96. Surah Al-Alaq

العلقThe Clot · 19 ayahsتفہیم القرآن

تعارف

نام

دوسری آیت کے لفظ علق کو اس سورت کا نام قرار دیا گیا ہے۔

زمانہ نزول

اس سورت کے دو حصے ہیں۔ پہلا حصہ اقرا سے شروع ہو کر پانچویں آیت کے الفاظ مالم یعلم پر ختم ہوتا ہے، اور دوسرا حصہ کلآ ان الانسان لیطغٰی سے شروع ہو کر آخر سورت تک چلتا ہے۔ پہلے حصے کے متعلق علمائے امت کی عظیم اکثریت اس بات پر متفق ہے کہ یہ سب سے پہلی وحی ہے جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل ہوئی۔ اس معاملے میں حضرت عائشہ (رض) کی وہ حدیث جسے امام احمد، بخاری، مسلم اور دوسرے محدثین نے متعدد سندوں سے نقل کیا ہے، صحیح ترین احادیث میں شمار ہوتی ہے، اور اس میں حضرت عائشہ (رض) نے خود رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سن کر آغاز وحی کا پورا قصہ بیان کیا ہے۔ اس کے علاوہ ابن عباس، ابو موسیٰ اشعری اور صحابہ (رض) اجمعین کی ایک جماعت سے بھی یہی بات منقول ہے کہ قرآن کی سب سے پہلی آیات جو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل ہوئیں وہ یہی تھیں۔ دوسرا حصہ بعد میں اس وقت نازل ہوا جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حرم میں نماز پڑھنی شروع کی اور ابو جہل نے آپ کو دھمکیاں دے کر اس سے روکنے کی کوشش کی۔

آغازِ وحی

محدثین نے آغاز وحی کا قصہ اپنی اپنی سندوں کے ساتھ امام زہری سے، اور انہوں نے حضرت عروہ بن زبیر سے اور انہوں نے اپنی خالہ حضرت عائشہ (رض) سے نقل کیا ہے۔ وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر وحی کی ابتدا سچے (اور بعض روایات میں ہے اچھے) خوابوں کی شکل میں ہوئی۔ آپ جو خواب بھی دیکھتے وہ ایسا ہوتا کہ جیسے آپ دن کی روشنی میں دیکھ رہے ہیں۔ پھر آپ تنہائی پسند ہوگئے اور کئی کئی شب و روز غار حرا میں رہ کر عبادت کرنے لگے (حضرت عائشہ (رض) نے تَحَنُّث کا لفظ استعمال کیا ہے جس کی تشریح امام زہری نے تعبُّد سے کی ہے۔ یہ کسی طرح کی عبادت تھی جو آپ کرتے تھے، کیونکہ اس وقت تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو عبادت کا طریقہ نہیں بتایا گیا تھا) آپ کھانے پینے کا سامان گھر سے لے جا کر وہاں چند روز گزارتے، پھر حضرت خدیجہ (رض) کے پاس واپس آتے اور وہ مزید چند روز کے لیے سامان آپ کے لیے مہیا کردیتی تھیں۔ ایک روز جبکہ آپ غار حرا میں تھے، یکایک آپ پر وحی نازل ہوئی اور فرشتے نے آکر آپ سے کہا " پڑھو " اس کے بعد حضرت عائشہ خود رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا قول نقل کرتی ہیں کہ میں نے کہا " میں تو پڑھا ہوا نہیں ہوں "۔ اس پر فرشتے نے مجھے پکڑ کر بھینچا یہاں تک کہ میری قوت برداشت جواب دینے گی۔ پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور کہا پڑھو۔ میں نے کہا " میں تو پڑھا ہوا نہیں ہوں "۔ اس نے دوبارہ مجھے بھینچا اور میری قوت برداشت جواب دینے لگی۔ پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور کہا پڑھو۔ میں نے پھر کہا " میں تو پڑھا ہوا نہیں ہوں "۔ اس نے تیسری مرتبہ مجھے بھینچا یہاں تک کہ میری قوت برداشت جواب دینے لگی۔ پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور کہا اقرا باسم ربک الذی خلق (پڑھو اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا) یہاں تک کہ مالم یعلم (جسے وہ نہ جانتا تھا) تک پہنچ گیا۔ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ اس کے بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کانپتے لرزتے ہوئے وہاں سے پلٹے اور حضرت خدیجہ کے پاس پہنچ کر کہا " مجھے اڑھاؤ، مجھے اڑھاؤ " چناچہ آپ کو اڑھا دیا گیا۔ جب آپ پر سے خوف زدگی کی کیفیت دور ہوگئی تو آپ نے فرمایا " اے خدیجہ، یہ مجھے کیا ہوگیا ہے "۔ پھر سارا قصہ آپ نے ان کو سنایا اور کہا " مجھے اپنی جان کا ڈر ہے " انہوں نے کہا " ہر گز نہیں، آپ خوش ہوجائیے۔ خدا کی قسم، آپ کو خدا کبھی رسوا نہ کرے گا۔ آپ رشتہ داروں سے نیک سلوک کرتے ہیں، سچ بولتے ہیں (ایک روایت میں یہ اضافہ ہے کہ امانتیں ادا کرتے ہیں) ، بےسہارا لوگوں کا بار برداشت کرتے ہیں، نادار لوگوں کو کما کردیتے ہیں، مہمان نوازی کرتے ہیں اور نیک کاموں میں مدد کرتے ہیں " پھر وہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ساتھ لے کر ورقہ بن نوفل کے پاس گئیں جو ان کے چچا زاد بھائی تھے، زمانۂ جاہلیت میں عیسائی ہوگئے تھے، عربی اور عبرانی میں انجیل لکھتے تھے، بہت بوڑھے اور نابینا ہوگئے تھے۔ حضرت خدیجہ نے ان سے کہا بھائی جان، ذرا اپنے بھتیجے کا قصہ سنیے۔ ورقہ نے حضور سے کہا بھتیجے تم کو کیا نظر آیا ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو کچھ دیکھا تھا وہ بیان کیا۔ ورقہ نے کہا " یہ وہی ناموس (وحی لانے والا فرشتہ ہے) جو موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل کیا تھا۔ کاش میں آپ کے زمانۂ نبوت میں قوی جوان ہوتا۔ کاش میں اس وقت زندہ رہوں جب آپ کی قوم آپ کو نکالے گی۔ " رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم نے فرمایا " کیا لوگ مجھے نکال دیں گے ؟ " ورقہ نے کہا " ہاں، کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کوئی شخص وہ چیز لے کر آیا ہو جو آپ لائے ہیں اور اس سے دشمنی نہ کی گئی ہو۔ اگر میں نے آپ کا وہ زمانہ پایا تو میں آپ کی پرزور مدد کروں گا " مگر زیادہ مدت نہ گزری تھی کہ ورقہ کا انتقال ہوگیا۔ یہ قصہ خود اپنے منہ سے بول رہا ہے کہ فرشتے کی آمد سے ایک لمحہ پہلے تک بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس بات سے خالی الذہن تھے کہ آپ نبی بنائے جانے والے ہیں۔ اس چیز کا طالب یا متوقع ہونا تو درکنار، آپ کے وہم و گمان میں بھی یہ نہ تھا کہ ایسا کوئی معاملہ آپ کے ساتھ پیش آئے گا۔ وحی کا نزول اور فرشتے کا اس طرح سامنے آنا آپ کے لیے اچانک ایک حادثہ تھا جس کا تاثر آپ کے اوپر وہی ہوا جو ایک بیخبر انسان پر اتنے بڑے ایک حادثہ کے پیش آنے سے فطری طور پر ہوسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب آپ اسلام کی دعوت لے کر اٹھے تو مکہ کے لوگوں نے آپ پر ہر طرح کے اعتراضات کیے، مگر ان میں کوئی یہ کہنے والا نہ تھا کہ ہم کو تو پہلے ہی یہ خطرہ تھا کہ آپ کوئی دعویٰ کرنے والے ہیں کیونکہ آپ ایک مدت سے نبی بننے کی تیاریاں کر رہے تھے۔ اس قصے سے ایک بات یہ بھی معلوم ہوتی ہے کہ نبوت سے پہلے آپ کی زندگی کیسی پاکیزہ تھی اور آپ کا کردار کتنا بلند تھا۔ حضرت خدیجہ (رض) کوئی کم سن خاتون نہ تھیں بلکہ اس واقعہ کے وقت ان کی عمر 55 سال تھی اور پندرہ سال سے وہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شریک زندگی تھیں۔ بیوی سے شوہر کی کوئی کمزوری چھپی نہیں رہ سکتی۔ انہوں نے اس طویل ازدواجی زندگی میں آپ کو اتنا عالی مرتبہ انسان پایا تھا کہ جب حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو غار حراء میں پیش آنے والا واقعہ سنایا تو بلا تامل انہوں نے یہ تسلیم کرلیا کہ فی الواقع اللہ کا فرشتہ ہی آپ کے پاس وحی لے کر آیا ہے۔ اسی طرح ورقہ بن نوفل بھی مکہ کے ایک بوڑھے باشندے تھے، بچپن سے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی دیکھتے چلے آ رہے تھے۔ اور پندرہ سال کی قریبی رشتہ داری کی بنا پر تو وہ آپ کے حالات سے اور بھی زیادہ گہری واقفیت رکھتے تھے۔ انہوں نے بھی جب یہ واقعہ سنا تو اسے کوئی وسوسہ نہیں سمجھا بلکہ سنتے ہی کہہ دیا کہ یہ وہی ناموس ہے جو موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوا تھا۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ ان کے نزدیک بھی آپ اتنے بلند پایہ انسان تھے کہ آپ کا نبوت کے منصب پر سرفراز ہونا کوئی قابل تعجب امر نہ تھا۔

دوسرے حصہ کا شانِ نزول

اس سورت کا دوسرا حصہ اس وقت نازل ہوا جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حرم میں اسلامی طریقہ پر نماز پڑھنی شروع کی اور ابو جہل نے آپ کو ڈرا دھمکا کر اس سے روکنا چاہا۔ معلوم ایسا ہوتا ہے کہ نبی ہونے کے بعد قبل اس کے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسلام کی علانیہ تبلیغ کرتے، آپ نے حرم میں اس طریقے پر نماز ادا کرنی شروع کردی جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو سکھائی تھی، اور یہی وہ چیز تھی جس سے قریش نے پہلی مرتبہ یہ محسوس کیا کہ آپ کسی نئے دین کے پیرو ہوگئے ہیں۔ دوسرے لوگ تو اسے حیرت ہی کی نگاہ سے دیکھ رہے تھے، مگر ابو جہل کی رگ جاہلیت اس پر پھڑک اٹھی اور اس نے آپ کو دھمکانا شروع کردیا کہ اس طریقے پر حرم میں عبادت نہ کریں۔ چناچہ اس سلسلے میں کئی احادیث حضرت عبد اللہ بن عباس اور حضرت ابوہریرہ (رض) اجمعین سے مروی ہیں جن میں ابو جہل کی ان بیہودگیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ حضرت ابوہریرہ (رض) کا بیان ہے کہ ابو جہل نے قریش کے لوگوں سے پوچھا " کیا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہارے سامنے زمین پر اپنا منہ ٹکاتے ہیں ؟ " لوگوں نے کہا " ہاں " اس نے کہا " لات اور عزیٰ کی قسم، اگر میں نے ان کو اس طرح نماز پڑھتے ہوئے دیکھ لیا تو ان کی گردن پر پاؤں رکھ دوں گا اور ان کا منہ زمین میں رگڑ دوں گا " پھر ایسا ہوا کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نماز پڑھتے دیکھ کر وہ آگے بڑھا تاکہ آپ کی گردن پر پاؤں رکھے، مگر یکایک لوگوں نے دیکھا وہ پیچھے ہٹ رہا ہے اور اپنا منہ کسی چیز سے بچانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس سے پوچھا گیا کہ یہ تجھے کیا ہوگیا ؟ اس نے کہا میرے اور ان کے درمیان آگ کی ایک خندق اور ایک ہولناک چیز تھی اور کچھ پر تھے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اگر وہ میرے قریب پھٹکتا تو ملائکہ اس کے چیتھڑے اڑا دیتے۔ ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ ابو جہل نے کہا کہ اگر میں نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کعبہ کے پاس نماز پڑھتے دیکھ لیا تو ان کی گردن پاؤں تلے دبا دوں گا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس کی خبر پہنچی تو آپ نے فرمایا کہ اگر اس نے ایسا کیا تو ملائکہ علانیہ اسے آ پکڑیں گے سانچہ : بخاری، ترمذی، نسائ، ابن جریر، عبد الرزاق، عبد بن حمید، ابن المنذر، ابن مردویہ ابن عباس (رض) سے ایک اور روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مقام ابراہیم پر نماز پڑھ رہے تھے۔ ابو جہل کا ادھر سے گزر ہوا تو اس نے کہا اے محمد ! کیا میں نے تم کو اس سے منع نہ کیا تھا ؟ اور اس نے آپ کو دھمکیاں دینی شروع کیں۔ جواب میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو سختی کے ساتھ جھڑک دیا۔ اس پر اس نے کہا اے محمد، تم کس بل پر مجھے ڈراتے ہو۔ خدا کی قسم، اس وادی میں میرے حمایتی سب سے زیادہ ہیں۔ سانچہ : احمد، ترمذی، نسائی، ابن جریر، ابن ابی شیبہ، ابن المنذر، طبرانی، ابن مردویہ انہی واقعات پر اس سورت کا وہ حصہ نازل ہوا جو کلآ ان الانسان لیطغٰی سے شروع ہوتا ہے۔ قدرتی طور پر اس حصے کا مقام وہی ہونا چاہیے تھا جو قرآن کی اس سورت میں رکھا گیا ہے کیونکہ پہلی وحی نازل ہونے کے بعد اسلام کا اولین اظہار حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز ہی سے کیا تھا اور کفار سے آپ کی مڈبھیڑ کا آغاز بھی اسی واقعہ سے ہوا تھا۔

Ayah 96:1

اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِیْ خَلَقَۚ Open ayah 96:1 in the Quran reader

پڑھو 1 (اے نبیؐ) اپنے ربّ کے نام کے ساتھ 2 جس نے پیدا کیا، 3

سورة العلق 1 جیسا کہ ہم نے دیباچہ میں بیان کیا ہے، فرشتے نے جب حضور سے کہا کہ پڑھو، تو حضور نے جواب دیا کہ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ فرشتے نے وحی کے یہ الفاظ لکھی ہوئی صورت میں آپ کے سامنے پیش کیے تھے اور انہیں پڑھنے کے لیے کہا تھا۔ کیونکہ اگر فرشتے کی بات کا مطلب یہ ہوتا کہ جس طرح میں بولتا جاؤں آپ اسی طرح پڑھتے جائیں، تو حضور کو یہ کہنے کی کوئی ضرورت نہ ہوتی کہ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔ سورة العلق 2 یعنی اپنے رب کا نام لے کر پڑھو، یا بالفاظ دیگر بسم اللہ کہو اور پڑھو۔ اس سے یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ رسول اللہ ﷺ اس وحی کے آنے سے پہلے صرف اللہ تعالیٰ کو اپنا رب جانتے اور مانتے تھے۔ اسی لیے یہ کہنے کی کوئی ضرورت پیش نہیں آئی کہ آپ کا رب کون ہے، بلکہ یہ کہا گیا کہ اپنے رب کا نام لے کر پڑھو۔ سورة العلق 3 مطلقا " پیدا کیا " فرمایا گیا ہے، یہ نہیں کہا گیا کہ کس کو پیدا کیا۔ اس سے خودبخود یہ مفہوم نکلتا ہے کہ اس رب کا نام لے کر پڑھو جو خالق ہے، جس نے ساری کائنات کو اور کائنات کی ہر چیز کو پیدا کیا ہے۔
Ayahs 96:2–3

خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍۚ Open ayah 96:2 in the Quran reader

جمے ہوئے خون کے ایک لوتھڑے سے انسان کی تخلیق کی۔ 4

اِقْرَاْ وَ رَبُّكَ الْاَكْرَمُۙ Open ayah 96:3 in the Quran reader

پڑھو، اور تمہارا رب بڑا کریم ہے

سورة العلق 4 کائنات کی عام تخلیق کا ذکر کرنے کے بعد خاص طور پر انسان کا ذکر کیا کہ اللہ تعالیٰ نے کس حقیر حالت سے اس کی تخلیق کی ابتدا کر کے اسے پورا انسان بنایا۔ علق جمع ہے علقہ کی جس کے معنی جمے ہوئے خون کے ہیں۔ یہ وہ ابتدائی حالت ہے جو استقرار حمل کے بعد پہلے چند دنوں میں رونما ہوتی ہے، پھر وہ گوشت کی شکل اختیار کرتی ہے اور اس کے بعد بتدریج اس میں انسانی صورت بننے کا سلسلہ شروع ہوتا ہے (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد سوم، الحج آیت 5۔ حواشی 5 تا 7)
Ayah 96:4

الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِۙ Open ayah 96:4 in the Quran reader

جس نے قلم کے ذریعہ سے علم سکھایا، 5

سورة العلق 5 یعنی یہ اس کا انتہائی کرم ہے کہ اس حقیر ترین حالت سے ابتدا کر کے اس نے انسان کو صاحب علم بنایا جو مخلوقات کی بلند ترین صفت ہے، اور صرف صاحب علم ہی نہیں بنایا، بلکہ اس کو قلم کے استعمال سے لکھنے کا فن سکھایا جو بڑے پیمانے پر علم کی اشاعت، ترقی، اور نسلا بعد نسل اس کے بقا اور تحفظ کا ذریعہ بنا۔ اگر وہ الہامی طور پر انسان کو قلم اور کتابت کے فن کا یہ علم نہ دیتا تو انسان کی علمی قابلیت ٹھٹھر کر رہ جاتی اور اسے نشو و نما پانے، پھیلنے اور ایک نسل کے علوم دوسری نسل تک پہنچنے اور آگے مزید ترقی کرتے چلے جانے کا موقع ہی نہ ملتا۔
Ayah 96:5

عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمْؕ Open ayah 96:5 in the Quran reader

انسان کو وہ علم دیا جسے وہ نہ جانتا تھا۔ 6

سورة العلق 6 یعنی انسان اصل میں بالکل بےعلم تھا۔ اسے جو کچھ بھی علم حاصل ہوا اللہ کے دینے سے حاصل ہوا۔ اللہ ہی نے جس مرحلے پر انسان کے لیے علم کے جو دروازے کھولنے چاہے وہ اس پر کھلتے چلے گئے۔ یہی بات ہے جو آیۃ الکرسی میں اس طرح فرمائی گئی ہے کہ وَلَا يُحِيْطُوْنَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖٓ اِلَّا بِمَا شَاۗءَ۔ " اور لوگ اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کرسکتے سوائے اس کے جو وہ خود چاہے "۔ (البقرہ، 255) جن جن چیزوں کو بھی انسان اپنی علمی دریافت سمجھتا ہے، درحقیقت وہ پہلے اس کے علم میں نہ تھیں، اللہ تعالیٰ ہی نے جب چاہا ان کا علم اسے دیا بغیر اس کے کہ انسان یہ محسوس کرتا کہ یہ علم اللہ اسے دے رہا ہے۔ یہاں تک وہ آیات ہیں جو سب سے پہلے رسول اللہ ﷺ پر نازل کی گئیں۔ جیسا کہ حضرت عائشہ کی حدیث سے معلوم ہوتا ہے، یہ پہلا تجربہ اتنا سخت تھا کہ حضور اس سے زیادہ کے متحمل نہ ہوسکتے تھے۔ اس لیے اس وقت صرف یہ بتانے پر اکتفا کیا گیا کہ وہ سب جس کو آپ پہلے سے جانتے اور مانتے ہیں، آپ سے براہ راست مخاطب ہے، اس کی طرف سے آپ پر وحی کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے، اور آپ کو اس نے اپنا نبی بنا لیا ہے، اس کے ایک مدت بعد سورة مدثر کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں جن میں آپ کو بتایا گیا کہ نبوت پر مامور ہونے کے بعد اب آپ کو کام کیا کرنا ہے۔ (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد ششم، المدثر، دیباچہ)
Ayah 96:6

كَلَّاۤ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَیَطْغٰۤىۙ Open ayah 96:6 in the Quran reader

ہرگز نہیں، 7 انسان سرکشی کرتا ہے

سورة العلق 7 یعنی ایسا ہرگز نہ ہونا چاہیے کہ جس خدائے کریم نے انسان پر اتنا بڑا کرم فرمایا ہے اس کے مقابلہ میں وہ جہالت برت کر وہ رویہ اختیار کرے جو آگے بیان ہورہا ہے۔
Ayah 96:7

اَنْ رَّاٰهُ اسْتَغْنٰىؕ Open ayah 96:7 in the Quran reader

اِس بنا پر کہ وہ اپنے آپ کو بے نیاز دیکھتا ہے 8

سورة العلق 8 یعنی یہ دیکھ کر کہ مال، دولت، عزت و جاہ اور جو کچھ بھی دنیا میں وہ چاہتا تھا وہ اسے حاصل ہوگیا ہے، شکر گزار ہونے کے بجائے وہ سرکشی پر اتر آتا ہے اور حد بندگی سے تجاوز کرنے لگتا ہے۔
Ayahs 96:8–9

اِنَّ اِلٰى رَبِّكَ الرُّجْعٰىؕ Open ayah 96:8 in the Quran reader

(حالانکہ) پلٹنا یقیناً تیرے ربّ ہی کی طرف ہے۔ 9

اَرَءَیْتَ الَّذِیْ یَنْهٰىۙ Open ayah 96:9 in the Quran reader

تم نے دیکھا اُس شخص کو

سورة العلق 9 یعنی خواہ کچھ بھی اس نے دنیا میں حاصل کرلیا ہو جس کے بل پر وہ تمرد اور سرکشی کر رہا ہے۔ آخر کار اسے جانا تو تیرے رب ہی کے پاس ہے۔ پھر اسے معلوم ہوجائے گا کہ اس روش کا انجام کیا ہوتا ہے۔
Ayahs 96:10–13

عَبْدًا اِذَا صَلّٰىؕ Open ayah 96:10 in the Quran reader

جو ایک بندے کو منع کرتا ہے جبکہ وہ نماز پڑھتا ہو؟ 10

اَرَءَیْتَ اِنْ كَانَ عَلَى الْهُدٰۤىۙ Open ayah 96:11 in the Quran reader

تمہارا کیا خیال ہے اگر (وہ بندہ) راہ راست پر ہو

اَوْ اَمَرَ بِالتَّقْوٰىؕ Open ayah 96:12 in the Quran reader

یا پرہیزگاری کی تلقین کرتا ہو؟

اَرَءَیْتَ اِنْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰىؕ Open ayah 96:13 in the Quran reader

تمہارا کیا خیال ہے اگر (یہ منع کرنے والا شخص حق کو) جھٹلاتا اور منہ موڑتا ہو؟

سورة العلق 10 بندے سے مراد خود رسول اللہ ﷺ ہیں۔ اس طریقے سے حضور کا ذکر قرآن مجید میں متعدد مقامات پر کیا گیا ہے، مثلا سُبْحٰنَ الَّذِيْٓ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَى الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا (بنی اسرائیل 1) " پاک ہے وہ جو لے گیا اپنے بندے کو ایک رات مسجد حرام سے مسجد اقصی تک "۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْٓ اَنْزَلَ عَلٰي عَبْدِهِ الْكِتٰبَ (الکہف۔ 1) " تعریف ہے اس خدا کے لیے جس نے اپنے بندے پر کتاب نازل کی " وَّاَنَّهٗ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللّٰهِ يَدْعُوْهُ كَادُوْا يَكُوْنُوْنَ عَلَيْهِ لِبَدًا (الجن 19) " اور یہ کہ جب اللہ کا بندہ اس کو پکارنے کے لیے کھڑا ہوا تو لوگ پر ٹوٹ پڑنے کے لیے تیار ہوگئے " اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک خاص محبت کا انداز ہے جس سے اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں اپنے رسول محمد ﷺ کا ذکر فرماتا ہے۔ علاوہ بریں اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبوت کے منصب پر سرفراز فرمانے کے بعد رسول اللہ ﷺ کو نماز پڑھنے کا طریقہ سکھا دیا تھا۔ اس طریقے کا ذکر قرآن مجید میں کہیں نہیں ہے کہ اے نبی تم اس طرح نماز پڑھا کرو۔ لہذا یہ اس امر کا ایک اور ثبوت ہے کہ رسول اللہ ﷺ پر صرف وہی وحی نازل نہیں ہوتی تھی جو قرآن میں درج ہے، بلکہ اس کے علاوہ بھی وحی کے ذریعہ سے آپ کو ایسی باتوں کی تعلیم دی جاتی تھی جو قرآن میں درج نہیں ہیں۔
Ayah 96:14

اَلَمْ یَعْلَمْ بِاَنَّ اللّٰهَ یَرٰىؕ Open ayah 96:14 in the Quran reader

کیا وہ نہیں جانتا کہ اللہ دیکھ رہا ہے؟ 11

سورة العلق 11 بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہاں ہر انصاف پسند شخص مخاطب ہے۔ اس سے پوچھا جارہا ہے کہ تم نے دیکھی اس شخص کی حرکت جو خدا کی عبادت کرنے سے ایک بندے کو روکتا ہے ؟ تمہارا کیا خیال ہے اگر وہ بندہ راہ راست پر ہو، یا لوگوں کو خدا سے ڈرنے اور برے کاموں سے روکنے کی کوشش کرتا ہو، اور یہ منع کرنے والا حق کو جھٹلاتا اور اس سے منہ موڑتا ہو، تو اس کی یہ حرکت کیسی ہے ؟ کیا یہ شخص یہ روش اختیار کرسکتا تھا اگر اسے یہ معلوم ہوتا کہ اللہ تعالیٰ اس بندے کو بھی دیکھ رہا ہے جو نیکی کا کام کرتا ہے اور اس کو بھی دیکھ رہا ہے جو حق کو جھٹلانے اور اس سے روگردانی کرنے میں لگا ہوا ہے ؟ ظالم کے ظلم اور مظلوم کی مظلومی کو اللہ تعالیٰ کا دیکھنا خود اس بات کو مستلزم ہے کہ وہ ظالم کو سزا دے گا اور مظلوم کی داد رسی کرے گا۔
Ayah 96:15

كَلَّا لَئِنْ لَّمْ یَنْتَهِ١ۙ۬ لَنَسْفَعًۢا بِالنَّاصِیَةِۙ Open ayah 96:15 in the Quran reader

ہرگز نہیں، 12 اگر وہ باز نہ آیا تو ہم اس کی پیشانی کے بال پکڑ کر اُسے کھینچیں گے

سورة العلق 12 یعنی یہ شخص جو دھمکی دیتا ہے کہ اگر محمد ﷺ نماز پڑھیں گے تو وہ ان کی گردن کو پاؤں سے دبا دے گا، یہ ہرگز ایسا نہ کرسکے گا۔
Ayah 96:16

نَاصِیَةٍ كَاذِبَةٍ خَاطِئَةٍۚ Open ayah 96:16 in the Quran reader

اُس پیشانی کو جو جھُوٹی اور سخت خطاکار ہے۔ 13

سورة العلق 13 پیشانی سے مراد یہاں پیشانی والا شخص ہے۔
Ayah 96:17

فَلْیَدْعُ نَادِیَهٗۙ Open ayah 96:17 in the Quran reader

وہ بُلالے اپنے حامیوں کی ٹولی کو، 14

سورة العلق 14 جیسا کہ ہم نے دیباچہ میں بیان کیا ہے ابو جہل کے دھمکی دینے پر جب رسول اللہ ﷺ نے اس کو جھڑک دیا تھا تو اس نے کہا تھا کہ اے محمد، تم کس بل پر مجھے ڈراتے ہو، خدا کی قسم اس وادی میں میرے حمایتی سب سے زیادہ ہیں۔ اس پر فرمایا جارہا ہے کہ یہ بلا لے اپنے حمایتیوں کو۔
Ayah 96:18

سَنَدْعُ الزَّبَانِیَةَۙ Open ayah 96:18 in the Quran reader

ہم بھی عذاب کے فرشتوں کو بُلا لیں گے۔ 15

سورة العلق 15 اصل میں زبانیہ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جو قتادہ کی تشریح کے مطابق کلام عرب میں پولیس کے لیے بولا جاتا ہے۔ اور زبن کے اصل معنی دھکا دینے کے ہیں۔ بادشاہوں کے ہاں چوبدار بھی اسی غرض کے لیے ہوتے تھے کہ جس پر بادشاہ ناراض ہو اسے وہ دھکے دے کر نکال دیں۔ پس اللہ تعالیٰ کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ یہ اپنے حمایتیوں کو بلا لے، ہم اپنی پولیس، یعنی ملائکہ عذاب کو بلا لیں گے کہ وہ اس کی اور اس کے حمایتیوں کی خبر لیں۔
Ayah 96:19

كَلَّا١ؕ لَا تُطِعْهُ وَ اسْجُدْ وَ اقْتَرِبْ۠۩ Open ayah 96:19 in the Quran reader

ہرگزنہیں، اُس کی بات نہ مانو اور سجدہ کرو اور (اپنے ربّ کا) قرب حاصل کرو۔ 16

سورة العلق 16 سجدہ کرنے سے مراد نماز ہے۔ یعنی اے نبی، تم بےخوف اسی طرح نماز پڑھتے رہو جس طرح پڑھتے رہے ہو، اور اس کے ذریعہ سے اپنے رب کا قرب حاصل کرو۔ صحیح مسلم وغیرہ میں حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ " بندہ سب سے زیادہ اپنے رب سے اس وقت قریب ہوتا ہے جب وہ سجدہ میں ہوتا ہے " اور مسلم میں حضرت ابوہریرہ کی یہ روایت بھی آئی ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ یہ آیت پڑھتے تھے تو سجدہ تلاوت ادا فرماتے تھے۔