Ayahs 93:1–3تفسیر 1 تا 3۔
والضحیٰ ، والیل اذا سجیٰ ۔ الضحیٰ کے بارے میں گفتگو گزرچکی ہے اس سے مراد دن ہے کیونکہ اس کے مقابل اللیل ہے اور سورة اعراف میں ہے، افامن اھل القری ان یاتیھم باسنا بیاتا وھم نائمون۔ اوامن اھل القری ان یاتیھم باسنا ضحی وھم یلعبون۔ (اعراف) کیا بستیوں والے اس سے بےخوف ہوگئے ہیں کہ ہمارا عذاب انہیں رات کو پہنچے جب کہ وہ سوئے ہوئے ہوں یابستیوں والے بےخوف ہوگئے ہیں کہ ہمارا عذاب دن کو پہنچے جب کہ وہ سوئے ہوئے ہوں یابستیوں والے بےخوف ہوگئے ہیں کہ ہمارا عذاب دن کو پہنچے جب کہ وہ کھیل کود میں مصروف ہوں قتادہ، مقاتل اور مام صادق نے کہا، اللہ تعالیٰ نے اس چاشت کے وقت کی قسم اٹھائی جس میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ سے کلام کی اور معراج کی رات کی قسم اٹھائی ایک قول یہ کیا گیا ہے اس سے مراد وہ گھڑی ہے جس میں جادوگر سجدہ میں گر گئے تھے اس کی وضاحت اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں ہے، ان یحشر الناس ضحی۔ (طہ) اور یہ خیال رہے کہ سارے لوگ چاشت کے وقت جمع ہوجائیں۔ علماء معانی نے اس سے اور اس کی مثل آیات میں یہ کہا، اس میں اضمار ہے تقدیر کلام یہ ہے کہ، ورب الضحیٰ ۔ سجی کا معنی ہے پرسکون ہونا یہ قول قتادہ، مجاہد، ابن زید اور عکرمہ نے کیا ہے۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے، لیلۃ ساجیۃ یعنی پرسکون رات، آنکھ کو بھی ساجیہ کہتے ہیں کہ جب اس کی ایک جانب پرسکون ہوجائے جب رات پرسکون ہوجائے تو کہتے ہیں، سجا اللیل یسجو سجو۔ جب سمندر پر سکون ہوجائے تو کہتے ہیں کہ، سجا البحر۔ اعشی نے کہا :
فما ذنبنا ان جاش بحر ابن عمکم وبحرات ساج مایواری الدعا مصا۔ ہمارا کیا گناہ ہے کہ تمہارے چچازاد کا سمندر موجزن ہے اور تمہارا سمندر پرسکون ہے وہ چھوٹے سیاہ کپڑوں کو بھی چھپائے ہوئے نہیں۔
ضحاک نے کہا : سجی کا معنی ہے اس نے ہر چیز کو ڈھانپ لیا اصمعی نے کہا، سجواللیل کا معنی ہے رات کا دن کو ڈھانپ لینا۔ ان دونوں کی مثل ہے آدمی کو کپڑے سے ڈھانپ دیا جاتا ہے حضرت حسن بصری نے کہا، اس نے تاریکی کے ساتھ ڈھانپ لیا، یہ حجرت ابن عباس نے کہا، ان سے یہ بھی مروی ہے جب وہ چلی جائے ان سے یہ بھی مروی ہے جب وہ تاریک ہوجائے سعید بن جبیر سے مروی ہے جب وہ متوجہ ہو قتادہ سے بھی یہ مروی ہے ابن ابی نجیح نے مجاہد سے یہ قول نقل کیا کہ سجی کا معنی ہے جب وہ قرار پکڑ لے لغت میں پہلا قول زیادہ مشہور ہے۔ سجی کا معنی پرسکون ہونا یعنی لوگ اس میں پرسکون ہوگئے جس طرح یہ جملہ بولا جاتا ہے، نھار صائم، لیل قائم۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ اس کے ساکن ہونے کا معنی ہے اس کی تاریکی قرار پذیر ہوگئی ایک قول یہ بھی کیا جاتا ہے، واضحی، والیل اذا سجی۔ یعنی اللہ کے وہ بندے جو چاشت کے وقت میں اس کی عبادت کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے وہ بندے جب رات تاریک ہوجاتی ہے تو اس کی عبادت کرتے ہیں یہ قول بھی کیا جاتا ہے کہ ضحی سے مرد وہ نور ہے جو عارفین کے دلوں میں دن کی طرح ہے اور والیل سے مراد وہ تاریکی ہے جو کافروں کے دلوں میں رات کی طرح ہے اللہ تعالیٰ نے ان اشیاء کی قسم اٹھائی ہے۔
ماودعک ربک۔ یہ جواب قسم ہے جبریل امین نے نبی کریم ﷺ کے پاس آنے میں کچھ دیر لگادی تو مشرکین نے کہا، اللہ تعالیٰ اس سے ناراض ہوگیا اور اسے چھوڑ دیا ہے تو یہ آیت نازل ہوئی بن جریج نے کہا، بارہ دن تک آپ سے وحی رکی رہی حضرت ابن عباس نے کہا، پندرہ دن تک وحی رکی رہی، ایک قول یہ کیا گیا ہے پچیس دن تک وحی رکی رہی مقاتل نے کہا، چالیس روز تک وحی رکی رہی تو مشرکوں نے کہا، حضرت محمد ﷺ کو ان کے رب نے چھوڑ دیا ہے۔ اور ان سے ناراض ہوگیا ہے اگر یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے امر ہوتوپے درپے اس پر اترتا رہتا جس طرح ان سے قبل جو انبیاء تھے ان کے ساتھ یہ سلسلہ جاری رہا۔
بخاری میں حضرت جندب بن سفیان سے روایت مروی ہے رسول اللہ کی طبیعت ناساز ہوئی تو آپ نے دویاتین راتیں قیام نہ کیا تو ایک عورت آئی اس نے کہا، اے محمد ﷺ میں امید کرتی ہوں کہ تیرا شیطان تجھے چھوڑ گیا ہے میں نے دویاتین راتوں سے اسے تیرے قریب نہیں دیکھا تو اللہ نے اس سورت کو نازل فرمایا۔
ترمذی شریف میں جندب بجلی سے روایت مروی ہے کہ میں ایک غار میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ تھا تو آپ کی انگلی زخمی ہوگئی تو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا تو نہیں مگر ایک انگلی ہے زخمی ہوگئی ہے اور اللہ کی راہ میں تو نے ملاقات نہ کی۔ کہا، جبریل امین نے آپ کی خدمت میں آنے میں دیر کی تو مشرکوں نے کہا محمد ﷺ کو چھوڑدیا گیا تو اللہ نے ان آیات کو نازل فرمایا یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ امام ترمذی نے فلم یقم لیلتین اوثلاثا کا ذکر نہیں۔ امام ترمذی نے اسے ساقط کردیا اور امام بخاری نے اسے ذکر کیا اس بارے میں جو کچھ کہا گیا ہے یہ ان میں سے صحیح ترین ہے اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔
ثعلبی نے حضرت جندب بن سفیان بجلی سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے کہ نبی کریم کو ایک انگلی پر کوئی پتھر لگاتو وہ زخمی ہوگئی تو آپ نے فرمایا تو محض ایک انگلی ہے جو زخمی ہوگئی ہے اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں تو نے ملاقات نہیں کی، آپ نے دویاتین دن رات کو قیام نہ کیا تو ابولہب کی بیوی ام جمیل نے آپ سے کہا میرا خیال ہے تیرے شیطان نے تجھے چھوڑ دیا ہے میں نے اسے دویاتین دن تیرے قریب نہیں دیکھا تو یہ سورت نازل ہوئی۔
ابی عمران جونی سے مروی ہے حضرت جبرائیل امین نے نبی کریم کے پاس آنے میں دیر کی یہاں تک کہ آپ پر یہ معاملہ بڑا شاق گزرا جبرائیل امین حاضر ہوئے جب کہ نبی کریم ﷺ کعبہ پر اپنی پیشانی رکھے دعامانگ رہے تھے۔ حضرت جبرائیل نے رسول اللہ کے کندھوں کے درمیان کریدا اور یہ آیات نازل کیں، ماودعک ربک وماقلی۔
حضرت خولہ جو نبی کریم کی خادمہ تھیں نے کہا کہ کتے کا ایک بچہ گھر میں داخل ہوا اور وہ چارپائی کے نیچے داخل ہو اور مر گیا نبی کریم چند دن رکے رہے آپ پر وحی نازل نہیں ہوئی تھیں حضور ﷺ نے پوچھا، اے خولہ میرے گھر میں کیا ہوا ہے ؟ کیا وجہ ہے جبریل امین میرے پاس نہیں آتے حضرت خولہ نے کہا میں نے کہا میں نے عرض کی کاش میں گھر کو تیار کرتی اور اسے صاف کرتی میں جھاڑو کے ساتھ چارپائی کے نیچے جھکی تو کیا دیکھتی ہوں وہاں ایک مردہ پلا پڑا ہوا ہے میں نے اسے اٹھایا اور گھر کے پیچھے پھینک دیا۔ اللہ کے نبی تشریف لائے جبکہ ان کے جبڑے کا نپ رہے تھے جب آپ پر وحی نازل ہوتی تھی تو آپ پر ایک کپکپی طاری ہوجاتی تھی آپ نے فرمایا، اے خولہ مجھے چادر اوڑھادو تو اللہ نے اس سورت کو نازل فرمایا جب جبریل امین آئے تو نبی کریم نے ان سے لیٹ آنے کی وجہ پوچھی تو جبرایل امین نے عرض کی کیا آپ نہیں جانتے کہ ہم ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا یا تصویر ہو۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : جب یہودیوں نے آپ سے روح، ذوالقرنین اور اصحاب کہف کے بارے میں پوچھا تو رسول اللہ نے فرمایا میں کل تجھے اس بارے میں بتاؤں گا، اور انشاء اللہ کے لفظ نہ کہے وحی کچھ عرصہ کے لیی رک گئی یہاں تک کہ جبریل امین یہ آیت لے کر نازل ہوئے، ولاتقولن لشای انی فاعل ذالک غدا، الاان یشاء اللہ۔ (کہف) آپ کسی چیز کے بارے میں یہ نہ کہیں کہ میں کل یہ کام کرنے والا ہوں مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ چاہے پھر آپ نے اس چیز کے بارے میں خبردی جو آپ سے پوچھا گیا، اسی قصہ کے متعلق ماودعک ربک وماقلی۔ نازل ہوئی۔
ایک قول یہ کیا گیا : مسلمانوں نے عرض کی، یارسول اللہ کیا وجہ ہے آپ پر وحی نازل نہیں ہوئی ؟ فرمایا مجھ پر کیسے نازل ہو جب کہ تم انگلیوں کے درمیان جمع ہونے والی میل کی جگہ کو صاف نہیں کرتے تم اپنے ناخن نہیں کاٹتے اور اپنی مونچھیں نہیں کاٹتے۔ تو جبریل امین یہ سورت لے کر نازل ہوئے نبی کریم نے فرمایا، تو نہیں آیا یہاں تک کہ میں تیرا مشتاق ہوگیا۔ حضرت جبرائیل نے کہا میں آپ کا زیادہ مشتاق تھا لیکن میں ایک حکم کیا گیا غلام ہوں پھر آپ پر یہ آیت نازل ہوئیں، ومانتزل الابامر ربک (مریم 64) ہم تیرے رب کے حکم کے بغیر نازل نہیں ہوتے، ودعک، تشدید کے ساتھ ہے یہ عام لوگوں کی قرات ہے یہ تودیع سے مشتق ہے یہ اس طرح تھی جس طرح جدا ہونے والا الوداع کہتا ہے۔ حضرت ابن عباس اور حضرت ابن زبیر سے یہ مروی ہے کہ ان دونوں نے ودعک پڑھا ہے اس کا معنی تجھے چھوڑ دیا ہے۔ شاعر نے کہا :
وثم ودعنا آل عمرو عامر، فرائس اطراف المثقفۃ السمر۔ اور پھر ہم نے آل عمرو اور عامر کو گندم گوں نیزوں کے اطراف کا شکار بناکرچھوڑ دیا۔ اس کا استعمال قلیل ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے، ھو یدع کذا۔ وہ اسے چھوڑ دیتا ہے مبرد محمد بن یزید نے کہا، وہ بہت ہی کم کہتے ہیں ودع، وذر۔ کیونکہ واؤ جب مقدم ہو تو وہ ضعیف ہوتی ہے اور ترک کی وجہ سے وہ اس سے مستغنی ہوتے ہیں۔
وماقلی۔ جب سے تیرے رب نے تجھے محبوب بنایا ہے تجھ سے ناراض نہیں ہوا۔ کاف ضمیر کو یہاں ترک کردیا کیونکہ یہ آیت کا سرا ہے۔ القلی کا معنی بغض ہے اگر تو مصدر میں قاف کو زبر دے گا تو اس کے آخر میں الف ممدودہ پڑھے گا۔ تو کہے گا : قلاہ یقلیہ قلی وقلائ۔ جس طرح تو کہتا ہے، قریت الضیف اقریہ، قری وقرائ۔ مضارع میں اس کا صیقہ یقلاہ یہ بنوطی کی لغت ہے۔ ثعلب نے یہ شعر پڑھا، ایام ام الغمر لانقلاھا ہم ام غمر کے دنوں سے بغض نہیں رکھتے۔ نقلی کا معنی ہے ہم بغض رکھتے ہیں۔ امراء القیس نے کہا :
ولست بمقلی الخلال والاقال۔ میں دوستوں کے ہاں مبغوض نہیں اور نہ ہی میں ناراض ہونے والا ہوں۔
آیت کا معنی تیرے رب نے نہ تجھے چھوڑا اور نہ ہی تجھ سے ناراض ہوایہاں قلی میں کاف ضمیر کو ترک کردیا گیا ہے کیونکہ یہ آیت کا سرا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، والذاکرین اللہ کثیرا والذاکرات (الاحزاب 35) یہاں بھی مفعول حذف ہے اصل کلام یوں ہے والذاکرات للہ۔
Ayahs 93:4–5تفسیر 4، 5۔
سلمہ نے ابواسحاق سے روایت نقل کی ہے کہ آیت کا معنی ہے، اے محمد ﷺ میری طرف لوٹنے پر جو میرے پاس موجود ہے وہ اس سے بہتر ہے جو میں نے تجھے دنیا میں کرامت سے نوازا ہے حضرت ابن عباس نے فرمایا، اللہ تعالیٰ آپ کی امت پر جن ممالک کو فتح کرنے والا تھا خواب میں وہ ممالک حضور ﷺ کو دکھائے گئے تو اس وجہ سے آپ ﷺ خوش ہوئے تو جبرائیل امین یہ دونوں آیات لے کر نازل ہوئے۔
ابن اسحاق نے کہا : دنیا میں فتح و کامرانی اور آخرت میں ثواب۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، اس سے مراد حوض اور شفاعت ہے حضرت ابن عباس سے یہ بھی مروی ہے سفید موتی کے ایک ہزار محل جس کی مٹی کستوری کی ہوگی۔ امام اوزاعی نے اسے مرفوع نقل کیا ہے۔ کہا مجھے اسماعیل بن عبیداللہ نے انہوں نے علی بن عبداللہ بن عباس سے وہ اپنے باپ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم کو وہ ممالک خواب میں دکھائے گئے جو آپ کی امت پر فتح کیے جانے والے تھے تو اس وجہ سے آپ خوش ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے آیات کو نازل فرمایا، اللہ تعالیٰ نے آپ کو جنت میں ایک ہزار محل عطا فرمائے جن کی مٹی خوشبو کی ہوگی۔ ہر محل میں اتنی بیویاں اور خدام ہوں گے جن کی آپ خواہش کریں گے ان سے یہ بھی مروی ہے حضرت محمد ﷺ اس بات پر راضی ہوں گے کہ آپ ﷺ کے اہل بیت میں سے کوئی جہنم میں داخل نہ ہو۔ سدی نے کہا ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ تمام مومنوں میں شفاعت ہے حضرت علی شیر خدا سے مروی ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ میری امت میں میری شفاعت قبول فرماتا جائے گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ مجھے ارشاد فرمائے گا اے محمد ﷺ ! تو راضی ہے تو میں عرض کروں گا، اے میرے رب میں راضی ہوں۔
صحیح مسلم میں حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے متعلق اللہ تعالیٰ کے ارشاد کی تلاوت کی، فمن تبعنی فانہ منی، ومن عصانی فانک غفوررحیم۔ (ابراہیم) جس نے میری پیروی کی وہ مجھ سے ہے اور جس نے میری نافرمانی کی تو توغفور رحیم ہے۔ اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے قول کی تلاوت کی، ان تعذبھم فانھم عبادک (المائدہ 118) اگر تو انہیں عذاب دے تو وہ تیرے بندے ہیں۔ تو حضور ﷺ نے اپنے ہاتھ اٹھائے اور یوں التجا کی، اللھم امتی امتی، اے اللہ میری امت کو بخش دے اور رودیے اللہ تعالیٰ نے جبرائیل امین کو حکم دیا حضرت محمد ﷺ کے پاس جاؤ جبکہ تیرا رب خوب جانتا ہے کہ اس سے سوال کرو کون سی چیز تجھے رلاتی ہے ؟ حضرت جبرائیل امین آئے پوچھاتونبی کریم نے انہیں آگاہ کیا، اللہ تعالیٰ نے جبریل امین سے فرمایا، حضرت محمد ﷺ کے پاس جاؤ ان سے کہو، اللہ تعالیٰ تمہیں ارشاد فرماتا ہے ہم تجھے تیری امت کے بارے میں راضی کریں گے اور تجھے ناراض نہیں کریں گے۔ حضرت علی نے اہل عراق سے فرمایا تم یہ کہتے ہیو کہ اللہ کی کتاب میں سے سب سے امید والی آیت، قل یعبادی الذین اسرفوا علی انفسھم لاتقنطوا من رحمۃ اللہ (الزمر 53) کہہ دیجئے، اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا، اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ انہوں نے کہا : ہم تو یہی کہتے ہیں فرمایا لیکن ہم اہل بیت یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی کتاب میں سب سے امید والی آیت ولسوف یعطیک رب فترضی۔ ہے۔ حدیث طیبہ میں ہے جب یہ آیت نازل ہوئی تو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا پھر تو اللہ کی قسم میں راضی نہیں ہوں گا جب کہ میری امت میں سے ایک بھی جہنم میں ہوگا۔
Ayah 93:6الم یجدک یتیما فاوی۔
اللہ تعالیٰ نے ان احسانات کا شمار کیا ہے جو اس نے اپنے نبی حضرت محمد ﷺ پر کیے فرمایا، کیا تجھے یتیم نہیں پایا یعنی تیرا باپ نہیں تھا تیرا باپ فوت ہوچکا تھا تو تیرے لیے ٹھکانہ بنادیا تو اس کے ہاں یعنی اپنے چچا ابوطالب کے ہاں پناہ لیتا اس نے تیری کفالت کی۔ امام جعفر بن محمد صادق سے پوچھا گیا نبی کریم ﷺ کو ان کے والدین سے کیوں یتیم کیا گیا ؟ انہوں نے فرمایا کہ تاکہ مخلوق کا ان پر کوئی حق نہ ہو۔ مجاہد سے یہ بھی مروی ہے یہ عربوں کے اس قول سے ماخوذ ہے، درۃ یتیمۃ یہ لفظ اس وقت بولتے ہیں جب وہ بےمثال ہو۔ تو آیت کا معنی یہ ہوگا کیا تجھے شرف میں یکتا نہیں پایا کہ تیری کوئی مثال نہیں پس اللہ تعالیٰ نے تجھے اصحاب کی پناہ میں دے دیا جو تیری حفاظت کرتے ہیں اور آپ کا احاطہ کیے رہتے ہیں۔
Ayah 93:7ووجد ضالافھدی۔
یعنی تیرے بارے میں نبوت کا جو ارادہ کیا گیا اس سے تجھے غافل پایا پس تیری راہنمائی کی، یہاں ضلال غفلت کے معنی میں ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان لایضل وبی ولانیسی، یعنی میرا رب غافل نہیں اور نہ ہی وہ بھولتا ہے اور اپنے نبی کے حق میں ارشاد فرمایا، وان کنت من قبلہ لمن الغافلین (یوسف) اور آپ اس سے قبل غافلوں میں سے تھے۔ ایک قوم نے کہا، ضالا سے مراد آپ قرآن اور شرائع کو نہ جانتے تھے پس اللہ تعالیٰ نے آپ کو قران اور اسلام کے احکام کی طرف ہدایت دی، یہ ضحاک، شہر بن حوشب اور دوسرے علماء سے مروی ہے اللہ تعالیٰ کے فرمان، ماکنت تدری ما الکتاب ولایمان (شوری 52) کا یہی معنی ومفہوم ہے ایک قوم کا یہ کہنا ہے تجھے گمراہ قوم میں پایاتو اللہ تعایل نے آپ کے وسیلہ سے انہیں ہدایت سے نوازایہ فراء اور کلبی کا قول ہے۔ سدی سے بھی اس کی مثل مروی ہے کہ تیری قوم کو گمراہی میں پایا پس ان کی راہنمائی کرنے کے ساتھ تجھے ہدایت سے نوازا ایک قول یہ کیا گیا آپ کو ہجرت سے ناواقف پایا تو آپ کی ہجرت کی طرف راہنمائی کی۔ ایک قول یہ کیا گیا جب آپ سے اصحاب کہف کے بارے میں اور روح کے بارے میں سوال کیا گیا تو تجھے استثنا کرنے سے بھولنے والا پایاتو اللہ تعالیٰ نے تجھے یاد دلایا جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، ان تضل احدھما (البقرہ 282) ان دونوں میں سے ایک بھول جائے ایک قول یہ کیا گیا تجھے قبلہ کا طالب پایا گیا تو تیری اس طرف راہنمائی کردی، اس کی وضاحت اللہ تعالیٰ کے اس فرمان، قد نری تقلب وجھک فی السمائ (البقرہ) میں ہے ضلال طلب کرنے کے معنی میں ہوگا کیونکہ بھٹکنے والا طالب ہوتا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے جو آپ کی طرف نازل کیا گیا اس سے تجھے حیران پایا پس تیری اس طرف راہنمائی کی توضلال، متحیر ہونے کے معنی میں ہوگا کیونکہ گمراہی متحیر ہوتا ہے ایک قول یہ کیا گیا تجھے تیری قوم میں ضائع ہونے والا پایا پس اس نے تیری اس طرف راہنمائی کی تو اس صورت میں ضلال، ضیاع کے معنی میں ہوگا ایک قول یہ کیا گیا تجھے ہدایت سے محبت کرنے والا پایا تو تیری اس طرف راہنمائی کی۔ توضلال محبت کے معنی میں ہوگا اس معنی میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، قالو تا اللہ انک لفی ضللک القدیم۔ (یوسف) انہوں نے کہا، اللہ کی قسم، بیشک آپ تو قدیمی محبت میں مبتلا ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا کہ آپ کو مکہ کی گھاٹیوں میں گم پایا اور تجھے ہدایت دی اور تیرے دادا عبدالمطلب کی طرف لوٹا دیا۔
حضرت ابن عباس نے فرمایا : نبی کریم چھوٹے تھے کہ مکہ کی گھاٹیوں میں گم ہوگئے ابوجہل نے انہیں دیکھا کہ وہ اپنے ریوڑوں سے واپس آرہا تھا تو آپ کو آپ کے دادا عبدالمطلب کی طرف واپس لوٹا دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس طرح آپ پر احسان کیا کہ آپ کے دشمن کے ہاتھ آپ کو دادا کی طرف لوٹادیا۔ سعید بن جبیر نے کہا، نبی کریم اپنے چچا کے ساتھ ایک سفر میں نکلے ابلیس نے تاریک رات میں اونٹنی کی مہار پکڑ لی اور راستہ سے دور کردیا حضرت جبرائیل امین آئے اور ابلیس کو ایک پھونک ماری جس سے ابلیس ہند کے علاقہ میں جاپڑا اور آپ ﷺ کو قافلہ کی طرف لوٹا دیا اس طرح اللہ تعالیٰ نے آپ پر احسان کیا۔
کعب نے کہا : جب حضرت حلیمہ دودھ پلانے کا حق ادا چکیں تو وہ رسول اللہ کو لائیں تاکہ آپ کو حضرت عبدالمطلب کی طرف واپس کریں تو حضرت حلیمہ نے کعبہ کے دروازہ کے پاس سنا، اے مکہ کی وادی تجھے مبارک ہو آج تیری طرف نوردین، رونق اور جمال واپس کیا جارہا ہے اس نے کہا میں نے بچے کو رکھ دیا تاکہ میں اپنے کپڑے درست کروں تو میں نے شدید دھماکہ سنا میں متوجہ ہوئی تو میں نے بچے کو نہ پایا میں نے کہا، اے لوگو بچہ کہاں ہے ؟ انہوں نے کہا، ہم نے کوئی چیز نہیں دیکھی، میں بلند آواز میں چیخی، وامحمداہ۔ کیا دیکھتی ہوں ایک بورھا شیخ ہے اپنے عصا پر ٹیک لگائے ہوئے ہے اس نے کہابڑے بت کے پاس جاؤ اگر اس نے یہ چاہا کہ بچہ تیری طرف لوٹادے تو ایسا کرگزرے گا پھر شیخ نے بت کے گرد چکر لگایا اس کے سر کو بوسہ دیا اور کہا، اے میرے رب تیرے احسانات ہمیشہ قریش پر رہے ہیں یہ سعدیہ گمان کرتی ہے کہ اس کا بیٹا گم ہوگیا ہے اگر تو چاہتا ہے تو بچہ اسے لوٹا دے تو ہبل بت منہ کے بل گرگیا دوسرے بت بھی گرگئے انہوں نے کہا، اے شیخ ! ہم سے دور ہوجاہماری ہلاکت حضرت محمد ﷺ کے ہاتھ پر ہوگی، بوڑھے نے اپنا عصا پھینک دیا اور کا نپنے لگا اور کہا تیرے بیٹے کا ایک رب ہے وہ اسے ضائع نہیں کرے گا تو اسے تھوری دور تک تلاش کر قریش حضرت عبدالمطلب کے پاس جمع ہوگئے اور تمام مقامات پر اسے تلاش کیا تو آپ کو نہ پایا، حضرت عبدالمطلب نے کعبہ کے گرد سات چکر لگائے اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں آرزو کی کہ اسے واپس کردے اور کہا :
یارب رد ولدی محمد اردہ ربی واتخذ عندی یدا
یارب ان محمد لم یوجدا فشمل قومی کلھم تمددا۔
اے میرے رب میرے بیٹے محمد کو واپس کردو میرے رب اسے واپس کردو اور مجھ پر احسان کر اے میرے رب اگر محمد ﷺ نہ پایا گیا تو میری قوم کی جمعیت بکھر جائے گی۔
انہوں نے ایک ندا کرنے والے کو سنا جو آسمان سے نداکررہا تھا، اے لوگو ! شوروغل نہ کرو بیشک محمد ﷺ کا ایک رب ہے نہ اسے بےیارومددگار چھوڑے گا اور نہ ہی اسے ضائع کرے گا۔ بیشک محمد ﷺ تہامہ کی وادی میں سمر کے درخت کے پاس ہیں حضرت عبدالمطلب اور ورقہ بن نوفل چلے کیا دیکھتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ درخت کے نیچے کھڑے ہیں اور تہنیوں اور پتوں سے کھیل رہے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا آپ کو معراج کی رات کو بھولاہواپایا جب حضرت جبرائیل امین آپ سے الگ ہوئے جب کہ آپ ﷺ راستہ نہ جانتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے ساق عرش کی طرف راہنمائی کی۔
ابوبکر وراق اور دوسرے علماء نے فرمایا، اس کا معنی ہے آپ اپنے چچا سے محبت کرتے تھے تو تیری اپنے رب کی محبت کی طرف راہنمائی کی بسام بن عبداللہ نے کہا، آپ اپنی ذات سے ناآشنا تھے آپ ﷺ نہ جانتے تھے کہ آپ کیا ہیں تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی ذات اور حال سے آگاہ کردیا، جنیدی نے کہا آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی کتاب کے بیان میں متحیر پایا تو آپ کو بیان کی تعلیم دی اس کی وضاحت اس ارشاد میں ہے، لتبین للناس مانزل الیھم (النحل 44) تاکہ آپ لوگوں کے لیے بیان کریں جوان کی طرف نازل کیا گیا، ارشاد باری تعالیٰ ہے، لتبین لھم الذی اختلفوا فیہ (النحل 64) جس میں انہوں نے اختلاف کیا ان کے لیے اس کی وضاحت کریں۔ علماء متکلمین میں سے ایک نے کہا، جب عرب صحراء میں کوئی درخت تنہا دیکھتے جس کے ساتھ کوئی درخت نہ ہوتا تو اسے ضالہ کا نام دیتے۔ اس کے ذریعے راستہ کی طرف راہنمائی حاصل کی جاتی۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی حضرت محمد ﷺ سے فرمایا، ووجد ضالا، یعنی کوئی آپ کے دین پر نہیں تویکتا ہے تیرے ساتھ کوئی بھی نہیں میں نے تیرے ذریعے مخلوق کو اپنی طرف ہدایت دی۔
میں کہتا ہوں : یہ تمام اقوال اچھے ہیں ان میں سے کچھ معنوی ہیں اور کچھ حسی ہیں آخری قول مجھے سب سے پسند ہے، کیونکہ یہ تمام اقوال معنویہ کو جامع ہے۔ ایک قوم کا نقطہ نظر ہے : قوم جس حال پر تھی آپ بھی اسی طرح تھے ظاہر حال میں آپ ان سے کوئی اختلاف نہیں کرتے تھے جہاں تک شرک کا تعلق ہے آپ کے بارے میں اس کا گمان بھی نہیں کیا جاسکتا بلکہ آپ چالیس سال تک قوم کے عام معمول کی زندگی پر رہے۔ کلبی اور سدی نے کہا، یہ آیت اپنے ظاہر ہے یعنی آپ پر ہدایت پر نہ تھے اور آپ کی قوم بھی ہدایت پر نہ تھی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہدایت دی، یہ قول اور اس کا رد سورة شوری میں گزرچکا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے آپ کو مشرکوں میں گم پایا تو آپ کو ان سے ممتاز کردیا جس طرح یہ جملہ ہے، ضل الماء فی اللبن، پانی دودھ میں گم ہوگیا، اس معنی میں ہے، اذا ضللنا فی الارض (السجدہ 10) یعنی دفن کرنے کے وقت جب ہم مٹی سے مل جائیں گے یہاں تک کہ ہم اس سے الگ نہ ہوں گے، حضرت حسن بصری کی قرات میں ہے ووجدک ضالا فھدی، تجھے ایک گمراہ نے پالیا تو وہ تیری وجہ سے ہدایت پا گیا یہ قرات تفسیر کے انداز میں ہے، ایک قول یہ کیا گیا ہے معنی ہے تیری قوم تیری طرف نہیں آتی تھی وہ تیری قدر کو نہیں پہچانتے تھے تو اس نے مسلمانوں کو تیری طرف راہنمائی کی یہاں تک کہ وہ تجھ پر ایمان لے آئے۔
Ayah 93:8ووجدک عائلا فاغنی۔
یعنی فقیر، آپ ﷺ کے پاس کوئی مال نہ تھا تو حضرت خدیجہ کے ذریعے آپ کو غنی کردیا یہ کہا جاتا ہے : عال الرجل یعیل عیلۃ۔ جب وہ محتاج ہو۔ احیہ بن جلاح نے کہا : فمایدری الفقیر متی غناہ، وما یدری الغنی متی یعیل۔ فقیر نہیں جانتا کہ اس کی غنا کب ہوگی اور غنی نہیں جانتا کہ کب وہ محتاج ہوجائے گا۔ مقاتل نے کہا، فرضاک بما اعطاک من الرزق۔ جو تجھے رزق دیا اس کے ساتھ تجھے راضی کردیا۔ کلبی نے کہا، رزق کے ساتھ تجھے قانع بنادیا۔ ابن عساکر نے کہا، تجھے نفس کا فقیر پایاتوتیرے دل کو غنی کردیا۔ اخفش نے کہا، تجھے عیال دار پایا اس کی دلیل فاغنی ہے اس معنی میں جریر کا قول ہے : اللہ انزل فی الکتاب فریضۃ، لابن السبیل وللفقیر العائل۔ اللہ تعالیٰ نے کتاب میں مسافر اور عیال دار فقیر کے لیے حصہ لیے نازل کیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا کہ تجھے دلائل اور براہین سے فقیر پایا تو تجھے ان کے ساتھ غنی کردیا ایک قول یہ کیا گیا ہے اللہ تعالیٰ نے تجھے فتوحات کے ساتھ غنی کردیا اور کفار کے مال تجھے بطور فئی عطا کردیے۔ قشیری نے کہا، اس قول میں سوال کی گنجائش ہے کیونکہ سورت مکی ہے اور جہاد مدینہ طیبہ میں فرض ہوا۔ عام قرات عائلا ہے ابن سمیقع نے اسے عیلا پڑھا ہے جس طرح طیب اور ھین کا لفظ ہے۔
Ayah 93:9فاما الیتیم فلاتقھر۔۔۔۔ تا۔۔۔۔ فحدث۔
اس میں چار مسائل ہیں۔
تقھر کا معنی ومفہوم :
مسئلہ نمبر 1۔ فامالیتیم فلاتقھر۔ اس پر ظلم کے ساتھ تسلط نہ جمائیں اس کا حق اس کو دے دیں اور اپنے یتیمی کے دور کو یاد کریں یہ اخفش کا قول ہے۔ یہ دونوں لغتیں ایک ہی معنی میں ہیں مجاہد سے یہ مروی ہے کہ معنی ہے آپ ﷺ اسے حقیر نہ جانیں۔ نخعی، اشہب اور عقیلی نے کہا، تکھر کاف کے ساتھ ہے۔ حضرت ابن مسعود کے مصحف میں اسی طرح ہے اس بنا پر یہ احتمال موجود ہے کہ اس پر ظلم کرنے اور مال لینے کے ذریعے تسلط جمانے سے نہی ہے یتیم کو خاص کیا گیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ سوا کوئی مددگار نہیں اس کے معاملہ میں حتی کی کیونکہ پر سخت سزا مرتب کی جاتی ہے عرب کاف کی جگہ قاف اکثر استعمال کرتے ہیں۔
نحاس نے کہا : یہ غلط ہے کھرہ اس وقت بولتے ہیں جب وہ اس پر سختی کرے۔ معاویہ بن حکم سلمی کی حدیث صحیح مسلم میں ہے جب انہوں نے سلام کا جواب دینے کے ساتھ نماز میں گفتگو کی اس وقت انہوں نے کہا تھا : میرے ماں باپ آپ پر قربان، میں نے رسول اللہ سے بہتر نہ اس سے قبل کوئی معلم دیکھا اور نہ اس کے بعد کوئی معلم دیکھاجو آپ سے بہتر تعلیم دینے والاہو اللہ کی قسم، نہ آپ نے مجھ پر سختی کی، نہ مجھے مارا اور نہ ہی مجھے گالیاں دیں۔ ایک قول یہ کیا گیا، قھر کا معنی غلبہ ہے کھر کا معنی جھڑکنا ہے۔
یتیم پر مہربانی کرنے کی فضیلت۔
مسئلہ نمبر 2۔ یہ آیت یتیم پر مہربانی کرنے، اس کے ساتھ نیکی کرنے اور اس پر احسان کرنے پر دلالت کرتی ہے۔ یہاں تک کہ قتادہ نے کہا : یتیم کے لیے رحیم باپ کی طرح ہوجا۔ حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم کی بارگاہ میں دل کی سختی کی شکایت کی تو حضور نے ارشاد فرمایا، اگر تو نری کا ارادہ رکھتا ہے تویتیم کے سر پر ہاتھ پھیرا کر مسکین کو کھانا کھلایا کر۔ صحیح میں حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا ان دو کی طرح ہیں۔ اور سبابہ اور وسطی کے ساتھ اشارہ کیا۔ حضرت ابن عمر کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا کہ یتیم جب روتا ہے تو اس کے رونے کی وجہ سے رحمن کا عرش لرز جاتا ہے اللہ تعالیٰ فرشتوں سے کہتا ہے۔ اے میرے فرشتو۔ کس نے اس یتیم کو رلایا ہے جس کے باپ کو میں نے متی میں دبا دیا تھا ؟ فرشتے عرض کرتے ہیں اے ہمارے رب تو خوب جانتا ہے اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے فرماتا ہے۔ اے میرے فرشتو۔ جس نے اسے خاموش کردیا اور اسے راضی کیا اس پر گواہ ہوجاؤ میں اسے قیامت کے روز راضی کروں گا۔ حضرت ابن عمر جب کسی یتیم کو دیکھتے تو اس کے سر پر ہاتھ پھیرا کرتے اسے کوئی نہ کوئی چیز دیا کرتے۔
حضرت انس سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاف فرمایا، من ضم یتیما فکان فی نفقتہ وکفاہ موتتہ کان لہ حجابا من النار یوم القیامۃ ومن مسح براس یتیم کان لہ بکل شعرۃ حسنۃ۔ جس نے یتیم کو اپنے ساتھ ملایا وہ یتیم اس کے خرچہ میں شامل تھا اور وہ آدمی اس کی ضروریات پوری کرتا ہو تو وہ یتیم قیامت کے روز آگ سے حجاب ہوگا۔ جس نے یتیم کے سر پر ہاتھ پھیراتو اس کے لیے ہر بال کے بدلے نیکی ہوگی۔ اکثم بن صیفی نے کہا، بےوقعت چار ہیں، چغل خور، جھوٹ بولنے والا، مقروض، یتیم۔
Ayahs 93:10–11سائل اور اس کے ساتھ پیش آنے کا طریقہ۔
مسئلہ نمبر 3۔ واما السائل فلاتنھر۔ سائل کو نہ جھڑکیں۔ یہ مسائل کے بارے میں سخت بات کرنے سے نہی ہے بلکہ اسے تھوڑا مال دے کر یا اچھا جواب دے کر واپس کردو، یہ قتادہ اور دوسرے علماء نے قول کیا ہے حضررت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، جب سائل سوال کرے تو تم میں سے کسی کو اسے عطا کرنے سے کوئی چیز نہ روکے اگرچہ وہ عطا کرنے والا سائل کے ہاتھوں میں دو سونے کے کنگن دیکھے حضرت ابراہیم ابن ادہم نے کہا، سائلین کتنے اچھے لوگ ہیں جو ہمارا زاد راہ آخرت کے لیے اٹھا کرلے جاتے ہیں ابراہیم نخعی نے کہا، سائل آخرت کا ڈا کیا ہے وہ تمہارے دروازے پر آتا ہے وہ کہتا ہے کیا تم اپنے اہل کے لیے کوئی چیز بھیجنا چاہتے ہو ؟ روایت بیان کی گئی کہ نبی کریم سے روایت کی گئی ہے سائل کو تھوڑا مال دے کر یا اچھا جواب دے کر واپس کرو بیشک وہ تمہارے پاس آتا ہے جو نہ انسانوں میں سے ہوتا ہے اور نہ جنوں میں سے۔ وہ دیکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں جو عطا کیا ہے اس میں تمہارا کیا رویہ ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ یہاں سائل سے مراد وہ ہے جو دین کے بارے میں سوال کرتا ہے یعنی اسے آپ سختی سے نہ جھڑکیں اسے نرمی سے جواب دیں یہ سفیان کا قول ہے۔ ابن عربی نے کہا جو آدمی دین کے بارے میں سوال کرے تو اس کا جواب عالم پر فرض کفایہ ہے یہ اسی طرح ہے جس طرح نیکی کا سوال کرنے والے کو عطا کیا جاتا ہے۔
حضرت ابودرداء حدیث کا علم رکھنے والوں کو دیکھتے تو ان کے لیے اپنی چادر بچھادیتے اور کہتے، اے رسول اللہ کے محبوبو ! خوش آمدید۔ ابوہارون عبدی نے حضرت ابوسعید خدری سے روایت نقل کی ہے کہ جب ہم حضرت ابوسعید خدری کے پاس آئے تو وہ کہتے رسول اللہ کی وصیت کے مستحق افراد کو خوش آمدید۔ بیشک رسول اللہ نے ارشاد فرمایا، لوگ تمہاری اتباع کرنے والے ہیں لوگ تمہارے پاس زمین کی اطراف سے آئیں گے وہ دین سیکھنا چاہتے ہوں گے جب وہ تمہارے پاس آئیں تو انہیں بھلائی کی وصیت کرو۔ ایک روایت میں ہے، مشرق کی جانب سے تمہارے پاس لوگ آئیں گے۔
الیتیم اور السائل اس فعل کی وجہ سے منصوب ہے جو اس کے بعد ہے منصوب کا حق تو یہ ہے کہ وہ فاء کے بعد ہوتا ہے تقدیر کلام یوں ہے، مھما یکن من شئی فلاتقھر الیتیم ولاتنھر السائل۔ روایت بیان کی گئی ہے کہ نبی کریم نے ارشاد فرمایا، میں نے اپنے رب سے سوال کیا میں پسند کرتا ہوں کہ میں نے وہ سوال نہ کیا ہوتا میں نے عرض کی، اے میرے رب تو نے حضرت ابراہیم کو خلیل بنایا تو نے حضرت موسیٰ سے کلام کی تو نے حضرت داود کے لیے پہاڑوں کو مسخر کردیا وہ اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے ہیں تو نے فلاں فلاں کو یہ چیز دی، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کیا میں نے تجھے یتیم نہیں پایا تو تجھے پناہ دی کیا میں نے تجھے غافل نہیں پایاتو تجھے ہدایت دی کیا میں نے تجھے عیال دار نہیں پایا تو تجھے غنی کردیا کیا میں نے تیرے سینے کو کھلا نہیں کردیا، میں نے تجھے وہ چیز عطا نہ کی جو اس سے قبل کسی کو نہ دی تھی کیا میں نے تجھے خلیل نہیں بنایا جس طرح میں نے حضرت ابراہیم کو خلیل بنایا ؟ میں نے عرض کی کیوں نہیں اے میرے رب۔
اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں کا شکر ادا کرنا اور اس کے طریقے۔
مسئلہ نمبر 4۔ واما بنعمۃ ربک فحدث۔ اللہ تعالیٰ نے تم پر جو نعمتیں کی ہیں شکر اور ثنا کے ذریعے انہیں عام کر۔ اللہ کی نعمتوں کا ذکر اور ان کا اعتراف یہ بھی شکر ہے۔ ابن ابی نجیح نے مجاہد سے یہ قول نقل کیا ہے کہ واما بنعمۃ ربک سے مراد ہے قرآن۔ ان سے یہ قول بھی مروی ہے کہ اس سے مراد نبوت ہے یعنی جس کے ساتھ تمہیں بھیجا گیا ہے اس کی تبلیغ کرو خطاب رسول اللہ کو ہے اور حکم آپ کے لیے اور دوسرے لوگوں کے لیے ہے۔
حضرت حسن بن علی سے مروی ہے جب تو بھلائی پائے تو اچھا عمل کرے تو اپنے قابل اعتماد بھائیوں میں اس کا ذکر کرو۔ عمرو ابن میمون سے مروی ہے جب کوئی آدمی اپنے ان بھائیوں سے ملے جو اس پر اعتماد کرتے ہیں تو وہ اسے کہے، اللہ تعالیٰ نے اسے گزشتہ رات اتنی اتنی نماز پڑھنے کی توفیق دی۔ ابوفر اس عبداللہ بن غالب جب صبح کرتے تو یہ کہتے اللہ تعالیٰ نے گزشتہ رات میرے حصہ میں یہ یہ مقدر کیا میں نے اتنا قرآن حکیم پڑھا، میں نے اتنی نماز پڑھی میں نے اتنا اللہ کا ذکر کیا اور میں نے یہ عمل کیا، ہم نے ان سے کہا، اے ابوفراس، آپ جیسے آدمی تو یہ بات نہیں کرتے انہوں نے کہا، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے، واما بنعمۃ رب فحدث۔ جب کہ تم یہ کہتے ہو۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا ذکر نہ کرو، اس کی مثل ایوب سختیانی اور ابورجائ، عطاردی سے مروی ہے حضرت بکر بن عبداللہ مزنی نے کہا نبی کریم نے ارشاد فرمایا، من اعطیہ خیرافلم یرعلیہ سہی بغیض اللہ معادیا لنعم اللہ۔ جس کو خیر سے نوازا گیا اور اس پر وہ خیر نہ دیکھی گئی تو اسے اللہ تعالیٰ کی مبغوض اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے دشمنی رکھنے والا کہا جائے گا۔
شعبی نے حضرت نعمان بن بشیر سے روایت نقل کی ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا جس نے قلیل کا شکریہ ادا نہ کیا اس نے کثیر کا شکریہ ادا نہیں کیا۔ جس نے لوگوں کا شکریہ ادانہ کیا اس نے اللہ کا شکریہ ادا نہ کیا نعمتوں کا اظہار شکر ہے۔ ذکر کو ترک کرنا کفر ہے جماعت رحمت ہے اور فرقت عذاب ہے۔ نسائی نے حضرت مالک بن نضلہ جشمی سے روایت نقل کی ہے میں رسول اللہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا تو آپ نے مجھے بوسیدہ کپڑوں میں دیکھا آپ نے فرمایا کیا تیرے پاس مال ہے میں نے عرض کی جی ہاں، یارسول اللہ ہر قسم کا مال ہے فرمایا، جب اللہ تعالیٰ تجھے مال عطا کرے تو اس کا اثر تجھ پر دکھائی دیاجانا چاہیے۔ حضرت ابوسعید نے رسول اللہ سے روایت نقل کی کہ فرمایا، ان اللہ جمیل یحب الجمال ویحب ان یری اثر نعمتہ علی عبدہ۔ اللہ تعالیٰ جمیل ہے جمال کو پسند کرتا ہے اور وہ پسند کرتا ہے اس کے احسان کا اثر اس کے بندے پر دکھائی دے۔
فصل : بزی کی ابن کثیر سے روایت ہے کہ قاری اللہ اکبر کہے، مجاہد نے حضرت ابن عباس سے انہوں نے حضرت بن کعب سے روایت نقل کی ہے کہ نبی کریم کا معمول تھا جب سورة الضحیٰ کے آخر تک پہنچتے تو دوسورتوں کے درمیان تکبیر کہتے یہاں تک کہ قرآن حکیم ختم کرتے سورت کے اختتام کو اپنی تکبیر کے ساتھ نہ ملاتے بلکہ دونوں کے درمیان تھوڑا سافاصلہ کرتے گویا اس کی وجہ یہ ہے کچھ روز نبی کریم پر وحی نہ آئی تو مشرکوں میں سے کچھ لوگوں نے کہا، اس کے صاحب نے اسے چھوڑ دیا اور اس سے ناراض ہوگیا تو یہ سورت نازل ہوئی تو رسول اللہ نے اللہ اکبر کے الفاظ کہے۔ مجاہد نے کہا میں نے حضرت ابن عباس پر پڑھا تو آپ نے مجھے تکبیر کا حکم دیا اور مجھے حضرت ابی نے نبی کریم ﷺ سے یہ روایت نقل کی ہے باقی کو قرات میں تکبیر نہ کہتے کیونکہ یہ قران میں زیادتی کا ذریعہ ہے۔ میں کہتا ہوں قرآن نقل متواتر سے ثابت ہے اس کی سورتیں، آیات اور حروف سب نقل متواتر سے ثابت ہیں نہ اسمیں زیادتی ہے اور نہ کمی ہے تکبیر اس بناء پر قرآن نہیں جب بسم اللہ الرحمن الرحیم جو مصحف کے خط میں مصحف میں لکھے ہوئے ہونے کے باوجود قرآن نہیں توتکبیر کیسے قرآن ہوگی جب کہ وہ لکھی ہوئی بھی نہیں، یہ اخبار احاد کی وجہ سے سنت ہے ابن کثیر نے اسے مستحب قرار دیا ہے اسے واجب قرار نہیں دیا جس نے اسے ترک کیا اس نے غلطی کی۔
حاکم ابوعبداللہ محمد بن عبداللہ حافظ نے بخاری اور مسلم کی شرائط پر مستدرک میں حدیث ذکر کی ہے ہمیں ابویحییٰ محمد بن عبداللہ بن محمد بن عبداللہ بن یزید سے جو قاری تھے مکہ مکرمہ میں مسجد حرام کے امام تھے وہ ابوعبداللہ محمد بن علی بن زید صائغ سے وہ احمد بن محمد بن قاسم بن ابی بزہ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ میں نے عکرمہ بن سلیمان کو یہ کہتے ہوئے سنا میں نے اسماعیل بن عبداللہ بن قسطنطین پر قرآن حکیم سنایا۔ جب وہ والضحیٰ ۔ تک پہنچاتو انہوں نے مجھے کہا، تو ہر سورت کے اختتام پر اللہ اکبر کہا کر۔ میں نے عبداللہ بن کثیر کو قرآن حکیم سنایا جب میں والضحیٰ تک پہنچا تو انہوں نے کہا، ختم کرنے تک تکبیر کہہ انہیں عبداللہ بن کثیر نے خبر دی کہ انہوں نے مجاہد کو پرھ کر سنایا اور مجاہد نے انہیں خبر دی کہ حضرت ابن عباس نے انہیں اس امر کا حکم دیا، حضرت ابن عباس نے انہیں خبر دی کہ حضرت ابی بن کعب نے انہیں اس امر کا حکم دیا کہ رسول اللہ نے انہیں اس چیز کا حکم دیا، یہ حدیث صحیح ہے شیخین نے اسے نقل کیا ہے۔