94. Surah Ash-Sharh

الشرحThe Consolation · 8 ayahsاشرف الحواشی

Ayah 94:1

اَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَۙ Open ayah 94:1 in the Quran reader

(اے پیغمبر) کیا ہم نے تیرا سینہ نہیں کھولا9

ف 9 یعنی اسے منور کیا۔ اس میں علوم و معارف کے خزانے بھر دیئے اور وہ اطمینان اور حصولہ دیا جس سے آپ نبوت جیسے منصب عظیم کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے قابل ہوگئے۔ قرآن میں شرح صدر کا یہی مفہوم مذکور ہے۔ (زمر آیت 33) یوں روایات سے ثابت ہے کہ معراج کے موقع پر ( اور اس سے پہلے ایک مرتبہ بچپن میں) فرشتوں نے ظاہری طور پر بھی آنحضرت کا سینہ چاک کیا اور اس میں اللہ تعالیٰ کی معرفت اور ایمان و اطمینان کا نور بھرا (ابن کثیر)
Ayahs 94:2–3

وَ وَضَعْنَا عَنْكَ وِزْرَكَۙ Open ayah 94:2 in the Quran reader

اور ہم نے تریا بوجھ تجھ پر سے اتار دیا

الَّذِیْۤ اَنْقَضَ ظَهْرَكَۙ Open ayah 94:3 in the Quran reader

جس نے تیری پیٹھ توڑ رکھی تھی10

ف 10 یعنی آپ کے تمام گناہ معاف کردیئے یا منصب رسالت جیسی کٹھن ذمہ داری کو آپ پر آسان کردیا۔
Ayah 94:4

وَ رَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَؕ Open ayah 94:4 in the Quran reader

ور ہم نے تریا نام بلند کردیا11

ف 11 یعنی انبیاء اور فرشتوں میں آپ کا نام بلند کیا اور دنیا و آخرت میں آپ کے نام کا چرچا کیا۔ چناچہ کوئی مسلمان اللہ تعالیٰ کا نام نہیں لیتا مگر اس کے ساتھ آپ کا نام ضرور لیتا ہے۔ کلمہ شہادت، اذان اقامت، خطبہ اور تشہد وغیرہ میں اللہ تعالیٰ کے نام کے بعد آپ کا نام لیا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے جہاں بندوں کو اپنی اطاعت کا حکم دیا ہے وہیں آپ کی اطاعت کا بھی حکم دیا ہے۔
Ayahs 94:5–6

فَاِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًاۙ Open ayah 94:5 in the Quran reader

(گھبراتا کیوں ہے) تنگی کے ساتھ آسانی لگی ہوئی ہے

اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًاؕ Open ayah 94:6 in the Quran reader

بیشک تنگی کے ساتھ آسانی لگی ہوئی ہی12

ف 12 ایک سختی کے ساتھ دو آسانیاں لگی ہیں۔ اس میں آنحضرت کو بغایت کمال آئی ہے کہ دعوت و تبلیغ میں جس قدر مشقت برداشت کرو گے اس سے دوگنا راحت و اکرام نصیب ہوگا۔
Ayahs 94:7–8

فَاِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْۙ Open ayah 94:7 in the Quran reader

پھر جب تجھ کو دنیا کے کاموں سے یا وعظ نصیحت سے یا جہاد سے فراغت ہو تو محنت کر

وَ اِلٰى رَبِّكَ فَارْغَبْ۠ Open ayah 94:8 in the Quran reader

اور اپنے مالک کی طرف دل لگا13

ف 3 ۃ یعنی اسی سے اپنی حاجت مانگئے اور ہر معاملہ میں اسی پر بھروسا کیجیے۔