Ayah 93:1سورة الضُّحٰی 1
یہاں لفظ ضحی رات کے مقابلہ میں استعمال ہوا ہے اس لیے اس سے مراد روز روشن ہے۔ اس کی نظیر سورة اعراف کی یہ آیات ہیں " أَفَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَىٰ أَن يَأْتِيَهُم بَأْسُنَا بَيَاتًا وَهُمْ نَائِمُونَ أَوَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَىٰ أَن يَأْتِيَهُم بَأْسُنَا ضُحًى وَهُمْ يَلْعَبُونَ " (97۔ 98) " کیا بستیوں کے لوگ اس سے بےخوف ہیں کہ ان پر ہمارا عذاب رات کو آجائے جبکہ وہ سو رہے ہوں ؟ اور کیا بستیوں کے لوگ اس سے بےخوف ہیں کہ ان پر ہمارا عذاب دن دہاڑے آجائے جبکہ وہ کھیل رہے ہوں ؟ " ان آیات میں بھی چونکہ ضحی کا لفاظ رات کے مقابلہ میں استعمال ہوا ہے اس لیے اس سے مراد چاشت کا وقت نہیں بلکہ دن ہے۔
Ayah 93:2سورة الضُّحٰی 2
اصل میں رات کے لیے سجی استعمال ہوا ہے جس میں صرف تاریکی چھانے ہی کا نہیں بلکہ سکوت اور سکون طاری ہوجانے کا مفہوم بھی شامل ہے۔ رات کی اس صفت کا اس مضمون سے گہرا تعلق ہے جو آگے بیان ہو رہا ہے۔
Ayah 93:3سورة الضُّحٰی 3
روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ کچھ مدت تک رسول اللہ ﷺ پر وحی کا نزول بند رہا تھا۔ مختلف روایات میں یہ مدت مختلف بیان کی گئی ہے۔ ابن جریح نے 12 روز، کلبی نے 15 روز، ابن عباس نے 25 روز، سدی اور مقاتل نے 40 روز اس کی مدت بیان کی ہے۔ بہرحال یہ زمانہ اتنا طویل تھا کہ رسول اللہ ﷺ اس پر سخت غمگین ہوگئے تھے اور مخالفین بھی آپ کو طعنے دینے لگے تھے، کیونکہ حضور پر جو نئی سورت نازل ہوتی تھی اسے آپ لوگوں کو سنایا کرتے تھے، اس لیے جب اچھی خاصی مدت تک آپ نے کوئی نئی وحی لوگوں کو نہیں سنائی تو مخالفین نے سمجھ لیا کہ وہ سرچشمہ بند ہوگیا ہے جہاں سے یہ کلام آتا تھا۔ جندب بن عبداللہ البجلی کی روایت ہے کہ جب جبریل کے آنے کا سلسلہ رک گیا تو مشرکین نے کہنا شروع کردیا کہ محمد ﷺ کو ان کے رب نے چھوڑ دیا ہے۔ (ابن جریر، طبرانی، عبد حمید، سعید بن منصور، ابن مردویہ)۔ دوسری روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ابو لہب کی بیوی ام جمیل نے، جو حضور کی چچی ہوتی تھی اور جس کا گھر حضور کے مکان سے متصل تھا، آپ سے کہا " معلوم ہوتا ہے کہ تمہارے شیطان نے تمہیں چھوڑ دیا ہے "۔ عونی اور ابن جریر نے ابن عباس کی روایت نقل کی ہے کہ کئی روز تک جبریل کی آمد رک جانے سے حضور پریشان ہوگئے اور مشرکین کہنے لگے کہ ان کا رب ان سے ناراض ہوگیا ہے اور اس نے انہیں چھوڑ دیا ہے۔ قتادہ اور ضحاک کی مرسل روایات سے بھی قریب قریب یہی مضمون بیان ہوا ہے۔ اس صورت حال میں حضور کے شدید رنج و غم کا حال بھی متعدد روایات میں آیا ہے۔ اور ایسا کیوں نہ ہوتا جبکہ محبوب کی طرف سے بظاہر عدم التفات، کفر و ایمان کے درمیان جنگ چھڑ جانے کے بعد اسی ذریعہ طاقت سے بظاہر محرومی جو اس جاں گسل کشمکش کے منجدھار میں آپ کے لیے واحد سہارا تھا، اور اس پر مزید دشمنوں کی شماتت، یہ ساری چیزیں مل جل کر لا محالہ حضور کے لیے سخت پریشانی کی موجب ہو رہی ہوں گی اور آپ کو بار بار یہ شبہ گزرتا ہوگا کہ کہیں مجھ سے کوئی قصور تو نہیں ہوگیا ہے کہ میرا رب مجھ سے ناراض ہوگیا ہو اور اس نے مجھے حق و باطل کی لڑائی میں تنہا چھوڑ دیا ہو۔
اسی کیفیت میں یہ سورة حضور کو تسلی دینے کے لیے نازل ہوئی۔ اس میں دن کی روشنی اور رات کے سکون کی قسم کھا کر حضور سے فرمایا گیا ہے کہ تمہارے رب نے نہ تمہیں چھوڑ دیا ہے اور نہ وہ تم سے ناراض ہوا ہے۔ اس بات پر ان دونوں چیزوں کی قسم جس مناسبت سے کھائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ جس طرح دن کا روشن ہونا اور رات کا تاریکی اور سکون لیے ہوئے چھا جانا کچھ اس بنا پر نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ دن کے وقت لوگوں سے خوش اور رات کے وقت ان سے ناراض ہوجاتا ہے، بلکہ یہ دونوں حالتیں ایک عظیم حکمت و مصلحت کے تحت طاری ہوئی ہیں، اسی طرح تم پر کبھی وحی بھیجنا اور کبھی اس کو روک لینا بھی حکمت و مصلحت کی بنا پر ہے اس کا کوئی تعلق اس بات سے نہیں ہے کہ جب اللہ تعالیٰ تم سے خوش ہو تو وحی بھیجے اور جب وہ وحی نہ بھیجے تو اس کے معنی یہ ہوں کہ وہ تم سے ناخوش ہے اور اس نے تمہیں چھوڑ دیا ہے اس کے علاوہ دوسری مناسبت اس مضمون سے اس قسم کی یہ ہے کہ جس طرح دن کی روشنی اگر مسلسل آدمی پر طاری رہے تو وہ اسے تھکا دے، اس لیے ایک وقت خاص تک دن کے روشن رہنے کے بعد رات کا آنا ضروری ہے تاکہ اس میں انسان کو سکون ملے اسی طرح وحی کی روشنی اگر تم پر پے درپے پڑتی رہے تو تمہارے اعصاب اس کو برداشت نہ کرسکیں گے، اس لیے وقتا فوقتا فترۃ (نزول وحی کا سلسلہ رک جانے) کا ایک زمانہ بھی اللہ تعالیٰ نے مصلحت کی بنا پر رکھا ہے تاکہ وحی کے نزول سے جو بار تم پر پڑتا ہے اس کے اثرات زائل ہوجائیں اور تمہیں سکون حاصل ہوجائے۔ گویا آفتاب وحی کا طلوع بمنزلہ روز روشن ہے اور زمانہ فترۃ بمنزلہ سکون شب۔
Ayah 93:4سورة الضُّحٰی 4
یہ خوشخبری اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو ایسی حالت میں دی تھی جبکہ چند مٹھی بھر آدمی آپ کے ساتھ تھے ساری قوم آپ کی مخالف تھی بظاہر کامیابی کے آثار دور دور کہیں نظر نہ آتے تھے۔ اسلام کی شمع مکہ میں ٹمٹما رہی تھی اور اسے بجھا دینے کے لیے ہر طرف اٹھ رہے تھے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے فرمایا کہ ابتدائی دور کی مشکلات سے آپ ذرا پریشان نہ ہوں۔ ہر بعد کا دور پہلے دور سے آپ کے لیے بہتر ثابت ہوگا۔ آپ کی قوت، آپ کی عزت و شوکت اور آپ کی قدر و منزلت برابر بڑھتی چلی جائے گی اور آپ کا نفوذ و اثر پھیلتا چلا جائے گا۔ پھر یہ وعدہ صرف دنیا ہی تک محدود نہیں ہے، اس میں یہ وعدہ بھی شامل ہے کہ آخرت میں جو مرتبہ آپ کو ملے گا وہ اس مرتبے سے بھی بدرجہا بڑھ کر ہوگا جو دنیا میں آپ کو حاصل ہوگا۔ طبرانی نے اوسط میں اور بیہقی نے دلائل میں ابن عباس کی روایت نقل کی ہے کہ حضور نے فرمایا " میرے سامنے وہ تمام فتوحات پیش کی گئیں جو میرے بعد میری امت کو حاصل ہونے والی ہیں۔ اس پر مجھے بڑی خوشی ہوئی۔ تب اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد نازل فرمایا کہ آخرت تمہارے لیے دنیا سے بھی بہتر ہوگی "۔
Ayah 93:5سورة الضُّحٰی 5
یعنی اگرچہ دینے میں کچھ دیر تو لگے گی۔ لیکن وہ وقت دور نہیں ہے جب تم پر تمہارے رب کی عطا و بخشش کی وہ بارش ہوگی کہ تم خوش ہوجاؤ گے۔ یہ وعدہ حضور کی زندگی ہی میں اس طرح پورا ہوا کہ سارا ملک عرب جنوب کے سواحل سے لے کر شمال میں سلطنت روم کی شامی اور سلطنت فارس کی عراقی سرحدوں تک، اور مشرق میں خلیج فارس سے لیکر مغرب میں بحر احمر تک آپ کے زیر نگین ہوگیا، عرب کی تاریخ میں پہلی مرتبہ یہ سر زمین ایک قانون اور ضابطہ کی تابع ہوگئی، جو طاقت بھی اس سے ٹکرائی وہ پاش پاش ہو کر رہ گئی، کلمہ " لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلَ اللہِ " سے وہ پورا ملک گونج اٹھا جس میں مشرکین اور اہل کتاب اپنے جھوٹے کلمے بلند رکھنے کے لیے آخری دم تک ایڑی چوٹی کا زور لگا چکے تھے، لوگوں کے سر ہی اطاعت میں نہیں جھک گئے بلکہ ان کے دل بھی مسخر ہوگئے اور عقائد، اخلاق اور اعمال میں ایک انقلاب عظیم برپا ہوگیا۔ پوری انسانی تاریخ میں اس کی نظیر نہیں ملتی کہ ایک جاہلیت میں ڈوبی قوم صرف 23 سال کے اندر اتنی بدل گئی ہو۔ اس کے بعد حضور کی برپا کی ہوئی تحریک اس طاقت کے ساتھ اٹھی کہ ایشیاء، افریقہ اور یورپ کے ایک بڑے حصے پر وہ چھا گئی اور دنیا کے گوشے گوشے میں اس کے اثرات پھیل گئے۔ یہ کچھ تو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو دنیا میں دیا، اور آخرت میں جو کچھ دے گا اس کی عظمت کا تصور بھی کوئی نہیں کرسکتا۔ (نیز دیکھو جلد سوم، طہ حاشیہ 112)۔
Ayah 93:6سورة الضُّحٰی 6
یعنی تمہیں چھوڑ دینے اور تم سے ناراض ہوجانے کا کیا سوال، ہم تو اس وقت سے تم پر مہربان ہیں جب تم یتیم پیدا ہوئے تھے حضور ابھی بطن مادر ہی میں چھ مہینے کے تھے جب آپ کے والد ماجد کا انتقال ہوگیا اس لیے آپ دنیا میں یتیم ہی کی حیثیت سے تشریف لائے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ایک دن بھی آپ کو بےسہارا نہ چھوڑا۔ چھ سال کی عمر تک والدہ ماجدہ آپ کی پرورش کرتی رہیں۔ ان کی شفقت سے محروم ہوئے تو 8 سال کی عمر تک آپ کے جد امجد نے آپ کو اس طرح پالا کہ ان کو نہ صرف آپ سے غیر معمولی محبت تھی بلکہ ان کو آپ پر فخر تھا اور وہ لوگوں سے کہا کرتے تھے کہ میرا یہ بیٹا ایک دن دنیا میں بڑا نام پیدا کرے گا۔ ان کا بھی انتقال ہوگیا تو آپ کے حقیقی چچا ابو طالب نے آپ کی کفالت اپنے ذمے لی اور آپ کے ساتھ ایسی محبت کا برتاؤ کیا کہ کوئی باپ بھی اس سے زیادہ نہیں کرسکتا، حتی کہ نبوت کے بعد جب ساری قوم آپ کی دشمن ہوگئی تھی اس وقت دس سال تک وہی آپ کی حمایت میں سینہ سپر رہے۔
Ayah 93:7سورة الضُّحٰی 7
اصل میں لفظ ضالاً استعمال ہوا ہے جو ضلالت سے ہے۔ عربی زبان میں یہ لفظ کئی معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ اس کے ایک معنی گمراہی کے ہیں۔ دوسرے معنی یہ ہیں کہ کوئی شخص راستہ نہ جانتا ہو اور ایک جگہ حیران کھڑا ہو کہ مختلف راستے جو سامنے ہیں ان میں سے کدھر جاؤں۔ ایک اور معنی کھوئے ہوئے کے ہیں، چناچہ عربی محاورے میں کہتے ہیں ضل الماء فی اللبن، پانی دودھ میں گم ہوگیا۔ اس درخت کو بھی عربی میں ضالہ کہتے ہیں جو صحرا میں اکیلا کھڑا ہو اور آس پاس کوئی دوسرا درخت نہ ہو۔ ضائع ہونے کے لیے بھی لفظ ضلال کا لفظ بولا جاتا ہے، مثلاً کوئی چیز ناموافق اور ناساز گار حالات میں ضائع ہو رہی ہو، غفلت کے لیے بھی ضلال کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ چناچہ قرآن مجید میں اس کی مثال موجود ہے کہ " لَّا يَضِلُّ رَبِّي وَلَا يَنسَى " (طہ۔ 52) " میرا رب نہ غافل ہوتا ہے نہ بھولتا ہے "۔ ان مختلف معنوں میں سے پہلے معنی یہاں چسپاں نہیں ہوتے، کیونکہ بچپن سے قبل نبوت تک رسول اللہ ﷺ کے جو حالات تاریخ میں موجود ہیں ان میں کہیں اس بات کا شائبہ تک نہیں پایا جاتا کہ آپ کبھی بت پرستی، شرک یا دہریت میں مبتلا ہوئے ہوں، یا جاہلیت کے جو اعمال، رسوم اور طور طریقے آپ کی قوم میں پائے جاتے تھے ان میں سے کسی میں آپ ملوث ہوئے ہوں۔ اس لیے لا محالہ ووجدک ضالاً کے یہ معنی تو نہیں ہو سکتے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو عقیدے یا عمل کے لحاظ سے گمراہ پایا تھا۔ البتہ باقی معنی کسی نہ کسی طور پر یہاں مراد ہو سکتے ہیں، بلکہ ہوسکتا ہے کہ ایک ایک اعتبار سے سب مراد ہوں۔ نبوت سے پہلے حضور اللہ کی ہستی اور اس کی وحدانیت کے قائل تو ضرور تھے، اور آپ کی زندگی گناہوں سے پاک اور فضائل اخلاق سے آراستہ بھی تھی، لیکن آپ کو دین حق اور اس کے اصول اور احکام کا علم نہ تھا، جیسا کہ قرآن میں فرمایا گیا ہے " مَا كُنتَ تَدْرِي مَا الْكِتَابُ وَلَا الْإِيمَانُ " (الشوریٰ ، آیت 52) " تم نہ جانتے تھے کہ کتاب کیا ہوتی ہے اور نہ ایمان کی تمہیں کوئی خبر تھی "۔ یہ معنی بھی اس آیت کے ہو سکتے ہیں کہ حضور ایک جاہلی معاشرے میں گم ہو کر رہ گئے تھے اور ایک ھادی و رہبر ہونے کی حیثیت سے آپ کی شخصیت نبوت سے پہلے نمایاں نہیں ہو رہی تھی۔ یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ جاہلیت کے صحراء میں آپ ایک اکیلے درخت کی حیثیت سے کھڑے تھے جس میں پھل لانے اور ایک پورا باغ کا باغ پیدا کردینے کی صلاحیت تھی مگر نبوت سے پہلے یہ صلاحیت کام نہیں آ رہی تھی۔ یہ مراد بھی ہو سکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو غیر معمولی قوتیں آپ کو عطا کی تھیں وہ جاہلیت کے ناساز گار ماحول میں ضائع ہو رہی تھیں۔ ضلال کو غفلت کے معنی میں بھی لیا جاسکتا ہے، یعنی آپ ان حقائق اور علوم سے غافل تھے جن سے نبوت کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ کو آگاہ فرمایا۔ یہ بات خود قرآن میں بھی ایک جگہ ارشاد ہوئی ہے " وَإِن كُنتَ مِن قَبْلِهِ لَمِنَ الْغَافِلِينَ " (یوسف 3)۔ " اور اگرچہ تم اس سے پہلے ان باتوں سے غافل تھے " (نیز ملاحظہ ہو البقرہ آیت 282، اور الشعراء آیت 20)۔
Ayah 93:8سورة الضُّحٰی 8
نبی ﷺ کے لیے آپ کے والد ماجد نے میراث میں صرف ایک اونٹنی اور ایک لونڈی چھوڑی تھی۔ اس طرح آپ کی زندگی کی ابتداء افلاس کی حالت میں ہوئی تھی۔ پھر ایک وقت آیا کہ قریش کی سب سے زیادہ مالدار خاتون، حضرت خدیجہ نے پہلے تجارت میں آپ کو اپنے ساتھ شریک کیا، اس کے بعد انہوں نے آپ سے شادی کرلی اور ان کے تمام تجارتی کاروبار کو آپ نے سنبھال لیا۔ اس طرح آپ نہ صرف یہ کہ مال دار ہوگئے، بلکہ آپ کی مالداری اس نوعیت کی نہ تھی کہ محض بیوی کے مال پر آپ کا انحصار ہو۔ ان کی تجارت کو فروغ دینے میں آپ کی اپنی محنت و قابلیت کا بڑا حصہ تھا۔
Ayah 93:9سورة الضُّحٰی 9
یعنی تم چونکہ خود یتیم رہ چکے ہو، اور اللہ نے تم پر یہ فضل فرمایا کہ یتیمی کی حالت میں بہترین طریقے سے تمہاری دستگیری کی، اس لیے اس کا شکرانہ یہ ہے کہ تمہارے ہاتھ سے کبھی کسی یتیم پر ظلم اور زیادتی نہ ہونے پائے۔
Ayah 93:10سورة الضُّحٰی 10
اس کے دو معنی ہیں اگر سائل کو مدد مانگنے والے حاجت کے معنی میں لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کی مدد کرسکتے ہو تو کردو، نہ کرسکتے ہو تو نرمی کے ساتھ معذرت کردو، مگر بہرحال اسے جھڑکو نہیں۔ اس معنی کے لحاظ سے یہ ہدایت اللہ تعالیٰ کے اس احسان کے جواب میں ہے کہ " تم نادار تھے پھر اس نے تمہیں مالدار کردیا "۔ اور اگر سائل کو پوچھنے والے، یعنی دین کا کوئی مسئلہ یا حکم دریافت کرنے والے کے معنی میں لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسا شخص خواہ کیسا ہی جاہل اور اجڈ ہو، اور بظاہر خواہ کتنے ہی نامعقول طریقے سے سوال کرے یا اپنے ذہن کی الجھن پیش کرے، بہرحال شفقت کے ساتھ اسے جواب دو اور علم کا زعم رکھنے والے بد مزاج لوگوں کی طرح اسے جھڑک کر دور نہ بھگا دو۔ اس معنی کے لحاظ سے یہ ارشاد اللہ تعالیٰ کے اس احسان کے جواب میں ہے کہ " تم ناواقف راہ تھے پھر اس نے تمہیں ہدایت بخشی "۔ حضرت ابو الدردا، حسن بصری، سفیان ثوری اور بعض دوسرے بزرگوں نے اسی دوسرے معنی کو ترجیح دی ہے کیونکہ ترتیب کلام کے لحاظ سے یہ ارشاد " وَوَجَدَكَ ضَالًّا فَهَدَىٰ " کے جواب میں آتا ہے۔
Ayah 93:11سورة الضُّحٰی 11
نعمت کا لفظ عام ہے جس سے مراد وہ نعمتیں بھی ہیں جو اس سورة کے نزول کے وقت تک اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پاک کو عطا فرمائی تھیں، اور وہ نعمتیں بھی جو بعد میں اس نے اپنے ان وعدوں کے مطابق آپ کو عطا کیں جو اس سورة میں اس نے کیے تھے اور جن کو اس نے بدرجہ اتم پورا کیا۔ پھر حکم یہ ہے کہ اے نبی ہر نعمت جو اللہ نے تم کو دی ہے اس کا ذکر اور اس کا اظہار کرو۔ اب یہ ظاہر بات ہے کہ نعمتوں کے ذکر و اظہار کی مختلف صورتیں ہو سکتی ہیں اور ہر نعمت اپنی نوعیت کے لحاظ سے اظہار کی ایک خاص صورت چاہتی ہے۔ مجموعی طور پر تمام نعمتوں کے اظہار کی صورت یہ ہے کہ زبان سے اللہ کا شکر ادا کیا جائے اور اس بات کا اقرار و اعتراف کیا جائے کہ جو نعمتیں بھی مجھے حاصل ہیں یہ سب اللہ کا فضل و احسان ہیں ورنہ کوئی چیز بھی میرے کسی ذاتی کمال کا نتیجہ نہیں ہے۔ نعمت نبوت کا اظہار اس طریقہ سے ہوسکتا ہے کہ دعوت و تبلیغ کا حق ادا کیا جائے۔ نعمت قرآن کے اظہار کی صورت یہ ہے کہ لوگوں میں زیادہ سے زیادہ اس کی اشاعت کی جائے اور اس کی تعلیمات لوگوں کے ذہن نشین کی جائیں۔ نعمت ہدایت کا اظہار اسی طرح ہوسکتا ہے کہ اللہ کی بھٹکی ہوئی مخلوق کو سیدھا راستہ بتایا جائے۔ اور اس کام کی ساری تلخیوں اور ترشیوں کو صبر کے ساتھ برداشت کیا جائے۔ یتیمی میں دستگیری کا جو احسان اللہ تعالیٰ نے کیا اس کا اظہار یہی صورت چاہتا ہے کہ اللہ کے محتاج بندوں کی مدد کی جائے۔ غرض یہ ایک بڑی جامع ہدایت تھی جو اللہ تعالیٰ نے اپنے انعامات و احسانات بیان کرنے کے بعد اس مختصر فقرے میں اپنے رسول مقبول ﷺ کو دی۔