وَوَجَدَكَ عَآىِٕلًا فَاَغْنٰی ۟ؕوَوَجَدَكَ عَآئِلًا فَاَغۡنٰىؕ
اور تنگ دست پایا تو غنی کر دیا
— Fateh Muhammad Jalandhari
And He found you poor and made [you] self-sufficient.
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 18 of juz
وَوَجَدَكَ عَآىِٕلًا فَاَغْنٰی ۟ؕوَوَجَدَكَ عَآئِلًا فَاَغۡنٰىؕ
اور تنگ دست پایا تو غنی کر دیا
— Fateh Muhammad Jalandhari
And He found you poor and made [you] self-sufficient.
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 18 of juz
Read the whole surah · Surah Ad-Dhuhaa
اور تمہیں نادار پایا اور پھر مالدار کر دیا
اور تنگ دست پایا تو غنی کر دیا
اور تجھے نادار پاکر تونگر نہیں بنا دیا؟
اور تمہیں نادار پایا تو غنی کردیا۔
اور تمہیں حاجت مند پایا پھر غنی کردیا
اور اس نے آپ کو (وصالِ حق کا) حاجت مند پایا تو اس نے (اپنی لذتِ دید سے نواز کر ہمیشہ کے لئے ہر طلب سے) بے نیاز کر دیا۔ (یا:- اور اس نے آپ کو (جوّاد و کریم) پایا تو اس نے (آپ کے ذریعے) محتاجوں کو غنی کر دیا۔٭، ٭ ان تینوں تراجم میں یَتِیماً کو فَاٰوٰی کا، ضآلًّا کو فَھَدٰی کا اور عائِلًا کو فَاَغنٰی کا مفعولِ مقدم قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: التفسیر الکبیر، القرطبی، البحر المحیط، روح البیان، الشفاء اور شرح خفاجی)
` اور اس نے تجھے تنگدست پایا تو غنی کردیا۔
اور آپ کو مفلس پایا تو مالدار کردیا
اور محتاج پایا تو غنی نہیں کیا !
اور آپ کو تنگ دست پایا پھر مالدار کردیا
اور آپ کو نادار پایا تو مالدار بنا دیا۔
اور اس نے آپ ﷺ کو تنگ دست پایا تو غنی کردیا !
تنگ دست پایا تو غنی کردیا۔
And did He not find you in want, and then enriched you?
and He found you in need, then made you need-free.
and He found you in need, then made you need-free.
And He found you poor and made you rich
Did He not find thee destitute and enrich (thee)?
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
And He found you poor and made [you] self-sufficient.
And did He not find you in need and make you rich?
And find you in want and make you to be free from want?
And He found thee destitute, so He enriched thee.
And He found thee in need, and made thee independent.
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–11
مسند احمد میں ہے کہ حضور ﷺ بیمار ہوگئے اور ایک یا دو راتوں تک آپ تہجد کی نماز کے لیے نہ اٹھ سکے تو ایک عورت کہنے لگی کہ تجھے تیرے شیطان نے چھوڑ دیا اس پر یہ اگلی آیتیں نازل ہوئیں (بخاری مسلم وغیرہ) حضرت جندب فرماتے ہیں کہ جبرائیل کے آنے میں کچھ دیر ہوئی تو مشرکین کہنے لگے کہ یہ تو چھوڑ دئیے گئے تو اللہ تعالیٰ نے والضحٰی سے ماقلفی تک کی آیتیں اتاریں، اور روایت میں ہے کہ حضور ﷺ کی انگلی پر پتھر مارا گیا تھا جس سے خون نکلا اور جس پر آپ نے فرمایا : ھل انت الا اصبع دمیت وفی سبیل اللہ ما لقیت یعنی تو صرف ایک انگلی ہے اور راہ اللہ میں تجھے یہ زخم لگا ہے۔ طبعیت کچھ ناساز ہوجانے کی وجہ سے دو تین رات…
Read the full tafseer →سورة الضُّحٰی 8 نبی ﷺ کے لیے آپ کے والد ماجد نے میراث میں صرف ایک اونٹنی اور ایک لونڈی چھوڑی تھی۔ اس طرح آپ کی زندگی کی ابتداء افلاس کی حالت میں ہوئی تھی۔ پھر ایک وقت آیا کہ قریش کی سب سے زیادہ مالدار خاتون، حضرت خدیجہ نے پہلے تجارت میں آپ کو اپنے ساتھ شریک کیا، اس کے بعد انہوں نے آپ سے شادی کرلی اور ان کے تمام تجارتی کاروبار کو آپ نے سنبھال لیا۔ اس طرح آپ نہ صرف یہ کہ مال دار ہوگئے، بلکہ آپ کی مالداری اس نوعیت کی نہ تھی کہ محض بیوی کے مال پر آپ کا انحصار ہو۔ ان کی تجارت کو فروغ دینے میں آپ کی اپنی محنت و قابلیت کا بڑا حصہ تھا۔
Read the full tafseer →تیسری نعمت ووجدک عائلاً فاغنی، عائل، عیلہ سے مشتق ہے جس کے معنے فقیر و محتاج ہونے کے ہیں، معنی آیت کے یہ ہوئے کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے نادار اور بےزر پایا تو آپ کو غنی و مالدار کردیا جس کی ابتداء حضرت خدیجہ کبریٰ کے مال میں بطور شرکت مضاربت کے تجارت کرنے سے ہوئی پھر وہ خود آپ کے عقد نکاح میں آ کر ام المومنین ہوئیں تو ان کا سارا مال ہی آپ کی خدمت کے لئے ہوگیا۔
Read the full tafseer →حقیقی غنا کا سرچشمہ ایمان اور معرفت الٰہی ہے: ’وَوَجَدَکَ عَائِلاً فَأَغْنٰی‘۔ فرمایا کہ ہم نے تمہیں محتاج پایا تو غنی کر دیا۔ غنا اور فقر کا جتنا تعلق مادی اسباب و وسائل سے ہے اس سے زیادہ قلب کے احوال سے ہے۔ آدمی کا سینہ ایمان سے خالی ہو تو وہ محتاج ہے اگرچہ اس کے پاس قارون کا خزانہ ہو اور اگر ایمان سے اس کا سینہ معمور ہے تو وہ غنی ہے اگرچہ وہ حضرت یحییٰ کی طرح کمل کی پوشاک پہنتا اور جنگلی شہد اور ٹڈیوں پر گزارہ کرتا ہو۔ یہی حکمت یوں سمجھائی گئی ہے کہ ’الغنی غنی القلب‘ (حقیقی غنا دل کا غنا ہے) یہ حقیقی غنا ایمان، اللہ کی معرفت اور اس کی کتاب کے نور سے پیدا ہوتا ہے جس کو یہ دولت حاصل نہیں…
Read the full tafseer →8۔ 1 تونگر کا مطلب ہے کہ اپنے سوا تجھ کو ہر ایک سے بےنیاز کردیا، پس تو فقر میں صابر اور غنا میں شاکر رہا ہے۔ جیسے خود نبی ﷺ نے فرمایا کہ تونگری کثرت ساز و سامان کا نام نہیں اصل تونگری تو دل کی تونگری ہے۔ (صحیح مسلم)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
5: حضرت خدیجہ ؓ کے ساتھ آپ نے تجارت میں جو شرکت فرمائی، اس سے آپ کو اچھا خاصا نفع حاصل ہوا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
الم یجدک .................... فاغنی ذرا اپنے عملی حالات پر غور کرو ، ماضی قریب پر نگاہ ڈالو ، کیا تمہارا ماضی یہ بتاتا ہے کہ تمہارے رب نے تمہیں چھوڑ دیا ہے اور تم سے ناراض ہوگیا ہے ، یا کچھ اور بتاتا ہے ۔ آپ پر تو نبوت سے پہلے بھی رب کا فضل رہا ہے ، جب آپ یتیم تھے تو آپ کی نگرانی کون کررہا تھا ، جب آپ حیران تھے اور راستہ معلوم نہ تھا تو آپ کو کس نے راستہ بتلایا۔ پھر آپ نادار تھے ، آپ کو کس نے مالدار بنا دیا ........ آپ یتیم پیدا ہوئے تھے ، اللہ نے آپ کو پناہ دی ، لوگوں کے دل آپ پر مائل ہوگئے ، اور ابوطالب آپ پر مہربان ہوگئے حالانکہ انہوں نے آپ کے دین کو قبول نہ کیا تھا۔ آپ فقیر تھے۔ اللہ نے…
Read the full tafseer →12 اس طرح کہ حضرت خدیجہ ؓ کی تجارت میں آپ ﷺ مضارب ہوگئے۔ اس میں نفع ملا۔ پھر حضرت خدیجہ ؓ نے آپ ﷺ سے نکاح کرلیا اور اپنا تمام مال حاضر کردیا۔ یہ تو ظاہری غناء تھا۔ باقی آپ ﷺ کے قلبی اور باطنی غناء کا درجہ تو وہ غنی عن العالمین ہی جانتا ہے۔ کوئی بشر اس کا کیا اندازہ کرسکے۔ مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ ابتداء سے مورد انعامات رہے ہیں۔ آئندہ بھی رہیں گے۔ جس پروردگار نے اس شان سے آپ ﷺ کی تربیت فرمائی۔ کیا وہ خفا ہو کر آپ ﷺ کو یونہی درمیان میں چھوڑ دیگا۔ استغفراللّٰہ !۔
Read the full tafseer →آیت 8{ وَوَجَدَکَ عَآئِلًا فَاَغْنٰی۔ } ”اور اس نے آپ ﷺ کو تنگ دست پایا تو غنی کردیا !“ اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت خدیجہ رض کی ساری دولت آپ ﷺ کے قدموں میں ڈھیر کردی۔ حضرت خدیجہ رض بہت مال دار اور صاحب حیثیت خاتون تھیں۔ مکہ کے بڑے بڑے سرداران رض سے نکاح کے خواہش مند تھے ‘ مگر اللہ تعالیٰ نے ان رض کا دل آپ ﷺ کی طرف پھیر دیا اور انہوں رض نے خود آپ ﷺ کو نکاح کا پیغام بھجوایا۔ گزشتہ آیات میں حضور ﷺ کی زندگی کے تین مراحل کے حوالے سے تین احسانات کا ذکر کرنے کے بعد اب اسی ترتیب سے آپ ﷺ کو تین ہدایات دی جا رہی ہیں :
Read the full tafseer →7 آپ کا بچپن :۔ آپ ﷺ کے والد ماجد نے میراث میں صرف ایک اونٹنی اور ایک لونڈی چھوڑی تھی۔ آپ کی رضاعت کا مسئلہ سامنے آیا تو سب دائیوں نے آپ کی رضاعت سے اس بنا پر انکار کردیا کہ آپ یتیم ہیں۔ والد موجود نہیں گھرانہ بھی اتنا مالدار نہیں تو یہاں سے کیا ملے گا۔ آخر یہ سعادت حلیمہ سعدیہ کے ہاتھ آئی اور انہوں نے آپ ﷺ کی رضاعت کو اس لیے قبول کرلیا کہ کسی امیر گھرانے کا بچہ انہیں ملا ہی نہیں تھا اور انہوں نے یہ سمجھ کر رضاعت قبول کی کہ کچھ ہونا بہرحال نہ ہونے سے بہتر ہے۔ آٹھ سال کی عمر کو پہنچے تو آپ ﷺ کے دادا عبدالمطلب فوت ہوگئے اور آپ ﷺ اپنے چچا ابو طالب کی کفالت میں آگئے۔ ابو طالب خود عیالدار اور مفلس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
5۔ (سو جو بندہ ماضی میں اتنے التفات واکرام کامورد رہ چکا ہے، اس کا مستقبل تو اور زیادہ روشن وشاندار ہوکررہتا ہے) (آیت) ” الم یجدک یتیما فاوی “۔ یعنی دنیا میں جب آپ لائے گئے، تو ہر طرح کیسی بےسروسامانی، اور اسباب ظاہری سے کس درجہ محرومی تھی، اس کے باوجود بھی اس نے کس کس طرح آپ ﷺ کو ہر طرح مطمئن کردیا، اور ہر طرح کا سامان اطمینان آپ ﷺ کے لئے بہم پہنچا دیا ! (آیت) ” ووجدک ضآلا فھدی “۔ آپ ﷺ ابتداء واصلا اصول وارکان شریعت سے بیگانہ محض تھے، پھر اسی نے تو آپ ﷺ کو دین و شریعت کا پور اپور علم دے دیا، (آیت) ” ضآلا “۔ ضال کے معنی حیران و سرگرداں کے ہیں، محمد رسول ﷺ دولت رسالت سے تو بعد کو مشرف ہوئے ہی،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
ووجدک عالاً فاغنی ” غنی کرنے “ کا مطلب ہے کہ ہم نے آپ ﷺ کو اپنے سواہر ایک سے بےنیاز کردیا پس آپ ﷺ فقر میں صابر اور غنی میں شاکر رہے خود نبی ﷺ کا بھی فرمان ہے کہ تو نگری ساز و سامان کی کثرت کا نام نہیں اصل تو نگری دل کی تو نگری ہے۔ (صحیح مسلم کتاب الزکوۃ)
Read the full tafseer →ووجدک عائلا . اور تم کو نادار پایا۔ فاغنی . پس غنی کردیا ‘ خدیجہ ؓ کے مال کے ذریعہ سے یا تجارتی منافع کی وجہ سے یا مال غنیمت کے ذریعہ سے۔ ان تمام معانی کی صورت میں غنا سے مراد ہے احتیاج کو دور کردینا خواہ تھوڑے مال کے ذریعہ سے ہی ہو۔ نصاب زکوٰۃ کا مالک بنا دینا مراد نہیں ہے۔ مقاتل نے کہا اللہ نے رزق دے کر تمہارے دل کو (مخلوق کی طرف سے) بےنیاز کردیا۔ فراء نے اسی مطلب کو پسند کیا ہے اور صراحت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ دنیوی مال و متاع کی وجہ سے غنی نہ تھے بلکہ آپ ﷺ کا دل غنی تھا اور نفس کی غناء ہی اصلی غنا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمرو کی روایت ہے ‘ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کامیاب ہوگیا وہ شخص جو اسلام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
(8۔ 11) تو اب ان نعمتوں کے شکریہ میں آپ یتیم پر سختی نہ کیجیے اور سائل کو خالی ہاتھ واپس نہ کیجیے اور نہ اس کو جھڑکیے۔ اور نبوت واسلام کا لوگوں کے درمیان تذکرہ کرتے رہا کیجیے اور ان کو اس سے آگاہ کردیجیے۔ شان نزول : وَالضُّحٰى۔ وَالَّيْلِ اِذَا سَـجٰى الخ امام بخاری و مسلم نے حضرت جندب سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم ﷺ کو کچھ تکلیف ہوگئی جس کی وجہ سے ایک یا دو راتوں کو آپ تہجد نہ پڑھ سکے تو آپ کے پاس ایک عورت آئی اور کہنے لگی اے محمد ﷺ میرے خیال میں (معاذ الل) آپ کے شیطان نے آپ کو چھوڑ دیا ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ وَالضُّحٰى۔ وَالَّيْلِ اِذَا سَـجٰى الخ سعید بن منصور اور…
Read the full tafseer →(ووجدک عآئلاً فاغنی):”عال یعیل عیلاً وعیلۃ“ (ض) فقیر ہونا۔ ”عائلاً“ فقیر۔۔ سورة توبہ میں فرمایا :(وان خفتم علیتہ فسوف یغنیکم اللہ من فضلہ) (التوبۃ : 28) ”اور اگر تم کسی قسم کے فقرے سے ڈرتے ہو تو اللہ جلد ہی تمہیں اپنے فضل سے غنی کر دے گا۔“ رسول اللہ ﷺ کے والد آپ کی پیدائش سے پہلے ہی فوت ہوگئے۔ انہوںں نے میراث میں ایک لونڈی ام ایمن کے علاوہ کوئی زیادہ ملا نہیں چھوڑا۔ بچپن میں اپنے فقر کا حال رسول اللہ ﷺ نے خود بیان فرمایا، ابوہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا، (ما بعث اللہ بنیاً الا رعی الغنم فقال اصحابہ وانت ؟ فقال نعم، کنت ارعاھا علی قراریط لاھل مکۃ) (بخاری، الاجارۃ باب رعبی العنم…
Read the full tafseer →ووجدک عائلا فاغنی۔ یعنی فقیر، آپ ﷺ کے پاس کوئی مال نہ تھا تو حضرت خدیجہ کے ذریعے آپ کو غنی کردیا یہ کہا جاتا ہے : عال الرجل یعیل عیلۃ۔ جب وہ محتاج ہو۔ احیہ بن جلاح نے کہا : فمایدری الفقیر متی غناہ، وما یدری الغنی متی یعیل۔ فقیر نہیں جانتا کہ اس کی غنا کب ہوگی اور غنی نہیں جانتا کہ کب وہ محتاج ہوجائے گا۔ مقاتل نے کہا، فرضاک بما اعطاک من الرزق۔ جو تجھے رزق دیا اس کے ساتھ تجھے راضی کردیا۔ کلبی نے کہا، رزق کے ساتھ تجھے قانع بنادیا۔ ابن عساکر نے کہا، تجھے نفس کا فقیر پایاتوتیرے دل کو غنی کردیا۔ اخفش نے کہا، تجھے عیال دار پایا اس کی دلیل فاغنی ہے اس معنی میں جریر کا قول ہے : اللہ انزل فی الکتاب…
Read the full tafseer →38۔ ابن جریر نے سفیان (رح) سے روایت کیا کہ آیت ووجد عائلا یعنی آپ کو فقیر پایا اور انہوں نے یہ ذکر کیا کہ ابن مسعود ؓ کے مصحف میں یوں ہے آیت ووجد عائل فاوی اور آپ کو فقیر پایا تو اپنی پناہ میں لے لیا۔
Read the full tafseer →[وَوَجَدَكَ عَاۗىِٕلًا : اور اس نے پایا آپ ﷺ کو تنگ دست ][ فَاَغْنٰى : تو اس نے غنی کیا (آپ ﷺ کو) ]
Read the full tafseer →پھر فرمایا ﴿ وَ وَجَدَكَ عَآىِٕلًا فَاَغْنٰىؕ008﴾ (اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو بےمال پایا سو آپ کو غنی کردیا) ۔ آپ کی کفالت آپ کے چچا ابو طالب کرتے رہے لیکن وہ مالدار آدمی نہیں تھے انہیں کے ساتھ گزر بسر کرنا ہوتا تھا جو ان کا حال تھا وہی آپ کا حال تھا، آپ کی امانتداری کی صفت مشہور تھی۔ حضرت خدیجہ ؓ تجارت کے لیے اپنا مال ملک شام بھیجا کرتی تھیں (جیسا کہ اہل مکہ کا طریقہ تھا) جب آنحضرت ﷺ کی عمر پچیس سال ہوئی تو انہوں نے آپ کی صفات سن کر آپ کو بطور مضاربت تجارت کا مال دے کر ملک شام جانے کی درخواست کی، آپ نے منظور فرما لی۔ ام المومنین سیّدہ خدیجہ ؓ نے آپ کے ساتھ اپنا ایک غلام بھی بھیج دیا، آپ ملک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
انعامات خاصہ : برذات اقدس نبی کریم علیہ الصلوۃ والتسلیم وامر باواء شکر : قال اللہ تعالیٰ (آیت) ” والضحی والیل اذا سجی ......... الی ......... واما بنعمۃ ربک فحدث “۔ (ربط) گزشتہ چند سورتوں میں آنحضرت ﷺ کی نبوت و رسالت کو ثابت کیا گیا تھا اور ایمان کا دارومدار آخرت پر ایمان یقین کی شکل میں ہے تو اس کے دلائل بھی ذکر فرما دیئے گئے اب اس سورت میں ان خصوصی انعامات کا ذکر ہے جن سے آنحضرت ﷺ کی ذات اقدس کو سرفراز فرمایا گیا اور ان انعامات کے ضمن میں آپ کی رسالت کے دلائل بھی ذکر کردئیے گئے اور جن خاص کمالات اور اخلاق حسنہ سے پیغمبر کی ذات متصف ہونی چاہئے، ان کو بھی بیان کردیا گیا، ارشاد ہے۔ قسم ہے دھوپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
4:۔ ” الم یجدک “ آپ کے ابتدائی حالات یاد دلا کر اور تین انعامات ذکر کر کے تسلی کے لیے شواہد بیان فرما دئیے ہر لاحق انعام سابق کے بعد ہوا ہے۔ استفہام تقریری ہے۔ آپ یتیم رہ گئے تو اللہ تعالیٰ نے دوسروں کے ذریعے سے آپ کی پرورش کرائی۔ جب آپ جوان ہوئے تو دین کا راستہ نہیں جانتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے آپ پر قرآن نازل کر کے آپ کو شریعت سکھائی اور راستہ بتایا۔ پھر آپ فقیر اور تنگدست تھے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو غنی کردیا۔ مکہ میں حضرت خدیجہ ؓ کے مال سے یا مدینہ میں غنائم وانفال سے، ای فاغناک بخدیجۃ ؓ ، وقیل اغناک بما فتح لک من الفتوح وافاءہ علیک من اموال الکفار (قرطبی ج 20 ص 99، 100) ۔ مگر دوسری توجیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–11
گزشتہ سے پیوستہ ابتدائے سورة میں اللہ تعالیٰ نے یہ بات سمجھائی کہ چند دن کے لئے وحی کے منقطع ہونے پر مشرکین جو اعتراضات کرتے ہیں ، وہ درست نہیں ہیں۔ اس میں بھی اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے اس مقام پر دن اور رات کی قسم کھا کر آپ کو تسلی دی گئی ہے کہ آپ کا پروردگار مکمل طور پر آپ کے ساتھ ہے۔ نہ اس نے آپ کو چھوڑا ہے اور نہ اس نے آپ سے نفرت کا اظہار فرمایا ہے۔ یہاں پر دھوپ کے روشن ہونے سے مراد وحی الٰہی کا نزول ہے جس طرح چاشت کے وقت دن خوب روشن ہوتا ہے اور ہر چیز واضح ہوتی ہے۔ اسی طرح وحی الٰہی کے نزول پر حقائق کا انکشاف ہوتا ہے۔ وحی الٰہی کا منقطع ہونا بھی ترق کی علامت ہے اور اس کا منشاء یہ ہے کہ آپ…
Read the full tafseer →وَوَجَدَكَ عَاۗىِٕلًا فَاَغْنٰى 8 ۭ وجد الوجود أضرب : وجود بإحدی الحواسّ الخمس . نحو : وَجَدْتُ زيدا، ووَجَدْتُ طعمه . ووجدت صوته، ووجدت خشونته . ووجود بقوّة الشّهوة نحو : وَجَدْتُ الشّبع . ووجود بقوّة الغضب کو جود الحزن والسّخط . ووجود بالعقل، أو بواسطة العقل کمعرفة اللہ تعالی، ومعرفة النّبوّة، وما ينسب إلى اللہ تعالیٰ من الوجود فبمعنی العلم المجرّد، إذ کان اللہ منزّها عن الوصف بالجوارح والآلات . نحو : وَما وَجَدْنا لِأَكْثَرِهِمْ مِنْ عَهْدٍ وَإِنْ وَجَدْنا أَكْثَرَهُمْ لَفاسِقِينَ [ الأعراف/ 102] . ( و ج د ) الو جود ( ض) کے معنی کسی چیز کو پالینا کے ہیں اور یہ کئی طرح پر استعمال ہوتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–11
ترکیب ¦ الم یجدک ھذا شروع فیما انعم اللہ علیہ والہمزۃ لانکار النفی وتقریر المنفی فکانہ قال قدو جدک یتیما والوجود بمعنی العلم۔ فآ وٰی قرء الجمھور بالالف بعد الھمزۃ رباعیا من آواہ یویہ وقریٔ ثلاثیا وھوا ما بمعنی الرباعی اوھو من آوی لہ اذا رحمہ ووجدک ضا لا فہدی معطوف علی المضارع المنفی وقیل علی ما یقتضیہ الکلام السابق والضلال ھھنا بمعنی الغفلۃ کما قال الزجاج ونظیرہ قولہ تعالیٰ ولا یضل ربی ولا ینسیٰ وقولہ تعالیٰ ان تضل احدا ھما فتذکر احدا ھما الاخرٰی وقیل من الطلب والمحبتہ کقولہ تعالیٰ انک لفی ضلالک القدیم ووجدک عائلا الخ معطوف علی الکلام السابق یقال عال الرجل یعیل عیلۃ اذا افتقرا ما الیتیم منصوب…
Read the full tafseer →وَوَجَدَکَ عَآئِلاً فَاَغْنٰی۔ (اس نے آپ کو نادار پایا تو غنی کردیا۔ 8) مزید وضاحت عَآئِلْ کا لفظ دو معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ 1 تنگدست، 2 اہل و عیال والا۔ آپ دونوں معنوں میں عَآئِلْ تھے۔ کیونکہ آپ کے والد ماجد نے میراث میں صرف ایک اونٹنی اور ایک لونڈی چھوڑی تھی۔ اس طرح آپ کی زندگی کی ابتداء افلاس کی حالت میں ہوئی۔ دادا کی زندگی میں تو آپ کے لیے کوئی مالی پریشانی نہ تھی، لیکن ان کی رحلت کے بعد جب آپ کی کفالت کی ذمہ داری حضرت ابوطالب نے قبول کی تو بلاشبہ انھوں نے آپ کی حفاظت و صیانت اور آپ کی مدد اور دستگیری میں کوئی کمی نہیں کی۔ لیکن مشکل یہ تھی کہ تاریخ کی گواہی ان کے بارے میں یہ ہے کہ ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
فہم القرآن ربط کلام : چوتھی اور پانچویں آیت میں نبی ﷺ کو یہ خوشخبری دی گئی کہ آپ کا مستقبل آپ کے ماضی اور حال سے بہت ہی اعلیٰ اور بہترین ہوگا۔ اس کے لیے آپ کے ماضی کے تین حوالے دیئے گئے ہیں۔ آپ ﷺ یتیم تھے ” اللہ “ نے آپ کو بہترین ٹھکانہ دیا۔ آپ ﷺ ہدایت کے بارے میں بیخبر تھے اس نے آپ کی راہنمائی فرمائی اور آپ کو پوری دنیا کا راہنما بنا دیا آپ ﷺ غریب تھے اس نے آپ کو غنی فرما دیا۔ اس انسان کی بےبسی اور لاچارگی کی انتہا ہوتی ہے جو پیدائش کے وقت یتیم ہونے کے ساتھ انتہائی غریب ہو اور اس کی راہنمائی کرنے والا بھی کوئی نہ ہو، ایسے بچے کا معاشرے میں اعلیٰ مقام پانا تو درکنار وہ در در کی ٹھوکریں کھانے…
Read the full tafseer →8 : وَوَجَدَکَ عَآ ئِلًا فَاَغْنٰی (اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو نادار پایا پس مالدار بنادیا) عائل : نادار فَاَغْنٰی خدیجہ ؓ کے مال سے غنی کردیا۔ نمبر 2۔ غنائم کے مال سے غنی کردیا۔
Read the full tafseer →8 ۔” ووجدک عائلا فاغنی “ یعنی فقیر۔ پس آپ (علیہ السلام) کو خدیجہ ؓ کے مال کے ذریعے غنی کردیا۔ پھر غنیمتوں کے ذریعے اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں پس اللہ تعالیٰ نے آپ (علیہ السلام) کو راضی کیا اس کے ساتھ جو آپ (علیہ السلام) کو رزق دیا اور اس کو فراء نے اختیار کیا ہے اور فرمایا کہ آپ (علیہ السلام) مال کی کثرت کی وجہ سے غنی نہ تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے جو آپ کو دیا تھا اس پر آپ (علیہ السلام) کو راضی کردیا تھا اور یہ تمنا کی حقیقت ہے۔ ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا غنی سامان کی کثرت سے نہیں ہے لیکن غنا نفس کا غنا ہے۔ عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تحقیق کامیا ب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
1۔ 11۔ اگرچہ مفسروں نے اس سورة کی شان نزول میں طرح طرح کی باتیں لکھی ہیں سب سے زیادہ صحیح شان نزول وہی ہے جس کا ذکر صحیحین 1 ؎ کی جندب ؓ کی روایت میں ہے کہ حضرت ﷺ ہجرت سے پہلے مکہ میں کچھ بیمار ہوگئے تھے اس بیماری کے سبب سے دو تین راتوں تک آپ تہجد کی نماز کو نہیں اٹھے یہ دیکھ کر ام جمیل ابو لہب کی بی بی نے کہا محمد کے رب نے محمد کو چھوڑ دیا۔ اس لئے انہوں نے رات کو اٹھنا بند کردیا۔ ام جمیل کی اس بات سے آنحضرت ﷺ کو رنج ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کے رنج رفع ہوجانے کی غرض سے یہ سورة نازل فرمائی اور فرمایا کہ اے نبی اللہ کے ‘ نہ اللہ نے تم کو چھوڑ دیا ہے نہ وہ تم سے کچھ خفا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →(وَوَجَدَكَ عَاۗىِٕلًا) یعنی آپ کو محتاج پایا ( فَاَغْنٰى) پس اللہ تعالیٰ نے آپ کو شہروں کی فتوحات کے ذریعے سے جہاں سے آپ کے لیے مال اور خراج آیا غنی کردیا۔ جس ہستی نے آپ کی یہ کمی دور کی ہے وہ عنقریب آپ کی ہر کمی کو دور کردے گی اور وہ ہستی جس نے آپ کو تونگری تک پہنچایا آپ کو پناہ دی آپ کو نصرت عطا کی اور آپ کو راہ راست سے نوازا اس کی نعمت پر شکر ادا کیجئے۔
Read the full tafseer →8 ۔ نعمت غنا سے سرفرازی کا ذکرو بیان : سو نعمت غنا سے سرفرازی کے ذکرو بیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا کہ " کیا یہ حقیقت نہیں کہ اس نے آپ ﷺ کو تنگدست پایا پھر مالدار کردیا ؟ " اول حضرت خدیجۃ الکبری ؓ کے مال میں اپنی پاکیزہ اور بابرکت تجارت کے ذریعے، پھر انہوں نے آپ ﷺ کے حبالہ عقد میں آنے کے بعد اپنی ساری پونجی لاکر آپ ﷺ کے قدموں میں ڈال دی، پھر اطراف و اکناف سے خزانے سمٹ سمٹ کر آپ کے حضور پہنچنے لگے، یہ تو ظاہری اور مادی طور پر غنی اور مالداری کا حال تھا، رہ گئی باطن کے غنی کی ترقی جو حقیقی مالداری اور اصل غنی ہے، تو اس کے اعتبار سے تو آپ اس بلند مقام پر فائز تھے کہ پوری مخلوق میں اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
اللہ کی رحمتیں اور نبی پاک ﷺ تشریح : بڑی خوبصورت سورت پاک ہے۔ اللہ کی رحمتوں برکتوں ' فضیلتوں ' لطف وکرم اور قدرت و عظمت کا بیان بڑے خوبصورت انداز میں کیا گیا ہے۔ اور اس خاص محبت کا ذکر جو اللہ جل شانہ کو اپنے پیارے رسول ﷺ سے ہے بڑے محبت بھرے انداز میں کی گئی ہے۔ وحی کے رک جانے سے جو آپ ﷺ پریشان ہوئے تو حق تعالیٰ نے آفتاب کی روشنی اور رات کے گھپ اندھیرے کی قسم کھا کر یقین دلایا کہ آپ ﷺ پریشان نہ ہوں جس طرح دن رات کا نظام انسان کے کام اور آرام کا ذریعہ ہے اسی طرح آپ ﷺ کی وحی کے اترنے کا وقفہ محض آپ ﷺ کو اعصابی آرام دینے کے لیے دیا گیا ہے تاکہ آپ ﷺ پر وحی کی وجہ سے جو مشقت پڑتی ہے وہ وقفہ وقفہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
سورة الضحی۔ آیات 1 تا 11۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے دن کی روشنی کی اور رات کی جب وہ چھاجاتی ہے یعنی دن کی روشنی اور رات کی تاریکی گواہ ہیں کہ دن کے بعد رات بھی آسکتی ہے پھر خود رات گواہ ہے کہ جب مکمل ہوچکتی ہے تو تاریکی کم ہونے لگتی ہے اور پھر دن آجاتا ہے۔ قبض وبسط۔ یہی حال کیفیات قلب کا بھی ہے کہ کبی واردات بہت تیزا ورروشن ہوتی ہیں یعنی بسط ہوتا ہے اور کبھی قبض کی کیفیت وارد ہوتی ہے اور قبض سے یہ نہیں سمجھاجاسکتا کہ پھر بسط نہ ہوگا چند روز نزول وحی نہ ہواتوکفار نے طعنہ دیا کہ رب نے انہیں چھوڑ دیا ہے تو رب کریم نے جو اباارشاد فرمایا کہ آپ کے پروردگار نے نہ تو آپ کو چھوڑا ہے اور نہ وہ آپ سے خفا ہے…
Read the full tafseer →ف 4 وہ اس طرح کہ حضرت خدیجہ نے آپ سے مضاربت کا معاملہ کیا اور پھر آپ کی دانت و امانت سے اس قدر تمثا رہوئیں کہ آپ سے نکاح کرلیا اور اپنا تما مال آپ کے حوالہ کردیا۔ (کذافی فی الموضح)
Read the full tafseer →(93:8) ووجدک عائلا فاغنی۔ اس جملہ کا عطف کلام سابق پر ہے۔ عائلا : عیل وعیلۃ (باب ضرب) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر تنگ دست۔ عیالدار۔ نادار۔ محتاج۔ اغنی : ماضی واحد مذکر غائب اغناء (افعال) مصدر سے۔ اس نے غنی بنادیا۔ امام راغب لکھتے ہیں :۔ ارشاد ہے ووجدک عائلا فاغنی اور تجھ کو فقیر پایا سو غنی کردیا۔ یعنی فقر نفس کا دور کرکے تجھے غناء اکبر عطا کی۔ چناچہ آپ ﷺ نے اس غناء کی طرف اشارہ کرکے فرمایا الغنی عن النفس (کہ اصل غنی تو نفس کی بےنیازی ہے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
لغات القرآن۔ سجی۔ چھا گیا۔ ماقلی۔ نہ بیزار ہوا۔ سوف یعطی۔ بہت جلد عطا کرے گا۔ ترضی۔ تو خوش ہوجائے گا۔ اوی۔ ٹھکانا رہا۔ ضال۔ تلاش حق میں سرگرداں ۔ عائل ۔ مفلس و غریب۔ اغنی۔ مال دار کردیا۔ لا تقھر ۔ مت ڈانٹ۔ لا ینتھر۔ نہ جھڑک ۔ حدت ۔ بیان کر۔ تشریح : نبی کریم حضرت محمد ﷺ پر ابتداء میں پہلی وحی کے بعد تیس چالیس دن تک وحی کا سلسلہ بند رہا۔ پھر اس کے بعد لگاتار وحی کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ وحی بند ہونے کے زمانہ میں ایک طرف تو آپ پریشان تھے۔ ادھر کفار مکہ کی طنز آمیز باتوں اور طعنوں سے آپ بہت غمگکین رہتے تھے۔ وہ کہتے کہ اے محمد ﷺ ! کیا تمہارا رب تم سے ناراض ہوگیا اور وحی کا سلسلہ بند ہوگیا ؟ ابو لہب کی…
Read the full tafseer →رفعت مصطفیٰ ﷺ ۔ (ف 2) جب حضور جوان ہوئے قوم کے مشرکانہ اطوار اور بےہودہ رسوم سے سخت بےزار تھے اور قلب میں خدائے واحد کی عبادت کا جذبہ پورے زور کے ساتھ موجزن تھا، عشق الٰہی کی آگ سینہ مبارک میں بڑی تیزی سے بھڑک رہی تھی وصول الی اللہ ہدایت خلق کی اس اکمل ترین استعداد کا چشمہ جو تمام عالم سے بڑھ کر نفس قدسی میں ودیعت میں رکھا گیا تھا اندر ہی اندر جوش مارتا تھا لیکن کوئی صاف کھلاہواراستہ اور مفصل راستہ دستورالعمل بظاہر دکھائی نہ دیتا تھا جس سے اس عرش وکرسی سے زیادہ وسیع قلب کو تسکین ہوتی، اسی جوش طلب اور فرط محبت میں آپ بےقرار غاروں اور پہاڑوں میں جاکرب کو یاد کرتے، اور محبوب حقیقی کو پکارتے، آخر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–11
[3] یعنی آنے والے حالات آپ کے لئے گزشتہ حالات سے بہتر و برتر ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–8
ف 2: ان آیتوں میں یہ بتایا ہے کہ آپ دیکھ لیجئے ۔ ابتداہی سے اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی تربیت کا خاص خیال رکھا ہے ۔ آپ یتیم پیدا ہوئے تو دادا نے آغوش شفقت میں لے لیا ۔ دادا نے آنکھیں بند کیں تو جوانی تک آپ ﷺ کے چچا ابوطالب ساتھ رہے اور انتہائی محبت کے ساتھ آپ کی مدد کی ۔ جب آپ ﷺ کو ایک عظیم خدمت کے لئے منتخب فرمایا ہے تو کیا آپ ﷺ سے بےاعتنائی اور بےتوجہی کا سلوک رکھا جائیگا پھر سب سے بڑی روحانی اعانت جو فرمائی ، وہ یہ تھی کہ روح کے شوق اور جستجو نے حق کی پیاس کی تسکین کا سامان بہم پہنچایا اور آپ کو ایک مکمل دستورالعمل مرحمت فرمایا جو سارے عالم انسانی کے کے لئے باعث صدبرکت وسعادت ہے ۔ مالی طور پر…
Read the full tafseer →(8) اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو نادار اور مفلس پایا پھر آپ کو دولت مند کردیا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں حضرت خدیجہ ؓ اپنی قوم میں اشراف تھیں اور مال دار ان سے نکاح ہوا سب مال انہوں نے حاضر کیا۔ حضرت خدیجہ ؓ سے آپ نے ان کے مال میں مضاریت کی اور اس میں نفع ہوا اور اس طرح آپ دولت مند ہوگئے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ غنا سے مراد نفس کا غنا ہو جیسا کہ حدیث میں آتا ہے۔ لیس الغنی عن کثرۃ العرض ولکن الغنی غنی النفس کہ کثرت سامان اور کثرت مال کا نام غنا نہیں ہے بلکہ حقیقی غنا تو نفس کا غنا ہے۔ عن ابی ہریرہ ؓ مرفوعا۔ آگے ان احسانات پر شکر ادا کرنے کی فہمائش ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
ف 4۔ اس طرح کہ حضرت خدیجہ ؓ کے مال میں آپ ﷺ مضارب ہوئے اور اس میں نفع ملا، پھر حضرت خدیجہ نے آپ سے نکاح کرلیا اور اپنا تمام مال حاضر کردیا۔
Read the full tafseer →اللہ نے آپ ﷺ کو حاجت مند پایا تو غنی کر دیا 8 ؎ ( عائلا) عائل کا اصل مادہ ع ی ل ہے اور اس مادہ کے صرف دو الفاظ قرآن کریم میں نازل ہوئے ہیں ایک اس جگہ عائلاً اور ایک بار دوسری جگہ عیلاً (9 : 28) ( عائلاً ) تنگ دست ، فقیر ، مفلس ، نادار ، عیالدار ، عیلۃ سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر ۔ علامہ راغب اصفہانی لکھتے ہیں کہ ” ارشاد الٰہی ہے : ( ووجدک عائلا فاغنی) اور تجھ کو فقیر پایا سو غنی کردیا یعنی فقر نفس کو دور کر کے اسے ” غنی اکبر “ کردیا جس کے متعلق نبی اعظم و آخر ﷺ فرماتے ہیں : ( الین غنی الفنس) غنادل کے غنی ہونے کا نام ہے ۔ آپ ﷺ کو اس سے سرفراز فرمایا اور بعض نے یہ معنی کیے ہیں کہ تمہیں اللہ…
Read the full tafseer →Favour [ 3] وَوَجَدَكَ عَائِلًا فَأَغْنَىٰ (and He found you in need, then made you need-free....93:8). The word ail is derived from ` ailah which means 'to be in need'. The verse signifies that Allah found him impoverished and enriched him. This happened in the beginning through a business partnership with Sayyidah Khadijah al-Kubra ؓ then once she became his wife and 'Mother of the Faithful', her entire wealth was devoted to his service. After elaborating on the three favours of Allah, three injunctions follow:
Read the full tafseer →8 The Holy Prophet's father had left only a she-camel and a slave-girl in heritage for him; so he started his life in a state of poverty. Then a time came when the wealthiest lady among the Quraish, Hadrat Khadijah, first made him her partner in trade, then married him, and he took charge of all her trade and business. Thus, he not only became wealthy but his riches in no way were dependent on the resources of his wife; his own hardwork and ability had gone a long way towards promoting her trade and commerce.
Read the full tafseer →