93. Surah Ad-Dhuhaa

الضحىThe Morning Hours · 11 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayahs 93:1–3

وَ الضُّحٰىۙ Open ayah 93:1 in the Quran reader

قسم دن کی روشنی کی

وَ الَّیْلِ اِذَا سَجٰىۙ Open ayah 93:2 in the Quran reader

اور رات کی جب کہ وہ قرار پکڑے

مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَ مَا قَلٰىؕ Open ayah 93:3 in the Quran reader

آپ کے پروردگار نے نہ آپ کو چھوڑا اور نہ دشمنی کی

اوپر سورة الضحیٰ کا ترجمہ لکھا گیا ہے یہ سورة مکہ معظمہ میں نازل ہوئی اس کے سبب نزول کے بارے میں معالم التنزیل میں ایک تو یہ لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بیماری کی وجہ سے دو تین رات نماز نہیں پڑھی یعنی نماز تہجد ناغہ ہوگیا، ایک عورت (فتح الباری میں ہے کہ یہ بات ابو لہب کی بیوی ام جمیل نے کہی تھی) نے کہا کہ بس جی سمجھ میں آگیا کہ جو شیطان ان کے پاس آتا تھا اس نے ان کو چھوڑ دیا، دو تین رات سے قریب نہیں آیا اور ایک بات یہ لکھی ہے کہ یہودیوں نے رسول اللہ ﷺ سے ذوالقرنین، اصحاب کہف اور روح کے بارے میں دریافت کیا تھا۔ آپ نے فرمایا کہ کل کو بتاؤں گا انشاء اللہ کہنا رہ گیا تھا لہٰذا چند دن تک وحی نازل نہیں ہوئی اس پر مشرکین نے کہا کہ محمد کو ان کے رب نے چھوڑ دیا اور اس سے بغض کرلیا، اس پر یہ سورت نازل ہوئی اللہ تعالیٰ نے دن کی قسم کھائی اور رات کی قسم کھائی اور قسم کھا کر فرمایا ﴿ مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَ مَا قَلٰىؕ003﴾ (آپ کے رب نے آپ کو نہ چھوڑا ہے اور نہ دشمنی کی) ۔ رات اور دن کی قسم کھائی ہے مقسم بہ سے اس کی مناسبت بیان فرماتے ہوئے صاحب بیان القرآن لکھتے ہیں کہ وحی کا تتابع اور ابطاء مشابہ لیل و نہار کے تبدل کے ہے اور دونوں متضمن حکمت کو ہیں پس جیسا ایک تبدل دلیل تو دیع و عداوت کی نہیں اسی طرح دوسرا تبدل بھی۔ اور دوسری بشارات مکمل ہیں اسی عدم کو تودیع کی پس مقسم بہ کو بواسطہ اس کے سبب سے مناسبت ہوئی۔
Ayah 93:4

وَ لَلْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لَّكَ مِنَ الْاُوْلٰىؕ Open ayah 93:4 in the Quran reader

اور آخرت آپ کے لیے دنیا سے بدرجہ ہا بہتر ہے

﴿وَ لَلْاٰخِرَةُ خَيْرٌ لَّكَ مِنَ الْاُوْلٰى ؕ004﴾ (اور آخرت آپ کے لیے دنیا سے بدرجہ ہا بہتر ہے) ۔ اس میں آپ کو مزید تسلی دی اور بتادیا کہ دشمنوں کی باتوں سے دلگیر نہ ہوں۔ دنیا والوں کی باتیں اعراض اور اعتراض سب کچھ یہیں رہ جائے گا۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جو کچھ آخرت میں عطا فرمائے گا بہت زیادہ ہوگا، دائمی ہوگا، اس دنیا سے بہت ہی زیادہ ہوگا۔
Ayahs 93:5–7

وَ لَسَوْفَ یُعْطِیْكَ رَبُّكَ فَتَرْضٰىؕ Open ayah 93:5 in the Quran reader

اور عنقریب اللہ تعالیٰ آپ کو دے گا سو آپ خوش ہوجائیں گے

اَلَمْ یَجِدْكَ یَتِیْمًا فَاٰوٰى۪ Open ayah 93:6 in the Quran reader

کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو یتیم نہیں پایا پھر ٹھکانا دیا

وَ وَجَدَكَ ضَآلًّا فَهَدٰى۪ Open ayah 93:7 in the Quran reader

اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو بیخبر پایا سو راستہ بتلایا

﴿وَ لَسَوْفَ يُعْطِيْكَ رَبُّكَ فَتَرْضٰىؕ005﴾ (اور عنقریب اللہ تعالیٰ آپ کو دے گا سو آپ خوش ہوجائیں گے) ۔ یعنی دنیا والی زندگی میں جو کچھ مال کی کمی ہے اس کا خیال نہ فرمائیں آخرت میں اللہ تعالیٰ آپ کو اتنا دے گا کہ آپ راضی ہوجائیں گے کسی چیز کی کوئی کمی محسوس نہ کریں گے۔ عموم الفاظ میں دنیاوی اموال کی کمی کی طرف اشارہ ہے۔ مخالفین جو آپ کو یہ دیکھ کر آپ کے پاس دولت نہیں ہے نامناسب کلمات کہنے کی جرات کرتے ہیں یہ کوئی قابل توجہ چیز نہیں ہے درحقیقت اللہ تعالیٰ کی عطا اور بخشش کا پوری طرح آخرت ہی میں مظاہرہ ہوگا۔ رسول اللہ ﷺ کو مقام محمود عطا کیا جائے گا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمتوں کا تذکرہ فرمایا جو دنیا میں آپ کو دی تھیں۔ رسول اللہ ﷺ ابھی بطن مادر ہی میں تھے کہ آپ کے والد کی وفات ہوگئی (اور ایک قول یہ ہے کہ آپ کی پیدائش کے بعد ان کی وفات ہوئی) ۔ آپ یتیم تو تھے ہی جب پانچ سال کی عمر ہوئی آپ کی و الدہ بھی وفات پا گئیں اور وہ بھی مقام ابواء میں جو جنگل بیابان تھا وہاں سے آپ کی باندی ام ایمن ؓ مکہ معظمہ لے گئیں۔ آپ کے دادا عبدالمطلب نے آپ کی پرورش کی پھر چند سال بعد ان کی بھی وفات ہوگئی تو آپ کے چچا ابو طالب نے آپ کی کفالت کی ذمہ داری لی اور بڑی محبت اور شفقت کے ساتھ پرورش کی، اسی کو فرمایا : ﴿اَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيْمًا فَاٰوٰى006﴾ (کیا یہ بات نہیں ہے کہ اللہ نے آپ کو یتیم پایا پھر ٹھکانہ دیا) ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی حفاظت فرمائی۔ شفقت کے ساتھ پرورش کرائی۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کا کرم اور انعام ہے۔ ﴿ وَ وَجَدَكَ ضَآلًّا فَهَدٰى ۪007﴾ (اور اللہ نے آپ کو بیخبر پایا سو راستہ بتادیا) ۔ اس میں دوسرا انعام بیان فرمایا اور وہ یہ کہ آپ امی تھے پڑھے لکھے نہیں تھے۔ جن لوگوں نے آپ کی کفالت کی ان کو بھی خیال نہ آیا کہ آپ کو کچھ پڑھائیں باہر کے لوگوں سے بھی کوئی میل جول نہ تھا جو کچھ علم حاصل کرلیتے اور خاص کر دینی علوم و معارف اور احکام و مسائل کے جاننے کا تو کوئی طریقہ تھا ہی نہیں، جیسا کہ سورة الشوریٰ میں فرمایا ہے : ﴿مَا كُنْتَ تَدْرِيْ مَا الْكِتٰبُ وَ لَا الْاِيْمَانُ وَ لٰكِنْ جَعَلْنٰهُ نُوْرًا نَّهْدِيْ بِهٖ مَنْ نَّشَآءُ مِنْ عِبَادِنَا 1ؕ﴾ اللہ تعالیٰ نے کرم فرمایا آپ کو نبوت اور رسالت سے نوازا، کامل اور جامع شریعت عطا فرمائی، اپنی معرفت بھی عطاء کی، ملائكہ سے متعلق علوم بھی دیئے۔ حضرت گزشتہ انبیاء کرام (علیہ السلام) اور ان کی امتوں کے احوال بھی بتائے، آخرت کی تفصیلات سے بھی آگاہ فرمایا، اصحاب جنت اور اصحاب جہنم کے احوال سے بھی باخبر فرمایا اور وہ علوم نصیب فرمائے جو کسی کو نہیں دیئے۔ سورة النساء میں فرمایا ﴿ وَ عَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ 1ؕ وَ كَانَ فَضْلُ اللّٰهِ عَلَيْكَ عَظِيْمًا 00113﴾ (اور اللہ نے آپ کو وہ سکھایا جو آپ نہیں جانتے تھے اور آپ پر اللہ کا بہت بڑا فضل ہے) ۔ سورة ٴ بنی اسرائیل میں فرمایا : ﴿ اِنَّ فَضْلَهٗ كَانَ عَلَيْكَ كَبِيْرًا 0087﴾ (بلاشبہ اللہ کا فضل آپ پر بہت بڑا ہے) ۔ (1) قال القرطبی ای غافلاً عما یراد بک من امر النبوة فھداک ای ارشدک والضلال ھنا بمعنی الغفلة کقولہٖ جل ثناءہ لا یضل ربی ولا ینسی ای لا یغفل وقال فی حق نبیہٖ وان کنت من قبلہ لمن الغفلین وقال قوم ضالاً لم تکن تدری القران والشرائع فھداک اللہ الی القرآن، وشرائع الاسلام) ۔
Ayah 93:8

وَ وَجَدَكَ عَآئِلًا فَاَغْنٰىؕ Open ayah 93:8 in the Quran reader

اور اللہ نے آپ کو نادار پایا سو مالدار بنا دیا

پھر فرمایا ﴿ وَ وَجَدَكَ عَآىِٕلًا فَاَغْنٰىؕ008﴾ (اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو بےمال پایا سو آپ کو غنی کردیا) ۔ آپ کی کفالت آپ کے چچا ابو طالب کرتے رہے لیکن وہ مالدار آدمی نہیں تھے انہیں کے ساتھ گزر بسر کرنا ہوتا تھا جو ان کا حال تھا وہی آپ کا حال تھا، آپ کی امانتداری کی صفت مشہور تھی۔ حضرت خدیجہ ؓ تجارت کے لیے اپنا مال ملک شام بھیجا کرتی تھیں (جیسا کہ اہل مکہ کا طریقہ تھا) جب آنحضرت ﷺ کی عمر پچیس سال ہوئی تو انہوں نے آپ کی صفات سن کر آپ کو بطور مضاربت تجارت کا مال دے کر ملک شام جانے کی درخواست کی، آپ نے منظور فرما لی۔ ام المومنین سیّدہ خدیجہ ؓ نے آپ کے ساتھ اپنا ایک غلام بھی بھیج دیا، آپ ملک شام سے واپس تشریف لائے تو سیّدہ خدیجہ ؓ کے غلام نے آپ کی بڑی بڑی صفات بیان کیں اور وہ باتیں بتائیں جن کا ظہور عموماً نہیں ہوا کرتا نیز مال تجارت میں نفع بھی بہت زیادہ ہوا سیّدہ خدیجہ بیوہ عورت تھیں پہلے دو شوہروں کے نکاح میں رہ چکی تھیں ان سے اولاد بھی تھی انہوں نے آپ کو نکاح کرنے کا پیغام بھیجا۔ ابو طالب آپ کے چچا اور خاندان کے دیگر افراد آپ کے ساتھ گئے اور سیّدہ خدیجہ ؓ سے نکاح ہوگیا۔ سیّدہ خدیجہ ؓ مالدار عورت تھیں انہوں نے اپنے مال میں آپ کو تصرف کرنے کا حق دے دیا (جیسا کہ میاں بیوی کے درمیان ہوا کرتا ہے اسی لیے مفسرین نے آیت کی تفسیر میں لکھا ہے : ” ای فاغناک بمال خدیجة “۔
Ayah 93:9

فَاَمَّا الْیَتِیْمَ فَلَا تَقْهَرْؕ Open ayah 93:9 in the Quran reader

تو آپ یتیم پر سختی نہ کیجئے

﴿ فَاَمَّا الْيَتِيْمَ فَلَا تَقْهَرْؕ009﴾ (سو آپ یتیم پر سختی نہ کیجئے) ۔ چونکہ آپ نے یتیمی کا زمانہ گزارا ہے اور آپ کو معلوم تھا کہ ماں باپ کا سایہ اٹھ جانے سے کیسی زندگی گزرتی ہے اس لیے آپ کو خطاب کر کے فرمایا کہ یتیم پر سختی نہ کرنا گو خطاب آپ کو ہے لیکن اس میں ساری امت کو تلقین فرما دی کہ یتیموں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئیں اور ان کے ساتھ سختی کا برتاؤ نہ کریں یتیم کی پرورش کرنے اور اس کے ساتھ رحمت اور شفقت کا برتاؤ کرنے کی احادیث شریفہ میں بڑی فضیلت آئی ہے۔ حضرت ابوامامہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس نے کسی یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرا اور یہ ہاتھ پھیرنا صرف اللہ کی رضا کے لیے تھا تو ہر بال جو اس کے ہاتھ کے نیچے آئے اس کے بدلہ میں بہت سی نیکیاں دی جائیں گی اور جس نے کسی یتیم لڑکے یا لڑکی کے ساتھ اچھا سلوک کیا میں اور وہ جنت میں اس طرح ہوں گے لفظ ” اس طرح “ فرماتے ہوئے آپ نے اپنی دونوں انگلیوں کو ساتھ ملایا۔ (رواہ احمد والترمذی کما فی المشکوٰۃ صفحہ 723)
Ayah 93:10

وَ اَمَّا السَّآئِلَ فَلَا تَنْهَرْؕ Open ayah 93:10 in the Quran reader

اور سائل کو مت جھڑکیے

﴿ وَ اَمَّا السَّآىِٕلَ فَلَا تَنْهَرْؕ0010﴾ (اور سوال کرنے والے کو مت جھڑکیے) جس طرح یتیم بچہ بےیارو مددگار ہوتا ہے اس کے لیے رحمت اور شفقت کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح بعض مرتبہ غیر یتیم بھی حاجت مند ہوجاتا ہے اور حاجت مندی اسے سوال کرنے پر مجبور کردیتی ہے جب کوئی سوال کرنے آئے تو اسے کچھ دیکر خوش کر کے رخصت کیا جائے اگر اپنے پاس کچھ دینے کے لیے نہ ہو تو کم از کم اس سے نرمی سے بات کرلیں تاکہ اس تکلیف پر اضافہ نہ ہو جس نے سوال کرنے پر مجبور کیا، سائل جو جھڑکنا ظلم و زیادتی کی بات ہے ایک تو اس کو کچھ دیا نہیں اور پھر اوپر سے جھڑک دیا، یہ اہل ایمان کی شان کے خلاف ہے۔ ایک حدیث میں یہ ارشاد ہے : ردوا السائل ولو بظلف محرق (سوال کرنے والے کو کچھ دیکر واپس کیا کرو اگرچہ جلا ہوا کھر ہی ہو) ۔ بہت سے پیشہ ور سائل ہوتے ہیں جو حقیقت میں محتاج نہیں ہوتے، ایسے لوگوں کو سوال نہیں کرنا چاہیے ہر شخص کو اپنی اپنی ذمہ داری بتادی گئی۔ مانگنے والا مانگنے سے پرہیز کرے اور جس سے مانگا جائے وہ سائل کی مجبوری دیکھ کر خرچ کر دے سائل کو جھڑکے بھی نہیں کیا معلوم مستحق بھی ہو اور غور و فکر بھی کرے حاجت مندوں کو تلاش بھی کرے۔
Ayah 93:11

وَ اَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ۠ Open ayah 93:11 in the Quran reader

اور اپنے رب کے انعامات کا تذکرہ کرتے رہا کیجئے۔

﴿ وَ اَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ (رح) 0011﴾ (اور آپ اپنے رب کی نعمت کو بیان کیجئے) ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بہت بڑی تعداد میں نعمتیں عطا فرمائیں، دنیا میں بھی نعمتوں سے سرفراز فرمایا، مال بھی دیا، شہرت و عظمت بھی دی اور سب سے بڑی نعمت جس سے اللہ تعالیٰ نے سرفراز فرمایا وہ نبوت اور رسالت کی نعمت ہے، آپ کے کروڑوں امتی گزر چکے ہیں اور کروڑوں موجود ہیں اور انشاء اللہ تعالیٰ کروڑوں قیامت تک آئیں گے اور ہر وقت آپ پر کروڑوں درود بھیجے جاتے ہیں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ ان نعمتوں کی قدردانی کریں اس قدردانی میں یہ بھی ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو بیان فرمائیں۔ اس میں آپ کی امت کو بھی تعلیم دے دی کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو بیان کیا کریں۔ (البتہ تحدیث بالنعمت کے نام پر ریاکاری اور خود ستائی اور فخر و مباہات نہ ہو) ۔ حضرت ابو الاحوص ؓ نے اپنے والد سے روایت کی (جس کا نام مالک بن نضر تھا) کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں گھٹیا درجے کے کپڑے پہنے ہوئے تھا، آپ نے دریافت فرمایا کیا تیرے پاس مال ہے ؟ میں نے کہا جی ہاں ! فرمایا کون سے اموال میں سے ہے ؟ میں نے کہا ہر قسم کا مال اللہ نے مجھے دیا ہے اونٹ، گائے، بکری اور گھوڑے اور غلام سب موجود ہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا جب تجھے اللہ تعالیٰ نے مال دیا تو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمت اور کرامت کا اثر تجھ پر نظر آئے۔ (رواہ احمد والنسائی كما فی المشکوٰۃ صفحہ 375) معلوم ہوا تحدیث بالنعمت اپنے حال اور مال اور قال تینوں سے ہونی چاہیے شرط وہی ہے کہ صرف اللہ کی نعمت ذکر کرنے کی نیت ہو بڑائی بگھارنا اور ریاکاری مقصود نہ ہو۔ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ کل ماشئت والبس ماشئت ما اخطلک اثنتان سرف ومخیلة (كھا جو چاہے اور پہن جو چاہے جب تک کہ دو چیزیں نہ ہوں، ایک فضول خرچی دوسرے تکبر) ۔ (رواہ البخاری فی ترجمۃ الباب کما فی المشکوٰۃ) فائدہ : سورة والضحیٰ سے لے کر آخری سورت سورة والناس کے ختم تک ہر سورة کے ختم پر تکبیر پڑھنا حضرات قراء کرام کے نزدیک سنت سے ثابت ہے جسے وہ اپنی کتابوں میں سند کے ساتھ نقل کرتے ہیں۔ امام القراء حضرت شیخ ابن جزری (رح) نے اپنی معروف کتاب النشر فی القراءت العشر کے آخر میں صفحہ 405 سے لے کر صفحہ 438 تک اس پر بہت لمبی بحث کی ہے اور حصر کے صیغے اور حضرات قراء کرام کا عمل اور حدیث کی سند پر خوب جی کھول کر لکھا ہے اور مستدرک حاکم کا بھی حوالہ دیا ہے۔ اس سلسلہ میں حضرات محدثین کرام حدیث مسلسل بالقراء بھی نقل کرتے ہیں جو قاری مقری عبداللہ بن کثیر مکی (احد القرء السبعة) کے راوی ابو الحسن محمد بن احمد البزی ؓ سے مرفوعاً مروی ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہ صاحب ؓ نے بھی اس کو اپنی مسلسلات میں ذکر کیا ہے چونکہ حضرت امام بزی ؓ حدیث کے راوی ہیں اس لیے ان کے نزدیک تو تکبیر پڑھنا مشروع اور مسنون ہے ہی دیگر قراء سے بھی اس کا پڑھنا مروی ہے پھر بعض قراء صرف اللہ اکبر پر اکتفاء کرتے ہیں اور بعض قراء سے لا الہ الا اللہ واللہ اکبر دونوں لفظ کہنا منقول ہے جن سورتوں کے درمیان تکبیر پڑھی جائے وقف اور وصل کے قواعد کا خیال رکھا جائے سورت کو ختم کر کے اللہ اکبر کہہ کر آئندہ سورت کے شروع کرنے کے لیے ﴿بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ﴾ پڑھے اور ایک ہی سانس میں پڑھ لے یہ بھی درست ہے یہ وصل کل کی صورت ہے اور اگر تینوں پر قطع کرے تو یہ بھی درست ہے جو فصل کی صورت ہے البتہ وصل اول اور وصل ثانی کے ساتھ فصل ثالث نہ کرے کیونکہ اس صورت میں بسملہ آنے والی سورت سے منفصل ہوجائے گی۔ جب کہ ﴿ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ﴾ اوائل سور کے لیے مشروع ہے یہ جو کہا کہ وصل اور وقف کے قواعد کا خیال رکھا جائے اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ ساکن کو حرکت دیتے ہوئے اور ہمزہ وصل کو ساقط کرتے ہوئے پڑھتے چلے جائیں مثلاً سورة ٴ والضحیٰ ختم کر کے یوں پڑھے ﴿فحدث اللہ اکبر﴾ اور سورة العادیات کو ختم کر کے یوں پڑھا جائے : لخبیر اللہ اکبر بسم اللہ الرحمن الرحیم القارعة۔ اسی طرح سورة ٴ ہمزہ کے ختم پر نون تنوین کو کسرہ دے کر اللہ اکبر کے لام سے ملا دیا جائے یہ بات حضرات اساتذہ کرام سے سمجھنے اور مشق کرنے سے متعلق ہے حافظ ابو عمر و دانی ؓ کی کتاب التسیر کی عبارت نقل کردی گئی ہے اہل علم ملاحظہ فرما لیں۔ (قال ابو عمرو فاعلم ایدک اللہ تعالیٰ ان البزی روی عن ابن کثیر باسنادہ انہ کان یکبر من اٰخر والضحی مع فراغہ من کل سورة الی اخر ﴿قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ﴾ یصل التکبیر باخر السورة وان شاء القاری قطع علیہ وابتداء بالتسمیة موصولة باول السورة التی بعدھا وان شاء وصل التکبیر بالتسمیة باول السورة ولا یجوز القطع علی التسمیة اذا وصلت بالتکبیر وقد کان بعض اھل الاداء یقطع علٰی اواخر السور ثم یبتدی بالتکبیر موصولا بالتسمیة وکذا روی النقاش عن ابی ربیعة عن البزی وبذلک قرات علی الفارسی عنہ والاحادیث الواردة عن للکیین بالتکبیر دالة علی ما ابتدانا بہ لان فیھا مع وھی تدل علی الصحة والاجتماع واذا کبر فی اخر سورة الناس قراء فاتحة الکتاب وخمس ایات من اول سورة البقرة علی عدد الکوفیین الی قولہ تعالیٰ ﴿وَ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ 005﴾ ثم دعا بدعاء الختمة وھذا یسمی الحال المرتحل وفی جمیع ما قدمناہ احادیث مشھورة یرویھا العلماء یوید بعضھا بعضا تدل علی صحة ما فعلہ ابن کثیر ولھا موضع غیر ھذا قد ذکرنا ھا فیہ واختلف اھل الاداء فی لفظ التکبیر فکان بعض ھم یقول اللہ اکبر لا غیر و دلیلھم علی صحة ذلک جمیع الاحادیث الواردة بذلک من غیر زیادة كما حدثنا ابو الفتح شیخنا قال حدثنا ابو الحسن المقری قال حدثنا احمد بن سالم قال حدثنا الحسن بن مخلد قال حدثنا البزی قال قرات علی عکرمة بن سلیمان وقال قرات علی اسماعیل بن عبداللہ بن قسطنطین فلما بلغت والضحٰی كبر حتی تختم مع خاتمة كل سورة فانی قرات علی عبداللہ بن کثیر فامرنی بذلک واخبرنی ابن کثیر انہ قراء علی مجاھد فامرہ بذلک واخبرہ مجاھد انہ قرا علی عبداللہ بن عباس ؓ عنھما فامرہ بذلک واخبرہ ابن عباس انہ قرأ علی ابی بن کعب ؓ فامرہ بذلک واخبرہ ابی انہ قرأ علی رسول اللہ ﷺ فامرہ بذٰلک وکان اخرون یقولون لا الہ الا اللہ واللہ اکبر فیھللون قبل التکبیر واستدلوا علی صحة ذلک بما حدثنا فارس بن احمد المقری قال حدثنا عبد الباقی بن الحسن قال حدثنا احمد بن سلم الختلی واحمد بن صالح قالا حدثنا الحسن بن الحباب قال سالت البزی عن التکبیر کیف ھو فقال لی لا الہ الا اللہ واللہ اکبر قال ابو عمر و ابن الحباب ھذا من اھل الاتقان والضبط وصدق اللھجة بمکان لا یجھلہ احد من علماء ھذہ الصنعة وبھذا قرات علی ابن الفتح وقرات علی غیرہ بماتقدم۔ واعلم ان القاری اذا وصل التکبیر باخر السورة فان کان اخرھا ساکنا کسرہ لا لتقاء الساکنین نحو فحدث اللہ اکبر فارغب اللہ اکبر وان کان منونا کسرہ ایضا کذلک سواء کان الحرف المنون مفتوحا او مضمومًا اور مکسورًا نحو توّابًا نِ اللہ اکبر ولخبیرُ نِ اللہ اکبر ومن مسد ن اللہ اکبر وشبھہ وان کان آخر السورة مفتوحا فتحہ وان کان اخر السورة مکسورًا کسرہ وان کان مضموما ضمہ نحو قولہ تعالیٰ اذا حسد اللہ اکبر والناس اللّٰہ اکبر والابئر اللہ اکبر وشبھہ وان کان اخر السورة ھاء کنایة موصولة بو او حذف صل تھا للساکنین نحوربہ اللہ اکبر وشرایرہ اللہ اکبر قال ابو عمرو واسقطت الف الوصل التی فی اول اسم اللہ تعالیٰ فی جمیع ذلک استغناء عنھا۔ فاعلم ایدک اللہ تعالیٰ ذلک موفقا لطریق الحق ومنھاج الصواب والیہ المرجع والماب۔