Ayah 95:1سورة التِّیْن 1
اس کی تفسیر میں مفسرین کے درمیان بہت اختلاف ہوا ہے۔ حسن بصری، عکرمہ، عطاء بن ابی رباح، جابر بن زید، مجاہد اور ابراہیم نخعی رحمہم اللہ کہتے ہیں کہ انجیر سے مراد یہی انجیر ہے جسے لوگ کھاتے ہیں اور زیتون بھی یہی زیتون ہے جس سے تیل نکالا جاتا ہے۔ ابن ابی حاتم اور حاکم نے ایک قول حضرت عبداللہ بن عباس سے بھی اس کی تائید میں نقل کیا ہے۔ اور جن مفسرین نے اس تفسیر کو قبول کیا ہے انہوں نے انجیر اور زیتون کے خواص اور فوائد بیان کر کے یہ رائے ظاہر کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہی خوبیوں کی وجہ سے ان دونوں پھلوں کی قسم کھائی ہے۔ اس میں شک نہیں کہ ایک عام عربی داں تین اور زیتون کے الفاظ سن کر وہی معنی لے گا جو عربی زبان میں معروف ہیں۔ لیکن دو وجوہ ایسے ہیں جو یہ معنی لینے میں مانع ہیں۔ ایک یہ کہ آگے طور سینا اور شہر مکہ کی قسم کھائی گئی ہے اور دو پھلوں کے ساتھ دو مقامات کی قسم کھانے میں کوئی مناسبت نظر نہیں آتی۔ دوسرے ان چار چیزوں کی قسم کھا کر آگے جو مضمون بیان کیا گیا ہے۔ اس پر طور سینا اور شہر مکہ تو دلالت کرتے ہیں، لیکن یہ دو پھل اس پر دلالت نہیں کرتے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں جہاں بھی کسی چیز کی قسم کھائی ہے، اس کی عظمت یا اس کے منافع کی بنا پر نہیں کھائی، بلکہ ہر قسم اس مضمون پر دلالت کرتی ہے جو قسم کھانے کے بعد بیان کیا گیا ہے۔ اس لیے ان دونوں پھلوں کے خواص کو وجہ قسم قرار نہیں دیا جاسکتا۔
بعض دوسرے مفسرین نے تین اور زیتون سے مراد بعض مقامات لیے ہیں، کعب احبار، قتادہ اور ابن زید کہتے ہیں کہ تین سے مراد دمشق اور زیتون سے مراد بیت المقدس۔ ابن عباس کا ایک قول ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے یہ نقل کیا ہے کہ تین سے مراد حضرت نوح کی وہ مسجد ہے جو انہوں نے جودی پہاڑ پر بنائی تھی۔ اور زیتون سے مراد بیت المقدس ہے۔ لیکن والتین و الزیتون کے الفاظ سن کر یہ معنی ایک عام عرب کے ذہن میں نہیں آسکتے تھے اور نہ یہ بات قرآن کے مخاطب اہل عرب میں معروف تھی کہ تین اور زیتون ان مقامات کے نام ہیں۔
البتہ یہ طریقہ اہل عرب میں رائج تھا کہ جو پھل کسی علاقے میں کثرت سے پیدا ہوتا ہو اس علاقے کو وہ بسا اوقات اس پھل کے نام سے موسوم کردیتے تھے۔ اس محاورے کے لحاظ سے تین زیتون کے الفاظ کا مطلب مناسبت تین و زیتون، یعنی ان پھلوں کی پیداوار کا علاقہ ہوسکتا ہے، اور وہ شام و فلسطین کا علاقہ ہے کیونکہ اس زمانے میں اہل عرب میں یہی علاقہ انجیر اور زیتون کی پیداوار کے مشہور تھا۔ ابن تیمیہ، ابن القیم، زمحشری اور آلوسی رحمہم اللہ نے اسی تفسیر کو اختیار کیا ہے۔ اور ابن جریر نے بھی اگرچہ پہلے قول کو ترجیح دی ہے، مگر اس کے ساتھ یہ بات تسلیم کی ہے کہ تین و زیتون سے مراد ان پھلوں کی پیداوار کا علاقہ بھی ہوسکتا ہے۔ حافظ ابن کثیر نے بھی اس تفسیر کو قابل لحاظ سمجھا ہے۔
Ayahs 95:2–3سورة التِّیْن 2
اصل میں " طُورِ سِينِينَ " فرمایا گیا ہے۔ سینین جزیرہ نمائے سینا کا دوسرا نام ہے۔ اس کو سینا یا سینا بھی کہتے ہیں اور سینین بھی خود قرآن میں ایک جگہ طور سینا کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ اب چونکہ وہ علاقہ جس میں کوہ طور واقع ہے سینا ہی کے نام سے مشہور ہے اس لیے ہم نے ترجمہ میں اس کا یہی مشہور نام درج کیا ہے۔
Ayah 95:4سورة التِّیْن 3
یہ ہے وہ بات جس پر انجیر و زیتون کے علاقے یعنی شام و فلسطین اور کوہ طور اور مکہ کے پر امن شہر کی قسم کھائی گئی ہے۔ انسان کے بہترین ساخت پر پیدا کیے جانے کا مطلب یہ ہے کہ اس کو وہ اعلی درجہ کا جسم عطا کیا گیا ہے جو کسی دوسری جاندار مخلوق کو نہیں دیا گیا۔ اور اسے فکر و فہم اور علم و عقل کی وہ بلند پایہ قابلیتیں بخشی گئی ہیں جو کسی دوسری مخلوق کو نہیں بخشی گئیں۔ پھر چونکہ نوع انسانی کے اس فضل و کمال کا سب سے زیادہ بلند نمونہ انبیاء (علیہم السلام) ہیں اور کسی مخلوق کے لیے اس سے اونچا کوئی مرتبہ نہیں ہوسکتا کہ اللہ تعالیٰ اسے منصب نبوت عطا کرنے کے لیے منتخب فرمائے۔ اس لیے انسان کے احسن تقویم پر ہونے کی شہادت میں ان مقامات کی قسم کھائی گئی ہے جو خدا کے پیغمبروں سے نسبت رکھتے ہیں۔ شام و فلسطین کا علاقہ وہ علاقہ ہے جہاں حضرت ابراہیم ؑ سے لے کر حضرت عیسیٰ ؑ تک بکثرت انبیاء مبعوث ہوئے۔ کوہ طور وہ مقام ہے جہاں حضرت موسیٰ ؑ کو نبوت عطا کی گئی۔ رہا مکہ معظمہ تو اس کی بنا ہی حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل کے ہاتھوں پڑی، انہی کی بدولت وہ عرب کا مقدس ترین مرکزی شہر بنا، حضرت ابراہیم ہی نے یہ دعا مانگی تھی کہ " رَبِّ اجْعَلْ هَـٰذَا بَلَدًا آمِنًا " " اے میرے رب اس کو ایک پر امن شہر بنا " (البقرہ۔ 126) اور اسی دعا کی یہ برکت تھی کہ عرب میں ہر طرف پھیلی ہوئی بد امنی کے درمیان صرف یہی ایک شہر ڈھائی ہزار سال سے امن کا گہوارہ بنا ہوا تھا پس کلام کا مقصود یہ ہے کہ ہم نے نوع انسانی کو ایسی بہترین ساخت پر بنایا کہ اس میں نبوت جیسے عظیم مرتبے کے حامل انسان پیدا ہوئے۔
Ayah 95:5سورة التِّیْن 4
مفسرین نے بالعموم اس کے دو معنی بیان کیے ہیں۔ ایک یہ کہ ہم نے اسے ارذل العمر، یعنی بڑھاپے کی ایسی حالت کی طرف پھیر دیا جس میں وہ کچھ سوچنے سمجھنے اور کام کرنے کے قابل نہ رہا۔ دوسرے یہ کہ ہم نے اسے جہنم کے سب سے نیچے درجے کی طرف پھیر دیا۔ لیکن یہ دونوں معنی اس مقصود کلام کے لیے دلیل نہیں بن سکتے جسے ثابت کرنے کے لیے یہ سورة نازل ہوئی۔ سورة کا مقصود جزا و سزا کے برحق ہونے پر استدلال کرنا ہے۔ اس پر نہ یہ بات دلالت کرتی ہے کہ انسانوں میں سے بعض لوگ بڑھاپے کی انتہائی کمزور حالت کو پہنچا دیے جاتے ہیں، اور نہ یہی بات دلالت کرتی ہے کہ انسانوں کا ایک گروہ جہنم میں ڈالا جائے گا۔ پہلی بات اس لیے جزا و سزا کی دلیل نہیں بن سکتی کہ بڑھاپے کی حالت اچھے برے، دونوں قسم کے لوگوں پر طاری ہوتی ہے، اور کسی کا اس حالت کو پہنچنا کوئی سزا نہیں ہے جو اسے اس کے اعمال پر دی جاتی ہو۔ رہی دوسری بات تو وہ آخرت میں پیش آنے والا معاملہ ہے۔ اسے ان لوگوں کے سامنے دلیل کے طور پر کیسے پیش کیا جاسکتا ہے۔ جنہیں آخرت ہی کی جزا و سزا کا قائل کرنے کے لیے یہ سارا استدلال کیا جا رہا ہے ؟ اس لیے ہمارے نزدیک آیت کا صحیح مفہوم یہ ہے کہ بہترین ساخت پر پیدا کیے جانے کے بعد جب انسان اپنے جسم اور ذہن کی طاقتوں کو برائی کے راستے میں استعمال کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے برائی ہی کی توفیق دیتا ہے اور گراتے گراتے اسے گراوٹ کی اس انتہا تک پہنچا دیتا ہے کہ کوئی مخلوق گراوٹ میں اس حد کو پہنچی ہوئی نہیں ہوتی۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو انسانی معاشرے کے اندر بکثرت مشاہدے میں آتی ہے۔ حرص، طمع، خود غرضی، شہوت پرستی، نشہ بازی، کمینہ پن، غیظ و غضب اور ایسی ہی دوسری خصلتوں میں جو لوگ غرق ہوجاتے ہیں وہ اخلاقی حیثیت سے فی الواقع سب نیچوں سے نیچ ہو کر رہ جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر صرف اسی ایک بات کو لے لیجیے کہ ایک قوم جب دوسری قوم کی دشمنی میں اندھی ہوجاتی ہے تو کس طرح درندگی میں تمام درندوں کو مات دیتی ہے۔ درندہ تو صرف اپنی غذا کے لیے کسی جانور کا شکار کرتا ہے۔ جانوروں کا قتل عام نہیں کرتا۔ مگر یہ احسن تقویم پر پیدا ہونے والا انسان اپنی عقل سے کام لے کر توپ، بندوق، ٹینک، ہوائی جہاز، ایٹم بم، ھائیڈروجن بم اور دوسرے بیشمار ہتھیار ایجاد کرتا ہے تاکہ آن کی آن میں پوری پوری بستیوں کو تباہ کر کے رکھ دے۔ درندہ صرف زخمی یا ہلاک کرتا ہے۔ مگر انسان اپنے ہی جیسے انسانوں کو اذیت دینے کے لیے ایسے ایسے درد ناک طریقے اختراع کرتا ہے جن کا تصور بھی کبھی کسی درندے کے دماغ میں نہیں آسکتا۔ پھر یہ اپنی دشمنی اور انتقام کی آگ ٹھنڈی کرنے کے لیے کمینہ پن کی اس انتہا کو پہنچتا ہے کہ عورتوں کے ننگے جلوس نکالتا ہے، ایک ایک عورت کو دس دس بیس بیس آدمی اپنی حوس کا نشانہ بناتے ہیں، باپوں اور بھائیوں اور شوہروں کے سامنے ان کے گھر کی عورتوں کی عصمت لوٹتے ہیں، بچوں کو ان کے ماں باپ کے سامنے قتل کرتے ہیں۔ ماؤں کو اپنے بچوں کا خون پینے پر مجبور کرتے ہیں، انسانوں کو زندہ جلاتے اور زندہ دفن کرتے ہیں۔ دنیا میں وحشی سے وحشی جانوروں کی بھی کوئی قسم ایسی نہیں ہے جو انسان کی اس وحشت کا کسی درجہ میں بھی مقابلہ کرسکتی ہو۔ یہی حال دوسری بری صفات کا بھی ہے کہ ان میں سے جس کی طرف بھی انسان رخ کرتا ہے، اپنے آپ کو ارذل المخلوقات ثابت کردیتا ہے۔ حتی کہ مذہب، جو انسان کے لیے مقدس ترین شے ہے، اس کو بھی وہ اتنا گرا دیتا ہے کہ درختوں اور جانوروں اور پتھروں کو پوجتے پوجتے پستی کی انتہا کو پہنچ کر مرد و عورت کے اعضائے جنسی تک کو پوج ڈالتا ہے، اور دیوتاؤں کی خوشنودی کے لیے عبادت گاہوں میں دیو داسیاں رکھتا ہے جن سے زنا کا ارتکاب کار ثواب سمجھ کر کیا جاتا ہے۔ جن ہستیوں کو وہ دیوتا اور معبود کا درجہ دیتا ہے ان کی طرف اس دیو مالا میں ایسے ایسے گندے قصے منسوب ہوتے ہیں جو ذلیل ترین انسان کے لیے بھی باعث شرم ہیں۔
Ayah 95:6سورة التِّیْن 5
جن مفسرین نے اسفل سافلین سے مراد بڑھاپے کی وہ حالت کی ہے جس میں انسان اپنے ہوش حواس کھو بیٹھتا ہے وہ اس آیت کا مطلب یہ بیان کرتے ہیں کہ " مگر جن لوگوں نے اپنی جوانی اور تندرستی کی حالت میں ایمان لا کر نیک اعمال کیے ہوں ان کے لیے بڑھاپے کی اس حالت میں بھی وہی نیکیاں لکھی جائیں گی اور انہی کے مطابق وہ اجر پائیں گے۔ ان کے اجر میں اس بات پر کوئی کمی نہ کی جائے گی کہ عمر کے اس دور میں ان سے وہ نیکیاں صادر نہیں ہوئیں "۔ اور جو مفسرین اسفل سافلین کی طرف پھیرے جانے کا مطلب جہنم کے ادنی ترین درجہ میں پھینک دیا جانا لیتے ہیں ان کے نزدیک اس آیت کے معنی یہ ہیں کہ " ایمان لا کر عمل صالح کرنے والے لوگ اس سے مستثنیٰ ہیں، وہ اس درجہ کی طرف سے مناسبت نہیں رکھتے جو جزا و سزا کے برحق ہونے پر اس سورت میں کہا گیا ہے ہمارے نزدیک آیت کا صحیح مطلب یہ ہے کہ جس طرح انسانی معاشرے میں یہ عام مشاہدے کی بات ہے کہ اخلاقی پستی میں جو گرنے والے لوگ گرتے گرتے سب نیچوں سے نیچ ہوجاتے ہیں، اسی طرح یہ بھی ہر زمانے کا عام مشاہدہ ہے کہ جو لوگ خدا اور آخرت اور رسالت پر ایمان لائے اور جنہوں نے اپنی زندگی عمل صالح کے سانچے میں ڈھال لی وہ اس پستی میں گرنے سے بچ گئے اور اسی احسن تقویم پر قائم رہے جس پر اللہ نے انسان کو پیدا کیا تھا، اس لیے وہ اجر غیر ممنون کے مستحق ہیں، یعنی ایسے اجر کے جو نہ ان کے استحقاق سے کم دیا جائے گا، اور نہ اس کا سلسلہ کبھی منقطع ہوگا۔
Ayah 95:7سورة التِّیْن 6
دوسرا ترجمہ اس آیت کا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ " پس (اے انسان) اس کے بعد کیا چیز تجھے جزا و سزا کو جھٹلانے پر آمادہ کرتی ہے "۔ دونوں صورتوں میں مدعا ایک ہی رہتا ہے۔ یعنی جب یہ بات علانیہ انسانی معاشرے میں نظر آتی ہے بہترین ساخت پر پیدا کی ہوئی نوع انسانی میں سے ایک گروہ اخلاقی پستی میں گرتے گرتے سب نیچوں سے نیچ ہوجاتا ہے، اور دوسرا گروہ ایمان و عمل صالح اختیار کر کے اس گراوٹ سے بچا رہتا ہے اور اسی حالت پر قائم رہتا ہے جو بہترین ساخت پر انسان کے پیدا کیے جانے سے مطلوب تھی، تو اس کے بعد جزا و سزا کو کیسے جھٹلایا جاسکتا ہے ؟ کیا عقل یہ کہتی ہے کہ دونوں قسم کے انسانوں کا انجام یکساں ہو ؟ کیا انصاف یہی چاہتا ہے کہ نہ اسفل السافلین میں گرنے والوں کو کوئی سزا دی جائے اور نہ اس سے بچ کر پاکیزہ زندگی اختیار کرنے والوں کو کوئی جزا ؟ یہی بات دوسرے مقامات پر قرآن میں اس طرح فرمائی گئی ہے کہ " أَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِينَ كَالْمُجْرِمِينَ مَا لَكُمْ كَيْفَ تَحْكُمُونَ " " کیا ہم فرمانبرداروں کو مجرموں کی طرح کردیں۔ تمہیں کیا ہوگیا ہے، تم کیسے حکم لگاتے ہو ؟ " (القلم 35۔ 36)۔ " أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ اجْتَرَحُوا السَّيِّئَاتِ أَن نَّجْعَلَهُمْ كَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سَوَاءً مَّحْيَاهُمْ وَمَمَاتُهُمْ ۚ سَاءَ مَا يَحْكُمُونَ " " کیا برائیوں کا ارتکاب کرنے والوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم انہیں ان لوگوں کی طرح کردیں جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے ؟ دونوں کی زندگی اور موت یکساں ہو ؟ بہت برے حکم ہیں جو یہ لوگ لگاتے ہیں "۔ (الجاثیہ۔ 21)۔
Ayah 95:8سورة التِّیْن 7
یعنی جب دنیا کے چھوٹے چھوٹے حاکموں سے بھی تم یہ چاہتے ہو اور یہی توقع رکھتے ہو کہ وہ انصاف کریں، مجرموں کو سزا دیں اور اچھے کام کرنے والوں کو صلہ و انعام دیں، تو خدا کے متعلق تمہارا کیا خیال ہے ؟ کیا وہ سب حاکموں سے بڑا حاکم نہیں ہے ؟ اگر تم اس کو سب سے بڑا حاکم مانتے ہو تو کیا اس کے بارے میں تمہارا یہ خیال ہے کہ وہ کوئی انصاف نہ کرے گا ؟ کیا اس سے تم یہ توقع رکھتے ہو کہ وہ برے اور بھلے کو ایک جیسا کر دے گا ؟ کیا اس کی دنیا میں بد ترین افعال کرنے والے اور بہترین کام کرنے والے، دونوں مر کر خاک ہوجائیں گے، اور کسی کو نہ بد اعمالیوں کی سزا ملے گی نہ حسن عمل کی جزا ؟
امام احمد، ترمذی، ابو داؤد، ابن المنذر، بیہقی، حاکم اور ابن مردویہ نے حضرت ابوہریرہ سے یہ روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی سورة " وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ " پڑھے اور " أَلَيْسَ اللَّـهُ بِأَحْكَمِ الْحَاكِمِينَ " پر پہنچے تو کہے " بَلٰی وَ اَنَا عَلٰی ذٰلِکَ مِنَ الشَّاھِدِیْنَ " (ہاں، اور میں اس پر شہادت دینے والوں میں سے ہوں)۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ حضور جب یہ آت پڑھتے تو فرماتے " سُبْحٰنَکَ فَبَلیٰ "۔