93. Surah Ad-Dhuhaa

الضحىThe Morning Hours · 11 ayahsتدبرِ قرآن

تعارف

تعارف

ا ۔ سورة کی عمود اور سابق و لاحق سے تعلق یہ سورة اور بعد کی سورة …الم نشرح …دونوں قوام کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو جس مشن پر مامور فرمایا ہے اس میں آپ فائز المرام ہوں گے۔ راہ میں جو رکاوٹیں اس وقت نظر آرہی ہیں۔ وہ سب دور ہوجائیں گی۔ یہ مضمون پچھلی سورتوں میں بھی آیا ہے۔ البتہ دوسرے مطالب کے ضمن میں آیا ہے لیکن ان دونوں کا خاص مضمون ہی یہی ہے۔ ان کے آئینہ میں آپ کی زندگی کے تمام مراحل گویا آپ کے سامنے رکھ ہیں ان میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دی گی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو جس مشن پر مامور فرمایا ہے اس میں آپ فائز المرام ہوں گے۔ راہ میں جو رکاوٹیں اس وقت نظر آرہی ہیں۔ وہ سب دور ہوجائیں گی۔ یہ مضمون پچھلی سورتوں میں بھی آیا ہے۔ البتہ دوسرے مطالب کے ضمن میں آیا ہے لیکن ان دونوں کا خاص مضمون ہی یہی ہے۔ ان کے آئینہ میں آپ کی زندگی کے تمام مراحل گویا آپ کے سامنے رکھ دیئے گئے ہیں۔ ان میں تسلی کا جو انداز اختیار فرمایا گیا ہے اس پر غور کیجیے تو معلوم ہوتا ہے کہ سورة ضحیٰ مکی زندگی کے اس دور میں نازل ہوئی ہے جب دعوت کی مخالفت اتنی شدت اختیار کرگئی ہے کہ آپ آگے کی راہ مسدود پا کر دل گرفتہ رہنے لگے اور سورة الم نشرح اس دور میں نازل ہوئی ہے جب مخالفت کی شدت کے علی الرغم افق میں کامیابی کے کچھ آثار بھی نمایاں ہونے لگے ہیں۔ ب۔ سورة کے مطالب کا تجزیہ سورة کے مطالب کی ترتیب اس طرح ہے : پہلے آفاق کے شواہد سے اس حقیقت کی طرف توجہ دلائی گی ہے کہ جس طرح اس دنیا کی مادی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لئے دن کی حرارت و روشنی کی بھی ضرورت ہے اور رات کی خنکی اور تاریکی بھی اسی طرح انسانی فطرت کے مخفی جواہر کو اجاگر کرنے کے لئے ضروری ہے کہ انسان عسر اور یسر، دکھ اور سکھ، رنج اور راحت، دونوں طرح کے حالات سے گزارا جائے۔ جو لوگ زندگی کی تربیت میں امتحانوں کا مقام سمجھتے اور ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں ان کی اعلیٰ صلاحیتیں ان سے پر ان چڑھتی ہیں اور جو ان سے عہدہ برآ ہونے کی حکمت سے ناواقف ہوتے ہیں یا اپنی پست ہمتی کے سبب سے ان سے وہ فائدہ نہیں اٹھاتے جس کے لئے قدرت نے ان کو مقدر کیا ہے وہ اپنے آپ کو اس مقام بلند سے محروم کرلیتے ہیں جو اس امتحان سے گزرے بغیر انسان کو حاصل نہیں ہوتا۔ اس اصولی حقیقت کے بیان کرنے کے بعد نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب کر کے تسلی دی ہے کہ اس وقت جس امتحان سے آپ گزر رہے ہیں وہ خدا کی طرف سے کسی بےالتفاقی یا آپ پر کسی عتاب کے سبب سے نہیں پیش آیا ہے بلکہ یہ اسی امتحان کا ایک حصہ ہے جو انسان کی روحانی و اخلاقی تربیت کے لئے ضروری ہے۔ اس کے بعد آپ کو بشارت دی ہے کہ آپ اس وقت جس دور سے گزر رہے ہیں یہ مقدمہ ہے ایک ایسے دور کا جو اس سے بہت بہتر ہوگا اور اس میں آپ کا رب کریم ان فیروز مندیوں اور کامرانیوں سے آپ کو نوازے گا جو آپ کو نہال کردیں گی۔ اس کے بعد آپ کی زندگی کے بعض ان مراحل کی طرف اشارہ فرمایا ہے جو بعثت سے پہلے یا ابتدائے بعثت میں آپ کو پیش آئے اور جو بظاہر کٹھن تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے ان سے آپ کو نکالا اور اس طرح نکالا کہ دنیا کی راہیں بھی آپ کے لئے فراخ ہوئیں اور روحانی فتوحات کے دروازے بھی کھلے۔ آخر میں آپ کو ان نعمتوں کے حقوق ادا کرنے کا طریقہ تعلیم فرمایا گیا جو آپ کو حاصل ہوئیں۔ اس میں ضمناً ان لوگوں پر تعریض بھی ہے جن کا ذکر سابق سورتوں میں آیا ہے کہ وہ نعمتیں پا کر اللہ سے اکڑنے اور اس کے بندوں کے حقوق تلف کرنے والے بن گئے۔

Ayahs 93:1–2

وَ الضُّحٰىۙ Open ayah 93:1 in the Quran reader

شاہد ہے وقت چاشت

وَ الَّیْلِ اِذَا سَجٰىۙ Open ayah 93:2 in the Quran reader

اور شاہد ہے رات جب پرسکون ہوجاتی ہے

’ضُحٰی‘ چاشت کے وقت کو کہتے ہیں جب دن کی سرگرمیوں کا آغاز ہوتا اور انسان رات میں آرام کے بعد، ازسرنو تازہ دم ہو کر، جدوجہد کے میدان میں اترتا ہے۔ رات اور دن کی باہمی سازگاری: رات کی شہادت قرآن میں، موقع کی مناسبت سے، مختلف پہلوؤں سے پیش کی گئی ہے جن کی وضاحت ان کے محل میں ہو چکی ہے۔ یہاں اس کے ساتھ ’اِذَا سَجٰی‘ کی قید لگی ہوئی ہے۔ ’سَجٰی‘ کے معنی ’رَکَد‘ اور ’سَکَن‘ یعنی ٹک جانے اور ساکن ہو جانے کے آتے ہیں جس سے معلوم ہوا کہ یہاں رات کا وقت پیش نظر ہے جب وہ دن کے شور و شغب اور ابتدائے شب کے ہنگاموں سے نکل کر اچھی طرح ٹک جاتی اور انسان کو سکون و راحت بخشنے کے قابل بن جاتی ہے۔ گویا لفظ ’ضُحٰی‘ سے جو حصہ دن کا مراد لیا گیا ہے ’وَالَّیْلِ اِذَا سَجٰی‘ سے اس کے بالمقابل شب کا حصہ مراد لیا گیا ہے۔ یہ دن اور رات غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ اپنی شکل و صورت، اپنے مزاج اور اپنے اثرات کے لحاظ سے اگرچہ بالکل مختلف ہیں لیکن اس اختلاف کے باوجود انسان بھی اپنی زندگی کے لیے ان کا محتاج ہے اور یہ دنیا بحیثیت مجموعی بھی اپنی بقا کے لیے ان کی حاجت مند ہے اور خالق کائنات کی یہ بہت بڑی رحمت و عنایت ہے کہ اس نے دن کے ساتھ رات اور رات کے ساتھ دن کو وجود بخشا اور ان دونوں کے تفاعل سے وہ مصالح پورے ہوتے ہیں جو اس دنیا کے بقا کے لیے ضروری ہیں۔ قرآن نے ان دونوں کے تفاعل کا جگہ جگہ ذکر کیا ہے، مثلاً: ہُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَکُمُ الَّیْْلَ لِتَسْکُنُوۡا فِیْہِ وَالنَّہَارَ مُبْصِرًا.؂۱ (یونس ۱۰: ۶۷) ’’وہی خدا ہے جس نے تمہارے لیے رات کو تاریک بنایا تاکہ تم اس میں سکون حاصل کرو اور دن کو روشن بنایا تاکہ تم اس میں جدوجہد کرو۔‘‘ سورۂ قصص میں فرمایا ہے: وَمِنْ رَّحْمَتِہٖ جَعَلَ لَکُمْ الَّیْلَ وَالنَّہَارَ لِتَسْکُنُوۡا فِیْہِ وَلِتَبْتَغُوۡا مِن فَضْلِہٖ وَلَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوۡنَ. (القصص ۲۸: ۷۳) ’’اور یہ اس کی رحمت میں سے ہے کہ اس نے تمھارے لیے رات اور دن بنائے تاکہ تم رات میں سکون حاصل کرو اور دن میں اس کے رزق و فضل کے طلب کرنے والے بنو اور تاکہ تم اپنے رب کے شکرگزار رہو۔‘‘ _____ ؂۱ اس آیت میں حذف و ایجاز کا جو اصول ملحوظ ہے اس کی وضاحت آیت کی تفسیر میں ہو چکی ہے۔
Ayah 93:3

مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَ مَا قَلٰىؕ Open ayah 93:3 in the Quran reader

کہ تیرے خداوند نے نہ تجھے چھوڑا اور نہ تجھ سے بیزار ہوا

رنج اور راحت دونوں انسان کی تربیت کے لیے ہیں: یہ وہ اصل مدعا ہے جس کو مبرہن کرنے کے لیے اوپر کے آفاقی شواہد کی قسم کھائی گئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس طرح اس دنیا میں سورج کی روشنی اور حرارت بھی ضروری ہے اور رات کی تاریکی اور سکون بھی اسی طرح انسان کی روحانی اور اخلاقی تربیت کے لیے عُسر اور یُسر، نرمی اور درشتی، فقر اور غنٰی کی آزمائشیں بھی ضروری ہیں۔ انہی کے ذریعے اللہ تعالیٰ، جیسا کہ سورۂ فجر میں وضاحت فرمائی ہے، اپنے بندے کے صبر یا شکر کا امتحان کرتا ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ اس وقت اگر تم مخالفوں کی مخالفت، اعوان و انصار کی قلت اور اسباب و وسائل کی کمی سے دوچار ہو یا آسمانی و روحانی کمک کی جتنی ضرورت محسوس کر رہے ہو اتنی تمہیں نہیں پہنچ رہی ہے تو اس کے معنی ہرگز یہ نہیں ہیں کہ اب تمہارے رب نے تمہیں چھوڑ دیا ہے یا تم سے بیزار ہو گیا ہے بلکہ یہ تمہاری تربیت کے لیے تمہارا امتحان ہے تاکہ تم اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے اچھی طرح تیار ہو جاؤ۔ اس آیت کے اندر یہ سارا مضمون مضمر ہے جو اوپر کی آیات سے بھی واضح ہو رہا ہے اور آگے کی آیات اور اس کے بعد کی سورہ سے بھی، جیسا کہ آپ دیکھیں گے، واضح ہو گا لیکن بتقاضائے ایجاز مقسم علیہ کی حیثیت سے سب سے نمایاں تسلی کے مضمون کے اسی پہلو کو کیا گیا ہے جس کے آپ اس دور میں خاص طور پر محتاج تھے یعنی یہ اطمینان دلا دیا گیا کہ جن حالات سے اس وقت آپ دوچار ہیں اس کی وجہ آپ کے معاملہ سے اللہ تعالیٰ کی بے تعلقی یا ناخوشی نہیں بلکہ سنت الٰہی کے مطابق آپ کی تربیت ہے۔ یہ امر واضح رہے کہ مکی دور میں قریش کی مخالفت جب زیادہ شدت اختیار کر گئی تو اس سے آپ کو خاص پریشانی جو ہوئی وہ یہی ہوئی کہ مبادا ان لوگوں کی اس بیزاری میں آپ کی کسی کوتاہی یا بے تدبیری کو کوئی دخل ہے جو اللہ تعالیٰ کے عتاب کا سبب ہوئی جس کے باعث یہ حالات پیش آ رہے ہیں۔ آپ کا یہ احساس ظاہر ہے کہ ایک نہایت کمرشکن احساس تھا چنانچہ آگے والی سورہ میں اس کو کمر شکن بوجھ سے تعبیر فرمایا بھی گیا ہے: ’وَوَضَعْنَا عَنۡکَ وِزْرَکَ ۵ الَّذِیْ أَنۡقَضَ ظَہْرَکَ‘ (الم نشرح ۹۴: ۲-۳) وحی کے لیے شدت انتظار کی اصلی وجہ: اس پریشانی میں قدرتی طور پر آپ کو سب سے زیادہ بے چینی کے ساتھ وحی الٰہی کا انتظار ہوتا اس لیے کہ یہی واحد چیز ہے جو تاریک حالات میں روشنی بھی دکھا سکتی ہے اور اسی سے آپ کو یہ اندازہ بھی ہوتا کہ آپ فریضۂ دعوت رب کے منشا کے مطابق انجام دے رہے ہیں یا اس میں کوئی کوتاہی یا بے تدبیری ہو رہی ہے۔ لیکن وحی کا معاملہ تمام تر اللہ تعالیٰ کی حکمت پر مبنی ہے۔ ضروری نہیں کہ حضور کو انتظار اور پریشانی ہو تو وحی نازل بھی ہو جائے۔ چنانچہ ان حالات میں وحی کے وقفہ سے آپ کی پریشانی فطری طور پر دوچند ہو جاتی۔ حضور کی ان پریشانیوں کا ذکر مکی سورتوں میں جگہ جگہ ہوا ہے اور ہم ان کی پوری وضاحت کرتے آ رہے ہیں۔ تفصیل مطلوب ہو تو سورۂ طٰہٰ اور سورۂ قیامہ کی تفسیر میں متعلق مباحث پر ایک نظر ڈال لیجیے۔ اس آیت میں آپ کو جو تسلی دی گئی ہے وہ اسی طرح کے حالات میں دی گئی ہے۔ ضروری نہیں کہ کفار میں سے کسی کے اس طعنہ کے جواب میں کہ ’’اس شخص کو اس کے رب نے چھوڑ دیا۔‘‘ یہ آیت اتری ہو۔ کفار یہ مانتے کب تھے کہ اللہ تعالیٰ سے آپ کا یا آپ کی دعوت کا کوئی خاص ربط ہے اور وہ آپ پر وحی بھیجتا ہے! وہ تو آپ کو کاہن اور شاعر کہتے تھے۔ پھر یہ کہ وحی کے آنے یا نہ آنے کا تجربہ صرف حضور کو ہوتا تھا، کفار کو کیا معلوم کہ وحی کا سلسلہ قائم ہے یا بند ہے؟ جہاں تک تبلیغ و دعوت کا تعلق ہے وہ آپ نے ایک دن کے لیے بھی کبھی بند نہیں کی کہ کفار کو یہ طعنہ دینے کا موقع ملے کہ اب یہ شخص اپنے منصب پر مامور نہیں رہا یا اس کے رب نے اس کو چھوڑ دیا۔
Ayah 93:4

وَ لَلْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لَّكَ مِنَ الْاُوْلٰىؕ Open ayah 93:4 in the Quran reader

اور بعد کا دور تیرے لئے پہلے سے بہتر ہو گا

تسلی کے مضمون کی مزید وضاحت: یہاں ’اٰخِرَۃ‘ اور ’اُوْلٰی‘ کے الفاظ دنیا اور آخرت کے اصطلاحی مفہوم میں نہیں بلکہ عام مفہوم یعنی دعوت کے دور آخر اور دور اول یا اس کے حاضر و مستقبل کے مفہوم میں استعمال ہوئے ہیں۔ یہ اسی تسلی کے مضمون کی مزید وضاحت ہے کہ اس وقت جو حالات ہیں وہ بدل جائیں گے اور مستقبل ماضی و حاضر سے بہت بہتر ہو گا۔ اس مضمون کی بشارت خفی اور جلی دونوں طرح قرآن نے جگہ جگہ دی ہے اور قدیم صحیفوں میں بھی آنحضرت ﷺ سے متعلق جو پیشین گوئیاں وارد ہیں ان میں آپ کی دعوت کے آغاز کو رائی کے دانے کی تمثیل سے سمجھایا ہے جو ہوتا تو نہایت چھوٹا ہے لیکن جب اُگتا ہے تو اس کا پودا سب ترکاریوں سے بڑا ہو جاتا ہے یہاں تک کہ پرندے اس میں بسیرا لیتے ہیں۔ ایک جامع بشارت: لفظ ’خَیْرٌ‘ سے یہاں جو بشارت دی گئی ہے وہ ایک جامع بشارت ہے جس کے اندر دین کے غلبہ و تمکن، مکہ کی فتح، دشمنوں کی پامالی اور دین میں داخل ہونے والوں کی کثرت کے وہ سارے پہلو جمع ہو گئے ہیں جو سابق سورتوں میں بھی بیان ہوئے ہیں، آگے والی سورہ میں بھی ان کی طرف اشارہ ہے اور سورۂ نصر میں بھی ان کی وضاحت آئے گی۔
Ayah 93:5

وَ لَسَوْفَ یُعْطِیْكَ رَبُّكَ فَتَرْضٰىؕ Open ayah 93:5 in the Quran reader

اور تیرا خداوند تجھے عطا فرمائے گا پس تو نہال ہوجائے گا

فرمایا کہ عنقریب تمہارا رب تمہیں دے گا اور تم نہال ہو جاؤ گے۔ یہاں اگرچہ واضح نہیں فرمایا کہ کیا دے گا لیکن قرینہ دلیل ہے کہ اس سے مراد وہی خیر ہے جس کی بشارت اوپر والی آیت میں دی گئی ہے اور جو حاوی ہے ان تمام فیروز مندیوں اور کامرانیوں پر جو بعد کے ادوار میں اسلام کو حاصل ہوئیں۔ چونکہ ابھی یہ ساری باتیں پردۂ غیب میں تھیں اس وجہ سے ’یُعْطِیْکَ‘ کے مفعول ثانی کو ظاہر نہیں فرمایا لیکن اس کے بعد ’فَتَرْضٰی‘ کے لفظ نے کسی قدر اس شان دار مستقبل کی جھلک دکھا دی کہ اتنا دے گا کہ بس تم نہال ہو جاؤ گے!۔۔۔ اس ایک ہی لفظ کے اندر وہ سب کچھ موجود ہے جو ایک دفتر میں بھی نہیں سما سکتا۔
Ayah 93:6

اَلَمْ یَجِدْكَ یَتِیْمًا فَاٰوٰى۪ Open ayah 93:6 in the Quran reader

کیا اس نے تجھے یتیم پایا تو ٹھکانا نہ دیا !

حضور کی زندگی کے بعض سبق آموز حالات کی طرف اشارہ: یہ اسی بات کو جو اوپر آیت ۴ میں ارشاد ہوئی کہ تمہارا مستقبل ماضی سے بہتر ہو گا، مؤکد کرنے کے لیے خود حضور ہی کی زندگی کے بعض سبق آموز حالات کی طرف توجہ دلائی کہ غور کرو تو تمہیں اپنی ہی زندگی اس حقیقت کی نہایت عمدہ تفسیر نظر آئے گی۔ سب سے پہلے آپ کی یتیمی کا حوالہ دیا۔ یتیمی اول تو خود ہی ایک بہت بڑی مصیبت ہے لیکن معاشرہ اگر اس حد تک بگڑا ہوا ہو جس کی تصویر پچھلی سورتوں میں کھینچی گئی ہے تو اس میں یتیم کے لیے کوئی جگہ نہیں ہوتی۔ چنانچہ فرمایا ہے: ’کَلَّا بَل لَّا تُکْرِمُوۡنَ الْیَتِیْمَ‘ (الفجر ۸۹: ۱۷) (ہرگز نہیں، بلکہ تم یتیم کی کوئی عزت نہیں کرتے) اسی طرح حضور ہی کے خاندان کے بعض افراد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ’فَذٰلِکَ الَّذِیْ یَدُعُّ الْیَتِیْمَ‘ (الماعون ۱۰۷: ۲) (وہی ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے)۔ لیکن حضورؐ کے حال پر اللہ تعالیٰ کا یہ خاص فضل ہوا کہ باوجودیکہ آپ کے والد ماجد نے کوئی قابل ذکر ترکہ نہیں چھوڑا لیکن آپ کے دادا اور ان کے بعد آپ کے چچا نے آپ کی پرورش کی اور نہایت عزت اور شفقت کے ساتھ پرورش کی۔ عام حالات میں دادا کے دل میں یتیم پوتے کے لیے شفقت اور چچا کے دل میں یتیم بھتیجے کے لیے عزت و محبت کا پایا جانا کوئی نادر بات نہیں بلکہ انسانی فطرت کا ایک بدیہی تقاضا ہے لیکن ایک فاسد معاشرہ میں، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، یہ ایک نادر الوجود بات ہے اور یہ بغیر اس کے ممکن نہیں کہ اللہ تعالیٰ کسی یتیم پر اپنے جمال محبت کا وہ پرتو ڈال دے جو اس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر ڈال دیا کہ ان کی پرورش ان کے سب سے بڑے دشمن فرعون نے اپنے محل میں کی۔
Ayah 93:7

وَ وَجَدَكَ ضَآلًّا فَهَدٰى۪ Open ayah 93:7 in the Quran reader

جویائے راہ پایا تو راہ نہ دکھائی !

’وَوَجَدَکَ ضَآلّاً فَہَدٰی‘۔ یہ اس روحانی انعام کا بیان ہے جو آپ پر بعد کے دور میں ہوا۔ ایک جویائے راہ کی سرگردانیاں اور خدا کی دست گیری: معلوم ہے آپ کو جو رسوم و روایات خاندان کے بزرگوں سے وراثت میں ملیں ان پر آپ کی سلیم فطرت ایک لمحہ کے لیے بھی مطمئن نہ ہو سکی اور دوسری کوئی ایسی روشنی تھی نہیں جو آپ کے لیے سرمایۂ تسکین بن سکتی۔ آسمانی مذاہب کے پیرو جو آپ کے گرد و پیش تھے ان کا حال البقرہ، آل عمران اور دوسری مدنی سورتوں سے واضح ہو چکا ہے کہ ان کے عقائد و اعمال اس قدر مسخ ہو چکے تھے کہ کوئی جویائے حقیقت ان سے کوئی رہنمائی حاصل نہیں کر سکتا تھا۔ اس صورت حال نے آپ کو ایک شدید قسم کی ذہنی کشمکش میں ڈال دیا تھا۔ آپ کی اسی کشمکش کو یہاں ’وَوَجَدَکَ ضَآلّاً‘ کے الفاظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ ’ضَآلّ‘ یہاں گمراہ کے معنی میں نہیں بلکہ جویائے راہ کے معنی میں ہے۔ حضرات انبیاء علیہم السلام بعثت سے پہلے بھی فطرت سلیم پر ہوتے ہیں۔ وہ زندگی کے ابتدائی دور میں بھی فطرت کی بدیہیات سے کبھی منحرف نہیں ہوتے لیکن فطرت صرف عقائد و اعمال کی موٹی موٹی باتوں ہی میں رہنمائی کر سکتی ہے۔ تمام عقائد اور ان کے سارے تضمنات و لوازم کی نہ وہ تشریح کر سکتی اور نہ تمام اعمال و اخلاق کی صحیح صحیح حد بندی اس کے بس میں ہے اس وجہ سے فطرت پر ہونے کے باوجود ایک شخص یہ جاننے کا محتاج ہی رہتا ہے کہ جس خدا کے وجود پر اس کا دل گواہی دے رہا ہے اس کی صفات اور ان صفات کے تقاضے اور مطالبے کیا ہیں؟ اس کے کیا حقوق بندے پر عائد ہوتے اور وہ کس طرح ادا کرنے ہیں؟ زندگی کی ایسی ضابطہ بندی کس طرح کی جائے کہ وہ پوری کی پوری، اپنے بعید ترین گوشوں میں بھی، خالق کی پسند کے مطابق ہو جائے؟ جب تک یہ سوالات حل نہ ہوں اس وقت تک نہ انسان کو حقیقی اطمینان حاصل ہو سکتا اور نہ رب کے ساتھ اس کا تعلق ہی استوار ہو سکتا۔ یہی سوالات ہیں جو پوری شدت کے ساتھ نبی ﷺ کے دل پر زندگی کے اس دور میں مستولی تھے جس کی طرف ’وَوَجَدَکَ ضَآلّاً‘ کے الفاظ اشارہ کر رہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ حالت نہ ضلالت کی ہے اور نہ اس کو ہدایت سے تعبیر کر سکتے بلکہ صحیح الفاظ میں یہ جستجوئے راہ کی سرگردانی ہے۔ گویا ایک شخص چوراہے پر کھڑا ہو اور فیصلہ نہ کر پا رہا ہو کہ کس سمت میں قدم بڑھائے۔ بعثت سے پہلے غار حراء کی تنہائیوں میں آپ انہی گتھیوں کو سلجھانے میں گم رہے۔ بعثت سے پہلے دین حنیفی کے پیروؤں کا حال: بعثت سے پہلے عرب میں دین حنیفی کے پیروؤں کا حال کتابوں میں اس طرح بیان ہوا ہے کہ ان میں سے بعض افراد ایسی شدید الجھن میں مبتلا تھے کہ وہ بیت اللہ سے ٹیک لگا کر حرم میں بیٹھ جاتے اور نہایت حسرت کے ساتھ کہتے کہ ’’اے رب! ہم نہیں جانتے کہ تیری عبادت کس طرح کریں ورنہ اسی طرح کرتے۔‘‘ یہی حال اس وقت تک نبی ﷺ کا بھی رہا ہو گا جب تک آپ ایمان کی حقیقت اور کتاب سے روشناس نہیں ہوئے۔ چنانچہ قرآن میں اسی حالت کی طرف یوں اشارہ فرمایا ہے: ’وَکَذٰلِکَ أَوْحَیْنَا إِلَیْکَ رُوۡحًا مِّنْ أَمْرِنَا مَا کُنۡتَ تَدْرِیْ مَا الْکِتَابُ وَلَا الْإِیْمَانُ وَلٰکِنۡ جَعَلْنٰہُ نُوۡرًا نَّہْدِیْ بِہٖ مَنْ نَّشَآءُ مِنْ عِبَادِنَا‘ (الشوریٰ ۴۲: ۵۲) (اور اسی طرح ہم نے تمہاری طرف ایک روح وحی کی جو ہمارے امر میں سے ہے، نہ تم کتاب سے آشنا تھے اور نہ ایمان سے لیکن ہم نے اس وحی کو روشنی بنایا جس سے ہم اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتے ہیں راہ دکھاتے ہیں)۔ اسی حالت کو سورۂ یوسف میں ’غفلت‘ کے لفظ سے تعبیر فرمایا ہے: ’وَإِنۡ کُنۡتَ مِنۡ قَبْلِہٖ لَمِنَ الْغَافِلِیْنَ‘ (یوسف ۱۲: ۳) (اور بے شک اس سے پہلے تم اس سے بے خبروں میں سے تھے)۔
Ayah 93:8

وَ وَجَدَكَ عَآئِلًا فَاَغْنٰىؕ Open ayah 93:8 in the Quran reader

اور محتاج پایا تو غنی نہیں کیا !

حقیقی غنا کا سرچشمہ ایمان اور معرفت الٰہی ہے: ’وَوَجَدَکَ عَائِلاً فَأَغْنٰی‘۔ فرمایا کہ ہم نے تمہیں محتاج پایا تو غنی کر دیا۔ غنا اور فقر کا جتنا تعلق مادی اسباب و وسائل سے ہے اس سے زیادہ قلب کے احوال سے ہے۔ آدمی کا سینہ ایمان سے خالی ہو تو وہ محتاج ہے اگرچہ اس کے پاس قارون کا خزانہ ہو اور اگر ایمان سے اس کا سینہ معمور ہے تو وہ غنی ہے اگرچہ وہ حضرت یحییٰ کی طرح کمل کی پوشاک پہنتا اور جنگلی شہد اور ٹڈیوں پر گزارہ کرتا ہو۔ یہی حکمت یوں سمجھائی گئی ہے کہ ’الغنی غنی القلب‘ (حقیقی غنا دل کا غنا ہے) یہ حقیقی غنا ایمان، اللہ کی معرفت اور اس کی کتاب کے نور سے پیدا ہوتا ہے جس کو یہ دولت حاصل نہیں ہوئی وہ دنیا کی حرص سے کبھی پاک نہیں ہو سکتا اور جو حریص ہے اس کا کاسۂ گدائی کبھی نہیں بھرتا۔ کاسۂ چشم حریصاں پُر نہ شد یہ دنیا عالم اسباب ہے اس وجہ سے اس میں انسان اسباب کا محتاج ہے۔ اگر سید عالم صلی اللہ علی وسلم کو سیدہ خدیجہ کے مال سے کچھ فائدہ پہنچا تو یہ حضرت خدیجہ اور ان کے مال کی ایسی خوش بختی ہے جو اس زمین پر کسی مال اور کسی صاحب مال کو مشکل ہی سے حاصل ہوئی ہو گی لیکن وہ غنا جس کا یہاں ذکر ہے مجرد مال سے، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، نہیں حاصل ہوتا بلکہ یہ اصلاً اس ہدایت کا ثمرہ ہے جس کا ذکر اوپر والی آیت میں ہے اور جس کی صحیح تعبیر وہ ’’شرح صدر‘‘ ہے جس کی تفصیل بعد کی سورہ۔۔۔ اَلَم نَشْرَحْ۔۔۔ میں، جو اس کی توام ہے، آئے گی۔ جن لوگوں نے اس غنا کو تمام تر حضرت خدیجہ کے مال کا نتیجہ قرار دیا ہے ان کی نظر صرف ظاہر پر ٹک گئی حالانکہ اصل حقیقت اس سے ماورا ہے جو دیکھی نہیں جا سکتی بلکہ صرف سمجھی جا سکتی ہے۔ یہاں اشارات پر قناعت فرمائیے۔ آگے آخری آیت کے تحت بھی اور سورہ ’اَلَم نَشْرَحْ‘ میں بھی اس کے بعض مخفی پہلو ان شاء اللہ زیربحث آئیں گے۔
Ayah 93:9

فَاَمَّا الْیَتِیْمَ فَلَا تَقْهَرْؕ Open ayah 93:9 in the Quran reader

تو جو یتیم ہے اس کو مت دبائیو

انعامات کا حق: قریش کے زور آوروں کو تنبیہ: یہ ان انعامات کا، جو اوپر مذکور ہوئے، حق بیان ہوا ہے اور انداز بیان ایسا ہے جس میں ان لوگوں پر نہایت لطیف تعریض بھی ہے جن کا حال پچھلی سورتوں میں بیان ہوا ہے کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے جو نعمتیں عطا فرمائیں ان کو اس کا انعام سمجھنے اور اس کے شکرگزار ہونے کی بجائے وہ اس گھمنڈ میں مبتلا ہو گئے کہ یہ جو کچھ ان کو ملا ہے یہ اسی کے حق دار ہیں۔ فرمایا کہ تم یہ روش نہ اختیار کرنا بلکہ تمہاری یتیمی کی حالت میں تمہارے رب نے جس طرح تم کو پناہ دی اسی طرح تم یتیموں کو پناہ دینا، ان پر شفقت اور کرم کی نظر رکھنا اور ان کے حقوق کی حفاظت کرنا۔ آیت ’وَتَأْکُلُوۡنَ التُّرَاثَ أَکْلاً لَّمًّا‘ (الفجر ۸۹: ۱۹) کے تحت ہم واضح کر چکے ہیں؂۱ کہ جاہلی معاشرہ میں زور آور عصبات اور اقربا کمزور وارثوں اور یتیموں کے حقوق دبا بیٹھتے اور ساری وراثت تنہا سمیٹ لیتے۔ ’فَلَا تَقْہَرْ‘ کے الفاظ میں اسی صورت حال کی طرف اشارہ ہے۔ ’فَلَا تَقْہَرْ‘ کے معنی یہ ہیں کہ یتیم کو کمزور پا کر اس کو دبانے اور اس کے حقوق غصب کرنے کی کوشش نہ کرنا۔ آنحضرت ﷺ کو یہ تنبیہ ظاہر ہے کہ اس بنا پر نہیں کی گئی کہ آپ سے اس قسم کے کسی جرم کے صدور کا امکان تھا بلکہ یہ بالواسطہ قریش کے ان زور آوروں کو تنبیہ ہے جن کو پچھلی سورتوں میں ان کے اسی قسم کے غصب حقوق پر سرزنش فرمائی گئی ہے لیکن وہ اپنے رویے کی اصلاح کے بجائے رسول کی مخالفت کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے اس سورہ میں ان کو نظر انداز کر کے رسول کو ہدایت فرما دی کہ دوسرے جو رویہ بھی اختیار کریں ان کو ان کے حال پر چھوڑو، تمہیں بہرحال یتیموں کے حقوق کی حفاظت کرنی ہے۔ _____ ؂۱ ملاحظہ ہو تدبر قرآن۔ جلد ہشتم، صفحہ: ۳۵۹۔
Ayah 93:10

وَ اَمَّا السَّآئِلَ فَلَا تَنْهَرْؕ Open ayah 93:10 in the Quran reader

اور جو سائل ہو اس کو نہ جھڑکیو ،

دوسرے انعام کا حق: ’وَأَمَّا السَّائِلَ فَلَا تَنْھَرْ‘۔ یہ اس انعام کا حق بیان ہوا ہے جو اوپر ’وَوَجَدَکَ ضَالّاً فَہَدٰی‘ کے الفاظ میں بیان ہوا ہے۔ لفظ ’سائل‘ یہاں محدود معنی میں نہیں بلکہ وسیع معنی میں استعمال ہوا ہے۔ خواہ سائل اپنے پیٹ اور تن کی کسی ضرورت کے تحت سوال کرے یا اپنی کسی ذہنی و عقلی الجھن سے متعلق سوال کرے یا اپنے دین سے متعلق سوال کرے، غرض جس طرح کی بھی مدد و رہنمائی کا طالب ہو حتی الامکان اس کی مدد و رہنمائی کی جائے اور اگر اس کا موقع نہ ہو تو خوبصورتی کے ساتھ اس کے سامنے معذرت پیش کر دی جائے، اس کو جھڑکا اور ڈانٹا نہ جائے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ بات یاد رکھنا کہ ایک دور تم پر بھی ایسا گزرا ہے جب تم سراپا سوال تھے اور ان سوالوں نے تمہاری زندگی ضیق میں ڈال رکھی تھی بالآخر تمہارے رب نے تمہاری ہر خلش دور فرمائی اور تمہارے ہر سوال کا جواب دیا۔ اس کا حق یہ ہے کہ تم بھی سائلوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا، ان لوگوں کی روش نہ اختیار کرنا جن کا حال یہ ہے کہ خدا نے ان کو دے رکھا ہے تو مسکینوں اور سائلوں سے ترش روئی سے پیش آتے ہیں اور اگر ابھی کسی گردش میں خدا ان کو پکڑ لے تو کہیں گے کہ خدا نے مجھے ذلیل کر دیا، اس وقت ان کو یہ بات یاد نہیں آتی کہ انھوں نے خدا کے بندوں کو کس طرح ذلیل کیا ہے۔
Ayah 93:11

وَ اَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ۠ Open ayah 93:11 in the Quran reader

اور اپنے پروردگار کی نعمت کا بیان کیجیو

لوگوں کو اللہ کی حکمت سے بہرہ مند کرو: ’وَأَمَّا بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِّثْ‘۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس فضل و انعام کا حق بیان ہوا ہے جو اوپر ’وَوَجَدَکَ عَائِلاً فَأَغْنٰی‘ کے الفاظ میں بیان ہوا ہے۔ ہم اس کی وضاحت کرتے ہوئے اشارہ کر چکے ہیں کہ اس سے صرف وہ غنا مراد نہیں ہے جو حضور کو حضرت خدیجہ کے مال سے حاصل ہوا بلکہ اصلاً اس سے دین کی وہ حکمت اور شریعت کی وہ دولت مراد ہے جس کی شان قرآن میں یہ بیان ہوئی ہے کہ ’وَمَنْ یُؤْتَ الْحِکْمَۃَ فَقَدْ أُوۡتِیَ خَیْرًا کَثِیْرًا‘ (البقرہ ۲: ۲۶۹) (اور جس کو حکمت عطا ہوئی اس کو خیر کثیر کا خزانہ بخشا گیا)۔ یہاں لفظ ’فَحَدِّثْ‘ خاص طور پر نگاہ میں رکھیے۔ یہ مال کی نعمت کے لیے نہیں بلکہ حکمت کی نعمت ہی کے لیے موزوں ہے۔ فرمایا کہ جس حکمت کے خزانے سے تمہارے رب نے تم کو بہرہ ور کیا ہے اس کی تحدیث کرو یعنی جس طرح تمہارے رب نے تمہیں مفت بخشا ہے تم بھی اس کو مفت بانٹو، فیاضانہ بانٹو، ہر آنے جانے والے کے سامنے اس کا چرچا کرو اور ہر بزم و انجمن کو اس کے ذکر سے معمور کر دو۔