93. Surah Ad-Dhuhaa

الضحىThe Morning Hours · 11 ayahsسراج البیان

Ayahs 93:1–3

وَ الضُّحٰىۙ Open ayah 93:1 in the Quran reader

دھوپ چڑھتے وقت کی قسم

وَ الَّیْلِ اِذَا سَجٰىۙ Open ayah 93:2 in the Quran reader

اور رات کی جب چھاجائے

مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَ مَا قَلٰىؕ Open ayah 93:3 in the Quran reader

کہ تیرے ربے نہ تجھے چھوڑا اور نہ بیزار ہوا

ف 1: اس زمانہ میں چند دنوں کے لئے نزول وحی میں توقف ہوگیا تھا تو مخالفین نے یہ مشہور کرنا شروع کردیا کہ محمد ﷺ سے معاذ اللہ خدا نے اب اپنی توجہ ہٹالی ہے ۔ اس پر ان آیات کا نزول ہوا اور بتایا کہ یہ بات غلط ہے ۔ جس طرح آفتاب نکلتا ہے اور پھر جب تک اپنا دور ختم نہیں کرلیتا اس وقت تک غروب نہیں ہوتا اور جس طرح رات کی تاریکی چھاجاتی ہے اور صبح تک برابر قائم رہتی ہے ۔ درمیان میں پلٹ نہیں جاتی ۔ اسی طرح دنیائے روحانیت میں نبوت کا آفتاب طلوع ہوتا ہے ۔ حق وصداقت کا خادر درخشاں نکلتا ہے ۔ تب ناممکن کہ وہ وقت سے پہلے بےتوجہی کے افق میں غروب ہوجائے اور اگر تم اس کو سورج نہ قرار دے سکو تو پھر بھی یہ اگر رات اور تاریکی ہے ۔ جب بھی وقت مقررہ تک اس کا قائم رہنا ازبس ضروری ہے ۔ بہرآئینہ یہ ایک حقیقت ہے کہ حضور ﷺ کے ساتھ ہر دم ہر آن عنایات الٰہیہ کا ہجوم رہتا ہے اور کسی وقت بھی آپ ﷺ توجہات آسمانی سے محروم نہیں رہتے ۔ فرمایا کہ اگر آج کچھ تکلیف اور مصیبت کے دن ہیں تو آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ آنیوالے دن نہایت مبارک ہیں ۔ سعادت اور کامیابی کے دن ہیں ۔ مکہ والے اگر آپ ﷺ کی قدروقیمت کو نہیں پہچانتے تو ان کی محرومی اور بدبختی ہے ۔ مدینے میں آپ ﷺ کے استقبال اور خیر مقدم کی تیاریاں ہورہی ہیں آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ وہاں قبولیت ، فتوحات ، غنائم اور مراتب اس قدر دیں گے کہ آپ خوش ہوجائیں گے اور موجودہ غم واندوہ بھول جائیں گے ۔
Ayahs 93:4–8

وَ لَلْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لَّكَ مِنَ الْاُوْلٰىؕ Open ayah 93:4 in the Quran reader

اور البتہ آخرت تیرے لئے دنیا (ف 2) سے بہتر ہے

وَ لَسَوْفَ یُعْطِیْكَ رَبُّكَ فَتَرْضٰىؕ Open ayah 93:5 in the Quran reader

اور البتہ عنقریب تیرا رب تجھے دیگا پھر تو راضی ہوجائے گا

اَلَمْ یَجِدْكَ یَتِیْمًا فَاٰوٰى۪ Open ayah 93:6 in the Quran reader

کیا اس نے تجھے یتیم نہیں پایا ۔ پھر جگہ دی

وَ وَجَدَكَ ضَآلًّا فَهَدٰى۪ Open ayah 93:7 in the Quran reader

اور تجھے رستہ نہ جانتا پایا سو (تجھے) رستہ دکھایا

وَ وَجَدَكَ عَآئِلًا فَاَغْنٰىؕ Open ayah 93:8 in the Quran reader

اور تجھے محتاج پایا ، سو تونگر کردیا

ف 2: ان آیتوں میں یہ بتایا ہے کہ آپ دیکھ لیجئے ۔ ابتداہی سے اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی تربیت کا خاص خیال رکھا ہے ۔ آپ یتیم پیدا ہوئے تو دادا نے آغوش شفقت میں لے لیا ۔ دادا نے آنکھیں بند کیں تو جوانی تک آپ ﷺ کے چچا ابوطالب ساتھ رہے اور انتہائی محبت کے ساتھ آپ کی مدد کی ۔ جب آپ ﷺ کو ایک عظیم خدمت کے لئے منتخب فرمایا ہے تو کیا آپ ﷺ سے بےاعتنائی اور بےتوجہی کا سلوک رکھا جائیگا پھر سب سے بڑی روحانی اعانت جو فرمائی ، وہ یہ تھی کہ روح کے شوق اور جستجو نے حق کی پیاس کی تسکین کا سامان بہم پہنچایا اور آپ کو ایک مکمل دستورالعمل مرحمت فرمایا جو سارے عالم انسانی کے کے لئے باعث صدبرکت وسعادت ہے ۔ مالی طور پر آپ کو غنی کیا اور قیصروکسریٰ کے غنائم کو آپ کے عقیدت مندوں میں بانٹا اور جو بوریا اور چٹائی بھی نہ رکھتے تھے ، ان کو دیباوقاقم کے فرش عطا کئے کہ ان کو اپنے پاؤں تلے بچھائیں ۔ اور جو کھانے پینے سے عاجز تھے ، وہ مرغ وماہی سیکام ودہن کی تواضع کرنے لگے ۔ حل لغات :۔ والضحیٰ ۔ چاشت کا وقت سجی ۔ ڈھانپ لے ۔ چھاجائے قلی ۔ ناراض ہوا وللاخرۃ ۔ عاقبت یا ہجرت کے بعد کی زندگی ۔
Ayahs 93:9–11

فَاَمَّا الْیَتِیْمَ فَلَا تَقْهَرْؕ Open ayah 93:9 in the Quran reader

اور جو یتیم (ف 1) ہو ، اس کو نہ دبا

وَ اَمَّا السَّآئِلَ فَلَا تَنْهَرْؕ Open ayah 93:10 in the Quran reader

اور جو سائل ہو ، اس کو نہ جھڑک

وَ اَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ۠ Open ayah 93:11 in the Quran reader

اور جو تیرے رب کا احسان ہے اس کو بیان کر

ف 1: فرمایا ۔ ان انعامات کا تقاضا یہ ہے کہ آپ اظہار تشکر کے طور پر یتیموں کے حق میں بدرجہ غایت شفیق ہوجائیں ۔ ان پر سختی نہ کریں اور سائل کو نہ جھڑکیں اور اپنے قول وفعل سے اپنے رب کی نعمتوں کا اعتبار کرتے رہیں ۔ حل لغات :۔ وجدک ضآلا ۔ قطبی نے قوضلالت کے معنی ضلالت وکفر کے ہی لئے ہیں اور یہ وہ جسارت ہے جس کو نقل کرنے میں قلم کا جگر شق ہوجاتا ہے ۔ مگر امام رازی نے کوئی بیس وجوہ تاویل کا ذکر کیا ہے ۔ جن میں سے ایک وجہ جو پسندیدہ ہے ۔ یہ ہے کہ ضلالت کے معنی محبت اور شوق کے بھی ہوتے ہیں ۔ جیسا کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی وارفتگی و محبت کے متعلق ان کے لڑکوں نے کہا تھا ۔ انک لفی ضلالک القدیر ۔ اس صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ ہم نے آپ کو بدرجہ غایت حق وصداقت کا عاشق ومتجسس پایا ۔ اور پھر اس جانثار محبت کی تسکین یوں کی کہ آپ کو پورا نظام معرفت عطا کیا ۔ فاری فع ماقبل ۔