95. Surah At-Tin

التينThe Fig · 8 ayahsجواھر القرآن

Ayah 95:1

وَ التِّیْنِ وَ الزَّیْتُوْنِۙ Open ayah 95:1 in the Quran reader

قسم انجیر کی2 اور زیتون کی

2:۔ ” والتین “ از قبیل ذکر مکان و ارادہ مکین۔ یہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے دلیل نقلی کی طرف اشارہ ہے۔ اور تین (انجیر) سے منبت تین یعنی انجیر کے پیدا ہونے کی جگہ مراد ہے اور وہ ملک شام ہے جہاں انجیر بکثرت پیدا ہوتی ہے اور ملک شام حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا مقام ہجرت ہے جہاں ان پر اللہ کی طرف سے وحی نازل ہوئی تھی۔ ” والزیتون “ یہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے دلیل نقلی کی طرف اشارہ ہے اور اس سے بھی منبت زیتون یعنی بیت المقدس مراد ہے جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا مولد ہے۔ المراد من الکلام القسم بمنابت التین ومنابت الزیتون (ابن جریر۔ قرطبی ج 20 ص 111) ۔ حضرت عکرمہ، قتادہ، ابن زید اور کعب رحمہم اللہ فرماتے ہیں۔ التین مسجد دمشق و الزریتون بیت المقدس (ابن جریر) اور حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں ” والزیتون بیت المقدس “ (ابن جریر، قرطبی) ۔
Ayahs 95:2–3

وَ طُوْرِ سِیْنِیْنَۙ Open ayah 95:2 in the Quran reader

اور طور3 سینین کی

وَ هٰذَا الْبَلَدِ الْاَمِیْنِۙ Open ayah 95:3 in the Quran reader

اور اس شہر امن والے کی

3:۔ ” وطور سینین “ یہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے دلیل نقلی ہے۔ ” سینین “ وہی مشہور پہاڑ یعنی طور سینا ہے جس پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو رب العزت جل جلالہ کے ساتھ ہمکلامی کا شرف حاصل ہوا۔ ” وھذا البلد الامین “ اس سے مکہ مکرمہ مراد ہے اور یہ دلیل وحی کی طرف اشارہ ہے۔ ” امین “ بمعنی آمن ہے یعنی پر امن جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہے۔ انا جعلنا حرما امنا۔ (عنکبوت رکوع 7) ۔
Ayah 95:4

لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْۤ اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ٘ Open ayah 95:4 in the Quran reader

ہم نے بنایا4 آدمی خوب سے اندازے پر

4:۔ ” ولقد خلقنا “ یہ مذکورہ بالا قسموں کا جواب ہے۔ دمشق، بیت المقدس، طور سیناء اور مکہ مکرمہ گواہ ہیں۔ ان شہروں میں انبیاء (علیہم السلام) پر ہم نے جو وحی بھیجی وہ شاہد ہے اور اس میں اس کا بیان ہے کہ ہم نے انسان کو اپنی ساری مخلوق میں سب سے زیادہ احسن و اجمل پیدا کیا ہے ظاہری حسن و جمال کے اعتبار سے بھی اور باطنی خوبیوں کے لحاظ سے بھی۔ قال ابن العربی لیس للہ تعالیٰ خلق احسن من الانسان (قرطبی) ۔ انہ تعالیٰ خلق کل ذی روح مکبا علی وجہہ الا الانسان فانہ تعالیٰ خلقہ مدید القامۃ یتناول ماکولہ بیدہ وقال الاصم فی اکمل عقل وفھم وادب وعلم وبیان (کبیر) ۔
Ayah 95:5

ثُمَّ رَدَدْنٰهُ اَسْفَلَ سٰفِلِیْنَۙ Open ayah 95:5 in the Quran reader

پھر پھینک دیا5 اس کو نیچوں سے نیچے

5:۔ ” ثم رددناہ “ باغیوں اور سرکشوں کے لیے تخویف اخروی ہے۔ انسان کو ہم نے ظاہری اور باطنی خوبیوں سے نوازا۔ مگر جب اس نے عقل و خرد سے کام نہ لے کر ہماری اطاعت سے سرتابی کی تو ہم نے اس کو جہنم کے سب سے نچلے طبقہ میں دھکیل دیا۔ یعنی ہم نے اس کے لیے اس کی سزا کا فیصلہ کردیا۔
Ayah 95:6

اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَهُمْ اَجْرٌ غَیْرُ مَمْنُوْنٍؕ Open ayah 95:6 in the Quran reader

مگر جو6 یقین لائے اور عمل کیے اچھے سو ان کے لیے ثواب ہے بےانتہا

6:۔ ” الا الذین “ یہ مومنوں کے لیے بشارت اخرویہ ہے۔ جو لوگ ایمان لے آئے اور نیک کام کیے ان کے لیے آخرت میں کبھی ختم نہ ہونے والا اجر وثواب ہے۔ جنت میں ان کو جو نعمتیں ملیں گی وہ کبھی ختم نہ ہوں گی۔
Ayah 95:7

فَمَا یُكَذِّبُكَ بَعْدُ بِالدِّیْنِؕ Open ayah 95:7 in the Quran reader

پھر تو7 اس کے پیچھے کیوں جھٹلائے بدلہ ملنے کو

7:۔ ” فما یکذبک “ یہ جواب قسم پر متفرع ہے مذکورہ بالا بیان کے بعد کونسی چیز تمہیں حشر و نشر اور جزاء وسزا کے انکار پر آمادہ اور مجبور کرتی ہے ؟ اللہ تعالیٰ کا انسان کو احسن تقویم میں پیدا کرنا اور ایک قطرہ آب سے ایسی عظیم الشان اور خوبیوں میں ساری مخلوق سے اعلی وارفع مخلوق پیدا کرلینا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ وہ انسان کو دوبارہ پیدا کرنے پر بھی قادر ہے۔ اس لیے حشر و نشر اور جزاء وسزا کا انکار نہایت ہی قابل تعجب بات ہے۔
Ayah 95:8

اَلَیْسَ اللّٰهُ بِاَحْكَمِ الْحٰكِمِیْنَ۠ Open ayah 95:8 in the Quran reader

کیا نہیں ہے8 اللہ سب حاکموں سے بڑا حاکم

8:۔ ” الیس اللہ “ یہ دلیل عقلی ہے۔ اللہ تعالیٰ تمام بادشاہوں میں سب سے بڑا بادشاہ ہے وہ جو چاہے کرسکتا ہے اس کا یہ فیصلہ ہے کہ حشر و نشر اور جزاء سزا حق ہے۔ سورة التین ختم ہوئی