Ayah 93:11۔ ابن الضریس والنحاس وابن مردویہ وبیقہی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة الضحی مکہ میں نازل ہوئی۔
2۔ الحاکم وصححہ وابن مردویہ والبیہقی فی شعب الایمان من طریق ابوالحسن البزی المقری (رح) سے روایت کیا کہ میں عکرمہ بن سلیمان (رح) کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے اسماعیل بن قسطنطین پر قرائت کی جب میں والضحی پر پہنچا تو انہوں نے کہا کہ ہر سورت کے خاتمے پر تکبیر کہنا یہاں تک کہ تو اس کو ختم کرلے کیونکہ میں نے عبداللہ بن کثیر کے پاس قرآن مجید پڑھا جب میں والضحیٰ پر پہنچا تو انہوں کہ ہر سورت کے خاتمے پر تکبیر کہنا یہاں تک کہ تو اس کو ختم کرلے کیونکہ میں نے عبداللہ بن کثیر کے پاس قرآن مجید پڑھا جب میں والضحی پر پہنچا تو انہوں نے کہا تکبیر کہو یہاں تک کہ تو ختم کرلے اور عبداللہ بن کثیر کیونکہ میں نے عبداللہ بن کثیر کے پاس قرآن مجید پڑھا جب میں والضحیٰ پر پہنچا تو انہوں نے کہا تکبیرکہو یہاں تک کہ تو ختم کرلے اور عبداللہ بن کثیر نے ان کو بتایا کہ انہوں نے مجاہد رحمہ پر پڑھا تو انہوں نے ابھی اس کا حکم فرمایا اور مجاہد (رح) نے انہیں یہ بتایا کہ حضرت ابن عباس ؓ نے بھی اس کا حکم فرمایا تھا اور ابن عباس ؓ نے ان کو یہ خبر دی کہ ابی بن کعب ؓ نے اس کا حکم بھی فرمایا تھا اور انہوں نے یہ بتایا کہ کہ نبی اکرم ﷺ نے ان کو اسی طرح فرمایا تھا۔
3۔ احمد وعبد بن حمید والبخاری ومسلم والترمذی والنسائی اور ابن جیر والطبرانی والبیہقی وابو نعیم معاً دلائل میں جندب بجلی ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ بیمار ہوئے اور دو یاتین راتیں قیام نہ کرسکے۔ ایک عورت آکر کہنے لگی اے محمد ﷺ میں دیکھ رہی ہوں کہ تیرا شیطان تجھ کو چھوڑ گیا ہے ہم نے اسے دو یا تین راتوں سے آپ کے قریب نہیں دیکھا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں آیت والضحی، والیل اذا سجی، ماودعک ربک وما قلی۔ قسم ہے دن کی روشنی کی اور رات کی جب وہ چھا جائے۔ آپ کے رب نے نہ آپ کو چھوڑا ہے اور نہ بیزار ہوا۔
4۔ فریابی و سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر والطبرانی وابن مردویہ نے جندب ؓ سے روایت کیا کہ جبریل (علیہ السلام) نبی ﷺ کے پاس آنے میں دیر لگائی۔ تو مشرکوں نے کہا کہ محمد ﷺ کو چھوڑدیا گیا ہے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی آیت ما ودعک ربک وما قلی۔ آپ کے رب نے نہ آپ کو چھوڑا اور نہ بیزار ہوا۔
5۔ طبرانی نے جندب ؓ سے روایت کیا کہ جبریل (علیہ السلام) نبی ﷺ سے رک گئے تو آپ کے چچا کی بعض بیٹیوں نے کہا میں خیال کرتی ہوں کہ آپ کے صاحب یعنی اللہ تعالیٰ آپ سے ناراض ہوگئے ہیں۔ تو یہ آیت نازل ہوئی آیت والضحی سے لے کر آیت وما قلی تک۔
6۔ الترمذی وصححہ وابن ابی حاتم واللفظ لہ نے جندب ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کی انگلی مبارک پر پتھر لگا تو وہ زخمی ہوگئے اس پر آپ نے فرمایا تو ایک انگلی ہے جو خون آلود ہوگئی ہے اور اللہ کی راہ میں تجھ کو یہ تکلیف پہنچی۔ آپ ﷺ نے دو یا تین راتیں قیام نہ فرمایا و ایک عورت نے آپ سے کہا میں یہ خیال کرتی ہوں کہ تیرے شیطان نے تجھ کو چھوڑدیا ہے تو یہ آیات نازل ہوئی آیت والضحی واللیل اذا سجی ما ودعک ربک وما قلی۔
7۔ الحاکم نے زید بن ارقم ؓ سے روایت کیا کہ جب یہ آیات تبت یدا ابی لہب وتب ما اغنی عنہ سے لے کر آیت وامرأتہ حمالۃ الحطب تک نازل ہوئی۔ تو ابولہب کی بیوی سے کہا گیا کہ محمد ﷺ نے تیری ہجو کی ہے چناچہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی اور آپ صحابہ ؓ کی جماعت کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔ کہنے لگی اے محمد ! تم کس بنا پر میری ہجو کرتے ہو ؟ آپ نے فرمایا اللہ کی قسم ! میں نے تیری ہجو نہیں بلکہ تیری ہجو اللہ تعالیٰ نے کی ہے تو اس نے کہا کیا تم نے مجھے دیکھا تھا کہ میں لکڑی اٹھائے ہوئے تھی۔ یا تم نے میری گردن میں بندھی ہوئی رسی دیکھی تھی ؟ پھر وہ چلی گئی رسول اللہ ﷺ کچھ دن گذارے کہ آپ پر وحی نازل نہ ہوئی تو پھر وہ عورت آپ کے پاس آئی اور کہنے لگی میرا تو خیال ہے کہ تیرے صاحب یعنی اللہ تعالیٰ نے تجھے چھوڑا دیا ہے اور وہ تجھ سے ناراض ہوگیا ہے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آتی نازل فرمائی آیت والضحی والیل اذا سجی ما ودعک ربک وما قلی۔
8۔ ابن جریر نے عبداللہ بن شداد (رح) سے روایت کیا کہ خدیجہ ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے کہا : میر ایہ گمان ہے کہ آپ کا رب آپ سے ناراض ہوگیا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں آیت والضحی، والیل اذا سجی ما ودعک ربک وما قلی
9۔ ابن جریر وابن المنذر نے عرہ (رح) سے روایت کیا کہ جبریل (علیہ السلام) نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آنے سے دیر لگائی تو آپ بہت زیادہ پریشان ہوگئے۔ خدیجہ ؓ نے کہا : میرا گمان ہے کہ آپ کا رب آپ سے ناراض ہے اسی وجہ سے وہ آپ کا اضطراب دیکھ رہا ہے تو آیت والضحی نازل ہوئی اس کے آخر تک۔
رسول اللہ ﷺ
10۔ الحاکم وابن مردویہ والبیہقی فی الدلائل من طریق عروۃ خدیجہ ؓ سے روایت کیا کہ جب رسول اللہ ﷺ پر وحی نے دیر لگائی تو اس سے آپ گھبرا گئے۔ میں نے آپ کی گھبراہٹ دیکھ کر کہا کہ آپ کا رب آپ سے ناراض ہے اس وجہ سے وہ آپ کے اضطراب کو دیکھ رہا ہے تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا آیت ما ودعک ربک وما قلی۔
11۔ ابن جریر وابن مردویہ نے عوفی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا جب رسول اللہ ﷺ پر قرآن نازل ہوا اور جبریل (علیہ السلام) نے کچھ دن آنے میں دیر لگائی تو اس سے آپ کو عار دلائی گئی۔ مشرکوں نے کہا ان کا رب ان کو چھوڑ گیا ہے اور ان سے ناراض ہوگیا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری آیت والضحی والیل اذا سجی یعنی قسم ہے روز روشن کی اور رات کی جب وہ آجائے اور فرمایا آیت ما ودعک ربک وما قلی نہ آپ کے رب نے آپ کو چھوڑا اور نہ ہی وہ ناراض ہوا۔
12۔ ابن جریر (رح) نے قتادہ اور ضحاک سے مرسلا روایت کیا۔
13۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ ؓ سے روایت کیا آیت والضحی یعنی دن کی گھڑیوں میں سے ایک گھڑی آیت والیل اذا سجی اور رات کی قسم جب وہ لوگوں کے ساستھ پرسکون ہوجائے یعنی وہ سکون کے ساتھ چھا جائے گا۔
Ayah 93:214۔ فریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت والیل اذا سجی سے مراد ہے اذا استوی جب وہ رات چھا جائے۔
15۔ عبدالرزاق نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آتی اذا سجی جب وہ لوگوں کو چھپالے۔
16۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت اذا سجی یعنی جب وہ آجائے۔
17۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے آیت والیل اذا سجی کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد ہے قسم ہے رات کی جب وہ آجائے اور ہر چیز کو ڈھانک لے۔
18۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابن المنذر وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت اذا سجی۔ جب رات چلی گئی۔ یعنی جب وہ چلی جائے۔ آیت ما ودعک ربک تیرے رب نے تجھ کو نہیں چھوڑا آیت وما قلی یعنی نہ تیرے ساتھ غصہ ہوا۔
Ayahs 93:3–4وحی کا منقطع ہونا
19۔ ابن ابی شیبہ فی مسندہ والطبرانی وابن مردویہ نے ام حفص ؓ سے روایت کیا کہ وہ اپنی والدہ سے روایت کرتی ہیں۔ اور وہ رسول اللہ ﷺ کی خادمہ تھیں کہ ایک کتے کا چھوٹا سا بچہ نبی ﷺ کے گھر میں داخل ہوگیا۔ اور وہ چارپائی کے نیچے داخل ہو کر مرگیا۔ نبی اکرم ﷺ چار دن تک انتظار فرماتے رہے۔ آپ پر وحی نازل نہیں ہوئی۔ آپ نے فرمایا اے خولہ ! رسول اللہ ﷺ کے گھر میں کیا ہوا کہ جبریل (علیہ السلام) میرے پاس نہیں آرہے۔ میں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی ! ہمارے اوپر کوئی دن ایسا نہیں آیا جو ہمارے لیے بہتر ہو آج یک دن سے پھر آپ نے اپنی چادر مبارک کو پہنا اور باہر تشریف لے گئے میں نے اپنے دل میں کہا اگر میں گھر کو درست کرلوں اور اس کو جھاڑو دوں تو اچھا ہے پھر میں جھاڑو دے کر چارپائی کے نیچے جھکی تو اچانک ایک بھاری چیز تھی میں برابر جھاڑو پھیرتی رہی یہاں تک کہ ایک کتیاکا ایک مرا ہوا بچہ ظاہر ہوا میں اس کو اپنے ہاتھ سے پکڑا اور اس کو گھر کے پیچھے ڈال دیا۔ نبی اکرم ﷺ اس حال میں تشریف لائے کہ آپ کی داڑھی مبارک کانپ رہی تھی اور جب آپ پر وحی نازل ہوتی تھی تو آپ کو کپکپی طاری ہوجاتی تھی۔ آپ نے فرمایا اے خولہ ! مجھے چادر اوڑھا دو ۔ تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی آیت والضحی والیل اذا سجی سے لے کر آیت فترضی تک۔
20۔ الطبرانی فی الاوسط اور بیہقی نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھ پر وہ پیش کیا گیا جو میرے بعد میری امت کے لیے کھولا گیا ہے اور اس نے مجھے خوش کردیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت وللآخرۃ خیر لک من الاولیٰ نازل فرمائی اور آخرت تیرے لیے بہتر ہے دنیا سے۔
21۔ ابن ابی حاتم وعبد بن حمدی وابن جریر والطبرانی والحاکم وصححۃ والبیہقی وابن مردویہ وابو نعیم دونوں نے الدلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کو بہت کچھ دکھادیا گیا جو تکلیفیں آپ کے بعد آپ کی امت سے دور کی جائیں گی تو آپ اس سے بہت خوش ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آتی نازل فرمائی آیت ولسوف یعطیک ربک فترضی اور ہم عنقریب آپ کو اتنا دیں گے کہ آپ راضی ہوجائیں گے اور اللہ تعالیٰ آپ کو جنت میں ایک ہزار موتیوں کے محل عطا فرمائیں گے کہ اس کی مٹی مشک کی ہوگی۔ اور ہر محل میں اتنی بیویاں اور خدام ہوں گے کہ جتنا آپ چاہی گے۔
Ayah 93:522۔ ابن جریرنے سدی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے آیت ولسوف یعطیک ربک فترضی کے بارے میں روایت کیا کہ محمد ﷺ کی رضا تو یہ ہے کہ آپ کے اہل بیت میں سے کوئی بھی دوزخ میں داخل نہ ہو۔
23۔ البیہقی نے شعب الایمان میں سعید بن جبیر کے طریق سے ابن عباس رضٰ اللہ عنہما سے آیت ولسوف یعطیک ربک فترضی کے بارے میں روایت کیا کہ آپ کی رضا تو یہ ہے کہ آپ کی ساری امت جنت میں داخل ہو۔
24۔ الخطیب نے تلیخیص المتشابہ میں دوسری سند سے ابن عباس ؓ سے آیت ولسوف یعطیک ربک فترضی کے بارے میں روایت کیا کہ محمد ﷺ اس بات سے راضی نہیں ہوں گے جب تک ان کی امت میں سے ایک آدمی بھی دوزخ میں ہوگا۔
25۔ مسلم نے ابن عمرو ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے اس قول کو تلاوت فرمایا جو ابراہیم (علیہ السلام) کے بارے میں آیت فمن تبعنی فانہ منی (ابراہیم آتی 36) سو جس نے میری تابعداری کی بیشک وہ مجھ سے ہے اور عیسیٰ (علیہ السلام) کا قول تلاوت فرمایا آیت ان تعذبہم فانہم عبادک ( المائدہ آیت 118) اگر تو ان کو عذاب دے گا تو بیشک وہ تیرے بندے ہیں۔ پس آپ نے ہاتھ اٹھائے اور فرمایا اے اللہ میری امت میری امت اور رونے لگے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اے جبریل محمد ﷺ کے پاس جاؤ اور اس سے کہو ہم عنقریب تجھ کو راضی کردیں گے تیری امت کے بارے میں اور ہم تجھ کو نہ بھولیں گے۔
امت کے لیے شفعت کرنا۔
26۔ ابن المنذر وابن مردویہ وابو نعیم نے الحلیہ میں حرب بن شریح (رح) کے طریق سے روایت کیا کہ میں نے ابو جعفر محمد بن علی بن حسین ؓ سے کہا۔ مجھے اس شفاعت کا بتائیے جو عراق والے بیان کرتے ہیں۔ کیا وہ سچ ہے ؟ فرمایا اللہ کی قسم ! مجھ کو میرے چچا محمد بن الحنفیہ نے علی ؓ سے بیان فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں اپنی امت کی شفاعت کروں گا یہاں تک کہ مجھے میرا رب آواز دے گا۔ اے محمد ﷺ کیا آپ راضی ہیں۔ میں کہوں گا ہاں میرے رب میں راضی ہوں۔ پھر وہ مجھ پر متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ تم لوگ کہتے ہو اے اہل عراق کی جماعت ! اللہ کی کتاب میں سے سب سے زیادہ امید افزاء یہ آیت ہے آیت یعبادی الذین اسرفوا علی انفسہم لا تقنطوا من رحمۃ اللہ ان اللہ یغفر الذنوب جمیعا۔ (الزمر آیت 53) اے میرے بندو ! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوجاؤ بیشک اللہ تعالیٰ سب گناہوں کو بخش دیں گے۔ میں نے کہا بلابشہ ہم بھی یہی کہتے ہیں تو انہوں نے فرمایا ہم سب اہل بیت یہ کہتے ہیں کہ اللہ کی کتاب میں سے سب سے زیادہ امید افزاء آیت یہ ہے آیت ولسوف یعطیک ربک فترضی اور وہ شفاعت ہے۔
27۔ ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے رویت کیا کہ اس قول آیت ولسوف یعطیک ربک فترضی کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا اس سے مراد شفاعت ہے۔
28۔ ابن ابی شیبہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ہم اہل بیت ہیں ہمارے لیے اللہ تعالیٰ نے دنیا پر آخرت کو پسند فرمایا ہے اور چن لیا ہے آیت ولسوف یعطیک ربک فترضی۔
29۔ العسکری فی المواعظ وابن مردویہ وابن لال وابن النجار نے جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ فاطمہ ؓ کے پاس تشریف لائے اور وہ چکی کے ذریعہ آٹا پیس رہی تھیں۔ اور وہ اونٹ کی اون کی چادر پہنے ہوئی تھیں۔ جب آپ نے ان کی طرف دیکھا تو فرمایا اے فاطمہ ! جلدی کرو اور دنیا کی مشقت اور تکلیف کو آخرت کی نعمتوں کے لیے برداشت کرو۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی آیت ولسوف یعطیک ربک فترضی۔
30۔ ابن مردویہ نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ جب یہ آیت آیت وللاٰخرۃ خیر لک من الاولی۔ اور البتہ آخرت آپ کے لیے دنیا سے بہتر ہے۔ تو حضرت عباس بن عبدالمطلب نے فرمایا اللہ تعالیٰ اپنے نبی مکرم ﷺ کو تمہارے درمیان نہیں رہنے دے گا مگر تھوڑا سا وقت اس لیے کہ وہ وہی ان کے لیے بہتر اور خیر ہے۔
31۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے آیت ولسوف یعطیک ربک فترضی کے بارے میں روایت کیا کہ یہ قیامت کے دن ہوگا کلہ آپ کا رب آپ کو اتنا دے گا کہ آپ راضی ہوجائیں گے اور وہ جنت ہے۔
32۔ ابن ابی حاتم والبیہقی فی الدلائل وابن عساکر نے موسیٰ بن علی بن رباح (رح) کے طریق سے روایت کیا اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں مسلمہ بن مخلد (رح) کے پاس تھا اور ان کے پاس عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ بھی بیٹھے ہوئے تھے اور مسلمہ نے ابو طالب ؓ کے شعر میں سے ایک بیت کے ساتھ ایک مثال بنائی۔ اور کہا اگر ابو طالب دیکھ لیتے کہ آج کے دن اللہ نے ہم کو نعمتیں اور عزتیں عطا فرمائیں ہیں تو وہ یقیناً جان لیتے کہ ان کا بھتیجا سردار ہے اور خیر کثیر لے کر آیا ہے۔ عبداللہ ؓ نے فرمایا کہ آپ ﷺ اس دن بھی سردار اور کریم تھے یقیناً آپ خیر کثیر لے کر آئے۔ تو مسلمہ ؓ نے فرمایا کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا آیت الم یجدک یتیما فاوی، ووجدک ضالا فہدی، ووجد عائلافاغنی۔ کیا اس نے آپ کو یتیم نہیں پایا تھا پھر جگہ دی اور آپ کو بیخبر پایا تو ہدایت دی اور اس نے آپ کو تنگدست پایا پھر غنی کردیا۔ عبداللہ ؓ نے فرمایا آپ کا یتیم ہونا تو آپ اپنے والدین کی نسبت سے یتیم تھے اور عائل (حاجت مند) اس لیے فرمایا ہے کہ جو کچھ ظاہری مال و دولت عربوں کے پاس تھی اس کی نسبت آپ تنگ دست تھے۔
Ayah 93:633۔ البیہقی نے دلائل میں ابن شہاب (رح) سے روایت کیا کہ عبدالمطلب نے اپنے بیٹے عبداللہ کو بھیجا کہ ان کے لیے یثرب سے کھجوریں لے آئے۔ تو عبداللہ مدینہ میں پہنچ کر وفات پاگئے اور آمنہ نے رسول اللہ ﷺ کو جنم دیا آپ اپنے دادا عبدالمطلب کی پرورش میں رہے۔
34۔ ابن ابی حاتم والطبرانی والحاکم وصححہ وابو نعیم والبیہقی دونوں نے الدلائل میں اور ابن مردویہ اور ابن عساکر رحمہما اللہ نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا کہ آپ نے فرمایا کہ میں نے اپنے رب سے ایک سوال کیا اور میں اس بات کو پسند کرتا تھا کہ میں ان سے سوال نہ کرتا۔ میں نے کہا مجھ سے پہلے جو انبیاء تھے ان میں سے یہ بھی تھا کہ جس کے لیے ہوا کو مسخر کیا گیا۔ اور ان میں سے وہ تھا جو مردوں کو زندہ کرتا تھا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے محمد ! کیا میں نے تم کو یتیم نہیں پایا تو میں نے تجھ کو ٹھکانہ دیا، کیا میں نے تجھ کو بیخبر نہیں پایا تو میں نے تجھ کو راہ دکھائی ؟ کیا میں نے تجھ کو تنگدست نہیں پایا تو میں تجھ کو غنی کردیا۔ کیا میں نے تیرے سینے کو نہیں کھول دیا کیا میں نے آپ سے آپ کا بوجھ نہیں اتار دیا ؟ کیا میں نے تیرے ذکر کو بلند نہیں کردیا ؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں اے میرے رب !۔
35۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میں نے ایک چیز کا اپنے رب سے سوال کیا اور میں اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ میں ان سے سوال نہ کرتا۔ میں نے کہا اے میرے رب ! سرے انبیا میں سے آپ نے سلیمان (علیہ السلام) کو ہوا کی نسبت سے ذکر فرمای اور موسیٰ (علیہ السلام) کا بھی ذکر فرمایا تو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت الم یجدک یتیما فاوی نازل فرمائی۔
36۔ ابن مردویہ والدیلمی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب رسول اللہ ﷺ پر سورة والضحی نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھ پر میرے رب نے احسان فرمایا اور میں اس کا اہل ہوں کہ میرا رب مجھ پر احسان کرے۔
Ayah 93:737۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے آیت ووجدک ضالا فہدی کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بےراہ لوگوں کے درمیان پایا پھر میں تجھ کو ان کی بےراہی سے نکال لیا۔
Ayah 93:838۔ ابن جریر نے سفیان (رح) سے روایت کیا کہ آیت ووجد عائلا یعنی آپ کو فقیر پایا اور انہوں نے یہ ذکر کیا کہ ابن مسعود ؓ کے مصحف میں یوں ہے آیت ووجد عائل فاوی اور آپ کو فقیر پایا تو اپنی پناہ میں لے لیا۔
Ayahs 93:9–1039۔ ابن الانباری نے المصاحف میں اعمش (رح) سے روایت کیا کہ آیت فاما الیتیم فلا تقہر یعنی کسی یتیم کو حقیر نہ جانو۔ اور ذکر کیا گیا کہ عبداللہ ؓ کے مصحف میں یوں ہے آیت فلا تکھر۔
41۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت فلا تقہر یعنی کسی یتیم پر ظلم اور زیادتی نہ کیجیے۔
42۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت فاما الیتیم فلا تقہر یعنی کسی یتیم پر ظلم نہ کیجیے۔
43۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت فاما الیتیم فلا تقہر یعنی یتیم کے لیے رحیم باپ کی طرح ہوجائیے آیت وما السائل فلا تنہر اور سائل کو نہ جھڑکو یعنی کسی سائل کا جواب رحمت اور نرمی سے دیجیے۔
44۔ ابن ابی حاتم نے سفیان ؓ سے آیت واما السائل فلا تنہر کے بارے میں روایت کیا کہ جو آئے اور وہ آپ سے اپنے دین کے بارے میں سوال کرے تو اس کو نہ جھڑکیے۔ واللہ اعلم۔
Ayah 93:1145۔ سعید بن منصور وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت واما بنعمۃ ربک فحدث اور ہر حال میں اپنے رب کا احسان کا ذکر کیا کرو۔ یعنی آپ کے رب نے جو نبوت کی صورت میں آپ کو نعمت عطا کی ہے اس کا ذکر کرتے رہیے۔
46۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت واما بنعمۃ ربک فحدث میں نعمت سے مراد ہے قرآن
بوقت ملاقات مصافحہ کرنا
47۔ ابن ابی حاتم وابن مردویہ نے مقسم (رح) سے روایت کیا کہ میں نے حسن بن علی بن ابی طالب ؓ سے ملاقات کی اور ان سے مصافحہ کیا تو آپ نے فرمایا کہ ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہونا مومن کا مصافحہ ہے میں نے عرض کیا مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت واما بنعمۃ ربک فحدث کے بارے میں بتائیے۔ فرمایا کہ مومن آدمی نیک عمل کرتا ہے اور اپنے گھروالوں کو بتاتا ہے۔ پھر میں نے پوچھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے کون سی مدت پوری کی پہلی یا دوسری ؟ فرمایا دوسری مدت۔
48۔ ابن ابی حاتم نے دوسری سند سے حسن بن علی ؓ سے آیت واما بنعمۃ ربک فحدث کے بارے میں روایت کیا کہ جب تو کسی خیر کو پہنچے یعنی کوئی نیک عمل کرے تو اپنے بھائیوں کو بیان کر۔
49۔ ابن جریر نے ابو نضرہ (رح) سے روایت کیا کہ مسلمان یہ جانتے ہیں کہ نعمت کا شکر یہ ہے کہ اس کو بیان کیا جائے۔
50۔ عبداللہ بن احمد نے زوائد المسند میں و بیہقی نے شعب الایمان میں ضعیف سند کے ساتھ انس بن بشیر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے منبر پر فرمایا جو تھوڑا شکر ادا نہیں کرتا وہ زیادہ شکر بھی ادا نہیں کرتا۔ اور جو لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ اللہ تعالیٰ کا بھی شکر ادا نہیں کرتا۔ اور اللہ کی نعمت کا بیان کرنا شکر ہے اور اس کو چھوڑدینا ناشکری ہے اور جماعت رحمت ہے۔
د نے جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا جو شخص جس نے کپڑا پہن کر بوسیدہ کردیا پھر اس کا ذکر کیا لوگوں کے سامنے تو اس نے یقینی طور پر اس کا شکر ادا کیا۔ اور جس نے اس کو چھپایا تو یقینی طور پر اس نے اس کی ناشکری کی۔ اور جس شخص نے ایسی چیزوں سے اپنے آپ کو آراستہ کیا جو اسے عطا نہیں کی گئیں تو بیشک وہ جھوٹ کے کپڑے پہننے والے کی طرح ہے۔
52۔ احمد وابو داوٗ دنے جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص کو کوئی چیز عطا کی گئی اور اس نے اس چیز کو پالیا تو اس کو چاہیے کہ اس کے بارے میں آگاہ کرے یعنی لوگوں کو بتادے اور اگر وہ اس چیز کو نہیں پائے تو اس کو چاہیے اس کی تعریف کرے اور جس نے اس کی تعریف کی۔ تو تحقیق اس نے اس کا شکر ادا کیا اور جس نے اس کو چھپایا تو تحقیق نے اس کی ناش کی کی۔
شکریہ ادا کرنے کا ایک طریقہ
53۔ احمد والطبرانی فی الاوسط اور بیہقی نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس کے ساتھ نیکی کی جائے یعنی جس پر احسان کی جائے تو اسے چاہیے کہ اس کا بدلہ دے اگر اس کی طاقت نہیں رکھتا تو چاہیے کہ اس کا ذکر کرے بیشک جس نے اس کا ذکر کیا تو یقیناً اس نے اس کا شکر ادا کیا۔
54۔ بیہقی نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس کے ساتھ نیکی کی جائے۔ یعنی جس پر احسان کیا جائے تو اس کو چاہیے کہ اس کا بدلہ دے اگر اس کی طاقت نہیں رکھتا تو اس کو چاہیے کہ اس کا ذکر کرے بیشک جس نے اس کا ذکر کیا تو یقینی طور پر اس نے شکر ادا کیا۔
55۔ سعید بن منصور نے عمر بن العزیز (رح) سے روایت کیا بیشک نعمت کا ذکر کرنا شکر ہے۔
56۔ بیہقی نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ اس کی نعمت کا کثرت سے ذکر کرو کیونکہ اس کا ذکر کرنا شکر ہے۔
57۔ بیہقی نے جریر (رح) سے روایت کیا کہ یہ کہا جاتا ہے کہ نعمتوں کا شمار کرنا بھی شکر میں سے ہے۔
58۔ بیہقی نے یحییٰ بن سعید (رح) سے روایت کیا کہ یہ کہا جاتا ہے کہ نعمتوں کا شمار کرنا شکر میں سے ہے۔
59۔ عبدالرزاق والبیہقی نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ نعمت کے شکر میں سے اس کا افشاء کرنا بھی ہے۔
60۔ بیہقی نے فضیل بن عباس (رح) سے روایت کیا کہ یہ کہا جاتا ہے نعمت کے شکر میں سے یہ ہے کہ اس کا تذکرہ کیا جائے۔
61۔ بیہقی نے ابن ابی الحواری (رح) سے روایت کیا کہ فضیل بن عیاض اور سفیان بن عیینہ رحمہما اللہ ایک رات صبح تک بیٹھے رہے اور آپ میں نعمتوں کا تذکرہ کرتے رہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہم پر یہ نعمتیں بھی فرمائیں ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ہم پر یہ نعمتیں بھی فرمائیں ہین۔
62۔ طبرانی نے ابوالاسود الدؤلی اور زادان الکندی رحمہما اللہ دونوں سے روایت کیا کہ ہم نے علی ؓ سے کہا کہ ہم کو اپنے اصحاب کے بارے میں بتائیے تو آپ نے ان کے مناقب بیان کیے۔ ہم نے عرض کیا ہم کو اپنے بارے میں بھی کچھ بیان کیجیے تو آپ نے فرمایا کہ رک جاؤ اللہ تعالیٰ نے اپنا تزکیہ یعنی اپنی پاکیزگی بیان کرنے سے منع فرمایا۔ ایک آدمی نے ان سے کہا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں آیت وامابنعمۃ ربک فحدث تو فرمایا بیشک میں اپنے رب کی نعمت کو بیان کروں گا۔ اللہ کی قسم جب بھی میں سوال کرتا تھا تو مجھے دے دیا جاتا ہے اور جب میں خاموش ہوجاتا ہوں تو مجھے پہلے ہی دے دیا جاتا ہے