Ayah 94:12:۔ ” الم نشرح “ انعام اول۔ مشرکین نے اعتراض کیا کہ مسلمانوں کے پاس دولت نہیں ہمارے پاس دولت ہے ہم ان سے زیادہ قابل عزت ہیں اس سے طبع طور پر رسول اللہ ﷺ کو غم لگا تو اس سورت میں آپ کو تسلی دی گئی کہ اس قسم کی تنگی اور شدت بطور ابتلاء مومنوں پر آتی رہتی ہے لیکن آخر کار اللہ تعالیٰ ان پر فراخی فرما دیتا ہے استفہام تقریری ہے اور مطلب یہ ہے کہ ہم نے پہلے ہی سے اسلام اور علوم و معارف کے لیے آپ کا سینہ کھول دیا اور اسلام کے بارے میں آپ کے دل کو اطمینان اور اذعان و ایقان سے لبریز کردیا۔ تائید : ” فمن یرد اللہ ان یھدیہ یشرح صدرہ للاسلام “ (انعام رکوع 15) ۔
Ayahs 94:2–33:۔ ” ووضعنا “ ، وزر سے کفر و شرک اور معاصی کا بوجھ مراد ہے۔ یعنی ہم نے کفر و شرک اور دیگر معاصی کا بوجھ ہٹا دیا اور ان کو آپ کے قریب تک نہیں آنے دیا اور آپ کو ان سے بالکلیہ محفوظ رکھا۔ ” الذی انقض ظھرک “ ماضی بمعنی مستقبل ہے یعنی آپ کو ایسے تمام گناہوں سے محفوظ رکھا کہ اگر ان میں سے ایک بھی آپ سے ایسا کوئی گناہ صادر ہوجاتا تو آپ کی کمر توڑ دیتا مگر واقع میں ایسا نہیں ہوا اور ہم نے آپ سے ایسا کوئی گناہ صادر نہیں ہونے دیا یا وزر سے زلات مراد ہیں جیسا کہ ارشاد ہے۔ ” عفا اللہ عنک لم اذنت لہم الخ “ (توبہ رکوع 7) ۔ اور ” وماکان لنبی ان یکون لہ اسری حتی یثخن فی الارض الخ “ (انفال رکوع 9) ۔
Ayah 94:44:۔ ” ورفعنا ‘ یہ دوسرا انعام ہے۔ ہم نے آپ کا بول بالا کردیا۔ آپ پر قرآن نازل فرمایا۔ قیامت تک مسلمان اسے پڑھتے پڑھاتے رہیں گے اور آپ کو ثواب ملتا رہے گا یا مطلب یہ ہے کہ میں نے اپنے نام کے ساتھ تیرے نام کو بھی اونچا کردیا ہے مثلاً اذان و اقامت میں تشہد میں، خطبات میں عن ابن عباس قال : یقول لہ لا ذکرت الا ذکرت معی فی الاذان والاقامۃ والتشہد ویوم الجمعۃ علی المنابر ویوم الفطر ویوم الاضحی وایام التشریق و یوم عرفۃ عند الجمار وعلی الصفا والمروۃ وفی خطبۃ النکاح وفی مشارق الارض و مغاربہا (قرطبی ج 20 ص 107) ۔
Ayahs 94:5–65:۔ ” فان مع العسر “ کافر کہتے تھے تمام مسلمان محتاج ہیں اس لیے نبی علیہ الصلوہ والسلام کے دل میں خیال گذرا کہ شاید کافر اسی وجہ سے ایمان نہیں لاتے تو فرمایا دیکھو اللہ تعالیٰ نے آپ پر کس قدر انعامات فرمائے ہیں۔ وہ فقر و فاقہ کو بھی دور فرما دے گا کیونکہ ہر سختی کے بعد آسانی اور تنگی کے بعد فراخی آتی ہے۔ تائید :” ولا تمدن عینیک الی ما متعنا بہ ازواجا منہم الخ “ (طہ رکوع 7) ۔
Ayah 94:76:۔ ” فاذا فرغت “ خلق خدا کو توحید کی دعوت دو ۔ جب اس سے فراغت ملے تو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں لگ جاؤ، ای اذا فرغت من دعوۃ الخلق فاجتہد فی عبادۃ الرب (مدارک) ۔ یا مطلب یہ ہے کہ اپنے ضروری کاموں سے فارغ ہو کر اللہ کی عبادت میں کوشش کرو۔ عن مجاد اذا فرغت من امر الدنیا فانصب فی عبادۃ ربک وصل (معالم) ۔ حاصل یہ ہے کہ اپنے تمام اوقات کو تبلیغ و دعوت، جہاد اور عبادت میں مصروف رکھو۔
Ayah 94:87:۔ ” والی ربک “ اور اپنے تمام احوال میں صرف اللہ کی طرف رجوع کرو اور اس کے سوا کسی کی طرف توجہ نہ کرو۔ اجعل رغبتک الی اللہ تعالیٰ فی جمیع احوالک لا الی احد سواہ “ (خازن) ۔
سورة الانشراح ختم ہوئی