98. Surah Al-Bayyina

البينةThe Evidence · 8 ayahsتفہیم القرآن

تعارف

نام

پہلی آیت کے لفظ البینہ کو اس سورت کا نام قرار دیا گیا ہے

زمانہ نزول

اس کے مکی اور مدنی ہونے میں اختلاف ہے۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ جمہور کے نزدیک یہ مکی ہے اور بعض دوسرے مفسرین کہتے ہیں کہ جمہور کے نزدیک مدنی ہے۔ ابن الزبیر اور عطاء بن یسار کا قول ہے کہ یہ مدنی ہے۔ ابن عباس اور قتادہ کے دو قول منقول ہیں۔ ایک یہ کہ یہ مکی ہے اور دوسرا یہ کہ مدنی ہے۔ حضرت عائشہ (رض) اسے مکی قرار دیتی ہیں۔ ابو حیان صاحب بحر المحیط اور عبد المنعم ابن الفرس صاحب احکام القرآن اس کے مکی ہونے کو ترجیح دیتے ہیں۔ جہاں تک اس کے مضمون کا تعلق ہے، اس میں کوئی علامت ایسی نہیں پائی جاتی جو اس کے مکی یا مدنی ہونے کی طرف اشارہ کرتی ہو۔

موضوع اور مضمون

قرآن مجید کی ترتیب میں اس کو سورة علق اور سورة قدر کے بعد رکھنا بہت معنی خیز ہے۔ سورة علق میں پہلی وحی درج کی گئی ہے۔ سورة قدر میں بتایا گیا ہے کہ وہ کب نازل ہوئی اور اس سورت میں بتایا گیا ہے کہ اس کتاب پاک کے ساتھ ایک رسول بھیجنا کیوں ضروری تھا۔ سب سے پہلے رسول بھیجنے کی ضرورت بیان کی گئی ہے اور وہ یہ ہے کہ دنیا کے لوگ، خواہ وہ اہل کتاب میں سے ہوں یا مشرکین میں سے، جس کفر کی حالت میں مبتلا تھے اس سے ان کا نکلنا اس کے بغیر ممکن نہ تھا کہ ایک ایسا رسول بھیجا جائے جس کا وجود خود اپنی رسالت پر دلیل روشن ہو اور وہ لوگوں کے سامنے خدا کی کتاب کو اس کی اصلی اور صحیح صورت میں پیش کرے جو باطل کی ان تمام آمیزشوں سے پاک ہو جن سے پچھلی کتب آسمانی کو آلودہ کردیا گیا ہے اور بالکل راست اور درست تعلقات پر مشتمل ہو۔ اس کے بعد اہل کتاب کی گمراہیوں کے متعلق وضاحت کی گئی ہے کہ ان کے ان مختلف راستوں میں بھٹکنے کی وجہ یہ نہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی کوئی رہنمائی نہ کی تھی بلکہ وہ اس کے بعد بھٹکے کہ راہ راست کا بیان واضح ان کے پاس آ چکا تھا۔ اس سے خود بخود یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اپنی گمراہیوں کے وہ خود ذمہ دار ہیں، اور اب پھر اللہ کے اس رسول کے ذریعے سے بیان واضح آجانے کے بعد بھی اگر وہ بھٹکتے ہی رہیں گے تو ان کی ذمہ داری اور زیادہ بڑھ جائے گی۔ اس سلسلے میں یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو انبیاء بھی آئے تھے، اور جو کتب بھی بھیجی گئی تھیں، انہوں نے اس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا تھا کہ سب طریقوں کو چھوڑ کر خالص اللہ کی بندگی کا طریقہ اختیار کیا جائے، کسی اور کی عبادت و بندگی اور اطاعت و پرستش کو اس کے ساتھ شامل نہ کیا جائے، نماز قائم کی جائے اور زکٰوۃ ادا کی جائے یہی ہمیشہ سے ایک صحیح دین رہا ہے۔ اس سے بھی یہ نتیجہ خود بخود برآمد ہوتا ہے کہ اہل کتاب نے اس اصل دین سے ہٹ کر اپنے مذہبوں میں جن نئی نئی باتوں کا اضافہ کرلیا ہے وہ سب باطل ہیں، اور اللہ کا یہ رسول جو اب آیا ہے اسی اصل دین کی طرف پلٹنے کی انہیں دعوت دے رہا ہے۔ آخر میں صاف صاف ارشاد ہوا ہے کہ جو اہل کتاب اور مشرکین اس رسول کو ماننے سے انکار کریں گے وہ بدترین خلائق ہیں، ان کی سزا ابدی جہنم ہے، اور جو لوگ ایمان لا کر عمل صالح کا طریقہ اختیار کرلیں گے اور دنیا میں خدا سے ڈرتے ہوئے زندگی بسر کریں گے وہ بہترین خلائق ہیں، ان کی جزا یہ ہے کہ وہ ہمیشہ جنت میں رہیں گے، اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوگئے۔

Ayah 98:1

لَمْ یَكُنِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ وَ الْمُشْرِكِیْنَ مُنْفَكِّیْنَ حَتّٰى تَاْتِیَهُمُ الْبَیِّنَةُۙ Open ayah 98:1 in the Quran reader

اہلِ کتاب اور مشرکین 1 میں سے جو لوگ کافر تھے 2 (وہ اپنے کُفر سے) باز آنے والے نہ تھے جب تک کہ ان کے پاس دلیلِ روشن نہ آجائے 3

سورة البینہ 1 کفر میں مشترک ہونے کے باوجود ان دونوں گروہوں کو دو الگ الگ ناموں سے یاد کیا گیا ہے۔ اہل کتاب سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے پاس پہلے انبیاء کی لائی ہوئی کتابوں میں سے کوئی کتاب، خواہ تحریف شدہ شکل ہی میں سہی، موجود تھی اور وہ اسے مانتے تھے۔ اور مشرکین سے مراد وہ لوگ ہیں جو کسی نبی کے پیرو اور کسی کتاب کے ماننے والے نہ تھے، قرآن مجید میں اگرچہ اہل کتاب کے شرک کا ذکر بہت سے مقامات پر کیا گیا ہے۔ مثلا عیسائیوں کے متعلق فرمایا گیا کہ وہ کہتے ہیں اللہ تین خداؤں میں ایک ہے (المائدہ 73) وہ مسیح ہی کو خدا کہتے ہیں (المائدہ 17) وہ مسیح کو خدا کا بیٹا قرار دیتے ہیں (التوبہ 30) اور یہود کے متعلق فرمایا گیا کہ وہ عزیر کو خدا کا بیٹا کہتے ہیں (التوبہ 30) لیکن اس کے باوجود قرآن میں کہیں ان کے لیے " مشرک " کی اصطلاح استعمال نہیں کی گئی بلکہ ان کا ذکر اہل کتاب یا الذین اوتوا الکتب (جن کو کتاب دی گئی تھی) یا یہود اور نصاری کے الفاظ سے کیا گیا ہے، کیونکہ وہ اصل دین توحید ہی کو مانتے تھے اور پھر شرک کرتے تھے۔ بخالف اس کے غیر اہل کتاب کے لیے " مشرک " کا لفظ بطور اصطلاح استعمال کیا گیا ہے۔ کیونکہ وہ اصل دین شرک ہی کو قرار دیتے تھے اور توحید کے ماننے سے ان کو قطعی انکار تھا۔ یہ فرق ان دونوں گروہوں کے درمیان صرف اصطلاح ہی میں نہیں بلکہ شریعت کے احکام میں بھی ہے۔ اہل کتاب کا ذبیحہ مسلمانوں کے لیے حلال کیا گیا ہے اگر وہ اللہ کا نام لے کر حلال جانور کو صحیح طریقہ سے ذبح کریں اور ان کی عورتوں سے نکاح کی اجازت دی گئی ہے۔ اس کے برعکس مشرکین کا نہ ذبیحہ حلال ہے اور نہ ان کی عورتوں سے نکاح حلال۔ سورة البینہ 2 یہاں کفر اپنے وسیع معنوں میں استعمال کیا گیا ہے جن میں کافرانہ رویہ کی مختلف صورتیں شامل ہیں۔ مثلا کوئی اس معنی میں کافر تھا کہ سرے سے اللہ ہی کو نہ مانتا تھا۔ کوئی اللہ کو مانتا تھا مگر اسے واحد معبود نہ مانتا تھا بلکہ خدا کی ذات، یا خدائی کی صفات و اختیارات میں کسی نہ کسی طور پر دوسروں کو شریک ٹھہرا کر ان کی عبادت بھی کرتا تھا۔ کوئی اللہ کی وحدانیت بھی مانتا تھا مگر اس کے باوجود کسی نوعیت کا شرک بھی کرتا تھا۔ کوئی خدا کو مانتا تھا مگر اس کے نبیوں کو نہیں مانتا تھا اور اس ہدایت کو قبول کرنے کا قائل نہ تھا جو انبیاء کے ذریعہ سے آئی ہے۔ کوئی کسی نبی کو مانتا تھا اور کسی دوسرے نبی کا انکار کرتا تھا۔ کوئی آخرت کا منکر تھا۔ غرض مختلف قسم کے کفر تھے جن میں لوگ مبتلا تھے۔ اور یہ جو فرمایا کہ " اہل کتاب اور مشرکین میں سے جو لوگ کافر تھے " اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ان میں سے کچھ لوگ کفر میں مبتلا نہ تھے، بلکہ مطلب یہ ہے کہ کفر میں مبتلا ہونے والے دو گروہ تھے۔ ایک اہل کتاب، دوسرے مشرکین۔ یہاں من تبعیض کے لیے نہیں بلکہ بیان کے لیے ہے۔ جس طرح سورة حج آیت 30 میں فرمایا گیا فاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بتوں کی گندگی سے بچو، نہ یہ کہ بتوں میں جو گندگی ہے اس سے بچو۔ اسی طرح الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ وَالْمُشْرِكِيْنَ کا مطلب بھی یہ ہے کہ کفر کرنے والے جو اہل کتاب اور مشرکین میں سے ہیں، نہ یہ کہ ان دونوں گروہوں میں سے جو لوگ کفر کرنے والے ہیں۔ سورة البینہ 3 یعنی ان کے اس حالت کفر سے نکلنے کی کوئی صورت اس کے سوا نہ تھی کہ ایک دلیل روشن آکر انہیں کفر کی ہی صورت کا غلط اور خلاف حق ہونا سمجھائے اور راہ راست کو واضح اور مدلل طریقے سے ان کے سامنے پیش کردے۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس دلیل روشن کے آجانے کے بعد وہ سب کفر سے باز آجانے والے تھے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس دلیل کی غیر موجودگی میں تو اس کا اس حالت سے نکلنا ممکن ہی نہ تھا۔ البتہ اس کے آنے کے بعد بھی ان میں سے جو لوگ اپنے کفر قائم رہیں اس کی ذمہ داری پھر انہی پر ہے، اس کے بعد وہ اللہ سے یہ شکایت نہیں کرسکتے کہ آپ نے ہماری ہدایت کے لیے کوئی انتظام نہیں کیا۔ یہ وہی بات ہے جو قرآن مجید میں مختلف مقامات پر مختلف طریقوں سے بیان کی گئی ہے۔ مثلا سورة نحل میں فرمایا وَعَلَي اللّٰهِ قَصْدُ السَّبِيْلِ " سیدھا راستہ بتانا اللہ کے ذمہ ہے " (آیت 9) سورة لیل میں فرمایا اِنَّ عَلَيْنَا لَلْهُدٰى " راستہ بتانا ہمارے ذمہ ہے " (آیت 12) اِنَّآ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ كَمَآ اَوْحَيْنَآ اِلٰي نُوْحٍ وَّالنَّـبِيّٖنَ مِنْۢ بَعْدِهٖ۔۔۔ رُسُلًا مُّبَشِّرِيْنَ وَمُنْذِرِيْنَ لِئَلَّا يَكُوْنَ للنَّاسِ عَلَي اللّٰهِ حُجَّــةٌۢ بَعْدَ الرُّسُلِ۔ " اے نبی ہم نے تمہارے طرف اسی طرح وحی بھیجی ہے جس طرح نوح اور اس کے بعد کے نبیوں کی طرف بھیجی تھی۔۔۔ ان رسولوں کو بشارت دینے والا اور خبردار کرنے والا بنایا گیا تاکہ رسولوں کے بعد لوگوں کے لیے اللہ پر کوئی حجت نہ رہے "۔ (النساء 163۔ 165) يٰٓاَهْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَاۗءَكُمْ رَسُوْلُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ عَلٰي فَتْرَةٍ مِّنَ الرُّسُلِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا جَاۗءَنَا مِنْۢ بَشِيْرٍ وَّلَا نَذِيْرٍ ۡ فَقَدْ جَاۗءَكُمْ بَشِيْرٌ وَّنَذِيْرٌ۔ " اے اہل کتاب، تمہارے پاس ہمارا رسول حقیقت واضح کرنے کے لیے رسولوں کا سلسلہ ایک مدت تک بند رہنے کے بعد آگیا ہے تاکہ تم یہ نہ کہہ سکو کہ ہمارے پاس نہ کوئی بشارت دینے والا آیا نہ خبردار کرنے والا۔ سو لو اب تمہارے پاس بشارت دینے والا اور خبردار کرنے والا آگیا " (المائدہ 19)
Ayahs 98:2–3

رَسُوْلٌ مِّنَ اللّٰهِ یَتْلُوْا صُحُفًا مُّطَهَّرَةًۙ Open ayah 98:2 in the Quran reader

(یعنی) اللہ کی طرف سے ایک رسُول 4 جو پاک صحیفے پڑھ کر سُنائے 5

فِیْهَا كُتُبٌ قَیِّمَةٌؕ Open ayah 98:3 in the Quran reader

جن میں بالکل راست اور درست تحریریں لکھی ہوئی ہوں

سورة البینہ 4 یہاں رسول اللہ ﷺ کی بذات خود ایک دلیل روشن کہا گیا ہے، اس لیے کہ آپ کی نبوت سے پہلے کی اور بعد کی زندگی آپ کا امی ہونے کے باوجود قرآن جیسی کتاب پیش کرنا، آپ کی تعلیم اور صحبت کے اثر سے ایمان لانے والوں کی زندگیوں میں غیر معمولی انقلاب رونما ہوجانا، آپ کا بالکل معقول عقائد، نہایت ستھری عبادات، کمال درجہ کے پاکیزہ اخلاق، اور انسانی زندگی کے لیے بہترین اصول و احکام کی تعلیم دینا، آپ کے قول اور عمل میں پوری پوری مطابقت کا پایا جاتا، اور آپ کا ہر قسم کی مزاحمتوں اور مخالفتوں کے مقابلے میں انتہائی اولو العزمی کے ساتھ اپنی دعوت پر ثابت قدم رہنا، یہ ساری باتیں اس بات کی کھلی علامات تھیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ سورة البینہ 5 لغت کے اعتبار سے تو صحیفوں کے معنی ہیں " لکھے ہوئے اور اق " لیکن قرآ مجید میں اصطلاحا یہ لفظ انبیاء (علیہم السلام) پر نازل ہونے والی کتابوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اور پاک صحیفوں سے مراد ہیں ایسے صحیفے جن میں کسی قسم کے باطل، کسی طرح کی گمراہی و ضلالت، اور کسی اخلاقی گندگی کی آمیزش نہ ہو۔ ان الفاظ کی پوری اہمیت اس وقت واضح ہوتی ہے جب انسان قرآن مجید کے مقابلے میں بائیبل اور دوسرے مذاہب کی کتابوں کا بھی مطالعہ کرتا ہے اور ان میں صحیح باتوں کے ساتھ ایسی باتیں لکھی ہوئی دیکھتا ہے جو حق و صداقت اور عقل سلیم کے بھی خلاف ہیں اور اخلاقی اعتبار سے بھی بہت گری ہوئی ہیں۔ ان کو پڑھنے کے بعد جب آدمی قرآن کو دیکھتا ہے تو اسے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ کتنی پاک اور مطہر کتاب ہے۔
Ayah 98:4

وَ مَا تَفَرَّقَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَیِّنَةُؕ Open ayah 98:4 in the Quran reader

پہلے جن لوگوں کو کتاب دی گئی تھی اُن میں تفرقہ برپا نہیں ہوا مگر اِس کے بعد کہ اُن کے پاس (راہِ راست کا) بیانِ واضح آچکا تھا۔ 6

سورة البینہ 6 یعنی اس سے پہلے اہل کتاب جو مختلف گمراہیوں میں بھٹک کر بیشمار فرقوں میں بٹ گئے اس کی وجہ یہ نہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف سے ان کی رہنمائی کے لیے دلیل روشن بھیجنے میں کوئی کسر اٹھا رکھی تھی، بلکہ یہ روشن انہوں نے اللہ کی جانب سے رہنمائی آجانے کے بعد اختیار کی تھی، اس لیے اپنی گمراہی کے وہ خود ذمہ داری تھے، کیونکہ ان پر حجت تمام کی جاچکی تھی۔ اسی طرح اب چونکہ ان کے صحیفے پاک نہیں رہے ہیں اور ان کی کتابیں بالکل راست اور درست تعلیمات پر مشتمل نہیں رہی ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ نے ایک دلیل روشن کی حیثیت سے اپنا ایک رسول بھیج کر اور اس کے ذریعہ سے پاک صحیفے بالکل راست اور درست تعلیمات پر مشتمل پیش کر کے ان پر پھر حجت تمام کردی ہے، تاکہ اس کے بعد بھی اگر وہ متفرق رہیں تو اس کی ذمہ داری انہی پر ہو، اللہ کے مقابلہ میں وہ کوئی حجت پیش نہ کرسکیں۔ یہ بات قرآن مجید میں بکثرت مقامات پر فرمائی گئی ہے۔ مثال کے طور پر ملاحظہ البقرہ، آیات 213۔ 253۔ آل عمران 19۔ المائدہ 44 تا 50۔ یونس 93۔ الشوری 13 تا 15۔ الجاثیہ 16 تا 18۔ اس کے ساتھ اگر وہ حواشی بھی پیش نظر رکھے جائیں جو تفہیم القرآن میں ان آیات پر ہم نے لکھے ہیں تو بات سمجھنے میں مزید آسانی ہوگی۔
Ayah 98:5

وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ۙ۬ حُنَفَآءَ وَ یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوا الزَّكٰوةَ وَ ذٰلِكَ دِیْنُ الْقَیِّمَةِؕ Open ayah 98:5 in the Quran reader

اور اُن کو اِس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا گیا تھا کہ اللہ کی بندگی کریں اپنے دین کو اُس کے لیے خالص کر کے، بالکل یَکسُو ہو کر، اور نماز قائم کریں اور زکوٰة دیں۔ یہی نہایت صحیح و درست دین ہے۔ 7

سورة البینہ 7 یعنی جس دین کو اب محمد ﷺ پیش کر رہے ہیں، اسی دین کی تعلیم اہل کتاب کو ان کے ہاں آنے والے انبیاء اور ان کے ہاں نازل ہونے والی کتابوں نے دی تھی، اور ان عقائد باطلہ اور اعمال فاسدہ میں سے کسی چیز کا انہیں حکم نہیں دیا گیا تھا جنہیں انہوں نے بعد میں اختیار کر کے مختلف مذاہب بنا ڈالے۔ صحیح اور درست دین ہمیشہ سے یہی رہا ہے کہ خالص اللہ کی بندگی کی جائے، اس کے ساتھ کسی دوسرے کی بندگی کی آمیزش نہ کی جائے، ہر طرف سے رخ پھیر کر انسان صرف ایک اللہ کا پرستار اور تابع فرمان بن جائے، نماز قائم کی جائے، اور زکوٰۃ ادا کی جائے۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد دوم، الاعراف حاشیہ 19۔ یونس حواشی 108۔ 109۔ جلد سوم، الروم حواشی 43 تا 47۔ جلد چہارم، الزمر حواشی 3۔ 4) اس آیت میں دین القیمہ کے جو الفاظ آئے ہیں ان کو بعض مفسرین نے دین الملۃ القیمۃ یعنی " راست رو ملت کا دین " کے معنی میں لیا ہے اور بعض اسے اضافت صفت الی الموصوف قرار دیتے ہیں اور قیمۃ کی ہ کو علامہ اور فہامہ کی طرح مبالغۃ کی ہ قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک اس کے معنی وہی ہیں جو ہم نے ترجمہ میں اختیار کیے ہیں۔
Ayah 98:6

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ وَ الْمُشْرِكِیْنَ فِیْ نَارِ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمْ شَرُّ الْبَرِیَّةِؕ Open ayah 98:6 in the Quran reader

اہلِ کتاب اور مشرکین میں سے جن لوگوں نے کُفر کیا ہے 8 وہ یقیناً جہنّم کی آگ میں جائیں گے اور ہمیشہ اس میں رہیں گے ، یہ لوگ بدترینِ خلائق ہیں۔ 9

سورة البینہ 8 یہاں کفر سے مراد محمد ﷺ کو ماننے سے انکار کرنا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ مشرکین اور اہل کتاب میں سے جن لوگوں نے اس رسول کے آجانے کے بعد اس کو نہیں مانا جس کا وجود خود ایک دلیل روشن ہے اور جو بالکل درست تحریروں پر مشتمل پاک صحیفے ان کو پڑھ کر سنا رہا ہے، ان کا انجام وہ ہے جو آگے بیان کیا جارہا ہے۔ سورة البینہ 9 یعنی خدا کی مخلوقات میں ان سے بد تر کوئی مخلوق نہیں ہے حتی کہ جانوروں سے بھی گئے گزرے ہیں، کیونکہ جانور عقل اور اختیار نہیں رکھتے، اور یہ عقل اور اختیار رکھتے ہوئے حق سے منہ موڑتے ہیں۔
Ayah 98:7

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ۙ اُولٰٓئِكَ هُمْ خَیْرُ الْبَرِیَّةِؕ Open ayah 98:7 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لے آئے اور جنہوں نے نیک عمل کیے ، وہ یقیناً بہترین خلائق ہیں۔ 10

سورة البینہ 10 یعنی وہ خدا کی مخلوقات میں سب سے حتی کہ ملائکہ سے بھی افضل و اشرف ہیں۔ کیونکہ فرشتے نافرمانی کا اختیار ہی نہیں رکھتے اور یہ اس کا اختیار رکھنے کے باوجود فرمانبرداری اختیار کرتے ہیں۔
Ayah 98:8

جَزَآؤُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ١ؕ ذٰلِكَ لِمَنْ خَشِیَ رَبَّهٗ۠ Open ayah 98:8 in the Quran reader

ن کی جزا اُن کے ربّ کے ہاں دائمی قیام کی جنّتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہوں گی، وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔ یہ کچھ ہے اُس شخص کے لیے جس نے اپنے ربّ کا خوف کیا ہو۔ 11

سورة البینہ 11 بالفاظ دیگر جو شخص خدا سے بےخوف اور اس کے مقابلہ میں جری و بےباک بن کر نہیں رہا بلکہ دنیا میں قدم قدم پر اس بات سے ڈرتے ہوئے زندگی بسر کرتا رہا کہ کہیں مجھ سے ایسا کوئی کام نہ ہوجائے جو خدا کے ہاں میری پکڑ کا موجب ہو، اس کے لیے خدا کے پاس یہ جزا ہے۔