Ayah 93:1قسم ہے دھوپ کے رب کی
1 ؎ (ضحی) (ضحی) وقت چاشت ، دن چڑھے ۔ وہ وقت جب کہ دھوپ اچھی طرح چڑھ جائے۔ ضحی کے معنی دھوپ کے پھیلنے اور دن کے چڑھنے کے ہیں ۔ نیز اس وقت کو بھی ( ضحی) کہتے ہیں ۔ ( ضحی) مؤنث ہے اس کی تصغیر ضحیۃ ہے اور بہتریہ ہے اسکی تصغیر ضحی کہے بغیر ھاء کے تاکہ اس کی تصغیر ضحوۃ کی تصغیر کے مشابہ نہ ہو اور ضحی کے معنی دن چڑھنے کے ہیں۔ ( کتاب اعراب ثلاثین سورة من القرآن العظیم ص 95 مصر) ” جس نے اس کو مؤنث کہا اس نے ضحوۃ کی جمع کہا اور جس نے مذکر کہا اس نے کہا کہ یہ اسم ہے بروزن فعل جیسے ضرر اور ظرف غیر متمکن ہے مثل سحر کے۔ ( صراح) یہ مضمون بطور شہادت بیان کیا گیا ہے جیسا کہ ان مکی سورتوں میں اکثر ہوتا چلا آ رہا ہے اور یہ وقت ظاہر ہے کہ ایسا وقت ہے جس میں انسان تقریباً رات گزار کر ایک دفعہ دوبارہ اپنے کام کاج کے لیے چاک و چوبند ہوتا ہے اور اپنے کام میں ایک بار پھر نئے سرے سے لگ جاتا ہے یا لگنے کو ہوتا ہے اور اس لحاظ سے یہ وقت ایک خاص اہمیت رکھتا ہے۔ ضحی کا اصل مادہ ض ح د ہے اور ( الضحیٰ ) کا لفظ صرف ایک بار اس جگہ آیا ہے اور ( ضحی) کا لفظ دوبارہ قرآن کریم میں بیان ہوا ہے ایک سورة الاعراف کی آیت 98 میں اور دوسری بار سورة طہٰ کی آیت 59 میں اور ( تضحیٰ ) کا لفظ بھی ایک بار ہی آیا ہے سورة طہٰ کی آیت 119 میں اور ( صحاھا) کا لفظ النازعات کی آیت 29 اور 46 میں اور ایک الشمس کی آیت اول میں اور ان مقامات پر اس کی تشریح بھی کردی گئی ہے اس لیے مزید وضاحت کے لیے محولہ بالا آیات کی تفسیر دیکھیں ۔ اس آیت کے شان نزول میں بہت کچھ تحریر کیا گیا ہے اور مختلف روایات درج کی گئی ہیں جس کی وضاحت کی اس لیے ضرورت نہیں کہ یہ لفظ بھی عام ہے اور اس کے معنی و مفہوم بھی عام ہیں اس کو کسی ایک واقعہ سے خاص کرنے کی کوئی ضرورت نہیں اس لیے کہ اس کی اہمیت جیسی اس وقت تھی اب بھی ہے اور رہتی دنیا تک رہے گی۔
Ayah 93:2اور قسم ہے رات کے رب کی جب وہ چھا جائے
2 ؎ قرآن کریم نے جہاں بھی دن کا ذکر کیا ساتھ رات کا ذکر کردیا ہے اور جہاں بھی رات کا ذکر کیا ہے ساتھ دن کا کردیا ہے۔ رات اور دن ایسے بھی لازم و ملزوم ہیں اور ایک کا ذکر آئے تو دوسرے کا خود بخود آجاتا ہے اور آنا ہی چاہیے۔ زیر نظر آیت میں رات کے ساتھ (سجیٰ ) کا لفظ آیا ہے (سجیٰ ) کے معنی چھا جانے کے ہیں کہ وہ چھا گیا ۔ اس نے آرام پکڑا ۔ اس نے قرار پکڑا سجر کے جس کے معنی سکون پانے اور قرار پکڑنے کے ہیں ۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ۔ جب رات میں ہوا تھم جائے اور اس کی اندھیاری سخت بڑھ جائے تو کہا جاتا ہے لل ساج اسی طرح جب سمندر تھم جاتا ہے تو بحر ساج بولتے ہیں ۔ گویا لیل شاج رات کے وقت میں سے وہ وقت ہے جو ( ضحی) کے مقابل پڑتا ہے اور جس طرح (ضحی) کے وقت پر دن تقریباً ٹک جاتا ہے اور اسی طرح رات کا اندھیرا جب چھا جاتا ہے تو رات ٹک جاتی ہے اور یہ بات معلوم ہی ہے کہ رات جوں جوں ٹک جاتی ہے تو آدمی سکون حاصل کرتا ہے اور دن جوں جوں نکلتا ہے تو دوڑ دھوپ بھی تیز سے تیز تر ہوتی جاتی ہے۔ اس مضمون کو وضاحت کے ساتھ عروۃ الوثقیٰ ، جلد چہارم آیت 67 ، جلد ششم سورة القصص کی آیت 28 ، 73 میں بیان کیا گیا ہے۔
Ayah 93:3نہ آپ ﷺ کے رب نے آپ ﷺ کو چھوڑا اور نہ ہی وہ آپ ﷺ سے ناراض ہوا
3 ؎ یہی وہ مضمون ہے جس کو مؤکد کر کے بیان کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی اور اس طرح یہ بیان کیا گیا جیسے تعارف میں ہم نے اشارہ کیا ہے کہ جب نبی اعظم و آخر ﷺ چو طرفہ مصائب و آلام میں گھیر لیے گئے ، ایک طرف منکرین اور معاندین نے گھیرا تنگ کر رکھا تھا اور دوسری طرف سے اللہ تعالیٰ نے پیغام رسانی کا کام ذرا ڈھیلا کردیا خواہ وہ آزمائش کی صورت میں اور خواہ اس کی ضرورت ہی نہ تھی لیکن آپ ﷺ کو احساس ہو رہا تھا کہ اس فرشتہ نے دیر کیوں لگائی جو غار حرا میں مجھے ملا تھا اور جس کا ذکر ہم پیچھے تفصیل کے ساتھ کرچکے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو ان الفاظ میں تسلی دی اور واضح الفاظ میں بتایا کہ آپ ﷺ کو آپ ﷺ کے رب نے قطعاً نہیں چھوڑا اور نہ ہی چھوڑنے کا کوئی امکان ہے کیونکہ اللہ نے آپ ﷺ کو منتخب کیا ہے نہ کہ آپ ﷺ نے منتخب ہونے کی لیے کوئی اپیل دائر کی تھی اور یہ بھی کہ اللہ جس کو منصب نبوت و رسالت کے لیے انتخاب کرتا ہے اس کا علم ایسا نہیں کہ اس کو اپنا مؤقف بدلنا پڑے اور منتخب کرلینے کے بعد اس کو یہ احساس ہو کہ میرا یہ انتخاب صحیح نہیں نکلا ۔ پھر یہ کیسے نہیں کہ اس کو اپنا مؤقف بدلنا پڑے اور منتخب کرلینے کے بعد اس کو یہ احساس ہو کہ میرا یہ انتخاب صحیح نہیں نکلا ۔ پھر یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ آپ ﷺ کا رب آپ ﷺ کو چھوڑ دے اور یہی بات اس کی ناراضگی کی ہے کہ وہ اپنے ہی انتخاب پر آپ ﷺ سے ناراض ہوجائے۔ ایسا نہ کبھی ممکن ہوا اور نہ آئندہ ممکن ہوگا لہٰذا اس طرح کا وہم و گمان آپ ﷺ کو ہرگز نہیں کرنا چاہیے ایک بات اور بھی اکثر ” القا ‘ ‘ ہوتی ہے عین ممکن ہے کہ آپ ﷺ کو اس بات کا خیال پیدا ہوا ہو کہ جب میں صرف اور صرف رضائے الٰہی کے لیے ان کو اللہ کا پیغام پہنچاتا ہوں تو کم از کم مجھے جھٹلانے کی بھی تو ان کو ضرورت نہ تھی اور ظاہر ہے کہ اس طرح کے خیال سے بھی فطری تکلیف اور کو فت ہونا ممکن تھی اور اس کو فت کے ازالہ کے لیے یہ بات آپ ﷺ سے کہی گئی یہ (قلی) واحد مذکر غائب ماضی معروف ۔ اسم مصد ( قلی) سخت نفرت ، انتہائی بغض قلی یقلو قلو کے معنی ہیں پھینک دینا۔ اس نے تجھ سے نفرت نہیں کی ۔ القا بھی اسی سے ہے۔
Ayah 93:4اور آپ ﷺ کے لیے ہر پیچھے آنے والی گھڑی پہلی سے بہتر ہو گی
4 ؎ گزشتہ آیات کریمات میں جو آپ ﷺ کے دل میں ایک طرح کا خیال گزرا جس کا ذکر کیا گیا ہے تو آپ ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا ہے کہ اے میرے رسول محمد رسول اللہ ﷺ آپ ﷺ کی زندگی کی ہر آنے والی گھڑی جانے والی گھڑی سے بہتر ہوگی اور یہ انعام ایسا ہے جس انعام سے آپ ﷺ برابر مستفید ہوتے رہیں گے اور ہر آنے والی ساعت گزارنے والی ساعت سے بہتر ہوگی اور ہر آنے والی حالت گزشتہ حالت سے اعلیٰ سے اعلیٰ بہتر سے بہتر اور ارفع سے ارفع ہوتی چلی جائے گی اور یہ بیان ایسا بیان تھا کہ اس کی تصدیق وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہوتے چلے جانا ضروری تھا اور زمانے نے دیکھا کہ جو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا وہ روز روشن کی طرح واضح سے واضح ہوتا چلا گیا اور اس طرح ایک طرف تو بیان کفار کے طعن وتشنیع اور الزام تراشیوں کا جواب ہوگیا اور دوسری طرف اسلام کے درخشاں مستقبل کے بارے میں نوید مسرت بھی سنا دی ۔ اب آگے بڑھنے سے قبل ذرا غور اسلام کے ابتدائی دور کا تصور کیجئے جس میں یہ سورت نازل ہوئی گنتی کے چند افراد نے اس دین حق کو قبول کیا تھا باقی تمام اہل مکہ آپ ﷺ کے خون کے پیاسے تھے۔ انہوں نے عزم مصمم کرلیا تھا کہ اسلام کے چراغ کا بجھا کر رہیں گے اور توحید کا یہ گلشن جو محمد رسول اللہ ﷺ لگا رہے ہیں اس کا ایک ایک پودا جڑ سے اکھیڑ پھینکیں گے اس وقت کون یہ خیال کرسکتا تھا کہ یہ دین چند ہی سالوں میں اتنی ترقی کر جائے گا کہ سارا جزیرہ عزب اس کے نور سے جگمگانے لگے گا اور اس نبی اعظم و آخر ﷺ کو اللہ تعالیٰ وہ عزت و سرداری اور شان و شوکت بخشنے گا کہ آج جو خون کے پیاسے ہیں آنے والے کل میں اشارہ ابرو پر اپنی جانیں قربان کرنا سعادت سمجھیں گے اور رسول اللہ ﷺ کے وضو کا پانی ڈالنے کے لیے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی سر توڑ کوشش کریں گے اور یہی سعی و کوشش ان کی آپ ﷺ کے دوسرے اشاروں کے لیے جاری وساری ہوگی ۔ لیکن کتنا عرصہ گزرا تھا کہ اس کے بعد ہر وہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوگئی جس کی طرف رب کریم نے اشارہ دیا تھا کہ اے رسول ﷺ ! آپ ﷺ کے لیے ہر پیچھے آنے والی ساعت پہلی سے بہتر ہوگی۔
Ayah 93:5اور عنقریب آپ ﷺ کا رب آپ ﷺ کو وہ کچھ عطا کر دے گا کہ تو راضی ہوجائے گا
5 ؎ جو کسی کا مطمع نظر ہوتا ہے اگر وہ پورا ہوتا نظر آئے تو جو خوشی اس وقت اس کو نصیب ہوتی ہے جس کا مطمع نظر پورا ہو رہا ہو اس کا ذکر قلم کی نوک بیان نہیں کرسکتی ۔ رسول اللہ ﷺ دین کی اشاعت و ترقی کے لیے ہر وقت فکر مند رہا کرتے تھے اور دین حق کی سر بلندی کے لے ج آپ ﷺ نے اپنی تمام قوتیں اور کوششیں مرکوز کررکھی تھیں ۔ ایک لمحہ بھی چین سے نہیں گزرتا تھا کہ آپ ﷺ کو اپنی امت کی بخشش و مغفرت کا خیال ہر وقت مضطرب رکھتا تھا اور آپ ﷺ کے دل کی گہرائیوں تک یہ خواہش سرایت کرچکی تھی کہ ان لوگوں کی ہدایت کی کوئی سبیل نکل آئے اور یہ راہ ہدایت پر گامزن ہوجائیں ۔ ان تمام تفکرات اور اضطرابات کو یہ فرما کر دور کردیا کہ آپ ﷺ کا رب اپنے لطف و کرم کا آپ ﷺ پر وہ منہ برسائے گا کہ آپ ﷺ کا قلب مبارک خورسند ومسرور ہوجائے گا ۔ مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ کی موجودہ حالت جس کے باعث آپ ﷺ دل برداشتہ ہو رہے ہیں یہ بدستور اسی طرح قائم نہیں رہے گی بلکہ آپ ﷺ تسلی رکھیں کہ ہر آنے والے لمحہ جانے والے سے بہتر ہوتا جائے گا تا آنکہ معاملہ بالکل اس کے طرعکس ہوجائے گا اس طرح یہ ایک پیش گوئی تھی جو بحمد اللہ حرف بہ حرف پوری ہوئی۔ واللہ الحمد۔
Ayah 93:6کیا اللہ نے آپ ﷺ کو یتیم نہ پایا پھر آپ ﷺ کو ٹھکانا دیا ؟
6 ؎ یہ استدلال ایک فطری استدلال ہے کہ انسان کو جو انعامات و کرامات دیئے گئے ہیں ان کا بیان کر کے آنے والے انعامات و اکرامات پر استدلال کیا جائے تاکہ انسان کو حقیقت کے سمجھنے میں ذرا آسانی ہو اور وہ آسانی سے اس بات کو سمجھ جائے کہ فی الواقع جو انعامات و کرامات مجھ پر کیے گئے ہیں جس طرح یہ ہیں اسی طرح آنے والے اوقات میں مزید ہوں گے اور جس نے بہت کچھ بن مانگے دیا ہے وہ مانگنے کے بعد کیوں نہیں دے گا ۔ آپ بھی بےباپ پیدا ہوئے اور بہت سے بچے اور بھی ہیں جو بن باپ پیدا ہوتے ہیں پھر انسارے بن باپ پیدا ہونے والوں کے حالات بھی آپ کی آنکھوں کے سامنے ہیں کیا ان سب کو انہی حالات سے دو چار کیا جاتا ہے جن حالات سے آپ دو چار ہوئے ؟ اگر نہیں اور فی الواقعہ نہیں تو پھر آپ ﷺ میں اور دوسرے بن باپ پیدا ہونے والوں میں فرق ہے تو کیا ہے ؟ یہی کہ سارے باپ والوں کی پرورش بھی اس طرح نہیں ہو سکتی جس طرح آپ ﷺ کی بےباپ ہونے کے باوجود ہو رہی ہے تو اس میں جو فرق ہے اس فرق کا ذکر کر کے آپ ﷺ کو باور کرایا جا رہا ہے کہ اگر آپ ﷺ کی زندگی میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرق رکھا ہے تو اس کو کوئی خاص وجہ ہے اس سے استدلال کر کے بات سمجھائی جا رہی ہے کہ اپنی زندگی پر غور کرو کہ تم ابھی شکم مادر میں ہی تھے کہ آپ ﷺ کے والد ماجد اس دنیا سے اٹھا لیے گئے ۔ اسی لیے آپ ﷺ کو بےباپ کہا جا رہا ہے گویا آپ ﷺ پیدا ہوئے تو آپ ﷺ کا باپ موجود نہیں تھا لیکن اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی پرورش کا وہ بندوبست کردیا کہ سارے باپ والوں کا بھی اس طرح بندوبست نہیں ہو سکتا کہ والدہ ماجدہ نے اور دادا نے آپ ﷺ کی پرورش میں اس محبت اور پیار کا مظاہرہ کیا کہ سارے باپ والوں کی پذیرائی بھی اس طرح نہیں کی جاسکتی پھر صرف یہی نہیں بلکہ اس مادی دنیا میں انسان کے جتنے سہارے ہوتے ہیں وہ آپ ﷺ کی زندگی میں سے ایک ایک کر کے چھین لیے کیونکہ ابھی آپ ﷺ کی عمر مبارک چھ سال کی ہوئی تھی کہ والدہ محترمہ کا سہارا بھی ٹوٹ کر رکھ دیا اب آپ ﷺ کا یتم گویا پہلے سے بھی دوگنا زیادہ بڑھ گیا کہ پہلے تو صرف والد موجود نہ تھے اور اب والدہ ماجدہ بھی ساتھ نہ رہیں ۔ اس طرح گویا آپ ﷺ کی پرورش کا سارادارمدارصرف اور صرف دادا پر رہ گیا پھر غور کرو کہ جب آپ ﷺ کی عمر مبارک کا آٹھواں سال آیا تو آپ ﷺ کے سر سے دادا کا سایہ بھی اٹھا لیا گیا حالانکہ یہی وہ زمانہ ہوتا ہے جب کسی بچہ کی نگہداشت کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے اور انسان کے بچہ کی عادات کے بگڑنے اور سنورنے کا وقت ہوتا ہے جس پر آنے والی زندگی کا زیادہ تر انحصار ہوتا ہے۔ ان دنیوی سہاروں کو بالترتیب توڑ کر دنیا والوں پر ثابت کردیا کہ اس در یتیم کی پرورش کا سارا انحصار اللہ رب ذوالجلال والاکرام پر تھا اس نے اپنی خاص نگرانی میں اس کی پرورش کی اور اس نے اپنی خاص عنایت سے اس کو ٹھکانہ بخشا اور زیر نظر آیت میں اس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور اس مضمون کو اس نگاہ کے ساتھ دیکھا جائے تو کلک کی نوک اقدس سے بیاض ابیض کے بیسیوں صفحات احاطہ تحریر میں لائے جاسکتے ہیں لیکن ہم اشارہ اور استعارہ کا سارا لطف اس میں رکھ کر دکھانا چاہتے ہیں تاکہ ہر صاحب فہم و ادراک کو وہ کچھ دیا جاسکے جو کچھ وہ حاصل کرسکتا ہے اور کسی کی فہم و ادراک سے زیادہ اس کے ظرف میں ڈال دینا جو ضائع کردینے کے مترادف ہوتا ہے اس کا ارتکاب نہ کیا جائے۔ کیونکہ اضاعت کچھ اچھا فعل نہیں ہے خواہ وہ کسی معاملہ میں کیوں نہ ہو۔
Ayah 93:7اس نے آپ ﷺ کو متلاشی پایا تو منزل مقصود تک پہنچا دیا
7 ؎ (ضالاً ) ناواقف ۔ حیران ۔ بیخبر ۔ ضلال سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر ۔ ضال ۔ ضال ۔ ضالا ۔ ضلال کے متعلق اہل لغت نے جو تحقیق کی ہے وہ اس طرح ہے کہ : ضلال گمراہی ۔ بھٹکنا۔ راہ سے دور جا پڑنا ۔ کھو جانا ۔ ضائع ہوجانا ۔ گم ہوجانا ۔ ہلاک ہوجانا ۔ علامہ جمال قرشی لکھتے ہیں کہ : ” ضلال بالفتح ضائع ہونا ۔ گم ہونا اور مغلوب ہونا ۔ کہا جاتا ہے ضل الماء فی اللبن یعنی پانی اتنا مغلوب ہوا کہ دودھ میں اس کا اثر ظاہر نہیں ہوتا اور اسی سے اللہ رب ذوالجلال والاکرام کا ارشاد ہے یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کی زبانی کہ : ( ان ابا نالفی ضلال مبین) (12 : 8) کہ ہمارے باپ تو ان دونوں کی محبت میں مغلوب ہیں ۔ یعنی حضرت یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائی کی محبت میں اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی زبانی مذکور ہے : (فعلتھا اذا وانا من الضالین) (36 : 20) یعنی میں نے یہ کام اس وقت کیا تھا جب کہ میں عصبیت دین میں مغلوب تھا ، نیز ہلاک ہونے کے بھی معنی ہیں اور ضلال بالفتح اور ضلالۃ بمعیک گمراہی رشاد کی ضد ہے اس کے ماضی کے عین کلمہ کو فتح اور مضارع کے عین کلمہ کو کسرہ ہے ( یعنی باب ضرب یضرب سے مستعمل ہے) اللہ رب ذوالجلال والاکرام کا ارشاد ہے ( قل ان ضللت فانما اضل علی نفسی) (34 : 50) اور ییئ اہل تجد کی زبان ہے اور یہی فصیح ہے اور اہل عالیہ ( حجاز اور اس کے مضافات کا علاقہ عالیہ کہلاتا ہے) ضللت۔
اضل ماضی میں عین کلمہ کو کسرہ اور مضارع میں عین کلمہ کو فتحہ بولتے ہیں۔ (یعنی باب سمع یسمع سے استعمال کرتے ہیں۔ (اصراح من الصحاح باب اللام فضل الضاد)
اور امام راغب اصفہانی فرماتے ہیں : ضلال کے معنی سیدھے راستے سے ہٹ جانے کے ہیں ۔ ھدایۃ اور یہ باہم ضد ہیں ۔ اللہ رب ذوالجلال والاکرام کا ارشاد ہے : فَمَنِ اھْتَدٰی فَاِنَّمَا یَھْتَدِیْ لِنَفْسِہٖج وَمَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْھَا (10 : 108) ( اب جو کوئی راہ پر آوے تو وہ راہ پاتا ہے تو وہ راہ پاتا ہے اپنے بھلے کو اور جو کوئی بہکا پھرے تو وہ بہکا پھرے اپنے برے کو اور راہ سے ہٹنا کسی طرح بھی ہو قصدا ًہو یا سہواً کم ہو یا زیادہ ہر حال میں ” ضلال “ ہی کہلائے گا ۔ کیونکہ ” طریق مستقیم “ جو پسندیدہ ہے بہت دشوار ہے۔ آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے : ( استقیموا ولن تحصوا) سیدھے راستے پر چلے چلو اور تم ہرگز پورے طور پر نگہداشت نہیں کرسکو گے۔ کسی حکیم نے کہا ہے کہ ہمارا اصواب پر ہونا تو ایک ہی وجہ سے ہے اور گمراہ ہونا بہت سی وجہوں سے کیونکہ استقامت اور صواب نشانہ بناز کے نشانہ کے قائم مقام ہے اور اس کے علاوہ سب طرف ضلال ہی ضلال ہے اور اسی بناء پر کہ ہم نے بیان کیا بعض صالحین سے مروی ہے کہ انہوں نے آنحضرت ﷺ کو خواب میں دیکھا تو عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ہم سے روایت بیان کی جاتی ہے کہ آپ ﷺ نے یوں ارشاد فرمایا ہے : شیبتنی ھودوا اخوا تھا مجھے ہود اور اس کے ساتھ کی سورتوں نے بوڑھابنا دیا ۔ آخر ان کی کس چیز نے آپ ﷺ کو بوڑھا بنایا ۔ فرمایا ارشاد الٰہی ( فاستقم کما امرت) (11 : 112) ( تو سیدھا چل جیسا تجھ کو حکم ہوا ہے) نے۔
اور جب ضلال طریق مستقیم کا ترک کرنا ہوا عمداً ہو یا سہواً ، قلیل ہو یا کثیر تو جس سے بھی کسی قسم کی کوئی خطا سر زد ہو اس کے لیے ضلال کا استعمال صحیح ہے ، یہی وجہ ہے کہ انبیاء اور کفار دونوں کی طرف ضلال کی نسبت کی گئی ہے ۔ گو دونوں ضلالوں میں فرق بعید ہے ۔ دیکھتے نہیں کہ آنحضرت ﷺ کے بارے میں ارشاد ہے : (ووجدک ضلالا فھدی) ( اور پایا تجھ کو متلاشی پھر را سمجھا دی) یعنی جو نبوت کہ تمہاری طرف بھیجی گئی اس کی طرف تم راہ باب نہ تھے اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی بابت ہے : ( انک لفی ضلالک القدیم) (12 : 95) تو تو اپنی اسی قدیم غلطی میں ہے ، اور ان کی اولاد نے کہا تھا : ( انا ابانا لفی ضلال مبین) (12 : 8) البتہ ہمارا باپ صریح خطا پر ہے ۔ یہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی طرف آپ کے دل سے فریفتہ ہونے اور ان کی جانب آپ کے شوق کی طرف اشارہ ہے اور اسی طرح آیت کریمہ : (قد شغفھا حبا انا لنرھا فی ضلال مبین) (12 : 30) فریفتہ ہوگیا اس کا دل اس کی محبت میں ہم تو دیکھتے ہیں اس کو صریح خطا پر ۔ ہے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی زبانی فرمایا ہے : ( وانا من الضالین) (26 : 20) اور میں تھا چوکنے والا ۔ اس پر متنبہ کرنا ہے کہ یہ فعل ان سے سہوا ً ہوا اور : ( ان تضل احدھما) (2 : 282) میں ضلال بمعنی فراموش کرنے کے ہے ، یعنی اگر ایک ان دونوں میں سے بھول جائے اور یہ وہ نسیان ہے کہ جس پر انسان کی گرفت نہیں ہے ۔
نیز ایک اور صورت سے ضلال کی دو قسمیں ہیں۔ (1) علوم نظریہ میں ضلال جیسے اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی معرفت ، اس کی وحدانیت نیز نبوت کی معرفت وغیرہ میں ضلال کہ جن کی طرف آیت کریمہ : ( ومن یکفر باللہ و ملئکتہ و کتبہ و رسلہ والیوم الاخرفقد ضل ضلالا بعیدا) (4 : 116) اور جو کوئی یقین نہ رکھے اللہ پر اور اس کے فرشتوں پر اور کتابوں پر اور رسولوں پر اور قیامت کے دن وہ بہک کر دور جا پڑا ۔ میں ارشارہ کیا گیا ہے۔ (2) علوم عملیہ جیسے کہ معرفت احکام شرعیہ یعنی عبادات کے بارے میں ضلال۔
اور ” الضلال البعید) کفر کی طرف اشارہ ہے چناچہ آیت سابقہ میں ( ومن یکفر) فرمایا ہے اور ارشاد ہے : ( اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللہ ِ قَدْ ضَلُّوْا ضَلٰــلًام بَعِیْدًا ) (4 : 167) جو لوگ کافر ہوئے اور انہوں نے روکا اللہ کی راہ سے وہ بہک کر دور جاپڑے اور فرمایا : ( بل الذین لا یؤمنون بالاخرۃ فی ال عذاب والضلال البیعد) (34 : 8) بلکہ جو لوگ آخرت پر یقین نہیں رکھتے عذاب اور دور دراز گمراہی میں ہیں یعنی ( ضلال بعید) کی عقوبت میں گرفتار ہیں اور اسی طرح سے آیت کریمہ : ( ان انتم الا فی ضلل کبیر) (67 : 6) تم تو پڑے ہوئے ہو بڑے بہکاوے میں۔ اور ( قد ضلوا من قبل واضلوا کثیرا وضلوا عن سواء السبیل ) (5 : 77) ” جو گمراہ ہوچکے پہلے اور گمراہ کر گئے بہتوں کو اور بہک گئے سیدھی راہ سے “ ہیں اور : ( اذا اضللنا فی الارض (32 : 10) ” کیا جب ہم رل گئے زمین میں ‘ ‘ یہ موت اور بدن کے استحالہ کا کنایہ ہے اور : ( ولا الضالین) (1 : 7) کے متعلق بیان کیا گیا ہے کہ ( ضالین) سے نصاریٰ مراد ہیں اور یہ جو فرمایا ہے : ( علمھا عند ربی فی کتاب لا یضل ربی ولا ینٰسی) (25 : 52) ” ان کی خبر میرے رب کے پاس لکھی ہوئی ہے ، نہ بہکتا ہے میرا رب اور نہ بھولتا ہے “ یہاں ( لا یضل) کے یا تو یہ معنی ہیں کہ میرے رب سے کوئی چیز رہتی نہیں ” یعنی ہر ایک چیز اس کو معلوم ہے “ اور یا یہ مطلب ہے کہ میرا رب کسی چیز سے غافل نہیں ہوتا۔
ہم قبل ازیں ایک بار نہیں بار بار یہ عرض کرتے چلے آ رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جس کو نبی و رسول بنانا ہوتا ہے اس کی فطرت سلیمہ ہی دوسرے لوگوں سے مختلف ہوتی ہے اور اس میں اس طرح کا فرق رکھ دیا گیا ہوتا ہے جس طرح کا فرق ایک حیوان اور انسان میں ہوتا ہے جبکہ حوا ان ہونے میں انسان بھی ایک ایسا ہی حیوان ہے جیسے دوسرے حیوان میں ہیں لیکن ایک امتیازی فرق بھی ایسا ہوتا ہے جو عام حیوانات سے انسانوں کو الگ کردیتا ہے بالکل اسی طرح ہونے والے نبی و رسول میں بھی عام انسانوں اور ان خاص انسانوں میں فرق رکھتا تھا اور جب تک نبوت و رسالت جاری وساری رہی اس وقت تک یہ فرق عام انسانوں میں ان نبی و رسول ہونے والے میں ہوتا تھا یہی وجہ ہے کہ نبی و رسول اسی قوم میں پرورش پاتے اور اپنی قوم سے سارے قومی تعلقات رکھنے کے باوجود ان انسانوں سے الگ تھلگ ہستی رکھتے تھے جس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ ہر نبی و رسول اپنی قومی اور خاندانی رسومات اور رواجات سے بیزار ہوتا تھا اور یہی حال نبی اعظم و آخر ﷺ کا تھا کہ آپ ﷺ اپنے قومی اور خاندانی رسم و رواج کے ساتھ فٹ نہ رہ سکے اور نہ ہی رہ سکتے تھے اس لیے آپ اس صورت حال سے دو چار ہوگئے جس کا ذکر زیر نظر آیت میں کیا جا رہا ہے کہ آپ ﷺ نے جونہی آنکھ کھولی باوجود اس کے کہ ابھی آپ ﷺ کے علم میں بھی یہ بات موجود نہیں تھی کہ آپ ﷺ آخر الزمان نبی ہونے والے ہیں لیکن ان رسومات اور رواجات سے بہر حال آپ ﷺ بیزار تھے اور ایک طرح کی شدید ذہنی کش مکش میں مبتلا تھے اور آپ ﷺ کی اسی ذہنی کشمکش کو زیر نظر آیت میں اس طرح بیان کیا گیا ہے اور یہی ذہنی کش مکش آپ ﷺ کو مکہ سے باہر غار حرا تک لے گئی تھی اور اسی کو قرآن کریم نے آپ ﷺ کو متلاشی قرار دیتے ہوئے ( ضالا) کا لفظ استعمال کیا ہے ۔ اے پیغمبر اسلام ہم نے آپ ﷺ کو حق کی تلاش میں گم پایا تو آپ ﷺ کو حق کی راہ دکھا دی ۔ اس طرح جس مقصد کے لیے آپ ﷺ کو پیدا کیا گیا تھا وہ مقصد بحمد اللہ پورا ہوا۔
Ayah 93:8اللہ نے آپ ﷺ کو حاجت مند پایا تو غنی کر دیا
8 ؎ ( عائلا) عائل کا اصل مادہ ع ی ل ہے اور اس مادہ کے صرف دو الفاظ قرآن کریم میں نازل ہوئے ہیں ایک اس جگہ عائلاً اور ایک بار دوسری جگہ عیلاً (9 : 28) ( عائلاً ) تنگ دست ، فقیر ، مفلس ، نادار ، عیالدار ، عیلۃ سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر ۔ علامہ راغب اصفہانی لکھتے ہیں کہ ” ارشاد الٰہی ہے : ( ووجدک عائلا فاغنی) اور تجھ کو فقیر پایا سو غنی کردیا یعنی فقر نفس کو دور کر کے اسے ” غنی اکبر “ کردیا جس کے متعلق نبی اعظم و آخر ﷺ فرماتے ہیں : ( الین غنی الفنس) غنادل کے غنی ہونے کا نام ہے ۔ آپ ﷺ کو اس سے سرفراز فرمایا اور بعض نے یہ معنی کیے ہیں کہ تمہیں اللہ کی رحمت و بخشش کا محتاج پایا تو ساری اگلی پچھلی خطائوں کو معاف فرما کر تم کو غنی کردیا “۔
امام محمد بن اسماعیل بخاری (رح) نے الجامع الصحیح میں ( عائلا ً ) کی تفسیر عیالدار سے کی ہے ۔ ابو عبیدہ اور اخفش کا بھی یہی حال ہے اور افراء اس کے معنی فقیر کے بتائے ہیں ۔ ان کا بیان ہے کہ میں نے خود عبد اللہ بن مسعود ؓ کے مصحف میں عدیما ً کا لفظ دیکھا ہے جس کے معنی ہیں نادار اور آیت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جل شانہ نے نبی اعظم و آخر ﷺ کو مال و اسباب کی زیادتی سے نہیں بلکہ اپنی رضا کی دولت سے مالا مال فرمایا ہے جو اصل غنا ہے کیونکہ ظاہر ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس دولت دنیوی کی فراوانی نہ تھی ۔ ( فتح الباری اور فتح القدیر تفسیر سورة الضحیٰ ) اور ابن خالویہ لغوی المتوفی 370ھ لکھتے ہیں کہ ” اہل عرب عال الرجل یعیل عیلاً فھو عائل کا استعمال کسی شخص کے فقیر ہوجانے کے لیے کرتے ہیں اور عال یعول کا ظلم کرنے کے لیے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (ذلک ادنیٰ الا تعولوا) ( النساء : 3 : 3) ” یہ بہت نزدیک ہے اس کے کہ بےانصافی نہ کرو “ یاد رہے کہ ( تعولوا) کا اصل مادہ ع و ل ہے۔ صحیح بات یہ ہے کہ لفظ اس مادہ سے تعلق نہیں رکھتا اعال یعیل کا کثیر العیال ہونے کے لیے بولتے ہیں ۔ ( اعراب ثلاثین سورة من القرآن العظمی ص 121) رسول اللہ ﷺ کو ظاہراً غنی بنانے کی ایک صورت یہ بھی تھی کہ پہلے آپ ﷺ نے مال تجارت میں بہت مال پایا جس سے یقینا آپ ﷺ بہت خوشحال تھے اور پھر سیدۃ خدیجۃ الکبریٰ ؓ سے جب شادی ہوگئی تو انہوں نے بھی اپنا سارا مال آپ ﷺ کے قدموں میں ڈال دیا اور اپنے تمام رشتہ داروں کی موجودگی میں اعلان کردیا کہ یہ مال اب میرا نہیں ہے بلکہ محمد رسول اللہ ﷺ کا ہے چاہے وہ اپنے پاس رکھیں اور چاہے تقسیم کردیں ۔ رسول اللہ ﷺ نے ام المؤمنین ؓ کے مال کی نگرانی کے فرائض سر انجام دیئے اور بحمد اللہ یہ اتنا مال تھا کہ ایک مدت تک یہی مال تھا جس سے آپ ﷺ کا کام چلتا رہا اور خدیجہ ؓ کے وفات پا جانے کے بعد یہی مال آپ ﷺ کی ہجرت کے کام بھی آیا۔ تفصلالت پیچھے ” محمد ﷺ کی سرگزشت “ میں گزر چکی ہیں ۔
Ayah 93:9پس تو بھی جو یتیم ہے اس پر خفا نہ ہو
9 ؎ آپ ﷺ تو پیدا ہی بےباپ ہوئے تھے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص فضل و کرم سے اپنی ہی نگرانی میں آپ ﷺ کی پرورش کرائی کیونکہ ظاہری تعلقات تو ایک ایک کر کے ختم ہوتے چلے گئے جیسا کے پیچھے تفصیل سے ذکر گزر چکا ہے کہ باپ تو تھا ہی نہیں اور والدہ ماجدہ کا سایہ بھی 6 سال کی عمر ہی میں اٹھ گیا اور پھر اس دوران دادا بھی وفات پا گئے ۔ اس کے بعد آپ ﷺ کے چچا زبیر نے آپ ﷺ کی کفالت سنبھال لی لیکن آپ ﷺ کے جوان ہونے سے قبل ہی وہ بھی دنیا سے رخصت ہوگئے ۔ پھر ابو طالب نے آپ ﷺ سے تعاون کیا لیکن ان کی حالت اتنی عزت کی تھی کہ ان کو آپ ﷺ کے کام کی ضرورت تھی اور آپ ﷺ نے بھی ہوش سنبھالا تو اس وقت اپنے چچا سے خوب تعاون کیا اور ان کا ہاتھ بٹانے میں ان کی بہت مدد فرمائی ۔ اللہ تعالیٰ کی یہ ہدایت پا کر جو زیر نظر آیت میں بیان فرمائی گئی ہے آپ ﷺ نے دنیا بھر کے یتیموں کے لیے اپنی آغوش کشادہ کردی اور کتنے یتیم تھے جن کی پرورش آپ ﷺ نے کی اور پھر اسلام آنے کے بعد جو قوانین آپ ﷺ نے یتیموں کی پرورش کے لےٰ بنائے اور جس طرح یتیموں کے ساتھ رحم و شفقت سے پیش آنے کا حکم دیا وہ آج تک سب کے سامنے موجود ہے اور اس وقت بھی دنیا میں یتیموں کی جتنی حفاظت کرنے کے لیے قوانین بنائے گئے ہیں اور بنائے جا رہے ہیں سب کے سب آپ ﷺ ہی کے مرہون منت ہیں کیونکہ اس وقت کی دنیا میں فقط آپ ﷺ ہی نے ایک حکومت اسلامیہ میں ان حقوق کا سختی سے اجر کیا اور جس نے کچھ سیکھا اس کے اول سرے پر آپ ﷺ ہی نظر آ رہے ہیں اور ساری دنیا کے لوگوں کو مع مخالفین کے اور منکرین کے یہ بات تسلیم ہے کہ جو کچھ آپ ﷺ نے یتیموں کے لیے اس وقت کیا تھا آج تک وہ کوئی دوسرا نہ کرسکا اس کی تفصیل ہم پیچھے سورة الدھر کی آیت 8 ، 9 سورة البلد کی آیت 15 ، 16 سورة الفجر کی آیت 17 ، 18 میں کرچکے ہیں اور اس سے قبل عروۃ الوثقیٰ ، جلد اول سورة البقرہ کی آیت 220 ، جلد دوم سورة النساء کی آیت 36 ، 37 کی تفسیر میں ہم بہت وضاحت کر آئے ہیں وہاں سے ملاحظہ فرمائیں۔
بلا شبہ بےپدری ایسی سخت مصیبت ہے کہ بعض صورتوں میں مر جانا اس سے بہتر ثابت ہوا ہے اگرچہ ایسی صورتیں کثیر الواقع نہ تھی ہوں تا ہم کم عمری میں باپ کے سایہ کا سر سے اٹھ جانا ایسا زبردست نقصان ہے جس کی تلافی ممکن ہی نہیں ہے تم خود بھی غور کرلو کہ جس باغ کا مالی ، جس کھیت کا شکار اور جس بچے کا باپ نہ ہو اس کے پھولنے پھلنے اور پنپنے کی کیا امید ہو سکتی ہے ۔ اس لیے اس نگاہ سے دیکھا جائے تو یتیم سے بڑھ کر کسی مصیبت زدہ کو بھی اتنی امدادو عنایت اور رعایت و شفقت کا حق نہیں دیا جاسکتا ۔ دناا میں سینکڑوں طرح کی تکلیں صی ہیں اور بادشاہ سے لے کر فقیر تک ان تکلیفوں سے بچا نہیں سکتا۔ قطعہ ہے کہ :
دو عالم بےوفا کسے خرم نیست شادی و نشاط دو بن آدم نیست
آں کسی کہ دریں زمانہ اور را غم نیست تا ادم نیست یا دریں عالم نیست
( تقھر) تو دبائے ، تو ظلم کرے قھر سے جس کے معنی دوسرے پر غلبہ کرنے ، اس کو دبانے اور ذلیل کرنے کے ہیں ۔ مضارع کا صیغہ واحد مذکر حاضر ۔ واضح رہے کہ قھر کے معنی ہیں غلبہ اور تذلل دونوں ایک ساتھ ملحوظ ہیں اور ان دونوں میں ہے ہر ایک معنی میں بھی علیحدہ علیحدہ استعمال ہوتا ہے چناچہ ( ھو القاھر فوق عبادہ) ” وہ غائب ہے اپنے بندوں پر “ اور (انافوقھم قاھرون) ’ ’ بلا شبہ ہم ان پر غالب ہیں “ محض غلبہ ہی کے معنی میں آیا ہے اور زیر نظر آیت میں یعنی ( فاما الیتیم فلا تفھر) محض تذلیل کے معنی میں استعمال ہوا ہے کہ ” یتیم کو ذلیل نہ کر “ اور یہ بھی مخاطب بلا شبہ آپ ﷺ ہی کو کیا گیا لیکن جیسا کہ قبل ازیں کئی بار عرض کیا جا چکا ہے کہ آپ ﷺ کو مخاطب کر کے آپ ﷺ کی امت کے ہر فرد کو بات سمجھائی گئی ہے بعینہٖ یہی حال اس جگہ ہے ورنہ آپ ﷺ نے کبھی کسی یتیم کو نہیں دبایا تھا کہ آپ ﷺ کو بطور تنبیہ یا ہدایت اس طرح کی بات کی گئی ہو ، لہٰذا اس بات کو بالخصوص ملحوظ خاطر رہنا چاہیے۔
Ayah 93:10اور سائل کو مت جھڑک
10 ؎ (تنھر) تو ڈانٹے ، تو جھڑکے نھر سے جس کے معنی سختی کے ساتھ ڈانٹنے اور جھڑکنے کے ہیں ۔ مضارع کا صیغہ واحد مذکر اور اس جگہ لا نہیں موجود ہے اس لیے فعل نہی ہے یعنی مت ڈانٹ ڈپٹ اور اس جگہ خطاب اگرچہ رسول اللہ ﷺ ہی سے ہے لیکن مراد اس سے محمد رسول اللہ ﷺ ہی کو درس دینا ہے نہ یہ کہ آپ ﷺ نے کسی سائل کو کبھی ڈانٹا ہو جس سے آپ ﷺ کو منع کیا گیا ہے اور یہ انداز خطاب عام ہے ۔ مانگنے والوں سے برا فروختہ کون ہوتا ہے ؟ وہی جس کے باپ دینے کو تو بہت کچھ ہو لیکن وہ اس کو محض اپنے لیے روک کر رکھنے کی کوشش کرے اور سائل کو دینے کے لیے وہ تیار نہ ہو وہ شخص جس کے پاس جو کچھ ہے وہ وہی کچھ دینے کے لیے ہمہ وقت تیار رہے اس کے برا فروختہ ہونے اور سائل کو ڈانٹنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ تاریخ شاہد ہے اور احادیث گواہ ہیں کہ آپ ﷺ نے پوری زندگی کبھی بھی کسی سائل کو نہیں جھڑکا یہاں تک کہ اگر دو یا تین دن مسلسل فاقہ آگیا تو اس سے دوسروں کو شکایت پیدا ہوئی لیکن آپ ﷺ کبھی جزبز نہیں ہوئے اور نہ ہی سائل کی ضرورت کو روک کر اپنی ضرورت کو پورا کیا ۔ سیرت کی کتابیں ایسے ان گنت واقعات سے بھری پڑی ہیں جن میں نبی اعظم و آخر ﷺ کے جودو کرم کا اندازہ ہوتا ہے جو سائل آپ ﷺ کے پاس حاضر ہوا اس کے سوال کو پورا کر کے اسے واپس کیا اور بعض اوقات اگر کچھ بھی پاس موجود نہیں تھا ادھر ادھر سے لے کر اس کے سوال کو پورا کردیا ۔ غور کرو کہ جو اللہ کا بندہ اپنے سامنے کھانا رکھتا ہے جب اس کے سوا اس کے پاس اور کچھ نہیں ہے اور وہ اس کھانے کو اٹھا کر سائل کو دے دیتا ہے اور اس کے باوجود اس کے چہرے پر ذرا برا بر ملال پیدا نہیں ہوتا بلکہ خوشی سے چہرہ پہلے سے بھی زیادہ دمک اٹھتا ہے تو اس کے متعلق کیسے یہ خیال کیا جاسکتا ہے کہ اس نے کبھی کسی سائل کو جھڑک دیا ہو اور حقیقت وہی ہے جو قبل ازیں عرض کی جا چکی ہے۔ جو بات آپ کو مخاطب کر کے کہی جا رہی ہے محض آپ ﷺ کی امت سے کرنا مقصود ہے اور امت ہی کے ہر فرد کے لیے کی گئی ہے تاکہ آپ ﷺ کی امت کو یہ سبق یاد دلایا جائے جس پر آپ ﷺ ہمیشہ کار بند رہے کہ آپ ﷺ کی امت کا بھی یہ امتیازی نشان قائم رہنا چاہیے لیکن اس وقت جو ہماری حالت ہے وہ سب کی آنکھوں کے سامنے ہے کہ مانگنے والے سب کچھ اٹھا کرلے جانا چاہتے ہیں اور نہ دینے والے نہ صرف یہ کہ ان کو کچھ دینا نہیں چاہتے بلکہ جو وہ مانگ کر لائے ہیں وہ بھی ان سے چھین لین چاہتے ہیں بلکہ اکثر اوقات تو چھین بھی لیتے ہیں حالانکہ زمانہ کی ترقی کے ساتھ لازم تھا کہ اس میں اس طرح ترقی ہوتی کہ آج آپ ﷺ کی امت کا امتیازی نشان قائم ہوجاتا اور وہ اسی طرح ممکن تھا کہ اس ملک میں یا آپ یوں کہیں کہ سارے اسلامی ممالک میں کوئی مانگنے والا نظر ہی نہ آتا کیسے ؟ ایسے کہ ہر حاجت مند کی حاجت کو پورا کرنے کی اسلامی حکومتیں پابند ہوتیں اور وہ ایسے قوانین بناتیں کہ کسی سائل کو سوال کرنے کی حاجت نہ رہتی بلکہ ضرورت مندوں کو بن مانگے دیا جاتا کیونکہ اب حالات کا تقاضا یہی تھا لیکن افسوس کہ ہم نے اس جگہ کی بھی پابندی نہ کی اور آج غیروں نے اس کو اپنا کر معاشرہ میں دوسری ساری برائیوں کے باوجود اپنے معاشرہ کا رخ بدل کر رکھ دیا بلکہ انہوں نے سو برائیاں اس ایک اچھائی میں غلاف کر کے رکھ دیں۔
Ayah 93:11اور تو اپنے رب کی نعمت کا ضرور اظہار کرتا رہ
11 ؎ ( حدث) تو بیان کر تحدیث سے جس کے معنی بیان کرنے کے ہیں ۔ امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر ۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے کسی بھی بندے پر کوئی کسی طرح کا فضل و کرم فرمائے اس کا ذکر اور اس کا اظہار کرنا بھی خوبی ہے جو اظہار شکر میں آتا ہے ۔ ہاں ! یہ بات کہ اس نعمت سے کونسی نعمت مراد ہے ہمارے خیال میں نعمت عام ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو دو جود بخشا ہے وہ کامل و مکمل انعام خداوندی ہے اور یہ ایک ایسا انعام ہے کہ اس کل سے اس کی ہر جز زیادہ بڑا احسان ہے اپنے کل سے اور یہ معلوم کرنے کے لیے اس آدمی سے آپ دریافت کریں جس کے سارے اعضا درست ہیں لیکن کوئی ا کی ان میں سے خراب ہوچکا یا وہ بالکل معدوم ہوگیا ہے مثلاً اگر خدا نہ کرے کہ کسی کی آنکھیں نہ رہیں ، کان نہ رہیں ، صرف دانت نہ رہیں ، کوئی ہاتھ نہ رہے یا پائوں نہ رہے ، ایک بازو یا ٹانگ ہی نہ رہے تو اس سے اس کی قدر و قیمت پوچھو کہ کیا ہے تو تم کو معلوم ہوگا کہ واقعی اس کل سے ایک جز کی قیمت وہ زیادہ لگا دے گا ۔ جو عین حق ہے اور بالکل درست ہے ۔ اس لیے اس نعمت سے کوئی ایک نعمت مراد لینا ہمارے خیال میں صحیح نہیں خواہ خطاب آپ ﷺ کو تسلیم کرلیا جائے ۔ نبوت و رسالت بھی بلا شبہ بہت بڑا انعام ہے لیکن خود رسول اللہ ﷺ نے جو ارشاد فرمایا اس کا ذکر کردینا مناسب معلوم ہوتا ہے جو صاحب مشکوٰۃ نے بحوالہ الترمذی بیان کیا ہے : ( قال رسول اللہ ﷺ انا سید ولد آدم یوم القیامۃ ولا فخر و بیدی لواء الحمد ولا فخر وما من بنی یومئذ اٰدم ومن سواہ الا تحت لوائی وانا اول من تنشق عنہ الارض۔۔۔۔۔ ) ” رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن تمام اولاد آدم کا سردار میں ہوں گا اور یہ بات میں فخر یہ نہیں کہہ رہا بلکہ حقیقت کا اظہار ہے اس دن تمام بنی ، آدم (علیہ السلام) اور علاوہ ازیں جتنے نبی و رسول ہوں گے سب کے سب میرے پرچم کے نیچے پناہ لیں گے اور قیامت کے دن سب سے پہلے زمین سے میں باہر آئوں گا اور یہ بات فخر یہ نہیں کہہ رہا بلکہ اظہار حقیقت کے لیے کہہ رہا ہوں “۔ ہم نے اس حدیث کا انتخاب اس لیے کیا ہے تاکہ رسول اللہ ﷺ کے اس ارشاد پر ذرا غور کرلیا جائے اور خصوصاً ہمارے وہ بھائی جو عیسائیوں کی طرح رسول اللہ ﷺ کی محبت میں غلو کر کے افراط کے مرتکب ہوتے ہیں اور آپ ﷺ کو رسالت و نبوت کے منصب جلیل سے اٹھا کر اللہ تعالیٰ کے منصب پر بلند کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ : ( انا اول من تنشق عنہ الار) کہ قیامت یک دن سب سے پہلے زمین سے میں باہر آئوں گا ۔ اگر وہ اس بات کو رسول اللہ ﷺ کی بات سمجھتے ہیں جیسا کہ ثناء اللہ پانی پتی ، احمد رضا بریلوی اور پیر کرم شاہ صاحب (رح) نے بھی سمجھا ہے تو خدا کا خوف کریں اور رسول اللہ ﷺ کے بارے میں غلو کر کے اور افراط کا شکار ہو کر گمراہ نہ ہوں ۔ ہم نے اشارہ کردیا اور اسی اشارہ سے بہت کچھ سمجھاجا سکتا ہے ۔ آپ غور کریں تو واضاحت اس کی خود بخو ہوتی چلی جائیگی۔ اللہ کرے کہ بات قارئین کی سمجھ میں آجائے ۔ ایک بار پھر سن لو کہ ہر نعمت کا شکر ادا کرنا واجب ہے اور شکر کا طریقہ یہ ہے کہ اس نعمت کو منعم کی رضا میں صرف کیا جائے ۔
نعمت مال کا شکریہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں خلوص نیت کے ساتھ صرف کیا جائے ۔ علم کی نعمت کا شکریہ ہے کہ علم کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے جہاں تک ہمت پڑے اس کو عام کرنے کی کوشش کی جائے ۔ نعمت صحت کا شکریہ ہے کہ فرائض کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ قومی زندگی کے لیے کچھ وقت ضرور خرچ کیا جائے اور گناہوں سے حتی الامکان بچا جائے ۔ الحمد اللہ کہ ہم اس مضمون میں سورة الضحیٰ کی تفسیر کو ختم کر رہے ہیں ۔ اللھم فاطر السٰموٰت والارض انت ولی فی الدنیا والاخرۃ توفنی مسلما والحقنی بالصالحین۔