92. Surah Al-Lail

الليلThe Night · 21 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 92:1–11

وَ الَّیْلِ اِذَا یَغْشٰىۙ Open ayah 92:1 in the Quran reader

قسم ہے رات کی جبکہ چھا جائے

وَ النَّهَارِ اِذَا تَجَلّٰىۙ Open ayah 92:2 in the Quran reader

اور دن کی جبکہ روشن ہوجائے

وَ مَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَ الْاُنْثٰۤىۙ Open ayah 92:3 in the Quran reader

اور قسم ہے اس کی کہ جس نے نر و مادہ کو بنایا

اِنَّ سَعْیَكُمْ لَشَتّٰىؕ Open ayah 92:4 in the Quran reader

بیشک تمہاری کوشش مختلف ہے۔

فَاَمَّا مَنْ اَعْطٰى وَ اتَّقٰىۙ Open ayah 92:5 in the Quran reader

پھر جس نے (اللہ کی راہ میں) دیا اور پرہیزگاری کی

وَ صَدَّقَ بِالْحُسْنٰىۙ Open ayah 92:6 in the Quran reader

اور نیک بات (کلمہ توحید) کو سچ جانا

فَسَنُیَسِّرُهٗ لِلْیُسْرٰىؕ Open ayah 92:7 in the Quran reader

تو ہم اس کے لیے جنت کی راہیں آسان کردیں گے

وَ اَمَّا مَنْۢ بَخِلَ وَ اسْتَغْنٰىۙ Open ayah 92:8 in the Quran reader

اور جس نے کنجوسی کی اور آخرت کی پروا نہ کی

وَ كَذَّبَ بِالْحُسْنٰىۙ Open ayah 92:9 in the Quran reader

اور نیک بات کو جھٹلایا

فَسَنُیَسِّرُهٗ لِلْعُسْرٰىؕ Open ayah 92:10 in the Quran reader

تو اس کے لیے ہم جہنم کی راہیں آسان کردیں گے

وَ مَا یُغْنِیْ عَنْهُ مَالُهٗۤ اِذَا تَرَدّٰىؕ Open ayah 92:11 in the Quran reader

اور اس کا مال اس کے کچھ بھی کام نہ آئے گا جبکہ وہ گڑھے میں پڑے گا۔

ترکیب ¦ والیل الواو للقسم اذا العامل فیھا معنی القسم والنھار عطف علیہ وما خلق الخ معطوف علی السابق وما مصدریۃ عند مقاتل والمعنی واقسم خلق الذکر والانثیٰ ۔ وعند الجمھور موصولۃ ای والذی خلقھما وما بمعنی من فقدا قسم بنفسہ الکریمۃ ان سعیکم لشتی جواب القسم ای عملکم مختلف فمنہ عمل للجنۃ ومنہ عمل للنارا ومنکم مومن ومنکم کافر السعی العمل وشتی جمع شتیت کمرضی جمع مریض والشتات ھوالافتراق ومعناہ مختلف لتباعد لبعض عن البعض۔ وسعیکم مصدر مضاف فیفید العموم فھو جمع معنی فاما من الخ شرط سنیسرہ الخ جواب والسین فی الموضعین للتسویف وھو من اللہ محقق والحسنی ای الخصلۃ الحسنیٰ اتشتمل کل فعل محمود من التوحید والایمان والفرایض والیسرٰی والعسرٰی المراد بھما جماعۃ الاعمال فوجہ التانیث ظاہر وان کان المراد عملاواحد ارجع التانیث ای الخلۃ اوالفعلۃ اوالمراد بھما الطریقۃ فکانہ قال للطریقۃ الیسریٰ والعسریٰ وفی تفسیر ھما اقوال (1) المراد بالیسرٰی الجنۃ وبالعسری النار (2) والمراد بالیسرٰی الخیر وبالعسرٰی الشر (3) المراد بالیسرٰی العود الی الطاعۃ وبالعسری الرجوع الی القبائح کالبخل والتکذیب واتباع الھوٰی وانما سمیت بالعسرٰی لاعتبار العسرفی ارتکابھا علی اھل السعادۃ اولا عتبار نتائجھا وھی العذاب۔ تفسیر ¦ یہ سورة بھی مکہ میں نازل ہوئی۔ ابن عباس و ابن زبیر ؓ کا بھی یہی قول ہے۔ اس میں اکیس آیات ہیں۔ بیہقی نے اپنی سنن میں جابر بن سمرہ ؓ سے روایت کی ہے کہ آنحضرت ﷺ ظہر و عصر میں والیل اذا یغشی جیسی سورتیں پڑھا کرتے تھے۔ طبرانی نے اپنی کتاب اوسط میں انس ؓ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ان کو ایک بار ظہر کی نماز پڑھائی کسی قدر آواز بلند ہوئی تو معلوم ہوا کہ سورة والشمس وضحاھا اور والیل اذا یغشی پڑھ رہے ہیں۔ ابی بن کعب ؓ نے عرض کیا کہ یا حضرت کیا آپ کو اس نماز میں کسی خاص سورة پڑھنے کا حکم ہوا ہے۔ فرمایا نہیں لیکن میں چاہتا ہوں کہ تمہارے لیے وقت مقرر کر دوں۔ ربط : ربط اس سورة کا پہلی سورة سے یہ ہے کہ (1) دونوں سورتوں کے ابتداء میں ان چیزوں کی قسم ہے جو باہم نہایت مناسبت رکھتی ہیں۔ (2) پہلی سورة میں نفوس انسانیہ کا اختلاف مذکور تھا کہ بعض کو فجور کا الہام ہوتا ہے تو بعض کو تقویٰ کا۔ اس سورة میں یہی تفاوت بیان فرمایا ہے بقولہ ان سعیکم لشتی اور پھر اس کی آگے تفصیل فرمائی ہے بقولہ فاما من اعطیٰ الخ۔ (3) اس سورة میں اشقی 1 ؎ کا بیان تھا تو اس سورة میں جماعت اشقیا کا بیان ہے۔ اگرچہ الفاظ سورة کے عام ہیں مگر سبب نزول اس کا علماء نے یوں بیان فرمایا ہے کہ مکہ میں دو شخص بڑے مالدار تھے۔ ایک صدیق اکبر ؓ دوسرا امیہ بن خلف مگر دونوں کا مال خرچ کرنے میں مختلف طریقہ تھا۔ امیہ کے بہت سے غلام مختلف کاموں پر معین تھے اور ہر قسم سے اس کے پاس مال تھا باوجود اس کے خدا کی راہ میں ایک پیسہ بھی خرچ نہیں کرتا تھا اور جو کسی غلام نے دے دیا تو اس پر آفت آجاتی تھی اور جو کوئی اس سے توشہ آخرت پیدا کرنے کو کہتا تھا تو یہ کہتا کہ آخرت ہے کہاں اور جو ہوئی بھی تو میرا یہ بیشمار مال اور یہ غلام اور یہ اولاد کافی ہیں مجھے محمد (ﷺ) کے ان نعیم جنت کی پروا نہیں جن کا وہ فقیروں ٗ کنگالوں کو لالچ دلا کر اپنا معتقد بناتا ہے۔ اس کے غلاموں میں سے ایک بلال ؓ بھی تھے۔ یہ نیک طینت توحید و ایمان کی دولت سے مالا مال ہوچکے تھے۔ اس بدبخت کو جو خبر ہوئی تو روکنا چاہا اور جب نہ مانا تو طرح طرح کی ایذائیں دینی شروع کیں۔ چناچہ اول اپنے غلاموں کو حکم دیا کہ اس کے بدن میں کانٹے اور سوئیاں چبھوئو۔ پھر عین دوپہر میں مشکیں باندھ کر جلتے پتھروں پر چت لٹا دو ۔ پھر شام کو اس تنگ مکان میں کہ جہاں سخت گرمی ہو ٗ بند کرو اور بعدہ کوڑے مارو۔ چناچہ ایسا ہی کرتے تھے مگر اس تکلیف کے وقت بلال ؓ کے منہ سے احد احد ہی نکلتا تھا کہ اللہ ایک ہے ٗ اللہ ایک ہے۔ ایک روز ابوبکر صدیق ؓ اس بدبخت کے محلہ میں گئے۔ اس کے گھر میں سے آہ وزاری اور شور و فریاد کی آوازیں سنائی دیں۔ پوچھا کہ یہ کیا واقعہ ہے ؟ کسی نے اصل حال سے مطلع کیا کہ بلال ؓ کو بجرم اسلام مارتے پیٹتے ہیں۔ صدیق اکبر ؓ کو بڑا رحم آیا اور آپ امیہ سے ملے اور کہا تو خدا سے نہیں ڈرتا کس لیے کہ اس بےکس اور غریب کو اتنی تکلیف دیتا ہے ؟ اس نے کہا اگر تو خدا ترس اور اسلام کا حامی ہے تو اس کو خرید لے۔ آپ نے فرمایا بہت اچھا ٗ کیا مانگتا ہے ؟ اس نے کہا اس کے بدلے میں مجھے اپنا غلام نسطاس رومی دے دے۔ یہ رومی غلام بڑا ہوشیار اور قابل تھا ٗ دو ہزار دینار اس نے اپنی کمائی سے جمع کر رکھے تھے۔ صدیق اکبر ؓ نے نسطاس دے کر بلکہ اور بھی کچھ دے کر بلال کو خریدا اور آنحضرت ﷺ کی خدمت میں تشریف لائے اور لا کر آزاد کردیا۔ اسی طرح اور بہت سے غلاموں اور لونڈیوں کو جو مسلمان ہوگئے تھے اور اپنے کافر اور بےرحم مالکوں سے بےانتہا اذیتیں اٹھاتے تھے ٗخرید کر آزاد کیا۔ ازانجملہ عامر بن فہیرہ ؓ ہے۔ یہ بڑے اولیاء اللہ میں سے تھے۔ یہ شخص ہجرت میں آنحضرت ﷺ کے ساتھ تھے اور جنگ بیئرمعونہ میں شہید ہوئے۔ ازانجملہ زبیرہ لونڈی ہے جس کو خرید کر آزاد کیا۔ آزادی کے بعد اس کی بینائی جاتی رہی تھی۔ اس کے مالکوں نے طعنہ کے طور سے کہا دیکھی ہمارے لات 1 ؎ و عزیٰ کی کرامات تم کو اندھا کردیا۔ اس نے کہا ٗ وہ کیا کرسکتے ہیں میرا اللہ ہی اندھا کرتا ہے ٗ وہی آنکھوں میں روشنی دیتا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس کی آنکھیں روشن کردیں۔ صدیق اکبر ؓ کے پاس چالیس ہزار درہم تھے۔ بہت تو مکہ میں آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں کے خرچ میں صرف ہوئے اور جو کچھ باقی رہے تھے ان کو آکر مدینہ میں صرف کیا جن سے مسجد نبوی کی زمین خریدی گئی اور اسی لیے نبی کریم ﷺ بارہا فرمایا کرتے تھے۔ ان من امن الناسعلی فی صحبتہ ومالہ ابوبکر ولوکنت متخذا خلیلا لاتخذت ابا بکر خلیلاً ولکن اخوۃ الاسلام ومودتہ (متفق علیہ) “ ’ کہ سب لوگوں کے جان اور مال سے ابوبکر کا مجھ پر بڑا احسان ہے اگر خدا کے سوا میں اور کو خلیل بناتا تو ابوبکر کو لیکن اخوت اسلامی اور اس کی مؤدت کافی ہے “۔ یہاں تک کہ ایک بار جبکہ ابوبکر ؓ کے پاس کچھ نہ رہا تو کمبل لپیٹ کر کانٹے کا تکمہ لگا کر آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ اتنے میں جبرئیل بھی نازل ہوئے اور کہا اے محمد ﷺ خدا تعالیٰ ابوبکر کو سلام کہتا ہے اور پوچھتا ہے کہ اس فقر میں بھی تو مجھ سے راضی ہے یا کچھ کدورت آگئی ؟ یہ سن کر ابوبکر ؓ پر ایک وجد کی حالت طاری ہوگئی اور کہنے لگے کہ ہائے ہائے مجھے اپنے مولیٰ سے کدورت ہو ؟ اور بار بار اس کلمہ کو کہتے تھے۔ انا عن ربی راض انا عن ربی راض 2 ؎ ؓ حق تعالیٰ اس سورة میں ان دونوں شخصوں کے معاملات و حالات کا نقشہ کھینچ کر سعادت و شقاوت کے دورستہ بتاتا ہے اور بنی آدم کی مختلف کوششوں کا مآل کار ظاہر فرماتا ہے۔ سعادت کی طرف نفوس انسانیہ کو ابھارتا ہے۔ فقال والیل اذا ایغشی یعنی قسم ہے رات کی جبکہ چھا جائے یا کہو آفتاب کے نور کو چھپا لے اور جہان کو تاریک کر دے اور سب کو ڈھانک لے۔ یہ کنایہ ہے انسان کی اس ظلمانی حالت سے جو اس کے نور روحانی اور نور قلب کو چھپا کر اس کے اندرونہ جہان میں اندھیرا کردیتی ہے اور اس سے پھر گو ناگوں افعالِ بد سرزد ہوتے ہیں جیسا کہ رات میں اندھیرے کے سبب چوروں ٗ زناکاروں ٗ جادوگروں کو موقع ملتا ہے۔ اسی طرح اس اندھیرے میں شیطان اور نفس امارہ کے چوروں ‘ قزاقوں کو اپنی کارروائی کا موقع ملتا ہے اور رات دنیا میں ایک انقلاب عظیم بھی ہے اور موت اور قیامت کا بھی پورا نمونہ ہے۔ کس لیے کہ رات میں یکے بعد دیگرے باتیں کرتے کرتے سو جاتے ہیں۔ 1 ؎ یہ دو بت ان کے بڑے معبود تھے جیسے کہ ہنود کے مہا دیووبشن۔ 12 منہ 2 ؎ میں اپنے رب سے خوش ہوں میں اپنے رب سے خوش ہوں۔ 12 منہ تھوڑی دیر کے بعد سناٹا ہوجاتا ہے۔ سب مردوں کی طرح فرشوں پر بیخبر لیٹے ہوتے ہیں۔ نہ اس وقت اپنے مال کی خبر ہوتی ہے نہ اولاد کی نہ کسی کے نیک و بد کہنے کی۔ یہی حال خواب عدم کا ہے یکے بعد دیگر مرجاتے ہیں ٗ سب کو یہیں چھوڑ جاتے ہیں۔ ایک عرصہ کے بعد اس کے ہمعصروں میں سے کوئی انسان کیا جانور بھی باقی نہیں رہتا سب پر خواب عدم طاری ہوجاتا ہے۔ اس لحاظ سے یہ ایک بڑی نشانی قدرت کاملہ کی ہے۔ اس لیے اس کی قسم کھائی گئی۔ والنہار اذا تجلی اور قسم ہے دن کی جبکہ روشن ہوجاوے۔ یہ اس کی قدرت کاملہ کی دوسری نشانی ہے کہ اب دوسری حالت پلٹ دی جو بیخبر پڑے سوتے تھے ٗ جاگ اٹھے اور پھر ہائے ہو ہونے لگی۔ پرند چہچہانے لگے ٗ چرند جنگل کی طرف جانے لگے۔ ہر ایک کاروبار والا اپنے کاروبار کی طرف چلنے لگا۔ مسافر کمر باندھنے لگے۔ یہ حشر کا نمونہ ہے اور اس میں انسان کی اس نورانی حالت کی طرف اشارہ ہے جبکہ اس میں آفتاب روح جلوہ گر ہوتا ہے اور رات کے چور بدمعاش بھاگنے لگتے ہیں اور نیک کاموں کی طرف اس کے ارادوں کے لوگ دوڑنے لگتے ہیں۔ چناچہ آگے انہیں دونوں حالتوں کی طرف ایما ہوتا ہے کہ ہم ایمانداروں ٗ نیکو کاروں کو نیکی کا رستہ آسان کردیتے ہیں اور بےایمانوں ٗ بدکاروں کو بدی کا رستہ آسان کردیتے ہیں۔ رات دن بھی نر و مادہ سے مشابہت رکھتے ہیں اور ان کے افعال و خواص میں بڑا اختلاف ہے۔ ہر ایک کی کوشش مختلف ہے۔ اسی طرح مخلوق میں نر و مادہ کا حال ہے۔ اس لیے اس کے بعد نر و مادہ کی بھی قسم کھاتا ہے۔ فقال وما خلق الذکر والانثیٰ اور قسم ہے نر و مادہ پیدا کرنے کی یا یوں کہو کہ قسم ہے اس ذات پاک کی (یعنی اپنی) کہ جس نے نر و مادہ پیدا کیا۔ بعض کہتے ہیں نر سے خاص آدم (علیہ السلام) اور مادہ سے حضرت حوا مراد ہیں جو تمام بنی آدم کی اصل ہیں۔ بعض کہتے ہیں ہر ایک نر و مادہ ہے خواہ انسانی ہو خواہ حیوانی خواہ اور مخلوق کی یہ بھی اس کی قدرت کاملہ کی بڑی نشانی ہے۔ کس لیے کہ نر و مادہ کا ایک ہی مادہ ہے یعنی ایک ہی تخم سے پیدا ہوتے ہیں پھر وہ کون ہے کہ اسی سے کسی کو نر اور کسی کو مادہ کردیتا ہے۔ حیوانات و انسان کے ہر صنف و نوع میں یہی قانون جاری ہے۔ پھر نر اور مادہ میں جو جو چیزیں ہونی چاہییں تھیں وہ سب ہر ایک موقع سے پیدا کیں۔ اعضائِ انسانی کے تناسب کو اگر بغور دیکھا جاوے تو عقل حیران ہوجاوے۔ ماں کے ستر مخصوص کو جو ایک شرم کی چیز ہے کس موقع پر پیدا کیا اور اس کے ہاتھ پائوں میں حتٰی کہ سر کے بالوں اور دیگر بدن کے صاف ہونے میں کیا مصلحتیں ملحوظ رکھی ہیں۔ پھر اندرونی اعضائے توالد و تناسل میں کیا کیا کاریگریاں کی ہیں۔ پھر اس کے قویٰ و عادات و افعال طبعیہ میں کیا کیا مصلحتیں رکھی ہیں۔ اگر نر و مادہ نہ ہوتے ٗ سب نر ہوتے یا سب مادہ ہوتے تو کیا کیا مشکلیں پیش آتیں اور سب سے بڑھ کر یہ ہے کہ نر و مادہ میں ایک مقناطیسی کشش ایسی رکھی ہے کہ جس نے ایک کو دوسرے کا فریفتہ کردیا ہے اور اس میں اشارہ ہے کہ جس طرح نر و مادہ کے تخم میں نر و مادہ ہونے کی صلاحیت رکھی ہوئی ہے اسی طرح ہر ایک میں خیر و شر ‘ نقصان و کمال کی بھی قابلیت پیدا کی ہے اور جس طرح نر و مادہ کے میل سے اولاد پیدا ہوتی ہے اسی طرح انسانی قویٰ کے باہمی اختلاط سے بھی عجائب وغرائب ثمرات پیدا ہوتے ہیں۔ اگر خیر کی طرف ہے تو فرشتوں سے جا ملتا ہے اور شر کی طرف ہے تو شیاطین سے بھی برا ہوتا ہے اور مر کر ان کی جماعت میں جا ملتا ہے اور اسی کی اصلاح کے لیے حضرات انبیاء (علیہم السلام) دنیا میں بھیجے گئے ہیں جس طرح رات اور دن کی کوشش اور افعال و خواص میں اختلاف ہے۔ اسی طرح نر و مادہ کی بھی۔ نر کا مقتضائے طبعی اور مادہ کا اور اسی لیے اس مناسبت سے ان چیزوں کی قسم کھا کر فرماتا ہے ان سعیکم لشتی کہ اے بنی آدم اعمال و اشغال میں تمہاری کوشش و ہمت اور جدوجہد گو ناگوں ہے۔ ہرچند یہ بات ذکر و انثیٰ کی پیدائش سے عیاں تھی مگر اس کے بعد اس کا ذکر کرنا گویا دعویٰ کو مع دلیل ذکر کرنا ہے پھر کسی کی کوشش رات کی طرح ظلمانی ہے۔ برے کام کرتا ہے اور کسی کی دن کی طرح نورانی ہے اچھے کاموں میں سرگرمی کر رہا ہے پھر کوئی اپنی کوشش میں مرد میدان ہے تو کوئی نامرد اور زن ہے اور پھر کسی کی کوشش مردانہ ہے زبوں اور دنیائے دوں کی طرف متوجہ نہیں ہوتا۔ سعادت کے بلند مقامات ہی کے طے کرنے کے درپے رہتا ہے اور کسی کی کوشش زنانہ ہے۔ دنیا کی خسیس چیزوں پر مر رہا ہے۔ لذائذِ فانیہ پر فریفتہ ہے۔ حیات کے سبز باغ پر شیدا ہے۔ کوئی ہے کہ رات دن مال و زر جمع کرنے میں لگا ہوا ہے نہ اس کو دن میں چین نہ رات کو کھانے پینے پہننے کا خیال۔ نہ کبھی یہ خیال آتا ہے کہ ایک روز مرنا اور ان سب کو چھوڑ جانا ہے اور جب اس دولت سے کوئی تمتع ہی نہیں تو پھر کس کام آوے گی اور کوئی ہے کہ اس کی ہمت مردانہ کے نزدیک مال و زر تو کیا ‘ دنیا کی سلطنت بھی کوئی چیز نہیں۔ وہ سمجھتا ہے کہ چند روزہ مہمان ہوں جہاں سدا رہنا ہے راحت و عزت ہو تو وہاں کے لیے ہو یہاں آرام سے گزر گئی تو کیا تکلیف سے گزر گئی تو کیا ع شب تنور گزشت و شب سمور گزشت اس کے بعد ان مختلف مساعی کے نتائج مختلف بیان فرماتا ہے۔ فاما من اعطیٰ کہ جس نے اللہ کی راہ میں دیا حتی المقدور سب نیک کاموں میں خرچ کیا۔ یہ زکوٰۃ و صدقات کو بھی شامل ہے اور ہر قسم کی خیرات کو بھی۔ یہ وہ پہلا کام ہے کہ جس کی خوبی پر تمام مذاہب اور دنیا بھر کے عقلاء کا اتفاق ہے۔ دوم واتقٰی اور برائیوں سے بھی بچا۔ ظلم و ستم زناکاری جھوٹ بولنا ‘ کسی پر اتہام لگانا ‘ ناحق قتل کرنا ‘ چوری کرنا ‘ ماں باپ کی نافرمانی کرنا وغیرہ کبائر سے دور رہا جس میں دیگر فقیر مسکین و اہل قرابت پر احسان جتلانا یا ریاکاری کے لیے دینا بھی آگیا۔ الغرض پرہیزگاری کی۔ کس لیے کہ دینے کے بعد افعال قبیحہ سے بچنا بھی شرط ہے۔ یہ وہ دوسری بات ہے جس کو اکثر کیا بلکہ کل مذاہب مانتے ہیں۔ خیر یہاں تک قوت عملیہ کی اصلاح تھی۔ عبادت مالی اور بدنی سے اور نیز بری باتوں کے عمل میں لانے سے مگر ان سب کے بعد عقائد کا درست کرنا بھی ضرور ہے یعنی قوت نظریہ کا یا کہو عمل کے بعد علم کی اصلاح۔ اس لیے فرماتا ہے وصدق بالحسنٰی۔ اور اسی نے نیک باتوں کو سچ بھی جانا ہو جیسا کہ حق سبحانہ اور اس کے صفات کاملہ اور حضرات انبیاء (علیہم السلام) اور قیامت اور آسمانی کتابوں کی تصدیق یا جو کچھ انبیاء نے فرمایا اس کی تصدیق جس کو ایمان کہتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں حسنٰی کلمہ توحید ہے۔ اس بات کو عقلاء و حکماء بھی مانتے ہیں کہ مرنے کے بعد انسان کی روح باقی رہتی ہے اور وہ ایک دوسرے جہان میں جاتی ہے جہاں اس کے علم (گیان) کے موافق بشرطیکہ وہ علم صحیح ہو کیونکہ یا تو علم ہی نہ ہوا اور ہوا تو خلاف واقع کے ہوا کہ بات تھی کچھ اور اس نے جان لی کچھ اور جس کو جہل مرکب کہتے ہیں تو روح پر تاریکی طاری ہوتی ہے اور یہ تاریکی رنج و غم اور جہنم ہے اور اگر علم ہے اور علم بھی علم صحیح تو یہ ایک نور ہے جو راحت و سرورو جنت و سرگ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ انتہٰی قولہم۔ لیکن یہی بات تو قابل بحث ہے کہ مطابق واقع کیا ہے اور خلاف واقع کیا اعتقاد ہے کس لیے کہ مشرکین اور مذاہب باطلہ اپنے من گھڑت خیالات و توہمات کو اعتقاد کامل اور علم کو مطابق واقع سمجھا کرتے ہیں اور اپنے مخالف کے اعتقاد کو جہل مرکب۔ اس بات کا فیصلہ بھی انہیں الفاظ میں کردیا کیونکہ جن کی تصدیق کرنی چاہیے یا یوں کہو جن پر ایمان لانا چاہیے ان کو حسنٰی کے لفظ سے تعبیر کرکے بتا دیا کہ ایمان لانے کے قابل وہی باتیں ہیں جو عمدہ اور خوب ہوں۔ اب ہر ایک بات کی عمدگی اور خوبی کی پہچان دو ہی باتوں پر منحصر ہے۔ اول یہ کہ کوئی مسلم شخص جس کے علم و انکشاف کو ایک عالم نے تسلیم کرلیا ہو ان کو عمدہ کہے۔ دوم یہ کہ عقل سلیم کے حوالے کرکے (جبکہ عوارض وہم اس سے دور ہوں) دریافت کیا جاوے کہ ان میں حسن و خوبی یعنی راستی بھی ہے کہ نہیں۔ وہ شخص کہ جو مسلم ہے نبی ہے کیونکہ اس کا علم و انکشاف اور لوگوں کے علم و انکشاف سے خواہ وہ کیسے ہی مرتاض ہوں بدرجہا فائق ہے۔ پس اس کے فرمودہ عقائد حسنیٰ ہیں نہ کہ تثلیث۔ علیٰ ہذا القیاس عمل کے متعلق جو کچھ انہوں نے فرمایا خدا کی عبادت و خیرات جملہ بری باتوں سے پرہیزگاری اب یہ تین باتیں ہوئیں۔ پھر جس نے ان تین باتوں کے حاصل کرنے میں کوشش اور ہمت کی تو فسنیسرہ للیسریٰ ہم اس کے لیے یسرٰی کو آسان کردیں گے۔ یسرٰی سے مراد آسان طریقہ وصول الی اللہ اور وصول الی الجنۃ کا ہے اور وہ طریقہ آسان شرع محمدی ہے علیہ السلام۔ کس لیے کہ اگر بغور دیکھو گے تو ہر طریقہ میں دقت و دشواری پاؤ گے برخلاف شریعت کے یعنی ہم اس کو اس نیک رستہ پر چلنے کی توفیق عطا کریں گے۔ جب انسان کوئی کام بار بار کرتا ہے تو اس کا ملکہ پیدا ہوجاتا ہے۔ اگر نیک کاموں کی عادت ڈالے گا جن کا ذکر ہوا تو ایک نورانی ملکہ پیدا ہوگا جس سے اس کو ہر نیک کام آسان معلوم ہوگا اور پھر مرنے کے بعد یہی ملکہ بارگاہ قدس اور عالم باقی میں پہنچانے کا ذریعہ ہوجاوے گا اور یہی ملکہ قبر کی روشنی اور پل صراط کا نور اور میدان حشر میں سایہ اور نجات کے لیے دلیل ہے۔ وامامن بخل اور جو بخل کرتا ہے اللہ کی راہ میں کچھ نہیں دیتا مال کی محبت کی جڑ اس کے دل پر ہے۔ یہ اول صفت کی ضد ہے واستغنٰی اور بےپروائی بھی کی یعنی پرہیزگاری نہ کی بڑی بےپروائی اور تکبر سے برے کام کرنے لگا۔ قوت عملیہ بگاڑ لی۔ یہ دوسری صفت کی ضد ہے۔ وکذب بالحسنیٰ اور نیک باتوں کو جھٹلا دیا۔ نہ اللہ تعالیٰ کا قائل رہا اور قائل ہوا تو توحید کا قائل نہیں نہ اور صفات حمیدہ کا نہ دار آخرت کا اور نہ اعمال کی جزا کا قائل نہ انبیاء (علیہم السلام) کا قائل۔ یہ تیسری صفت کی ضد ہے۔ اب اس شخص میں بدی کا پورا ملکہ پیدا ہوگیا جو سخت ظلمانی ملکہ ہے فسنیسرہ للعسریٰ تو اس کے لیے ہر عمل بدخواہ کیسا ہی سخت اور مشکل ہو آسان ہوجاتا ہے جس میں ملکہ خیر ہے۔ اگر اس سے کہو چوری کر یا زنا کر یا فلاں کو مار ڈال وہ کبھی نہ کرے گا اور یہ کام اس کو پہاڑ معلوم ہوگا اور کہو تہجد کی نماز پڑھا کر ‘ اللہ کی راہ میں غرباء و مساکین کو دیا کر وہ اس کو بہت ہی آسان کام جانے گا اور جس میں بد ملکہ پیدا ہوگیا ہے اس کا معاملہ برعکس ہوجاتا ہے۔ تمام عمر زنا کرے گا اور یہ اس کے نزدیک آسان کام ہے۔ اگر کہو نکاح کرلے نہ کرے گا یہ مشکل کام ہے۔ ناحق قتل کر ڈالنا ‘ رات کو چوری کرنا ‘ سردی اور برسات کی تکلیف اٹھانا یا رات بھر ناچنا اور رات بھر محفل رقص و سرود میں جاگنا آسان مگر آدھ گھنٹہ بھی عبادت کے لیے جاگنا اور وضو کی تکلیف اٹھانا پہاڑ سے بھاری ٗ فواحش کو ہزاروں روپیہ دے ڈالنا آسان۔ اللہ کی راہ میں دو پیسے بھی دینا سخت مشکل۔ یہ ملکہ ظلمانی جس کے سبب خدا نے تمام بد راہوں کے لیے برے کام آسان کردیے قبر میں عذاب اور حشر میں جہنم اور طوق و زنجیر ہے۔ اعاذنا اللہ منہا۔ اول ملکہ دن روشن سے اور دوسرا چھا جانے والی رات سے مشابہ ہے۔ اول کا صاحب نر دوسرے کا صاحب مادہ ہے مگر وہ بد بخت جو مال میں بخل کرتا تھا اور نیک کام میں صرف نہ کرتا تھا نہ آپ فائدہ اٹھاتا تھا وما یغنی عنہ مالہ اذا تردٰی اس کے مرنے کے بعد وہ کس کام آئے گا۔ وہ تو اوروں کے ہاتھ میں چلا جائے گا یا یوں کہو جبکہ جہنم کے عمیق گڑھے میں گرے گا تب وہ مال کیا کام آئے گا۔ پھر اس پر اس قدر فریفتگی۔ فائدہ 1 : جس طرح تزکیہ اور کمال کے لیے تین وصف بیان فرمائے تھے۔ ایک اعطٰی اللہ کی راہ میں دینا دوم واتقی پرہیزگاری۔ سوم وصدق بالحسنیٰ درستی اعتقادات و ایمان۔ اسی طرح نقصان و تلویث کے لیے ان تین وصفوں کے مقابلہ میں تین صفت رذیلہ بیان فرمائے۔ بخل اعطٰی کے مقابلہ میں بخل بھی بڑا ہی عیب ہے۔ بخیل کے ہنر بھی عیب معلوم ہوا کرتے ہیں۔ اس کے دوست دشمن ہوجاتے ہیں۔ خلائق میں اس سے نفرت پیدا ہوجاتی ٗ کوئی بھلائی سے یاد نہیں کرتا۔ عالم بالا میں یہ حقیر شمار ہوتا ہے اور اتقٰی کے مقابلہ میں واستغنٰی تکبر و احکامِ الٰہی سے بےپروائی گناہوں اور برے کاموں سے بےپروا ہو کر عمل میں لانا معاذ اللہ فاسق و بدکار بھی مخلوق میں گھنونا ہوجاتا ہے۔ اس کے کسی کام میں برکت نہیں ہوتی۔ عالم قدس کے لوگ اس سے نفرت کرتے ہیں۔ اس کی دعا کو قبولیت نہیں۔ عمر و مال میں برکت نہیں ہوتی۔ آخرت میں سخت عذاب میں مبتلا ہوتا ہے اور صدق بالحسنیٰ یعنی ایمان کے مقابلہ میں کذب بالحسنیٰ بےایمانی کافر و بد عقیدہ تو خدا کا دشمن اور سخت مقہور ہوتا ہے۔ اس کے کسی نیک کام کا بھی آخرت میں ثمرہ نہیں ملتا کیونکہ آخرت کا اعتقاد نہیں۔ اب درمیانی تیسرا مرتبہ رہ گیا کہ اس میں بعض صفات حمیدہ ہیں تو بعض رذیلہ اس کو مخاطبین کے فہم پر چھوڑ دیا کہ وہ آپ سمجھ لیں گے اگر ایمان ہے تو قصور عمل سے آخرکار نجات ہے۔
Ayahs 92:12–21

اِنَّ عَلَیْنَا لَلْهُدٰى٘ۖ Open ayah 92:12 in the Quran reader

ہم پر تو صرف رہنمائی کردینا ہے

وَ اِنَّ لَنَا لَلْاٰخِرَةَ وَ الْاُوْلٰى Open ayah 92:13 in the Quran reader

اور آخرت اور دنیا (دونوں) ہمارے بس میں ہیں۔

فَاَنْذَرْتُكُمْ نَارًا تَلَظّٰىۚ Open ayah 92:14 in the Quran reader

پس میں نے تم کو دہکتی آگ سے خبردار کردیا ہے

لَا یَصْلٰىهَاۤ اِلَّا الْاَشْقَىۙ Open ayah 92:15 in the Quran reader

جس میں صرف وہی بدبخت داخل ہوگا

الَّذِیْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰىؕ Open ayah 92:16 in the Quran reader

جو (دینِ حق کو) جھٹلاتا اور منہ موڑتا رہا

وَ سَیُجَنَّبُهَا الْاَتْقَىۙ Open ayah 92:17 in the Quran reader

اور اس آگ سے وہ پرہیزگاردور رہے گا

الَّذِیْ یُؤْتِیْ مَالَهٗ یَتَزَكّٰىۚ Open ayah 92:18 in the Quran reader

جو اپنا مال پاکیزگی حاصل کرنے کو دیا کرتا ہے

وَ مَا لِاَحَدٍ عِنْدَهٗ مِنْ نِّعْمَةٍ تُجْزٰۤىۙ Open ayah 92:19 in the Quran reader

اور اس پر کسی کا کوئی احسان بھی نہیں کہ جس کا بدلہ اتارتا ہو۔

اِلَّا ابْتِغَآءَ وَجْهِ رَبِّهِ الْاَعْلٰىۚ Open ayah 92:20 in the Quran reader

وہ تو صرف اپنے عالیشان خدا کی رضامندی کے لیے دیا کرتا ہے

وَ لَسَوْفَ یَرْضٰى۠ Open ayah 92:21 in the Quran reader

اور وہ عنقریب خوش ہوجاوے گا۔

ترکیب ¦ للھدٰی اسم ان علینا خبرھا۔ ای علینا ان نبی ن طریق الھدٰی من طریق الضلال وقدفعلنا ذلک حیث بینا طریق کلا الفریقین ترغیبًا و ترہیبًا۔ قالہ الزجاج للآخرۃ معطوف علیہ والاولیٰ معطوف وکلاھما ان اسم ان لنا خبرھا والجملۃ معطوفتہ علی الجملۃ السابقۃ ومعناہ لنا کل ما فی الآخرۃ وکل ما فی الدنیا فمن ارادھما فلیطلب منا تلظٰی صفۃ نار و اصلہ تتلظی فحذفت احدی التاء ین تخفیفاً وقری علی الاصل ومعناہ تتوقد وتتلھب یقال تلظت النار تلظیا ومنہ سمیت جہنم لظٰی لا یصلاھا الجملۃ صفۃ ناروھوبیان لمنھی الا الاشقٰی استثناء متصل ای لا ید خلھا دخولا موبدا احد الا الاشقیٰ وھو الکافر والمشرک الذی کذب وتولیٰ وصف للاشقی الذی یوتی مالہ صفۃ للاتقٰی یتزکی فی محل نصب علی الحال من فاعل یؤتی ای حال کونہ طالبا للزکاۃ وھی طھارۃ النفس ویجوزان یکون بدلا من یؤتی داخلا معہ فی حکم الصلۃ وما لاحد الخ الجملۃ حال من فاعل یؤتی وقیل مستانقۃ لتقریر ماقبلھا من کون التز کی خالصًا للہ لا علی سبیل المعاوضۃ تجزٰی صفۃ نعمۃ ای لیس علی ھذا لموتی احسان احد یجزی بہ الا ابتغاء الخ قرء الجمہور بالنصب علی الاستثناء المنقطع لعدم اندراجہ تحت جنس النعمۃ وقیل مفعول لہ علی المعنٰی ای لایؤتی الا لابتغاء وجہ ربہ لالمکانۃ نعمۃ۔ وقریٔ بالرفع علی البدل من محل نعمۃ لان محلھا الرفع اما علی الفاعلیۃ واما علی الابتداء ومن مزیدۃ ولسوف اللام موطتہ للقسم ای وت اللہ لسوف یرضٰی بمانعطیہ من الاجر العظیم۔ تفسیر شبہ ¦ پہلے بیان سے (جو اس بابت تھا کہ خیرات اور پرہیزگاری اور ایمان لانے والے کے لیے نیکی کا راستہ آسان کردیتے ہیں اور ان تینوں باتوں کے خلاف کرنے والے کے لیے برائی کا رستہ آسان کردیتے ہیں جو سخت ہے) یہ شبہ پیدا ہوتا تھا کہ جب سب اسی کے ہاتھ میں ہے تو پھر آپ ہی کیوں ہدایت نہیں کردیتا۔ رسولوں کے بھیجنے اور کتابوں کے نازل کرنے سے کیا فائدہ ؟ جواب : اس کا جواب دو جملوں میں دیا جاتا ہے۔ اول ان علینا للہدیٰ کہ بندوں کی رہنمائی کرنا ہمارا ذمہ ہے۔ ہم نے اپنی رحمت سے اپنے اوپر واجب کرلیا ہے۔ اس لیے اول حواس خمسہ ظاہری اور حواس خمسہ باطنی عطا کئے۔ عقل و ادراک دیا جو نیک و بد میں امتیاز کرتا ہے۔ اس کے علاوہ رسول بھیجے۔ کتابیں نازل کیں۔ پھر رسولوں کے جانشین علماء و آئمہ و اولیاء و مرشدان دین و واعظانِ پُر گو قائم کئے اور حوادث دہر اور تغیرات عالم بلکہ ان کے حالات کے عبرت خیز نشان قائم کئے تاکہ باختیار و ارادہ نیک رستہ کو اختیار کریں، برے رستہ کو چھوڑیں اور یہ ہمارا ذمہ نہیں کہ زبردستی سے کسی کو بےارادہ و اختیار ہدایت پر لاویں بلکہ دونوں رستوں پر چلنا چلنے والے کے اختیار و ارادہ پر چھوڑ دیا۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو نافرمان اور مطیع اور نیک و بد میں کچھ فرق نہ رہتا اور انسان حجر و شجر کی طرح مجبور سمجھا جاتا اور انسان کو قدرت و اختیاردے کر اس عالم میں بھیجنے کا منشا غلط ہوجاتا۔ رہی توفیق جو انسان کے ارادہ اور اختیار سے متعلق ہے۔ وہ ضرور ہمارے ہاتھ میں ہے اور یہ کس لیے کہ وان لنا للآخرۃ و الاولیٰ دنیا اور آخرت ہماری ہے۔ ہمیں ان کے مالک و خالق و بادشاہ ہیں۔ ایک ذرہ بھی ہمارے ارادہ اور قدرت اور قضاء و قدر کے بغیر عالم وجود میں نہیں آسکتا۔ بندہ اور اس کے افعال اور جو کچھ راحت و رنج دنیا میں ہے وہ ہمارے اختیار و ارادہ سے موجود ہوتا ہے اور جو کچھ آخرت میں نعیم جنت اور عذاب دوزخ ہے وہ بھی ہمارا ہی مخلوق و مملوک ہے اور اسی لیے جو ہم سے دنیا مانگتا ہے اور جائز اور ناجائز طور پر اسی کے حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں کہ تمہاری کوششیں مختلف ہیں تو اس کو ہم جس قدر چاہتے ہیں دنیا کی کامیابی عطا کرتے ہیں اور جو عقبیٰ کی نعمتوں کے طالب اور حیات جاودانی اور سلطنت آسمانی کے خواہاں ہیں اور اس کے لیے سعی و کوشش کرتے ہیں، ان کو ہم وہ عطا کرتے ہیں۔ دونوں جہاں ہمارے ہیں جو جس کا طالب ہو اس کے لیے آوے اور حاصل کرلے۔ اس شبہ کو ان دونوں جملوں سے دفع کردیا اور جبر و قدر دونوں کو باطل کرکے درمیانی صاف اور سیدھا رستہ بتا دیا۔ اور جبکہ ہدایت کرنا ہمارا ذمہ ہے۔ اس لیے فاندرتکم نار اتلظٰی ہم نے تم کو اے بنی آدم ! اس شعلہ مارتی آگ سے خبردار اور متنبہ کردیا ہے اور یہ آگ مرنے کے بعد ایک دوسرے جہان میں کہ جہاں سب کو جانا ہے، موجود ہے اور قیامت کے روز سب پر ظاہر ہوجاوے گی۔ رحیم و کریم ہوں یوں ہی اس میں اپنے بندوں کو نہیں جھونک دوں گا بلکہ لایصلاھا الا لاشقٰی اس میں بجز بڑے بدبخت کے اور کوئی نہیں پڑے گا۔ اشقیٰ کے معنی : اب اشقی کی آپ ہی تفسیر بھی بیان فرماتا ہے۔ الذی کذب وتولیٰ کہ اشقی وہ ہے جس نے اللہ کے رسولوں اور اس کی فرمودہ باتوں کو جھٹلایا جن میں سے مرنے کے بعد اعمال نیک و بد کی جزاء و سزا بھی ہے اور جب جھٹلا دیا اور باور نہ کیا تو اس نے نیک کاموں سے منہ موڑ لیا۔ یہ وہی شخص ہے کہ جس کے لیے عسریٰ یعنی بدی کا رستہ آسان کردیا گیا تھا اور برے کام گو بظاہر مزے دار تھے مگر ان کا انجام یہ آگ ہے۔ اس لیے ان کو عسریٰ کہا گیا اور یہ اس لیے کہ کذب بالحسنیٰ کی جگہ تو کذب موجود ہے جو اس سے بھی عام ہے اور تولیٰ کی تفسیر بخل و استغنٰی ہوسکتی ہے۔ فرقہ مرجیہ کا قول ¦ علمائِ اہل سنت والجماعت کے نزدیک گنہگار مومن کو بھی آخرت میں عذاب النار ہوگا۔ اگر اللہ معاف نہ کر دے گا مگر فرقہ مرجیہ کہتا ہے کہ ایمان کے بعد کوئی ایسا گناہ نہیں جس سے جہنم میں جاوے۔ ہاں گناہوں کے سبب جنت میں درجات عالیہ نصیب نہ ہوں گے۔ اس لیے گنہگار مومن اور نیک مومن برابر نہیں اور دلیل ان کی یہ آیت اور اس قسم کی دیگر آیات ہیں اور یہ اس لیے کہ اشقٰی سے مراد کافر و مشرک ہی ہے کیونکہ بدبختی کی دو قسم ہیں۔ اول دنیا کی بدبختی، بیماری ‘ تنگ دستی ‘ مرگ احبہ ‘ شکست و ناکامی وغیرہ سو یہ بدبختی دنیا ہی میں تمام ہو چکتی ہے۔ آخرت میں اس کا کوئی اثر نہیں پہنچتا۔ دوسری عقبیٰ کی بدبختی پھر وہ دو قسم ہے۔ ایک یہ کہ ایمان تو ہے مگر برے اعمال کرنے سے یا عبادت و فرائض میں سستی کرنے سے بدبختی پیدا ہوئی جس کا نتیجہ درجات عالیہ سے حرمان ہے اور اسی لیے اس کو شقی کہتے ہیں اور دوسرے یہ کہ اس کے ساتھ ایمان بھی نہیں بلکہ الہامِ الٰہی کی تکذیب بھی کرتا ہے۔ سو یہ اشقٰی یعنی بڑا بدبخت ہے۔ اسی کے لیے خدائے پاک نے جہنم میں جانا بیان فرمایا ہے اور یہ عرف شرع میں کافر و مشرک ہے۔ کس لیے کہ کذب اسی پر صادق آتا ہے نہ مومن گنہگار پر۔ کس لیے کہ وہ تکذیب نہیں کرتا۔ اللہ اور اس کے رسولوں کی سب باتوں کو سچ جانتا ہے مگر خواہش نفسانی یا غفلت و سستی سے گناہ کرتا ہے۔ اہل سنت کی طرف سے مرجیہ کا جواب ¦ علمائِ اہل سنت ان کے جواب میں دو باتیں بیان فرماتے ہیں۔ اول یہ کہ جو گنہگار مومن جہنم میں داخل ہوگا۔ وہ وہاں سدا نہ رہے گا۔ چند روز سزا ہوگی۔ سو ایسا داخل ہونا کچھ داخل ہونا نہیں۔ کس لیے کہ آیت میں داخل ہونے سے ہمیشہ کے لیے داخل ہونا مراد ہے۔ دوم یہ کہ نار اتلظٰی تو خاص کافروں کے لیے ہے اور گنہگار مومن جس آگ میں داخل ہوگا تو وہ اور آگ ہوگی جو اس آگ کے آگے کچھ بھی نہ ہوگی۔ اتقیٰ کی تفسیر : وسیجنبہا الاتقٰی اور اس آگ سے عنقریب بڑا پرہیزگار دور رہے گا۔ اب اس اتقٰی کی تفسیر بیان فرماتا ہے۔ فقال الذی یوتی مالہ یتزکٰی کہ وہ جو اپنا مال خرچ کرتا ہے۔ فقراء و مساکین کو دیتا ہے۔ ریاکاری اور نمود یا غرض دنیاوی کے لیے نہیں بلکہ طہارت اور پاکیزگی حاصل کرنے کے لیے اور اپنے درجات کی دم بدم ترقی کے لیے۔ زکوٰۃ کے معنی پاکیزگی کے بھی ہیں اور افزائش و زیادہ کرنے یا ہونے کے بھی ہیں۔ اس جگہ دونوں معنی صادق آتے ہیں۔ کس لیے کہ اتقیٰ اپنا مال محض رضائے الٰہی کے لیے خرچ کیا کرتا ہے۔ جیسا کہ آگے آتا ہے اور رضائے الٰہی میں صرف کرنے سے درجات و تقربات میں ترقی و افزائش بھی ہوتی ہے کیونکہ اس شجر تقرب کے لیے یہ عبادت پانی اور ہوا ہے جس سے یہ درخت بڑھتا ہے اور نیز اس کو ایک قسم کی نورانیت قلب حاصل ہوتی ہے جس کو انشراح کہنا چاہیے اور یہ نجاست بخل اور کدورات طمع و ظلمت ‘ حبِّ مال سے پوری پاکیزگی ہے۔ پھر اس یتز کیٰ کی تشریح کرتا ہے۔ وما لاحد عندہ من نعمۃ تجزیٰ یعنی اس کو کسی کا دینا نہیں آتا جو اس کے بدلہ میں دیتا ہو۔ کسی کی نعمت و احسان کا بدلہ نہیں آتا۔ الا ابتغاء وجہ ربہ الاعلیٰ بلکہ محض اپنے خدائے برتر کی ذات کی خواہش میں یعنی خاص اسی کی رضامندی حاصل کرنے کے لیے دیتا ہے اور کوئی غرض نہیں۔ پھر اس اتقٰی کا دار آخرت میں کیا انجام ہوگا ؟ آپ ہی بیان فرماتا ہے۔ ولسوف یرضٰی قسم ہے کہ وہ بہت جلد راضی ہوجاوے گا یعنی دار آخرت میں اس قدر نعمتیں اور اس جہان کی خوبیاں اس کو عطا ہوں گی کہ راضی ہوجاوے گا۔ اپنے صرف کرنے اور خدائے پاک و برتر کی رضامندی حاصل کرنے سے پچھتاوے گا نہیں بلکہ خوش ہوگا۔ مال خرچ کرنے کا نتیجہ آخرت میں ملے گا : اور سوف کے معنی ہیں آئندہ کے۔ یہ اس لیے کہ یہ سب کچھ دار آخرت میں ہوگا جس کا شروع موت ہے۔ یہ اس لیے فرمایا کہ دنیا میں خیرات کا اگر کسی مصلحت سے بدلہ نہ ملے گا تو دل تنگ نہ ہو کس لیے کہ دنیا اس وعدہ کو پورا کرنے کی جگہ نہیں۔ اگر ایسا ہو تو لالچ کے مارے ہر بخیل بھی خرچ پر تیار ہوجاوے۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ بسا اوقات اللہ کی راہ میں مال صرف کرنے والے کے مال میں برکت ہوتی ہے۔ مصائب سے محفوظ رکھا جاتا ہے۔ فائدہ : عرف شرع میں اتقٰی اس کو کہتے ہیں جو مومن صغائر و کبائر سے پاک ہو اور جو احیاناً کوئی گناہ سرزد ہوجاوے تو توبہ و استغفار صدق دل سے کرے اور نہایت ندامت کرلے اور صوفیہ کرام کے نزدیک اس کے بعد خطرات اور توجہ الی ماسوی اللہ کی نجات سے بھی پاک ہو۔ نہ دل میں حب جاہ و مال ہو نہ اللہ جل جلالہ کے سوا اور کسی کی جگہ ہو۔ پھر اتقٰی کے بھی درجات متفاوت ہیں۔ فرد کامل اس کا نبی ہے۔ صلوٰۃ اللہ علیہ وسلامہ۔ اس کے بعد پھر صدیق پھر شہید پھر صلحائِ امت اور اولیائِ کرام بھی صدیق و شہید کے زمرہ میں داخل ہیں اور یہی لوگ اصحاب الیمین اور سابقون ہے۔ آیت پر شبہ اور اس کا جواب ¦ اب اس آیت سے بطور مفہوم مخالف کے یہ سمجھا گیا کہ جو اتقٰی نہیں گو متقی ہو وہ اس نارا تلظٰی سے دور نہ رہے یعنی جو صغائر سے مجتنب نہ ہو مگر مومن ہو اور کبائر سے بچنے والا ہو۔ اس کو اتقٰی نہیں کہتے۔ متقی کہتے ہیں۔ وہ اس آگ سے نہ بچے گا۔ حالانکہ یہ پہلی آیت کے کہ جس میں یہ تھا کہ اس آگ میں اشقٰی ہی داخل ہوگا۔ خلاف ہے کس لیے کہ متقی اشقٰی کیا شقی بھی نہیں۔ اس الجھن کے جواب میں علماء نے طرح طرح کے جواب اپنی تفاسیر میں ذکر فرمائے ہیں مگر کاتب الحروف کے نزدیک یہ الجھن ہی کچھ نہیں۔ کس لیے کہ اول تو ہر جگہ مفہوم مخالف پیدا کرنا ہی لغو ہے۔ جیسا کہ علمائِ اصول فقہ نے اپنی کتابوں میں تصریح کی ہے بلکہ یہ محاورہ کی بات ہے کہ کبھی کسی قید یا وصف کو اس کی بہترین اور خوبی جتلانے کے لیے ذکر کیا کرتے ہیں مگر یہ مراد نہیں ہوتی کہ جس میں یہ قید یا وصف نہیں۔ اس کے لیے مخالف حکم ثابت ہے۔ اس کی نظیر قرآن مجید ہی کی آیات ہیں۔ ازانجملہ یہ ہے۔ ولا تکرھوا فتیاتکم علی البغاء ان اردن تحصنالتبتغوا عرض الحیوۃ الدنیا کہ اپنی لونڈیوں کو زنا کرانے اور خرچی کمانے پر مجبور نہ کرو۔ اگر وہ پاک دامنی چاہیں۔ اب پاکدامنی کی قید اس لیے ہے کہ پاکدامنی کی خوبی ظاہر کرنا مقصود ہے نہ یہ کہ اگر وہ پاکدامنی نہ چاہیں تو خرچی کمانے پر مجبور کی جائیں۔ اسی طرح آیت میں وصف اتقٰی کی خوبی کا اظہار مقصود ہے نہ یہ کہ جو اتقٰی نہیں وہ اس ناراتلظٰی سے دور نہ رہے گا۔ دوم اگر مفہوم مخالف بھی مان لیا جائے تو بھی کچھ محذور نہیں۔ کس لیے کہ کبائر و صغائر سے بھی انسان مؤاخذہ کے قابل ہوجاتا ہے جس کی سزا جہنم کی آگ ہے۔ گو وہ ابدی آگ نہیں ہوتی بلکہ موقت یہ اور بات ہے کہ حق سبحانہ صغائر وکبائر کو بشرطیکہ ان پر اصرار نہ ہو۔ گناہوں کی معافی کے اسباب : کبھی تو اور دوسرے نیک کاموں کے صلہ میں مٹا ڈالتا ہے۔ کما قال ان الحسنات یذھبن السیئات کہ نیکیاں گناہوں کو دور کردیتی ہیں۔ واولئک یبدل اللہ سیاتہم حسنات کہ ان لوگوں کے گناہوں کو نیکیوں سے بدل دیتا ہے اور احادیث صحیحہ صریحہ میں بکثرت وارد ہے کہ ایک جمعہ کی شرائط سے نماز پڑھنا جمعہ بھر کے گناہ معاف کردیتا ہے۔ باج عمر بھرکے گناہ اور رمضان کے روزے سال بھر کے وغیرذلک اور کبھی دنیاوی تکالیف بیماری ‘ تنگدستی ‘ یا موت اعزہ یا اور کوئی حادثہ بشرطیکہ صبر کیا جاوے گناہوں کا کفارہ ہوجاتا ہے۔ اس کو یہیں اسی قدر عذاب پر رہائی مل جاتی ہے اور کبھی اہل دل کی ندامت و اشکباری جو ان پر باعتبار تقرب الی اللہ کے نار متلظی یعنی شعلہ مارنے والی آگ ہوجاتی ہے۔ وہ یہیں اس آگ میں جل کر تھوڑی دیر کے بعد نجات حاصل کرلیتے ہیں اور واللہ یہ دل کی آگ بڑی سخت آگ ہے جس کی گرمی سے دل پگھل کر آنسو نکلتے ہیں اور کبھی موت کے وقت کی سختی اور کبھی تھوڑی سی قبر کی تنگی اور گھبراہٹ سے یہ گناہ مٹ جاتے ہیں اور نہیں تو اس کی رحمت کا پانی اور شفاعت کا ابرماطرسب کو بہا دیتا ہے۔ یہ سب کچھ صحیح مگر مرجیہ فرقہ کو کیا جواب آئے گا۔ وہ جو کہتے ہیں۔ ایمان کے بعد کوئی گناہ جہنم میں نہیں لے جاتا۔ اس آیت کا مفہوم مخالف ان کے سراسر مخالف ہے۔ واللہ اعلم باسرار کلامہ۔ فائدہ : اس مقام پر ایک اور بحث دلچسپ ہے۔ وہ یہ کہ الفاظ آیات کے ہرچند عام ہیں۔ کوئی اشقٰی ہو اور کوئی اتقٰی کیوں نہ ہو۔ ہر ایک کا حال اور مآل بیان فرما کر شقاوت وسعادت کا نقشہ کھینچا ہے اور کتاب آسمانی میں ایسا ہی ہونا بھی چاہیے مگر جب قرآن مجید نازل ہو رہا تھا اس وقت بھی اشقٰی واتقٰی کے افراد موجود تھے اور گو ان میں سے کسی کا نام نہیں لیا گیا اور لینا بھی نہیں چاہیے تھا۔ مگر ان پر رکھ کر عموماً کلام کیا گیا۔ اس لیے ان اشقٰی و اتقٰی سے ضرور اس وقت کے لوگوں کی طرف اشارہ ہوگا اور اسی بات کو بعض مفسرین نے یوں سمجھ لیا کہ یہ آیت فلاں شخص کے لیے نازل ہوئی ہے یا اس سے فلاں شخص مراد ہے اور اسی لیے وہ ان عام مفہوموں کے نیچے خاص خاص نام تفسیر میں لکھ دیا کرتے ہیں جہاں کہیں کافر یا اور کوئی اس قسم کا لفظ آیا اس سے مراد ابو جہل لے لیا یا جہاں کہیں کسی کے صفات حمیدہ مذکور ہوئے۔ ان سے اپنے معتقدفیہ کا نام لے دیا۔ یہاں تک کہ بعض شیعہ نے تو جہاں کہیں اہل سعادت و شقاوت کے واقعات یا ان کے حالات اور مآل کار بیان کئے گئے ہیں۔ ان سے حضرات اہل بیت اور ان کے مخالفین جن کو کہ انہوں نے مخالف بنا رکھا ہے مراد لیے ہیں۔ گویا تمام قرآن اسی جھگڑے میں نازل ہوا ہے اور دب دب کر معاذ اللہ اللہ تعالیٰ اہل بیت کی مدح اور ان کے مخالفوں کی قدح کرتا ہے۔ صاف صاف نام لینے سے ڈرتا ہے اور کوئی مقصد نہ تھا۔ نہ آنحضرت ﷺ اور کسی کام کے لیے بھیجے گئے تھے اور لطف یہ ہے کہ جو جو مسائل اپنی طبیعتوں کے زور سے پیدا کرکے مذہب و ملت یا اصول دین 1 ؎ بنائے گئے ہیں۔ وہ بھی صاف صاف قرآن سے ثابت نہیں ہوتے۔ اینچ تان کر ثابت کئے جاتے ہیں اور دور از کار تاویلات کی جاتی ہیں اور شیعہ پر کیا موقوف ہے۔ ہر ایک فریق کا کم و بیش یہی حال ہے جن کو مذاق تصوف ہے وہ ہر آیات میں توحید وجودی کا جلوہ دکھاتے ہیں اور کھینچ تان کر روح اور نفس اور قرب و بعد مقامات پر چسپاں کرتے ہیں حالانکہ نزول قرآن کے وقت تک یہ مسائل پیدا بھی نہیں ہوئے تھے۔ یہ بڑی غلطی ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ کہیں بھی قرآن مجید میں بزرگان دین ‘ صحابہ و اہل بیت کی جانفشانیوں کی مدح نہیں یا روح و نفس اور مقامات و احوال و مواجید و اشواق کی طرف ایماء نہیں۔ ضرور ہے مگر نہ ہر جگہ۔ اب انہیں آیات میں ضرور اتقٰی اور اشقٰی سے اس وقت کے بعض اشخاص کی طرف اشارہ ہے مگر یہ کہنا کہ کس کی طرف ہے قرائن کا محتاج ہے اور تعین کرنا ایک ظنی بات ہے۔ 1 ؎ اس میں اشارہ ہے کہ دراصل جو اصول دین ہیں وہ تو صاف صاف قرآن سے ثابت ہیں مگر وہ جو بعد میں باہمی مخالفت اور فرعیات میں نزاع قائم ہونے سے ہر ایک متعصب نے اصول دین بنائے ہیں جیسا کہ شیعہ کا مسئلہ امامت ‘ وہ قرآن سے ثابت نہیں۔ 12 منہ اس لیے میں کہتا ہوں کہ اتقٰی سے حضرت صدیق اکبر ابوبکر ؓ کی طرف اشارہ ہے۔ کس لیے کہ جب یہ آیات ہجرت سے پہلے شروع اسلام میں شہر مکہ میں نازل ہو رہی تھیں تو اس وقت مسلمانوں میں یؤتی مالہ یتزکی ومالا حد عندہ من نعمۃ تجزیٰ کا مصداق اگر کوئی اور بھی فرض کیا جاوے گا تو ان سے بڑھ کر اور کوئی نہیں نکلے گا۔ اول تو اس وقت کوئی مسلمان مالدار ہی نہ تھا بجز ان کے نہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نہ حضرت عثمان ؓ نہ حضرت عمر۔ اور پھر انہیں حضرت کا مال اللہ کی رضامندی میں بےدریغ صرف ہوا کرتا تھا۔ انہیں نے بلال ؓ وغیرہ باخدا مسلمانوں کو کافروں سے خرید کر آزاد کیا۔ یہی آنحضرت ﷺ کی رفاقت میں مال و جان نثار کرنے والے یار غار تھے۔ اسی لیے ان کے فضائل انہیں کے ہمعصر صحابہ میں مسلم الکل تھے اور آنحضرت ﷺ کے یاروں میں بڑی عزت کی نگاہوں سے دیکھے جاتے ہیں۔