Ayah 96:1[اِقْرَاْ : آپ ﷺ پڑھیئے ][ بِاسْمِ رَبِكَ الَّذِي : اپنے اس رب کے نام کے ساتھ جس نے ][ خَلَقَ : پیدا کیا (ہر چیز کو)]
نوٹ 1: علماء کی اکثریت کا اتفاق ہے کہ وحی کی ابتدا سورة علق کی ابتدائی پانچ آیات سے ہوئی ہے۔ بعض حضرات نے سورة مدثر کو اور بعض نے سورة فاتحہ کو پہلی سورت قرار دیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سورة علق کی پانچ آیات نازل ہونے کے بعد نزول قرآن کچھ عرصہ تک موقوف رہا۔ اس کے بعد پھر اچانک حضرت جبرئیل (علیہ السلام) سامنے آئے اور سورة مدثر کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں۔ اس وقت بھی رسول اللہ ﷺ پر وہی کیفیت طاری ہوئی جو سورة علق کے نزول کے وقت پیش آئی تھی۔ اس لحاظ سے اس کو بعض حضرات نے پہلی سورت کہا ہے۔ اور سورة فاتحہ کو پہلی سورت کہنے کی وجہ یہ ہے کہ مکمل سورت سب سے پہلے سورة فاتحہ ہی نازل ہوئی ہے، اس سے پہلے چند سورتوں کی متفرق آیات ہی کا نزول ہوا تھا۔
ایک طویل حدیث میں وحی کی ابتدا کا واقعہ بیان ہوا ہے۔ (اس حدیث کی تفصیلات تفاسیر میں دیکھی جاسکتی ہیں۔ ہم صرف اس کے اہم نکات درج کر رہے ہیں۔ مرتب) سب سے پہلے رسول اللہ ﷺ پر وحی کا سلسلہ سچے خوابوں سے شروع ہوا۔ اس کے بعد آپ ﷺ میں خلوت میں عبادت کرنے کا داعیہ پیدا ہوا۔ یہ عبادت لوگوں سے الگ ہو کر اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ خاص اور تفکر کی تھی۔ غارِ حرا میں خلوت گزینی کی مدت ایک ماہ ہے یعنی آپ ﷺ نے پورے ماہ رمضان اس میں قیام فرمایا۔ وہاں حضرت جبریل (علیہ السلام) تشریف لائے اور فرمایا اِقْرَاْ ۔ جواب میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں پڑھنے والا نہیں ہوں۔ تو جبریل (علیہ السلام) نے آپ ﷺ کو آغوش میں لے کر دبایا۔ اس طرح تین مرتبہ ہوا۔ پھر انھوں نے پانچ آیات پڑھیں۔ یہ آیتیں لے کر آپ ﷺ گھر واپس آئے۔ آپ ﷺ پر گھبراہٹ طاری تھی۔ جب آپ ﷺ کو آفاقہ ہوا تو آپ ﷺ نے بی بی خدیجہ ؓ کو سارا واقعہ سنایا۔ وہ انھیں اپنے چچازاد بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں۔ انھوں نے سنتے ہی کہا یہ وہی فرشتہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر اتارا تھا۔ کاش میں اس وقت زندہ ہوتا جب آپ ﷺ کی قوم آپ ﷺ کو وطن سے نکالے گی، کیونکہ جب بھی کوئی آدمی یہ دین حق لے کر آیا جو آپ ﷺ لائے ہیں تو اس کی قوم نے اس کو ستایا ہے۔ اس کے چند ہی روز بعد ورقہ بن نوفل کا انتقال ہوگیا۔ اس واقعہ کے بعد وحیِٔ قرآن کا سلسلہ رُک گیا۔ روایات میں وحی میں وقفہ کی مدت ڈھائی سے تین سال تک بیان کی گئی ہے۔ (معارف القرآن۔ ج 8 ۔ ص 781 تا 784 سے ماخوذ)
یہ قصہ خود اپنے منہ سے بول رہا ہے کہ فرشتے کی آمد سے ایک لمحہ پہلے تک بھی رسول اللہ ﷺ اس بات سے خالی الذہن تھے کہ آپ ﷺ نبی بنائے جانے والے ہیں۔ اس چیز کا طالب یا متوقع ہونا تو درکنار آپ ﷺ کے وہم و گمان میں بھی یہ نہ تھا کہ ایسا کوئی معاملہ پیش آنے والا ہے۔ فرشتے کا اس طرح سامنے آنا ایک حادثہ تھا جس کا پہلا تاثر آپ ﷺ کے اوپر وہی ہوا جو ایک انسان پر فطری طور پر ہوسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب آپ ﷺ اسلام کی دعوت لے کر اٹھے تو مکہ کے لوگوں نے آپ ﷺ پر ہر طرح کے اعتراضات کیے، مگر ان میں کوئی یہ کہنے والا نہ تھا کہ ہم کو تو پہلے ہی یہ خطرہ تھا کہ آپ کوئی دعویٰ کرنے والے ہیں کیونکہ آپ ایک مدت سے نبی بننے کی تیاریاں کر رہے تھے، دوسری بات یہ ہے کہ ورقہ بن نوفل مکہ کے باشندے تھے، بچپن سے حضور ﷺ کی زندگی دیکھتے چلے آ رہے تھے اور پندرہ سال کی قریبی رشتہ داری کی بنا پر وہ آپ ﷺ کے حالات سے اور زیادہ گہری واقفیت رکھتے تھے۔ انھوں نے جب یہ واقعہ سنا تو اسے کوئی وسوسہ نہیں سمجھا بلکہ سنتے ہی کہہ دیا کہ یہ وہی فرشتہ ہے اس کے معنی یہ ہیں کہ ان کے نزدیک آپ ﷺ اتنے بلند پایہ انسان تھے کہ آپ ﷺ کا نبوت کے منصب پر سرفراز ہونا کوئی قابل تعجب بات نہ تھی۔ (تفہیم القرآن)
نوٹ 2: آیت۔ 5 ۔ کا مطلب یہ ہے کہ انسان اصل میں بالکل بےعلم تھا۔ اسے جو کچھ بھی علم حاصل ہوا ہے وہ اللہ کے دینے سے حاصل ہوا ہے۔ اللہ ہی نے جس مرحلے پر انسان کے لیے علم کے جو دروازے کھولنے چاہے وہ اس پر کھلتے چلے گئے۔ جن جن چیزوں کو انسان اپنی علمی دریافت سمجھتا ہے درحقیقت وہ پہلے اس کے علم میں نہ تھیں، اللہ ہی نے جب چاہا ان کا علم اسے دیا (تفہیم القرآن) یہ وہ مادی علوم ہیں، جن کا دروازہ کھولنے کا جب اللہ تعالیٰ فیصلہ کرلیتا ہے تو انسان اپنے حواس خمسہ کے ذریعے اور اپنی عقل کی مدد سے ان تک رسائی حاصل کرلیتا ہے۔ لیکن اس کائنات کے وہ حقائق جو انسان کے حواس خمسہ اور عقل کی پہنچ سے باہر ہیں، ان کی تعلیم کے لیے رسل وکتب کا سلسلہ قائم کیا تھا۔ پھر رسول اللہ ﷺ پر اس علم وحی کے فائنل ایڈیشن کا نزول ہوا۔ جبکہ مادی علوم کی تعلیم کا سلسلہ ابھی جاری ہے۔ (مرتب)
Ayah 96:2[خَلَقَ الْانسَان : اس نے پیدا کیا انسان کو ][ مِنْ عَلَقٍ : ایک چمٹے ہوئے خون سے ]
Ayah 96:3[اِقْرَاْ : آپ ﷺ پڑھیئے ][ وَرَبُّكَ الْاَكْرَمُ : اور آپ ﷺ کا رب ہی سب سے زیادہ کریم ہے ]
Ayah 96:4[الَّذِي عَلَّمَ : وہ، جس نے علم دیا ][ بِالْقَلَمِ : قلم کے ذریعہ سے ]
Ayah 96:5[عَلَّمَ الْانسَان : اس نے علم دیا انسان کو ][ مَا : اس کا جس کو ][ لَمْ يَعْلَمْ : اس نے جانا ہی نہیں ]
Ayah 96:6[كَلَّآ ان الْانسَان : ہرگز نہیں ! بیشک انسان ][ لَيَطْغٰٓى: ضرور سرکشی کرتا ہے ]
Ayah 96:7[ان رَّاٰهُ : (جب) کہ وہ دیکھے خود کو ][اسْتَغْنٰى: بےنیاز ]
Ayah 96:8[ان اِلٰى رَبِكَ : بیشک آپ ﷺ کے رب کی طرف ہی ][ الرُّجْعٰى: لوٹنا ہے (سب کو)]
ترکیب : (آیت۔ 8) اَلرُّ جْعیٰ فُعْلٰی کا وزن ہے لیکن یہ افعل تفضیل میں واحد مونث نہیں ہے بلکہ یہ رَجَعَ ۔ یَرْجِعُ کا ایک مصدر ہے۔ فُعْلٰی کے وزن پر کچھ مصدر بھی آتے ہیں۔
Ayah 96:9[اَرَءَيْتَ الَّذِي يَنْهٰى: کیا آپ ﷺ نے دیکھا اس کو جو روکتا ہے ]
Ayah 96:10[عَبْدًا اِذَا صَلّٰى: ایک بندے کو جب وہ نماز پڑھتا ہے ]
Ayah 96:11اَرَءَيْتَ : کیا آپ ﷺ نے غور کیا ][ ان كَان : اگر وہ ہوتا ][ عَلَي الْهُدٰٓى: ہدایت پر ]
(آیات۔ 11 ۔ 13) ان دونوں آیات میں اِنْ شرطیہ ہے۔ دونوں کا جوابِ شرط محذوف ہے جسے ترجمہ میں ظاہر کیا جائے گا۔
Ayah 96:12[اَوْ اَمَرَ بِالتَّقْوٰى: یا وہ ترغیب دیتا خدا خوفی کی (تو کیسا انسان ہوتا)]
Ayah 96:13[اَرَءَيْتَ : کیا آپ ﷺ نے غور کیا ][ ان كَذَّبَ وَتَوَلّٰى: اگر اس نے جھٹلایا اور اعراض کیا (تو اپنا ہی نقصان کیا)]
Ayah 96:14[اَلَمْ يَعْلَمْ : کیا اس نے جانا ہی نہیں ][ بِان اللّٰهَ يَرٰى: کہ اللہ دیکھتا ہے (سب کچھ)]
Ayah 96:15[كَلَّا لَىِنْ لَمْ يَنْتَهِ : ہرگز نہیں ! بیشک اگر وہ باز نہ آیا ][ لَنَسْفَعًۢا بِالنَاصِيَةِ : تو ہم ضرور پکڑ کر گھسیٹیں گے (اس کو) پیشانی کے بال سے ]
سع
[سَفْعًا : (ف) کسی کو پکڑ کر گھسیٹنا۔ کھینچنا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 15 ۔]
(آیت۔ 15) یَنْتَہِ دراصل مضارع یَنْتَھِیْ ہے۔ اس کو لَمْ نے مجزوم کیا تو یا گرگئی۔ لَنَسْفَعًا دراصل مضارع نَسْفَعُ ہے۔ اس پر لام تاکید اور نون خفیفہ داخل ہوا تو یہ لَنَسْفَعَنْ ہوگیا اور عربی میں یہ اسی طرح لکھا جاتا ہے۔ یہ قرآن کا مخصوص املا ہے کہ نون خفیفہ کی جگہ تنوین لگا کر الف کا اضافہ کردیتے ہیں۔ ایسا قرآن میں صرف دو مرتبہ ہوا ہے۔ ایک اس جگہ اور دوسری سورة یوسف کی آیت۔ 32 ۔ میں لَیَکُوْنَنْ کو لَیَکُوْناً لکھا گیا ہے۔
Ayah 96:16[نَاصِيَةٍ : ایک ایسی پیشانی سے جو ][ كَاذِبَةٍ خَاطِئَةٍ : جھوٹی خطاکار ہے۔]
(آیت۔ 16) ۔ نَاصِیَۃٍ سابقہ آیت میں بِالنَّاصِیَۃِ کا بدل ہونے کی وجہ سے حالت جَر میں ہے اور یہ نکرہ موصوفہ ہے۔ حالانکہ بِالنَّاصِیَۃِ معرفہ ہے اور اس کا بدل نَاصِیَۃٍ نکرہ ہے۔ لیکن نکرہ موصوف ہو تو معرفہ سے بدل پڑ سکتا ہے۔ (تدبر قرآن) کَاذِبَۃٍ اور خَاطِئَۃٍ اس کی صفت ہونے کی وجہ سے حالت جَر میں ہیں۔
Ayah 96:17[فَلْيَدْعُ نَادِيَهٗ : پس اسے چاہیے کہ وہ بلا لے اپنے اہل مجلس کو ]
نوٹ 1: ان آیات میں آخر سورة تک ایک واقعہ کی طرف اشارہ ہے کہ جب نبی کریم ﷺ نے نماز پڑھنا شروع کی تو ابوجہل نے آپ ﷺ کو نماز پڑھنے سے روکا اور دھمکی دی کہ آئندہ نماز پڑھیں گے تو وہ معاذ اللہ آپ ﷺ کی گردن کو پائوں سے کچل دے گا۔ (معارف القرآن) ۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ مقام ابراہیم پر نماز پڑھ رہے تھے۔ ابوجہل کا ادھر سے گزر ہوا تو اس نے کہا کہ میں نے تم کو اس سے منع نہیں کیا تھا۔ اور اس نے آپ ﷺ کو دھمکیاں دیں۔ جواب میں آپ ﷺ نے اس کو جھڑک دیا۔ اس پر اس نے کہا کہ تم کس بل بوتے پر مجھے ڈراتے ہو۔ خدا کی قسم اس وادی میں میرے حمایتی سب سے زیادہ ہیں۔ آیات۔ 17 ۔ 18 ۔ میں اس کا حوالہ ہے۔ (تفہیم القرآن)
نوٹ 2: اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبوت کے منصب پر سرفراز فرمانے کے بعد رسول اللہ ﷺ کو نماز پڑھنے کا طریقہ سکھا دیا تھا۔ اس طریقے کا ذکر قرآن مجید میں کہیں نہیں ہے۔ یہ اس بات کا یک اور ثبوت ہے کہ رسول اللہ ﷺ پر صرف وہی وحی نازل نہیں ہوتی تھی جو قرآن میں درج ہے بلکہ اس کے علاوہ بھی وحی کے ذریعے سے آپ ﷺ کو ایسی باتوں کی تعلیم دی جاتی تھی جو قرآن میں درج نہیں ہے۔ (تفہیم القرآن)
نوٹ 3: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بندہ اپنے رب سے قریب تر اس وقت ہوتا ہے جب وہ سجدے میں ہو۔ اس لیے سجدہ میں بہت دعا کیا کرو ایک دوسری حدیث میں یہ لفظ بھی آئے ہیں کہ سجدے کی حالت میں دعا قبول ہونے کے لائق ہے۔
نفل نماز کے سجدہ میں دعا کرنا ثابت ہے۔ بعض احادیث میں دعا کے خاص الفاظ بھی آئے ہیں۔ وہ الفاظ ماثورہ پڑھے جائیں تو بہتر ہے۔ فرض نمازوں میں اس طرح کی دعائیں ثابت نہیں ہیں کیونکہ فرائض میں اختصار مطلوب ہے (معارف القرآن) ہمیں بزرگوں نے یہ سکھایا تھا کہ نفل نماز کے سجدوں میں صرف وہ دعائیں مانگی جاسکتی ہیں جو قرآن مجید اور احادیث میں دی ہوئی ہیں۔ ان کے علاوہ دعائیں مانگنی ہوں تو سلام پھیر کے استغفار اور درود شریف پڑھنے کے بعد دعا مانگتے ہوئے سجدے میں چلے جائو، پھر جو چاہو مانگو، جس زبان میں چاہو مانگو۔ (مرتب)
14 ۔ محرم الحرام 1432 ھ بمطابق 21 دسمبر 2010 ئ۔
Ayah 96:18[سَـنَدْعُ الزَّبَانيَةَ : ہم بلائیں گے سپاہیوں (فرشتوں ) کو ]
زب ن
[زَبْنًا : (ض) ٹکر لگانا۔ دھکے دینا۔]
زِبْنِیَِۃٌ ج زبا نِیَۃٌ۔ سخت انسان یا جن۔ سپاہی۔ زیر مطالعہ آیت۔ 18 ۔ ]
Ayah 96:19[كَلَّا ۭ لَا تُطِعْهُ : ہرگز نہیں ! آپ مت مانیں اس کی ][ وَاسْجُدْ : اور آپ ﷺ سجدہ کریں ][ وَاقْتَرِبْ : اور آپ ﷺ قربت اختیار کریں (سجدہ۔ 14)]