Ad-Dhuhaa 93:6

Ad-Dhuhaa · from ayah 6

93:6

اَلَمْ یَجِدْكَ یَتِیْمًا فَاٰوٰی ۪۟اَلَمۡ يَجِدۡكَ يَتِيۡمًا فَاٰوٰى

بھلا اس نے تمہیں یتیم پا کر جگہ نہیں دی؟ (بےشک دی)

— Fateh Muhammad Jalandhari

Did He not find you an orphan and give [you] refuge?

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 18 of juz

Read the whole surah · Surah Ad-Dhuhaa

All translations of 93:6

کیا اس نے تم کو یتیم نہیں پایا اور پھر ٹھکانا فراہم کیا؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

بھلا اس نے تمہیں یتیم پا کر جگہ نہیں دی؟ (بےشک دی)

— مولانا فتح محمد جالندہری

کیا اس نے تجھے یتیم پا کر جگہ نہیں دی

— مولانا محمد جوناگڑہی

کیا اس نے تمہیں یتیم نہیں پایا تھا، پھر (تمہیں) ٹھکانا دیا ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کیا اس نے تمہیں یتیم نہ پایا پھر جگہ دی

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(اے حبیب!) کیا اس نے آپ کو یتیم نہیں پایا پھر اس نے (آپ کو معزّز و مکرّم) ٹھکانا دیا۔ یا- کیا اس نے آپ کو (مہربان) نہیں پایا پھر اس نے (آپ کے ذریعے) یتیموں کو ٹھکانا دیا)٭، ٭ اِس ترجہ میں یتیماً کو فاٰوٰی کا مفعولِ مقدّم قرار دیا گیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: التفسیر الکبیر، القرطبی، البحر المحیط، روح البیان، الشفاء اور شرح خفاجی)

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کیا اس نے تجھے یتیم نہیں پایا، پس جگہ دی۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کیا اس نے آپ کو یتیم نہ پایا پھر ٹھکانا فراہم کیا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کیا اس نے تجھے یتیم پایا تو ٹھکانا نہ دیا !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کیا یہ حقیقت نہیں کہ اس نے پایا آپ کو یتیم پھر ٹھکانا دیا ؟

— مولانا اسحاق مدنی

کیا اللہ نے آپ کو یتیم نہیں پایا پھر (آپ کو) ٹھکانا دے دیا

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کیا اس نے نہیں پایا آپ کو یتیم پھر پناہ دی !

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

بھلا اس نے تمہیں یتیم پا کر جگہ نہیں دی ؟ بیشک دی ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Did He not find you an orphan and then gave you shelter?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Did He not find you an orphan, and give you shelter?

— Muhammad Taqi Usmani

Did He not find you an orphan, and give you shelter?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Did He not find you an orphan and gave you a refuge

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Did He not find thee an orphan and protect (thee)?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Did He not find you an orphan and give [you] refuge?

— Saheeh International

Did He not find you as an orphan and give you shelter?

— Muhammad Sarwar

Did He not find you an orphan and give you shelter?

— Muhammad Habib Shakir

Found He not thee an orphan, so He sheltered thee?

— Abdul Majid Daryabadi

Did He not find thee an orphan and give thee shelter (and care)?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 93:6

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–11

مسند احمد میں ہے کہ حضور ﷺ بیمار ہوگئے اور ایک یا دو راتوں تک آپ تہجد کی نماز کے لیے نہ اٹھ سکے تو ایک عورت کہنے لگی کہ تجھے تیرے شیطان نے چھوڑ دیا اس پر یہ اگلی آیتیں نازل ہوئیں (بخاری مسلم وغیرہ) حضرت جندب فرماتے ہیں کہ جبرائیل کے آنے میں کچھ دیر ہوئی تو مشرکین کہنے لگے کہ یہ تو چھوڑ دئیے گئے تو اللہ تعالیٰ نے والضحٰی سے ماقلفی تک کی آیتیں اتاریں، اور روایت میں ہے کہ حضور ﷺ کی انگلی پر پتھر مارا گیا تھا جس سے خون نکلا اور جس پر آپ نے فرمایا : ھل انت الا اصبع دمیت وفی سبیل اللہ ما لقیت یعنی تو صرف ایک انگلی ہے اور راہ اللہ میں تجھے یہ زخم لگا ہے۔ طبعیت کچھ ناساز ہوجانے کی وجہ سے دو تین رات…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الضُّحٰی 6 یعنی تمہیں چھوڑ دینے اور تم سے ناراض ہوجانے کا کیا سوال، ہم تو اس وقت سے تم پر مہربان ہیں جب تم یتیم پیدا ہوئے تھے حضور ابھی بطن مادر ہی میں چھ مہینے کے تھے جب آپ کے والد ماجد کا انتقال ہوگیا اس لیے آپ دنیا میں یتیم ہی کی حیثیت سے تشریف لائے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ایک دن بھی آپ کو بےسہارا نہ چھوڑا۔ چھ سال کی عمر تک والدہ ماجدہ آپ کی پرورش کرتی رہیں۔ ان کی شفقت سے محروم ہوئے تو 8 سال کی عمر تک آپ کے جد امجد نے آپ کو اس طرح پالا کہ ان کو نہ صرف آپ سے غیر معمولی محبت تھی بلکہ ان کو آپ پر فخر تھا اور وہ لوگوں سے کہا کرتے تھے کہ میرا یہ بیٹا ایک دن دنیا میں بڑا نام پیدا کرے گا۔ ان کا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

اوپر طعنہ کفار کے جواب میں جو آنحضرت ﷺ پر انعامات الہیہ کے دنیا و آخرت میں فائض ہونے کا اجمالی ذکر آیا ہغے اس میں اس کی تھوڑی سی تفصیل تین خاص نعمتوں کے ذکر سے فرمائی گئی ہیں اول الم بحمدک یتیماً فاوی یعنی ہم نے آپ کو یتیم پایا کہ والد کا انتقال ولادت سے پہلے ہی ہوچکا تھا اور انہوں نے کوئی مال و جائیداد بھی نہ چھوڑی تھی جس سے آپ کی پرورش ہو سکے، تو ہم نے آپ کا ٹھکانہ بنادیا، یعنی آپ کے دادا عبدالمطلب اور ان کے بعد چچا ابوطالب کے دلوں میں آپ کی ایسیم حبت ڈالدی کہ صلبی اولاد سے زیادہ آپ کی تربیت میں کوشش کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

حضور کی زندگی کے بعض سبق آموز حالات کی طرف اشارہ: یہ اسی بات کو جو اوپر آیت ۴ میں ارشاد ہوئی کہ تمہارا مستقبل ماضی سے بہتر ہو گا، مؤکد کرنے کے لیے خود حضور ہی کی زندگی کے بعض سبق آموز حالات کی طرف توجہ دلائی کہ غور کرو تو تمہیں اپنی ہی زندگی اس حقیقت کی نہایت عمدہ تفسیر نظر آئے گی۔ سب سے پہلے آپ کی یتیمی کا حوالہ دیا۔ یتیمی اول تو خود ہی ایک بہت بڑی مصیبت ہے لیکن معاشرہ اگر اس حد تک بگڑا ہوا ہو جس کی تصویر پچھلی سورتوں میں کھینچی گئی ہے تو اس میں یتیم کے لیے کوئی جگہ نہیں ہوتی۔ چنانچہ فرمایا ہے: ’کَلَّا بَل لَّا تُکْرِمُوۡنَ الْیَتِیْمَ‘ (الفجر ۸۹: ۱۷) (ہرگز نہیں، بلکہ تم یتیم کی کوئی عزت…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

6۔ 1 یعنی باپ کے سہارے سے بھی محروم تھا، ہم نے تیری دست گیری اور چارہ سازی کی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

3: حضور اقدس ﷺ کے والد آپ کی پیدائش سے پہلے ہی وفات پا گئے تھے اور والدہ کا بھی بہت کم عمری میں انتقال ہوگیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے دادا عبدالمطلب اور آپ کے چچا ابو طالب کے دل میں آپ کی ایسی محبت ڈال دی کہ انہوں نے آپ کو اپنی اولاد سے بھی زیادہ عزیز رکھ کر پالا تھا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 6–8

الم یجدک .................... فاغنی ذرا اپنے عملی حالات پر غور کرو ، ماضی قریب پر نگاہ ڈالو ، کیا تمہارا ماضی یہ بتاتا ہے کہ تمہارے رب نے تمہیں چھوڑ دیا ہے اور تم سے ناراض ہوگیا ہے ، یا کچھ اور بتاتا ہے ۔ آپ پر تو نبوت سے پہلے بھی رب کا فضل رہا ہے ، جب آپ یتیم تھے تو آپ کی نگرانی کون کررہا تھا ، جب آپ حیران تھے اور راستہ معلوم نہ تھا تو آپ کو کس نے راستہ بتلایا۔ پھر آپ نادار تھے ، آپ کو کس نے مالدار بنا دیا ........ آپ یتیم پیدا ہوئے تھے ، اللہ نے آپ کو پناہ دی ، لوگوں کے دل آپ پر مائل ہوگئے ، اور ابوطالب آپ پر مہربان ہوگئے حالانکہ انہوں نے آپ کے دین کو قبول نہ کیا تھا۔ آپ فقیر تھے۔ اللہ نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

10 حضرت محمد ﷺ کی ولادت باسعادت سے پہلے ہی آپ ﷺ کی والد وفات پاچکے تھے۔ چھ سال کی عمر تھی کہ والدہ نے رحلت کی۔ پھر آٹھ سال کی عمر میں تک اپنے دادا (عبدالمطلب) کی کفالت میں رہے۔ آخر اس دُرِ یتیم اور نادرہ روزگار کی ظاہری تربیت و پرورش کی سعادت آپ ﷺ کے بیحد شفیق چچا ابو طالب کے حصہ میں آئی۔ انہوں نے زندگی بھر آپ ﷺ کی نصرت و حمایت اور تکریم و تبجیل میں کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھا۔ ہجرت سے کچھ پہلے وہ بھی دنیا سے رخصت ہوئے۔ چند روز بعد یہ امانت الہٰی اللہ کے حکم سے انصار مدینہ کے گھر پہنچ گئی۔ " اوس " اور " خزرج " کی قسمت کا ستارہ چمک اٹھا۔ اور انہوں نے اس کی حفاظت اس طرح کی جس کی نظیر چشم فلک نے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 6{ اَلَمْ یَجِدْکَ یَتِیْمًا فَاٰوٰی۔ } ”کیا اس نے نہیں پایا آپ کو یتیم ‘ پھر پناہ دی !“ یہ آیات سیرت النبی ﷺ کے مختلف پہلوئوں کو سمجھنے کے حوالے سے بھی بہت اہم ہیں۔ حضور ﷺ کے والد آپ ﷺ کی پیدائش سے پہلے ہی وفات پا چکے تھے۔ چناچہ آپ ﷺ پیدا ہی یتیمی کی حالت میں ہوئے۔ چھ سال کی عمر میں والدہ کا سہارا بھی چھن گیا۔ دادا نے اپنی کفالت میں لیا تو دو سال بعد وہ بھی چھوڑ کر چلے گئے۔ تایا زبیر بن عبدالمطلب سرپرست بنے تو کچھ عرصہ بعد ان کا بھی انتقال ہوگیا حضور ﷺ کی کفالت کے حوالے سے آپ ﷺ کے تایا زبیر بن عبدالمطلب کا ذکر اکثر تاریخی حوالوں میں موجود ہی نہیں۔ ایسا دراصل جناب ابوطالب کے کردار کو…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

5 یتیم ہونے پر آپ کو بہترین سرپرست ملتے رہے :۔ آپ کی پیدائش سے دو ماہ پیشتر ہی آپ ﷺ کے والد ماجد کا انتقال ہوگیا تھا۔ آپ ﷺ پیدا ہوئے تو آپ کی سرپرستی کا ذمہ آپ کے دادا عبدالمطلب نے لیا جو اپنی صلبی اولاد سے بڑھ کر آپ پر شفقت اور پیار کرتے تھے۔ ابھی چھ ہی سال کے تھے کہ والدہ ماجدہ بھی انتقال کرگئیں اور آپ دونوں طرف سے یتیم ہوگئے۔ آٹھ سال کے ہوئے تو آپ ﷺ کے مہربان دادا عبدالمطلب کی بھی وفات ہوگئی۔ اب آپ ﷺ کی سرپرستی کی ذمہ داری آپ ﷺ کے ایک چھوٹے چچا ابو طالب نے سنبھالی۔ جس نے آپ ﷺ کو اپنی اولاد سے بڑھ کر پیار دیا۔ پھر جب آپ ﷺ کو نبوت ملی اور آپ ﷺ کی برادری کے لوگ بھی آپ ﷺ کے دشمن ہوگئے تو ابو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 6–8

5۔ (سو جو بندہ ماضی میں اتنے التفات واکرام کامورد رہ چکا ہے، اس کا مستقبل تو اور زیادہ روشن وشاندار ہوکررہتا ہے) (آیت) ” الم یجدک یتیما فاوی “۔ یعنی دنیا میں جب آپ لائے گئے، تو ہر طرح کیسی بےسروسامانی، اور اسباب ظاہری سے کس درجہ محرومی تھی، اس کے باوجود بھی اس نے کس کس طرح آپ ﷺ کو ہر طرح مطمئن کردیا، اور ہر طرح کا سامان اطمینان آپ ﷺ کے لئے بہم پہنچا دیا ! (آیت) ” ووجدک ضآلا فھدی “۔ آپ ﷺ ابتداء واصلا اصول وارکان شریعت سے بیگانہ محض تھے، پھر اسی نے تو آپ ﷺ کو دین و شریعت کا پور اپور علم دے دیا، (آیت) ” ضآلا “۔ ضال کے معنی حیران و سرگرداں کے ہیں، محمد رسول ﷺ دولت رسالت سے تو بعد کو مشرف ہوئے ہی،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

الم یجدک یتیماً فاوی یعنی آپ ﷺ کو چھوڑ دینے اور آپ ﷺ سے ناراض ہوجانے کا کیا سوال ؟ ہم تو آپ ﷺ پر اس وقت سے مہربان ہیں جب آپ ﷺ یتیم پیدا ہوئے تھے آپ ﷺ ابھی بطن مادر میں چھ ماہ ہی کے تھے کہ آپ ﷺ کے والد ماجدہ کا انتقال ہوگیا تھا، اس لئے آپ ﷺ دنیا میں یتیم کی حیثیت سے تشریف لائے مگر اللہ تعالیٰ نے ایک دن بھی آپ ﷺ کو بےسہارا نہیں چھوڑا، چھ سال کی عمر تک والدہ ماجدہ نے آپ ﷺ کی پرورش کی، ان کی شفقت سے محروم ہوئے تو آٹھ سال کی عمر تک آپ ﷺ کے جد امجد نے آپ ﷺ کی نگرانی اور پرورش فرمائی اور نہ صرف یہ کہ پرورش فرمائی بلکہ ان کو آپ ﷺ پر فخر تھا اور وہ لوگوں سے کہا کرتے تھے کہ میرا یہ بیٹا ایک دن دنیا میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

الم یجدک یتیما . کیا اللہ نے تم کو یتیم نہیں جانا یا حالت یتیمی میں نہیں پایا۔ یجد (مضارع) وَجَدَ سے ہے اور وجد کا معنی ہے عَلِمَ (اس نے جانا) اور یتیمًا دوسرا مفعول ہے یا وجد سے تو ہے مگر وجد ‘ وجود سے مشتق ہے اور وجود کا معنی ہے پانا۔ اس وقت یتیمًا حال ہوگا۔ استفہام انکار نفی کے لیے ہے اور انکار نفی ‘ اثبات کو مستلزم ہے۔ اس سے غرض ہے ‘ مخاطب سے اقرار کرانا۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ نے تم کو یتیم پایا۔ یعنی جب تمہارا باپ مرگیا تو تم کو خدا نے نادار بچہ پایا۔ باپ نے نہ تمہارے لیے مال چھوڑا تھا نہ کوئی ٹھکانہ۔ اس جملہ میں مَا وَدَّعَکَ کے معنی تاکید کے ہے۔ فاوی . پس اس نے تم کو ٹھکانا دیا ‘ یعنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اب اس پر نعمتیں یاد دلا کر اللہ تعالیٰ استشہاد فرماتے ہیں کہ کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو یتیم نہیں پایا پھر آپ کی کفات اور زمہ داری کے لے حضرت ابوطالب کو ٹھہرا دیا، حضور ﷺ نے فرمایا بےشک۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(الم یجدک یتیماً فاوی :”اوی یووی ایوائ“ (افعال) جگہ دینا۔ اس میں آپ کے ابتدائی حالات کا بیان ہے، آپ ماں کے پیٹ میں تھے کہ والد فوت ہوگئے۔ والدہ نے آپ کو پالا۔ چھ برس کے تھے کہ والدہ فوت ہوگئیں، پھر دادا نے پرورش کی۔ آٹھ برس کے تھے کہ وہ بھی فوت ہوگئے، پھر چچا ابوطالبنے بیٹوں سے بڑھ کر پالا۔ یہ سب اسباب اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے مہیا کئے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

الم یجدک یتیما فاوی۔ اللہ تعالیٰ نے ان احسانات کا شمار کیا ہے جو اس نے اپنے نبی حضرت محمد ﷺ پر کیے فرمایا، کیا تجھے یتیم نہیں پایا یعنی تیرا باپ نہیں تھا تیرا باپ فوت ہوچکا تھا تو تیرے لیے ٹھکانہ بنادیا تو اس کے ہاں یعنی اپنے چچا ابوطالب کے ہاں پناہ لیتا اس نے تیری کفالت کی۔ امام جعفر بن محمد صادق سے پوچھا گیا نبی کریم ﷺ کو ان کے والدین سے کیوں یتیم کیا گیا ؟ انہوں نے فرمایا کہ تاکہ مخلوق کا ان پر کوئی حق نہ ہو۔ مجاہد سے یہ بھی مروی ہے یہ عربوں کے اس قول سے ماخوذ ہے، درۃ یتیمۃ یہ لفظ اس وقت بولتے ہیں جب وہ بےمثال ہو۔ تو آیت کا معنی یہ ہوگا کیا تجھے شرف میں یکتا نہیں پایا کہ تیری کوئی مثال…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

33۔ البیہقی نے دلائل میں ابن شہاب (رح) سے روایت کیا کہ عبدالمطلب نے اپنے بیٹے عبداللہ کو بھیجا کہ ان کے لیے یثرب سے کھجوریں لے آئے۔ تو عبداللہ مدینہ میں پہنچ کر وفات پاگئے اور آمنہ نے رسول اللہ ﷺ کو جنم دیا آپ اپنے دادا عبدالمطلب کی پرورش میں رہے۔ 34۔ ابن ابی حاتم والطبرانی والحاکم وصححہ وابو نعیم والبیہقی دونوں نے الدلائل میں اور ابن مردویہ اور ابن عساکر رحمہما اللہ نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا کہ آپ نے فرمایا کہ میں نے اپنے رب سے ایک سوال کیا اور میں اس بات کو پسند کرتا تھا کہ میں ان سے سوال نہ کرتا۔ میں نے کہا مجھ سے پہلے جو انبیاء تھے ان میں سے یہ بھی تھا کہ جس کے لیے ہوا کو مسخر کیا گیا۔…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[اَلَمْ يَجِدْكَ : کیا اس نے نہیں پایا آپ ﷺ کو ][ يَتِيْمًـا فَاٰوٰى: یتیم تو اس نے رہنے کی جگہ دی آپ ﷺ کو ] (آیات۔ 6 ۔ 7 ۔ اور 8 ۔ میں فَاٰوٰی، فَھَدیٰ اور فَاَغْنٰی، اِن تینوں کے آگے ضمیر مفعولی کَ محذوف ہے۔ نوٹ۔ 5: آنحضرت ﷺ کی ولادت سے پہلے ہی آپ 1 کے والد وفات پاچکے تھے۔ چھ سال کی عمر تھی کہ والدہ نے رحلت کی پھر آٹھ سال کی عمر تک اپنے دادا عبدالمطلب کی کفالت میں رہے۔ آخر میں ظاہری تربیت و پرورش کی سعادت آپ 1 کے چچا ابوطالب کے حصے میں آئی۔ انھوں نے زندگی بھر آپ 1 کی نصرت و حمایت میں کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھا۔ ہجرت سے کچھ پہلے وہ بھی دنیا سے رخصت ہوئے۔ پھر یہ امانت الٰہی اللہ کے حکم سے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 5–7

﴿وَ لَسَوْفَ يُعْطِيْكَ رَبُّكَ فَتَرْضٰىؕ005﴾ (اور عنقریب اللہ تعالیٰ آپ کو دے گا سو آپ خوش ہوجائیں گے) ۔ یعنی دنیا والی زندگی میں جو کچھ مال کی کمی ہے اس کا خیال نہ فرمائیں آخرت میں اللہ تعالیٰ آپ کو اتنا دے گا کہ آپ راضی ہوجائیں گے کسی چیز کی کوئی کمی محسوس نہ کریں گے۔ عموم الفاظ میں دنیاوی اموال کی کمی کی طرف اشارہ ہے۔ مخالفین جو آپ کو یہ دیکھ کر آپ کے پاس دولت نہیں ہے نامناسب کلمات کہنے کی جرات کرتے ہیں یہ کوئی قابل توجہ چیز نہیں ہے درحقیقت اللہ تعالیٰ کی عطا اور بخشش کا پوری طرح آخرت ہی میں مظاہرہ ہوگا۔ رسول اللہ ﷺ کو مقام محمود عطا کیا جائے گا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمتوں کا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–11

انعامات خاصہ : برذات اقدس نبی کریم علیہ الصلوۃ والتسلیم وامر باواء شکر : قال اللہ تعالیٰ (آیت) ” والضحی والیل اذا سجی ......... الی ......... واما بنعمۃ ربک فحدث “۔ (ربط) گزشتہ چند سورتوں میں آنحضرت ﷺ کی نبوت و رسالت کو ثابت کیا گیا تھا اور ایمان کا دارومدار آخرت پر ایمان یقین کی شکل میں ہے تو اس کے دلائل بھی ذکر فرما دیئے گئے اب اس سورت میں ان خصوصی انعامات کا ذکر ہے جن سے آنحضرت ﷺ کی ذات اقدس کو سرفراز فرمایا گیا اور ان انعامات کے ضمن میں آپ کی رسالت کے دلائل بھی ذکر کردئیے گئے اور جن خاص کمالات اور اخلاق حسنہ سے پیغمبر کی ذات متصف ہونی چاہئے، ان کو بھی بیان کردیا گیا، ارشاد ہے۔ قسم ہے دھوپ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 6–8

4:۔ ” الم یجدک “ آپ کے ابتدائی حالات یاد دلا کر اور تین انعامات ذکر کر کے تسلی کے لیے شواہد بیان فرما دئیے ہر لاحق انعام سابق کے بعد ہوا ہے۔ استفہام تقریری ہے۔ آپ یتیم رہ گئے تو اللہ تعالیٰ نے دوسروں کے ذریعے سے آپ کی پرورش کرائی۔ جب آپ جوان ہوئے تو دین کا راستہ نہیں جانتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے آپ پر قرآن نازل کر کے آپ کو شریعت سکھائی اور راستہ بتایا۔ پھر آپ فقیر اور تنگدست تھے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو غنی کردیا۔ مکہ میں حضرت خدیجہ ؓ کے مال سے یا مدینہ میں غنائم وانفال سے، ای فاغناک بخدیجۃ ؓ ، وقیل اغناک بما فتح لک من الفتوح وافاءہ علیک من اموال الکفار (قرطبی ج 20 ص 99، 100) ۔ مگر دوسری توجیہ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 5–11

گزشتہ سے پیوستہ ابتدائے سورة میں اللہ تعالیٰ نے یہ بات سمجھائی کہ چند دن کے لئے وحی کے منقطع ہونے پر مشرکین جو اعتراضات کرتے ہیں ، وہ درست نہیں ہیں۔ اس میں بھی اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے اس مقام پر دن اور رات کی قسم کھا کر آپ کو تسلی دی گئی ہے کہ آپ کا پروردگار مکمل طور پر آپ کے ساتھ ہے۔ نہ اس نے آپ کو چھوڑا ہے اور نہ اس نے آپ سے نفرت کا اظہار فرمایا ہے۔ یہاں پر دھوپ کے روشن ہونے سے مراد وحی الٰہی کا نزول ہے جس طرح چاشت کے وقت دن خوب روشن ہوتا ہے اور ہر چیز واضح ہوتی ہے۔ اسی طرح وحی الٰہی کے نزول پر حقائق کا انکشاف ہوتا ہے۔ وحی الٰہی کا منقطع ہونا بھی ترق کی علامت ہے اور اس کا منشاء یہ ہے کہ آپ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيْمًـا فَاٰوٰى۝ 6 ۠ الف ( ا) الألفات التي تدخل لمعنی علی ثلاثة أنواع : - نوع في صدر الکلام . - ونوع في وسطه . - ونوع في آخره . فالذي في صدر الکلام أضرب : - الأوّل : ألف الاستخبار، وتفسیره بالاستخبار أولی من تفسیر ه بالاستفهام، إذ کان ذلک يعمّه وغیره نحو : الإنكار والتبکيت والنفي والتسوية . فالاستفهام نحو قوله تعالی: أَتَجْعَلُ فِيها مَنْ يُفْسِدُ فِيها [ البقرة/ 30] ، والتبکيت إمّا للمخاطب أو لغیره نحو : أَذْهَبْتُمْ طَيِّباتِكُمْ [ الأحقاف/ 20] ، أَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللَّهِ عَهْداً [ البقرة/ 80] ، آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ [يونس/ 91] ، أَفَإِنْ ماتَ أَوْ قُتِلَ [ آل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 6–11

ترکیب ¦ الم یجدک ھذا شروع فیما انعم اللہ علیہ والہمزۃ لانکار النفی وتقریر المنفی فکانہ قال قدو جدک یتیما والوجود بمعنی العلم۔ فآ وٰی قرء الجمھور بالالف بعد الھمزۃ رباعیا من آواہ یویہ وقریٔ ثلاثیا وھوا ما بمعنی الرباعی اوھو من آوی لہ اذا رحمہ ووجدک ضا لا فہدی معطوف علی المضارع المنفی وقیل علی ما یقتضیہ الکلام السابق والضلال ھھنا بمعنی الغفلۃ کما قال الزجاج ونظیرہ قولہ تعالیٰ ولا یضل ربی ولا ینسیٰ وقولہ تعالیٰ ان تضل احدا ھما فتذکر احدا ھما الاخرٰی وقیل من الطلب والمحبتہ کقولہ تعالیٰ انک لفی ضلالک القدیم ووجدک عائلا الخ معطوف علی الکلام السابق یقال عال الرجل یعیل عیلۃ اذا افتقرا ما الیتیم منصوب…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اَلَمْ یَجِدْکَ یَتِیْمًا فَاٰوٰی۔ (الضحیٰ : 6) (کیا اس نے آپ کو یتیم نہیں پایا اور پھر ٹھکانہ فراہم کیا۔ ) آنحضرت ﷺ کی زندگی کے بعض حالات سے استدلال دشمن یہ کہہ رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو چھوڑ دیا ہے اور وہ آپ سے ناراض ہوگیا ہے، کیا انھیں معلوم نہیں کہ ہمارا آج تک آنحضرت ﷺ کے ساتھ کیسا محبت کا تعلق رہا ہے۔ آپ شکم مادر میں تھے کہ والد ماجد کا سایہ سر سے اٹھ گیا، پیدا ہوئے تو آپ یتیم تھے۔ والد ماجد نے کوئی ایسی میراث نہ چھوڑی تھی جو آپ کی پرورش کا ذریعہ بن سکتی۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ایک دن بھی آپ کو بےسہارا نہ چھوڑا۔ چھ سال کی عمر تک والدہ ماجدہ نے آپ کی پرورش کی۔ ان کی شفقت سے محروم ہوئے تو…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 6–8

فہم القرآن ربط کلام : چوتھی اور پانچویں آیت میں نبی ﷺ کو یہ خوشخبری دی گئی کہ آپ کا مستقبل آپ کے ماضی اور حال سے بہت ہی اعلیٰ اور بہترین ہوگا۔ اس کے لیے آپ کے ماضی کے تین حوالے دیئے گئے ہیں۔ آپ ﷺ یتیم تھے ” اللہ “ نے آپ کو بہترین ٹھکانہ دیا۔ آپ ﷺ ہدایت کے بارے میں بیخبر تھے اس نے آپ کی راہنمائی فرمائی اور آپ کو پوری دنیا کا راہنما بنا دیا آپ ﷺ غریب تھے اس نے آپ کو غنی فرما دیا۔ اس انسان کی بےبسی اور لاچارگی کی انتہا ہوتی ہے جو پیدائش کے وقت یتیم ہونے کے ساتھ انتہائی غریب ہو اور اس کی راہنمائی کرنے والا بھی کوئی نہ ہو، ایسے بچے کا معاشرے میں اعلیٰ مقام پانا تو درکنار وہ در در کی ٹھوکریں کھانے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

یتیمی میں سہارا : 6 : پھر آپ پر کیے جانے والے احسانات کو اولین حالت سے شمار کیا۔ تاکہ آئندہ کو گزشتہ پر قیاس کرلیا جائے اور زیادت خیر اور حسنیٰ کے سوا اور کسی بات کی توقع نہ ہو۔ اور دل بھی تنگ نہ ہو۔ اور صبر میں کمی نہ آئے۔ پس فرمایا : اَلَمْ یَجِدْکَ یَتِیْمًا فَاٰوٰی (کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو یتیم نہیں پایا پھر ٹھکانہ دیا) یجدک اس وجود سے بنا ہے جو العلم کے معنی میں آتا ہے۔ اور دونوں منصوب مفعول ہیں۔ معنی یہ ہے کیا آپ اس وقت یتیم نہ تھے جب آپ کے والدین فوت ہوگئے۔ فَاٰوٰی ( پھر ٹھکانہ دیا) پس اس نے ( پہلے دادا) پھر آپ کے چچا ابو طالب کے ہاں ٹھکانہ دیا) اس کے ساتھ ملا دیا یہاں تک اس نے آپ کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

6 ۔” الم یجدک یتیما فاویٰ “ ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں نے اپنے رب سے ایک مسئلہ پوچھا ہے، میرا دل چاہتا ہے کہ میں نے وہ نہ پوچھا ہوتا۔ میں نے کہا اے میرے رب ! بیشک تونے سلیمان بن دائود (علیہم السلام) کو عظیم ملک دیا اور فلاں کو اتنا دیا اور فلاں کو اتنا دیا ؟ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے محمد ! ( ﷺ ) کیا میں نے تجھے یتیم نہیں پایا تھا، پھر میں نے تجھے ٹھکانہ دیا ؟ میں نے کہا کیوں نہیں اے میرے رب ! فرمایا کیا میں نے آپ کو راہ حق کا متلاشی نہیں پایا تھا، پھر میں نے آپ کو ہدایت دی ؟ میں نے کہا کیوں نہیں اے میرے رب ! فرمایا کیا میں نے آپ کو تنگدست نہیں پایا تھا، پھر میں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–11

1۔ 11۔ اگرچہ مفسروں نے اس سورة کی شان نزول میں طرح طرح کی باتیں لکھی ہیں سب سے زیادہ صحیح شان نزول وہی ہے جس کا ذکر صحیحین 1 ؎ کی جندب ؓ کی روایت میں ہے کہ حضرت ﷺ ہجرت سے پہلے مکہ میں کچھ بیمار ہوگئے تھے اس بیماری کے سبب سے دو تین راتوں تک آپ تہجد کی نماز کو نہیں اٹھے یہ دیکھ کر ام جمیل ابو لہب کی بی بی نے کہا محمد کے رب نے محمد کو چھوڑ دیا۔ اس لئے انہوں نے رات کو اٹھنا بند کردیا۔ ام جمیل کی اس بات سے آنحضرت ﷺ کو رنج ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کے رنج رفع ہوجانے کی غرض سے یہ سورة نازل فرمائی اور فرمایا کہ اے نبی اللہ کے ‘ نہ اللہ نے تم کو چھوڑ دیا ہے نہ وہ تم سے کچھ خفا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

پھر اللہ تعالیٰ ان خاص احوال کے ذریعے سے جنہیں وہ جانتا ہے آپ پر اپنے احسان کا ذکر کرتا ہے چناچہ فرمایا (اَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيْمًـا فَاٰوٰى) یعنی آپ کو اس طرح پایا کہ آپ کی ماں تھی نہ باپ بلکہ آپ کے ماں باپ اس وقت وفات پاگئے جب کہ آپ اپنی دیکھ بھال خود نہیں کرسکتے تھے آپ کے دادا عبدالمطلب نے آپ کی کفالت کی پھر آپ کے دادا بھی وفات پاگئے تو آپ کے چچا ابوطالب نے آپ کی کفالت کی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی نصرت اور اہل ایمان کے ذریعے سے آپ کی مدد فرمائی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

6 ۔ حضور کے زمانہ یتیمی میں عنایات خداوندی کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور حضور ﷺ کے زمانہ یتیمی میں الطاف و عنایات خداوندی کے ذکر وبیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا اور تاکید کے لیے بطور سوال و استفہام ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ حقیقت نہیں کہ اللہ نے آپ کو یتیم پایا پھر آپ کو ٹحکانا دیا ؟ " کہ والد ماجد کا انتقال اس وقت ہوگیا تھا جب کہ آپ ابھی بطن مادر ہی میں تھے، پھر چھ سال کی عمر شریف میں جب والدہ ماجدہ کا سایہ بھی آپ کے سر سے اٹھ گیا تو آپ اپنے دادا عبدالمطلب کی آغوش تربیت میں آگئے، جنہوں نے آنجناب کو صرف شفقت و پیار ہی نہیں دیا، بلکہ خاص فخر و مباہات کے ساتھ آپ کی تربیت و پرورش…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–11

اللہ کی رحمتیں اور نبی پاک ﷺ تشریح : بڑی خوبصورت سورت پاک ہے۔ اللہ کی رحمتوں برکتوں ' فضیلتوں ' لطف وکرم اور قدرت و عظمت کا بیان بڑے خوبصورت انداز میں کیا گیا ہے۔ اور اس خاص محبت کا ذکر جو اللہ جل شانہ کو اپنے پیارے رسول ﷺ سے ہے بڑے محبت بھرے انداز میں کی گئی ہے۔ وحی کے رک جانے سے جو آپ ﷺ پریشان ہوئے تو حق تعالیٰ نے آفتاب کی روشنی اور رات کے گھپ اندھیرے کی قسم کھا کر یقین دلایا کہ آپ ﷺ پریشان نہ ہوں جس طرح دن رات کا نظام انسان کے کام اور آرام کا ذریعہ ہے اسی طرح آپ ﷺ کی وحی کے اترنے کا وقفہ محض آپ ﷺ کو اعصابی آرام دینے کے لیے دیا گیا ہے تاکہ آپ ﷺ پر وحی کی وجہ سے جو مشقت پڑتی ہے وہ وقفہ وقفہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–11

سورة الضحی۔ آیات 1 تا 11۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے دن کی روشنی کی اور رات کی جب وہ چھاجاتی ہے یعنی دن کی روشنی اور رات کی تاریکی گواہ ہیں کہ دن کے بعد رات بھی آسکتی ہے پھر خود رات گواہ ہے کہ جب مکمل ہوچکتی ہے تو تاریکی کم ہونے لگتی ہے اور پھر دن آجاتا ہے۔ قبض وبسط۔ یہی حال کیفیات قلب کا بھی ہے کہ کبی واردات بہت تیزا ورروشن ہوتی ہیں یعنی بسط ہوتا ہے اور کبھی قبض کی کیفیت وارد ہوتی ہے اور قبض سے یہ نہیں سمجھاجاسکتا کہ پھر بسط نہ ہوگا چند روز نزول وحی نہ ہواتوکفار نے طعنہ دیا کہ رب نے انہیں چھوڑ دیا ہے تو رب کریم نے جو اباارشاد فرمایا کہ آپ کے پروردگار نے نہ تو آپ کو چھوڑا ہے اور نہ وہ آپ سے خفا ہے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 5–6

ف 2 شاہ صاحب لکھتے ہیں : حضرت کے باپ مرگئے پیٹ میں چھوڑ کر۔ دادا (عبدالمطلب) نے پالا وہ بھی مرگئے آٹھ برس کا چھوڑ کر پھر چچا نے پالا جب تک جوان نہیں ہوئے۔ (کذافی المواضح)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(93:6) الم یجدک یتیما فاوی۔ أ ہمزہ استفہام انکاری۔ لم یجد مضارع نفی جحد بلم۔ نفی کی نفی۔ اتبات۔ گویا الم یجدک کا ہے۔ مطلب ہوا قد وجدک : یتیما حال ہے ک ضمیر مفعول ہے۔ لفظی ترجمہ ہوگا :۔ کیا اس نے تمہیں یتیمی کی حالت میں نہیں پایا ؟ (مطلب یہ کہ بیشک اس نے تمہیں یتیمی کی حالت میں پایا) ۔ فاوی :تعقیب کا ہے۔ اوی ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ ایواء (افعال) مصدر سے۔ اس نے جگہ دی۔ اس نے اتارا۔ پھر اس نے (تمہیں) جگہ دی یعنی تمہاری عافیت کا انتظام کیا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–11

لغات القرآن۔ سجی۔ چھا گیا۔ ماقلی۔ نہ بیزار ہوا۔ سوف یعطی۔ بہت جلد عطا کرے گا۔ ترضی۔ تو خوش ہوجائے گا۔ اوی۔ ٹھکانا رہا۔ ضال۔ تلاش حق میں سرگرداں ۔ عائل ۔ مفلس و غریب۔ اغنی۔ مال دار کردیا۔ لا تقھر ۔ مت ڈانٹ۔ لا ینتھر۔ نہ جھڑک ۔ حدت ۔ بیان کر۔ تشریح : نبی کریم حضرت محمد ﷺ پر ابتداء میں پہلی وحی کے بعد تیس چالیس دن تک وحی کا سلسلہ بند رہا۔ پھر اس کے بعد لگاتار وحی کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ وحی بند ہونے کے زمانہ میں ایک طرف تو آپ پریشان تھے۔ ادھر کفار مکہ کی طنز آمیز باتوں اور طعنوں سے آپ بہت غمگکین رہتے تھے۔ وہ کہتے کہ اے محمد ﷺ ! کیا تمہارا رب تم سے ناراض ہوگیا اور وحی کا سلسلہ بند ہوگیا ؟ ابو لہب کی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

شفاعت کابیان۔ (ف 3) یعنی جدا اور مکروہ جاننا کیسا، ابھی تو آپ کا رب آپ کو دنیا وآخرت میں اس قدر دولتیں اور نعمتیں عطا فرمائے گا کہ آ پوری طرح مطمئن اور راضی ہوجائیں گے اور اللہ کا اپنے حبیب سے یہ وعدہ کریمہ ان نعموں کو بھی شامل ہے جو آپ کو دنیا میں عطا فرمائیں، کمال نفس اور علوم اولین وآخرین اور ظہور امر اور اعلائے دین اور وہ فتوحات جو عہد مبارک میں ہوئیں، عہد صحابہ میں ہوئیں اور تاقیامت مسلمانوں کو ہوتی رہیں گی اور دعوت کا عام ہونااواسلام کا مشارق ومغارب میں پھیل جانا اور آپ کی امت کا بہترین امم ہونا اور آپ کے وہ کرامات و کمالات جن کا اللہ ہی عالم ہے اور آخرت کی عزت و تکریم کو بھی شامل ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 4–11

[3] یعنی آنے والے حالات آپ کے لئے گزشتہ حالات سے بہتر و برتر ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 4–8

ف 2: ان آیتوں میں یہ بتایا ہے کہ آپ دیکھ لیجئے ۔ ابتداہی سے اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی تربیت کا خاص خیال رکھا ہے ۔ آپ یتیم پیدا ہوئے تو دادا نے آغوش شفقت میں لے لیا ۔ دادا نے آنکھیں بند کیں تو جوانی تک آپ ﷺ کے چچا ابوطالب ساتھ رہے اور انتہائی محبت کے ساتھ آپ کی مدد کی ۔ جب آپ ﷺ کو ایک عظیم خدمت کے لئے منتخب فرمایا ہے تو کیا آپ ﷺ سے بےاعتنائی اور بےتوجہی کا سلوک رکھا جائیگا پھر سب سے بڑی روحانی اعانت جو فرمائی ، وہ یہ تھی کہ روح کے شوق اور جستجو نے حق کی پیاس کی تسکین کا سامان بہم پہنچایا اور آپ کو ایک مکمل دستورالعمل مرحمت فرمایا جو سارے عالم انسانی کے کے لئے باعث صدبرکت وسعادت ہے ۔ مالی طور پر…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(6) کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو یتیم نہیں پایا پھر آپ کا ٹھکانا دیا - حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں حضرت کا باپ مرگیا پیٹ میں چھوڑ کردادانے پالا وہ بھی مرگیا آٹھ برس کا چھوڑ کر پھر چچا نے پالا جب تک جوان ہوئے۔ خلاصہ : یہ کہ آپ یتیم تھے صغیر تھے پھر حق تعالیٰ نے آپ کو ٹھکانا دیا اور آپ کی پرورش کا سامان کردیا جیسا کہ کتب سیر میں تفصیل موجود ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 2۔ چناچہ سیر میں ہے کہ آپ شکم مادر میں تھے کہ آپ کے والد کی وفات ہوگئی، اللہ تعالیٰ نے آپ کے دادا اور چچا سے آپ کو پرورش کرایا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کیا اللہ نے آپ ﷺ کو یتیم نہ پایا پھر آپ ﷺ کو ٹھکانا دیا ؟ 6 ؎ یہ استدلال ایک فطری استدلال ہے کہ انسان کو جو انعامات و کرامات دیئے گئے ہیں ان کا بیان کر کے آنے والے انعامات و اکرامات پر استدلال کیا جائے تاکہ انسان کو حقیقت کے سمجھنے میں ذرا آسانی ہو اور وہ آسانی سے اس بات کو سمجھ جائے کہ فی الواقع جو انعامات و کرامات مجھ پر کیے گئے ہیں جس طرح یہ ہیں اسی طرح آنے والے اوقات میں مزید ہوں گے اور جس نے بہت کچھ بن مانگے دیا ہے وہ مانگنے کے بعد کیوں نہیں دے گا ۔ آپ بھی بےباپ پیدا ہوئے اور بہت سے بچے اور بھی ہیں جو بن باپ پیدا ہوتے ہیں پھر انسارے بن باپ پیدا ہونے والوں کے حالات بھی آپ کی آنکھوں کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

In response to the unbelievers' taunts, it was briefly mentioned that the Holy Prophet ﷺ has already been blessed with many Divine favours. The Surah elaborates on three of them in particular. Favour [ 1] أَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيمًا فَآوَىٰ (Did He not find you an orphan, and give you shelter?...93:6). The Holy Prophet ﷺ was an orphan. His father died before he was born, leaving no wealth or property to look after him. The words 'and gave you shelter' signify that the Holy Prophet ﷺ received such deep love and affection from his grand-father, ` Abd-ul-Muttalib, and after him from his uncle, Abu…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

6 That is, "There can be no question of forsaking you and being displeased with you; We have, in fact, been good to you ever sinCe the time you were born an orphan." The Holy Prophet's father passed away three months before his birth; thus he was an orphan at birth. But Allah did not leave him without support even for a day. Up to six years of age his mother nourished and looked after him. After her death, his grandfather took him and brought him up with great love. He would proudly tell the people; "My this son has a great future.' When he also died, his uncle, Abu Talib, became his guardian…

Read the full tafseer →