Ayahs 93:1–5ترکیب ¦ والضحٰی الوا وللقسم وھو اول النھار اذا تجلٰی وارتفعت الشمس وقیل المراد بہ النھار کلہ مجازًا من اطلاق الجزاء و ارادۃ الکل بدلیل مقابلۃ بالیل اذا سجیٰ والیل عطف علیہ اذا العامل فیہ معنی القسم سجٰی ای سکن قالہ قتادہ و مجاھد و ابن زید و عکرمۃ وغیرھم یقال لیلۃ ساجیۃ ای ساکنۃ ویقال سجا الشیء یسجو سجوًا اذا سکن وعن ابن الاعرابی سجٰی امتد ظلامہ وقال الاصمعی سجو اللیل تعظیۃ النھار ما ودعک الخ ھذا جواب القسم قر۔ الجمہور بتشدید الدال من التودیع وقری ٔ بتخفیفھا من قولھم ودعہ ترکہ وما قلی عطف علیٰ ماودعک وانقلاء البغض یقال قلاہ یقلیہ قلاً ولم یقل ما قلاک لموافقۃ روس الآیٔ وللاخرۃ اللام جواب قسم محذوف۔
تفسیر ¦ یہ سورة بھی بالاتفاق مکہ میں نازل ہوئی ہے۔ ابن عباس ؓ کا بھی یہی قول ہے۔ اس میں گیارہ آیت ہیں۔ ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں اور نیز حاکم نے اور ابن مردویہ اور بیہقی نے ابی الحسن مقری سے ایک روایت کی ہے کہ وہ کہتے ہیں، میں نے قرآن عکرمہ بن سلیمان کے سامنے پڑھا اور اس نے خبر دی کہ میں نے اسماعیل بن قسطنطین اور سہل بن عباد کے سامنے پڑھا۔ جب میں والضحیٰ تک پہنچا تو ان دونوں نے فرمایا، تکبیر کہہ اخیر تک یعنی والناس تک ہر سورة کے بعد تکبیرکہہ اخیر تک کیونکہ ہم نے ابن کثیر کے سامنے قرآن پڑھا۔ اس نے یہی حکم دیا اور خبر دی کہ میں نے مجاہد کے سامنے قرآن پڑھا تو اس نے مجھے یہی حکم دیا اور خبر دی کہ میں نے ابن عباس ؓ کے سامنے پڑھا تو اس نے مجھے یہی حکم دیا اور خبر دی کہ میں نے ابی بن کعب ؓ کے سامنے پڑھا تو اس نے مجھے یہی حکم دیا اور خبر دی کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے روبرو پڑھا تو آپ نے مجھے یہی حکم دیا۔
یہ روایت ابو الحسن احمد بن محمد بن عبداللہ بزی سے ہے جو قرأت کے امام تھے مگر فن حدیث میں ابو حاتم رازی ان کو ضعیف جانتے ہیں لیکن اس روایت کی تائید اس سے ہوتی ہے کہ شیخ شہاب الدین ابو شامہ شاطبیہ کی شرح میں لکھتے ہیں کہ امام شافعی (رح) سے منقول ہے کہ انہوں نے کسی کو نماز میں اس سورة کے بعد تکبیر پڑھتے سنا تو فرمایا کہ بہت خوب کیا۔ یہ سنت ہے۔
شان نزول ¦ پھر بعض علماء فرماتے ہیں کہ والضحیٰ سے لے کر اخیر تک جس سورة کو تمام کرے تو اللہ اکبر کہے۔ بعض کہتے ہیں اللہ اکبر لا الہ الا اللہ واللہ اکبر کہے۔ وجہ اس کی علماء نے یوں بیان فرمائی ہے کہ ایک مدت تک آپ کو وحی آنی بند ہوگئی تھی۔ پھر جب شروع ہوئی تو یہی سورة والضحیٰ نازل ہوئی جس کی خوشی میں آپ نے تکبیر پڑھی۔ اس روایت کا کوئی ثبوت نہیں مگر بخاری و مسلم و ترمذی و نسائی و ابن ابی حاتم و ابن جریر و امام احمد نے روایت کی ہے کہ نبی کریم ﷺ بیمار ہوگئے تھے۔ ایک یا دو رات اٹھے نہیں۔ ایک عورت نے آکر کہا کہ اے محمد ﷺ میں تیرے شیطان کو نہیں دیکھتی۔ کیا تجھے چھوڑ دیا۔ تب یہ سورة والضحیٰ نازل ہوئی اور سفیان بن عیینہ ؓ کی روایت میں یہ ہے کہ جبرئیل (علیہ السلام) کے آنے میں دیر ہوئی تو مشرکوں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ اللہ نے محمد ـ ﷺ کو چھوڑ دیا۔ تب ان کے قول رد کرنے کے لیے کہ اس نے ہرگز نہیں چھوڑا۔ یہ سورة نازل ہوئی۔ یہی اس کا شان نزول ہے۔
فائدہ : ابن اسحاق وغیرہ سلف سے منقول ہے کہ وہ جو سورة نجم میں مذکورہ تھا کہ دنی فتدلیٰ فکان قاب قوسین اوادنیٰ فاوحیٰ الٰی عبدہ ما اوحی (یعنی ہم نے اپنے بندے کی طرف جبکہ بہت ہی قریب ہوگیا تھا وحی کی جو کچھ کہ وحی کی) اس میں یہی سورة والضحیٰ وحی کی تھی۔ خلاصہ یہ ہے :
چند روزہ وحی کے بند ہوجانے سے جس کو فقراء کے نزدیک قبض کہتے ہیں اور اسی کو کبھی ضلال بھی کہتے ہیں۔ ایک عجیب حالت رنج و غم کی آنحضرت ﷺ پر گزری تھی جس پر کفار کو محبوب حقیقی کی ناراضی اور جدائی کے طعنہ دینے کا موقع ملا۔ اس پر دریائے رحمت جوش زن ہوا اور یہ سورة نازل ہوئی جس میں اس طعنہ کا رد اور آنحضرت ﷺ کے محامد اور آئندہ کے لیے تسلی اور قرب روز افزوں کے وعدہ کا مژدہ ہے۔
فقال۔ والضحیٰ والیل اذا سجیٰ کہ قسم ہے روز روشن یا وقت چاشت کی اور قسم ہے رات کی جبکہ چھا جائے اور پھیل پڑے۔ وقت چاشت کو (جبکہ آفتاب کی سلطنت کا عروج ہوتا ہے اور جہان میں نور پھیل جاتا ہے۔ رات کی کوئی مخفی چیز جو اچھی طرح دکھائی نہیں دیتی تھی، مخفی نہیں رہتی۔ ) تقربِ الٰہی اور نزول وحی کے وقت سے پوری مشابہت ہے کیونکہ اس وقت حجاب ظلمانی دور ہوجاتے ہیں اور حقیقتِ الٰہی اور حقیقت کوفی کا ظہور کلی ہوتا ہے اور عالم ملکوت کے اسرار منکشف ہوجاتے ہیں اور رات کو قبض و انقطاع وحی کے زمانہ سے کمال مشابہت ہے کیونکہ اس وقت ایک قسم کی ظلمت ہوتی ہے اور نیز روز روشن کو فرحت و سرور سے اور رات کو رنج و غم سے مشابہت ہے۔ اس لیے والضحٰی کے مقدم کرنے میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ایام غم ہجر و انقطاع وحی تمام ہوچکے۔ اب روز فرح و سرود تتابع وحی کا وقت آگیا۔ اس میں آنحضرت ﷺ کو مژدہ ہے ؎
رسید مژدہ کہ ایام غم نخواہد ماند
چناں نماند و چنیں نیزہم نخواہد ماند
رات جب چھا جاتی ہے اور اس کی ظلمت عالم پر طاری ہوجاتی ہے۔ اس وقت کوئی روشنی نہیں ہوتی اور ایسے ہی موقع پر رات کا چھا جانا مستعمل ہوتا ہے۔ اس میں اشارہ ہے زمانہ جاہلیت کی طرف اور ضحیٰ سے زمانہ آفتاب نبوت محمدیہ علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کے جلوہ گر ہونے کی طرف اشارہ ہے جو آنحضرت ﷺ سے اول نہ تھا اور آپ کے بعد پھر رات پھیل گئی مگر آفتاب کا خلیفہ قمر خلافت مدتوں تاباں رہا اور اس کے بعد پھر تاریکی چھا گئی کہ جس میں متعدد فرقے پیدا ہوگئے اور ہر ایک فریق دلائل کے چراغوں اور مشعلوں سے استعانت کرتا ہے۔
اور اس سے یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ مذاہب مجہتدین و طرق اولیاء اللہ اس نور میں متفاوت درجہ رکھتے ہیں اور یہ بھی ہے کہ وقت چاشت سے اس نور الٰہی کی طرف اشارہ ہے جو قلب محمدی (علیہ السلام) پر جلوہ گر تھا اور شب سے اس ظلمت انسانیہ کی طرف اشارہ ہے کہ جو نفوس و ارواح پر طاری ہوا کرتی ہے۔ نور اللہ قلوبنا بنور محمد۔
فائدہ : وہ ضحی کہ جس کی قسم ہے بظاہر عام ہے مگر بعض نے خاص مراد لیا ہے۔ چناچہ امام جعفر صادق (رح) فرماتے ہیں کہ اس ضحٰی سے وہ ضحی مراد ہے کہ جس میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ سے کلام کیا تھا اور رات سے لیلۃ المعراج مراد ہے۔ بعض کہتے ہیں ضحٰی سے جنت کی روشنی اور لیل سے جہنم کی تاریکی مراد ہے۔ بعض کہتے ہیں ضحٰی قلوب عارفین کا نور اور لیل قلوب کافرین کی ظلمت ہے۔ بعض کہتے ہیں ضحٰی آپ کا چہرہ منور اور لیل موئے مبارک۔ بعض کہتے ہیں ضحٰی آنحضرت ﷺ کا ظاہر حال جو سب پر روشن ہے اور لیل آپ کے اسرار روحانیہ کہ جن کو بجز علام الغیوب کے اور کوئی نہیں جانتا۔ بعض کہتے ہیں کہ ضحی اسلام کی ترقی کا زمانہ اور لیل اس کا تنزل۔
چونکہ الفاظ قرآنیہ میں بڑی وسعت ہے۔ ہر ایک احتمال کی گنجایش ہے اور یہ بڑا معجزہ ہے۔
سوال : اس جگہ دن کو قسم کھانے میں مقدم اور رات کو مؤخر کیا اور پہلی سورة میں برعکس کیا تھا۔ اس کا کیا سبب ؟ جواب : علمائِ کرام نے اس کے جواب میں نہایت بےبہا ا موتیوں کی لڑیاں پروئی ہیں مگر سب سے آسان اور جلد سمجھ میں آنے والی یہ بات ہے۔
(1) یہ کہ پہلی سورة میں صدیق اکبر ؓ کے فضائل تھے۔ اس لیے اس کو سورة ابی بکر بھی کہتے ہیں اور اس سورة میں آنحضرت ﷺ کے فضائل مذکور ہیں۔ اس لیے اس کو سورة النبی ﷺ کہتے ہیں اور یہ ظاہر ہے کہ صدیق اکبر ؓ کے کمالات و انوار جو کچھ تھے وہ آفتاب نبوت کا عکس تھا ورنہ اسلام سے پہلے یہ باتیں حاصل نہ تھیں۔ وہی اندھیرا ان پر بھی طاری تھا جو عموماً برعرب کیا تمام دنیا پر طاری تھا اور آنحضرت ﷺ بلکہ جمیع انبیاء (علیہم السلام) ماں کے پیٹ ہی سے باکمال پیدا ہوئے ہیں۔ اس لیے سورة ابی بکر میں رات کو قسم کھانے میں مقدم کیا اور اس سورة میں دن کو تاکہ معلوم ہو کہ نور صدیقی کے پہلے رات تھی اور نور محمدی ابتدا ہی سے نور ہے۔
(2) یہ کہ پہلی سورة میں رات کا اول ذکر کرنا اور اس سورة میں دن کا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ صدیقیت سے ترقی کرکے محمدیت کا مرتبہ ہے اور نیز جس طرح دن کے بعد رات ہوتی ہے۔ اسی طرح محمدیت کے بعد دنیا میں صدیقیت ہی باقی رہ جایا کرتی ہے ؎
چونکہ گل رفت و گلستاں شد خراب
بوئے گل را از کہ جو یم جز گلاب
اور یہ ان دونوں حضرات میں کمال اتحاد و وصلت کی دلیل ہے جس کا نتیجہ دنیا میں ہر جگہ آنحضرت ﷺ کے ساتھ رفاقت ہر معرکہ میں شرکت تھی اور مرنے کے بعد بھی اپنے آقا کے پہلو بہ پہلو ایک روضہ منورہ میں لیٹے ہوئے ہیں۔
(3) یہ کہ رات اور دن اس کے عجائبِ قدرت کی دلیل ہیں۔ کبھی دن کی قسم کو مقدم کردیا اور کبھی رات کی قسم کو مقدم کردیا لیکن دن کے اس جگہ مقدم کرنے میں ایک یہ بھی اشارہ ہے کہ یہ کافر جو تجھ کو کہتے ہیں کہ تیرا رب تجھ سے ناراض ہوگیا اور تجھے چھوڑ دیاحالان کہ اور مطاعن سے یہ مفارقت محبوب کا طعنہ آنحضرت ﷺ پر تو جس قدر شاق گزرتا ہوگا اس کا اندازہ نہیں ہوسکتا مگر آنحضرت ﷺ سے کمتر درجہ کے لوگ یعنی عارفان طریق بھی اس مفارقت کو عذاب عظیم سے بڑھ کر تصور کرتے ہیں اور جب دعا کرتے ہیں تو یہی کرتے ہیں ؎
خلاص حافظ زان زلف تابدار مباد
کہ بستگان کمند تو رستگارانند
سو یہ تکلیف تو آپ کو دن ہی میں ہوتی تھی اور رات کا وقت تو آپ کا سراسر اطمینان قلبی اور یاد حق اور انس حقیقی کا وقت ہوتا تھا جس میں آپ کو مواصلات تامہ میسر آتی تھی۔
(4) یہ کہ یہ جو آپ کو طعنہ دیتے ہیں کہ تجھے چھوڑ دیا، اندھے ہیں جن کو دوپہر میں بھی آفتاب نظر نہیں آتا اور پھر رات تو رات ہی ہے۔ آپ ان کے کہنے کی کچھ بھی پروا نہ کریں۔
(5) یہ ہے کہ جس طرح آفتاب روشن ہونے کے بعد تاریکی ہوتی ہے مگر اس کے بعد پھر آفتاب جلوہ گر ہوتا ہے۔ دہر ایک وطیرہ پر نہیں رہتا۔ اسی طرح جو اس دہر میں ہیں۔ ان پر بھی ویسے تغیرات ہوں تو کیا تعجب ہے۔ عارف کی یکساں حالت نہیں رہتی۔ کبھی آفتاب غیب اور خورشید جمالِ حقیقی ایسا جلوہ گر ہوتا ہے کہ اس کی دوپہر ہوتی ہے۔ جہاں ظلمت بہیمیہ کا نام و نشان بھی باقی نہیں رہتا اور پھر کبھی انسانیت کی تاریکی اور مادیت کی رات بھی چھا جاتی ہے مگر اس رات کے بعد پھر آفتاب معنوی جلوہ گر ہوتا ہے۔ ایسی جزر و مد سے یہ خیال کرلینا کہ ان کو وہاں سے دوری ہوگئی، انہیں کا کام ہے جن پر سدا بشریت کی رات کا اندھیرا چھایا رہتا ہے اور یہ تفاوت ایک لذت رکھتا ہے۔ کس لیے کہ ہجر کے بعد وصال ایسا ہی مزہ دیتا ہے جیسا کہ اہل جہان کے لیے رات کے بعد آفتاب کا جلوہ گر ہونا مسرت بخشتا ہے مگر یہ کور باطن اس مزے کو کیا جانیں جس مصلحت سے چند روز وحی بند ہوئی ہے۔ اس کی حقیقت سے یہ کیا واقف ؟
پھر اس بات میں کیا لطیفہ ہے کہ تمام دن کی قسم نہیں کھائی صرف وقت چاشت کی برخلاف رات کے کہ اس میں کسی وقت کی تخصیص نہیں کی بلکہ عموم سمجھا گیا ؟
وہ لطیفہ یہ ہے کہ وقت چاشت فرحت و سرور کا وقت ہوتا ہے اور رات غموم و ہموم کا وقت ہے یا یوں کہو کہ یہ وقت چاشت تمام حیوانات کی بیداری کا وقت ہے۔ کس لیے کہ دن چڑھے تو بڑے عیاش اور منحوس بھی جاگ اٹھتے ہیں اور تمام رات نیند اور غفلت کا وقت ہے جو موت سے مشابہ ہے۔ جس میں اشارہ ہے کہ انسان کی فرحت اور اس کا سرور بہ نسبت غموم و ہموم کے بہت ہی کم ہے یا اس کی دنیاوی ہستی کا زمانہ اس کے نیست کے زمانہ کے لحاظ سے بہت ہی کم ہے۔ پھر اتنی سی خوشی اور ایسی حیات سریع الزوال پر یہ غرور یہ گمراہی۔
فائدہ : ضحٰی یعنی چاشت آفتاب بلند ہونے سے لے کر نصف النہار تک پہنچنے تک کا زمانہ ہے۔ اس وقت میں کوئی نماز فریضہ نہیں۔ کس لیے کہ یہ کام کاج کا وقت ہے لیکن آخرت کے لیے اس وقت بھی چند نوافل پڑھنا ایسا ہی مسنون ہے کہ جیسا رات میں تہجد یا اس سے کسی قدر کم۔ نماز چاشت کم از کم چار رکعت اور زیادہ سے زیادہ بارہ رکعت ہیں۔ اس نماز کے بہت سے فضائل ہیں اور اہل اللہ کا دستور قدیم ہے اور اہل بصیرت نے فرمایا ہے کہ جو فقر و تنگدستی سے دور رہنا چاہے تو نماز چاشت پڑھے اور اگر گور کی تنگی اور وہاں کی اندھیری اور عذاب سے بچنا چاہے تو نماز تہجد پڑھا کرے۔
اب وہ بات بیان فرماتا ہے کہ جس کی صداقت کے لیے دن اور رات کی قسم کھائی ہے۔ فقال ماودعک 1 ؎ ربک وما قلیٰ کہ نہ تمہارے رب نے اے محمد ﷺ تمہیں رخصت کیا ہے اور نہ تمہارا پروردگار تم سے ناخوش ہوا ہے یعنی یہ جو چند روز کسی مصلحت سے وحی بند ہوگئی اس لیے نہیں کہ تمہارے رب یعنی پرورش کرنے والے کی پرورش میں کچھ قصور یا تمہاری حالت میں کچھ فتور آگیا ہو بلکہ عنقریب پھر وہی آفتاب جلوہ گر ہوگا۔ جیسا کہ رات کے بعد پھر آفتاب ظاہری جلوہ گر ہوا کرتا ہے۔ اب جلد وصال دائمی اور قرب روز افزوں آپ کو میسر آئے گا۔ اس لیے فرماتا ہے۔ وللاخرۃ خیر لک من الاولیٰ کہ تمہاری ہر پچھلی ساعت پہلی سے بہتر ہی بہتر ہے جو آج قرب و کمال ہے، کل اس سے زیادہ ہے اور جو صبح ہے شام اس سے زیادہ ہے اور ربوبیت تامہ کا بھی یہی مقتضٰی ہے کہ ہر آن اور ہر زمان پرورش کا سلسلہ جاری رہے۔ پرورش ظاہری سے تو اور بھی مستفید ہیں مگر پرورش باطنی اور جو تائیدِ الٰہی تمہارے لیے ہے کہ بغیر کسی مرشد و معلم کے خود حق سبحانہ نے تمہاری روح پر تجلی فرمائی اور اپنے نور حقیقی سے منور کیا اور علم اولین و آخرین کے خزانے تمہارے ہاتھ میں دیے وہ کم نہ ہوگی بلکہ اب یہ
وصال علی الدوام ہوگا اور مراتب قرب میں آپ درجات طے کرتے جاویں گے اور دنیا سے اٹھنے کے وقت دنیا ومافیہا سے نفرت کلی اور عالم بالا کا شوق اور جذبہ بےحد مستولی ہوگا۔ چناچہ بوقت اخیر آنحضرت ﷺ بار بار یہی فرماتے تھے۔ اللہم الرفیق الاعلیٰ ۔
1 ؎ ودفع تشدید سے ماخوذ ہے توریع سے جس کے معنی ہیں رخصت کرنا یعنی چھوڑ دینا بوقت رخصت ایک دوسرے سے جدا ہوتا ہے۔ 12 منہ
اور اسی لیے واصلانِ حق کی اخیر عمر کا حصہ پہلی سے زیادہ تر متبرک سمجھا گیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اول عمر میں کمالات باطنیہ کی ترتیب ہوتی تھی تو اخیر میں کھلم کھلا۔ بعض علماء نے آخرت سے مراد دار آخرت اور اولیٰ سے دنیا لی ہے۔ ان کے نزدیک یہ معنی ہوں گے کہ آپ کے لیے دنیا سے آخرت بہتر ہے اور یہ بھی ٹھیک ہے۔ کس لیے کہ دنیا آپ کے لیے تکالیف و شدائد کا گھر تھا۔ مہینوں سوکھے ٹکڑوں یا چند چھوہاروں اور پانی پر اوقات بسری کی ہے۔ دو وقت پیٹ بھر کر اچھا کھانا میسر نہیں آیا ہے۔ پھر نااہلوں کے ظلم وتعدی اور اصلاح عالم کی فکر ہر وقت دامن گیر رہتی تھی۔ مخالف خون بہا رہے ہیں تو آپ دعا کر رہے ہیں۔ کسی سے اپنی ذات کا کبھی انتقام نہیں لیا۔ کسی سے اپنے دنیاوی حقوق کا مطالبہ نہیں کیا۔ کبھی کوئی عیش و نشاط کا سامان نہ بہم پہنچایا۔ وہ خدائے پاک کے نور مجسم جن پر ہماری روح فدا ہو رات دن ہماری فکر میں رہ کر دنیاو آخرت کی بھلائیاں ہمارے لیے تجویز کرتے رہے۔ آخرت میں آپ کے لیے نعیم بےحد اور سرور سرمد ہے بلکہ وہ اس جہان کے سلطان اور حیات جاودانی اور سرور ابدی کے مالک اور تقسیم کرنے والے ہیں۔ وہ درحقیقت ابو القاسم ہیں۔ صلوٰۃ اللہ علیہ وسلامہ۔
دوم آپ کی سیادت کبریٰ اور سلطنت عظمیٰ کا ظہور کلی دار آخرت ہی میں ہوگا۔ مرنے کے بعد ہر مومن پر روح پاک کی تجلی اور نور پُر سرور کا جلوہ ہوگا اور ہوتا ہے اور یہی جلوہ نجات کا باعث ہے اور میدان حشر میں تاج کرامت آپ کے سر مبارک پر رکھ کر مقام محمود میں کھڑے کئے جاویں گے اور تمام انبیاء و اولیاء و اولین و آخرین کی نگاہیں اس روز آپ ہی کی طرف لگی ہوئی ہوں گی۔ آپ ہی شفاعت کریں گے جس طرح شفیق ماں اپنے گم شدہ بچوں کو ڈھونڈھتی پھرا کرتی ہے۔ آپ امت کے مجھ جیسے روسیا ہوں، گنہگاروں کو ڈھونڈھ ڈھونڈھ کر اپنے رب کریم کے سامنے لے جا کر بخشوائیں گے۔ آپ کا حوض کوثر تشنگان میدان حشر کو سیراب کرے گا۔ آپ کا سایہ امت کو جگہ دے گا۔ (اے میرے آقا روحی فداک میں بھی حضور کا ادنیٰ غلام ہوں۔ میں بھی اس فیض عام سے فیضیاب ہوں۔ آپ کے غبار پا کے قربان محروم نہ کیا جائوں۔ ننگ امت ہی سہی پر آپ کا نام لیوا تو ہوں۔ )
اور چونکہ کفار نے آنحضرت ﷺ کی دل شکنی کی تھی تو حق سبحانہ آپ کو خلعت عزو امتیاز عطا کرتا ہے۔ اس کی مثال یہ ہے کہ کوئی بادشاہ کسی ملازم خاص پر عنایت فرما کر کوئی معزز عہدہ عطا کرے اور وہ کمال جدوجہد سے اس خدمت کو ادا کر رہا ہو لیکن حاسدانِ بد اندیش محض اس کی دل شکنی کے لیے جھوٹی خبریں اڑائیں اور بدنام کریں کہ بادشاہ نے اس سے یہ خدمت چھین لی اور نظروں سے گرا دیا تو ایسے موقع پر بادشاہ لوگوں میں عزت و امتیاز کے لیے اور ان کے مخالفین کی باتوں کو غلط کرنے کے لیے اس معزز ملازم کو خلعت و عطیات سے سرفرازی بخشا کرتا ہے اور آئندہ ترقیوں کے لیے وعدہ فرمایا کرتا ہے تاکہ نہایت ہمت و کوشش سے اپنی خدمت کو ادا کرتا رہے۔ اسی طرح آنحضرت ﷺ کو مشرف فرماتا ہے۔ فقال ولسوف یعطیک ربک فترضٰی کہ تمہیں تمہارا رب اتنا دے گا کہ تم راضی ہوجاؤ گے۔ یہ بڑا وسیع وعدہ اور نہایت گراں بہا خلعت ہے۔ کس لیے کہ ایسے وعدوں میں دو باتوں کی طرف نظر کی جایا کرتی ہے۔ اول وعدہ دینے والے کی طرف۔ کس لیے کہ اگر تنگ حوصلہ یا کم مایہ کسی کو ایسا وسیع وعدہ دے تو وہ بلحاظ اس کی مقدرت و حوصلہ کے ایک معمولی وعدہ بلکہ اس سے بھی کم سمجھا جاوے گا۔ مخاطب خیال کرسکتا ہے کہ یہ کیا مجھے کوئی جاگیر یا ملک دے گا۔ یہی دو چار روپے پیسے اور اگر کوئی شہنشاہ بلند حوصلہ ایسی بات کہے تو ضرور خیال ہوتا ہے کہ کوئی جاگیر یا ملک عطا ہوگا۔ اسی طرح جس کے لیے وعدہ ہو اس کی طرف بھی دیکھا جاتا ہے۔ اگر کوئی فرومایہ شخص ہے تو اس کی قابلیت اور حوصلہ کے موافق عطیہ خیال کیا جاوے گا اور اگر بڑا شخص اور بلند حوصلہ ہے تو اسی کے موافق عطیہ متصور ہوگا۔
اب اس مقام پر وعدہ دینے والا تو خدائے تعالیٰ ہے جس کے ہاتھ میں دارین ہیں اور اس کی بلند حوصلگی لفظ رب سے ظاہر ہے جو تمام مخلوق کو بلا امتیاز مومن و کافر مطیع و عاصی ہر وقت پرورش کر رہا ہے اور ہمیشہ سے کرتا آیا ہے اور ہمیشہ کرے گا۔ اور جس کی نسبت وعدہ ہے۔ وہ آنحضرت ﷺ ہیں جو حق سبحانہ کا دنیا میں ظل ہیں اور بلند حوصلگی آپ کی اس سے ظاہر ہے کہ کوئی اپنے دشمن کو سرد پانی بھی دینا گوارا نہیں کرتا۔ آپ ان کو سلطنت جاودانی اور ملک کامرانی دیتے ہیں۔ پھر اب اس وعدہ کی وسعت کو غور کرلیجئے کہ کیا کیا دیں گے جو کچھ آپ کو کمالات جسمانی سے لے کر کمالات اخلاقی و روحانی عطا ہوئے اور جو کچھ شرف و امتیاز دوسرے جہان میں عطا ہوں گے۔ اگر ان کو بیان کیا جاوے تو ایک دفتر میں بھی نہ سماویں اور حق سبحانہ نے فقیر کو توفیق دی تو خاص اسی آیت کی تفسیر میں ایک مبسوط کتاب لکھ کر آنحضرت ﷺ کے عطیات و کمالات کا کچھ نمونہ دکھائے گا مگر ادنیٰ بات اس وعدہ کی وسعت کی جو آنحضرت ﷺ کی بلند حوصلگی کی ایک دلیل ہے۔ یہ بات ہے کہ اس جملہ کو سن کر آپ نے یہ ارشاد فرمایا کہ واللہ میں کبھی راضی نہ ہوں گا جب تک کہ میری امت کا ایک شخص بھی جہنم میں رہے گا۔ اخرجہ الخطیب فی التلخیص۔ ویؤیدہ مافی صحیح مسلم۔
Ayahs 93:6–11ترکیب ¦ الم یجدک ھذا شروع فیما انعم اللہ علیہ والہمزۃ لانکار النفی وتقریر المنفی فکانہ قال قدو جدک یتیما والوجود بمعنی العلم۔ فآ وٰی قرء الجمھور بالالف بعد الھمزۃ رباعیا من آواہ یویہ وقریٔ ثلاثیا وھوا ما بمعنی الرباعی اوھو من آوی لہ اذا رحمہ ووجدک ضا لا فہدی معطوف علی المضارع المنفی وقیل علی ما یقتضیہ الکلام السابق والضلال ھھنا بمعنی الغفلۃ کما قال الزجاج ونظیرہ قولہ تعالیٰ ولا یضل ربی ولا ینسیٰ وقولہ تعالیٰ ان تضل احدا ھما فتذکر احدا ھما الاخرٰی وقیل من الطلب والمحبتہ کقولہ تعالیٰ انک لفی ضلالک القدیم ووجدک عائلا الخ معطوف علی الکلام السابق یقال عال الرجل یعیل عیلۃ اذا افتقرا ما الیتیم منصوب بتقہھر قریٔ بالکاف۔ والعرب تعاقب بین القاف والکاف وقیل القھر الغلبۃ والکھر الزجر قال ابو حیانھی نعمۃ واما السائل منصوب بتنھر والتقدیر مہما یکن شیء تقھر الیتیم ولا تنھر السائل واما بنعمۃ ربک فحدث قیل المراد بالنعمۃ النبوۃ وقیل عام والتحدث الابلاغ والاظہار اوا لشکر الجار والمجرور متعلق بحدث والفا غیر مانعۃ من ذلک لانھا کالزائدۃ قال الکرخی۔
تفسیر ¦ پہلے فرما دیا ہے کہ ہم آپ کو اس قدر دیں گے کہ آپ راضی ہوجاویں گے۔ اب اس قول کی تائید و صداقت یا اطمینان قلبی کے لیے آنحضرت ﷺ کے چند گزشتہ واقعات کا اجمالاً ذکر فرماتا ہے جن میں حق سبحانہ کی طرف سے کیسی کیسی عنایتیں ہوئیں اور ان مواقع میں کیا کیا عطا فرمایا۔ آنحضرت ﷺ کی عمر شریف کے تین حال ہیں۔ (اول) لڑکپن بلوغ کی حد تک کی عمر سو اس عمر میں آپ یتیم تھے۔ آپ پر کیا بےکسی تھی مگر حق سبحانہ نے کیا کیا انعام و اکرام کئے۔ اس لیے اس پہلی حالت کی بابت فرماتا ہے۔ الم یجدک یتیما فآویٰ کہ کیا اس نے یعنی خدا نے تمہیں یتیم نہیں پایا کہ پھر تم کو جگہ دی۔
1 ؎ وہ نابالغ بچہ جس کا باپ نہ ہو۔ 12 منہ
تفصیل اس کی یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ حمل میں تھے کہ حضور ﷺ کے والدماجد عبداللہ کا عین جوانی میں انتقال ہوگیا اور کوئی جائیداد یا مال نہ چھوڑا کہ جس سے پس ماندوں کی پرورش ہوتی۔ پھر حق سبحانہ نے یہ انعام کیا کہ آپ کے جد امجد عبدالمطلب کو آپ پر مہربان کردیا۔ ایسا کہ آپ کے آگے تمام اولاد کو بھول گئے۔ حالانکہ عبدالمطلب کثیر الاولاد تھے اور حال یہ تھا کہ جب حضرت ﷺ چھ برس کے تھے تو والدہ ماجدہ بھی دنیا سے رخصت ہوگئی تھیں۔ اب نہ ماں ہے نہ باپ صرف اللہ کی قدرت کا کرشمہ ہے کہ عبدالمطلب کو فریفتہ کر رکھا ہے۔ جب آٹھ برس کے ہوئے تو عبدالمطلب بھی چل بسے۔ اب خوف تھا کہ کیا کیا مصیبتیں آئیں مگر ان کی جگہ حضرت کے چچا ابو طالب حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے والد ماجد سرپرستی کرنے لگے اور ایسی کی کہ کوئی اپنی حقیقی اولاد کی بھی ایسی نہ کرے گا۔ یہ یتیمی کا زمانہ اس طور سے گزرا۔ اب بالغ ہوئے۔ یہ دوسرا حصہ عمر کا شروع ہوتا ہے۔ اس میں جوانی کی امنگیں اور نوخیز شباب کے ولولے بھی کچھ کم نہیں ہوتے۔ ہرچند آپ مادر زاد نبی تھے اور طفولیت ہی میں رئیس الموحدین تھے۔ خدا پرستی مکارم اخلاق آپ کا شیوہ تھا مگر ہنوز مراتب قرب اور محبت کی سنگلاخ گھاٹیوں اور نیز وحی اور شریعت اسلام کی حقیقت سے جو آپ کو بعد میں الہام ہوئی ناواقف تھے۔ اس کوچہ سے بھولے ہوئے تھے اور حیران و طالب تھے لیکن حق سبحانہ نے رہنمائی کی۔ اس بات کی طرف اس جملہ میں ایماء کرتا ہے۔ ووجدک ضالافہدٰی کہ ہم نے تمہیں بھولا ہوا یا طالب پایا کہ پھر تمہیں رہنمائی کی۔ جیسا کہ ان آیات میں ارشاد ہوتا ہے۔ ما کنت تدری ما الکتاب ولا الایمان الآیہ۔ آپ عبادت کرتے تھے مگر یہ تعداد رکعات اور اس کے آداب و قوانین نہ جانتے تھے۔ ناپاکی سے دور رہتے تھے۔ ہاتھ پائوں دھو لیا کرتے تھے مگر وضو اور غسل کے دستورات نہ جانتے تھے۔ خیرات کرتے اور اس کی تاکید کرتے تھے مگر اس کے مصارف اور مقدار زکوٰۃ اور اس کے دیگر دستورات سے واقف نہ تھے۔ اسی طرح ایک محبت الٰہی کا جاذبہ تھا اور دل میں ایک آتش عشق شعلہ مار تھی مگر اس کی ترقی اور اس کے قوانین سے واقف نہ تھے۔ اس حالت کو ضلال سے تعبیر کیا جو ان کی ہدایت سے بڑھ کر تھی۔ مفسرین نے ضلال کے چند معنی بیان فرمائے ہیں۔ کسی نے کہا کہ ضلال سے مراد رستہ بھولنا ہے جو آپ شام کے سفر میں بھول گئے تھے۔ بعض نے کہا حلیمہ سعدیہ کے ہاں ایک بار جنگل میں گم ہوگئے تھے۔ بعض نے کہا کہ مکہ میں رہا کرتے تھے تب رستہ بھول گئے تھے۔ ابو جہل جا رہا تھا۔ آپ کو اٹھا کر اپنے پیچھے سوار کرکے اونٹنی کو ایڑ ماری تو نہ اٹھ سکی۔ ہرچند مارتا تھا مگر وہ جنبش بھی نہ کرتی تھی۔ آخر ہاتف غیب نے آواز دی کہ تو نادان ہے۔ جہاں کے سردار کو پیچھے سوار کرتا ہے اور آپ آگے ہوتا ہے۔ یہ آگے ہونے کے قابل ہے۔ تب آپ کو آگے بٹھایا۔ جب اونٹنی چلی۔ آکر عبدالمطلب سے کہا کہ یہ تیرا بچہ دیکھئے کیا کیا گل کھلا ہے اور سارا قصہ بیان کیا۔ بعض نے کہا وہ ضلال محبت کی بےتابی ہے جیسا کہ یعقوب (علیہ السلام) کو حضرت یوسف ( علیہ السلام) سے تھی اور اسی لیے بیٹوں نے بھی کہا تھا انک لفی ضلالک القدیم حالانکہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) اور کسی گمراہی میں نہ تھے لیکن اس مقام پر ضلال سے مراد طلب اور حیرت ہے جو حضرت ﷺ پر طاری تھی۔
فائدہ : حضرات انبیاء (علیہم السلام) جمہور اہل اسلام کے نزدیک گمراہی سے پاک تھے۔ ابتدائے عمر سے لے کر اخیر تک کوئی ناپاک دھبہ ان کے دامن عصمت پر نہیں لگا اور نہ لگنا چاہیے۔ کس لیے کہ جس نے ان کو نبی اور مخلوق کا ہادی بنا کر بھیجا۔ وہ ان کی سیرت اور صورت اور اخلاق کو نفرت انگیز کیونکر ہونے دیتا جس میں سراسر مقصودِ الٰہی فوت ہوجاتا۔ بعض گمراہوں نے آنحضرت ﷺ کو گمراہ کہنے میں اس لفظ سے استدلال پکڑ کر بڑی جرأت کی ہے۔ اگر نادانستگی ہے تو خیر اور اگر متعصب عیسائیوں اور ہنود جیسا عناد اور آفتاب پر گردد غبار ڈالنا مقصود ہے تو بڑا کمینہ پن اور دارین کی روسیاہی ہے۔
تیسری حالت یا عمر شریف کا وہ حصہ ہے کہ جس میں عیالداری ہے۔ خصوصاً جبکہ آنحضرت ﷺ نے مکہ شہر میں نکاح کیا جہاں نہ زراعت تھی نہ صنعت نہ کوئی کارخانہ ‘ تجارت۔ اس وقت حق سبحانہ نے یہ احسان کیا کہ آپ کو غنی کردیا۔ اس بات کی طرف اس جملہ میں اشارہ فرماتا ہے۔ ووجدک عائلا فاغنی اور تم کو فقیر پایا تو غنی کردیا۔ حضرت ﷺ کی تنگ دستی تو ظاہر ہے مگر غنٰی کیونکر حاصل ہوئی۔ اول تو اصل غنی دل کی غنا ہے۔ سو یہ بات حضرت ﷺ کو بہت کچھ عطا کی اور دراصل جس کو غنائِ نفس حاصل نہیں۔ گو کیسا ہی مالدار ہو مگر سخت محتاج ہے، مارا مارا پھرتا ہے، دل میں بےقراری ہے۔ برخلاف غنائے نفس کے کہ اس کو اطمینان ہے۔ دوم حضرت کو خدیجہ ؓ بیوی ملی جس سے اعیان قریش نکاح کرنا چاہتے تھے مگر وہ کسی کی طرف رغبت نہ کرتی تھیں۔ آنحضرت ﷺ کو قبول کیا۔ یہ بڑی مالدار تھیں اور آنحضرت ﷺ کی تابعدار بلکہ جان نثار بھی تھیں۔
یعنی ہم اے نبی کریم ﷺ تمہاری گزشتہ عمر میں تم پر کیا کیا احسان کرتے رہے۔ پھر اب آئندہ جو بیشمار عطیات کا وعدہ کرتے ہیں۔ اس کو کیونکر نہ پورا کریں گے۔ اب ان تینوں زمانہ کے انعامات کے شکریہ ادا کرنے کے لیے تین حکم صادر فرماتا ہے۔ (1) فاما الیتیم فلا تقہر کہ یتیم جو ہو سو اس پر ظلم نہ کرنا۔ اپنے یتیمی کے زمانہ کو یاد کرلیا کرو۔ آنحضرت ﷺ تو کسی یتیم کو کیا اور بھی کسی کو نہ دباتے تھے نہ کبھی دبایا نہ کسی پر سختی کی۔ عرب میں اسلام سے پہلے جہالت اور سخت بدکاری کی کوئی حد نہ تھی۔ خصوصاً یتیموں، بیوائوں اور ضعیفوں پر زیادتی کرنا اپنے ذرا سے نفع کے لیے ان کا نقصان کردینا کوئی بات نہ تھی۔ اس لیے بظاہر تو نبی کریم ﷺ کو خطاب ہے مگر معنی سب کو حکم دیا جاتا ہے کہ یتیم پر قہر نہ کرنا ‘ یہ لفظ عام ہے۔ زبانی جھڑکناسخت کلامی کرنا بری نگاہ سے دیکھنا اور اس کو مارنا یا اس کے مال کی خیانت کرنا یا دغا فریب سے لے لینا سب قہر میں داخل ہے بلکہ اس کے ساتھ ہمدردی نہ کرنا ‘ اس کے حال زار پر رحم نہ کھانا بھی قہر ہے۔ عرب اس مرض میں مبتلا تھے اور نیز دفع مضرت ‘ طلب منفعت سے مقدم ہے۔ اس لیے یہ فرمایا کہ قہر نہ کرنا یوں نہ کہا کہ رحم کر اور یہ بھی نکتہ ہے کہ جب قہر نہیں تو خواہ مخواہ رحم ہی رحم ہے۔
پیغمبر خدا ﷺ بالخصوص یتیموں پر بڑے مہربان تھے اور لوگوں کو بھی تاکید رحم کرنے کی فرماتے تھے کہ یتیم کی پرورش کرنے والا میرے ساتھ بہشت میں اس طرح رہے گا اور اپنی دونوں انگلیوں کی طرف ملا کر اشارہ فرمایا کہ جس طرح ہاتھ کی ایک انگلی دوسری سے ملی ہوئی ہے۔ اسی طرح میرے ساتھ ہوگا۔ یہ مضمون صحیح بخاری میں موجود ہے اور یتیم ہی پر موقوف نہیں۔ ہر ضعیف و بےکس پر رحم کرنا اسلام اور اسلامیوں کا شیوہ ہے۔ اب ان بیکسوں میں سے ایک سائل بھی ہے۔ جب نہایت ذلیل و خوار حالت ہوجاتی ہے تب ہی شریف سوال کرتا ہے۔ اس لیے فرماتا ہے واما السائل فلا تنہر اور جو کوئی سائل ہو اس کو نہ جھڑکو۔ اگر اس کے سوال پورا کرنے کی قدرت ہو تو پورا کر دو بشرطیکہ ممنوع امر کا سوال نہ ہو ورنہ نرم الفاظ میں جواب دے دو ۔ سائل کی دل شکنی نہ کرو اور دیگر طعنہ وتشنیع نہ کرو کہ ایسے دینے کا کچھ بھی ثواب نہیں۔ یہ اس دوسری نعمت کے شکریہ میں ہے یعنی آپ کو تنگدستی کے بعد غنی کیا اپنے وقت کو نہ بھولو۔
آنحضرت ﷺ کی سخاوت اور مروت کی کچھ انتہا نہ تھی۔ نہیں تو کہنا جانتے ہی نہ تھے۔ آپ بھوکے ہیں سائل نے مانگا جو میسر آیا دے دیا۔ ایک بار بحرین سے نوے ہزار درہم آئے۔ بانٹ کر خالی ہاتھ اٹھ کھڑے ہوئے۔ ایک بار ایک عورت نے ایک عمدہ چادر سی کر آپ کو بھیجی۔ سائل نے مانگی اسی وقت اتار دی۔ کبھی گھر میں مال و زر کچھ بھی نہیں رکھا۔ اس کے سوائے اپنے پاس نہ ہوا تو قرض لے کردیا یا اور سے فرمائش کرکے دلوا دیا۔ یہاں تک کہ ایک بار ایک ہی کرتا تھا جسے پہنے ہوئے تھے۔ کسی نے مانگا اتار دیا۔ اب کوئی کپڑا نہیں جو پہن کر نماز پڑھانے آویں۔ لوگ بیٹھے راہ دیکھ رہے ہیں۔ اس بارے میں آخر آیت نازل ہوئی کہ ایسا ہاتھ نہ کھولو کہ تنگ ہو کر گھر میں بیٹھارہنا پڑے۔
فائدہ : آیت میں سائل سے وہی سائل مراد ہیں جو حاجت مند ہو کر سوال کرتے تھے نہ وہ لوگ کہ جنہوں نے بارہ مہینے گداگری کو پیشہ کرلیا ہے اور صحیح و تندرست ہیں۔ کما سکتے ہیں مگر کہیں کوئی بہروپ بھر لیا ہے۔ کہیں کوئی اور صورت بنا لی ہے۔ صدائیں اور اشعار یاد کرلیے ہیں اور ہٹے کٹے ہیں۔ پھر ایک نہیں دو دو چار چار جماعت بنا کر مانگتے پھرتے ہیں اور تکیوں میں بیٹھ کر مسکرات پیتے ہیں، بھنگ گھوٹتے ہیں۔ چرس کے دم لگاتے ہیں۔ نہ نماز ہے نہ روزہ اور اسی کو فقیری اور وصول الی اللہ اور معرفت و حقیقت کی روح جانتے ہیں اور پھر مانگتے کیا ہیں۔ گویا شاہی حکمنامہ ساتھ لے کر چلتے ہیں، اڑتے ہیں تو لیے بغیر ٹلتے نہیں اور پھر کیا کیا آوازہ کستے ہیں۔ ایسا سوال حرام ہے اور ایسے سائل عرب میں نہ تھے اور جو کوئی تھا بھی تو شریعت نے منع کردیا تھا۔ حضرت عمر ؓ نے تندرست سائل کو جو کمانے پر قادر تھا، درے مارے ہیں۔ یہ بےحیائی کا پیشہ جیسا ہندوستان میں ہے شاید کہیں اور بھی ہو۔ اس نے صدہا لوگوں کو بیکار اور نکما کردیا۔ حاجت مندوں کا حق تلف کرا دیا۔ ایسے لوگوں کو دینا اور جو دراصل حاجت مند ہیں اور شرم کے مارے سوال نہیں کرتے، ان کو نہ دینا بڑا ظلم ہے۔ اگر اس وقت کے مسلمانوں کی سخاوت قانون محمدی کے موافق ہوتی تو بہت کچھ نفع ہوتا۔ یہ بھی جہل کا کرشمہ ہے۔
فائدہ : آیت میں ایک لطیفہ ہے۔ رسائل کے لیے لفظ تنھر ایک عجیب لطف عربی زبان دانوں کو دے رہا ہے کیونکہ سائل سے سیلان اور تنھر سے نہر سمجھا جاتا ہے جس کو سیلان ہوتا ہے۔ سائل سے وہ سائل بھی مراد ہوسکتا ہے جو مسائل پوچھے۔ اس کو بھی جھڑکنا نہ چاہیے۔ یہ آداب تعلیم ارشاد ہوا ہے۔
اب اس تیسری نعمت کے مقابلہ میں یعنی ہدایت و ارشاد کے مقابلہ میں یہ حکم ہوتا ہے واما بنعمۃ ربک فحدث اور اپنے رب کی نعمت کو بیان کیا کرو۔ نعمت کا لفظ عام ہے۔ کوئی بھی نعمت ہو اور بیان کرنے سے وہ بیان کرنا مقصود ہے جس میں تعلی اور استکبار یا ریاکاری نہ ہو بلکہ اوروں کو حق سبحانہ کی عطاء وجود کی طرف رغبت دلانا مقصود ہو۔
بعض علماء نے بقرینہ فھدٰی نعمت سے مراد نبوت و ہدایت لی ہے اور دراصل یہ بڑی نعمت ہے۔ اس سے بڑھ کر اور کیا نعمت ہوسکتی ہے اور اس کے بیان کرنے سے بندوں میں اس کا اظہار اور ابلاغ اور گمراہوں کی رہنمائی کرنا مراد ہے۔
فائدہ : قرآن مجید میں جو کچھ روحانی برکات ہیں وہ تو ہیں ہی مگر امور معاش میں بھی ایک ادنیٰ تاثیر یہ ہے کہ جب کسی کی کوئی چیز گم ہوجاوے تو سات بار اس سورة مبارکہ کو پڑھے۔ انگلی کے سرے کو سر کے ارد گرد پھراتا جاوے اور اس کے بعد اصبحت فی امان اللہ وامسیت فی جوار اللہ امسیت فی امان اللہ واصبحت فی جوار اللہ پڑھ کر دستک دے تو وہ چیز مل جائے۔ روح جو اپنا عالم قدس کا آشیانہ کھو بیٹھی ہے۔ اس سے اس کا بھی جلد پتا مل جاتا ہے۔ اللہ اکبر۔