Ayahs 93:1–32:۔ ” والضحیٰ “ جمہور مفسرین نے لکھا ہے کہ کسی مصلحت سے چند دن جبریل (علیہ السلام) وحی لے کر نہ آئے تو مشرکین نے کہنا شروع کردیا کہ محمد ﷺ کا خدا اس سے ناراض ہوگیا ہے اور اس نے اس کو چھوڑ دیا ہے۔ اس پر یہ سورت نازل ہوئی جس میں مشرکین کی خرافات کا جواب دیا گیا اور آنحضرت ﷺ کو تسلی دی گئی کہ اللہ تعالیٰ نہ آپ سے ناراض ہوگیا ہے اور نہ اس نے آپ کو چھوڑ ہی دیا ہے۔ (خازن، ابن کثیر، کبیر وغیرہ) ۔ ” الضحیٰ “ چاشت کا وقت، دن کا اجالا۔ ” سجی “ ای غطی بظلامہ (جلالین) ہر چیز کو اپنی تاریکی میں چھپا لے روز روشن اور شب تاریک شاہد اور گواہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے نہ آپ کو چھوڑ دیا ہے اور نہ وہ آپ سے ناراض ہوگیا ہے جس طرح دن کا اجالا اور رات کی تاریکی یکساں نہیں ہیں اسی طرح تمام حالات یکساں نہیں ہیں کبھی قبض اور کبھی بسط، کسی وقت آسودگی اور کسی وقت تنگی ہوتی ہے یہی حال وحی کا ہے کہ کبھی آتی ہے اور کبھی نہیں آتی۔
Ayahs 93:4–53:۔ ” وللاخرۃ “ آخرت کا حال بیان کر کے مزید تسلی فرما دی۔ دنیا میں تو مختلف احوال آتے ہی رہیں گے کبھی راحت، کبھی مشقت، اگرچہ دنیا میں بھی سراسر بہتری ہی ہے۔ لیکن آخرت آپ کے لیے دنیا کے مقابلے میں بہت ہی بہتر ہے، کیونکہ آخرت میں سب سے اونچا اور عظیم مقام یعنی مقام محمود آپ کیلئے مخصوص ہے۔ یا مطلب یہ ہے کہ ہر پچھلی حالت آپ کے لیے پہلی حالت سے بہتر ہوگی کیونکہ رفتہ رفتہ تمام تکلیفیں اور مشقتیں ختم ہوجائیں گی اور آپ کو غلبہ حاصل ہوتا جائے گا۔ ” ولسوف یعطیک ربک فترضی “ آخرت میں اللہ تعالیٰ آپ کو ایسی نعمتیں اور ایسا شرف عطا فرمائیگا کہ آپ دنیا کی مشقتیں بھول کر خوش ہوجائیں گے۔
Ayahs 93:6–84:۔ ” الم یجدک “ آپ کے ابتدائی حالات یاد دلا کر اور تین انعامات ذکر کر کے تسلی کے لیے شواہد بیان فرما دئیے ہر لاحق انعام سابق کے بعد ہوا ہے۔ استفہام تقریری ہے۔ آپ یتیم رہ گئے تو اللہ تعالیٰ نے دوسروں کے ذریعے سے آپ کی پرورش کرائی۔ جب آپ جوان ہوئے تو دین کا راستہ نہیں جانتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے آپ پر قرآن نازل کر کے آپ کو شریعت سکھائی اور راستہ بتایا۔ پھر آپ فقیر اور تنگدست تھے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو غنی کردیا۔ مکہ میں حضرت خدیجہ ؓ کے مال سے یا مدینہ میں غنائم وانفال سے، ای فاغناک بخدیجۃ ؓ ، وقیل اغناک بما فتح لک من الفتوح وافاءہ علیک من اموال الکفار (قرطبی ج 20 ص 99، 100) ۔ مگر دوسری توجیہ پر علامہ قشیری (رح) نے اعتراض کیا ہے کہ یہ سورت مکی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ اغناء مکہ میں حاصل ہوچکا تھا لیکن غنائم و انفال اس کے بعد مدینہ میں حاصل ہوئے لہذا جس غنا کی طرف اس سورت میں اشارہ ہے اس سے مدینہ کا غناء مراد نہیں ہوسکتا۔ ” ضالا “ اگرچہ اس کو بھی کہا جاسکتا ہے جو راہ راست پر آنے کے بعد گمراہ ہوجائے اور راہ راست سے ہٹ جائے۔ لیکن یہ لفظ اس مفہوم کے ساتھ مختص نہیں۔ بلکہ یہ بیخبر اور غافل کے معنوں میں بھی آتا ہے یعنی جس کو ابھی خبری نہ ہو۔ یہاں یہی مراد ہے یعنی آپ کو اس کی خبر ہی نہ تھی کہ آپ کو نبوت دی جائیگی اور آپ پر قرآن نازل کیا جائے گا، ضالا عن معالم النبوۃ و احکام الشریعۃ غافلا عن کل مالا طریق الی درکہ الا السمع، فھدی ای فھداک الی معالم الدین (مظہری ج 10 ص 286) ، ای غافلا عما یراد بک من امر النبوۃ فھداک ای ارشدک والضلال ھنا بمعنی الغفلۃ (قرطبی) تائید : ” وان کنت من قبلہ لمن الغافلین “ (یوسف رکوع 1) ، اور ” ما کنت تدری ما الکتاب ولا الایمان “ الایۃ (شوری رکوع 5) ۔
Ayahs 93:9–115:۔ ” فاما الیتیم “ یہ تینوں امور پہلے تینوں امور پر مرتب ہیں بطور لف و نشر مرتب۔ امر اول، ” الم یجدک یتیما فاوی “ پر مرتب ہے۔ چونکہ آپ بھی اس حال سے گذرے ہیں اور یتیمی کا مزہ آپ نے بھی چکھا ہے اس لیے کسی یتیم پر سختی نہ کرنا اور نہ اس کو جھڑکنا۔ ” واما السائل فلا تنھر “ یہ ” ووجدک ضالا فھدی “ پر متفرع ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو دین و شریعت کے علوم و معارف سے مالا مال کردیا ہے اس لیے اگر کوئی علم دین کا سائل حاضر خدمت ہو تو اس کو مت ڈانٹنا بلکہ اس کو علم دین سے سیراب کردینا ” واما بنعمۃ ربک فحدث “ یہ ” ووجدک عائلا فاغنی “ پر متفرع ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو دولت عطا کی اس لیے اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کا شکر ادا کر اور اس کا اقرار و اعتراف کر کیونکہ جب تنگی کے بعد فراخی آتی ہے تو اس کا خوب اقرار ہوتا ہے۔
سورة الضحیٰ ختم ہوئی