Ayah 95:1[وَالتِّيْنِ وَالزَّيْتُوْنِ : قسم ہے انجیر کی اور قسم ہے زیتون کی ]
نوٹ 1: پہلی آیت کی تفسیر میں ایک رائے یہ ہے کہ انجیر سے مراد یہی انجیر ہے جسے لوگ کھاتے ہیں اور زیتون سے مراد یہی زیتون ہے جس سے تیل نکالا جاتا ہے اس میں شک نہیں کہ ایک عام عربی دان ان الفاظ کو سُن کر یہی معنی لے گا۔ لیکن دو وجوہ ایسے ہیں جو یہ معنی لینے میں رکاوٹ ہیں۔ ایک یہ کہ آگے طور سینا اور شہر مکہ کی قسم کھائی گئی ہے اور دو پھلوں کے ساتھ دو مقامات کی قسم کھانے میں کوئی مناسبت نظر نہیں آتی۔ دوسرے ان چار چیزوں کی قسم کھا کر آگے جو مضمون بیان کیا گیا ہے اس پر طور سینا اور شہر مکہ تو دلالت کرتے ہیں لیکن یہ دو پھل اس پر دلالت نہیں کرتے۔ دوسری رائے یہ ہے کہ تین سے مراد دمشق کا شہر ہے اور زیتون سے مراد بیت المقدس ہے۔ لیکن یہ الفاظ سُن کر یہ معنی ایک عام عرب کے ذہن میں نہیں آسکتے کیونکہ اہل عرب میں یہ بات معروف نہیں تھی کہ تین اور زیتون ان مقامات کے نام ہیں۔
البتہ یہ طریق اہل عرب میں رائج تھا کہ جو پھل کسی علاقے میں کثرت سے پیدا ہوتا ہو اس علاقے کو وہ بسا اوقات اس پھل کے نام سے موسوم کردیتے تھے۔ اس محاورے کے لحاظ سے تین اور زیتون کے الفاظ کا مطلب ان کی پیداوار کا علاقہ ہوسکتا ہے۔ اور وہ ملک شام اور ملک فلسطین کا علاقہ ہے کیونکہ اس زمانے میں یہی علاقہ ان کی پیداوار کے لیے مشہور تھا۔ (تفہیم القرآن) ۔
اس طرح ان قسموں میں وہ تمام مقاماتِ مقدسہ شامل ہوگئے جہاں خاص خاص انبیاء (علیہم السلام) پیدا اور مبعوث ہوئے ملک شام عام انبیاء علیھم السلام کا وطن ہے۔ کوہ طور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے حق تعالیٰ سے ہم کلام ہونے کی جگہ ہے۔ جبکہ سینین یا سینا اس مقام کا نام ہے جہاں یہ پہاڑ واقع ہے۔ اور مکہ مکرمہ رسول اللہ ﷺ کا مسکن ہے۔ (معارف القرآن)
نوٹ 2: چار چیزوں کی قسم کھا کر فرمایا کہ ہم نے انسان کو بہترین تقویم پر پیدا کیا۔ اس سے مراد یہ ہے کہ اس کی جبلت و فطرت کو بھی دوسری مخلوقات کے اعتبار سے احسن بنایا گیا ہے۔ اور اس کی جسمانی ہیئت اور شکل و صورت کو بھی دوسرے جانداروں سے بہتر اور حسین بنایا گیا ہے۔ ابن عربی نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں کوئی انسان سے احسن نہیں کیونکہ اس کو اللہ تعالیٰ نے حیات کے ساتھ عالِم۔ قادر۔ متکلم۔ سمیع۔ بصیر۔ مدبر اور حکیم بنایا ہے اور یہ سب صفات دراصل خود اللہ تعالیٰ کی ہیں۔ چناچہ ایک حدیث میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو اپنی صورت پر پیدا فرمایا ہے۔ مراد اس سے یہی ہوسکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بعض صفات کا کوئی درجہ اس کو بھی دیا گیا ہے۔ ورنہ حق تعالیٰ ہر شکل و صورت سے بَری ہے۔ (معارف القرآن)
تقویم کے بنیادی معنی کسی چیز کو سیدھا کرنے کے ہیں۔ سیدھی کی ہوئی چیز میں حسن اس وقت پیدا ہوتا ہے جب اس کی لمبائی اور چوڑائی میں ایک اعتدال اور تناسب ہو۔ خطاطی کے ماہر فن لوگ اگر الف لکھیں گے تو اس کی لمبائی اور موٹائی کے تناسب کا لحاظ رکھیں گے، اسی طرح الفاظ کے تمام حروف کے قدوکاٹھ میں اعتدال اور تناسب کا لحاظ رکھا جائے گا۔ جو خطاط جتنا مناسب اعتدال وتناسب قائم کرلیتا ہے اس کی خطاطی دیکھنے میں اتنی ہی خوبصورت ہوتی ہے۔ (حافظ احمد یار صاحب کے کیسٹ سے ماخوذ) ۔ اس بات کو ذہن میں رکھ کر جب ہم غور کرتے ہیں تو بات سمجھ میں آتی ہے انسان کی جسمانی ساخت میں اس کی صلاحیتوں میں اور اس کی استعداد میں جبروقدر کا ایک بڑا عجیب توازن کا امتزاج نظر آتا ہے۔ ہماری آنکھ دیکھ سکتی ہے، کان سن سکتے ہیں لیکن ان کی یہ استعداد لامحدود نہیں ہے۔ ایک خاص فاصلہ سے آگے کی آواز ہمارے کان نہیں سن سکتے۔ جبکہ اس فاصلے پر موجود چیزوں کو آنکھ دیکھ سکتی ہے لیکن ایک حد سے آگے آنکھ بھی نہیں دیکھ سکتی۔ ہم کو نفس امارہ دیا گیا ہے تو ساتھ ہی نفس لوامہ بھی دیا گیا ہے۔ اس انداز میں انسان کی فطرت و جبلت پر غور کریں تو ہر جگہ ہمیں توازن، اعتدال اور تناسب کا ایک حسین امتزاج نظر آتا ہے۔ دوسری مخلوقات کو یہ حسن اتنا نہیں دیا گیا جتنا انسان کو دیا گیا ہے۔ (مرتب) ۔
Ayah 95:2[وَطُوْرِ سِيْنِيْنَ : اور قسم ہے سینین کی (کوہِ ) طور کی ]
Ayah 95:3[وَهٰذَا الْبَلَدِ الْاَمِيْنِ : اور قسم ہے اس امن والے شہر کی ]
Ayah 95:4[لَقَدْ خَلَقْنَا الْانسَان : بیشک ہم نے پیدا کیا ہے انسان کو ][ فِيْٓ اَحْسَنِ تَقْوِيْمٍ : بہترین تعدیل و تناسب میں ]
Ayah 95:5[ثُمَّ رَدَدْنٰهُ : پھر ہم نے لوٹایا اس کو ][ اَسْفَلَ سٰفِلِيْنَ : پست ہونے والوں کا سب سے پست ]
نوٹ 3: اس کے آگے آیت۔ 5 ۔ میں فرمایا کہ پھر ہم نے اس کو لوٹا دیا پست ترین لوگوں میں۔ یہ مفہوم بھی لیا جاسکتا ہے کہ پست ترین مخلوق میں یعنی درندوں سے بھی بدتر۔ (مرتب) ۔ مفسرین نے عام طور پر اس آیت کے دو معنی بیان کیے ہیں۔ ایک یہ کہ ہم نے اسے ارذل العمر یعنی بڑھاپے کی ایسی حالت کی طرف پھیر دیا جس میں وہ کچھ سوچنے سمجھنے اور کام کرنے کے قابل نہ رہا۔ دوسرے یہ کہ ہم نے اسے جہنم کے سب سے نیچے درجے کی طرف پھیر دیا۔ لیکن اس سورة کا مقصود جزاوسزا کے برحق ہونے پر استدلال کرنا ہے۔ اس لیے یہ دونوں معنی اس مقصود کلام کے لیے دلیل نہیں بنتے۔ ہمارے نزدیک آیت کا صحیح مفہوم یہ ہے کہ بہترین ساخت پر پیدا کیے جانے کے بعد انسان اپنے جسم اور ذہن کی طاقتوں کو برائی کے راستے میں استعمال کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے برائی ہی کی توفیق دیتا ہے اور گراتے گراتے اسے گراوٹ کی اس انتہا تک پہنچا دیتا ہے کہ کوئی مخلوق گراوٹ میں اس حد کو پہنچی ہوئی نہیں ہوتی۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو انسانی معاشرے کے اندر بکثرت مشاہدے میں آتی ہے۔ (تفہیم القرآن)
اس آیت میں ثُمَّ رَدَدْنٰـہُ کے الفاظ آئے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ لوٹانے کے عمل کو اللہ تعالیٰ اپنی طرف منسوب کر رہا ہے لیکن ذمہ دار انسان ہے۔ یہ وہی انداز کلام ہے جو قرآن میں جابجا استعمال ہوا ہے اور سب سے پہلے خَتَمَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوْبِھِمْ والی آیت میں آیا تھا۔ وہیں پر اس کی وضاحت کردی گئی ہے۔ (دیکھیں آیت۔ 2 ۔ 7، نوٹ۔ 4) ۔ (مرتب)
Ayah 95:6[اِلَّا الَّذِينَ اٰمَنُوْا : سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے ][ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ : اور انھوں نے عمل کیے نیکیوں کے ][ فَلَهُمْ اَجْرٌ: تو ان کے لیے ایک ایسا اجر ہے جو ][ غَيْرُ مَمْنُوْنٍ : غیر منقطع ہے ]
Ayah 95:7[فَمَا يُكَذِّبُكَ : تو کیا چیز (دلیل) جھٹلا سکتی ہے آپ ﷺ کو ][ بَعْدُ : اس کے بعد ][ بِالدِّيْنِ : بدلے کے بارے میں ]
نوٹ 4: آیت۔ 7 ۔ 8 کا مفہوم یہ ہے کہ بہترین ساخت پر پیدا کیے ہوئے انسانوں میں سے ایک گروہ اعمالِ بد اختیار کرنے کے نتیجے میں اخلاقی پستیوں میں گرتے گرتے سب نیچوں سے بھی نیچے چلا جاتا ہے اور دوسرا گروہ اعمال صالحہ اختیار کرنے کے نتیجے میں اسی حالت پر قائم رہتا ہے جو بہترین ساخت پر انسان کو پیدا کرنے سے مطلوب تھی۔ اس کے بعد بدلے کو کیسے جھٹلایا جاسکتا ہے۔ کیا عقل یہ کہتی ہے کہ دونوں قسم کے انسانوں کا انجام یکساں ہو۔ جب دنیا کے چھوٹے چھوٹے حاکموں سے تم یہ چاہتے ہو کہ وہ انصاف کریں، مجرموں کو سزا دیں اور اچھے کام کرنے والوں کو انعام دیں، تو خدا کے متعلق تمہارا کیا خیال ہے ؟ کیا وہ سب حاکموں سے بڑا حاکم نہیں ہے ؟ تو کیا اس کے بارے میں تمہارا خیال ہے کہ وہ انصاف نہیں کرے گا ؟ کیا وہ برے اور بھلے کو ایک جیسا کر دے گا۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 95:8[اَلَيْسَ اللّٰهُ : کیا اللہ نہیں ہے ][ بِاَحْكَمِ الْحٰكِمِيْنَ : تمام حاکموں کا سب سے بڑا حاکم ]