93. Surah Ad-Dhuhaa

الضحىThe Morning Hours · 11 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 93:1

وَ الضُّحٰىۙ Open ayah 93:1 in the Quran reader

آفتاب کی روشنی کی قسم

والضحی . قسم ہے وقت چاشت کی یا دن کی۔ بعض کا قول ہے کہ ضحی سے مرا دن ہے اس لیے کہ لیل کے مقابل آیا ہے۔ اللہ نے فرمایا : ان یاتیھم باسنا ضحًی۔ یعنی دن میں۔ قتادہ (رح) اور مقاتل (رح) نے کہا : وقت ضحی مراد ہے یعنی سورج کے چڑھنے کا وقت اس وقت کی خصوصیت کی وجہ بعض لوگوں نے یہ بیان کی ہے کہ سردی میں ‘ گرمی میں ‘ جاڑے میں ‘ موسم گرما میں ‘ ہر موسم میں اس وقت اعتدالی کیفیت رہتی ہے۔
Ayah 93:2

وَ الَّیْلِ اِذَا سَجٰىۙ Open ayah 93:2 in the Quran reader

اور رات (کی تاریکی) کی جب چھا جائے

واللیل اذا سجی . اور رات کی قسم جب وہ چھا جائے۔ اذا ظرفیہ فعل قسم محذوف سے متعلق ہے یا لیل سے پہلے مضاف محذوف ہے یعنی حصول اللیل حصول سے اذا کا تعلق ہے یا اللیل کی صفت ہے لیکن بتقدیر مضاف یا اذا ظرفیہ نہیں ہے بلکہ وقت کے معنی میں ہے۔ سَجٰی کا ترجمہ حسن نے کیا ہے : اقبل بظلام ‘ تاریکی کو لے کر آئے یعنی تاریکی کے ساتھ آتی رات کی قسم۔ عوفی کی روایت میں حضرت ابن عباس کا یہی قول آیا ہے۔ والبی نے ذَھَبَ ترجمہ کیا۔ یعنی جاتی رات کی قسم۔ عطاء اور ضحاک نے کہا : رات کی قسم جب ہر چیز کو وہ اپنی تاریکی سے ڈھانک لے۔ مجاہد نے کہا : بالکل ٹھیک ہوجائے۔ قتادہ اور ابن سکن نے کہا : جب اس کی تاریکی ٹھہر جائے کہ اس کے بعد اندھیرے میں زیادتی نہ ہو۔ یا یہ مراد ہے کہ رات کی قسم جب لوگ اس میں سکون پذیر ہوجائیں اور آوازیں خاموش ہوجائیں۔ لیلٌ ساج : وہ رات جس میں سکون پیدا ہوجائے۔ بحر ساجٌ : ساکن سمندر۔ گزشتہ سورت میں لیل کا ذکر نہار سے پہلے کیا تھا کیونکہ رات ‘ دن سے واقع میں پہلے آتی ہے۔ اس جگہ ضحی کا ذکر لیل سے پہلے کیا اس لیے کہ رات پر دن کو فضیلت ہے۔
Ayah 93:3

مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَ مَا قَلٰىؕ Open ayah 93:3 in the Quran reader

کہ (اے محمدﷺ) تمہارے پروردگار نے نہ تو تم کو چھوڑا اور نہ (تم سے) ناراض ہوا

ما ودعک ربک . یعنی تمہارے رب نے تم کو بالکل نہیں چھوڑ دیا ‘ تم سے قطع تعلق نہیں کیا۔ وما قلی . اور تم کو مبغوض نہیں بنا لیا ‘ تم سے متنفر نہیں ہوگیا۔ یہ جملہ اصل میں ما قلاک تھا۔ ک ضمیر مفعول محذوف کردی گئی کیونکہ ودّعک میں مفعول موجود ہے۔ مزید ذکر کی ضرورت نہیں یا سجع آیات کے لحاظ سے مفعول کا ذکر نہیں کیا گیا۔
Ayah 93:4

وَ لَلْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لَّكَ مِنَ الْاُوْلٰىؕ Open ayah 93:4 in the Quran reader

اور آخرت تمہارے لیے پہلی (حالت یعنی دنیا) سے کہیں بہتر ہے

وللاخرۃ خیر لک من الاولی . اور آخرت تمہارے لیے دنیا سے بہتر ہے۔ ممکن ہے یہ آیت گزشتہ آیت سے پیوستہ ہو ‘ وابستگی کی وجہ یہ ہے کہ آیت : ماو دعک ربک وما قلٰی کے ضمن میں یہ بات آگئی کہ اللہ وحی بھیج کر تم کو اپنے ساتھ ملائے رکھے گا۔ تم حبیب خدا ہو اور اس سے زیادہ فضیلت اور کیا ہوسکتی ہے۔ اب اس آیت میں بتایا کہ آخرت میں تمہارا درجہ اس سے بڑا ہوگا۔ وہ تمہارے لیے اس سے بہتر ہوگی۔ تمام انبیاء کی سرداری حاصل ہوگی ‘ مقام محمود عطا کیا جائے گا۔ جس پر پچھلے اگلے سب رشک کریں گے۔ تمہاری امت دوسری امتوں کی شاہد ہوگی۔ آخرت میں رسول اللہ ﷺ کے خصوصی فضائل کا ذکر ہم سورة بقر کی آیت : تلک الرسل فضلنا بعضھم علٰی بعض کے ذیل میں کرچکے ہیں۔ بغوی نے بسند ابن ابی شیبہ حضرت ابن مسعود کا قول نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ہم اہل بیت کے لیے اللہ نے دنیا کے مقابلہ میں آخرت کو ترجیح دی ہے۔ یا آیت کا یہ معنی ہے کہ دوسری حالت پہلی حالت سے تمہارے لیے بہتر ہوگی اور انجام امر آغا ز سے اچھا ہوگا یعنی بزرگی اور کمال میں تم برابر ترقی کرتے رہو گے۔ صوفیہ کا قول ہے جس کے دونوں دن برابر ہوں (دوسرا دن پہلے دن سے بہتر نہ ہو) وہ گھاٹے میں ہے۔
Ayah 93:5

وَ لَسَوْفَ یُعْطِیْكَ رَبُّكَ فَتَرْضٰىؕ Open ayah 93:5 in the Quran reader

اور تمہیں پروردگار عنقریب وہ کچھ عطا فرمائے گا کہ تم خوش ہو جاؤ گے

و لسوف یعطیک ربک فترضی . بیہقی نے دلائل میں ‘ طبرانی نے اوسط میں اور حاکم وغیرہ نے نقل کیا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ امت کے آئندہ فتوحات (ممالک کی فتح ‘ دولت کی کثرت ‘ اقتدار کا حصول ‘ دنیوی کامرانی وغیرہ) رسول اللہ ﷺ کے سامنے (کشف کی حالت میں) لائے گئے۔ آپ کو ان سے خوشی حاصل ہوئی۔ اس پر آیت مذکورہ نازل ہوئی۔ یعطیک میں دوسرے مفعول کو اس لیے حذف کردیا کہ کسی نعمت کو ذکر کرنے سے خصوصیت پیدا ہوجاتی (اور دوسری نعمتوں سے محرومی کا شبہ پیدا ہوتا) اور عموم مفعول کا فائدہ حاصل نہ ہوتا۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تم کو بکثرت عنایات سے نوازے گا۔ دشمنوں پر فتح ‘ اقتدار کامل ‘ مؤمنوں کی کثرت ‘ تمام عالم میں دین کی اشاعت ‘ آخرت میں شفاعت کثرت ثواب اور ایسی ایسی نعمتیں کہ ان کی حقیقت سے اللہ کے سوا کوئی واقف نہیں۔ درجات قرب میں سب سے اونچا درجہ اور سب سے بڑی نعمت یہ کہ کمال نبوت کے درجہ کے مطابق اپنے دیدار سے نوازے گا۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : میری امت میں سے ایک اگر دوزخ میں رہ گیا تو میں راضی نہیں ہوں گا۔ حضرت علی کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : میں اپنی امت کی شفاعت کروں گا (اور اللہ ان کو بخش دے گا) یہاں تک کہ میرا ربّ ندا دے گا : محمد ﷺ کیا تو (اب) راضی ہوگیا ؟ میں عرض کروں گا : ہاں میرے رب ! میں راضی ہوگیا۔ عطاء کی روایت سے حضرت ابن عباس کا قول آیا ہے کہ یعطیک ربک کا معنی یہ ہے کہ اللہ تجھ کو شفاعت (کی اجازت) عطا فرمائے گا اور تیری امت کو تیری شفاعت سے بخش دے گا۔ یہاں تک کہ تو راضی ہوجائے گا۔ حضرت علی ؓ اور حضرت امام حسن ؓ سے یہی تفسیر منقول ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دعا کی : الٰہی ! میری امت (کو بخش دے) میری امت (کو بخش دے) اور رونے لگے۔ اللہ نے حکم دیا جبرئیل ( علیہ السلام) محمد ﷺ سے جا کر کہہ دے کہ تیری امت کے معاملہ میں ہم تجھے راضی کردیں گے ‘ تجھ کو دکھ نہ دیں گے۔ (مسلم) عرب بن شریح کا بیان ہے کہ حضرت ابوجعفر ؓ محمد بن علی ؓ (زین العابدین ؓ سے میں نے خود سنا۔ فرما رہے تھے کہ اے گروہ اہل عراق تم کہتے ہو کہ قرآن میں سب سے زیادہ امید دلانے والی آیت : یٰعبادی الذین اسرفوا علٰی انفسھم ولا تقنطوا من رحمۃ اللہ ہے اور ہم اہل بیت کہتے ہیں کہ اللہ کی کتاب میں سب سے زیادہ امید آفریں آیت : ولسوف یعطیک ربک فترضٰی ہے۔ لسوف میں لام کو بعض علماء نے ابتدائیہ قرار دیا ہے۔ یعنی مبتداء محذوف ہے اور خبر پر لام آیا ہے۔ اصل کلام ولانت سوف یعطیک تھا۔ یہ لام تاکید کے لیے نہیں ہے کیونکہ مضارع پر بغیر نون تاکید کے لام تاکید نہیں آتا۔ اکثر علماء کے نزدیک یہ لام تاکید ہے لام ابتداء نہیں ہے ‘ اسی لیے سوف کے ساتھ آیا ہے۔ لام ابتداء سوف کے ساتھ نہیں آتا۔ آئندہ آیات میں اللہ نے ان چند احسانات کا ذکر کیا ہے جو شروع زندگی سے اپنے رسول پر اس نے مبذول فرمائے تھے تاکہ آئندہ جن مہربانیوں کی امید ہے ان کو انعامات ماضی پر قیاس کیا جاسکے ‘ فرمایا :
Ayah 93:6

اَلَمْ یَجِدْكَ یَتِیْمًا فَاٰوٰى۪ Open ayah 93:6 in the Quran reader

بھلا اس نے تمہیں یتیم پا کر جگہ نہیں دی؟ (بےشک دی)

الم یجدک یتیما . کیا اللہ نے تم کو یتیم نہیں جانا یا حالت یتیمی میں نہیں پایا۔ یجد (مضارع) وَجَدَ سے ہے اور وجد کا معنی ہے عَلِمَ (اس نے جانا) اور یتیمًا دوسرا مفعول ہے یا وجد سے تو ہے مگر وجد ‘ وجود سے مشتق ہے اور وجود کا معنی ہے پانا۔ اس وقت یتیمًا حال ہوگا۔ استفہام انکار نفی کے لیے ہے اور انکار نفی ‘ اثبات کو مستلزم ہے۔ اس سے غرض ہے ‘ مخاطب سے اقرار کرانا۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ نے تم کو یتیم پایا۔ یعنی جب تمہارا باپ مرگیا تو تم کو خدا نے نادار بچہ پایا۔ باپ نے نہ تمہارے لیے مال چھوڑا تھا نہ کوئی ٹھکانہ۔ اس جملہ میں مَا وَدَّعَکَ کے معنی تاکید کے ہے۔ فاوی . پس اس نے تم کو ٹھکانا دیا ‘ یعنی تمہارے چچا ابو طالب کے پاس تمہارا ٹھکانہ بنایا اسکو تمہارا کفیل مقرر کردیا۔ بغوی نے بحوالہ ترمذی حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میں نے اللہ سے ایک درخواست کی تھی لیکن اگر نہ کی ہوتی تو میرے نزدیک بہتر ہوتا میں نے عرض کیا تھا : پروردگار تو نے سلیمان بن داؤد کو بڑی حکومت عطا فرمائی اور فلاں کو فلاں چیز دی۔ اللہ نے فرمایا : محمد ! کیا میں نے تجھ کو یتیمی کی حالت میں نہیں پایا اور پھر کیا تجھے ٹھکانا نہیں دیا ؟ میں نے عرض کیا : بیشک پروردگار (تو نے یہ انعام دیا) ۔ اللہ نے فرمایا : کیا میں نے تجھے متحیر پا کر صحیح راستہ نہیں بتادیا۔ میں نے عرض کیا : بیشک میرے رب (تو نے ایسا ہی کیا) اللہ نے فرمایا : کیا میں نے تجھے فقیر نہیں پایا اور پھر کیا غنی نہیں بنا دیا ؟ میں نے عرض کیا : بیشک پروردگار (تو نے ایسا ہی کیا) بعض روایات میں اتنا زائد ہے کہ کیا ہم نے تیرا سینہ کھول کر تیرا بار تجھ سے دور نہیں کردیا ؟ میں نے عرض کیا : بیشک میرے رب (تو نے ایسا کردیا) ۔ اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اللہ سے مال و دولت کی دعا اس لیے کی تھی کہ آپ ﷺ مفلس تھے اور قوم والے مفلسی کی عار دلاتے تھے۔ یہاں تک کہ (بعض) لوگوں نے یہ بھی کہہ دیا تھا کہ اگر تم کو دولت کی خواہش ہے تو ہم تمہارے لیے اتنا مال جمع کردیں گے کہ مکہ کے بڑے خوشحال لوگوں کی طرح تم بھی ہوجاؤ گے۔ حضور ﷺ اس بات سے رنجیدہ ہوئے اور خیال کیا کہ میرے افلاس کی وجہ سے لوگ میری تکذیب کرتے ہیں ‘ اس لیے آپ ﷺ نے اللہ سے اس طرح کا سوال کیا۔ اللہ نے تسلی دینے کے لیے اپنے چند احسانات بیان فرمائے اور دولت مند بنا دینے کا وعدہ فرمایا۔ مگر یہ توجیہ بالکل درست نہیں کیونکہ : 1) اللہ نے اپنے رسول کو جو عزت وشان عنایت کی تھی اس کا تقاضا تھا کہ دنیا (کی ذلیل چیزوں) کی مانگ خدا سے نہ کرتے۔ 2) دوسری وجہ یہ کہ آیت : ووجدک عائلًا فاغنٰی میں اغنٰی ماضی کا صیغہ ہے ‘ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے آپ کو غنی بنا دیا تھا اور غنی ہوجانے کے بعد غنی ہونے کی درخواست ناممکن ہے۔ 3) تیسری وجہ یہ کہ اگر اللہ سے اس قسم کی درخواست کی ہوتی تو اللہ تعالیٰ ضرور عطا فرماتا حالانکہ ( آپ ﷺ کبھی مالدار نہیں ہوئے اور) آپ ﷺ کے گھر والے (پیہم) دو روز بھی جو کی روٹی سے سیر نہیں ہوئے۔ اسی حالت میں آپ کی وفات ہوگئی۔ حضرت عائشہ ؓ کے قول سے یہی معلوم ہوتا ہے۔ (بخاری و مسلم) صوفیہ نے اس مقام کی تنقیح کرتے ہوئے کہا ہے کہ دوران سیر میں صوفی کے سامنے دو حالتیں آتی ہیں : 1) ایک حال تو وہ ہوتا ہے کہ صوفی کا تعلق مخلوق سے بالکل منقطع ہوجاتا ہے اور کامل توجہ اللہ ہی کی طرف ہوجاتی ہے ‘ اس حالت کو صوفی عروج اور سیر الی اللہ یا سیر فی اللہ کہتا ہے۔ 2) دوسرا حال وہ ہوتا ہے کہ صوفی مخلوق کو اللہ کی طرف بلاتا ہے ‘ لوگوں کو ہدایت کرتا ہے ‘ اس لیے مخلوق کی طرف توجہ کرتا ہے۔ بظاہر ایسا نظر آتا ہے کہ وہ اللہ سے کٹ کر مخلوق کی طرف متوجہ ہوگیا ‘ مگر گہری نظر سے دیکھنے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ اس کا اللہ سے کامل انقطاع نہیں ہوتا بلکہ یہ انقطاع تو بحکم محبوب ہوتا ہے اور اسی کی مرضی سے ہوتا ہے ‘ اس لیے یہ انقطاع بھی اتصال کا حکم رکھتا ہے اور حقیقت میں یہ وصل ہی ہوتا ہے بلکہ وصل کا اعلیٰ درجہ ہوتا ہے اس مرتبہ کو صوفی نزول اور سیر من اللہ باللہ کہتا ہے مگر یہ حالت صوفی کی بڑی بےچینی اور اضطراب کی ہوتی ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مچھلی کو سمندر سے نکال کر خشک میدان میں ڈال دیا گیا ہے اور وہ تڑپ رہی ہے۔ ہم کئی جگہ ذکر کرچکے کہ جس عارف کی نزولی حالت زیادہ کامل ہوتی ہے اس کی تبلیغ و ہدایت بھی زیادہ ہمہ گیر اور عمومی ہوتی ہے۔ اہل تصوف کا قول ہے کہ حضرت نوح نزولی کمال کے مرتبہ پر فائز نہیں تھے ‘ اسی لیے ساڑھے نو سو برس کی زندگی میں چند آدمی مؤمن ہوئے یعنی اہل سفینہ اور رسول اللہ ﷺ کو نزولی مرتبہ بدرجۂ اکمل حاصل تھا۔ آپ کا ہم رتبہ اس کمال میں کوئی نہ تھا ‘ اسی لیے صرف 23 سال کی مدت میں آپ ﷺ کا دین ‘ دنیا میں پھیل گیا۔ اسی کے ساتھ آپ کا عروجی کمال بھی اتنا بلند اور ارفع تھا کہ قاب قوسین و ادنیٰ کے درجہ پر پہنچ گئے۔ شیخ اکبر محی الدین ابن عربی نے لکھا ہے کہ نوح کی دعوت کا لوگوں نے انکار اس وجہ سے کیا کہ آپ کو لوگوں سے کامل مناسبت نہ تھی (یعنی آپ کو کمال تبلیغ حاصل نہ تھا) اور رسول اللہ ﷺ کی دعوت پر لوگوں نے لبیک کہی کیونکہ آپ کی دعوت کی بناء کمال مناسبت کے ساتھ تھی (یعنی آپ کو کمال تبلیغ کا درجہ حاصل تھا) لیکن اس نزولی کمال ہی کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ سخت غمگین اور پریشان رہتے تھے۔ یہی مطلب ہے رسول اللہ ﷺ کے اس ارشاد کا : ما اوذی احدٌ مثلَ ما اوذیتُ ‘ جیسا مجھے دکھ دیا گیا ایسا کسی کو نہیں دیا گیا۔ (رواہ ابن عدی و ابن عساکر و ابو نعیم فی الحلیۃ عن انس ؓ اگر اس حدیث کا یہ مطلب نہ قرار دیا جائے تو کوئی اور توجیہ ممکن نہیں کیونکہ حضرت نوح کو تو نو سو پچاس برس دکھ اٹھانے پڑے اور حضرت عیسیٰ کو اتنی ایذا دی گئی کہ آپ کو آسمان پر اٹھا لیا گیا اور حضرت یحییٰ ( علیہ السلام) وغیرہ اس راہ میں شہید کردیئے گئے۔ اس مطلب کی روشنی میں معلوم ہوتا ہے کہ غالباً سورة والضحیٰ اور الم نشرح کا نزول رسول اللہ ﷺ کو تسلی دینے کے لیے ہوا ‘ اس وقت ابتدائی دور تھا۔ آپ ﷺ کی نزولی حالت کا آغاز تھا۔ بظاہر آپ کو اپنی حالت انقطاعی محسوس ہوئی۔ آپ ﷺ نے خیال کیا کہ (کیا) میں اللہ سے بالکل کٹ گیا اور مخلوق کی طرف میرا رخ ہوگیا۔ اس خیال کی مزید تائید اس بات سے بھی ہوئی کہ وحی کے عارضی طور پر رک جانے کا یہی زمانہ تھا۔ اس لیے آپ کو سخت ترین رنج تھا ‘ یہاں تک کہ صحیح بخاری میں آیا ہے کہ آپ کئی بار اس ارادے سے نکلے کہ پہاڑوں کی چوٹیوں سے اپنے آپ کو گرا دیں لیکن جب بھی نیچے گرنے کے ارادہ سے پہاڑ کی چوٹی پر پہنچے جبرئیل نے نداد ی : محمد ﷺ آپ یقیناً اللہ کے رسول ہیں۔ حضرت خدیجہ ؓ نے آپ ﷺ کی بےچینی کو دیکھ کر ہی کہا تھا کہ آپ ﷺ کا ربّ آپ ﷺ سے خفا ہوگیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ اس حالت کے زائل ہوجانے کے خواستگار تھے۔ جس میں خالق سے انقطاع اور مخلوق کی طرف میلان ہوگیا تھا اور جس کو حضور ﷺ نے اللہ کی طرف سے بالکل ترک اور خفگی سمجھ لیا تھا اور اسی کا آپ کو رنج تھا اور دل سے خواہش مند تھے کہ اللہ سے دوامی تعلق اور بلا حجاب وصل قائم رہے۔ اس تفصیل کی روشنی میں آیت : ما ودعک ربک وما قلٰی کا مطلب یہ ہوگا کہ یہ فرقی حالت جو تم کو پیش ہے ترک تعلق اور ناراضگی نہیں کہ آپ رنجیدہ ہوں بلکہ یہ کمال عروج و وصل ہے۔ اگرچہ ظاہر میں نزول و فراق ہے تمہاری ہر دوسری حالت پہلی حالت سے بہتر ہی ہوگی۔ تمہارے احوال میں ضعف اور سستی نہیں آئے گی بالآخر دوسری زندگی میں تم کو غیر منقطع وصل اور دیدار حاصل ہوجائیگا۔ وہاں نہ تبلیغ کا حکم ہوگا ‘ نہ خلق کی طرف تمہاری توجہ ‘ نہ فراق کی تکلیف اور دنیا و آخرت میں اللہ تم کو تمہاری پسندیدہ اور محبوب چیزیں عنایت فرمائیگا۔
Ayah 93:7

وَ وَجَدَكَ ضَآلًّا فَهَدٰى۪ Open ayah 93:7 in the Quran reader

اور رستے سے ناواقف دیکھا تو رستہ دکھایا

ووجدک . اور اللہ نے تم کو پایا (یا جان لیا) اس کا عطف الم یدک کے معنی پر ہے کیونکہ الم یجدک (لفظاً منفی اور معنیً مثبت ہے اور اس) کا معنی بھی وجدک ہے۔ پس عطف خبر پر ہوگیا ‘ انشاء پر نہیں ہوا۔ ضالا . علامات نبوت اور احکام شریعت سے بیخبر اور ان تمام علوم سے لاعلم جن کو جاننے کا ذریعہ سوائے نقل کے (کسی طور پر عقل) نہیں۔ اسی مفہوم کی مثل آیت : ان کنت من قبلہٖ لمن الغٰفلین اور آیت : ما کنت تدری ما الکتٰب ولا الایمان کا مفہوم ہے۔ حسن ‘ ضحاک اور ابن کیسان نے یہی تفسیر کی ہے۔ ابو الضحیٰ کی روایت سے حضرت ابن عباس کا قول آیا ہے کہ (آیت کا مطلب اس طرح ہے) تم بچہ تھے ‘ چھوٹے تھے ‘ خوبصورت تھے مکہ کے نوجوانوں میں ناقابل ذکر تھے۔ حلیمہ نے تم کو دودھ پلایا تھا ‘ پھر دودھ چھڑا کر تمہارے دادا عبدالمطلب کے پاس تم کو واپس دینے لائی تھی۔ سعید بن المسیب نے بیان کیا کہ حضرت خدیجہ کے غلام میسرہ کے قافلہ میں ابو طالب ؓ کے ساتھ رسول اللہ ﷺ بھی موجود تھے۔ ایک تاریک رات میں جب کہ آپ ﷺ اونٹنی پر سوار جا رہے تھے ‘ اچانک آپ کی اونٹنی کی مہار ابلیس نے پکڑ کر راستہ سے اس کا رخ موڑ دیا۔ فوراً حضرت جبرئیل ( علیہ السلام) نے آکر ابلیس پر پھونک ماری کہ وہ حبش میں جا گرا اور رسول اللہ ﷺ کو قافلہ کی طرف لوٹا دیا۔ بعض نے کہا : وجدک ضالا کا یہ معنی ہے کہ تم اپنے نفس سے بھی واقف نہ تھے۔ بعض صوفیہ نے اس طرح تشریح کی کہ اللہ نے تم کو عاشق محب پایا۔ تمہارا عشق حد سے آگے بڑھ چکا تھا۔ جذب کی حالت کو ضلال بطور کنایہ کہا جاسکتا ہے کیونکہ مجذوب اکثر غلط راستہ پر پڑجاتا ہے۔ (گویا ضالا سے مراد ہے مجذوب) حدیث میں آیا ہے کسی چیز کی محبت تم کو اندھا ‘ بہرا کردیتی ہے۔ پس آیت میں مسبّب (ضلال) سے سبب (جذب) مراد ہے جیسا کہ آیت میں آیا ہے : انزل اللہ من السماء عن رزق۔ اللہ نے آسمان سے رزق اتارا یعنی بارش (رزق مسبّب ہے بارش سبب) حضرت یوسف ( علیہ السلام) کے بھائیوں نے اپنے باپ (حضرت یعقوب ( علیہ السلام) کے متعلق کہا تھا : ان ابانا لفی ضلال مبین اور انک لفی ضلالک القدیم (یعنی عشق یوسف کی کھلی ہوئی اور پرانی دیوانگی) ۔ مصر کی عورتوں نے عزیز مصر کی بیوی کے متعلق کہا تھا : تراودفتاھا عن نفسہ قد شغفھا حبا انا لنراھا فی ضلٰل مبین۔ وہ اپنے غلام کو بہکا رہی ہے۔ غلام پر وہ دل سے شیفتہ ہے۔ ہم اس کیوکھلی ہوئی دیوانگی میں دیکھ رہے ہیں۔ فھدی . یعنی تم کو شعائر دین بتا دیئے یا تمہارے دادا عبدالمطلب تک پہنچا دیا ‘ یا قافلہ تک پہنچا دیا ‘ یا اپنے نفس اور حال کو پہچاننے کا راستہ بتادیا جس نے اپنے نفس کو پہچان لیا اس نے اپنے رب کو پہچان لیا یا محبوب کے وصل کا راستہ بتادیا یہاں تک کہ قاب قوسین او ادنٰی کے مقام پر تم پہنچ گئے۔
Ayah 93:8

وَ وَجَدَكَ عَآئِلًا فَاَغْنٰىؕ Open ayah 93:8 in the Quran reader

اور تنگ دست پایا تو غنی کر دیا

ووجدک عائلا . اور تم کو نادار پایا۔ فاغنی . پس غنی کردیا ‘ خدیجہ ؓ کے مال کے ذریعہ سے یا تجارتی منافع کی وجہ سے یا مال غنیمت کے ذریعہ سے۔ ان تمام معانی کی صورت میں غنا سے مراد ہے احتیاج کو دور کردینا خواہ تھوڑے مال کے ذریعہ سے ہی ہو۔ نصاب زکوٰۃ کا مالک بنا دینا مراد نہیں ہے۔ مقاتل نے کہا اللہ نے رزق دے کر تمہارے دل کو (مخلوق کی طرف سے) بےنیاز کردیا۔ فراء نے اسی مطلب کو پسند کیا ہے اور صراحت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ دنیوی مال و متاع کی وجہ سے غنی نہ تھے بلکہ آپ ﷺ کا دل غنی تھا اور نفس کی غناء ہی اصلی غنا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمرو کی روایت ہے ‘ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کامیاب ہوگیا وہ شخص جو اسلام لایا اور اس کو بقدر ضرورت مل گیا اور اللہ نے اس کو قناعت عطا کردی۔ (مسلم)
Ayah 93:9

فَاَمَّا الْیَتِیْمَ فَلَا تَقْهَرْؕ Open ayah 93:9 in the Quran reader

تو تم بھی یتیم پر ستم نہ کرنا

فاما الیتیم فلا تقھر . یہاں سے سورت کے آخر تک معترضہ جملے ہیں یا رسول اللہ ﷺ کے یتیم اور عائل یعنی نادار ہونے کے ذکر میں یتیم اور سائل کے احکام کا ذکر کردیا اور یہاں فقیر سائل کا ذکر اس وجہ سے کیا کہ نادار اکثر سائل ہوتا ہے اور رسول اللہ ﷺ کو ٹھکاناعطا کرنے ‘ غنی بنانے اور ہدایت دینے کا ذکر چونکہ مذکورۂ بالا آیات میں آیا تھا اس لیے آئندہ یاد نعمت کا حکم دیا۔ فراء اور زجاج نے لا تقھر کا معنی یہ بیان کیا کہ یتیم کے مال پر زبردستی قبضہ نہ کرو اور اس کی کمزوری کو دیکھ کر اس کا مال نہ لے لو ‘ جیسا کہ عرب کرتے تھے۔ عزت کی وجہ سے خطاب تو رسول اللہ ﷺ کو ہے مگر ممانعت کا رجوع امت کی طرف ہے۔ حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مسلمانوں کا وہ مکان بہترین ہے جس میں کسی یتیم سے اچھا سلوک کیا جائے اور مسلمانوں کا بدترین مکان وہ ہے جس میں کسی یتیم سے بدسلوکی کی جائے۔ حضور ﷺ نے اپنی دونوں انگلیوں (کو جوڑ کر ان) سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : جنت میں میں اور یتیم کا سرپرست اس طرح (متصل) ہوں گے۔ (بغوی و ابن ماجہ والبخاری فی الادب و ابو نعیم فی الحلیۃ)
Ayah 93:10

وَ اَمَّا السَّآئِلَ فَلَا تَنْهَرْؕ Open ayah 93:10 in the Quran reader

اور مانگنے والے کو جھڑکی نہ دینا

واما السائل فلا تنھر . سائل کو نہ جھڑکو۔ اہل تفسیر نے لکھا ہے ‘ مطلب یہ ہے کہ دروازہ پر جو سائل آئے ‘ اس کو نہ جھڑکو ‘ نہ ڈانٹو کیونکہ تم بھی نادار ‘ محتاج تھے یا تو اس کو کھانا دے دو ورنہ نرمی اور خوش خلقی کے ساتھ اس کو واپس کر دو ۔ اس آیت کے ذیل میں حسن (رح) نے کہا کہ طالب علم اگر کچھ پوچھے تو اس کو نہ جھڑکو۔ حضرت ابن مسعود کی روایت ہے جس نے مستحقین علم سے علم کو چھپایا ‘ قیامت کے دن اس کو آگ کی لگام لگائی جائے گی۔ تفسیر دوم (یعنی حسن بصری کے قول) کی بناء پر اس آیت کی وابستگی وَوَجَدَکَ ضَالّا فَھَدٰی سے ہوگی اور لف و نشر مرتب ہوگا (یعنی دوسرے مجموعہ کے اوّل حصہ کا تعلق اول مجموعہ کے اوّل حصہ سے اور دوسرے مجموعہ کے دوسرے حصہ کا تعلق اول مجموعہ کے دوسرے حصہ سے علی الترتیب ہوگا) لیکن اوّل الذکر تفسیر پر اس جملہ کا تعلق وَوَجَدَکَ عَاءِلاً سے ہوگا۔
Ayah 93:11

وَ اَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ۠ Open ayah 93:11 in the Quran reader

اور اپنے پروردگار کی نعمتوں کا بیان کرتے رہنا

واما بنعمۃ ربک فحدث . یعنی خدادا نعمت کا شکر ادا کرو۔ لف و نشر مرتب کی صورت میں اس جملہ کا تعلق ووجدک عائلا فاغنٰی سے ہوگا۔ واما بنعمۃ ربک فحدث : یعنی اپنے رب کی عطا کی ہوئی نعمت کا شکر ادا کرو۔ سنان بن سنیہ نے اپنے باپ کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کھانے والا (پھر کھانے کا) شکر ادا کرنے والا (بھوک ‘ پیاس وغیرہ پر) صبر کرنے والے روزہ دار کی طرح ہے۔ (رواہ احمد و ابن ماجہ والدارمی باسناد صحیح رواہ الترمذی من حدیث ابی ہریرۃ ؓ حضرت اشعث بن قیس کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ کا سب سے زیادہ شکر گزار وہ ہے جو لوگوں (کے احسان) کا بہت شکر ادا کرنے والا ہو۔ ایک روایت میں آیا ہے ‘ نہیں شکر کرتا اللہ کا جو نہ شکر کرے لوگوں کا۔ اس روایت کے راوی ثقہ ہیں۔ (رواہ احمد) حضرت جابربن عبداللہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس کے ساتھ کوئی اچھا سلوک کیا جائے ‘ اسکو اس اچھائی کا بدلہ دینا چاہیے اگر بدلہ چکانے کے قابل کوئی چیز نہ ملے تو (دینے والے کی) ثناء ہی کر دے ‘ جب ثناء کردی تو (حقیقت میں) شکر ادا کردیا ‘ اگر احسان کو چھپائے گا تو ناشکری کا مرتکب ہوگا اور جس نے بغیر کسی کے دیئے (اسکے کپڑے) پہن لیے تو ایسا ہے جیسا کہ جھوٹ کا لباس پہن لیا۔ (بغوی) حضرت نعمان بن بشیر ؓ نے کہا : میں نے خود سنا کہ رسول اللہ ﷺ ممبر پر فرما رہے تھے ‘ جس نے تھوڑے کا شکریہ ادا نہیں کیا ‘ اس نے زیادہ کا بھی شکر ادا نہیں کیا ‘ جس نے لوگوں کا شکر نہیں کیا ‘ اس نے اللہ کا بھی نہیں کیا۔ اللہ کی نعمت کو یاد کرنا شکر ہے ‘ نہ یاد کرنا ناشکری ہے ‘ جماعت (اہل اسلام) اللہ کی رحمت ہے ‘ تفرقہ اللہ کا عذاب ہے۔ بغوی نے یہ تمام احادیث نقل کی ہیں۔ ان احادیث کا تقاضا ہے کہ مشائخ اور اساتذہ کا شکر ادا کیا جائے اور ان کے احسانات کی تعریف کی جائے۔ بشیر کی روایت میں مجاہد کا قول آیا ہے کہ آیت میں نعمت سے مراد نبوت ہے۔ زجاج نے بھی اسی تفسیر کو پسند کیا ہے۔ اس وقت تحدیث نعمت کا مطلب یہ ہوگا کہ تم کو جو پیام دے کر بھیجا گیا ہے اس کو لوگوں تک پہنچاؤ اور اپنی نبوت کا اظہار کرو۔ لیث کی روایت میں مجاہد کا قول یہ ہے کہ نعمت سے مراد قرآن ہے۔ کلبی کا بھی یہی مختار ہے۔ مطلب یہ ہے کہ قرآن کو پڑھو ‘ اس تفسیر پر اس آیت کا تعلق آیت : ووجدک ضالا فھدٰی سے ہوگا۔ مقاتل نے کہا : اللہ کی نعمت کو یاد کرنا شکر ہے۔ لہٰذا تحدیث نعمت سے مراد یہ ہے کہ اللہ نے جو تم کو ٹھکانا عطا کیا اور ہدایت دی اور غنی بنایا ‘ اس کا شکر کرو۔ یہ مطلب زیادہ طاہر ہے کیونکہ جس نعمت کا ذکر اس آیت میں آیا ہے وہ عام ہے۔ پھر تخصیص کی کوئی وجہ نہیں۔ نعمت دینی ہو یا دنیوی سب کا شکر و اجب ہے۔ اس تشریح کی بناء پر آیت کا تعلق مذکورۂ بالا تینوں آیات سے ہوگا۔ مسئلہ ہر نعمت کا شکر واجب ہے اور شکر نعمت کا معنی ہے نعمت کو منعم کی مرضی کے مطابق صرف کرنا لہٰذا نعمت مالیہ کا شکر ‘ یہ ہوگا کہ اخلاص کے ساتھ مال کو راہ حق میں صرف کیا جائے اور نعمت بدنیہ کا شکریہ ہوگا کہ فرائض (بدنیہ) کو ادا کیا جائے اور معصیت سے پرہیز رکھا جائے اور علم و عرفان کی نعمت کا شکر یہ ہوگا کہ دوسروں کو سکھایا جائے اور ہدایت کی جائے۔ مسئلہ چونکہ نعمت کا ذکر کرنا شکر نعمت ہے ‘ اسی لیے حضور ﷺ نے فرمایا : انا اکرمکم سید ولد آدم ولا فخر وغیرہ ہم سورة بقر میں اس کا تذکرہ کرچکے ہیں۔ حضرت شیخ محی الدین عبدالقادر جیلانی (رح) نے فرمایا۔ ؂ وکل ولی لہ قدمٌ وانّی علی قدم النبیّ بدر المکمالٖ ہر ولی کا ایک قدم ہوتا ہے (جس پر وہ چلتا ہے) اور میں رسول اللہ ﷺ کے قدم پر (چلتا) ہوں جو بدر کمال تھے۔ یہ بھی آپ کا قول ہے : قدمی ھذہ علٰی رقبۃ کل ولی اللہ۔ میرا یہ قدم ہر ولی کی گردن پر ہے۔ حضرت شیخ مجدد کو اللہ نے ولایت کے تینوں مراتب عطا فرمائے تھے۔ نبوت کے کمالات بھی عنایت کیے تھے اور اولوالعزم رسولوں کے بھی۔ باتباع رسول بھی اور بوراثت (تخلیقی بلا عمل) بھی آپ کی فطری تخلیق نبی کی طینت سے ہوئی تھی۔ آپ مجدد اور قیوم تھے۔ غرض بڑے درجات قرب پر اللہ نے فائز کیا تھا۔ آپ نے ان تمام امور کا خود ذکر کیا ہے لیکن یہ تذکرہ (غرور نہیں ‘ جھوٹا دعویٰ نہیں بلکہ) تحدیث نعمت ہے اگر کوئی شخص ان بزرگان انسانیت اس قسم کے اقوال کو خلاف شرع قرار دیتا ہے تو وہ آیت کریمہ کا منکر ہے۔ ہاں تحدیث نعمت کے طور پر اس طرح کی باتیں زبان سے نکالنے کی شرط یہ ہے کہ ان کا قائل نفسانی صفات (اور آلائشوں) سے یکسر پاک ہو ورنہ ایسی رندانہ جرأت قطعاً جائز نہیں کہیں شیطانی ورطۂ ہلاکت میں نہ گرجائے اور ابلیس کی طرح انا خیر منہ خلقتنی من نار و خلقتہ من طین کہہ کر تباہ نہ ہوجائے۔ فصل بغوی نے لکھا ہے کہ قراءت ِ اہل مکہ میں مسنون ہے کہ سورة والضحیٰ سے ختم قرآن تک ہر سورت کے آخر میں اللہ اکبر کہا جائے۔ میں نے امام القراء ابو نصر محمد سے اسی طرح قراءت سیکھی تھی اور انہوں نے ابن کثیر کی قراءت کا سلسلۂ اسناد ذکر کیا تھا اور ابن کثیر (رح) نے مجاہد (رح) سے اور مجاہد (رح) نے حضرت ابن عباس ؓ سے اور حضرت ابن عباس ؓ نے حضرت ابی بن کعب ؓ سے یونہی مسلسل روایت کی تھی۔ اس کے علاوہ ایک اور سلسلۂ اسناد بھی ابو نصر نے بیان کیا تھا (اور دونوں اسنادوں سے بیان کیا تھا) کہ جب تم والضحیٰ کو ختم کرو تو اللہ اکبر کرو یہاں تک کہ خاتمۂ قرآن تک ہر سورت کے آخر میں یہی کہا کرو۔ ہم کو ابن کثیر نے ایسا ہی حکم دیا تھا اور ابن کثیر (رح) نے کہا ہم نے حضرت ابن عباس ؓ سے پڑھا ‘ آپ نے مجھے اسی طرح کہنے کا حکم دیا اور حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : ہم کو حضرت ابی بن کعب نے یہی حکم دیا اور حضرت ابی ؓ نے فرمایا : میں نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے قراءت کی تو آپ ﷺ نے مجھے یہی حکم دیا۔ والضحیٰ کے آخر میں تکبیر کہنے کی وجہ یہ ہے کہ جب کچھ مدت کے لیے وحی رک گئی تو مشرک کہنے لگے : محمد ﷺ کے شیطان نے محمد ﷺ کو چھوڑدیا۔ وہ ان سے رخصت ہوگیا۔ رسول اللہ ﷺ یہ سن کر غمگین ہوئے۔ اس وقت والضحیٰ نازل ہوئی اور نزول وحی کی خوشی میں حضور ﷺ نے تکبیر کہی۔ پس صحابہ ؓ نے اس تکبیر کو بطور سنت لے لیا۔ بغوی نے جو کچھ بیان کیا تیسیر میں ابو عمرو دوانی نے بھی یہ سب بیان کیا ہے مگر بیان میں تقدیم و تاخیر ہے۔ دانی نے بروایت بزی از ابن کثیر پوری اسناد کے ساتھ بیان کیا ہے کہ ابن کثیر والضحیٰ کو ختم کر کے تکبیر کہتے تھے اور ہر سورت کے آخر پر یہی کرتے تھے۔ یہاں تک کہ قل اعوذ برب الناس کو ختم کر کے بھی تکبیر کہتے تھے۔ اگر سورت کے آخری کلمہ کا آخری حرمتحرک ہو جیسے اذا حسد اور والناس اور الابتر تو اللہ اکبر کی ہمزۂ وصل کو حذف کر کے تکبیر کو سورت کے آخری حرف سے ملا دیا جائے اور آخری حرف ساکن ہو جیسے : فَحَدِّثْ فَارْغَبْ یا تنوین کے ساتھ ہو جیسے ترابًا اور لخبیرٌ اور من مسدٍ تو حرف ساکن اور نون تنوین کو زیر کے ساتھ پڑھا جائے اور اللہ اکبر کے ساتھ اس طرح ملا دیا جائے اب اگر چاہے تو اللہ اکبر کے بعد دوسری سورت کے لیے بسم اللہ الگ شروع کرے اور چاہے تو تکبیر کو بسم اللہ کے ساتھ ملا کر پڑھے اوّل تقدیم پر بسم اللہ کو آغاز سورت سے فصل کرلے یا وصل دونوں صورتیں درست ہیں اور دوسری تقدیر پر بسم اللہ کا آغاز سورت سے وصل ہی کیا جائے گا ‘ فصل درست نہیں۔ دانی نے کہا : بعض اہل تجوید آخر سورت کو ختم کرنے کے بعد اللہ اکبر شروع کرتے ہیں اور اللہ اکبر کو دو سری سورت کی بسم اللہ سے ملا کر پڑھتے ہیں۔ نقاش نے بروایت ابو ربیعہ بزی کا یہی عمل نقل کیا ہے اور عل فارسی نے بھی اسی طرح پڑھا ہے۔ دانی کی بیان کردہ یہ تفصیل بغوی نے مقدم ذکر کی ہے (اور دانی نے مؤخر) ۔ میں کہتا ہوں کہ میں نے دونوں طریقوں سے قاری صالح مصری اور شیخ القراء شیخ عبدالخالق سے پڑھا ہے۔ شیخ صالح مصری نے صرف اللہ اکبر کہنے کی بجائے لا الٰہ الاّ اللہ واللہ اکبر پڑھنا بیان کیا۔ اگر سورة والضحیٰ شروع کرنے سے پہلے تکبیر پڑھ چکا ہو تو والناس ختم کرنے کے بعد تکبیر نہ پڑھے۔ اگر تکبیر کو پہلی سورت کے آخر سے و صل دے کر کہا ہو تو دوسری صورت کے آغاز سے بھی قطع نہ کرے بلکہ جس تکبیر کو پہلی سورت سے ملا کر پڑھا ہے ‘ اس کو دوسری سورت کی بسم اللہ سے ملا دے اور بسم اللہ کو دوسری سورت سے بھی وصل کر دے اور اگر پہلی سورت کے آخر سے تکبیر کو قطع کیا ہے تو دوسری سورت کی بسم اللہ سے وصل کرے یا قطع دونوں کا اختیار ہے۔ اسی طرح اس دوسری سورت کو بسم اللہ سے متصل پڑھے یا منفصل دونوں طرح درست ہے ‘ واللہ اعلم۔ الحمد اللہ کہ سورة الضحیٰ ختم ہوئی