Ayahs 94:1–2سورة الْاِنْشِرَاح 1
اس سوال سے کلام کا آغاز، اور پھر بعد کا مضمون یہ ظاہر کرتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ اس زمانے میں ان شدید مشکلات پر سخت پریشان تھے جو دعوت اسلامی کا کام شروع کرنے کے بعد ابتدائی دور میں آپ کو پیش آ رہی تھیں۔ ان حالات میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو مخاطب کر کے تسلی دیتے ہوئے فرمایا اے نبی، کیا ہم نے یہ اور یہ عنایات تم پر نہیں کی ہیں ؟ پھر ان ابتدائی مشکلات پر تم پریشان کیوں ہوتے ہو ؟
سینہ کھولنے کا لفظ قرآن مجید میں جن مواقع پر آیا ہے ان پر نگاہ ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے دو معنی ہیں
(1) سورة انعام آیت 125 میں فرمایا " فَمَن يُرِدِ اللَّـهُ أَن يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ " " پس جس شخص کو اللہ تعالیٰ ہدایت بخشنے کا ارادہ فرماتا ہے اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے "۔ اور سورة زمر آیت 22 میں فرمایا " أَفَمَن شَرَحَ اللَّـهُ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ فَهُوَ عَلَىٰ نُورٍ مِّن رَّبِّهِ " " تو کیا وہ شخص جس کا سینہ اللہ نے اسلام کے لیے کھول دیا ہو پھر وہ اپنے رب کی طرف سے ایک روشنی پر چل رہا ہو۔۔۔۔۔ "۔ ان دونوں مقامات پر شرح صدر سے مراد ہر قسم کے ذہنی خلجان اور تردد سے پاک ہو کر اس بات پر پوری طرح مطمئن ہوجانا ہے کہ اسلام کا راستہ ہی برحق ہے اور وہی عقائد، وہی اصول اخلاق و تہذیب و تمدن، اور وہی احکام و ہدایات بالکل صحیح ہیں جو اسلام نے انسان کو دیے ہیں۔
(2) سورة شعراء آیت 12۔ 13 میں ذکر آیا ہے کہ حضرت موسیٰ کو جب اللہ تعالیٰ نبوت کے منصب عظیم پر مامور کر کے فرعون اور اس کی عظیم سلطنت سے جا ٹکرانے کا حکم دے رہا تھا تو انہوں نے عرض کیا " قَالَ رَبِّ إِنِّي أَخَافُ أَن يُكَذِّبُونِ وَيَضِيقُ صَدْرِي " " میرے رب، میں ڈرتا ہو کہ وہ لوگ مجھے جھٹلا دیں گے اور میرا سینہ تنگ ہو رہا ہے "۔ اور سورة طہ آیات 25۔ 26 میں بیان کیا گیا ہے کہ اسی موقع پر حضرت موسیٰ نے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی کہ " رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي " " میرے رب میرا سینہ میرے لیے کھول دے اور میرا کام میرے لیے آسان کر دے "۔ یہاں سینے کی تنگی سے مراد یہ ہے کہ نبوت جیسے کار عظیم کا بار سنبھالنے اور تن تنہا کفر کی ایک جابر و قاہر طاقت سے ٹکر لینے کی آدمی کو ہمت نہ پڑ رہی ہو۔ اور شرح صدر سے مراد یہ ہے کہ آدمی کا حوصلہ بلند ہوجائے، کسی بڑی سے بڑی مہم پر جانے اور کسی سخت سے سخت کام کو انجام دینے میں بھی اسے تامل نہ ہو، اور نبوت کی عظیم ذمہ داریاں سنبھالنے کی اس میں ہمت پیدا ہوجائے۔
غور کیا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ اس آیت میں رسول اللہ ﷺ کا سینہ کھول دینے سے یہ دونوں معنی مراد ہیں۔ پہلے معنی کے لحاظ سے اس کا مطلب یہ ہے کہ نبوت سے پہلے رسول اللہ ﷺ مشرکین عرب، نصاری، یہود، مجوس، سب کے مذہت کو غلط سمجھتے تھے، اور اس حنیفیت پر بھی مطمئن نہ تھے جو عرب کے بعض قائلین توحید میں پائی جاتی تھی، کیونکہ یہ ایک مبہم عقیدہ تھا جس میں راہ راست کی کوئی تفصیل نہ ملتی تھی (اس کی تشریح ہم تفہیم القرآن، جلد چہارم، السجدہ، حاشیہ 5 کرچکے ہیں) ، لیکن آپ کو چونکہ خود یہ معلوم نہ تھا کہ راہ راست کیا ہے، اس لیے آپ سخت ذہنی خلجان میں مبتلا تھے۔ نبوت عطا کر کے اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس خلجان سے دور کردیا اور وہ راہ راست کھول کر آپ کے سامنے رکھ دی جس سے آپ کو کامل اطمینان قلب حاصل ہوگیا۔ دوسرے معنی کے لحاظ سے اس کا مطلب یہ ہے کہ نبوت عطا کرنے کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وہ حوصلہ، وہ ہمت، وہ اولوالعزمی اور وہ وسعت قلب عطا فرما دی جو اس منصب عظیم کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے لیے درکار تھی۔ آپ اس وسیع علم کے حامل ہوگئے جو آپ کے سوا کسی انسان کے ذہن میں سما نہ سکتا تھا۔ آپ کو وہ حکمت نصیب ہوگئی جو بڑے سے بڑے بگاڑ کو دور کرنے اور سنوار دینے کی اہلیت رکھتی تھی۔ آپ اس قابل ہوگئے کہ جاہلیت میں مستغرق اور جہالت کے اعتبار سے انتہائی اکھڑ معاشرے میں کسی سرو سامان اور ظاہراً کسی پشت پناہ طاقت کی مدد کے بغیر اسلام کے علمبردار بن کر کھڑے ہوجائیں، مخالفت اور دشمنی کے کسی بڑے سے بڑے طوفان کا مقابلہ کرنے سے نہ ہچکچائیں، اس راہ میں جو تکلیفیں اور مصیبتیں بھی پیش آئیں ان کو صبر کے ساتھ برداشت کرلیں، اور کوئی طاقت آپ کو اپنے موقف سے نہ ہٹا سکے۔ یہ شرح صدر کی بیش بہا دولت جب اللہ نے آپ کو عطا کردی ہے تو آپ ان مشکلات پر دل گرفتہ کیوں ہوتے ہیں جو آغاز کار کے اس مرحلے میں پیش آ رہی ہیں۔
بعض مفسرین نے شرح صدر کو شق صدر کے معنی میں لیا ہے اور اس آیت کو اس معجزہ شق صدر کا ثبوت قرار دیا ہے جو احادیث کی روایات میں بیان ہوا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس معجزے کے ثبوت کا مدار احادیث کی روایات ہی پر ہے قرآن سے اس کو ثابت کرنے کی کوشش صحیح نہیں ہے۔ عربی زبان کے لحاظ سے شرح صدر کو کسی طرح بھی شق صدر کے معنی میں نہیں لیا جاسکتا۔ علامہ آلوسی روح المعانی میں فرماتے ہیں کہ " حمل الشرح فی الایۃ علی شق الصدر ضعیف عند المحققین " " محققین کے نزدیک اس آیت میں شرح کو شق صدر پر محمول کرنا ایک کمزور بات ہے "۔
Ayah 94:3سورة الْاِنْشِرَاح 2
مفسرین میں سے بعض نے اس کا مطلب یہ لیا ہے کہ نبوت سے پہلے ایام جاہلیت میں نبی ﷺ سے کچھ قصور ایسے ہوگئے تھے جن کی فکر آپ کو سخت گراں گزر رہی تھی اور یہ آیت نازل کر کے اللہ تعالیٰ نے آپ کو مطمئن کردیا کہ آپ کے وہ قصور ہم نے معاف کردیے۔ لیکن ہمارے نزدیک یہ معنی لینا سخت غلطی ہے۔ اول تو لفظ وزر کے معنی لازماً گناہ ہی کے نہیں ہیں بلکہ یہ لفظ بھاری بوجھ کے لیے بھی بولا جاتا ہے۔ اس لیے کوئی وجہ نہیں کہ اس کو خواہ مخواہ برے معنی میں لیا جائے۔ دوسرے حضور کی نبوت سے پہلے کی زندگی بھی اس قدر پاکیزہ تھی کہ قرآن میں مخالفین کے سامنے اس کو ایک چلینج کے طور پر پیش کیا گیا تھا چناچہ نبی ﷺ سے کفار کو مخاطب کر کے یہ کہوایا گیا کہ " فَقَدْ لَبِثْتُ فِيكُمْ عُمُرًا مِّن قَبْلِهِ " " میں اس قرآن کو پیش کرنے سے پہلے تمہارے درمیان ایک عمر گزار چکا ہوں " (یونس آیت 16) اور حضور اس کردار کے انسان بھی نہ تھے کہ لوگوں سے چھپ کر آپ نے کوئی گناہ کیا ہو۔ معاذ اللہ اگر ایسا ہوتا تو اللہ تعالیٰ تو اس سے ناواقف نہ ہوسکتا تھا کہ جو شخص کوئی چھپا ہوا داغ اپنے دامن پر لیے ہوئے ہوتا اس سے خلق خدا کے سامنے برملا وہ بات کہلواتا جو سورة یونس کی مذکورہ بالا آیت میں اس نے کہلوائی ہے۔ پس درحقیقت اس آیت میں وزر کے صحیح معنی بھاری بوجھ کے ہیں اور اس سے مراد رنج و غم اور فکر و پریشانی کا وہ بوجھ ہے جو اپنی قوم کی جہالت و جاہلیت کو دیکھ دیکھ کر آپ کی حساس طبیعت پر پڑ رہا تھا آپ کے سامنے بت پوجے جا رہے تھے۔ شرک اور مشرکانہ اوہام و رسوم کا بازار گرم تھا۔ اخلاق کی گندگی اور بےحیائی ہر طرف پھیلی ہوئی تھی۔ معاشرت میں ظلم اور معاملات میں فساد عام تھا۔ زور داروں کی زیادتیوں سے بےزور پس رہے تھے۔ لڑکیاں زندہ دفن کی جا رہی تھیں۔ قبیلوں پر قبیلے چھاپے مار رہے تھے اور بعض اوقات سو سو برس تک انتقامی لڑائیوں کا سلسلہ چلتا رہتا تھا۔ کسی کی جان، مال اور آبرو محفوظ نہ تھی جب تک کہ اس کی پشت پر کوئی مضبوط جتھا نہ ہو۔ یہ حالت دیکھ کر آپ کڑھتے تھے مگر اس بگاڑ کو دور کرنے کی کوئی صورت آپ کو نظر نہ آتی تھی۔ یہی فکر آپ کی کمر توڑے ڈال رہی تھی جس کا بار گراں اللہ تعالیٰ نے ہدایت کا راستہ دکھا کر آپ کے اوپر سے اتار دیا اور نبوت کے منصب پر سرفراز ہوتے ہی آپ کو معلوم ہوگیا کہ توحید اور آخرت اور رسالت پر ایمان ہی وہ شاہ کلید ہے جس سے انسانی زندگی کے ہر بگاڑ کا قفل کھولا جاسکتا ہے اور زندگی کے ہر پہلو میں اصلاح کا راستہ صاف کیا جاسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی اس رہنمائی نے آپ کے ذہن کا سارا بوجھ ہلکا کردیا اور آپ پوری طرح مطمئن ہوگئے کہ اس ذریعہ سے آپ نہ صرف عرب بلکہ پوری نوع انسانی کو ان خرابیوں سے نکال سکتے ہیں جن میں اس وقت عرب سے باہر کی بھی ساری دنیا مبتلا تھی۔
Ayahs 94:4–5سورة الْاِنْشِرَاح 3
یہ بات اس زمانہ میں فرمائی گئی تھی جب کوئی شخص یہ سوچ بھی نہ سکتا تھا کہ جس فرد فرید کے ساتھ گنتی کے چند آدمی ہیں اور وہ بھی صرف شہر مکہ تک محدود ہیں اس کا آوازہ دنیا بھر میں کیسے بلند ہوگا اور کیسی ناموری اس کو حاصل ہوگی۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان حالات میں رسول اللہ ﷺ کو یہ خوشخبری سنائی اور پھر عجیب طریقہ سے اس کو پورا کیا۔ سب سے پہلے آپ کے رفع ذکر کا کام اس نے خود آپ کے دشمنوں سے لیا۔ کفار مکہ نے آپ کو زک دینے کے لیے جو طریقے اختیار کیے ان میں سے ایک یہ تھا کہ حج کے موقع پر جب تمام عرب سے لوگ کھچ کھچ کر ان کے شہر میں آتے تھے، اس زمانہ میں کفار کے وفود حاجیوں کے ایک ایک ڈیرے پر جاتے اور لوگوں کو خبردار کرتے کہ یہاں ایک خطرناک شخص محمد ﷺ نامی ہے جو لوگوں پر ایسا جادو کرتا ہے کہ باپ بیٹے، بھائی بھائی اور شوہر اور بیوی میں جدائی پڑجاتی ہے، اس لیے ذرا اس سے بچ کر رہنا۔ یہی باتیں وہ ان سب لوگوں سے بھی کہتے تھے جو حج کے سوا دوسرے دنوں میں زیادرت، یا کسی کاروبار کے سلسلے میں مکہ آتے تھے۔ اس طرح اگرچہ وہ حضور کو بدنام کر رہے تھے، لیکن اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ عرب کے گوشے گوشے میں آپ کا نام پہنچ گیا اور مکہ کے گوشہ گمنامی سے نکال کر خود دشمنوں نے آپ کو تمام ملک کے قبائل سے متعارف کرا دیا۔ اس کے بعد یہ بالکل فطری امر تھا کہ لوگ یہ معلوم کریں کہ وہ شخص ہے کون ؟ کیا کہتا ہے ؟ کیسا آدمی ہے ؟ اس کے " جادو " سے متاثر ہونے والے کون لوگ ہیں اور ان پر اس کے " جادو " کا آخر کیا اثر پڑا ہے ؟ کفار مکہ کا پروپیگنڈا جتنا جتنا بڑھتا چلا گیا لوگوں میں یہ جستجو بڑھتی چلی گئی۔ پھر جب اس جستجو کے نتیجے میں لوگوں کو آپ کے اخلاق اور آپ کی سیرت و کردار کا حال معلوم ہوا، جب لوگوں نے قرآن سنا اور انہیں پتہ چلا کہ وہ تعلیمات کیا ہیں جو آپ پیش فرما رہے ہیں، اور جب دیکھنے والوں نے دیکھا کہ جس چیز کو جادو کہا جا رہا ہے اس سے متاثر ہونے والوں کی زندگیاں عرب کے عام لوگوں کی زندگیوں سے کس قدر مختلف ہوگئی ہیں، تو وہی بد نامی نیک نامی سے بدلتی شروع ہوگئی۔ حتی کہ ہجرت کا زمانہ آنے تک نوبت یہ پہنچ گئی کہ دور و نزدیک کے عرب قبائل میں شاید ہی کوئی قبلیہ ایسا رہ گیا ہو جس میں کسی نہ کسی شخص یا کنبے نے اسلام قبول نہ کرلیا ہو، اور جس میں کچھ نہ کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ سے اور آپ کی دعوت سے ہمدردی و دلچسپی رکھنے والے پیدا نہ ہوگئے ہوں۔ یہ حضور کے رفع ذکر کا پہلا مرحلہ تھا۔ اس کے بعد ہجرت سے دوسرے مرحلے کا آغاز ہوا جس میں ایک طرف منافقین یہود اور تمام عرب کے اکابر مشرکین رسول اللہ ﷺ کو بد نام کرنے میں سرگرم تھے، اور دوسری طرف مدینہ طیبہ کی اسلامی ریاست خدا پرستی و خدا ترسی، زہد وتقوی، طہارت اخلاق، حسن معاشرت، عدل و انصاف، انسانی مساوات، مالداروں کی فیاضی، غریبوں کی خبر گیری، عہد و پیمان کی پاسداری اور معاملات میں راستبازی کا وہ عملی نمونہ پیش کر رہی تھی جو لوگوں کے دلوں کو مسخر کرتا چلا جا رہا تھا۔ دشمنوں نے جنگ کے ذریعہ سے حضور کے اس بڑھتے ہوئے اثر کو مٹانے کی کوشش کی مگر آپ کی قیادت میں اہل ایمان کی جو جماعت تیار ہوئی تھی اس نے اپنے نظم و ضبط، اپنی شجاعت، اپنی موت سے بےخوفی، اور حالت جنگ تک میں اخلاقی حدود کی پابندی سے اپنی برتری اس طرح ثابت کردی کہ سارے عرب نے ان کا لوہا مان لیا۔ 10 سال کے اندر حضور کا رفع ذکر اس طرح ہوا کہ وہی ملک جس میں آپ کو بدنام کرنے کے لیے مخالفین نے اپنا سارا زور لگایا تھا اس کا گوشہ گوشہ اشھد ان محمداً رسول اللہ کی صدا سے گونج اٹھا۔ پھر تیسرے مرحلے کا افتتاح خلافت راشدہ کے دور سے ہوا جب آپ کا نام مبارک تمام روئے زمین میں بلند ہونا شروع ہوگیا۔ یہ سلسلہ آج تک بڑھتاجا رہا ہے اور انشاء اللہ قیامت تک بڑھتا چلا جائے گا۔ دنیا میں کوئی جگہ ایسی نہیں ہے جہاں مسلمانوں کی کوئی بستی موجود اور دن میں پانچ مرتبہ اذان میں بآواز بلند محمد ﷺ کی رسالت کا اعلان نہ ہو رہا ہو، نمازوں میں حضور پر درود نہ بھیجا جا رہا ہو، جمعہ کے خطبوں میں آپ کا ذکر خیر نہ کیا جا رہا ہو، اور سال کے بارہ مہینوں میں سے کوئی دن اور دن کے 24 گھنٹوں میں سے کوئی وقت ایسا نہیں ہے جب روئے زمین میں کسی نہ کسی جگہ حضور کا ذکر مبارک نہ ہو رہا ہو۔ قرآن کی صداقت کا ایک کھلا ہوا ثبوت ہے کہ جس وقت نبوت کے ابتدائی دور میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ و رفعنا لک ذکرک اس وقت کوئی شخص بھی یہ اندازہ نہ کرسکتا تھا کہ یہ رفع ذکر اس شان سے اور اتنے بڑے پیمانے پر ہوگا۔ حدیث میں حضرت ابو سعید خدری کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، " جبریل میرے پاس آئے اور مجھ سے کہا کہ میرا رب اور آپ کا رب پوچھتا ہے کہ میں نے کس طرح تمہارا رفع ذکر کیا ؟ میں نے عرض کیا اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ جب میرا ذکر کیا جائے گا تو میرے ساتھ تمہارا بھی ذکر کیا جائے گا "۔ (ابن جریر، ابن ابی حاتم، مسند ابو یعلی، ابن المنذر، ابن حبان، ابن مردویہ، ابو نعیم۔ بعد کی پوری تاریخ شہادت دے رہی ہے کہ یہ بات حرف بحرف پوری ہوئی۔
Ayahs 94:6–7سورة الْاِنْشِرَاح 4
اس بات کو دو مرتبہ دہرایا گیا ہے تاکہ حضور کو پوری طرح تسلی دے دی جائے کہ جن سخت حالات سے آپ اس وقت گزر رہے ہیں یہ زیادہ دیر رہنے والے نہیں ہیں بلکہ ان کے بعد قریب ہی میں اچھے حالات آنے والے ہیں۔ بظاہر یہ بات متناقض معلوم ہوتا ہے کہ تنگی کے ساتھ فراخی ہو، کیونکہ یہ دونوں چیزیں بیک وقت جمع نہیں ہوتیں۔ لیکن تنگی کے بعد فراخی کہنے کے بجائے تنگی کے ساتھ فراخی کے الفاظ اس معنی میں استعمال کیے گئے ہیں کہ فراخی کا دور اس قدر قریب ہے کہ گویا وہ اس کے ساتھ ہی چلا آ رہا ہے۔
Ayah 94:8سورة الْاِنْشِرَاح 5
فارغ ہونے سے مراد اپنے مشاغل سے فارغ ہونا ہے، خواہ وہ دعوت و تبلیغ کے مشاغل ہوں یا اسلام قبول کرنے والوں کی تعلیم و تربیت کے مشاغل، یا اپنے گھر بار اور دنیوی کاموں کے مشاغل۔ حکم کا منشا یہ ہے کہ جب کوئی اور مشغولیت نہ رہے تو اپنا فارغ وقت عبادت کی ریاضت و مشقت میں صرف کرو اور ہر طرف سے توجہ ہٹا کر صرف اپنے رب کی طرف متوجہ ہوجاؤ۔