وَوَجَدَكَ ضَآلًّا فَهَدٰی ۪۟وَوَجَدَكَ ضَآ لًّا فَهَدٰى
اور رستے سے ناواقف دیکھا تو رستہ دکھایا
— Fateh Muhammad Jalandhari
And He found you lost and guided [you],
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 18 of juz
وَوَجَدَكَ ضَآلًّا فَهَدٰی ۪۟وَوَجَدَكَ ضَآ لًّا فَهَدٰى
اور رستے سے ناواقف دیکھا تو رستہ دکھایا
— Fateh Muhammad Jalandhari
And He found you lost and guided [you],
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 18 of juz
Read the whole surah · Surah Ad-Dhuhaa
اور تمہیں ناواقف راہ پایا اور پھر ہدایت بخشی
اور رستے سے ناواقف دیکھا تو رستہ دکھایا
اور تجھے راه بھوﻻ پا کر ہدایت نہیں دی
اور تمہیں راستے سے ناواقف پایا تو راستہ دکھایا
اور تمہیں اپنی محبت میں خود رفتہ پایا تو اپنی طرف راہ دی
اور اس نے آپ کو اپنی محبت میں خود رفتہ و گم پایا تو اس نے مقصود تک پہنچا دیا۔ یا- اور اس نے آپ کو بھٹکی ہوئی قوم کے درمیان (رہنمائی فرمانے والا) پایا تو اس نے (انہیں آپ کے ذریعے) ہدایت دے دی۔٭، ٭ اِس ترجہ میں ضالاً کو فَھَدٰی کا مفعولِ مقدم قرار دیا گیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: التفسیر الکبیر، القرطبی، البحر المحیط، روح البیان، الشفاء اور شرح خفاجی)
اور اس نے تجھے راستے سے ناواقف پایا تو راستہ دکھا دیا۔
اور راہ سے بھولا ہوا پایا تو راہ دکھا دی
جویائے راہ پایا تو راہ نہ دکھائی !
اور پایا آپ کو ناواقف راہ پھر ہدایت بخشی
اور آپ کو بیخبر پایا سو راستہ بتادیا
اور آپ ﷺ کو تلاش حقیقت میں سرگرداں پایا تو ہدایت دی !
رستہ سے ناواقف دیکھا تو رستہ دکھایا۔
Did He not find you unaware of the Right Way, and then directed you to it?
And He found you unaware of the way (the Shari_ah ) , then He guided you.
And He found you unaware of the way (the Shari_ah ) , then He guided you.
And He found you unaware and guided you
Did He not find thee wandering and direct (thee)?
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
And He found you lost and guided [you],
Did He not find you wandering about and give you guidance?
And find you lost (that is, unrecognized by men) and guide (them to you)?
And He found thee wandering, so He guided thee,
And He found thee wandering, and He gave thee guidance.
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–11
مسند احمد میں ہے کہ حضور ﷺ بیمار ہوگئے اور ایک یا دو راتوں تک آپ تہجد کی نماز کے لیے نہ اٹھ سکے تو ایک عورت کہنے لگی کہ تجھے تیرے شیطان نے چھوڑ دیا اس پر یہ اگلی آیتیں نازل ہوئیں (بخاری مسلم وغیرہ) حضرت جندب فرماتے ہیں کہ جبرائیل کے آنے میں کچھ دیر ہوئی تو مشرکین کہنے لگے کہ یہ تو چھوڑ دئیے گئے تو اللہ تعالیٰ نے والضحٰی سے ماقلفی تک کی آیتیں اتاریں، اور روایت میں ہے کہ حضور ﷺ کی انگلی پر پتھر مارا گیا تھا جس سے خون نکلا اور جس پر آپ نے فرمایا : ھل انت الا اصبع دمیت وفی سبیل اللہ ما لقیت یعنی تو صرف ایک انگلی ہے اور راہ اللہ میں تجھے یہ زخم لگا ہے۔ طبعیت کچھ ناساز ہوجانے کی وجہ سے دو تین رات…
Read the full tafseer →سورة الضُّحٰی 7 اصل میں لفظ ضالاً استعمال ہوا ہے جو ضلالت سے ہے۔ عربی زبان میں یہ لفظ کئی معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ اس کے ایک معنی گمراہی کے ہیں۔ دوسرے معنی یہ ہیں کہ کوئی شخص راستہ نہ جانتا ہو اور ایک جگہ حیران کھڑا ہو کہ مختلف راستے جو سامنے ہیں ان میں سے کدھر جاؤں۔ ایک اور معنی کھوئے ہوئے کے ہیں، چناچہ عربی محاورے میں کہتے ہیں ضل الماء فی اللبن، پانی دودھ میں گم ہوگیا۔ اس درخت کو بھی عربی میں ضالہ کہتے ہیں جو صحرا میں اکیلا کھڑا ہو اور آس پاس کوئی دوسرا درخت نہ ہو۔ ضائع ہونے کے لیے بھی لفظ ضلال کا لفظ بولا جاتا ہے، مثلاً کوئی چیز ناموافق اور ناساز گار حالات میں ضائع ہو رہی ہو، غفلت کے لیے…
Read the full tafseer →دوسری نعمت ووجدک ضالافھدی لفظ ضال کے معنے گمراہ کے بھی آتے ہیں اور ناواقف بیخبر کے بھی، یہاں دوسرے ہی معنے مراد ہو سکتے ہیں کہ نبوت سے پہلے آپ شریعت الٰہیہ کے احکام اور علوم سے بیخبر تھے، آپ کو منصب نبوت پر فائز کر کے آپ کی رہنمائی فرمائی۔
Read the full tafseer →’وَوَجَدَکَ ضَآلّاً فَہَدٰی‘۔ یہ اس روحانی انعام کا بیان ہے جو آپ پر بعد کے دور میں ہوا۔ ایک جویائے راہ کی سرگردانیاں اور خدا کی دست گیری: معلوم ہے آپ کو جو رسوم و روایات خاندان کے بزرگوں سے وراثت میں ملیں ان پر آپ کی سلیم فطرت ایک لمحہ کے لیے بھی مطمئن نہ ہو سکی اور دوسری کوئی ایسی روشنی تھی نہیں جو آپ کے لیے سرمایۂ تسکین بن سکتی۔ آسمانی مذاہب کے پیرو جو آپ کے گرد و پیش تھے ان کا حال البقرہ، آل عمران اور دوسری مدنی سورتوں سے واضح ہو چکا ہے کہ ان کے عقائد و اعمال اس قدر مسخ ہو چکے تھے کہ کوئی جویائے حقیقت ان سے کوئی رہنمائی حاصل نہیں کر سکتا تھا۔ اس صورت حال نے آپ کو ایک شدید قسم کی ذہنی…
Read the full tafseer →7۔ 1 یعنی تجھے دین شریعت اور ایمان کا پتہ نہیں تھا، ہم نے تجھے راہ یاب کیا، نبوت سے نوازا اور کتاب نازل کی، ورنہ اس سے قبل تو ہدایت کے لئے سرگرداں تھا۔
Read the full tafseer →4: یعنی آپ وحی نازل ہونے سے پہلے شریعت کے احکام سے ناواقف تھے۔ اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے آپ کو شریعت عطا فرمائی۔ نیز بعض روایتوں میں کچھ ایسے واقعات بھی بیان ہوئے ہیں جن میں آپ کسی سفر کے دوران راستہ بھول گئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی طریقے پر آپ کو راستے پر لگا دیا۔ ہوسکتا ہے کہ اس آیت میں اس قسم کے کسی واقعے کی طرف بھی اشارہ ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
الم یجدک .................... فاغنی ذرا اپنے عملی حالات پر غور کرو ، ماضی قریب پر نگاہ ڈالو ، کیا تمہارا ماضی یہ بتاتا ہے کہ تمہارے رب نے تمہیں چھوڑ دیا ہے اور تم سے ناراض ہوگیا ہے ، یا کچھ اور بتاتا ہے ۔ آپ پر تو نبوت سے پہلے بھی رب کا فضل رہا ہے ، جب آپ یتیم تھے تو آپ کی نگرانی کون کررہا تھا ، جب آپ حیران تھے اور راستہ معلوم نہ تھا تو آپ کو کس نے راستہ بتلایا۔ پھر آپ نادار تھے ، آپ کو کس نے مالدار بنا دیا ........ آپ یتیم پیدا ہوئے تھے ، اللہ نے آپ کو پناہ دی ، لوگوں کے دل آپ پر مائل ہوگئے ، اور ابوطالب آپ پر مہربان ہوگئے حالانکہ انہوں نے آپ کے دین کو قبول نہ کیا تھا۔ آپ فقیر تھے۔ اللہ نے…
Read the full tafseer →11 جب حضور ﷺ جوان ہوئے، قوم کے مشرکانہ اطوار اور بیہودہ رسم و راہ سے سخت بیزار تھے اور قلب میں خدائے واحد کی عبادت کا جذبہ پورے زور کے ساتھ موجزن تھا۔ عشق الہٰی کی آگ سینہ مبارک میں بڑی تیزی سے بھڑک رہی تھی۔ وصول الی اللہ اور ہدایت خلق کی اس اکمل ترین استعداد کا چشمہ جو تمام عالم سے بڑھ کر نفس قدسی میں ودیعت کیا گیا تھا۔ اندرہی اندر جوش مارتا تھا، لیکن کوئی صاف کھلا ہوا راستہ اور مفصل راستہ اور مفصل دستور العمل بظاہر دکھائی نہ دیتا تھا جس سے اس عرش و کرسی سے زیادہ وسیع قلب کو تسکین ہوتی۔ اسی جوش طلب اور فرط محبت میں آپ ﷺ بےقرار اور سرگرداں پھرتے اور غاروں اور پہاڑوں میں جا کر مالک کو یاد کرتے…
Read the full tafseer →آیت 7{ وَوَجَدَکَ ضَآلًّا فَہَدٰی۔ } ”اور آپ ﷺ کو تلاش حقیقت میں سرگرداں پایا تو ہدایت دی !“ جب آپ ﷺ شعور کی پختگی کی عمر کو پہنچے اور آپ ﷺ نے کائنات کے حقائق کے بارے میں غوروفکر کرنا شروع کیا تو اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے آپ ﷺ کو راہنمائی فراہم کردی۔ 1
Read the full tafseer →6 آپ ﷺ بچپن ہی سے کفر و شرک سے بیزار تھے۔ جھوٹ، بددیانتی اور اخلاق رذیلہ سے آپ کو طبعاً نفرت تھی۔ آپ ﷺ اپنے مالک و خالق حقیقی کو ٹھیک طرح پہنچانتے تھے۔ لیکن آپ ﷺ کو یہ سمجھ نہیں آرہی تھی کہ گمراہی میں پڑے ہوئے معاشرہ کی اصلاح کیسے ممکن ہے ؟ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ جاہلیت کے اس تاریک دور میں پانچ چھ آدمی آپ ﷺ کے ہم خیال اور ہمنوا تھے جن میں سرفہرست سیدنا ابوبکر صدیق ؓ کا نام آتا ہے۔ یہ لوگ بھی شرک اور دوسری معاشرتی برائیوں سے سخت متنفر تھے۔ اور آپ ﷺ اس معاملہ میں سب سے زیادہ متفکر رہتے تھے۔ آپ ﷺ تن تنہا پہاڑوں کی غاروں میں چلے جاتے۔ وہاں جاکر مالک حقیقی سے لو لگاتے اور سوچتے رہتے کہ وہ کون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
5۔ (سو جو بندہ ماضی میں اتنے التفات واکرام کامورد رہ چکا ہے، اس کا مستقبل تو اور زیادہ روشن وشاندار ہوکررہتا ہے) (آیت) ” الم یجدک یتیما فاوی “۔ یعنی دنیا میں جب آپ لائے گئے، تو ہر طرح کیسی بےسروسامانی، اور اسباب ظاہری سے کس درجہ محرومی تھی، اس کے باوجود بھی اس نے کس کس طرح آپ ﷺ کو ہر طرح مطمئن کردیا، اور ہر طرح کا سامان اطمینان آپ ﷺ کے لئے بہم پہنچا دیا ! (آیت) ” ووجدک ضآلا فھدی “۔ آپ ﷺ ابتداء واصلا اصول وارکان شریعت سے بیگانہ محض تھے، پھر اسی نے تو آپ ﷺ کو دین و شریعت کا پور اپور علم دے دیا، (آیت) ” ضآلا “۔ ضال کے معنی حیران و سرگرداں کے ہیں، محمد رسول ﷺ دولت رسالت سے تو بعد کو مشرف ہوئے ہی،…
Read the full tafseer →ووجدک ضالاً فھدی لفظ ضال کے معنی گمراہ کے بھی آتے ہیں اور ناواقف وبے خبر کے بھی، یہاں دوسرے معنی مراد ہیں کہ نبوت سے پہلے آپ ﷺ شریعت الٰہیہ کے احکام اور علوم سے بیخبر تھے، اللہ نے آپ ﷺ کو منصب نبوت پر فائز فرما کر آپ ﷺ کی رہنمائی فرمائی۔
Read the full tafseer →ووجدک . اور اللہ نے تم کو پایا (یا جان لیا) اس کا عطف الم یدک کے معنی پر ہے کیونکہ الم یجدک (لفظاً منفی اور معنیً مثبت ہے اور اس) کا معنی بھی وجدک ہے۔ پس عطف خبر پر ہوگیا ‘ انشاء پر نہیں ہوا۔ ضالا . علامات نبوت اور احکام شریعت سے بیخبر اور ان تمام علوم سے لاعلم جن کو جاننے کا ذریعہ سوائے نقل کے (کسی طور پر عقل) نہیں۔ اسی مفہوم کی مثل آیت : ان کنت من قبلہٖ لمن الغٰفلین اور آیت : ما کنت تدری ما الکتٰب ولا الایمان کا مفہوم ہے۔ حسن ‘ ضحاک اور ابن کیسان نے یہی تفسیر کی ہے۔ ابو الضحیٰ کی روایت سے حضرت ابن عباس کا قول آیا ہے کہ (آیت کا مطلب اس طرح ہے) تم بچہ تھے ‘ چھوٹے تھے ‘ خوبصورت تھے مکہ کے…
Read the full tafseer →اور پھر اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو گمراہ لوگوں کے درمیان پایا پھر آپ کو نبوت عطا کی حضور ﷺ نے فرمایا بےشک، اور یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو نادار پایا تو حضرت خدیجہ کے مال سے آپ کو مال دار بنا دیا، یا یہ کہ جو آپ کو دیا اس سے آپ کو راضی کردیا، حضور ﷺ نے فرمایا بیشک
Read the full tafseer →(وو جدک ضالاً فھدی :) نبوت سے پہلے اللہ تعالیٰ نے ہر قسم کی برائی سے آپ کی حفاظت فرمئای ، حتی ٰکہ فرمایا :(فقد لیثت فیکم عمراً من قبلہ افلاً تعقلون) (یونس : 16)”(انہیں کہہ دو کہ) یقیناً میں نے نبوت سے پہلے ایک عمر تم میں گزاری ہے، کیا تم عقل نہیں کرتے ؟“ مگر اللہ تعالیٰ کی عبادت کا صحیح طریقہ کیا ہے ، یہ آپ کو معلوم نہ تھا، یہ اس وقت معلوم ہوا جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبوت عطا فرمائی، چناچہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :(وکذلک اوحینا الیک روحاً من امرنا ماکنت تدری ماالکتب ولا ایمان) (الشوری : 52)”اور اسی طرح ہم نے تیری طرف اپنے حکم سے ایک روح کی وحی کی ، تو نہیں جانتا تھا کہ کتاب کیا ہے اور نہ یہ کہ…
Read the full tafseer →ووجد ضالافھدی۔ یعنی تیرے بارے میں نبوت کا جو ارادہ کیا گیا اس سے تجھے غافل پایا پس تیری راہنمائی کی، یہاں ضلال غفلت کے معنی میں ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان لایضل وبی ولانیسی، یعنی میرا رب غافل نہیں اور نہ ہی وہ بھولتا ہے اور اپنے نبی کے حق میں ارشاد فرمایا، وان کنت من قبلہ لمن الغافلین (یوسف) اور آپ اس سے قبل غافلوں میں سے تھے۔ ایک قوم نے کہا، ضالا سے مراد آپ قرآن اور شرائع کو نہ جانتے تھے پس اللہ تعالیٰ نے آپ کو قران اور اسلام کے احکام کی طرف ہدایت دی، یہ ضحاک، شہر بن حوشب اور دوسرے علماء سے مروی ہے اللہ تعالیٰ کے فرمان، ماکنت تدری ما الکتاب ولایمان (شوری 52) کا یہی معنی ومفہوم ہے ایک قوم…
Read the full tafseer →37۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے آیت ووجدک ضالا فہدی کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بےراہ لوگوں کے درمیان پایا پھر میں تجھ کو ان کی بےراہی سے نکال لیا۔
Read the full tafseer →[وَوَجَدَكَ : اور اس نے پایا آپ ﷺ کو ][ ضَاۗلًّا : راہ تلاش کرنے والا ][ فَهَدٰى: تو اس نے رہنمائی کی (آپ ﷺ کی)] (آیت۔ 7) اس میں ضَالاًّ اسم الفاعل ہے۔ سورة الفاتحہ میں اس کی جمع ضَالِیْنَ آئی ہے۔ وہاں اس کا ترجمہ گمراہ کیا جاتا ہے۔ جبکہ یہاں اس کا ترجمہ راستہ تلاش کرنے والا کیا جاتا ہے۔ اس کی وضاحت کے لیے استادِ محترم پروفیسر حافظ احمد یار صاحب مرحوم نے فرمایا کہ انھوں نے متعدد ڈکشنریاں اور کتب دیکھیں تو اس لفظ کے کوئی بارہ مختلف مفاہیم میں استعمال سامنے آئے۔ اور قرآن مجید میں بھی یہ متعدد مفاہیم میں آیا ہے۔ پھر انھوں نے تلاش کیا کہ اس لفظ کا وہ بنیادی معنی کیا ہے جس سے یہ تمام مفاہیم نکلتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
﴿وَ لَسَوْفَ يُعْطِيْكَ رَبُّكَ فَتَرْضٰىؕ005﴾ (اور عنقریب اللہ تعالیٰ آپ کو دے گا سو آپ خوش ہوجائیں گے) ۔ یعنی دنیا والی زندگی میں جو کچھ مال کی کمی ہے اس کا خیال نہ فرمائیں آخرت میں اللہ تعالیٰ آپ کو اتنا دے گا کہ آپ راضی ہوجائیں گے کسی چیز کی کوئی کمی محسوس نہ کریں گے۔ عموم الفاظ میں دنیاوی اموال کی کمی کی طرف اشارہ ہے۔ مخالفین جو آپ کو یہ دیکھ کر آپ کے پاس دولت نہیں ہے نامناسب کلمات کہنے کی جرات کرتے ہیں یہ کوئی قابل توجہ چیز نہیں ہے درحقیقت اللہ تعالیٰ کی عطا اور بخشش کا پوری طرح آخرت ہی میں مظاہرہ ہوگا۔ رسول اللہ ﷺ کو مقام محمود عطا کیا جائے گا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمتوں کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
انعامات خاصہ : برذات اقدس نبی کریم علیہ الصلوۃ والتسلیم وامر باواء شکر : قال اللہ تعالیٰ (آیت) ” والضحی والیل اذا سجی ......... الی ......... واما بنعمۃ ربک فحدث “۔ (ربط) گزشتہ چند سورتوں میں آنحضرت ﷺ کی نبوت و رسالت کو ثابت کیا گیا تھا اور ایمان کا دارومدار آخرت پر ایمان یقین کی شکل میں ہے تو اس کے دلائل بھی ذکر فرما دیئے گئے اب اس سورت میں ان خصوصی انعامات کا ذکر ہے جن سے آنحضرت ﷺ کی ذات اقدس کو سرفراز فرمایا گیا اور ان انعامات کے ضمن میں آپ کی رسالت کے دلائل بھی ذکر کردئیے گئے اور جن خاص کمالات اور اخلاق حسنہ سے پیغمبر کی ذات متصف ہونی چاہئے، ان کو بھی بیان کردیا گیا، ارشاد ہے۔ قسم ہے دھوپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
4:۔ ” الم یجدک “ آپ کے ابتدائی حالات یاد دلا کر اور تین انعامات ذکر کر کے تسلی کے لیے شواہد بیان فرما دئیے ہر لاحق انعام سابق کے بعد ہوا ہے۔ استفہام تقریری ہے۔ آپ یتیم رہ گئے تو اللہ تعالیٰ نے دوسروں کے ذریعے سے آپ کی پرورش کرائی۔ جب آپ جوان ہوئے تو دین کا راستہ نہیں جانتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے آپ پر قرآن نازل کر کے آپ کو شریعت سکھائی اور راستہ بتایا۔ پھر آپ فقیر اور تنگدست تھے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو غنی کردیا۔ مکہ میں حضرت خدیجہ ؓ کے مال سے یا مدینہ میں غنائم وانفال سے، ای فاغناک بخدیجۃ ؓ ، وقیل اغناک بما فتح لک من الفتوح وافاءہ علیک من اموال الکفار (قرطبی ج 20 ص 99، 100) ۔ مگر دوسری توجیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–11
گزشتہ سے پیوستہ ابتدائے سورة میں اللہ تعالیٰ نے یہ بات سمجھائی کہ چند دن کے لئے وحی کے منقطع ہونے پر مشرکین جو اعتراضات کرتے ہیں ، وہ درست نہیں ہیں۔ اس میں بھی اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے اس مقام پر دن اور رات کی قسم کھا کر آپ کو تسلی دی گئی ہے کہ آپ کا پروردگار مکمل طور پر آپ کے ساتھ ہے۔ نہ اس نے آپ کو چھوڑا ہے اور نہ اس نے آپ سے نفرت کا اظہار فرمایا ہے۔ یہاں پر دھوپ کے روشن ہونے سے مراد وحی الٰہی کا نزول ہے جس طرح چاشت کے وقت دن خوب روشن ہوتا ہے اور ہر چیز واضح ہوتی ہے۔ اسی طرح وحی الٰہی کے نزول پر حقائق کا انکشاف ہوتا ہے۔ وحی الٰہی کا منقطع ہونا بھی ترق کی علامت ہے اور اس کا منشاء یہ ہے کہ آپ…
Read the full tafseer →وَوَجَدَكَ ضَاۗلًّا فَہَدٰى 7 ۠ وجد الوجود أضرب : وجود بإحدی الحواسّ الخمس . نحو : وَجَدْتُ زيدا، ووَجَدْتُ طعمه . ووجدت صوته، ووجدت خشونته . ووجود بقوّة الشّهوة نحو : وَجَدْتُ الشّبع . ووجود بقوّة الغضب کو جود الحزن والسّخط . ووجود بالعقل، أو بواسطة العقل کمعرفة اللہ تعالی، ومعرفة النّبوّة، وما ينسب إلى اللہ تعالیٰ من الوجود فبمعنی العلم المجرّد، إذ کان اللہ منزّها عن الوصف بالجوارح والآلات . نحو : وَما وَجَدْنا لِأَكْثَرِهِمْ مِنْ عَهْدٍ وَإِنْ وَجَدْنا أَكْثَرَهُمْ لَفاسِقِينَ [ الأعراف/ 102] . ( و ج د ) الو جود ( ض) کے معنی کسی چیز کو پالینا کے ہیں اور یہ کئی طرح پر استعمال ہوتا ہے حواس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–11
ترکیب ¦ الم یجدک ھذا شروع فیما انعم اللہ علیہ والہمزۃ لانکار النفی وتقریر المنفی فکانہ قال قدو جدک یتیما والوجود بمعنی العلم۔ فآ وٰی قرء الجمھور بالالف بعد الھمزۃ رباعیا من آواہ یویہ وقریٔ ثلاثیا وھوا ما بمعنی الرباعی اوھو من آوی لہ اذا رحمہ ووجدک ضا لا فہدی معطوف علی المضارع المنفی وقیل علی ما یقتضیہ الکلام السابق والضلال ھھنا بمعنی الغفلۃ کما قال الزجاج ونظیرہ قولہ تعالیٰ ولا یضل ربی ولا ینسیٰ وقولہ تعالیٰ ان تضل احدا ھما فتذکر احدا ھما الاخرٰی وقیل من الطلب والمحبتہ کقولہ تعالیٰ انک لفی ضلالک القدیم ووجدک عائلا الخ معطوف علی الکلام السابق یقال عال الرجل یعیل عیلۃ اذا افتقرا ما الیتیم منصوب…
Read the full tafseer →وَوَجَدَکَ ضَآلاًّ فَھَدٰی۔ (الضحیٰ : 7) (اور آپ کو بیخبر پایا اور پھر ہدایت بخشی۔ ) گزشتہ مضمون کی وضاحت اور ضَآلْ کا مفہوم ضَآلاًّ … ضلالت سے اسم فاعل ہے۔ عام طور پر ضلالت کا جو مفہوم سمجھا جاتا ہے وہ ہے راہ راست سے بھٹک جانا، گمراہ ہوجانا، عقیدہ و عمل میں غلط راستہ اختیار کرنا، لیکن قرآن و سنت اور تاریخ و سیرت سے آنحضرت ﷺ کے جو حالات ثقہ ذرائع سے ہم تک پہنچے ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے عقیدہ و عمل میں ضلالت کا شائبہ تک نہ تھا۔ آپ اعلانِ نبوت سے پہلے بھی عقیدہ و عمل کی ہر کجی سے پاک تھے۔ آپ کبھی بت پرستی، شرک یا دہریت میں مبتلا نہیں ہوئے۔ زمانہ ٔ جاہلیت کی لغویات سے آپ کا دامن ہمیشہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
فہم القرآن ربط کلام : چوتھی اور پانچویں آیت میں نبی ﷺ کو یہ خوشخبری دی گئی کہ آپ کا مستقبل آپ کے ماضی اور حال سے بہت ہی اعلیٰ اور بہترین ہوگا۔ اس کے لیے آپ کے ماضی کے تین حوالے دیئے گئے ہیں۔ آپ ﷺ یتیم تھے ” اللہ “ نے آپ کو بہترین ٹھکانہ دیا۔ آپ ﷺ ہدایت کے بارے میں بیخبر تھے اس نے آپ کی راہنمائی فرمائی اور آپ کو پوری دنیا کا راہنما بنا دیا آپ ﷺ غریب تھے اس نے آپ کو غنی فرما دیا۔ اس انسان کی بےبسی اور لاچارگی کی انتہا ہوتی ہے جو پیدائش کے وقت یتیم ہونے کے ساتھ انتہائی غریب ہو اور اس کی راہنمائی کرنے والا بھی کوئی نہ ہو، ایسے بچے کا معاشرے میں اعلیٰ مقام پانا تو درکنار وہ در در کی ٹھوکریں کھانے…
Read the full tafseer →7 : وَوَجَدَکَ ضَآلًّا فَھَدٰی (اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو بیخبر پایا پس رستہ بتلایا) آپ کو معالم نبوت کی خبر نہ تھی۔ اور احکام شریعت نہ جانتے تھے۔ اور یہ کہ فرمانبرداری کا کیا طریقہ ہے۔ طریقہ فرمانبرداری سکھایا : فھدیؔ : پس اس نے احکامات سکھا دیئے اور قرآن کا علم دے دیا۔ ایک قول : جب ابو طالب کے ساتھ شام کا سفر کیا تو راستہ میں آپ راستہ بھول گئے آپ کو قافلہ کی طرف واپس کردیا۔ تنبیہ : اس سے عدول عن الحق کا مفہوم لینا جائز نہیں اور گمراہی میں پڑنا مراد لینا درست نہیں۔ آپ ﷺ ابتدائی حالت سے نزول وحی تک عبادت اوثان سے معصوم تھے۔ اسی طرح اہل فسق و گناہ کی گندگیوں سے محفوظ ومامون تھے۔
Read the full tafseer →7 ۔” ووجدک ضالافھدی “ یعنی راہ کا متلاشی جس پر آپ تھے۔ پس آپ (علیہ السلام) و توحید اور نبوت کے لئے ہدایت دی ۔ حسن اور ضحاک اور ابن کیسان رحمہم اللہ فرماتے ہیں ” ووجدک ضالا “ نبوت کی علامات سے اور شریعت کے احکام سے غافل۔ پس آپ (علیہ السلام) کو ان کی طرف ہدایت دی۔ جیسا کہ فرمایا ” وان کنت من قبلہ لمن الغافلین “ اور فرمایا ” ماکنت تدری ماالکتاب ولاالایمان “ اور کہا گیا ہے مکہ کی وادیوں میں بھٹکتا ہوا تو آپ (علیہ السلام) کی آپ کے دادا عبدالمطلب کی طرف رہنمائی کی۔ ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ بچپن میں مکہ کی وادیوں میں گم ہوگئے تو آپ (علیہ السلام) کو ابوجہل نے دیکھاوہ اپنی بکریوں کے ساتھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
1۔ 11۔ اگرچہ مفسروں نے اس سورة کی شان نزول میں طرح طرح کی باتیں لکھی ہیں سب سے زیادہ صحیح شان نزول وہی ہے جس کا ذکر صحیحین 1 ؎ کی جندب ؓ کی روایت میں ہے کہ حضرت ﷺ ہجرت سے پہلے مکہ میں کچھ بیمار ہوگئے تھے اس بیماری کے سبب سے دو تین راتوں تک آپ تہجد کی نماز کو نہیں اٹھے یہ دیکھ کر ام جمیل ابو لہب کی بی بی نے کہا محمد کے رب نے محمد کو چھوڑ دیا۔ اس لئے انہوں نے رات کو اٹھنا بند کردیا۔ ام جمیل کی اس بات سے آنحضرت ﷺ کو رنج ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کے رنج رفع ہوجانے کی غرض سے یہ سورة نازل فرمائی اور فرمایا کہ اے نبی اللہ کے ‘ نہ اللہ نے تم کو چھوڑ دیا ہے نہ وہ تم سے کچھ خفا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →(وَوَجَدَكَ ضَاۗلًّا فَهَدٰى) یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس حال میں پایا کہ آپ نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا ہے اور ایمان کیا ہے پس اس نے آپ کو وہ علم عطا کیا جو آپ نہیں جانتے تھے اور آپ کو بہترین اعمال اور بہترین اخلاق کی توفیق بخشی۔
Read the full tafseer →7 ۔ نعمت ہدایت سے سرفرازی کا ذکرو بیان : سو حق تعالیٰ شانہ کی طرف سے نعمت حق و ہدایت سے سرفرازی کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا اور کیا یہ امر واقع نہیں کہ اس نے آپ کو ناواقف راہ پایا پھر ہدایت بخشی، یعنی طبعی اور فطری طور پر راہ حق پر ہونے کے باوجود آپ حق اور اس کے اصول و احکام سے ناواقف تھے، اور آپ کو نہیں پتہ تھا کہ کتاب کیا ہوتی ہے، اور ایمان کی تفصیلات کیا ہیں ؟ تو آپ کو نبوت و رسالت سے سرفراز فرما کر ایمان و ہدایت کی دولت اور دارین کی فوز و فلاح سے متعلق ان علوم و معارف سے نوازا کہ قیامت تک کی ساری دنیا ان سے ہمیشہ مستفید و فیضیاب ہوتی رہے گی، ارشاد ہوتا ہے کہ مَا كُنْتَ تَدْرِيْ مَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
اللہ کی رحمتیں اور نبی پاک ﷺ تشریح : بڑی خوبصورت سورت پاک ہے۔ اللہ کی رحمتوں برکتوں ' فضیلتوں ' لطف وکرم اور قدرت و عظمت کا بیان بڑے خوبصورت انداز میں کیا گیا ہے۔ اور اس خاص محبت کا ذکر جو اللہ جل شانہ کو اپنے پیارے رسول ﷺ سے ہے بڑے محبت بھرے انداز میں کی گئی ہے۔ وحی کے رک جانے سے جو آپ ﷺ پریشان ہوئے تو حق تعالیٰ نے آفتاب کی روشنی اور رات کے گھپ اندھیرے کی قسم کھا کر یقین دلایا کہ آپ ﷺ پریشان نہ ہوں جس طرح دن رات کا نظام انسان کے کام اور آرام کا ذریعہ ہے اسی طرح آپ ﷺ کی وحی کے اترنے کا وقفہ محض آپ ﷺ کو اعصابی آرام دینے کے لیے دیا گیا ہے تاکہ آپ ﷺ پر وحی کی وجہ سے جو مشقت پڑتی ہے وہ وقفہ وقفہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
سورة الضحی۔ آیات 1 تا 11۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے دن کی روشنی کی اور رات کی جب وہ چھاجاتی ہے یعنی دن کی روشنی اور رات کی تاریکی گواہ ہیں کہ دن کے بعد رات بھی آسکتی ہے پھر خود رات گواہ ہے کہ جب مکمل ہوچکتی ہے تو تاریکی کم ہونے لگتی ہے اور پھر دن آجاتا ہے۔ قبض وبسط۔ یہی حال کیفیات قلب کا بھی ہے کہ کبی واردات بہت تیزا ورروشن ہوتی ہیں یعنی بسط ہوتا ہے اور کبھی قبض کی کیفیت وارد ہوتی ہے اور قبض سے یہ نہیں سمجھاجاسکتا کہ پھر بسط نہ ہوگا چند روز نزول وحی نہ ہواتوکفار نے طعنہ دیا کہ رب نے انہیں چھوڑ دیا ہے تو رب کریم نے جو اباارشاد فرمایا کہ آپ کے پروردگار نے نہ تو آپ کو چھوڑا ہے اور نہ وہ آپ سے خفا ہے…
Read the full tafseer →ف 3 یعنی آپ حق کی تلاش میں سرگردان اور نبوت وغیرہ حقائق سے قطعی غافل تھے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو راہ حق کی توفیق دی۔ نبوت جیسی نعمت سے نوازا اور آپ پر اپنی کتاب اتاری۔ (کذا فی للرضح)
Read the full tafseer →(93:7) ووجدک ضالا فھدی۔ اس جملہ کا عطف جملہ سابقہ پر ہے۔ ضالا ۔ ضلال (باب ضرب) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر ۔ ناواقف ۔ بیخبر ۔ حیران۔ ضل یضل گمراہ ہوا۔ بہکا۔ بھٹکا۔ دور جا پڑا۔ کھوگیا۔ ضائع ہوگیا۔ ہلاک ہوگیا۔ ترجمہ ہوگا :۔ اور آپ کو راستہ سے ناواقف پایا تو سیدھا راستہ دکھا دیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
لغات القرآن۔ سجی۔ چھا گیا۔ ماقلی۔ نہ بیزار ہوا۔ سوف یعطی۔ بہت جلد عطا کرے گا۔ ترضی۔ تو خوش ہوجائے گا۔ اوی۔ ٹھکانا رہا۔ ضال۔ تلاش حق میں سرگرداں ۔ عائل ۔ مفلس و غریب۔ اغنی۔ مال دار کردیا۔ لا تقھر ۔ مت ڈانٹ۔ لا ینتھر۔ نہ جھڑک ۔ حدت ۔ بیان کر۔ تشریح : نبی کریم حضرت محمد ﷺ پر ابتداء میں پہلی وحی کے بعد تیس چالیس دن تک وحی کا سلسلہ بند رہا۔ پھر اس کے بعد لگاتار وحی کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ وحی بند ہونے کے زمانہ میں ایک طرف تو آپ پریشان تھے۔ ادھر کفار مکہ کی طنز آمیز باتوں اور طعنوں سے آپ بہت غمگکین رہتے تھے۔ وہ کہتے کہ اے محمد ﷺ ! کیا تمہارا رب تم سے ناراض ہوگیا اور وحی کا سلسلہ بند ہوگیا ؟ ابو لہب کی…
Read the full tafseer →(ف 1) آنحضرت ﷺ ابھی والدہ ماجدہ کے بطن میں تھے کہ حمل دو ماہ کا تھا کہ آپ کے والد صاحب نے مدینہ شرفی میں وفات پائی اور نہ کچھ مال چھوڑا اور نہ کوئی جگہ چھوڑی، آپ کی خدمت کے متکفل آپ کے دادا عبدالمطلب ہوئے جب آپ کی عمر چار یاچھ سال کی ہوئی تو والدہ صاحبہ نے بھی وفات پائی ، جب عمر شریف آٹھ سال کی ہوئی تو آپ کے دادا عبدالمطلب نے بھی وفات پائی انہوں نے اپنی وفات سے پہلے اپنے فرزند ابوطالب کو جو آپ کے حقیقی چچا تھے آپ کی خدمت ونگرانی کی وصیت کی ابوطالب آپ کی خدمت میں سرگرم رہے یہاں تک کہ اللہ نے نبوت سے سرفراز فرمایا، اس آیت کی تفسیر میں مفسرین نے ایک معنی یہ بیان کیے ہیں کہ یتیم بمعنی یکتا و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–11
[3] یعنی آنے والے حالات آپ کے لئے گزشتہ حالات سے بہتر و برتر ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–8
ف 2: ان آیتوں میں یہ بتایا ہے کہ آپ دیکھ لیجئے ۔ ابتداہی سے اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی تربیت کا خاص خیال رکھا ہے ۔ آپ یتیم پیدا ہوئے تو دادا نے آغوش شفقت میں لے لیا ۔ دادا نے آنکھیں بند کیں تو جوانی تک آپ ﷺ کے چچا ابوطالب ساتھ رہے اور انتہائی محبت کے ساتھ آپ کی مدد کی ۔ جب آپ ﷺ کو ایک عظیم خدمت کے لئے منتخب فرمایا ہے تو کیا آپ ﷺ سے بےاعتنائی اور بےتوجہی کا سلوک رکھا جائیگا پھر سب سے بڑی روحانی اعانت جو فرمائی ، وہ یہ تھی کہ روح کے شوق اور جستجو نے حق کی پیاس کی تسکین کا سامان بہم پہنچایا اور آپ کو ایک مکمل دستورالعمل مرحمت فرمایا جو سارے عالم انسانی کے کے لئے باعث صدبرکت وسعادت ہے ۔ مالی طور پر…
Read the full tafseer →(7) اور اللہ تعالیٰ نے معالم نبوت اور احکام شریعت سے بیخبر اور ناواقف پایا پھر آپ کو راہ دکھائی یعنی مطلوب تک پہنچا دیا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جب حضرت جوان ہوگے قوم کی راہ ورسم سے بیزار تھے ان کے پاس کوئی راہ ورسم نہ تھی اللہ نے دین حق نازل کیا۔ خلاصہ : یہ کہ قوم کی راہ ورسم مشرکانہ سے سخت بیزار تھے اور بت پرستی سے بہت ناخوش تھے اس بنا پر سخت حیران و سرگرداں رہتے تھے سورة شوریٰ کے آخر میں گزر چکا ہے ماکنت تدری ماالکتاب ولاالایمان نہ نبوت سے واقف نہ کتاب سے واقف یعنی نہ شریعت وایمان کی تفصیل سے واقف مگر راہ کی تلاش میں بےچین و حیران آخر یکسوئی حاصل کرنے کی غرض سے غار حرا میں جانا شروع…
Read the full tafseer →ف 3۔ کقولہ تعالیٰ ما کنت تدری ما الکتاب ولا الایمان اور وحی سے پہلے شریعت کی تفصیل معلوم نہ ہونا کوئی منقصت نہیں۔
Read the full tafseer →اس نے آپ ﷺ کو متلاشی پایا تو منزل مقصود تک پہنچا دیا 7 ؎ (ضالاً ) ناواقف ۔ حیران ۔ بیخبر ۔ ضلال سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر ۔ ضال ۔ ضال ۔ ضالا ۔ ضلال کے متعلق اہل لغت نے جو تحقیق کی ہے وہ اس طرح ہے کہ : ضلال گمراہی ۔ بھٹکنا۔ راہ سے دور جا پڑنا ۔ کھو جانا ۔ ضائع ہوجانا ۔ گم ہوجانا ۔ ہلاک ہوجانا ۔ علامہ جمال قرشی لکھتے ہیں کہ : ” ضلال بالفتح ضائع ہونا ۔ گم ہونا اور مغلوب ہونا ۔ کہا جاتا ہے ضل الماء فی اللبن یعنی پانی اتنا مغلوب ہوا کہ دودھ میں اس کا اثر ظاہر نہیں ہوتا اور اسی سے اللہ رب ذوالجلال والاکرام کا ارشاد ہے یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کی زبانی کہ : ( ان ابا نالفی ضلال مبین) (12 :…
Read the full tafseer →Favour [ 2] وَوَجَدَكَ ضَالًّا فَهَدَىٰ (And He found you unaware of the way [ the Shari` ah ], then He guided you....93:7). The word dall has two meanings: [ 1] stray; and [ 2] unaware. Here it stands for the second meaning. The verse signifies that before Muhammad k was commissioned as the Prophet ﷺ ، he was unaware of Divine Shari'ah. He was granted the status of the Prophet ﷺ and thus was guided.
Read the full tafseer →7 The word daallan as used in the original is derived from dalalat, which has several meanings in Arabic. Its one meaning is to be lost in error and deviation; another, to be unaware of the way and to be bewildered at the crossroads as to which way one should choose; still another meaning is of being lost and astray. The tree also is daallah which stands alone and lonely in the desert; the word dalal is also used for a thing which is wasting in unfavourable and uncongenial condition and climate, and also for heedlessness, of which there is an example in the Qur'an itself: La yadillu Rabbi wa…
Read the full tafseer →