93. Surah Ad-Dhuhaa

الضحىThe Morning Hours · 11 ayahsاشرف الحواشی

Ayah 93:1

وَ الضُّحٰىۙ Open ayah 93:1 in the Quran reader

چاشت کے وقت کی قسم15

ف 15 مراد سا ارا دن ہے اس لئے کہ اگلی آیت میں رات کی قسم کھائی جا رہی ہے۔ (ابن جریر)
Ayahs 93:2–4

وَ الَّیْلِ اِذَا سَجٰىۙ Open ayah 93:2 in the Quran reader

اور رات کی قسم جب ڈھانپ لے

مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَ مَا قَلٰىؕ Open ayah 93:3 in the Quran reader

(اے پیغمبر) تیرے مالک نے تجھ کو نہ چھوڑا نہ تجھ سے ناراض ہوا

وَ لَلْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لَّكَ مِنَ الْاُوْلٰىؕ Open ayah 93:4 in the Quran reader

اور البتہ آخرت تیرے لئے دنیا سے کہیں بہت رہے1

ف 1 اس لئے آنحضرت دنیا سے بےرغبت اور آخرت کی طرف متوجہ رہتے۔ ایک حدیث میں آنحضرت نے دنیا کی بےثباتی بیان فرماتے ہوئے انسان کی مثال ایک مسافر سے دی ہے جو چند ساعتیں کسی درخت کے سایے میں آرام کرتا ہے اور پھر چل دیتا ہے۔
Ayahs 93:5–6

وَ لَسَوْفَ یُعْطِیْكَ رَبُّكَ فَتَرْضٰىؕ Open ayah 93:5 in the Quran reader

اور تیرا مالک تجھ کو آگے چل کر ایسا دیگا کہ تو خوش ہوجائے گا

اَلَمْ یَجِدْكَ یَتِیْمًا فَاٰوٰى۪ Open ayah 93:6 in the Quran reader

(اے پیغمبر) کیا اس خدا نے تجھ کو یتیم نہیں پایا2

ف 2 شاہ صاحب لکھتے ہیں : حضرت کے باپ مرگئے پیٹ میں چھوڑ کر۔ دادا (عبدالمطلب) نے پالا وہ بھی مرگئے آٹھ برس کا چھوڑ کر پھر چچا نے پالا جب تک جوان نہیں ہوئے۔ (کذافی المواضح)
Ayah 93:7

وَ وَجَدَكَ ضَآلًّا فَهَدٰى۪ Open ayah 93:7 in the Quran reader

پھر تجھ کو ٹھکانا دیا اور اس نے تجھ کو بھولا بھٹکا یا پھر راہ پر لگایا3

ف 3 یعنی آپ حق کی تلاش میں سرگردان اور نبوت وغیرہ حقائق سے قطعی غافل تھے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو راہ حق کی توفیق دی۔ نبوت جیسی نعمت سے نوازا اور آپ پر اپنی کتاب اتاری۔ (کذا فی للرضح)
Ayah 93:8

وَ وَجَدَكَ عَآئِلًا فَاَغْنٰىؕ Open ayah 93:8 in the Quran reader

اور اس نے تجھ کو نادار پایا پھر مالدار کردیا4

ف 4 وہ اس طرح کہ حضرت خدیجہ نے آپ سے مضاربت کا معاملہ کیا اور پھر آپ کی دانت و امانت سے اس قدر تمثا رہوئیں کہ آپ سے نکاح کرلیا اور اپنا تما مال آپ کے حوالہ کردیا۔ (کذافی فی الموضح)
Ayah 93:9

فَاَمَّا الْیَتِیْمَ فَلَا تَقْهَرْؕ Open ayah 93:9 in the Quran reader

تو یتیم کو مت دیا5

ف 5 یعنی کسی پہلو سے اس پر ظلم نہ کرو اور نہ اسے حقیر جانو بلکہ اس کی دلجوئی اور خبر گیری کرتے رہو۔ صحیح بخاری میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” جنت میں “ میں اور یتیم کی پرورش کرنے والا یوں ہوں گے جیسے یہ دو انگلیاں یہ کہتے ہوئے آپ نے بیچ کی انگلی اور شہادت کی انگلی کی طرف اشارہ فرمایا۔
Ayah 93:10

وَ اَمَّا السَّآئِلَ فَلَا تَنْهَرْؕ Open ayah 93:10 in the Quran reader

اور مانگنے والے فقیر کو مت جھڑک6

ف 6 یعنی ہو سکے تو کچھ دے دو اور نہ ہو سکے تو کشادہ روئی اور نرمی سے جواب دے دو ۔
Ayah 93:11

وَ اَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ۠ Open ayah 93:11 in the Quran reader

اور لوگوں سے اپنے مالک کا احسان بیان کرتا رہ7

ف 7 یعنی یعنی ہو سکے تو کچھ دے دو اور نہ ہو سکے تو شادہ روئی اور نرمی سے جواب دے دو ۔