92. Surah Al-Lail

الليلThe Night · 21 ayahsمظہر القرآن

Ayahs 92:1–11

وَ الَّیْلِ اِذَا یَغْشٰىۙ Open ayah 92:1 in the Quran reader

قسم ہے (ف 1) رات کی جب چھاجائے

وَ النَّهَارِ اِذَا تَجَلّٰىۙ Open ayah 92:2 in the Quran reader

اور دن کی جب روشن ہوجائے

وَ مَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَ الْاُنْثٰۤىۙ Open ayah 92:3 in the Quran reader

اس (اللہ) کی جس نے نرومادہ (ایک ہی پانی سے) بنائے

اِنَّ سَعْیَكُمْ لَشَتّٰىؕ Open ayah 92:4 in the Quran reader

بیشک تمہاری کوشش مختلف ہیں

فَاَمَّا مَنْ اَعْطٰى وَ اتَّقٰىۙ Open ayah 92:5 in the Quran reader

پس وہ جس نے اللہ کی راہ میں اپنا مال دیا اور پرہیزگاری کی

وَ صَدَّقَ بِالْحُسْنٰىۙ Open ayah 92:6 in the Quran reader

اور اچھی بات (یعنی ملت اسلام) کو سچا سمجھا

فَسَنُیَسِّرُهٗ لِلْیُسْرٰىؕ Open ayah 92:7 in the Quran reader

تو بہت ہی جلد ہم اسے جنت کے لیے آسانی مہیا کردیں گے

وَ اَمَّا مَنْۢ بَخِلَ وَ اسْتَغْنٰىۙ Open ayah 92:8 in the Quran reader

اور جس نے اللہ (کاحق ادا کرنے میں) بخل کیا اور بےپروا بنا

وَ كَذَّبَ بِالْحُسْنٰىۙ Open ayah 92:9 in the Quran reader

اور اچھی بات کو جھٹلایا

فَسَنُیَسِّرُهٗ لِلْعُسْرٰىؕ Open ayah 92:10 in the Quran reader

تو بہت جلد ہم اسے دشواری مہیا کردیں گے

وَ مَا یُغْنِیْ عَنْهُ مَالُهٗۤ اِذَا تَرَدّٰىؕ Open ayah 92:11 in the Quran reader

اور اس کا مال اس کے کچھ کام نہ آئے گا جب وہ ہلاکت میں پڑے گا

حضرت صدیق اکبر کا ایمان۔ (ف 1) شان نزول۔ روساء مکہ میں سے دو شخص بہت مالدار تھے ایک تو حضرت صدیق اکبرؓ ایک امیہ بن خلف لیکن دونوں کی حالت مختلف تھی ، حضرت ابوبکر صدیق مسلمان اور انبیاء کے بعد سب سے افضل، اور اپنا جان مال راہ خدا میں لٹانے والے تھے اور یہ کم بخت کافر انتہا درجہ کا بخیل اور گستاخ تھا، حضرت بلال اسی کے غلام تھے اور خفیہ ایمان لاچکے تھے ، امیہ بن خلف کو جب اس امر کی اطلاع ہوئی تو غلاموں کو حکم دیا کہ دن چرھے بلال ؓ کے تمام جسم پر ببول کے کانٹے چبھو دیا کرو اور جب دھوپ تیز ہوجائے تو اس کو دھوپ میں چت لٹا کر سرے سے پیر تک گرم پتھر پاٹ دیا کرو کہ ہل نہ سکے، اور گرداگرد آگ سلگادیا کرو اور رات کو ایک تنگ تاریک کوٹھڑی میں بند کرکے باری باری تمام رات کوڑے ماراکرو، کئی دن حضرت بلال اس مصیبت میں گرفتار رہے لیکن اس حال میں کلمہ ایمان ان کی زبان پر جاری رہا، ۔ اتفاق سے ایک روز حضرت ابوبکر کا اس طرف گذرہوا تو آپ یہ حال اور آہ زار سن کر بےتاب ہوگئے، آپ نے امیہ بن خلف سے فرمایا اے بدنصیب ایک خدا پرست پر یہ سختیاں۔ اس نے کہا، آپ کو اس کی تکلیف ناگوار ہو تو خریدلیجئے ، آپ نے گراں قیمت پر ان کو خرید کر آزاد کردیا، اس پر یہ سورت نازل ہوئی اسمیں بیان فرمایا گیا کہ تمہاری کوششیں مختلف ہیں یعنی حضرت ابوبکر کی کوشش اور امیہ کی یعنی حضرت ابوبکر صدیق رضائے الٰہی کے طالب ہیں امیہ حق کی دشمنی میں اندھا ہے۔
Ayahs 92:12–18

اِنَّ عَلَیْنَا لَلْهُدٰى٘ۖ Open ayah 92:12 in the Quran reader

بیشک1 ہدایت دکھانا ہمارے ذمہ ہے

وَ اِنَّ لَنَا لَلْاٰخِرَةَ وَ الْاُوْلٰى Open ayah 92:13 in the Quran reader

اور بیشک آخرت اور دنیا دونوں کے ہم ہی مالک ہیں

فَاَنْذَرْتُكُمْ نَارًا تَلَظّٰىۚ Open ayah 92:14 in the Quran reader

تو میں تمہیں اس آگ سے ڈراتا ہوں جو بھڑک رہی ہے

لَا یَصْلٰىهَاۤ اِلَّا الْاَشْقَىۙ Open ayah 92:15 in the Quran reader

اس آگ میں نہ جائے گا مگر جو بڑابدبخت ہو

الَّذِیْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰىؕ Open ayah 92:16 in the Quran reader

جس نے (پیغمبر کو) جھٹلایا اور (ایمان سے) منہ پھیرا

وَ سَیُجَنَّبُهَا الْاَتْقَىۙ Open ayah 92:17 in the Quran reader

اور اس آگ سے دور رکھاجائے گا وہ نہایت پرہیزگار

الَّذِیْ یُؤْتِیْ مَالَهٗ یَتَزَكّٰىۚ Open ayah 92:18 in the Quran reader

جو اپنا مال پاک نفس ہونے کے لیے (خالصتا اللہ ) دیتا ہے

(ف 1) اس آیت میں فرمایا کہ اس میں کوئی شک نہیں راستہ باتنا ہمارا ہی کام ہے برائی کا ہو یا بھلائی کا سب دنیا کا انتظام ہماری ہاتھ میں ہے اور آخرت کا اختیار بھی ہے جب راستہ بتانا ہمارا کام ہے اس لیے تم کو بھڑکتی ہوئی آگ سے ڈراتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ اس آگ میں وہی شخص جائے جو خدا اور خدا کے رسول کی تکذیب کرتا ہے اور تقوی اور دین داری سے منہ پھیرتا ہے تقوی اہل شریعت کی اصطلاح میں یہ ہے کہ کفر سے اور گناہ کبیرہ اور صغیرہ سے بچتا رہے، اگر کبھی کوئی گناہ بھی ہوجائے تو سچی توبہ جھٹ پٹ کرلے، سچی توبہ کے معنی یہ ہیں کہ اس گناہ سے متنفر ہوجائے اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے پرہیز رکھے آگے فرمایا کہ جب راستہ بتانا ہمارا ہی کام ہے اس لیے ہم اطلاع کرتے ہیں کہ اس آگ سے وہی بچایاجائے گا جو نہایت پرہیزگاری سے بسر کرے اور اپنامال اللہ کی راہ میں دیتا رہے۔
Ayahs 92:19–21

وَ مَا لِاَحَدٍ عِنْدَهٗ مِنْ نِّعْمَةٍ تُجْزٰۤىۙ Open ayah 92:19 in the Quran reader

اور (ف 1) کسی کاس پر کچھ احسان نہیں جس کا بدلہ دیاجائے

اِلَّا ابْتِغَآءَ وَجْهِ رَبِّهِ الْاَعْلٰىۚ Open ayah 92:20 in the Quran reader

مگر صرف اپنے رب کی خوشنودی چاہتا ہے جو سب سے بڑا ہے

وَ لَسَوْفَ یَرْضٰى۠ Open ayah 92:21 in the Quran reader

اور بیشک وہ عنقریب خوش ہوگا

(ف 1) شان نزول : جب حضرت صدیق اکبر نے حضرت بلال کو بہت گراں قیمت پر خریدا اور آزاد کیا تو کفار کو حیرت ہوئی اور انہوں نے کہا کہ حضرت صدیق اکبر نے ایسا کیوں کیا ؟ شاید بلال کا ان پر کوئی احسان ہوگا، جو انہوں نے اتنی گراں قیمت دے کر خریدا اور آزاد کیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور ظاہر فرمادیا کہ حضرت صدیق اکبر کا یہ فعل محض اللہ کی رضا کے لیے ہے کسی کے احسان کا بدلہ نہیں، اور نہ ان پر بلال وغیرہ کا کوئی احسان ہے ، حضرت صدیق اکبر نے بہت سے لوگوں کو ان کے اسلام کے سبب خرید کر آزاد کردیا۔