Ayah 94:1الم نشرح لک صدرک۔
شرح صدر سے مراد اس کا کھولنا ہے یعنی کیا ہم نے آپ کے سینہ کو اسلام کے لیے کھول نہیں دیا، ابوصالح نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ کیا ہم نے آپ کے لیے آپ کے دل کو نرم نہیں کردیا، ضحاک نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے صحابہ نے عرض کی یارسول اللہ کیا سینہ کو کھولا جاتا ہے ؟ فرمایا، ہاں اسے کھولا جاتا ہے۔ صحابہ نے عرض کیا یارسول اللہ کیا اس کی کوئی نشانی ہے ؟ فرمایا، ہاں دنیا (دھوکے کے گھر) سے پہلوتہی اور آخرت (دار خلود) کی طرف رجوع اور موت کے آنے سے پہلے موت کی تیاری، یہ معنی سورة الزمر میں آیت افمن شرح اللہ صدرہ للاسلام فھو علی نور من ربہ (زمر 22) میں گزرچکا ہے۔
حضرت حسن بصری سے مروی ہے کہ، الم نشرح لک صدرک کا معنی ہے حکمتوں اور علم سے اسے بھردیا گیا۔ صحیح میں حضرت انس بن مالک سے وہ اپنی قوم کے ایک فرد حضرت مالک بن صعصعہ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم نے ارشاد فرمایا، اس اثناء میں کہ میں نیند اور بیدار کی حالت میں بیت اللہ شریف کے پاس تھا کہ میں نے ایک کہنے والے کو سنا میں تین میں سے ایک تھا میرے پاس سونے کا ایک ٹب لایا گیا جس میں زمزم کا پانی تھامیراسینہ فلاں سے فلاں جگہ تک کھولا گیا قتادہ نے کہا میں نے کہا اس سے کیا مراد ہے ؟ کہا میرے بطن کے نیچے سے کہا میرادل نکالا گیا میرے دل کو زمزم کے پانی سے دھودیا گیا پھر اسے اس جگہ رکھ دیا گیا پھر اسے ایمان اور حکمت کے ساتھ بھر دیا گیا۔ حدیث میں قصہ موجود ہے۔
نبی کریم ﷺ سے مروی ہے کہ میرے پاس دو فرشتے ایک پرندے کی صورت میں آئے جن کے ساتھ پانی اور برف تھی ان میں سے ایک نے میرے سینے کو چیرا اور دوسرے نے اپنی چونچ کے ساتھ اسے کھولا اور اسے دھودیا ایک اور حدیث میں ہے، جاءنی ملک فشق عن قلبی فاستخرج منہ غدرۃ وقال، قلبک وکیع وعیناک بصیرتان واذنان سمعتان انت محمد رسول اللہ لسانک صادق ونفسک مطمئنۃ وخلقک قثم وانت قیم۔ میرے پاس ایک فرشتہ آیا اس نے میرے دل کو چیرا اس سے دل نکالا اور کہا، تیرا دل مضبوط اور تیری آنکھیں روشن ہیں تیرے کان سننے والے ہیں تو محمدرسول اللہ ہے تیری زبان سچ بولنے والی ہے۔ تیرانفس مطمئن ہے تیرے اخلاق جامع ہیں اور توامور کا نگران ہے اہل لغت نے کہا، وکیع کا معنی ہے جو چیز اسمیں رکھی جائے اس کی حفاظت کرنے والایہ لفظ بولا جاتا ہے : سقاء وکیع یعنی ایسا مشکیزہ جو مضبوط ہو جو کچھ اسمیں رکھاجائے اس کی حفاظت کرنے والا ہو، اسی طرح یہ جملہ بولا جاتا ہے، واستوکعت معدتہ، اس کا معدہ مضبوط ہے قثم کا معنی ہے جامع، یہ جملہ بولا جاتا ہے، رجل قثوم للخیر، ایسا آدمی جو بھلائی کا جامع ہو۔
الم نشرح کا معنی ہے یقینا ہم نے اسے کھول دیا ہے اس پر دلیل اس کا معطوف ووضعنا عنک وزرک۔ یہ تاویل پر عطف ہے تنزیل پر نہیں کیونکہ اگر یہ تنزیل پر عطف ہوتا تو کلام یوں ہوتی، ونضع عنک وزرک یعنی عطف معنی کے اعتبار سے ہے لفظ وصیغہ کے اعتبار سے نہیں یہ چیز اس معنی پر دال ہے الم نشرح کا معنی قدشرحنا ہے حرف لم نافیہ ہے اور استفہام میں بھی نفی کا تصور موجود ہوتا ہے جب دونوں اکٹھے ہوگئے تو تحقیق کی طرف لوٹ گئے جس طرح اللہ کا فرمان ہے، الیس اللہ باحکم الحاکمین۔ اس کا معنی ہے اللہ احکم الحاکمین ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، الیس اللہ بکاف عبدہ (الزمر 36) کیا اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو کافی نہیں، اس کی مثل جریر کا شعر ہے جس میں وہ عبدالملک بن مروان کی مدح کرتا ہے، الستم خیر من رکب المطایا۔ یقینا تم سواریوں میں سے سوار ہونے والوں میں سے بہتر ہو۔
Ayahs 94:2–3ووضعنا عنک۔۔۔ تا۔۔۔۔ ظھرک۔
ووضعنا عنک وزرک۔ ہم نے آپ سے گناہ کو اتار دیا۔ حضرت انس نے وحللنا وحططنا بھی پڑھا ہے حضرت ابن مسعود نے اسے وحللناعنک وقرک پڑھا ہے۔ یہ آیت بھی اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی طرح ہے لیغفرک اللہ ماتقدم من ذنبک وماتاخر۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے نبوت سے قبل جو کچھ تھا اس کو آپ سے دور کردیا، وزر کا معنی گناہ ہے معنی یہ ہوگا کہ دورجاہلیت کے جن معمولات میں آپ عمل پیرا تھے ان کو آپ سے دور کردیا کیونکہ نبی کریم کے اکثر معمولات زندگی اپنی قوم جیسے تھے اگرچہ آپ نے کسی بت کی کبھی بھی عبادت نہ کی، قتادہ، حسن بصری اور ضحاک نے کہا، نبی کریم کے کچھ اعمال تھے جنہوں نے آپ کو بوجھل کررکھا تھا اللہ تعالیٰ نے ان سب کو آپ کے لیے بخش دیا۔
الذی انقض ظھرک۔ اس نے اتنا بوجھل کردیا یہاں تک کہ اس کی آواز سنائی دی گئی اہل لغت کہتے ہیں، انقص الحمل ظھر الناقۃ۔ یہ جملہ اس وقت بولتے ہیں جب تو بوجھ کی زیادتی کی وجہ سے اس کی آواز سنے اسی طرح تو کجاوے کی آواز سنی جمیل نے کہا :
وحتی تداعت بالنقیض حبالہ وھمت بوانی زورہ ان تحطما۔ یہاں تک کہ اس کی رسیوں نے آواز نکالنے کی دعوت دی اور اس کے سینے کی ہڈیوں نے ٹوٹنے کا ارادہ کیا۔ بوانی زورہ کا معنی ہے اس کے سینے کی ہڈیاں۔ وزر سے مراد بھاری بوجھ ہے محاسبی نے کہا، اعمال کا وہ بوجھ جسے اللہ تعالیٰ اگر معاف نہ کرتا جس نے آپ کی کمر کو بوجھل کررکھا تھا اور کمزور کردیا تھا۔ انبیاء کے خلاف اولی اعمال کو اس بوجھ سے بیان کیا ہے جب کہ وہ سب بخش دیے گئے ہیں کیونکہ انبیاء ان کو بہت اہمیت دیتے ہیں ان پر شرمندگی کا اظہار کرتے ہیں اور ان پر حسرت کرتے ہیں۔ سدی نے کہا، ہم نے آپ سے بوجھ کو اتار دیا ہے حضرت عبداللہ بن مسعود کی قرات میں وحططنا عنک وقرک ہے جس کا معنی یہی ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے ہم نے آپ سے دور جاہلیت کے اعمال کا بوجھ اتاردیا ہے حسین بن فضل نے کہا، یعنی جو اعمال خطا یانسیان کی وجہ سے صادر ہوئے ان کا بوجھ اتاردیا ہے ایک قول یہ کیا گیا آپ کی امت کے گناہ بخش دیے کیونکہ آپ کا دل ان میں مشغول رہتا۔
عبدالعزیز بن یحییٰ اور بوعبیدہ نے کہا : ہم نے نبوت اور اس کی بجاآوری کی ذمہ داریوں آپ کے لیے ہلکی کردیں یہاں تک کہ وہ آپ پر کچھ بوجھ کا باعث نہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے ابتداء میں وحی آپ پر ثقیل ہوتی یہاں تک کہ آپ نے ارادہ کرلیا تھا کہ آپ اپنے آپ کو پہاڑ کی چوٹی سے نیچے گرادیں کہ جبرائیل امین حاضر ہوئے اور اپنا دیدار کرایا اور عقل کی تبدیلی کا جو اندیشہ تھا اس کو آپ سے زائل کردیا گیا ایک قول یہ کیا گیا ہے ہم نے آپ کو بوجھ اٹھانے سے محفوظ رکھا اور نبوت سے قبل آپ کو چالیس سال تک آلودگیوں سے محفوظ رکھا یہاں تک کہ آپ پر وحی نازل ہوئی جب کہ آپ آلودگیوں سے پاک تھے۔
Ayah 94:4ورفعنالک ذکرک۔
مجاہد نے کہا، یعنی آذان میں آپ کا نام بلند کیا، اس بارے میں حضرت حسان بن ثابت کے اشعار ہیں۔
وضم الالہ اسم النبی الی اسمہ اذاقال فی الخمس الموذن اشھد۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کا نام اپنے نام سے ملادیا جب پانچ آذانوں میں موذن اشھد کہتا ہے۔ ضحاک نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے اللہ تعالیٰ آپ کو ارشاد فرماتے ہیں میرا ذکر نہیں کیا گیا مگر تیرا میرے ساتھ ذکر کیا گیا آذان میں، اقامت میں، تشہد میں، جمعہ کے روز منبر پر، عیدالفطر کے دن، عیدالاضحی کے دن، ایام تشریق میں، عرفہ کے دن، جمروں کے قریب، صفا ومروہ پر، نکاح کے خطبہ میں اور مشرق ومغرب میں۔ اگر ایک بندہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے جنت دوزخ اور ہر شی کی تصدیق کرے اور اس بات کی گواہی نہ دے کہ حضرت محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں تو وہ کسی چیز سے نفع نہیں اٹھائے گا اور وہ کافر ہوگا ایک قول یہ کیا گیا ہے ہم نے آپ کے ذکر کو بلند کردیا ہم نے آپ سے پہلے انبیاء پر نازل ہونے والی کتابوں میں آپ کا ذکر کیا ہم نے انہیں آپ کے بارے میں بشارت دینے کا حکم دیا کوئی دین نہیں مگر آپ کا دین اس پر غالب آکر رہے گا ایک قول یہ کیا گیا ہم نے زمین میں مومنوں کے ہاں آپ کے ذکر کو بلند کردیا اور ہم آخرت میں آپ کا ذکر بلند کریں گے کہ ہم آپ کو مقام محمود اور باعزت درجات عطا کریں گے۔
Ayahs 94:5–8فان مع العسریسرا، ان مع العسر یسرا۔
بے شک تنگی اور سختی کے ساتھ آسانی یعنی وسعت اور غنا ہے پھر اسی ارشاد کو مکررذکر کیا ایک قوم نے یہ کہا یہ تکرار کلام کی تاکید ہے جس طرح یہ جملہ بولا جاتا ہے، ارم ارم، پھینکو پھینکو۔ اعجل اعجل جلدی کرو، جلدی کرو۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، کلا سوف تعلمون ثم کلاسوف تعلمون۔ ہرگز نہیں عنقریب تم جان لوگے پھر ہرگز نہیں عنقریب تم جان لوگے اس کی مثال جواب کے تکرار میں ہے، بلی، بلی، لا، لا، یہ اطناب اور مبالغہ کے لیے ہے، یہ فراء کا قول ہے اس معنی میں شاعر کا قول ہے، ھمت بنفسی بعض الھموم، فاولی لنفسی اولی لھا۔ میں نے اپنے بارے میں ایسے امور کا ارادہ کیا جو میرے لیے ہلاکت کا باعث تھے جو ہلاکت کا باعث تھے۔
ایک قوم کا نقطہ نظر ہے کہ عربوں کی عادت ہے جب وہ کسی معرف بللام اسم کو ذکر کیں پھر اسے دوبارہ لائیں تو اس سے مراد پہلے والی ذات ہوتی ہے اگر وہ نکرہ ذکر کریں پھر اسے دوبارہ ذکر کریں تو دوسرا پہلے کا غیر ہوتا ہے یہاں آسانیاں دو ہیں تاکہ امید کے لیے زیادہ قوی ہو اور صبر پر زیادہ برانگیختہ کرنے والا ہو یہ ثعلب کا قول ہے۔ حضرت ابن عباس کا قول ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے ایک تنگی پیدا کی ہے اور دو آسانیاں پیدا کی ہیں ایک تنگی دو آسانیوں پر غالب نہیں ہوگی نبی کریم سے اس صورت کی فضیلت میں ایک حدیث ہے، لن یغلب عسر یسرین۔ ایک تنگی دو آسانیوں پر غالب نہیں آئے گی، حضرت ابن مسعود نے فرمایا، قسم ہے اس ذات پاک کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اگر تنگی پتھر میں ہوتوآسانی اسے تلاش کرلے گی یہاں تک کہ اس میں داخل ہوجائے گی ایک تنگی دو آسانیوں پر کبھی غالب نہیں آئے گی۔ حضرت ابوعبیدہ بن جراح نے حضرت عمر بن خطاب کی طرف خط لکھا جس میں رومیوں کے لشکروں کا ذکر کیا اور ان سے جو خوف محسوس ہورہا تھا اس کا ذکر کیا، حضرت عمر نے ان کی طرف خط لکھا، امابعد جب بھی بندہ مومن پر کسی جگہ سختی آتی ہے اللہ تعالیٰ اس کے بعد آسانی پیدا فرما دیتا ہے۔ بیشک ایک تنگی دو آسانیوں پر ہرگز غالب نہیں آسکتی۔ اللہ تعالیٰ کی کتاب میں ارشاد ہوتا ہے : یا ایھا الذین آمنواصبروا وصابروا ورابطوا، وتقواللہ لعلکم تفلحون۔ (آل عمران) اے ایمان والو تم صبر کرو اور ثابت قدم رہو (دشمن کے مقابلہ میں) اور کمربستہ رہو (خدمت دین کے لیے) اور (ہمیشہ) اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ (اپنے مقصد میں کامیاب ہوجاؤ۔
ایک قوم نے کہا، ان میں سے جرجانی بھی ہے، یہ ایسا قول ہے جس میں اعتراض کی گنجائش ہے اگر اس استدلال کو تسلیم کرلیاجائے تو ضروری ہوتا کہ جب ایک آدمی کہے، ان مع الفارس سیف، ان مع الفارس سیف۔ کہ سوار ایک ہو اور تلواریں دو ہوں۔ جو بات صحیح ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو مبعوچ کیا جب کہ آپ کم مال رکھنے والے تھے مشرکوں نے آپ کو فقر و تنگدستی کی عار دلائی یہاں تک کہ انہوں نے کہا، ہم آپ کے لیے مال جمع کرتے ہیں، آپ ﷺ غمگین ہوگئے اور خیال یہ کیا کہ ان لوگوں نے آپ ﷺ کے فقر کی وجہ سے آپ کی تکذیب کی ہے پس اللہ تعالیٰ نے آ پکوعزت دی اور اللہ تعالیٰ نے آپ پر جو نعمتیں کی تھیں ان کا شمار کیا، اور اپنے اس ارشاد کے ساتھ غنا کا وعدہ کیا، فان مع العسر یسرا۔ یعنی انہوں نے فقر کی وجہ سے جو عار دلائی ہے وہ آپ کو غمگین نہ کرے بیشک اس تنگی کے ساتھ جلدی یعنی دنیا میں آسانی ملنے والی ہے تو جو وعدہ آپ سے کیا تھا اسے پورا کردیا آپ کا وصال نہ ہوایہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ پر حجاز اور یمن کے علاقہ کو فتح کیا آپ کو مال میں وسعت عطا فرمائی یہاں تک کہ آپ ایک آدمی کو دوسواونٹ عطا فرماتے ہیں اور عمدہ عطیات دیا کرتے تھے اور اپنے اہل کے لیے سال بھر کے نفقہ کا انتظار فرماتے تھے یہ سب فضل و احسان دنیا سے متعلق تھا اگرچہ یہ نبی کریم کے ساتھ خاص ہے اس میں آپ کی امت کے بعض افراد بھی داخل ہوں گے۔ ان شاء اللہ۔
پھر آخرت کے دوسرے فضل کا آغاز فرمایا اس میں رسول اللہ کو دلاسا دیا ہے اس کا آغاز کرتے ہوئے فرمایا، ان مع العسر یسرا۔ یہ ایک اور چیز ہے اس کے ابتدا پر دلیل حروف عطف فائ، واؤ وغیرہ سے خالی ہونا ہے جو عطف پر دلالت کرتے ہیں یہ تمام مومنین کے لیے عام وعدہ ہے کوئی بھی اس سے خارج نہیں یعنی دنیا میں مومنوں کے لیے تنگی کے ساتھ آخر تمہیں لامحالہ آسانی ہوگی بعض اوقات دنیا اور آخرت کی آسانی جمع ہوجائے گی حدیث طیبہ میں ہے جو لن یغلب عسرہ یسرین سے مراد ایک تنگی دو آسانیوں کا پر ہرگز غالب نہیں آئے گی اگر غالب آئے بھی تو ایک پر غالب آئے گی وہ دنیا کی آسانی ہے جہاں تک کہ آخرت کا تعلق ہے وہ ہر صورت ہوکر رہے گی اس پر کوئی چیز غالب نہیں آسکتی یا یہ کہا جائے گا کہ عسر سے مراد اہل مکہ کا نبی کریم کو مکہ مکرہ سے نکالنا ہے اور یسر سے مراد فتح مکہ کے روز دس ہزار کے لشکر کے ساتھ مکہ مکرمہ میں عزت وشرف کے ساتھ داخل ہونا ہے۔
فاذا فرغت فانصب، والی ربک فارغب۔
اس میں دو مسئلے ہیں :
فرغت اور فانصب کا معنی مفہوم۔
مسئلہ نمبر 1۔ فاذا فرغت۔ حضرت ابن عباس اور قتادہ نے کہا، جب آپ نماز سے فارغ ہوجائیں تو دعا میں مبالغہ کریں اور اللہ تعالیٰ سے اپنی حاجت کا سوال کریں، حضرت ابن مسعود نے فرمایا، جب آپ فرائض سے فارغ ہوں تورات کے قیام میں مصرورف ہوجائیں۔ کلبی نے کہا، جب آپ رسالت کی تبلیغ سے فارغ ہوں تو اپنے لیے مومنین اور مومنات کے لیے استغفار کریں۔ حسن اور قتادہ نے کہا، جب آپ اپنے دشمن کے ساتھ جہاد سے فارغ ہوں تو اپنے رب کی عبادت میں مصروف ہوجائیں مجاہد نے کہا جب دنیا سے فارغ ہوجائیں تو اپنی نماز میں شروع ہوجائیں اس کی مثل حجرت حسن بصری سے مروی ہے حجرت جنید نے کہا، جب مخلوق کے معاملہ سے فارغ ہوں تو حق کی عبادت میں کوشش کی جائے۔ ابن عربی نے کہا جس نے اس آیت، فانصب، کو صاد کے کسرہ اور ابتدا میں ہمزہ قطعی کے ساتھ پڑھا تو وہ بدعتی ہے انہوں نے کہا، اس کا معنی ہے امام کو معین کیجئے جو آپ کا نائب ہو۔ یہ قرت میں باطل ہے معنی میں باطل ہے کیونکہ نبی کریم نے کسی کو اپنا خلیفہ نہیں بنایا۔ بعض جہلاء نے اسے فانصب، پڑھا ہے معنی ہے جب تو جہاد سے فارغ ہو تو اپنے شہر کی طرف لوٹنے میں جلدی کیجئے یہ بھی قرات کے اعتبار سے باطل ہے کیونکہ اجماع کے خلاف ہے لیکن اس کا معنی صحیح ہے کیونکہ رسول اللہ کا ارشاد ہے۔ السفر قطعۃ من العذاب یمنع احدکم نومہ، طعامہ وشرابہ فاذا قضی احدکم نھمتہ فلیعجل الرجوع الی اھلہ۔ سفر عذاب کا ایک ٹکڑا ہے وہ تمہیں نیند، کھانے اور مشروب سے روک دیتا ہے جب تم میں سے کوئی اپنی حاجت سے فارغ ہو تو وہ اپنے گھر کی طرف لوٹنے میں جلدی کرے۔ لوگوں میں از روئے عذاب کے سب سے سخت اور ازروئے ٹھکانہ کے سب سے برا وہ ہوگا جو صحیح معنی لے اور اپنی جانب سے اس پر قرات یا حدیث سوار کردے وہ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولنے والا ہے، اس کے رسول پر جھوٹ بولنے والا ہے، جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولے اس سے بڑھ کر کون ظالم ہے۔
مہدوی نے کہا : ابوجعفر منصور سے مروی ہے کہ اس نے الم نشرح، حاء کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ بعید ہے کبھی اس کی تاویل نون خفیفہ کے ساتھ کی جاتی ہے پھر وقف میں نون کی الف سے بدل دیا پھر فصل کو وقف پر محمول کیا، پھر الف کو حذف کردیا گیا اس پر بطور دلیل یہ شعر پڑھا : اضرب عنک الھموم طارقھا، ضربک باسوط تونس الفرس۔ یہاں اضرب کو اضربین مراد لیا ہے ابوسمال سے مروی ہے، فاذافرغت یعنی راء کے نیچے کسرہ ہے یہ بھی اس میں لغت ہے اسے فرغب بھی پڑھا گیا ہے یعنی لوگوں کو اس امر کی طرف رغبت دلائیے جو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔
مسجد میں کھیلنا اور اس کے احکام
مسئلہ نمبر 2۔ ابن عربی نے کہا، شریح سے یہ بات مروی ہے کہ وہ کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے جو عید کے روز کھیل رہے تھے شریح نے کہا، شارع نے اس کا توحکم نہیں دیا۔ اس میں (ان کے قول میں) اعتراض کی گنجائش ہے کیونکہ حبشی عید کے روز مسجد نبوی میں ڈھال اور برچھا کے ساتھ کھیلا کرتے تھے جبکہ نبی کریم انہیں دیکھ رہے ہوتے تھے۔ حضرت ابوبکر صدیق رسول اللہ کے گھر میں حضرت عائشہ صدیقہ کے ہاں داخل ہوئے جبکہ ان کے ہاں انصار کی بچیوں میں سے دوبچیاں گا رہی تھیں حضرت ابوبکر صدیق نے فرمایا، کیا رسول اللہ کے گھر میں شیطان کی مزمور (گیت) ہے ؟ رسول اللہ نے فرمایا، اے ابوبکر ان دونوں کو چھوڑ دو کیونکہ یہ یوم عید ہے اس میں اعمال کی کوشش سے برا کہنا لازم نہیں آتا بلکہ یہ مخلوق کے لیے مکروہ ہے۔