Ayahs 97:1–2سورة القدر 1
اصل الفاظ ہیں اَنْزَلْنٰهُ " ہم نے اس کو نازل کیا ہے " لیکن بغیر اس کے کہ پہلے قرآن کا کوئی ذکر ہو، اشارہ قرآن ہی کی طرف ہے، اس لیے کہ " نازل کرنا " خود بخود اس پر دلالت کرتا ہے کہ مراد قرآن ہے۔ اور قرآن مجید میں اس امر کی بکثرت مثالیں موجود ہیں کہ اگر سیاق کلام یا انداز بیان سے ضمیر کا مرجع خود ظاہر ہورہا ہو تو ضمیر ایسی حالت میں بھی استعمال کرلی جاتی ہے جب کہ اس کے مرجع کا ذکر پہلے یا بعد میں کہیں نہ کیا گیا ہو (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد پنجم، النجم، حاشیہ 9)
یہاں فرمایا گیا ہے کہ ہم نے قرآن کو شب قدر میں نازل کیا ہے، اور سورة بقرہ میں ارشاد ہوا ہے شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْٓ اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْاٰنُ " رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا " (البقرہ 185) اس سے معلوم ہوا کہ وہ رات جس میں پہلی مرتبہ خدا کا فرشتہ غار حرا میں نبی ﷺ کے پاس وحی لے کر آیا تھا وہ ماہ رمضان کی ایک رات تھی، اس رات کو یہاں شب قدر کہا گیا ہے اور سورة دخان میں اسی کو مبارک رات فرمایا گیا ہے۔ اِنَّآ اَنْزَلْنٰهُ فِيْ لَيْلَةٍ مُّبٰرَكَةٍ " ہم نے اسے ایک برکت والی رات میں نازل کیا ہے " (آیت 3)
اس رات میں قرآن نازل کرنے کے دو مطلب ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ اس رات پورا قرآن حامل وحی فرشتوں کے حوالہ کردیا گیا، اور پھر واقعات اور حالات کے مطابق وقتا فوقتا 23 سال کے دوران میں جبریل ؑ اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس کی آیات اور سورتیں رسول اللہ ﷺ پر نازل کرتے رہے۔ یہ مطلب ابن عباس نے بیان کیا ہے (ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، حاکم، ابن مردویہ، بیہقی) دوسرا مطلب یہ ہے کہ قرآن کے نزول کی ابتدا اس رات سے ہوئی۔ یہ امام شعبی کا قول ہے، اگرچہ ان سے بھی دوسرا قول وہی منقول ہے جو ابن عباس کا اوپر گزرا ہے۔ (ابن جریر) بہرحال دونوں صورتوں میں بات ایک ہی رہتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ پر قرآن کے نزول کا سلسلہ اسی رات کو شروع ہوا اور یہی رات تھی جس میں سورة علق کی ابتدائی پانچ آیات نازل کی گئیں۔ تاہم یہ بات اپنی جگہ ایک حقیقت ہے کہ قرآن کی آیات اور سورتیں اللہ تعالیٰ اسی وقت تصنیف نہیں فرماتا تھا جب رسول اللہ ﷺ اور آپ کی دعوت اسلامی کو کسی واقعہ یا معاملہ میں ہدایت کی ضرورت پیش آتی تھی، بلکہ کائنات کی تخلیق سے بھی پہلے ازل میں اللہ تعالیٰ کے ہاں زمین پر نوع انسانی کی پیدائش، اس میں انبیاء کی بعثت، انبیاء پر نازل کی جانے والی کتابوں اور تمام انبیاء کے بعد آخر میں محمد ﷺ کو مبعوث فرمانے اور آپ پر قرآن نازل کرنے کا پورا منصوبہ موجود تھا۔ شب قدر میں صرف یہ کام ہوا کہ اس منصوبے کے آخرے حصے پر عملدر آمد شروع ہوگیا۔ اس وقت اگر پورا قرآن حاملین وحی کے حوالہ کردیا گیا ہو تو کوئی قابل تعجب امر نہیں ہے۔
قدر کے معنی بعض مفسرین نے تقدیر کے لیے ہیں۔ یعنی یہ وہ رات ہے جس میں اللہ تعالیٰ تقدیر کے فیصلے نافذ کرنے کے لیے فرشتوں کے سپرد کردیتا ہے۔ اس کی تائید سورة دخان کی یہ آیت کرتی ہے فِيْهَا يُفْرَقُ كُلُّ اَمْرٍ حَكِيْمٍ " اس رات میں ہر معاملہ کا حکیمانہ فیصلہ صادر کردیا جاتا ہے " (آیت 4) بخلاف اس کے امام زہری کہتے ہیں کہ قدر کے معنی عظمت و شرف کے ہیں یعنی وہ بڑی عظمت والی رات ہے، اس معنی کی تائید اسی سورة کے ان الفاظ سے ہوتی ہے کہ " شب قدر ہزار مہینوں سے زیاہ بہتر ہے "۔
اب رہا یہ سوال کہ یہ کون سی رات تھی، تو اس میں اتنا اختلاف ہوا ہے کہ قریب قریب 40 مختلف اقوال اس کے بارے میں ملتے ہیں۔ لیکن علماء امت کی بڑی اکثریت یہ رائے رکھتی ہے کہ رمضان کی آخری دس تاریخوں میں سے کوئی ایک طاق رات شب قدر ہے، اور ان میں بھی زیادہ تر لوگوں کی رائے یہ ہے کہ وہ ستائیسویں رات ہے۔ اس معاملہ میں جو معتبر احادیث منقول ہوئی ہیں انہیں ہم ذیل میں درج کرتے ہیں
حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے لیلۃ القدر کے بارے میں فرمایا وہ ستائیسویں یا انتیسویں رات ہے (ابوداؤد طیالسی)۔ دوسری روایت حضرت ابوہریرہ سے یہ ہے کہ وہ رمضان کی آخری رات ہے۔ (مسند احمد)
حضرت ابی بن کعب سے زر بن حبیش نے شب قدر کے متعلق پوچھا تو انہوں نے حلفا کہا اور استثناء نہ کیا کہ وہ ستائیسویں رات ہے (احمد، مسلم، ابو داؤد، ترمذی، نسائی، ابن حبان)
حضرت ابوذر سے اس کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے کہا حضرت عمر، حضرت حذیفہ اور اصحاب رسول اللہ ﷺ سے بہت سے لوگوں کو اس میں کوئی شک نہ تھا کہ وہ رمضان کی ستائیسویں رات ہے (ابن ابی شیبہ)
حضرت عبادہ بن صامت کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ شب قدر رمضان کی آخری دس راتوں میں سے طاق رات ہے، اکیسویں، یا تئیسویں، یا پچیسویں، یا ستائیسویں، یا انتیسویں، یا آخری (مسند احمد)
حضرت عبداللہ بن عباس کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اسے رمضان کی آخری دس راتوں میں تلاش کرو جب کہ مہینہ ختم ہونے میں 9 دن باقی ہوں، یا سات دن باقی، یا پانچ دن باقی (بخاری) اکثر اہل علم نے اس کا مطلب یہ لیا ہے کہ حضور کی مراد طاق راتوں سے تھی۔
حضرت ابوبکرہ کی روایت ہے کہ 9 دن باقی ہوں، یا سات دن، یا پانچ دن، یا تین دن، یا آخری رات۔ مراد یہ تھی کہ ان تاریخوں میں لیلۃ القدر کو تلاش کرو۔ (ترمذی، نسائی)
حضرت عائشہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ شب قدر کو رمضان کی آخری دس راتوں میں سے طاق رات میں تلاش کرو (بخاری، مسلم، احمد، ترمذی) حضرت عائشہ اور حضرت عبداللہ بن عمر کی یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے تازیست رمضان کی آخری دس راتوں میں اعتکاف فرمایا ہے۔
اس معاملہ میں جو روایات حضرت معاویہ، حضرت ابن عمر، حضرت ابن عباس وغیرہ بزرگوں سے مروی ہیں ان کی بنا پر علمائے سلف کی بڑی تعداد ستائیسویں رمضان ہی کو شب قدر سمجھتی ہے۔ غالبا کسی رات کا تعین اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اس لیے نہیں کیا گیا ہے کہ شب قدر کی فضیلت سے فیض اٹھانے کے شوق میں لوگ زیادہ سے زیادہ راتیں عبادت میں گزاریں اور کسی ایک رات پر اکتفا نہ کریں۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جس وقت مکہ معظمہ میں رات ہوتی ہے اس وقت دنیا کے ایک بہت بڑے حصے میں دن ہوتا ہے، اس لیے ان علاقوں کے لوگ تو کبھی شب قدر کو پا ہی نہیں سکتے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ عربی زبان میں اکثر رات کا لفظ دن اور رات کے مجموعے کے لیے بولا جاتا ہے۔ اس لیے رمضان کی ان تاریخوں میں سے جو تاریخ بھی دنیا کے کسی حصہ میں ہو اس کے دن سے پہلے والی رات وہاں کے لیے شب قدر ہوسکتی ہے۔
Ayah 97:3سورة القدر 2
مفسرین نے بالعموم اس کے معنی یہ بیان کیے ہیں کہ اس رات کا عمل خیر ہزار مہینوں کے عمل خیر سے افضل ہے جن میں شب قدر شمار نہ ہو۔ اس میں شک ہیں کہ یہ بات اپنی جگہ درست ہے اور رسول اللہ ﷺ نے اس رات کے عمل کی بڑی فضیلت بیان کی ہے۔ چناچہ بخاری و مسلم میں حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ حضور نے فرمایا من قام لیلۃ القدر ایمانا و احتسابا غفرلہ ما تقدم من ذنبہ " جو شخص شب قدر میں ایمان کے ساتھ اور اللہ کے اجر کی خاطر عبادت کے لیے کھڑا رہا اس کے تمام پچھلے گناہ معاف ہوگئے "۔ اور مسند احمد میں حضرت عبادہ بن صامت کی روایت ہے کہ حضور نے فرمایا " شب قدر رمضان کی آخری دس راتوں میں ہے، جو شخص ان کے ا جر کی طلب میں عبادت کے لیے کھڑا رہا اللہ اس کے اگلے پچھلے گناہ معاف کردے گا "۔ لیکن آیت کے الفاظ یہ نہیں ہیں کہ العمل فی لیلۃ القدر خیر من العمل فی الف شھر (شب قدر میں عمل کرنا ہزار مہینوں میں عمل کرنے سے بہتر ہے) بلکہ فرمایا یہ گیا ہے کہ " شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے " اور ہزار مہینوں سے مراد بھی گنے ہوئے 83 سال چار مہینے نہیں بلکہ اہل عرب کا قاعدہ تھا کہ بڑی کثیر تعداد کا تصور دلانے کے لیے وہ ہزار کا لفظ بلوتے تھے۔ اس لیے آیت کا مطلب یہ ہے کہ اس ایک رات میں خیر اور بھلائی کا اتنا بڑا کام ہوا کہ کبھی انسانی تاریخ کے کسی طویل زمانے میں بھی ایسا کام نہ ہوا تھا۔
Ayah 97:4سورة القدر 3
روح سے مراد جبریل ؑ ہیں جن کے فضل و شرف کی بنا پر ان کا ذکر فرشتوں سے الگ کیا گیا ہے۔
سورة القدر 4
یعنی وہ بطور خود نہیں آتے بلکہ اپنے رب کے اذن سے آتے ہیں۔ اور ہر حکم سے مراد وہی ہے جسے سورة دخان آیت 5 میں امر حکیم (حکیمانہ کام) کہا گیا ہے۔
Ayah 97:5سورة القدر 5
یعنی شام سے صبح تک وہ پوری رات خیر ہی خیر ہے۔ ہر شر اور فتنے سے پاک۔