَ : اور اپنے رب کی طرف ہی ] فَارْغَبْ : پھر آپ ﷺ التجا کریں ]