93. Surah Ad-Dhuhaa

الضحىThe Morning Hours · 11 ayahsبصیرتِ قرآن

تعارف

تعارف

تعارف : نبی کریم خاتم الانبیاء احمد مجتبیٰ حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ابتداء میں تیس چالیس دن تک وحی کا سلسلہ بند رہا پھر اس کے بعد لگاتار وحی کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ وحی بند ہونے کے بعد ایک طرف تو آپ پریشان تھے ادھر کفار مکہ کی طعن آمیز باتوں سے آپ بہت غمگین اور رنجیدہ تھے۔ وہ کہتے اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیا تمہارا رب تم سے ناراض ہوگیا اور وحی کا سلسلہ بند ہوگیا۔ ابو لہب کی بیوی ام جمیل نے تو یہاں تک کہہ دیا ” معلوم ہوتا ہے کہ تمہارے شیطان نے تمہیں چھوڑ دیا ہے “ نعوذ باللہ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو تسلی دیتے ہوئے دن کی تیز روشنی اور چمک، رات کے اندھیرے اور تاریکی کی قسم کھا کر فرمایا اے میرے حبیب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ کے رب نے آپ کو نہ چھوڑا ہے اور نہ وہ آپ سے بیزار ہوا۔ یعنی جس طرح دن کی روشنی کے بعد رات کا اندھیرا ہر طرف چھا جاتا ہے تو پھر اسی اندھیری رات سے ایک نئی صبح طلوع ہوتی ہے۔ اسی طرح اگر کچھ وقت کے لئے وحی کا سلسلہ بند ہوگیا تو اس سے یہ کیوں سمجھ لیا گیا کہ اب کبھی وحی نہ آئے گی۔ وقتی اندھیرے سے یہ کیوں سمجھ لیا گیا کہ اب کبھی روشنی نہ ہوگی بلکہ وہ صبح ضرور ہوگی اور اس کی روشنی ہر طرف پھیل کر رہے گی۔ یہ تو اللہ کی مصلھت ہے کہ اس نے وحی کے سلسلہ کو وقتی طور پر روک لیا ہے تاکہ آپ کے اندر وحی الٰہی کے انوارات کو قبول کرنے کی مزید صلاحیت اور سہولت پیدا ہوجائے اور آپ آسانی سے وحی کے بوجھ کو برداشت کرسکیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آپ کے لئے ہر آنے والا دور پہلے دور سے اور موجود دنیا کے مقابلے میں آخرت زیادہ بہتر ہوگی۔ یہ مشکلات کے بادل بہت جلد چھٹ جائیں گے۔ پھر اس کے بعد آپ پر اللہ تعالیٰ کی عطا اور بخشش اتنی زیادہ ہوگی کہ آپ اس سے خوش ہوجائیں گے۔ مزید تسلی دیتے ہوئے خاص طور پر تین نعمتوں کا ذکر فرمایا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ یتیم تھے کیا اسی اللہ نے آپ کو سہار انہیں دیا تھا ؟ آپ حق کی تلاش اور جستجو میں تھے کیا اسی نے آپ کو راہ ہدایت نہیں دکھائی ؟ آپ نادار تھے کیا اسی نے مال و دولت سے آپ کو بےنیاز نہیں کردیا تھا ؟ یہ ساری نعمتیں اسی کی دی ہوئی ہیں۔ ان نعمتوں پر اللہ کا شکر ادا کرنے کے بہترین طریقہ یہ ہے کہ آپ بےماں باپ کے بچوں پر شفقت کیجئے کسی طرح کی سختی نہ کیجئے۔ اگر کوئی سوال کرنے والا ہو تو اس کو جھڑکنے کے بجائے نرمی اختیار کیجئے۔ اور آپ کے پروردگا رنے آپ کو جن نعمتوں سے نوازا ہے اس کا ذکر اور شکر ادا کرتے رہیے۔

Ayahs 93:1–11

وَ الضُّحٰىۙ Open ayah 93:1 in the Quran reader

قسم ہے چڑھتے سورج کی روشنی کی

وَ الَّیْلِ اِذَا سَجٰىۙ Open ayah 93:2 in the Quran reader

اور قسم ہے رات کی جب وہ پوری طرح چھا جائے

مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَ مَا قَلٰىؕ Open ayah 93:3 in the Quran reader

نہ آپ کے رب نے آپ کو چھوڑا اور نہ وہ بیزار ہوا

وَ لَلْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لَّكَ مِنَ الْاُوْلٰىؕ Open ayah 93:4 in the Quran reader

اور یقینا آپ کے لئے بعد (میں آنے والی) حالت پہلی حالت سے بہتر ہوگی

وَ لَسَوْفَ یُعْطِیْكَ رَبُّكَ فَتَرْضٰىؕ Open ayah 93:5 in the Quran reader

اور بہت جلد آپ کو وہ کچھ عطا کیا جائے گا کہ آپ خوش ہوجائیں گے

اَلَمْ یَجِدْكَ یَتِیْمًا فَاٰوٰى۪ Open ayah 93:6 in the Quran reader

کیا اس نے آپ کو یتیم پایا اور ٹھکانا نہیں دیا ؟

وَ وَجَدَكَ ضَآلًّا فَهَدٰى۪ Open ayah 93:7 in the Quran reader

آپ کو اس سنے متلاشی حق پایا تو کیا اس نے آپ کی رہنمائی نہیں کی ؟

وَ وَجَدَكَ عَآئِلًا فَاَغْنٰىؕ Open ayah 93:8 in the Quran reader

اس نے آپ کو نادار پایا تو کیا اس نے آپ کو مال دار نہیں بنایا ؟

فَاَمَّا الْیَتِیْمَ فَلَا تَقْهَرْؕ Open ayah 93:9 in the Quran reader

آپ یتیم پر دبائو نہ ڈالئے اور آپ سوال کرنے والے کو نہ جھڑکئے

وَ اَمَّا السَّآئِلَ فَلَا تَنْهَرْؕ Open ayah 93:10 in the Quran reader

اور اپنے پروردگا رکے احسانات کا ذکر کیجئے۔

وَ اَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ۠ Open ayah 93:11 in the Quran reader

اور اپنے پروردگا رکے احسانات کا ذکر کیجئے۔

لغات القرآن۔ سجی۔ چھا گیا۔ ماقلی۔ نہ بیزار ہوا۔ سوف یعطی۔ بہت جلد عطا کرے گا۔ ترضی۔ تو خوش ہوجائے گا۔ اوی۔ ٹھکانا رہا۔ ضال۔ تلاش حق میں سرگرداں ۔ عائل ۔ مفلس و غریب۔ اغنی۔ مال دار کردیا۔ لا تقھر ۔ مت ڈانٹ۔ لا ینتھر۔ نہ جھڑک ۔ حدت ۔ بیان کر۔ تشریح : نبی کریم حضرت محمد ﷺ پر ابتداء میں پہلی وحی کے بعد تیس چالیس دن تک وحی کا سلسلہ بند رہا۔ پھر اس کے بعد لگاتار وحی کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ وحی بند ہونے کے زمانہ میں ایک طرف تو آپ پریشان تھے۔ ادھر کفار مکہ کی طنز آمیز باتوں اور طعنوں سے آپ بہت غمگکین رہتے تھے۔ وہ کہتے کہ اے محمد ﷺ ! کیا تمہارا رب تم سے ناراض ہوگیا اور وحی کا سلسلہ بند ہوگیا ؟ ابو لہب کی بیوی ام جمیل نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ معلوم ہوتا ہے تمہارے شیطان نے تمہیں چھوڑ دیا ہے (نعوذ باللہ) ۔ آپ کو تسلی دیتے ہوئے دن کی تیز روشنی اور چمک، رات کے اندھیرے اور تاریکی کی قسم کھا کر فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! آپ کے رب نے نہ تو آپ کو چھوڑ اور نہ وہ آپ سے بیزار ہوا۔ یعنی جس طرح دن کی روشنی کے بعد رات کا اندھیرا چھا جاتا ہے اور پھر اسی اندھیری رات سے ایک نئی صبح طلوع ہوتی ہے اسی طرح کچھ وت کے لئے وحی کا سلسلہ بند ہوجانے سے یہ کیوں سمجھ لیا گیا کہ اب کبھی روشنی نہ ہوگی۔ بلکہ وہ صبح ضرور ہوگی اور اس کی روشنی ہر طرف پھیل کر رہے گی۔ یہ تو اللہ کی مصلھت ہے کہ اس نے وحی کے سلسلہ کو وقتی طور پر روک لیا تاکہ اے نبی ﷺ آپ کے اندر وحی کے انوارات کو قبول کرنے کی مزید صلاحیت اور سہولت پیدا ہوجائے اور آپ آسانی سے وحی کے بوجھ کو برداشت کرسکیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آپ کے لئے ہر آنے والا دور سے اور موجودہ دنیا کے مقابلے میں آخرت زیادہ بہتر ہوگی۔ یہ مشکلات کے بادل بہت جلد چھٹ جائیں گے۔ پھر اس کے بعد آپ پر اللہ تعالیٰ کی عطا اور بخش اتنی زیادہ ہوگی کہ آپ اس سے خوش ہوجائیں گے۔ مزید تسلی دیتے ہوئے تین نعمتوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! آپ یتیم تھے کیا اسی اللہ نے آپ کو سہارا نہیں دیا ؟ آپ تلاش حق کی جستجو میں تھے کیا اسی نے آپ کی رہنمائی نہیں کی ؟ آپ نادار تھے کیا اسی نے آپ کو مال و دولت سے بےنیاز نہیں بنایا ؟ یہ ساری نعمتیں اسی کی دی ہوئی ہیں۔ ان نعمتوں پر شکر کا طریقہ یہ ہے کہ آپ بےماں باپ کے بچوں پر شفقت کیجئے سختی نہ کیجئے۔ اگر کوئی سوال کرنے والا ہو تو اس کو جھڑکنے کے بجائے نرمی اختیار کیجئے۔ اور آپ کے پروردگار نے آپ کو جن نعمتوں سے نوازا ہے اس کا ذکر اور شکر کرتے رہیے۔