Ayah 93:11 ۔ ضحی کی قسم اور اس سے مقصود و مراد ؟ سو ارشاد فرمایا گیا کہ قسم ہے " ضحی " کے اصل معنی چاشت کے ہیں لیکن چونکہ اس کے بالمقابل رات کے ساتھ " اذا سجی " کی قید لگی ہوئی ہے، اس لیے اس تقابل کے قرینے کی بنا پر ہم نے اس کا ترجمہ اس طرح کیا ہے۔ یعنی قسم ہے روز روشن کی، یعنی " ضحی " سے یہاں پر چاشت کے مشہور و معروف معنی مراد نہیں بلکہ اس سے مراد روز روشن ہے کیونکہ اس کے بالمقابل اس کے بعد والی آیت کریمہ میں فرمایا گیا " واللیل اذا سجی " سو لیل کے اس تقابل سے یہ امر واضح ہوجاتا ہے کہ یہاں پر " ضحی " سے مراد چاشت نہیں بلکہ روز روشن ہے، جیسا کہ سورة اعراف میں ارشاد فرمایا گیا ( آیت، اعراف 97، 98 پ 9) یعنی کیا ان بستیوں والے ( نچنت اور) بےفکر ہوگئے اس سے کہ آپہنچے ان پر ہمارا عذاب رات کو جبکہ یہ سوئے پڑے ہوں، یا کیا ( نچنت اور) بےفکر ہوگئے بستیوں والے اس بات سے کہ آپہنچے ان پر ہمارا عذاب دن چڑھے جبکہ یہ کھیل کود میں لگے ہوں ؟ سو سورة اعراف کی اس آیت کریمہ میں بیاتا یعنی رات کے وقت کے مقابلے میں " ضحی " ارشاد فرمایا گیا ہے، جس سے مراد ہے دن دہاڑے، یعنی اللہ پاک کا عذاب رات اور دن کے کسی بھی وقت، کسی بھی حصے میں اور کسی بھی طرح آسکتا ہے۔ پس اس سے غفلت و بےفکری برتنا بڑے کسارے کا سودا ہے، والعیاذ باللہ العظیم۔ سو " ضحی " کے اصل معنی " ارتفاع الشمس " یعنی سورج کے بلند ہونے کے ہیں، لیکن مجازی طور پر اس کے معنی اس خاص اور معروف وقت کے ہیں جو دن کے شروع کے حصے میں سورج کے ارتفاع کے وقت ہوتا ہے، اور یہ وقت خاص اہمیت کا حامل ہوتا ہے، اسی وقت میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنے کلام سے سرفراز فرمایا، اور اسی وقت میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلے میں آنے والے ماہر جادوگر شرف ایمان سے مشرف ہو کر اپنے خالق ومالک کے حضور سجدہ ریز ہوگئے۔ (روح وغیرہ) جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ( آیت، طہ 59 پ 16) سو " ضحی " یعنی چاشت کا یہ وقت ایسی وجوہ کی بنا پر خاص اہمیت اور شان کا حامل ہے۔ اور اس میں خاص درسہائے عبرت و بصیرت ہیں کہ یہی وہ وقت ہوتا ہے جس میں دن کی سرگرمیوں کا آغاز ہوتا ہے اور رات کے آرام و سکون کے بعد لوگ تازہ دم ہو کر میدان عمل میں اترتے ہیں۔ اور اس طرح رات کی نیند اور دن کی حرکت عمل سے بعث بعد الموت کی تذکیر و یاد دہانی اور ریہرسل ہوتی رہتی ہے، اس لئے یہاں پر اس کی قسم کھائی گئی ہے، لیکن فریقے کی بنیاد پر اس سے مراد پورا دن ہے، اللہ ہمیشہ اور ہر حال میں آخرت کی تیاری کی توفیق سے نوازے اور اپنی رضا کی راہوں پر قائم رکھے، آمین ثم آمین، یا رب العالمین و یا ارحم الرحمین، و یا اکرم الاکرمین، یا من بیدہ ملکوت کل شیء وھو یجیر ولا یجار علیہ۔ جل وعلا۔
Ayah 93:22 ۔ رات کی قسم جبکہ وہ چھا جائے : سو ارشاد فرمایا گیا " اور قسم ہے رات کی جبکہ وہ چھا جائے " یعنی وہ چھا جائے سب مخلوق پر اور وہ اپنی سیاہ چادر تان لے ان سب پر، تاکہ یہ اس کے فرحت بخش سکون میں آرام کرسکیں اور اس میں سو کر وہ ن بھر کی اپنی ساری تکان دور کرسکیں، اور اپنی کھوئی ہوئی طاقت کو بحال کر کے تازہ دم ہو کر اٹھ کھڑے ہوں، سو یہ سب کچھ اللہ پاک کی عظیم الشان قرت اور اس کی بےپایاں رحمت و عنایت کا ایک عظیم الشان مظہر بھی ہے، اور بعث بعد الموت کے لیے عملی درس، اور ریہرسل بھی کہ رات کی نیند اور خاموشی موت کے مشابہ ہے اور اس کے بعد دن کو اٹھنے اور چلنے پھرنے کی ہنگامہ خیزی حشر میں اٹھ کھڑے ہونے کی مانند ہے، اسی لیے سونے اور جاگنے کے وقت کی دعاؤں میں بھی اسی درس عبرت کی تعلیم و تذکیر فرمائی گئی ہے " سخی " کا معنی ہے کہ اندھیرا سخت ہوجائے اور پوری طرح چھا جائے یہ ماخوذ ہے " تسجیۃ " سے، جس کے معنی " تغطیہ " یعنی چھا جانے کے ہوتے ہیں ( محاسن وغیرہ) یعنی جب اندھیرا پوری طرح چھا جائے اسی لیے اس کو دوسرے مقام پر لباس سے بھی تعبیر فرمایا گیا ہے۔ ( آیت، النبا 10 پ 30) اور ایسے موقع پر چونکہ سناٹا عموما چھا جاتا ہے، اور پوری طرح خاموشی اور اندھیرا ہوجاتا ہے، اس لیے اس کی تشریح میں کہا گیا ہے " سکن " اور " رکد " وغیرہ ( محاسن التاویل، روح اور مراغی وغیرہ) سو رات اور دن اگرچہ اپنی شکل و صورت اور اپنے مزاج اور اثرات اور اپنی آمدورفت ہر اعتبار سے آپس میں مختلف اور ایک دوسرے کی ضد ہیں، لیکن اس کے باوجود ان دونوں میں سے ہر ایک کا وجود انسان کی زندگی اور بحیثیت مجموعی اس پوری دنیا کی بقا کے لیے اشد ضروری ہے، اور یہ حضرت خالق جل مجدہ کی قدرت کاملہ اس کی حکمت بالغہ اور رحمت شاملہ کا ایک عظیم الشان مظہر ہے، کہ اس نے رات کے ساتھ دن کو، اور دن کے ساتھ رات کو وجود بخشا۔ اور ان دونوں کو اس قدر باقاعدگی کے ساتھ اور اتنے پر حکمت طریقے سے رواں دواں کردیا کہ ان دونوں کی آمدو رفت، تغیر و تبدیل اور ان کے باہمی تفاعل سے وہ عظیم الشان مصالح پورے ہوتے ہیں جو اس دنیا کی بقاء کے لیے اشد ضروری ہیں۔ سو سلسلہ شب میں غور وفکر سے کام لینے والوں کے لیے عظیم الشان درسہائے عبرت و بصیرت ہیں، مگر افسوس کہ لوگ غور و فکر سے کام لیتے ہیں نہیں، الا ماشاء اللہ، والعیاذ باللہ جل وعلا من کل نوع من انواع العذاب، من کل زیغ و ضلال، وسوء و انحراف من کل شائبۃ من شوائب الکفر والانکار۔
Ayah 93:33 ۔ پیغمبر کے لیے تسلی و تسکین کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور اوپر کی دونوں قسموں کے جواب اور آفاقی شواہد کے مقصود و مدعا کے ذکرو بیان کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ نہ تو آپ کے رب نے آپ کو چھوڑا ہے اے پیغمبر اور نہ ہی وہ آپ سے ناراض ہوا ہے۔ پس جس طرح روشن دن کے بعد پرسکون اندھیری رات کا چھا جانا، کسی سے راضی یا ناراض ہونے کا نتیجہ نہیں ہوتا، بلکہ یہ دونوں اصل اللہ پاک کی بےپایاں حکمت اور اس کی رحمت بےنہایت کے دو الگ الگ مظہر ہیں اسی طرح آپ سے ( اے پیغمبر) کچھ دونوں کے لیے سلسلہ وحی کا منقطع ہوجانا بھی اسی حکمت وقدرت اور عنایت ربانی کا مقتضا ہے، پس آپ کو اس سے غمگین اور متفکر ہونے کی ضرورت نہیں، روایات میں وارد ہے کہ جب آنحضرت ﷺ سے وحضی کا سلسلہ کچھ عرصہ کے لیے منقطع ہوگیا جو کہ ا اپ کا سب سے بڑا سہارا تھا اس لیے اس کی بندش سے آنحضرت ﷺ کو سخت پریشانی لاحق ہوتی جو کہ ایک طبعی امر تھا اور آپ کو یہ پریشانی اور غمگینی اسی قدر تھی کہ اس کی بنا پر آپ کبھی اپنے آپ کو کسی بلند پہاڑ سے گرا دینے تک کو تیار ہوجاتے، تو جبریل امین سامنے آکر آپ کو تسلی دیتے کہ نہیں آپ ایسا نہ کریں کہ آپ تو یقینا حق پر ہیں، اور اللہ کے سچے رسول ہیں، آنحضرت ﷺ کو خدشہ اور صدمہ اس امر کا تھا کہ کہیں میرا رب مجھ سے ناراض نہ ہوگیا ہو، ادھر کفار و مشرکین بھی اس بنا پر آپ پر طعنہ زنی کرنے لگ گئے تھے، جس سے آپ کے اس صدمے اور پریشانی میں اور اضافہ ہوجاتا تھا، تو ایسے میں اللہ تعالیٰ نے یہ سورة کریمہ نازل فرما کر آپ کو تسلی دی کہ ایسی کوئٰ بات نہیں، نہ آپ کا رب آپ سے ناراض ہوا اور نہ ہی اس نے آپ کو چھوڑا، بلکہ وحی کی اس رکاوٹ و بندش میں کچھ دوسری حکمتیں کارفرما تھیں، مثلا یہ کہ اس طرح آپ کو کسی قدر آرا کرنے اور سستانے کا موقع مل سکے، سو وحی کی تیز اور بےمثل و مبارک روشنی کے بعد کچھ وقت کے لیے سلسلہ وحی کا انقطاع درحقیقت ایسے ہی ہپے، جیسے کہ دن کی روشنی اور اجالے کے بعد رات کی خاموشی اور سناٹے کی آمد، تاکہ آرام و سکون مل سکے۔ پس اس بنا پر آپ کو اس قدر فکر مند و دل گیر ہونے کی کوئی ضرورت نہیں، رہ گئی یہ بات کہ وحی کا یہ انقطاع کتنا عرسہ رہا تو اس بارے میں حضرات اہل علم کے اقوال مختلف ہیں، ابن جریج کے قول کے مطابق بارہ روز، کلبی کے مطابق پندرہ روز، اور ابن عباس کے قول پر پچیس روز، جب کہ سدی اور مقاتل کی روایت کے مطابق یہ مدت چالیس روز تھی۔ بہرکیف یہ مدت اتنی طویل ضرور تھی جس سے آنحضرت ﷺ اس قدر غمگین ہوگئے تھے اور اللہ تعالیٰ نے آپ کی تسکین و تسلی کے لیے یہ آیات کریمات نازل فرمائیں۔ صلوات اللہ وسلامہ علیہ وعلی من تبعہ الی یوم الدین۔
Ayah 93:44 ۔ پیغمبر کے لیے ایک خاص اور عظیم الشان بشارت کا ذکر وبیان : ارشاد فرمایا گیا اور پیغمبر کے لیے ایک خاص بشارت کے ذکرو بیان کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ یقینا آپ ﷺ کے لیے بعد والی حالت پہلی حالت سے بہتر ہوگی، کہ آپ کے ذریعے خلق خدا کو ہدایت و ایمان کے جس نور اور انعام سے نوازا گیا ہے اس کا اجر و صلہ آپ ﷺ کو برابر ملتا رہے گا، وہ کبھی اور کسی حال میں بھی ختم نہیں ہوگا اور اس طرح آپ ﷺ کو اس کا اجر وثواب برابر ملتا ہے گا، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا وَاِنَّ لَكَ لَاَجْرًا غَيْرَ مَمْنُوْنٍ ( القلم 3 پ 29) یعنی یقینا آپ کے لیے ( اے پیغمبر) ایک ایسا عظیم الشان اجر ہے جو کبھی ختم ہونے والا نہیں، سو آپ ﷺ کی عظمت و رفعت اور ترقی و سر بلندی کی راہیں تو مزید از مزید کھلتی جائیں گی اور پھر آخرت کی حقیقی اور دائمی زندگی میں آپ ﷺ کو جن عظیم الشان اور بےمثل انعامات سے نوازا جائے گا ان کا تو یہاں پر کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا، ان کی حقیقت اور " کنھہ " کو اللہ پاک ہی جان سکتا ہے، پھر آپ ﷺ کے لیے کسی ایسی فکر و پریشانی کا سوال ہی کیا پیدا ہوسکتا ہے ؟ جو آپ ﷺ کو وحی کی اس وقتی اور عارضی بندش سے لاحق ہورہی ہے، بہرکیف اس میں حضور ﷺ کے لیے تسلی و تسکین کا سامان اور عظیم الشان بشارت ہے، اور تصریح فرمائی گئی ہے کہ آپ ﷺ کا مستقبل ماضی اور حال سے بہتر ہوگا، اس مضمون کی بشارت خفی اور جلی دونوں طریقوں سے قرآن حکیم کے مختلف مقامات میں دی گئٰ ہے، اور قدیم صحیفوں میں بھی حضور ﷺ سے متعلق جو پیشنگوئیاں وارد ہوئی ہیں ان میں آپ کی دعوت کے آغاز کو رائی کے دانے کی تمثیل سے سمجھایا گیا ہے، جو ہوتا تو بہت چھوٹا ہے لیکن جب وہ اگتا ہے تو اس کا پودا سب ترکاریوں سے بڑا ہوجاتا ہے، یہاں تک کہ پرندے اس میں بسیرا کرلیتے ہیں، اور لفظ خیر سے یہاں پر جو بشارت آپ کو دی گئی ہے وہ ایک جامع بشارت ہے جس کے اندر دین کے غلبہ و تمکن، دشمنوں کی مغلوبیت و پامالی اور دین میں داخل ہونے والوں کی کثرت کے وہ سارے پہلو جمع ہوجاتے ہیں، جو مختلف سورتوں میں مختلف انداز میں بیان فرمائے گئے ہیں۔ والحمدللہ رب العالمین، علی کرمہ واحسانہ سبحانہ و تعالیٰ ، جل وعلا۔
Ayah 93:55 ۔ پیغمبر کے لیے ایک عظیم الشان بشارت کا ذکرو بیان : سو پیغمبر کے لیے ایک عظیم الشان بشارت کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ آپ کا رب آپ کو وہ کچھ دے گا کہ آپ خوش ہوجائیں گے، چناچہ حقیقی عزت و عظمت دین حق کی تبلیغ و سربلندی، کفر و شرک کے اندھیروں کے خاتمے اور کلمہ توحید کے اور غلبے کے ذریعے جس عظیم الشان اور بےمثل انقلاب کی سرفرازی سے آپ ﷺ کو نوازا گیا اس کی تو پوری تاریخ انسانیت میں دوسری کوئی نظیر و مثال نہ مل سکتی ہے اور نہ قیامت تک کبھی ملنا ممکن ہے اور پھر یہ کامل مقدس اور حقیقی انقلاب جو اللہ تعالیٰ کے خاص فضل و کرم سے آپ کے ذریعے دنیا میں رونما ہوا، اور جس سے انسانوں کا ظاہر و باطن سب کچھ بدل گیا، صرف تئیس (23) سال کی قلیل مدت میں اور آپ کی حیات طیبہ کے اندر ہی تکمیل پذیر ہوگیا، جس کی دوسری کوئی نظیر و مثال چشم فلک نے نہ اس سے پہلے کبھی دیکھی اور نہ آئندہ کبھی دیکھ سکے گی، پھر آپ کے ذریعے آئے ہوئے اس کامل و مکمل اور آخرین دین خداوندی نے قیامت تک باقی رہنا ہے جس کے نتیجے میں آپ کا نام نامی بھی ہمیشہ باقی اور سربلند رہے گا، اور آپ کو اجر وثواب بھی ہمیشہ اور برابر ملتا رہے گا، اور اس کے نتیجے میں آخرت کے جن مراتب و درجات سے آپ کو نوازا جائے گا، ان کا تصور بھی کسی بشر کے بس میں نہیں۔ صلوت اللہ وسلامہ علیہ وعلی الہ وصحبہ ما تلوح ھذہ الاحرف و تبقی ھذہ الاسطر والکلمات۔ یہاں پر " یعطی " فعل کا مفعول نہیں ذکر فرمایا گیا، جس سے عموم کا فائدہ حاصل ہوتا ہے، جو ان تمام کامرانیوں اور آبرومندیوں کو شامل ہے جو بعد کے ادوار میں اسلام کو حاصل ہوئیں، جیسا کہ اس کا ذکر اوپر لفظ خیر کے ضمن میں بھی ہوچکا ہے۔ اللہ تعالیٰ حضور ﷺ کی سچی محبت اور اتباع و پیروی سے ہمیشہ سرشار رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین و یا ارحم الرحمین، و یا اکرم الاکرمین، بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، فی کل زمان و مکان۔
Ayah 93:66 ۔ حضور کے زمانہ یتیمی میں عنایات خداوندی کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور حضور ﷺ کے زمانہ یتیمی میں الطاف و عنایات خداوندی کے ذکر وبیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا اور تاکید کے لیے بطور سوال و استفہام ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ حقیقت نہیں کہ اللہ نے آپ کو یتیم پایا پھر آپ کو ٹحکانا دیا ؟ " کہ والد ماجد کا انتقال اس وقت ہوگیا تھا جب کہ آپ ابھی بطن مادر ہی میں تھے، پھر چھ سال کی عمر شریف میں جب والدہ ماجدہ کا سایہ بھی آپ کے سر سے اٹھ گیا تو آپ اپنے دادا عبدالمطلب کی آغوش تربیت میں آگئے، جنہوں نے آنجناب کو صرف شفقت و پیار ہی نہیں دیا، بلکہ خاص فخر و مباہات کے ساتھ آپ کی تربیت و پرورش فرمائی اور آپ کہا کرتے تھے کہ میرا یہ بیٹا ایک خاص شان کا حامل ہوگا ( ان لابنی ھذا لشانا) آٹھ سال کی عمر میں جب اداد بھی انتقال کر گئے تو آپ کی تربیت کی سعادت و ذمہ داری آپ کے چچا ابوطالب نے سنبھال لی، جو اگرچہ آپ پر ایمان نہیں لائے تھے، بلکہ انہوں نے کفر و شرک ہی میں جان دی تھی، مگر آپ کی تربیت و پرورش میں انہوں نے کوئی کسر اٹھا نہ رکھی، پھر مدینہ منورہ میں اوس و خزرج کے قبائل آپ کی نصرت و حمایت میں اٹھ کھڑے ہوئے اور اس کے بعد آپ کے ہر امتی نے آپ کے لیے سینہ سپر ہوجانا اپنے لیے سعادت سمجھا اور آج تک سمجھ رہا ہے۔ صلوات اللہ وسلامہ علیہ۔ بہرکیف آپ کی اس یتیمی کے دور میں جو کہ کمزوری کسمپرسی کا دور ہوتا ہے اور پھر خاص کر عربوں کے اس جاہلی ماحول میں جہاں یتیموں پر طرح طرح کے مظالم ڈھائے جاتے تھے، آپ کی پرورش کے لیے ایسی رحمتوں اور عنایتوں بھری صورتوں کا انتظام کرنا، قدرت کا آپ پر ایک خاص انعام تھا، تو پھر وہ اللہ آپ کو آگے اپنی خاص رحمتوں اور عنایتوں سے کیوں نہیں نوازے گا ؟ سو عربوں کے اس جاہلی ماحول اور جاہلانہ نظام میں جبکہ آپ کے والد ماجد نے آپ ﷺ کے لیے کوئی قابل ذکر ترکہ بھی نہیں چھوڑا تھا، آپ ﷺ کی تربیت و پرورش کے لیے ایسے عظیم الشان انتظامات کا پایا جانا بلا شبہ آپ ﷺ پر قدرت کی عظیم الشان عنایات کا نتیجہ و مظہر ہے۔ علیہ الصلوۃ والسلام۔
Ayah 93:77 ۔ نعمت ہدایت سے سرفرازی کا ذکرو بیان : سو حق تعالیٰ شانہ کی طرف سے نعمت حق و ہدایت سے سرفرازی کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا اور کیا یہ امر واقع نہیں کہ اس نے آپ کو ناواقف راہ پایا پھر ہدایت بخشی، یعنی طبعی اور فطری طور پر راہ حق پر ہونے کے باوجود آپ حق اور اس کے اصول و احکام سے ناواقف تھے، اور آپ کو نہیں پتہ تھا کہ کتاب کیا ہوتی ہے، اور ایمان کی تفصیلات کیا ہیں ؟ تو آپ کو نبوت و رسالت سے سرفراز فرما کر ایمان و ہدایت کی دولت اور دارین کی فوز و فلاح سے متعلق ان علوم و معارف سے نوازا کہ قیامت تک کی ساری دنیا ان سے ہمیشہ مستفید و فیضیاب ہوتی رہے گی، ارشاد ہوتا ہے کہ مَا كُنْتَ تَدْرِيْ مَا الْكِتٰبُ وَلَا الْاِيْمَانُ وَلٰكِنْ جَعَلْنٰهُ نُوْرًا نَّهْدِيْ بِهٖ مَنْ نَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِنَا ( الشوری 52 پ 25) یعنی آپ نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا ہوتی ہے اور ایمان کیا، لیکن ہم نے اس کو ایک ایسا عظیم الشان نور بنادیا جس کے ذریعے ہم اپنے بندوں سے جسے چاہتے ہیں نوزاتے ہیں، یہاں پر یہ بھی واضح رہے کہ لفظ " ضالا " کی توضیح و تشریح اور اس کی تفسیر حضرات علماء مفسرین کرام اس طرح کے الفٓظ سے کرتے ہیں ضالا ای غافلا عن معالم النبوۃ۔ یعنی آپ نبوت کے ان معالم و معارف اور شریعت کے احکام سے غافل و بیخبر تھے جو محض انسانی عقل سے معلوم نہیں ہوسکتے، جن کے جاننے اور معلوم کرنے کا طریقہ صرف اور صرف وحی خداوندی ہے، تمام ثقہ مفسرین کرام " ضالا " کا مفہوم اسی قسم کے تشریحی الفاظ سے واضح کرتے ہیں، (ملاحظہ ہو روح، ابن جریر، ابن کثیر، مدارک التنزیل، محاسن التاویل، صفوۃ التفاسیر، صفوۃ البیان، جامع البیان، قرطبی، مظہری، اور مراغی وغیرہ) واضح رہے ضلالت کے اصل معنی اگرچہ بہکنے بھٹکنے اور گمراہ ہونے کے آتے ہیں، مگر سیاق وسباق اور اس کے صلات کے اختلاف سے اس کے معنی بدل جاتے ہیں، اور یہ لفظ بیخبر ہونے، ناواقف ہونے، کھو جانے، وارفتہ ہونے وغیرہ کے مختلف معنوں میں آتا ہے، یہاں پر یہ گمراہی کے معروف معنوں میں تو ہو نہیں ہوسکتا، کیونکہ پیغمبر معصوم ہوتے ہیں اور وہ وحی و نبوت کے شرف سے مشرف ہونے سے پہلے بھی کبھی کسی معژیت کا ارتکاب نہیں کرتے، تو اس کے بعد اس طرح کے کسی احتمال کا سوال ہی کیا پیدا ہوسکتا ہے ؟ اور پھر ہمارے حضور جو تمام انبیاء و رسول کے امام و پیشوا ہیں ان کی شان تو ہر لحاظ سے سب سے اعلی وبالا ہے، ﷺ ، آپ نبوت کے ملنے سے پہلے بھی ضلالت و گمراہی کے ہر شائبہ اور دھبہ سے پاک و صاف رہے، پس یہاں پر لفظ " ضال " کا سب سے بہتر مفہوم اور زیادہ چسپاں ہونے والے معنی یہ ہیں کہ حق تعالیٰ نے آپ کو ناواقف راہ پایا پھر آپ جو نور حق و ہدایت سے نواز دیا، کیونکہ خود قرآن پاک میں دوسرے مقام پر اس کی تصریح فرمائی گئی ہے وَاِنْ كُنْتَ مِنْ قَبْلِهٖ لَمِنَ الْغٰفِلِيْنَ ۔ یعنی یقینا اس سے پہلے آپ بالکل بیخبر تھے (یوسف 3 پ 12) اور جن لوگوں نے اس لفظ کا ترجمہ اس طرح کیا اور " تمہیں اپنی محبت میں خود رفتہ پایا تو اپنی طرف راہ دی " وہ ترجمہ غلط ہے، کیونکہ " ضل " کا لفظ کھو جانے وار گم ہوجانے کے معنی میں اس وقت آتا ہے جبکہ اس کا صلہ فی آئے، جیسے کہا جاتا ہے " ضل الماء فی اللبن " یعنی پانی دودھ میں گم ہوگیا کھو گیا، جبکہ یہاں پر ایسا کوئی صلہ موجود نہیں، پھر اپنی محبت میں خود رفتہ پایا تو " ضل " کے معنی میں سرے سے داخل ہی نہیں، یہ معنی اس صورت میں ہوسکتا ہے جبکہ " ضل فی الحب یا فی حب اللہ " وغیرہ کا کوئی کلمہ فرمایا گیا ہوتا جن کا یہاں کوئی ذکر و وجود سرے سے ہے ہی نہیں، یہ محض ایجاد بندہ ہے جو کہ تفسیر بالرای کے زمرے میں آتا ہے، جس کے بارے میں نبی معصوم (علیہ الصلوۃ والسلام) نے نہایت سخت اور ہولناک وعید سنائی ہے والعیاذ باللہ العظیم، من کل ذیغ و ضلال۔ اللہ ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے، آمین۔ پھر دوسری بات یہ ہے کہ موصوف کے اس خود ساختہ ترجمہ کے باوجود بات پھر بھی وہیں رہتی ہے، کیونکہ اس ترجمہ میں یہی کہا گیا ہے کہ " تو اپنی طرف راہ دی " جس کا مطلب یہی ہوا کہ آپ ﷺ کو وصول الی اللہ کی راہ معلوم نہ تھی تو حضرت جل مجدہ نے آپ کو اس کی راہ بتائی، تو بات پھر وہیں پہنچی کہ اس کو ناواقف راہ پایا تو ہدایت بخشی، تو پھر اس قدر تکلف کرنے اور اس طرح کی اختراع کا فائدہ اور حاصل کیا ؟ اسی لیے اس طرح کے خود ساختہ ترجمے علماء سلف و خلف میں کہیں کوئی ثبوت و وجود نہیں، اور پندرہ صدیوں کے علماء و مفسرین کرام میں سے کسی بھی ثقہ عالم و مفسر نے ایسی کوئی بات کبھی نہیں کہی، لہذا " ضالا " کا سیدھا و صاف اور واضح مطلب وہی ہے جو ہم نے اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اوپر عرض کیا اور جو قرآن و سنت کی دیگر مختلف صاف وصریح نصوص کے عین مطابق ہے کہ اللہ پاک نے آپ کو اے پیغمبر ناواقف راہ پایا پھر آپ کو نور حق و ہدایت سے سرفراز فرمادیا، اسی مفہوم و مطلب کو ادا کرنے والے وہ تمام الفاظ و کلمات جو دوسرے مختلف حضرات علماء مفسرین اور مترجمین کرام نے اختیار فرمائے، بہرکیف " ضالا " کے معنی یہاں پر گمراہ کے بہرحال نہیں کیونکہ پیغمبر کبھی گمراہ نہیں ہوتے، وہ بعثت سے پہلے بھی فطرت سلیمہ پر ہوتے ہیں۔ پس یہاں پر یہ لفظ ناواقف راہ اور جو یائے راہ کے معنی میں ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو راہ حق و ہدایت سے نوازا، اور آپ کے ذریعے پوری دنیا کو حیات بخشی۔ سبحانہ و تعالیٰ فلہ الحمد ولہ الشکر صلوت اللہ وسلامہ علیہ وعلی الہ وصحبہ وسلم۔
Ayah 93:88 ۔ نعمت غنا سے سرفرازی کا ذکرو بیان : سو نعمت غنا سے سرفرازی کے ذکرو بیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا کہ " کیا یہ حقیقت نہیں کہ اس نے آپ ﷺ کو تنگدست پایا پھر مالدار کردیا ؟ " اول حضرت خدیجۃ الکبری ؓ کے مال میں اپنی پاکیزہ اور بابرکت تجارت کے ذریعے، پھر انہوں نے آپ ﷺ کے حبالہ عقد میں آنے کے بعد اپنی ساری پونجی لاکر آپ ﷺ کے قدموں میں ڈال دی، پھر اطراف و اکناف سے خزانے سمٹ سمٹ کر آپ کے حضور پہنچنے لگے، یہ تو ظاہری اور مادی طور پر غنی اور مالداری کا حال تھا، رہ گئی باطن کے غنی کی ترقی جو حقیقی مالداری اور اصل غنی ہے، تو اس کے اعتبار سے تو آپ اس بلند مقام پر فائز تھے کہ پوری مخلوق میں اس کی دوسری کوئی نظیر و مثال ڈھونڈے سے بھی کہیں نہیں مل سکتی، صلوات اللہ وسلامہ وعلیہ۔ اور اپنے دل کے غنی کے اعتبار سے تو آپ بادشاہوں کے بھی بادشاہ تھے، ﷺ ۔ سو غنی اور فقر کا جتنا تعلق مادی اسباب و وسائل سے ہے اس سے کہیں زیادہ اس کا تعلق قلب و باطن سے ہے، آدمی کا سینہ اگر نور ایمان و یقین سے خالی ہو تو وہ محتاج ہے، اگرچہ وہ خزانہ قارون ہی کا مالک کیوں نہ ہو، اور اگر اس کا سینہ ایمان و یقین کی دولت اور معرفت حق کے نور سے منور و معمور ہو تو وہ غنی ہے، اگرچہ وہ حضرت یحی (علیہ السلام) کی طرح کمبل پوشاک پہنتا اور جنگلی شہد اور ٹڈیوں پر ہی گزارہ کرتا ہو، اسی حکمت کو فرمان نبوی میں اس طرح بیان فرمایا گیا یعنی " الغنی غنی النفس لا عن کثرۃ العرض "۔ یعنی غنی تو دل کا غنی ہے نہ کہ مال و دولت کی کثرت سے۔ اور یہی ہے حقیقی اور اصل غنی ہے، اور یہ پیدا ہوتا ہے اللہ کی معرفت اور اس کی کتاب کے نور سے اور جس کو یہ دولت نصیب نہیں وہ دنیا کی حرص سے کبھی پاک نہیں ہوسکتا، اور اس کا کاسہ گدائی بھی کبھی نہیں بھرتا، سو اصل غنی قلب و باطن ہی کا غنی ہے جو نصیب ہوتا ہے ایمان و یقین کی اس دولت بےمثال سے جس سے سرفرازی کے بعد دنیا کے کچھ ٹکوں کا تو ذکر ہی کیا، پوری دنیا کی حیثیت بھی مومن صادق کے نزدیک پرکاہ کے برابر بھی ہوتی، اور فقیری میں بادشاہی کے اسی مظہر بےمثال کے بارے میں شاعر نے خوب کہا : کسری کا تاج پاؤں تلے روندنے کے لیے، اور گھر میں بوریا کھجور کا بچھا ہوا۔ سو غنا نفس کی اس بےمثال بادشاہی کا وہ لوگ تصور بھی نہیں کرسکتے جو ایمان و یقین کی دولت سے محروم ہوتے ہیں، اور جو صرف مادہ و معدہ اور بطن و فرج کے تقاضوں کی تکمیل ہی کو سب کچھ سمجھتے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین، یا رب العالمین و یا ارحم الرحمین، و یا اکرم الاکرمین، یا من بیدہ ملکوت کل شیء وھو یجیر ولا یجار علیہ۔
Ayahs 93:9–109 ۔ یتیم پر سختی کی ممانعت کا ذکرو بیان : سو مذکورہ بالا انعامات کے حق نعمت کے ذکرو بیان کے سلسلے میں سب سے پہلے یتیم کے حق کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا " پس یتیم پر کبھی سختی نہیں کرنا " بلکہ اس سے ہمدردی اور شفقت ہی کا برتاؤ ہی کیجیے گا، کہ آپ خود اس مرحلے سے گزر چکے ہیں، چناچہ آپ ﷺ نے یتیموں کی پرورش و خیر خواہی سے متعلق علمی اور عملی طور پر دنیا کو جن تعلیمات عالیہ سے نوازا ان کی نظیر تو کیا ان کا عشر عشیر بھی کہیں اور نہیں مل سکے گا، آپ نے اپنی دو انگلیوں کو ملا کر ان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ میں اور یتیم کی پرورش کرنے والا جنت میں اس طرح ہوں گے جس طرح یہ دو انگلیاں ( انا و کا فل الیتیم کھاتین فی الجنۃ) اور فرمایا کہ سب سے بہتر گھر وہ ہے جس میں کوئی یتیم ہو اور اس سے اچھا سلوک کیا جاتا ہو، رو سب سے برا گھر وہ ہے جس میں کوئی یتیم ہو مگر اس کے ساتھ برا سلوک کیا جاتا ہے، والعیاذ باللہ العظیم۔ سو یہاں سے ان انعامات کا حق بیان فرمایا جارہا ہے جو اوپر ذکر فرمائے گئے ہیں، تقھر قہر سے مشتق و ماخوذ ہے جس کے معنی دبانے، ڈانٹنے اور حق غصب کرنے کے ہیں، پس اس ارشاد کا مطلب یہ ہوا کہ آپ ﷺ ان سے کوئی سختی نہیں کرنا، بلکہ جس طرح آپ کے رب نے یتیمی کے اس دور میں آپ ﷺ کو پناہ دی، اور آپ کو طرح طرح کی شفقتوں سے نوازا، اسی طرح آپ بھی یتیموں کو پناہ دینا، اور ان کے ساتھ رحمت و شفقت ہی کا معاملہ کرنا، یہاں پر یہ بھی واضح رہے کہ یہاں پر خطاب اگرچہ حضور سے ہے لیکن اس سے سنانا دراصل قریش کے ان سنگدلوں کو ہے جو یتیموں کے ساتھ ایسے بھیانک ظلم کرتے تھے، وہ ان سے طرح طرح کی سختیاں کرتے تھے، ورنہ حضور ﷺ سے یتیموں کے ساتھ اس طرح کی کسی سختی یا زیادتی کا کوئی امکان نہیں تھا، کہ آپ تو سراسر رحمت و شفقت تھے اور اس طور پر کہ پوری دنیا کے بےمثال نمونہ تھے، (علیہ الصلوۃ والسلام)
Ayah 93:1111 ۔ تحدیث نعمت کا حکم و ارشاد : سو انعامات مذکورہ بالا میں سے نعمت غنا کے حق کے ذکر وبیان کے سلسلے میں تحدیث نعمت کے حکم و ارشاد کے طور پر ارشاد فرمایا گیا " کہ بیان کیا کرو اپنے رب کی نعمتوں کا "۔ کیونکہ یہ بھی شکر نعمت کا مقتضی ہے جبکہ مقصود اس ذکرو بیان سے فخرو مباہات نہ ہو، بلکہ اللہ پاک کی نعمتوں کا ذکر و استحضار اور ان کی قدر دانی ہو کہ یہ بھی حق نعمت کا تقاضا ہے، کہ منعم اور اس کی نعمت کا ذکر و تذکرہ کیا جائے، اور اس کا شکر بجا لایا جائے اور یوں بھی شکر نعمت نعمت کی بقا اور اس کے دوام کا ایک اہم ذریعہ ہے، جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ و بالشکر تدوم النعم۔ یعنی شکر کے ذریعے نعمتوں کا دوام نصیب ہوتا ہے اور ارشاد ربانی ہے وَاِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكُمْ لَىِٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِيْدَنَّكُمْ وَلَىِٕنْ كَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِيْ لَشَدِيْدٌ (ابراہیم 7 پ 13) یعنی اگر تم لوگوں نے شکر ادا کیا تو میں ضرور تم کو اپنی نعمتیں بڑھا دوں گا اور خاص کر دین و شریعت اور علم و حکمت کی جس بےمثال نعمت سے آپ ﷺ کو آپ کے رب نے نوازا ہے اور اپنے خزانوں سے جس فراوانی کے ساتھ آپ کو سرفراز فرمایا ہے اس کی تحدیث کرو، اور جس طرح آپ ﷺ کے رب نے آپ کو اس مفت نوازا ہے، اسی طرح آپ بھی اس کو آگے مفت بانٹیں اور بانٹتے ہی چلے جائیں، ہر آنے جانے اور ملنے ملانے والے کے سامنے اس بات کا چرچا کریں اور اس کو کھلے دل سے اور فیاضانہ طور پر بانٹیں، اور ہر بزم و انجمن کو اس کے ذکر وبیان سے منور معمور کریں کہ دلوں کی آبادی اور دارین کی سرخروئی وسعادت مندی اسی سے وابستہ ہے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، وھو الھادی الی سواء السبیل، فعلیہ نتوکل و بہ نستعین فی کل ان و حین وبھذا القدر نکتفی من التفسیر سورة الضحی والحمدللہ رب العالمین، جل وعلا