Ayahs 92:1–2ہر چیز کے جوڑے جوڑے ہونے سے قیامت پر استدلال:
یہ رات اور دن، نر اور مادہ کی قسم کھائی گئی ہے۔ اس طرح کی قَسمیں جو قرآن میں آئی ہیں ان کی ہم جگہ جگہ وضاحت کرتے آ رہے ہیں کہ یہ کسی دعوے پر شہادت کے لیے آئی ہیں۔ رات اور دن، نر اور مادہ میں نسبت زوجین کی ہے اور یہ دونوں مل کر اس مقصد کو پورا کرتے ہیں جس کے لیے خالق نے ان کو پیدا کیا ہے۔ ان میں سے ہر ایک کے اندر خلا ہے جو جوڑے کے ساتھ مل کر ہی پورا ہوتا ہے۔ اس کے بغیر ان کے وجود کی نہ کوئی افادیت باقی رہتی اور نہ ان کی صلاحیتوں کی کوئی توجیہ ہو سکتی۔ قرآن نے ان اضداد کے اندر توافق کے پہلو سے توحید پر بھی دلیل پیش کی ہے جس کی وضاحت اس کے محل میں ہو چکی ہے اور قیامت پر بھی شہادت پیش کی ہے جو یہاں مقصود ہے۔ مثلاً سورۂ ذاریات میں فرمایا ہے:
’وَمِنْ کُلِّ شَیْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَیْنِ لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوْنَ‘ (الذاریات ۵۱: ۴۹)
(اور ہم نے ہر چیز میں سے جوڑے جوڑے پیدا کیے تاکہ تم یاددہانی حاصل کرو)۔
یعنی اس بات کی یاددہانی حاصل کرو کہ اس دنیا کا بھی جوڑا ہے اور یہ اپنی غایت کو اپنے جوڑے کے ساتھ مل کر پہنچے گی۔ اس نکتہ کی وضاحت سورۂ ذاریات کی مذکورہ آیت کے تحت ہو چکی ہے اور اس کتاب کے دوسرے مقامات میں بھی اس پر مفصل بحث ہوئی ہے۔ آگے مقسم علیہ کی وضاحت کرتے ہوئے بھی ہم اس پر روشنی ڈالیں گے۔
Ayah 92:3’وَمَا خَلَقَ الذَّکَرَ وَالْأُنۡثٰٓی‘ میں ’مَا‘ ہمارے نزدیک مصدریہ ہے۔ سابق سورہ کی آیت ’وَالسَّمَآءِ وَمَا بَنَاہَا‘ (اشمس ۹۱: ۵) کے تحت ہم اس پر بحث کر چکے ہیں، یہاں اس کے دہرانے میں طوالت ہو گی۔
Ayah 92:4نیک اور بد دونوں کی کمائی یکساں نہیں ہو گی:
یہ وہ اصل دعویٰ ہے جو اوپر کی شہادتوں سے ثابت کیا گیا ہے۔ یعنی کائنات میں ہر چیز کا جوڑا جوڑا ہونا اور اپنے جوڑے ہی کے ذریعہ سے ہر چیز کا اپنی غایت اور مقصد کو پہنچنا چاہتا ہے کہ اس دنیا کا بھی جوڑا ہے اور وہ ہے آخرت جو لازماً ظہور میں آئے گی تاکہ یہ دنیا اپنی غایت اور اپنے مقصود کو پہنچے ورنہ یہ بالکل عبث اور بے غایت بن کے رہ جائے گی۔ اگر آخرت نہیں ہے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ خالق کے نزدیک نیکی کرنے والے اور بدی کرنے والے دونوں یکساں ہیں۔ ایک حکیم خالق کی شان کے یہ بالکل خلاف ہے کہ وہ نیک اور بد دونوں کی جدوجہد اور کمائی کو یکساں کر دے۔
لفظ ’سعی‘ جدوجہد کے معنی میں بھی آتا ہے اور نتیجۂ جدوجہد یعنی کمائی کے معنی میں بھی۔ یہاں اسی دوسرے معنی میں ہے۔ قرآن میں اس معنی کی نظیر موجود ہے۔ مثلاً فرمایا ہے:
’وَأَنْ لَّیْْسَ لِلْإِنۡسَانِ إِلَّا مَا سَعٰی ۵ وَأَنَّ سَعْیَہُ سَوْفَ یُرٰی‘ (النجم ۵۳: ۳۹-۴۰)
(اور یہ کہ انسان کو نہیں ملے گی مگر اپنی کمائی اور بے شک اس کی کمائی عنقریب ملاحظہ میں آئے گی)۔
قیامت کا اثبات اس کی ضرورت کے پہلو سے: ’شَتّٰی‘ جمع ہے ’شَتِیْتٌ‘ کی جس کے معنی متفرق اور الگ کے ہیں یعنی عقل اور فطرت کا بدیہی تقاضا ہے کہ نیکوں اور بدوں دونوں کی سعی کا نتیجہ ایک ہی شکل میں نہ برآمد ہو بلکہ ان کی جدوجہد کے اعتبار سے الگ الگ ہو۔ جنھوں نے نیکی کمائی ہو وہ اس کا صلہ فضل و انعام کی شکل میں پائیں اورجنھوں نے بدی کمائی ہو وہ اس کے انجام سے دوچار ہوں۔ گویا قیامت کا دعویٰ یہاں اس کی اصل ضرورت کے پہلو سے سامنے رکھا ہے کہ اس کا آنا اس وجہ سے ضروری ہے کہ قیامت اور جزا و سزا کے بغیر یہ دنیا ایک اندھیر نگری اور ایک کھلنڈرے کا کھیل بن کے رہ جاتی ہے چنانچہ قیامت کو نہ ماننے والوں سے اللہ تعالیٰ نے یہ سوال کیا ہے کہ
’أَفَحَسِبْتُمْ أَنَّمَا خَلَقْنَاکُمْ عَبَثًا وَأَنَّکُمْ إِلَیْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ‘ (المومنون ۲۳: ۱۱۵)
(کیا تم نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ ہم نے تم کو بالکل عبث پیدا کیا ہے، تم ہماری طرف لوٹائے نہیں جاؤ گے!)
یہی سوال منکرین قیامت ہی سے، دوسرے مقام میں بانداز تعجب، یوں کیا گیا ہے:
’أَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِیْنَ کَالْمُجْرِمِیْنَ ۵ مَا لَکُمْ کَیْْفَ تَحْکُمُونَ‘ (القلم ۶۸: ۳۵-۳۶)
(کیا ہم فرماں برداروں کو مجرموں کے مانند کر دیں گے؟ تمہیں کیا ہو گیا ہے، تم کیسے فیصلے کرتے ہو!)
Ayah 92:5اس فرق کی تفصیل جو نیکوں اور بدوں کی کمائی میں ہو گا:
یہ تفصیل ہے اس فرق و اختلاف کی جو لازماً نیکوں اور بدوں کی کمائی میں رونما ہو گا اور جس کو رونما ہونا چاہیے بھی۔ فرمایا کہ جو اللہ کی راہ میں خرچ کرے گا، اپنے رب سے ڈرے گا، اچھے انجام کو سچ مانے گا اس کو تو ہم آسان راہ چلائیں اور آسانی کی منزل تک پہنچائیں گے۔
’اَعْطٰی‘ کے بعد ’وَاتَّقٰی‘ کے ذکر سے مقصود اس حقیقت کا اظہار ہے کہ اس انفاق سے مقصود ریاء و نمائش یا کوئی اور دنیوی چیز نہ ہو بلکہ صرف اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کی تمنا اور ایک ایسے دن کا خوف ہو جس دن نیک عمل کے سوا کوئی چیز کام آنے والی نہیں بنے گی۔ اس کی وضاحت سورۂ دہر میں یوں ہوئی ہے:
یُوْفُوْنَ بِالنَّذْرِ وَیَخَافُوْنَ یَوْمًا کَانَ شَرُّہُ مُسْتَطِیْرًا ۵ وَیُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰی حُبِّہِ مِسْکِیْنًا وَیَتِیْمًا وَأَسِیْرًا ۵ إِنَّمَا نُطْعِمُکُمْ لِوَجْہِ اللہِ لَا نُرِیْدُ مِنۡکُمْ جَزَآءً وَلَا شُکُوْرًا ۵ إِنَّا نَخَافُ مِنۡ رَّبِّنَا یَوْمًا عَبُوْسًا قَمْطَرِیْرًا (الدہر ۷۶: ۷-۱۰)
’’وہ اپنی نذر پوری کرتے ہیں اور ایک ایسے دن سے ڈرتے ہیں جس کی آفت ہمہ گیر ہو گی۔ وہ ضروت مند ہونے کے باوجود، مسکین، یتیم اور قیدی کو کھلاتے ہیں۔ اس نعمت کے ساتھ کہ ہم تم کو صرف اللہ کی خوشنودی کی خاطرکھلاتے ہیں، نہ کہ تم سے کسی بدلے کے طالب ہیں، نہ کسی شکریہ کے۔ ہم اپنے رب کی طرف سے ایک سخت اکل کھرے دن کے ظہور سے ڈرتے ہیں۔‘‘
Ayah 92:6’وَصَدَّقَ بِالْحُسْنٰی‘۔ ’حُسْنٰی‘ کا موصوف لفظ ’عاقبۃ‘ یا اس کے ہم معنی کوئی لفظ محذوف ہے یعنی وہ انفاق اور نیکی کے اچھے انجام پر ایمان رکھتے ہیں۔ یہ ان کی نیکی کے اصل محرک کا پتہ دیا ہے کہ آخرت کے خوف کے ساتھ ان کے اندر یہ ایمان بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کی ہر نیکی کا بھرپور صلہ ہے۔
جس شخص کے اندر نہ آخرت کا خوف ہو نہ وہ یہ ایمان رکھتا ہو کہ آخرت میں اس کی رائی کے برابر کی نیکی کا بھی صلہ ملنے والا ہے، وہ اول تو کچھ خرچ کرنے کا حوصلہ کر سکتا ہی نہیں اور کرے گا بھی تو لازماً اپنے کسی دنیوی مفاد کو سامنے رکھ کر کرے گا۔ یہ انفاق اللہ تعالیٰ کے نزدیک بالکل بے برکت ہے۔ سورۂ ماعون میں فرمایا ہے:
’اَرَءَیْتَ الَّذِیْ یُکَذِّبُ بِالدِّیْنِ ۵ فَذٰلِکَ الَّذِیْ یَدُعُّ الْیَتِیْمَ ۵ وَلَا یَحُضُّ عَلٰی طَعَامِ الْمِسْکِیْنِ‘ (الماعون ۱۰۷: ۱-۳)
(تم نے دیکھا روز جزا کے جھٹلانے والے کو! یہی ہے جو یتیموں کو دھکے دیتا اور مسکینوں کو کھلانے پر نہیں ابھارتا)۔
Ayah 92:7’فَسَنُیَسِّرُہُ لِلْیُسْرٰی‘۔ ’یُسْرٰی‘ کا موصوف بھی ’حُسْنٰی‘ کے موصوف کی طرح محذوف ہے۔ یعنی ’العاقبۃ الْیُسْرٰی‘ یہ اس سنت الٰہی کا حوالہ ہے جو قرآن میں جگہ جگہ بیان ہوئی ہے کہ جو شخص نیکی کی راہ اختیار کر لیتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے اس راہ کی مشکلات آسان کرتا اور اس کو کامیابی کی منزل تک پہنچنے کی توفیق بخشتا ہے۔ چنانچہ فرمایا ہے:
’وَالَّذِیْنَ جَاہَدُوۡا فِیْنَا لَنَہْدِیَنَّہُمْ سُبُلَنَا‘ (العنکبوت ۲۹: ۶۹)
(جو لوگ ہماری راہ میں جدوجہد کریں گے ہم ان کو اپنے راستوں کی ہدایت بخشیں گے)۔
یہاں اس کی منزل کو ’یُسْرٰی‘ سے اس لیے تعبیر فرمایا ہے کہ اس کا حساب آسان ہوگا، چنانچہ فرمایا ہے:
’فَأَمَّا مَنْ أُوتِیَ کِتَابَہٗ بِیَمِیْنِہٖ ۵ فَسَوْفَ یُحَاسَبُ حِسَابًا یَسِیْرًا‘ (الانشقاق ۷۴: ۷-۸)
(رہا وہ جس کا اعمال نامہ اس کے دہنے ہاتھ میں پکڑایا جائے گا تو اس کا حساب نہایت آسان ہو گا)۔
Ayahs 92:8–10مقابل گروہ کے انجام کا بیان:
یہ مقابل گروہ یعنی ان لوگوں کا بیان ہے جو اسی دنیا کی زندگی کو کل زندگی سمجھتے ہیں۔ جو اپنے مال پر مارگنج بن کر بیٹھے اور آخرت سے بالکل نچنت ہیں، جو نہ کسی جزا و انعام کے قائل اور نہ اس کے لیے کوئی بازی کھیلنے کا حوصلہ رکھتے۔ فرمایا کہ ان کا حشر مذکورہ بالا گروہ سے بالکل مختلف ہو گا۔ ان کو اللہ تعالیٰ اس راہ پر چلنے کے لیے ڈھیل دے دے گا جو ان کو نہایت کٹھن منزل پر لے جا چھوڑے گی۔ یہاں بھی’عُسْرٰی‘ کا موصوف محذوف ہے اور ’تیسیر‘ امہال یعنی ڈھیل دینے کے مفہوم میں ہے۔
قرآن میں یہ سنت الٰہی جگہ جگہ بیان ہوئی ہے کہ جو لوگ نیکی کی راہ اختیار کرنے کا حوصلہ نہیں کرتے اللہ تعالیٰ ان کی باگ ان کے نفس کے حوالے کر دیتا ہے۔ ان کو اپنے نفس سے کوئی مزاحمت نہیں کرنی پڑتی اس وجہ سے وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی راہ نہایت ہموار ہے۔ نفس کی پیروی کرتے ہوئے وہ خوش خوش زندگی کی آخری منزل تک پہنچ جاتے ہیں۔ اس کے بعد ان کو اس مرحلہ سے سابقہ پیش آنا ہے جس کو قرآن نے
’سَأُرْہِقُہُ صَعُوۡدًا‘ (المدثر ۷۴: ۱۷)
(میں اس کو چڑھاؤں گا ایک کٹھن چڑھائی)
سے تعبیر کیا ہے۔ یہاں اسی مرحلے کی طرف اشارہ ہے۔
اس کے بالکل برعکس ان لوگوں کی زندگی ہوتی ہے جو ایمان اور عمل صالح کی راہ پر چلنے کا حوصلہ کر لیتے ہیں۔ ان کو قدم قدم پر اپنے نفس کی خواہشوں سے لڑائی کرنی پڑتی ہے اور اس لڑائی ہی سے ان کو بالتدریج وہ قوت حاصل ہوتی ہے جو راہ کے عقبات عبور کرنے میں ان کو مدد دیتی ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کی عنایت سے ان کے سامنے
’فَادْخُلِیْ فِیْ عِبَادِیْ ۵ وَادْخُلِیْ جَنَّتِیْ‘ (الفجر ۸۹: ۲۹-۳۰)
(شامل ہو جاؤ میرے بندوں میں اور داخل ہو جاؤ میری جنت میں۔)
کی آخری منزل آ جاتی ہے۔
Ayah 92:11بخیلوں کو تنبیہ:
یہ ’مَا‘ نافیہ بھی ہو سکتا ہے اور سوالیہ بھی۔ دونوں صورتوں میں کچھ زیادہ فرق نہیں ہو گا لیکن سوالیہ میں زیادہ زور ہے اس وجہ سے میں نے اسی مفہوم کو لیا ہے۔ یہ بانداز سوال ان لوگوں کو تنبیہ اور ملامت ہے جو مال رکھتے ہوئے خدا کی راہ میں خرچ کرنے سے جی چراتے ہیں۔ فرمایا کہ ایسے شخص کو اس کا مال اس وقت کیا نفع پہنچائے گا جب وہ جہنم کے کھڈ میں گر جائے گا!۔۔۔ مطلب یہ ہوا کہ مال کا اگر کوئی مستقل فائدہ ہے تو یہ ہے کہ آدمی خدا کی راہ میں خرچ کر کے اس کو اپنی ابدی زندگی کے لیے محفوظ کر لے۔ اگر ایسا نہ کیا تو یہ مال اس کے لیے نہ صرف یہ کہ کچھ نافع نہ ہوا بلکہ ہمیشہ کے لیے موجب وبال بنا۔
Ayah 92:12یہ وہی تنبیہ نسبۃً زوردار لفظوں میں ہے کہ ہمارا کلام لوگوں کو راہ دکھانا ہے سو یہ کام ہم نے اپنا رسول بھیج کر اور اپنی کتاب نازل کر کے کر دیا۔ یہ ذمہ داری ہماری نہیں ہے کہ ہم لوگوں کو اس راہ پر چلا بھی دیں۔ یہ لوگوں کی اپنی ذمہ داری ہے کہ وہ یہ راہ اختیار کریں۔ جو یہ راہ اختیار کریں گے وہ فلاح پائیں گے، جو گریز کریں گے وہ اس کا انجام دیکھیں گے۔
Ayah 92:13’وَإِنَّ لَنَا لَلْآخِرَۃَ وَالْأُوۡلٰی‘۔ یہ مذکورہ بالا تنبیہ پر مزید اضافہ ہے کہ لوگ یہ بات بھی اچھی طرح یاد رکھیں کہ آخرت ہو یا دنیا دونوں کے معاملات ہمارے ہی اختیار میں ہیں۔ نہ کوئی اپنی تدبیر اور اپنے زور سے اس دنیا میں کچھ بنا سکتا اور نہ آخرت میں کچھ بنا سکے گا۔ اگر کسی کو اپنے خاندانی شرف یا اپنے خیالی معبودوں پر ناز ہے تو وہ یاد رکھے کہ آخرت میں اس طرح کی مزعومہ چیزوں کا کوئی وجود نہیں ہو گا۔ ہر شخص کو صرف اللہ وحدہٗ لاشریک سے سابقہ پیش آئے گا۔ سورۂ نجم آیت ۲۵ میں یہ مضمون گزر چکا ہے۔
مال دار بخیلوں کے ذہن کا خناس: اوپر آیت ۸ میں ’وَأَمَّا مَنۡ بَخِلَ وَاسْتَغْنٰی‘ کے الفاظ جو آئے ہیں یہاں ان پر دوبارہ ایک نظر ڈال لیجیے۔ مال دار بخیلوں کے ذہن میں یہ خناس سمایا ہوا ہوتا ہے کہ ان کے پاس جو کچھ ہے ان کی اپنی تدبیر اور اپنے تدبر کا ثمرہ ہے اس وجہ سے وہ اپنے کو خدا سے بالکل بے نیاز سمجھ بیٹھتے ہیں۔ قارون کو جب یاددہانی کی گئی کہ وہ خدا کے بخشے ہوئے مال میں خدا کے حق کو پہچانے تو اس نے جواب دیا کہ
’إِنَّمَا أُوتِیْتُہُ عَلَی عِلْمٍ عِندِیْ‘ (القصص ۲۸: ۷۸)
(یہ تو مجھے اپنے علم کی بدولت ملا ہے)
یعنی میں نے اس کو اپنی قابلیت و ذہانت سے حاصل کیا ہے، خدا سے اس کو کیا تعلق کہ اس میں اس کا بھی کوئی حصہ ہو! یہی ذہنیت کم و بیش ہر سرمایہ دار کی ہوتی ہے۔ قرآن نے ’وَإِنَّ لَنَا لَلْآخِرَۃَ وَالْأُوۡلٰی‘ کے الفاظ سے اس شیطانی تصور پر ضرب لگا دی ہے کہ اس دنیا میں جو کچھ ملتا ہے وہ بھی خدا ہی کا دیا ملتا ہے اور آخرت میں جو کچھ ملے گا وہ بھی خدا ہی کے دیے ملے گا۔ نہ آخرت میں اس کا کوئی شریک و سہیم ہے نہ دنیا میں۔
Ayahs 92:14–18قریش کی طرف التفات:
اصولی طور پر حقیقت بیان کر دینے کے بعد یہ خاص طور پر بھی قریش کو مخاطب کر کے واضح فرما دیا کہ ضروری تھا کہ تمہیں پہلے سے آگاہ کر دیا جائے اس وجہ سے میں نے تمہیں اس بھڑکنے والی آگ سے آگاہ کر دیا ہے جس میں وہی لوگ پڑیں گے جو نہات بدبخت، تکذیب کرنے والے اور منہ موڑنے والے ہوں گے۔ اور وہ اس سے محفوظ رکھے جائیں گے جو اپنا مال پاکیزگی حاصل کرنے کے لیے خرچ کریں گے۔
ایک غلط فہمی کا ازالہ: یہ امر یہاں واضح رہے کہ مقابلہ یہاں کم شقی اور زیادہ شقی یا زیادہ متقی اور کم متقی میں نہیں ہے بلکہ رسول کی تکذیب کرنے والوں اور اس کی تصدیق کرنے والوں سے ہے۔ رسول اتمام حجت کا کامل ذریعہ ہوتا ہے اس وجہ سے اس کے جھٹلانے والے سب ’اَشْقٰی‘ ہوتے ہیں۔ چنانچہ ’اَشْقٰی‘ کی صفت ’اَلَّذِیْ کَذَّبَ وَتَوَلّٰی‘ آئی بھی ہے جس سے مقصود اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرنا ہے کہ یہاں زیربحث وہ لوگ ہیں جو رسول کی تکذیب اس کے سامنے کر رہے تھے۔ فرمایا کہ یہی لوگ ہیں جو سب سے زیادہ شقی ہیں اور یہ اس جہنم میں پڑیں گے جس کی آگ پہلے سے ان کے لیے تیار اور شعلہ زن ہے۔ برعکس اس کے رسول کے انذار سے چوکنے ہو کر جو لوگ روز حساب کی تیاریوں میں لگ گئے اور اپنے نفس کو آلائشوں سے پاک کرنے کے لیے اپنے مال خرچ کرنے لگے وہ سب ’اَتْقٰی‘ ہیں۔ اس لیے کہ انھوں نے ایسے وقت میں رسول کی بات مانی جب معاشرہ بحیثیت مجموعی اس کا دشمن تھا اور ایسے وقت نیکی کی راہ پر چلے جب اس پر چلنے کا حوصلہ کرنے والے بہت تھوڑے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ رسول کے ابتدائی دور کے ساتھیوں کا درجہ ’سابقین‘ اور ’مقربین‘ کا ہے جس میں بعد والوں کو شامل ہونے کی سعادت کم ہی حاصل ہو گی۔
اس آیت سے بعض لوگوں نے یہ استدلال کیا ہے کہ دوزخ صرف انہی لوگوں کے لیے ہے جو زیادہ شقی ہوں گے، عام شقی دوزخ میں نہیں جائیں گے، لیکن یہ بات نہایت کمزور ہے۔ اگر اس کو صحیح مانیے تو ایک شخص اس آیت سے یہ استنباط بھی کر سکتا ہے کہ دوزخ سے صرف وہی لوگ محفوظ رہیں گے جو اعلیٰ درجہ کے متقی (اتقیٰ) ہوں گے، عام متقی اس سے محفوظ نہیں رہیں گے یا یہ استدلال کر سکتا ہے کہ جنت کے حق دار صرف ’اتقیٰ‘ ہوں گے، عام متقی اس سے محروم رہیں گے۔ ظاہر ہے کہ یہ باتیں صحیح نہیں ہیں۔ جن لوگوں نے بھی اس طرح کی کوئی بات کہی ہے ان کو غلط فہمی صرف آیات کا موقع و محل نہ سمجھنے سے پیش آئی ہے۔ ہم نے موقع و محل کی وضاحت کر دی ہے جس کے بعد اس طرح کی غلط فہمیوں کی راہ مسدود ہو گئی ہے۔
Ayahs 92:19–21انفاق وہ مقبول ہے جو رضائے الٰہی کے لیے ہو:
یہ ’یُؤْتِیْ مَا لَہٗ یَتَزَکّٰی‘ کی وضاحت ہے۔ یعنی تزکیۂ نفس کے مقصد کے لیے وہ انفاق اللہ تعالیٰ کے نزدیک وزن رکھتا ہے جو صرف اس کی خوشنودی اور رضا جوئی کی خاطر کیا جائے، یہ غرض نہ ہو کہ کسی کو ممنون احسان کر کے اس سے کسی شکل میں اس کا بدلہ چاہا جائے۔ اوپر سورۂ دہر کی آیت
’لَا نُرِیْدُ مِنْکُمْ جَزَآءً وَّلَا شُکُوْرًا‘ (الدہر ۷۶: ۹)
(ہم کسی بدلے یا شکریہ کے طالب نہیں ہیں)
ہم نقل کر آئے ہیں۔ جومضمون اس آیت کا ہے۔ وہی مضمون دوسرے لفظوں میں یہاں بھی ہے۔
ایک غلط فہمی کا ازالہ: بعض لوگوں نے اس کا ترجمہ یوں کیا ہے کہ ’اور کسی کا اس پر احسان نہیں جس کا وہ بدلہ دے‘۔ اگرچہ الفاظ کے اعتبار سے اس ترجمہ کو غلط نہیں قرار دیا جا سکتا لیکن اس کا مطلب اگر یہ ہے کہ جو شخص اس پر کچھ خرچ کرے جس نے پہلے اس پر کوئی احسان کیا ہے تو یہ انفاق اللہ کی رضا کے لیے نہ ہو گا تو یہ بات سمجھ میں نہیں آتی۔ احسان کرنے والے پر احسان کرنا اس درجہ کی نیکی نہ سہی جو کسی احسان نہ کرنے والے پر کی جاتی ہے لیکن آخر یہ نیکی کیوں نہیں ہے؟ ایک غریب نے آپ کو کبھی پیاس میں پانی پلا دیا تھا، کیا آپ اس کو بھوک میں روٹی کھلا دیں گے تو آپ کا یہ فعل رضائے الٰہی کے لیے نہ ہو گا!
ہم نے آیت کا جو ترجمہ کیا ہے اس پر ایک نظر پھر ڈال لیجیے۔ ہمارے نزدیک یہ ترجمہ زبان کے اعتبار سے بھی صحیح ہے اور تاویل کے پہلو سے بھی اس میں کوئی الجھن نہیں پیدا ہوتی۔