93. Surah Ad-Dhuhaa

الضحىThe Morning Hours · 11 ayahsمظہر القرآن

Ayahs 93:1–3

وَ الضُّحٰىۙ Open ayah 93:1 in the Quran reader

قسم ہے1 وقت چاشت کی

وَ الَّیْلِ اِذَا سَجٰىۙ Open ayah 93:2 in the Quran reader

اور رات کی جب وہ پرد ڈالے

مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَ مَا قَلٰىؕ Open ayah 93:3 in the Quran reader

اے محبوب) تمہیں تمہارے رب نے جدا نہیں کیا اور نہ مکروہ جانا

(ف 1) شان نزول : ایک مرتبہ ایسا اتفاق ہوا کہ چند روز وحی نہ آئی تو کفار نے بطریق طعن کہا کہ محمد ﷺ سے ان کا رب روٹھ گیا اس پر والضحی نازل ہوئی سورة ضحیٰ میں چالیس کلمے اور ایک سو بہتر حروف ہیں۔
Ayah 93:4

وَ لَلْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لَّكَ مِنَ الْاُوْلٰىؕ Open ayah 93:4 in the Quran reader

اورف 1 بیشک تمہارے لیے (بعد میں آنے والی ہر حالت ) پہلی سے بہتر ہے

(ف 1) جس وقت کہ آفتاب بلند ہو، کیونکہ یہ وقت وہی ہے جس میں اللہ نے حضرت موسیٰ کو اپنے کلام سے مشرف کیا اور اسی وقت جادوگر سجدے میں گرے۔ مسئلہ : چاشت کی نماز سنت ہے اس کا وقت آفتاب کے بلند ہونے سے قبل زوال تک ہے ۔ امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک چاشت کی نماز دورکعتیں ہیں یا چار ایک سلام کے ساتھ۔ بعض مفسرین کے نزدیک الضحیٰ سے دن مراد ہے بعض نے فرمایا کہ چاشت اشارہ ہے نورجمال مصطفیٰ کی طرف اور شب کنایہ ہے آپ کے گیسوے عنبریں سے (روح البیان) ۔
Ayah 93:5

وَ لَسَوْفَ یُعْطِیْكَ رَبُّكَ فَتَرْضٰىؕ Open ayah 93:5 in the Quran reader

اورف 2 بیشک عنقریب تمہارا رب تمہیں (دنیا وآخرت میں) اتنا دے گا کہ تم راضی ہوجاؤ گے

شان مصطفیٰ میں ہر لمحہ اضافہ ہی ہوتا رہے گا۔ (ف 2) کیونکہ وہاں آپ کے لیے مقام محمود حوض مورد وخیر موعود، اور تمام انبیاء ورسل پر تقدم ہے اور آپ کی امت کا تمام امتوں پر گواہ ہونا اور آپ کی شفاعت سے مومنین کے مرتبے اور درجے بلند ہونا، اور بےانتہاء عزتیں اور کرامتیں ہیں جو بیان میں نہیں آتیں، اور مفسرین نے اس کے یہ معنی بھی بیان فرمائے ہیں کہ آنے والے احوال آپ کے لیے گذشتہ سے بہتر و برتر ہیں گویا کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ روز بروز آپ کے درجات بلند کرے گا، اور عزت پر عزت اور منصب پر منصب زیادہ فرمائے گا، اور ساعت بساعت آپ کے مراتب ترقیوں میں رہیں گے۔
Ayah 93:6

اَلَمْ یَجِدْكَ یَتِیْمًا فَاٰوٰى۪ Open ayah 93:6 in the Quran reader

کیا3 اللہ نے تمہیں یتیم نہ پایا پھر تم کو (اپنی رحمت میں) جگہ دی

شفاعت کابیان۔ (ف 3) یعنی جدا اور مکروہ جاننا کیسا، ابھی تو آپ کا رب آپ کو دنیا وآخرت میں اس قدر دولتیں اور نعمتیں عطا فرمائے گا کہ آ پوری طرح مطمئن اور راضی ہوجائیں گے اور اللہ کا اپنے حبیب سے یہ وعدہ کریمہ ان نعموں کو بھی شامل ہے جو آپ کو دنیا میں عطا فرمائیں، کمال نفس اور علوم اولین وآخرین اور ظہور امر اور اعلائے دین اور وہ فتوحات جو عہد مبارک میں ہوئیں، عہد صحابہ میں ہوئیں اور تاقیامت مسلمانوں کو ہوتی رہیں گی اور دعوت کا عام ہونااواسلام کا مشارق ومغارب میں پھیل جانا اور آپ کی امت کا بہترین امم ہونا اور آپ کے وہ کرامات و کمالات جن کا اللہ ہی عالم ہے اور آخرت کی عزت و تکریم کو بھی شامل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو شفاعت عامہ وخاصہ اور مقام محمود وغیرہ جلیل نعمتیں عطا فرمائیں۔ خدا چاہتا ہے رضائے محمد ﷺ مسلم شریف کی حدیث میں ہے نبی کریم نے دونوں دست مبارک اٹھا کر امت کے حق میں رو کردعافرمائی اور عرض کیا، اللھم امتی امتی، اللہ تعالیٰ نے جبرائیل (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ محمد مصطفیٰ ﷺ کی خدمت میں جاکر دریافت کرو رونے کا کیا سبب ہے باوجودیکہ اللہ تعالیٰ دانا ہے جبرائیل نے حسب حکم حاضر ہوکر فرمایا سید عالم نے انہیں تمام حال سنایا ہے اور غم امت کا اظہار فرمایا جبرائیل امین نے بارگاہ عرض کیا کیا تیرے حبیب یہ فرماتے ہیں باوجودیکہ وہ خوب جاننے والا ہے اور للہ تعالیٰ نے جبرائیل کو حکم دیا کہ جاؤ اور میرے حبیب سے کہو کہ ہم آپ کو آپ کی امت کے بارے میں عنقریب راضی کریں گے اور آپ کو گراں خاطر نہ ہونے دیں گے ۔ حدیث شریف میں ہے جب یہ آیت نازل ہوئی سید عالم نے فرمایا کہ جب تک میرا ایک امتی بھی دوزخ میں رہے گا، میں راضی نہ ہوں گا، آیت کریمہ صاف دلالت کرتی ہے کہ اللہ وہی کرے گا جس میں حضور راضی ہوں گے اور احادیث شفاعت سے ثابت ہے کہ نبی کی رضا اسی میں ہوگی کہ سب گناہ گار امت بخش دیے جائیں تو آیت واحادیث قطعی طور پر یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ حضور ﷺ کی شفاعت مقبول ہو اور حسب مرضی گناہ گار ان امت بخشے جائیں گے سبحان اللہ۔ کیا رتبہ عالیہ ہے کہ جس پروردگار کو راضی کرنے کے لیے تمام مقربین تکلیفیں برداشت کرتے اور محنتیں اٹھاتے ہیں وہ اس حبیب کرام کو راضی کرنے کے لیے عطا عام کرتا ہے اس کے بعد اللہ نے ان نعمتوں کا ذکر فرمایا جو آپ کے ابتدائے حال سے آپ پر فرمائیں۔
Ayah 93:7

وَ وَجَدَكَ ضَآلًّا فَهَدٰى۪ Open ayah 93:7 in the Quran reader

اورف 1 اس نے تم کو اپنی محبت میں خود رفتہ پایا تو اپنی طرف راہ دی

(ف 1) آنحضرت ﷺ ابھی والدہ ماجدہ کے بطن میں تھے کہ حمل دو ماہ کا تھا کہ آپ کے والد صاحب نے مدینہ شرفی میں وفات پائی اور نہ کچھ مال چھوڑا اور نہ کوئی جگہ چھوڑی، آپ کی خدمت کے متکفل آپ کے دادا عبدالمطلب ہوئے جب آپ کی عمر چار یاچھ سال کی ہوئی تو والدہ صاحبہ نے بھی وفات پائی ، جب عمر شریف آٹھ سال کی ہوئی تو آپ کے دادا عبدالمطلب نے بھی وفات پائی انہوں نے اپنی وفات سے پہلے اپنے فرزند ابوطالب کو جو آپ کے حقیقی چچا تھے آپ کی خدمت ونگرانی کی وصیت کی ابوطالب آپ کی خدمت میں سرگرم رہے یہاں تک کہ اللہ نے نبوت سے سرفراز فرمایا، اس آیت کی تفسیر میں مفسرین نے ایک معنی یہ بیان کیے ہیں کہ یتیم بمعنی یکتا و بےنظیر کے ہیں جیسے کہا جاتا ہے درہ یتیمہ۔ اس تقدیر پر آیت کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو عزت وشرف میں یکتا وے بےنظیر پایا اور آپ کو مقام قرب میں جگہ دی اور اپنی حفاظت میں آپ کے دشمنوں کے اندر آپ کی پرورش فرمائی اور آپ کو نبوت واصطفاء و رسالت کے ساتھ مشرف کیا، (خازن وجمل) ۔
Ayah 93:8

وَ وَجَدَكَ عَآئِلًا فَاَغْنٰىؕ Open ayah 93:8 in the Quran reader

اور اس نے2 تم کو حاجت مند پایا تو غنی کردیا

رفعت مصطفیٰ ﷺ ۔ (ف 2) جب حضور جوان ہوئے قوم کے مشرکانہ اطوار اور بےہودہ رسوم سے سخت بےزار تھے اور قلب میں خدائے واحد کی عبادت کا جذبہ پورے زور کے ساتھ موجزن تھا، عشق الٰہی کی آگ سینہ مبارک میں بڑی تیزی سے بھڑک رہی تھی وصول الی اللہ ہدایت خلق کی اس اکمل ترین استعداد کا چشمہ جو تمام عالم سے بڑھ کر نفس قدسی میں ودیعت میں رکھا گیا تھا اندر ہی اندر جوش مارتا تھا لیکن کوئی صاف کھلاہواراستہ اور مفصل راستہ دستورالعمل بظاہر دکھائی نہ دیتا تھا جس سے اس عرش وکرسی سے زیادہ وسیع قلب کو تسکین ہوتی، اسی جوش طلب اور فرط محبت میں آپ بےقرار غاروں اور پہاڑوں میں جاکرب کو یاد کرتے، اور محبوب حقیقی کو پکارتے، آخر اللہ تعالیٰ نے غیب کے اسرار آپ پرکھول دیے اور علوم مکان ومایکون عطا کیے، اپنی ذات وصفات کی معرفت میں سب سے بلند مرتبہ عنایت کیا۔ مسئلہ : انبیاء (علیہ السلام) سب معصوم ہوتے ہیں نبوت سے قبل بھی نبوت کے بعد بھی، اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کے صفات کے ہمیشہ سے عارف ہوتے ہیں۔
Ayah 93:9

فَاَمَّا الْیَتِیْمَ فَلَا تَقْهَرْؕ Open ayah 93:9 in the Quran reader

تو تم (اس کے شکریہ میں1) یتیم پر دباؤ نہ ڈالو

(ف 1) اس طرح کہ حضرت خدیجہ نے آپ سے نکاح کرلیا اور آپ تمام مال حاضر کردیا، یہ تو ظاہری غنا تھی باقی آپ کے قلبی اور باطنی غنا کا درجہ تو وہ غنی عن العالمین ہی جانتا ہے کوئی بشر اس کا کیا اندازہ کرسکے، مطلب یہ ہے کہ ابتداء سے مورد انعامات رہے ہیں آئندہ بھی رہیں گے جس پروردگار نے اسی شان سے آپ کی تربیت فرمائی ہے کیا وہ آپ کو خفا ہوکر آپ کو یونہی درمیان میں جدا کردے گا۔ استغفر اللہ۔ بخاری ومسلم کی حدیث میں ہے تونگری کثرت مال سے حاصل نہیں ہوتی حقیقی تونگری نفس کا بےنیاز ہونا ہے جیسا کہ اہل جاہلیت کا طریقہ تھا کہ یتیموں کو دباتے اور ان پر زیادتی کرتے تھے۔ سب سے اچھا گھر کون سا ؟ حدیث شریف میں ہے سید عالم نے فرمایا، مسلمانوں کے گھروں میں وہ بہت اچھا گھر ہے جس میں یتیم کے ساتھ بہتر سلوک کیا جاتا ہو، اور وہ بہت برا گھر ہے جس میں یتیم کے ساتھ برابرتاؤ کیا جاتا ہے۔
Ayah 93:10

وَ اَمَّا السَّآئِلَ فَلَا تَنْهَرْؕ Open ayah 93:10 in the Quran reader

اورف 2 سائل کو مت جھڑکو

(ف 2) ارشاد ہے کہ سائل سے تنگ دل نہ ہو اور حاجت مندوں کے سوال سے گبھراکر جھڑکنے ڈانٹنے کاشیوہ اختیار نہ کرے، بلکہ فراخدلی اور خوش اخلاقی سے پیش آئے احادیث میں سائلین کے مقابلہ میں آپ کی وسعت اخلاق کے جو قصے منقول ہیں وہ بڑے سے برے مخالف کو آپ کے اخلاق کا گرویدہ بنادیتے ہیں ، صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ سائل کے زجر کی ممانعت اس صورت میں ہے جب وہ نرمی سے مان جائے ورنہ اگر اڑی لگاکرکھڑے ہوجائے اور کسی طرح نہ مانے، اس وقت زجر جائز ہے ، یہ بھی کہا گیا ہے کہ سائل سے طالب علم مراد ہے اس کا اکرام کرنا چاہیے، اور جو اس کی حاجت ہو اس کو پورا کرنا اس کے ساتھ بدخلقی نہ کرنا چاہیے۔
Ayah 93:11

وَ اَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ۠ Open ayah 93:11 in the Quran reader

اورف 3 اپنے رب کی نعمت کا چرچا کرو

(ف 3) نعموں سے مراد وہ نعمتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب کو عطا فرمائیں، اور وہ بھی جن کا حضور سے وعدہ فرمایا، نعمتوں کے ذکر کاس لیے حکم فرمایا کہ نعمت کا بیان کرنا شکرگزاری ہے اور تمام مسلمانوں کے حق میں رسول کریم کا اس عالم میں تشریف لانا نعمت عظمی ہے پس اس آیت کے حکم کے موافق اس نعمت کا بیان مسلمانوں کو ضرور چاہے، اسی لیے علماء ربانی اور الیاء اللہ نے مجلس مولود شریف کو مرتب کیا تاکہ آپ کی تشریف آوری کا حال بیان کیا جائے کیونکہ آپ کی تشریف آوری ہمارے حق میں نعمت ہے اور نعمت کا ذکر کرنا ماموربہ ہے اللہ تعالیٰ امت محمدیہ کے ہر شخص کو اپنے رسول کریم کی پیروی پر قائم رہنے کی توفیق دے ، تاکہ حضور کی پیروی کے طفیل سے یہ دولت قیامت کے دن حاصل ہو جس کا وعدہ اللہ نے اپنے حبیب سے ان کی امت کے حق میں کیا ہے (تفسیر حقانی) ۔