Ad-Dhuhaa 93:5

Ad-Dhuhaa · from ayah 5

93:5

وَلَسَوْفَ یُعْطِیْكَ رَبُّكَ فَتَرْضٰی ۟ؕوَلَسَوۡفَ يُعۡطِيۡكَ رَبُّكَ فَتَرۡضٰىؕ

اور تمہیں پروردگار عنقریب وہ کچھ عطا فرمائے گا کہ تم خوش ہو جاؤ گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And your Lord is going to give you, and you will be satisfied.

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 18 of juz

Read the whole surah · Surah Ad-Dhuhaa

All translations of 93:5

اور عنقریب تمہارا رب تم کو اتنا دے گا کہ تم خوش ہو جاؤ گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور تمہیں پروردگار عنقریب وہ کچھ عطا فرمائے گا کہ تم خوش ہو جاؤ گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

تجھے تیرا رب بہت جلد (انعام) دے گا اور تو راضی (وخوش) ہو جائے گا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور یقین جانو کہ عنقریب تمہارا پروردگار تمہیں اتنا اتنا دے گا کہ تم خوش ہوجاؤ گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور بیشک قریب ہے کہ تمہارا رب تمہیں اتنا دے گا کہ تم راضی ہوجاؤ گے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور آپ کا رب عنقریب آپ کو (اتنا کچھ) عطا فرمائے گا کہ آپ راضی ہو جائیں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور یقینا عنقریب تیرا رب تجھے عطا کرے گا، پس تو راضی ہوجائے گا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور آپ کا پروردگار آپ کو جلد ہی اتنا کچھ عطا کرے گا کہ آپ خوش ہوجائیں گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور تیرا خداوند تجھے عطا فرمائے گا پس تو نہال ہوجائے گا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور یقینا آپ ﷺ کا رب آپ ﷺ کو (وہ کچھ) دے گا کہ آپ ﷺ خوش ہوجائیں گے

— مولانا اسحاق مدنی

اور عنقریب آپ کا پروردگار آپ کو اتنا عطا کرے گا کہ آپ خوش ہوجائیں گے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور عنقریب آپ ﷺ کا رب آپ ﷺ کو اتنا کچھ عطا فرمائے گا کہ آپ ﷺ راضی ہوجائیں گے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور تمہیں رب العزت عنقریب وہ کچھ دے گا کہ تم خوش ہوجاؤ گے

— محترمہ رفعت اعجاز

Verily your Lord will soon give you so amply that you will be well-pleased.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And of course, your Lord will give you so much that you will be pleased.

— Muhammad Taqi Usmani

And of course, your Lord will give you so much that you will be pleased.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And verily, your Lord will give you so that you shall be well-pleased.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And verily thy Lord will give unto thee so that thou wilt be content.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And your Lord is going to give you, and you will be satisfied.

— Saheeh International

Your Lord will soon grant you sufficient favors to please you.

— Muhammad Sarwar

And soon will your Lord give you so that you shall be well pleased.

— Muhammad Habib Shakir

And presently thy Lord shall give Unto thee so that thou shalt be be well-pleased.

— Abdul Majid Daryabadi

And soon will thy Guardian-Lord give thee (that wherewith) thou shalt be well-pleased.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 93:5

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–11

مسند احمد میں ہے کہ حضور ﷺ بیمار ہوگئے اور ایک یا دو راتوں تک آپ تہجد کی نماز کے لیے نہ اٹھ سکے تو ایک عورت کہنے لگی کہ تجھے تیرے شیطان نے چھوڑ دیا اس پر یہ اگلی آیتیں نازل ہوئیں (بخاری مسلم وغیرہ) حضرت جندب فرماتے ہیں کہ جبرائیل کے آنے میں کچھ دیر ہوئی تو مشرکین کہنے لگے کہ یہ تو چھوڑ دئیے گئے تو اللہ تعالیٰ نے والضحٰی سے ماقلفی تک کی آیتیں اتاریں، اور روایت میں ہے کہ حضور ﷺ کی انگلی پر پتھر مارا گیا تھا جس سے خون نکلا اور جس پر آپ نے فرمایا : ھل انت الا اصبع دمیت وفی سبیل اللہ ما لقیت یعنی تو صرف ایک انگلی ہے اور راہ اللہ میں تجھے یہ زخم لگا ہے۔ طبعیت کچھ ناساز ہوجانے کی وجہ سے دو تین رات…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الضُّحٰی 5 یعنی اگرچہ دینے میں کچھ دیر تو لگے گی۔ لیکن وہ وقت دور نہیں ہے جب تم پر تمہارے رب کی عطا و بخشش کی وہ بارش ہوگی کہ تم خوش ہوجاؤ گے۔ یہ وعدہ حضور کی زندگی ہی میں اس طرح پورا ہوا کہ سارا ملک عرب جنوب کے سواحل سے لے کر شمال میں سلطنت روم کی شامی اور سلطنت فارس کی عراقی سرحدوں تک، اور مشرق میں خلیج فارس سے لیکر مغرب میں بحر احمر تک آپ کے زیر نگین ہوگیا، عرب کی تاریخ میں پہلی مرتبہ یہ سر زمین ایک قانون اور ضابطہ کی تابع ہوگئی، جو طاقت بھی اس سے ٹکرائی وہ پاش پاش ہو کر رہ گئی، کلمہ " لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلَ اللہِ " سے وہ پورا ملک گونج اٹھا جس میں مشرکین اور اہل…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

ولسوف یعطیک ربک فترضی، یعنی آپ کا رب آپ کو اتنا دے گا کہ آپ راضی ہوجائیں، اس میں حق تعالیٰ نے یہ متعین کر کے نہیں بتالای کہ کیا دیں گے اس میں شارہ عمومی کی طرف ہے کہ آپ کی ہر مرغوب چیز آپ کو اتنی دیں گے کہ آپ راضی ہوجائیں۔ آپ کی مرغوب چیزوں میں دین اسلام کی ترقی، دین اسلام کا عام طور پر دنیا میں پھیلنا پھر امت کی ہر ضرورت اور خود آپ کا دشمنوں پر غالب آنا، ان کے ملک میں اللہ کا کلمہ بلند کرنا اور دین حق پھیلانا سب داخل ہیں۔ حدیث میں ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اذا لا ارضی و واحدمن امتی فی النار یعنی جب یہ بات ہے تو میں اس وقت تک راضی نہ ہوں گا جب تک میری امت میں سے ایک…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

فرمایا کہ عنقریب تمہارا رب تمہیں دے گا اور تم نہال ہو جاؤ گے۔ یہاں اگرچہ واضح نہیں فرمایا کہ کیا دے گا لیکن قرینہ دلیل ہے کہ اس سے مراد وہی خیر ہے جس کی بشارت اوپر والی آیت میں دی گئی ہے اور جو حاوی ہے ان تمام فیروز مندیوں اور کامرانیوں پر جو بعد کے ادوار میں اسلام کو حاصل ہوئیں۔ چونکہ ابھی یہ ساری باتیں پردۂ غیب میں تھیں اس وجہ سے ’یُعْطِیْکَ‘ کے مفعول ثانی کو ظاہر نہیں فرمایا لیکن اس کے بعد ’فَتَرْضٰی‘ کے لفظ نے کسی قدر اس شان دار مستقبل کی جھلک دکھا دی کہ اتنا دے گا کہ بس تم نہال ہو جاؤ گے!۔۔۔ اس ایک ہی لفظ کے اندر وہ سب کچھ موجود ہے جو ایک دفتر میں بھی نہیں سما سکتا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

5۔ 1 اس سے دنیا کی فتوحات اور آخرت کا اجر وثواب مراد ہے، اس میں وہ حق شفاعت بھی داخل ہے جو آپ ﷺ کو اپنی امت کے گناہ گاروں کے لئے ملے گا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 4–5

2: آگے آنے والے حالات سے مراد آخرت کی نعمتیں بھی ہوسکتی ہیں، اور پہلے حالات سے دنیا، اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی مبارک زندگی میں ہر آن آپ کے درجات میں ترقی ہوتی رہے گی، اور دشمنوں کی طرف سے آپ کو تکلیفیں پہنچ رہی ہیں، آخر کار وہ دور ہو کر آپ ہی کا بول بالا ہوگا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ولسوف ............................ فترضیٰ (5:93) ” عنقریب تمہارا رب تم کو اتنا دے گا کہ تم خوش ہوجاﺅ گے “۔ اب اس سورت کا سیاق آگے بڑھتے ہوئے نبی ﷺ کو یاد دلاتا ہے کہ آپ کے ساتھ رب تعالیٰ کا سلوک تو روزاول ہی سے نہایت اچھا رہا ہے تاکہ آپ کو اس بات کا یقین ہوجائے کہ رب تعالیٰ آپ پر مہربان رہا ہے۔ آپ کے ساتھ محبت کرتا ہے اور آپ پر رحم وکرم کرتا ہے اور اس سے قبل بھی کئی مواقع پر آپ پر فضل وکرم کرتا رہا ہے ، محبت اور انس کا سلوک کرتا رہا ہے اور آپ کے ساتھ اس حسن سلوک کو نہایت ہی خوش اسلوبی کے ساتھ یاد کیا جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

9 یعنی ناراض اور بیزار ہو کر چھوڑ دینا کیسا، ابھی تو تیرا رب تجھ کو (دنیاو آخرت میں) اس قدر دولتیں اور نعمتیں عطا فرمائے گا کہ تو پوری طرح مطمئن اور راضی ہوجائے۔ حدیث میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ محمد راضی نہیں ہوگا جب تک اس کی امت کا ایک آدمی بھی دوزخ میں رہے

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 5{ وَلَسَوْفَ یُعْطِیْکَ رَبُّکَ فَتَرْضٰی۔ } ”اور عنقریب آپ ﷺ کا رب آپ ﷺ کو اتنا کچھ عطا فرمائے گا کہ آپ ﷺ راضی ہوجائیں گے۔“ یعنی اب بہت جلد آپ ﷺ کی محنتوں کے ایسے ایسے نتائج آپ ﷺ کے سامنے آئیں گے کہ انہیں دیکھ کر آپ ﷺ خوش ہوجائیں گے۔ 1 یہاں پر پچھلی سورت کی آخری آیت کے یہ الفاظ بھی ذہن میں تازہ کرلیں : { وَلَسَوْفَ یَرْضٰی۔ } گویا جو خوشخبری یہاں حضور ﷺ کو سنائی جارہی ہے وہی بشارت سورة اللیل میں حضرت ابوبکر رض کو دی گئی ہے۔ دونوں آیات کا اسلوب اصلاً ایک سا ہے ‘ صرف ضمیر اور صیغے کا فرق ہے۔ حضور ﷺ پر چونکہ وحی آتی تھی اس لیے آپ ﷺ کو صیغہ حاضر تَرْضٰی میں براہ راست مخاطب کیا گیا ‘ جبکہ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

4 آپ پر اللہ کے انعامات :۔ آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے کیا کچھ دیا تھا ؟ اس بات کا احاطہ ہم نہیں کرسکتے بلکہ ہم تو یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ وہ کونسی عزوشرف کی بات تھی جو آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے عطا نہ کی ہو۔ آپ ﷺ کو صحابہ کرام ؓ کی ایسی جماعت عطا کی جن میں سے ایک ایک فرد آپ ﷺ پر اپنی جان تک فدا کرنے پر فخر محسوس کرتا تھا۔ آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کا غیر مشروط مطاع بنایا۔ ان کا معلم اور مزکی بنایا۔ اپنی کتاب کا مفسر بنایا۔ پورے عرب سے آپ ﷺ کی کوششوں سے کفر و شرک کا مکمل طور پر استیصال ہوگیا۔ پورے جزیرہ عرب میں اسلام کا غلبہ ہوگیا۔ آپ 23 سال کے قلیل عرصہ میں ایک وحشی اجڈ اور ایک دوسرے کے خون…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

ولسوف یعطیک ربک فترضی یعنی آپ ﷺ کا رب آپ ﷺ کو اتنا دے گا کہ آپ ﷺ راضی ہوجائیں، اس میں حق تعالیٰ نے یہ متعین کر کے نہیں بتلایا کہ کیا دیں گیڈ اس میں اشارہ عموم کی طرف ہے کہ آپ ﷺ کی ہر پسندیدہ چیز اتنی عطا کی جائے گی کہ آپ خوش ہوجائیں گے، آپ ﷺ کی مرغوب چیزوں میں اسلام کی ترقی، دین اسلام کا عام طور پر دنیا میں پھیلنا وغیرہ وغیرہ سب داخل ہیں، یعنی اگرچہ دینے میں کچھ تاخیر ہوگی لیکن وہ وقت دور نہیں کہ جب آپ ﷺ پر آپ ﷺ کے رب کی عطا و بخشش کی وہ بارش ہوگی کہ آپ ﷺ خوش ہوجائیں گے یہ وعدہ آپ ﷺ کی زندگی ہی میں اس طرح پورا ہوا کہ سارا ملک عرب جنوب کے سوا حل سے لے کر شمال میں سلطنت روم کی شامی اور سطنت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

و لسوف یعطیک ربک فترضی . بیہقی نے دلائل میں ‘ طبرانی نے اوسط میں اور حاکم وغیرہ نے نقل کیا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ امت کے آئندہ فتوحات (ممالک کی فتح ‘ دولت کی کثرت ‘ اقتدار کا حصول ‘ دنیوی کامرانی وغیرہ) رسول اللہ ﷺ کے سامنے (کشف کی حالت میں) لائے گئے۔ آپ کو ان سے خوشی حاصل ہوئی۔ اس پر آیت مذکورہ نازل ہوئی۔ یعطیک میں دوسرے مفعول کو اس لیے حذف کردیا کہ کسی نعمت کو ذکر کرنے سے خصوصیت پیدا ہوجاتی (اور دوسری نعمتوں سے محرومی کا شبہ پیدا ہوتا) اور عموم مفعول کا فائدہ حاصل نہ ہوتا۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تم کو بکثرت عنایات سے نوازے گا۔ دشمنوں پر فتح ‘ اقتدار کامل ‘ مؤمنوں کی کثرت ‘ تمام عالم…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 1–5

(1۔ 5) قسم ہے پورے دن کی اور رات کی جب کہ وہ تاریک اور سیاہ ہوجائے، جس وقت سے اللہ تعالیٰ نے آپ کے پاس وحی بھیجی ہے نہ آپ کو چھوڑا ہے اور نہ جب سے آپ کو محبوب بنایا ہے آپ سے دشمنی کی ہے۔ رسول اکرم ﷺ انشاء اللہ کہنا بھول گئے تھے تو اس کے بعد پندرہ روز تک وحی آنا بند رہی۔ تو اس وقت کافر کہنے لگے کہ آپ کے پروردگار نے آپ کو چھوڑ دیا ہے اور آپ سے دشمنی کرلی ہے اس وقت یہ آیات نازل ہوئیں اور آخرت کا ثواب آپ کے لیے ثواب دنیا سے بدرجہا بہتر ہے، اور اللہ تعالیٰ آپ کو آخرت میں مقام شفاعت ہی عطا فرمائے گا کہ جس سے آپ خوش ہوجائیں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(ولسوف یعطیک ربک فترضی :) یہ مزید تسلی ہے، اس میں اللہ کی فتح و نصرت ، لوگوں کا فوج در فوج اسلام میں داخل ہونا، زمین کے مشارق و مغارب کا آپ کی امت کے قبضے میں آنا، قیامت کو آپ کے ہاتھ میں ”لواء الحمد“ ہونا ، مقام محمود ملنا، شفاعت کبریٰ ، امت کی مغفرت ، غرض وہ سب کچھ شامل ہے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو دیا اور دے گا۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 4–5

تفسیر 4، 5۔ سلمہ نے ابواسحاق سے روایت نقل کی ہے کہ آیت کا معنی ہے، اے محمد ﷺ میری طرف لوٹنے پر جو میرے پاس موجود ہے وہ اس سے بہتر ہے جو میں نے تجھے دنیا میں کرامت سے نوازا ہے حضرت ابن عباس نے فرمایا، اللہ تعالیٰ آپ کی امت پر جن ممالک کو فتح کرنے والا تھا خواب میں وہ ممالک حضور ﷺ کو دکھائے گئے تو اس وجہ سے آپ ﷺ خوش ہوئے تو جبرائیل امین یہ دونوں آیات لے کر نازل ہوئے۔ ابن اسحاق نے کہا : دنیا میں فتح و کامرانی اور آخرت میں ثواب۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، اس سے مراد حوض اور شفاعت ہے حضرت ابن عباس سے یہ بھی مروی ہے سفید موتی کے ایک ہزار محل جس کی مٹی کستوری کی ہوگی۔ امام اوزاعی نے اسے مرفوع نقل کیا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

22۔ ابن جریرنے سدی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے آیت ولسوف یعطیک ربک فترضی کے بارے میں روایت کیا کہ محمد ﷺ کی رضا تو یہ ہے کہ آپ کے اہل بیت میں سے کوئی بھی دوزخ میں داخل نہ ہو۔ 23۔ البیہقی نے شعب الایمان میں سعید بن جبیر کے طریق سے ابن عباس رضٰ اللہ عنہما سے آیت ولسوف یعطیک ربک فترضی کے بارے میں روایت کیا کہ آپ کی رضا تو یہ ہے کہ آپ کی ساری امت جنت میں داخل ہو۔ 24۔ الخطیب نے تلیخیص المتشابہ میں دوسری سند سے ابن عباس ؓ سے آیت ولسوف یعطیک ربک فترضی کے بارے میں روایت کیا کہ محمد ﷺ اس بات سے راضی نہیں ہوں گے جب تک ان کی امت میں سے ایک آدمی بھی دوزخ میں ہوگا۔ 25۔ مسلم نے ابن عمرو ؓ سے روایت کیا کہ نبی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَلَسَوْفَ يُعْطِيْكَ رَبُّكَ : اور یقینا عنقریب عطا کرے گا آپ ﷺ کو آپ ﷺ کا رب ][ فَتَرْضٰى: نتیجتاً آپ ﷺ راضی ہوجائیں گے ] نوٹ۔ 4: آیت۔ 5 ۔ کا مطلب ہے کہ آپ 1 کا رب آپ (علیہ السلام) 1 کو اتنا دے گا کہ آپ 1 راضی ہوجائیں گے۔ اس میں حق تعالیٰ نے یہ متعین کر کے نہیں بتایا کہ کیا دیں گے۔ اس میں اشارہ عموم کی طرف ہے کہ آپ 1 کی ہر مرغوب چیز آپ 1 کو اتنی دیں گے کہ آپ 1 راضی ہوجائیں۔ آپ 1 کی مرغوب چیزوں میں امت کی ہر ضرورت، زمین میں اللہ کا کلمہ بلند کرنا اور دین حق پھیلانا سب داخل ہیں۔ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ میری امت کے بارے میں میری شفاعت قبول فرمائیں گے یہاں تک کہ حق…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 5–7

﴿وَ لَسَوْفَ يُعْطِيْكَ رَبُّكَ فَتَرْضٰىؕ005﴾ (اور عنقریب اللہ تعالیٰ آپ کو دے گا سو آپ خوش ہوجائیں گے) ۔ یعنی دنیا والی زندگی میں جو کچھ مال کی کمی ہے اس کا خیال نہ فرمائیں آخرت میں اللہ تعالیٰ آپ کو اتنا دے گا کہ آپ راضی ہوجائیں گے کسی چیز کی کوئی کمی محسوس نہ کریں گے۔ عموم الفاظ میں دنیاوی اموال کی کمی کی طرف اشارہ ہے۔ مخالفین جو آپ کو یہ دیکھ کر آپ کے پاس دولت نہیں ہے نامناسب کلمات کہنے کی جرات کرتے ہیں یہ کوئی قابل توجہ چیز نہیں ہے درحقیقت اللہ تعالیٰ کی عطا اور بخشش کا پوری طرح آخرت ہی میں مظاہرہ ہوگا۔ رسول اللہ ﷺ کو مقام محمود عطا کیا جائے گا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمتوں کا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–11

انعامات خاصہ : برذات اقدس نبی کریم علیہ الصلوۃ والتسلیم وامر باواء شکر : قال اللہ تعالیٰ (آیت) ” والضحی والیل اذا سجی ......... الی ......... واما بنعمۃ ربک فحدث “۔ (ربط) گزشتہ چند سورتوں میں آنحضرت ﷺ کی نبوت و رسالت کو ثابت کیا گیا تھا اور ایمان کا دارومدار آخرت پر ایمان یقین کی شکل میں ہے تو اس کے دلائل بھی ذکر فرما دیئے گئے اب اس سورت میں ان خصوصی انعامات کا ذکر ہے جن سے آنحضرت ﷺ کی ذات اقدس کو سرفراز فرمایا گیا اور ان انعامات کے ضمن میں آپ کی رسالت کے دلائل بھی ذکر کردئیے گئے اور جن خاص کمالات اور اخلاق حسنہ سے پیغمبر کی ذات متصف ہونی چاہئے، ان کو بھی بیان کردیا گیا، ارشاد ہے۔ قسم ہے دھوپ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 4–5

3:۔ ” وللاخرۃ “ آخرت کا حال بیان کر کے مزید تسلی فرما دی۔ دنیا میں تو مختلف احوال آتے ہی رہیں گے کبھی راحت، کبھی مشقت، اگرچہ دنیا میں بھی سراسر بہتری ہی ہے۔ لیکن آخرت آپ کے لیے دنیا کے مقابلے میں بہت ہی بہتر ہے، کیونکہ آخرت میں سب سے اونچا اور عظیم مقام یعنی مقام محمود آپ کیلئے مخصوص ہے۔ یا مطلب یہ ہے کہ ہر پچھلی حالت آپ کے لیے پہلی حالت سے بہتر ہوگی کیونکہ رفتہ رفتہ تمام تکلیفیں اور مشقتیں ختم ہوجائیں گی اور آپ کو غلبہ حاصل ہوتا جائے گا۔ ” ولسوف یعطیک ربک فترضی “ آخرت میں اللہ تعالیٰ آپ کو ایسی نعمتیں اور ایسا شرف عطا فرمائیگا کہ آپ دنیا کی مشقتیں بھول کر خوش ہوجائیں گے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 5–11

گزشتہ سے پیوستہ ابتدائے سورة میں اللہ تعالیٰ نے یہ بات سمجھائی کہ چند دن کے لئے وحی کے منقطع ہونے پر مشرکین جو اعتراضات کرتے ہیں ، وہ درست نہیں ہیں۔ اس میں بھی اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے اس مقام پر دن اور رات کی قسم کھا کر آپ کو تسلی دی گئی ہے کہ آپ کا پروردگار مکمل طور پر آپ کے ساتھ ہے۔ نہ اس نے آپ کو چھوڑا ہے اور نہ اس نے آپ سے نفرت کا اظہار فرمایا ہے۔ یہاں پر دھوپ کے روشن ہونے سے مراد وحی الٰہی کا نزول ہے جس طرح چاشت کے وقت دن خوب روشن ہوتا ہے اور ہر چیز واضح ہوتی ہے۔ اسی طرح وحی الٰہی کے نزول پر حقائق کا انکشاف ہوتا ہے۔ وحی الٰہی کا منقطع ہونا بھی ترق کی علامت ہے اور اس کا منشاء یہ ہے کہ آپ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلَسَوْفَ يُعْطِيْكَ رَبُّكَ فَتَرْضٰى۝ 5 ۭ سوف سَوْفَ حرف يخصّص أفعال المضارعة بالاستقبال، ويجرّدها عن معنی الحال، نحو : سَوْفَ أَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّي[يوسف/ 98] ، وقوله : فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ [ الأنعام/ 135] ، تنبيه أنّ ما يطلبونه۔ وإن لم يكن في الوقت حاصلا۔ فهو ممّا يكون بعد لا محالة، ويقتضي معنی المماطلة والتأخير، واشتقّ منه التَّسْوِيفُ اعتبارا بقول الواعد : سوف أفعل کذا، والسَّوْفُ : شمّ التّراب والبول، ومنه قيل للمفازة التي يَسُوفُ الدلیل ترابها : مَسَافَةٌ ، قال الشاعر : إذا الدّليل اسْتَافَ أخلاق الطّرق والسُّوَافُ : مرض الإبل يشارف بها الهلاك، وذلک لأنها تشمّ الموت، أو يشمّها…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–5

ترکیب ¦ والضحٰی الوا وللقسم وھو اول النھار اذا تجلٰی وارتفعت الشمس وقیل المراد بہ النھار کلہ مجازًا من اطلاق الجزاء و ارادۃ الکل بدلیل مقابلۃ بالیل اذا سجیٰ والیل عطف علیہ اذا العامل فیہ معنی القسم سجٰی ای سکن قالہ قتادہ و مجاھد و ابن زید و عکرمۃ وغیرھم یقال لیلۃ ساجیۃ ای ساکنۃ ویقال سجا الشیء یسجو سجوًا اذا سکن وعن ابن الاعرابی سجٰی امتد ظلامہ وقال الاصمعی سجو اللیل تعظیۃ النھار ما ودعک الخ ھذا جواب القسم قر۔ الجمہور بتشدید الدال من التودیع وقری ٔ بتخفیفھا من قولھم ودعہ ترکہ وما قلی عطف علیٰ ماودعک وانقلاء البغض یقال قلاہ یقلیہ قلاً ولم یقل ما قلاک لموافقۃ روس الآیٔ وللاخرۃ اللام جواب قسم…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَلَسَوْفَ یُعْطِیْکَ رَبُّکَ فَتَرْضٰی۔ (الضحیٰ : 5) (اور عنقریب آپ کا رب آپ کو اتنا عطا فرمائے گا کہ آپ خوش ہوجائیں گے۔ ) سابقہ مضمون کی مزید وضاحت اس سے پہلے کی آیت میں تو فرمایا کہ آپ کی آنے والی ہر گھڑی پہلی گھڑی سے بہتر ہوگی اور اب اس میں مزید اضافہ کرتے ہوئے فرمایا کہ آنے والا دور آپ کے لیے اس قدر امید افزاء اور فرحت بخش ہوگا کہ آپ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اس کے انعامات پر شاداں وفرحاں ہوجائیں گے۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کے مطابق اسے وقوع پذیر ہونے میں ایک وقت لگے گا لیکن ” سوف “ نے یہ بات متعین کردی کہ یہ وقت طویل نہیں ہوگا، چند سالوں میں ایک حیرت انگیز انقلاب برپا ہوگا۔ ممکن ہے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–5

فہم القرآن ربط سورت : سورة الّیل کے آخر میں نیک لوگوں کے بہتر انجام کا ذکر فرمایا اور سورة الضّحٰی میں تین قسمیں کھانے کے بعد نبی ﷺ کی ذات کے حوالے سے بتلایا ہے کہ آپ کی زندگی کا آنے والا دور پہلے دور سے بہتر ہوگا مقصد یہ ہے جو شخص نیک کام کرے گا اللہ تعالیٰ اس کی دنیا اور آخرت بہتر کردیں گے۔ الضّحٰی کا معنٰی ہے روشن دن اور سجٰی رات کے اس وقت کو کہتے ہیں جب رات اپنی تاریکی اور سکون کے ساتھ ہر چیز پر چھا جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان اوقات کی قسمیں اٹھا کر اس بات کی وضاحت فرمائی ہے کہ آپ ﷺ کے رب نے آپ کو نہ چھوڑا ہے اور نہ آپ پر ناراض ہوا ہے، چھوڑنا اور ناراض ہونا تو درکنار اس نے آپ کی زندگی کا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

5 : وَلَسَوْفَ یُعْطِیْکَ رَبُّکَ (اور عنقریب اللہ تعالیٰ آپ کو دے گا) آخرت کا ثواب اور مقام شفاعت وغیرہ ذلک فَتَرْضٰی (پس آپ خوش ہوجائیں گے) جب یہ آیت نازل ہوئی۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا میں اس وقت بالکل راضی نہ ہونگا۔ جب تک کہ میری امت کا ایک آدمی بھی نار میں ہوگا۔ ] رواہ الخطیب فی تلخیص المتشابہ [ نحو : سوف پر داخل ہونے والا لام لام ابتدائیہ ہے جو مضمون جملہ کی تاکید کیلئے لایا گیا ہے۔ مبتدأ محذوف ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے : ولانت سوف یعطیک اور لا اقسم کو جنہوں نے لأقسم پڑھا ہے۔ اس کے لام کو بھی ابتدائیہ قرار دیا ہے۔ کیونکہ اس کا معنی لأنا اقسم اور اس طرح ماننے کی ضرورت اس لئے ہوئی کہ جب لام قسمیہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

5 ۔” ولسوف یعطیک ربک فترضیٰ “ عطاء نے ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ وہ شفاعت آپ (علیہ السلام) کی امت کے حق میں حتیٰ کہ آپ (علیہ السلام) راضی ہوجائیں گے اور یہ علی اور حسن کا قول ہے اور عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سیروایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اے اللہ ! میری امت میری اور رو پڑے تو اللہ تعالیٰ نے جبرئیل (علیہ السلام) کو کہا آپ محمد ﷺ کے پاس جائو اور ان کو کہو ہم عنقریب آپ (علیہ السلام) کو آپ کی امت کے بارے میں راضی کردیں گے اور ان کے بارے میں آپ کو غمگین نہ کریں گے۔ ابوجعفر محمد بن علی ؓ فرماتے ہیں۔ بیشک تم اہل عراق کے گروہ تم کہتے ہو قرآن مجید میں امید کی آیت ” قل یا عبادی الذین اسرفوا علی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–11

1۔ 11۔ اگرچہ مفسروں نے اس سورة کی شان نزول میں طرح طرح کی باتیں لکھی ہیں سب سے زیادہ صحیح شان نزول وہی ہے جس کا ذکر صحیحین 1 ؎ کی جندب ؓ کی روایت میں ہے کہ حضرت ﷺ ہجرت سے پہلے مکہ میں کچھ بیمار ہوگئے تھے اس بیماری کے سبب سے دو تین راتوں تک آپ تہجد کی نماز کو نہیں اٹھے یہ دیکھ کر ام جمیل ابو لہب کی بی بی نے کہا محمد کے رب نے محمد کو چھوڑ دیا۔ اس لئے انہوں نے رات کو اٹھنا بند کردیا۔ ام جمیل کی اس بات سے آنحضرت ﷺ کو رنج ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کے رنج رفع ہوجانے کی غرض سے یہ سورة نازل فرمائی اور فرمایا کہ اے نبی اللہ کے ‘ نہ اللہ نے تم کو چھوڑ دیا ہے نہ وہ تم سے کچھ خفا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 4–5

رہامستقبل میں آپ کا حال تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا (وَلَلْاٰخِرَةُ خَيْرٌ لَّكَ مِنَ الْاُوْلٰى) یعنی آپ کے احوال میں سے ہر متاخر حال کو سابقہ احوال پر فضیلت حاصل ہے چناچہ رسول اللہ درجات عالیہ پر ترقی کرتے رہے اللہ تعالیٰ آپ کے دین کو تمکن عطا کرتارہا، آپ کے دشمنوں کے خلاف آپ کو فتح ونصرت سے بہرہ مند کرتا رہا اور آپ کے احوال کے درست کرتا رہا یہاں تک کہ آپ نے وفات پائی۔ آپ فضائل اللہ تعالیٰ کی نعمتوں آنکھوں کی ٹھنڈک اور دل کے سرور کے ایسے حال پر پہنچ گئے جہاں اولین وآخرین نہیں پہنچ سکے۔ پھر اس کے بعد آخرت میں آپ کے حال سے متعلق اکرام و تکریم اور انواع و اقسام کے انعامات کی تفصیلات کے بارے میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

5 ۔ پیغمبر کے لیے ایک عظیم الشان بشارت کا ذکرو بیان : سو پیغمبر کے لیے ایک عظیم الشان بشارت کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ آپ کا رب آپ کو وہ کچھ دے گا کہ آپ خوش ہوجائیں گے، چناچہ حقیقی عزت و عظمت دین حق کی تبلیغ و سربلندی، کفر و شرک کے اندھیروں کے خاتمے اور کلمہ توحید کے اور غلبے کے ذریعے جس عظیم الشان اور بےمثل انقلاب کی سرفرازی سے آپ ﷺ کو نوازا گیا اس کی تو پوری تاریخ انسانیت میں دوسری کوئی نظیر و مثال نہ مل سکتی ہے اور نہ قیامت تک کبھی ملنا ممکن ہے اور پھر یہ کامل مقدس اور حقیقی انقلاب جو اللہ تعالیٰ کے خاص فضل و کرم سے آپ کے ذریعے دنیا میں رونما ہوا، اور جس سے انسانوں کا ظاہر و باطن سب کچھ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–11

اللہ کی رحمتیں اور نبی پاک ﷺ تشریح : بڑی خوبصورت سورت پاک ہے۔ اللہ کی رحمتوں برکتوں ' فضیلتوں ' لطف وکرم اور قدرت و عظمت کا بیان بڑے خوبصورت انداز میں کیا گیا ہے۔ اور اس خاص محبت کا ذکر جو اللہ جل شانہ کو اپنے پیارے رسول ﷺ سے ہے بڑے محبت بھرے انداز میں کی گئی ہے۔ وحی کے رک جانے سے جو آپ ﷺ پریشان ہوئے تو حق تعالیٰ نے آفتاب کی روشنی اور رات کے گھپ اندھیرے کی قسم کھا کر یقین دلایا کہ آپ ﷺ پریشان نہ ہوں جس طرح دن رات کا نظام انسان کے کام اور آرام کا ذریعہ ہے اسی طرح آپ ﷺ کی وحی کے اترنے کا وقفہ محض آپ ﷺ کو اعصابی آرام دینے کے لیے دیا گیا ہے تاکہ آپ ﷺ پر وحی کی وجہ سے جو مشقت پڑتی ہے وہ وقفہ وقفہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–11

سورة الضحی۔ آیات 1 تا 11۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے دن کی روشنی کی اور رات کی جب وہ چھاجاتی ہے یعنی دن کی روشنی اور رات کی تاریکی گواہ ہیں کہ دن کے بعد رات بھی آسکتی ہے پھر خود رات گواہ ہے کہ جب مکمل ہوچکتی ہے تو تاریکی کم ہونے لگتی ہے اور پھر دن آجاتا ہے۔ قبض وبسط۔ یہی حال کیفیات قلب کا بھی ہے کہ کبی واردات بہت تیزا ورروشن ہوتی ہیں یعنی بسط ہوتا ہے اور کبھی قبض کی کیفیت وارد ہوتی ہے اور قبض سے یہ نہیں سمجھاجاسکتا کہ پھر بسط نہ ہوگا چند روز نزول وحی نہ ہواتوکفار نے طعنہ دیا کہ رب نے انہیں چھوڑ دیا ہے تو رب کریم نے جو اباارشاد فرمایا کہ آپ کے پروردگار نے نہ تو آپ کو چھوڑا ہے اور نہ وہ آپ سے خفا ہے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 5–6

ف 2 شاہ صاحب لکھتے ہیں : حضرت کے باپ مرگئے پیٹ میں چھوڑ کر۔ دادا (عبدالمطلب) نے پالا وہ بھی مرگئے آٹھ برس کا چھوڑ کر پھر چچا نے پالا جب تک جوان نہیں ہوئے۔ (کذافی المواضح)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 4–5

(93:4) وللاخرۃ خیر لک من الاولی۔ لام جواب قسم کے لئے ہے یا بہ قسم محذوف ہے یا یہ آیت گزشتہ آیت کے جواب قسم سے ملحق ہے۔ تفسیر مظہری میں ہے کہ :۔ ممکن ہے یہ آیت گزشتہ آیت سے پیوستہ ہو۔ وابستگی کی وجہ یہ ہے کہ آیت ما ودعک ربک وما قلی کے ضمن میں یہ بات آگئی ہے کہ اللہ وحی بھیج کر تم کو اپنے ساتھ ملائے رکھے گا۔ تم حبیب خدا ہو اور اس سے زیادہ فضیلت اور کیا ہوسکتی ہے ۔ اب اس آیت میں بتایا کہ آخرت میں تمہارا درجہ اس سے بڑا ہوگا۔ وہ تمہارے لئے اس سے بہتر ہوگی۔ تمام انبیاء کی سرداری ہوگی۔ مقام محمود عطا کیا جائے گا۔ جس پر پچھلے اگلے رشک کریں گے۔ یا آیت کا یہ معنی بھی ہوسکتا ہے کہ دوسری حالت پہلی حالت…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–11

لغات القرآن۔ سجی۔ چھا گیا۔ ماقلی۔ نہ بیزار ہوا۔ سوف یعطی۔ بہت جلد عطا کرے گا۔ ترضی۔ تو خوش ہوجائے گا۔ اوی۔ ٹھکانا رہا۔ ضال۔ تلاش حق میں سرگرداں ۔ عائل ۔ مفلس و غریب۔ اغنی۔ مال دار کردیا۔ لا تقھر ۔ مت ڈانٹ۔ لا ینتھر۔ نہ جھڑک ۔ حدت ۔ بیان کر۔ تشریح : نبی کریم حضرت محمد ﷺ پر ابتداء میں پہلی وحی کے بعد تیس چالیس دن تک وحی کا سلسلہ بند رہا۔ پھر اس کے بعد لگاتار وحی کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ وحی بند ہونے کے زمانہ میں ایک طرف تو آپ پریشان تھے۔ ادھر کفار مکہ کی طنز آمیز باتوں اور طعنوں سے آپ بہت غمگکین رہتے تھے۔ وہ کہتے کہ اے محمد ﷺ ! کیا تمہارا رب تم سے ناراض ہوگیا اور وحی کا سلسلہ بند ہوگیا ؟ ابو لہب کی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

شان مصطفیٰ میں ہر لمحہ اضافہ ہی ہوتا رہے گا۔ (ف 2) کیونکہ وہاں آپ کے لیے مقام محمود حوض مورد وخیر موعود، اور تمام انبیاء ورسل پر تقدم ہے اور آپ کی امت کا تمام امتوں پر گواہ ہونا اور آپ کی شفاعت سے مومنین کے مرتبے اور درجے بلند ہونا، اور بےانتہاء عزتیں اور کرامتیں ہیں جو بیان میں نہیں آتیں، اور مفسرین نے اس کے یہ معنی بھی بیان فرمائے ہیں کہ آنے والے احوال آپ کے لیے گذشتہ سے بہتر و برتر ہیں گویا کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ روز بروز آپ کے درجات بلند کرے گا، اور عزت پر عزت اور منصب پر منصب زیادہ فرمائے گا، اور ساعت بساعت آپ کے مراتب ترقیوں میں رہیں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 4–11

[3] یعنی آنے والے حالات آپ کے لئے گزشتہ حالات سے بہتر و برتر ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 4–8

ف 2: ان آیتوں میں یہ بتایا ہے کہ آپ دیکھ لیجئے ۔ ابتداہی سے اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی تربیت کا خاص خیال رکھا ہے ۔ آپ یتیم پیدا ہوئے تو دادا نے آغوش شفقت میں لے لیا ۔ دادا نے آنکھیں بند کیں تو جوانی تک آپ ﷺ کے چچا ابوطالب ساتھ رہے اور انتہائی محبت کے ساتھ آپ کی مدد کی ۔ جب آپ ﷺ کو ایک عظیم خدمت کے لئے منتخب فرمایا ہے تو کیا آپ ﷺ سے بےاعتنائی اور بےتوجہی کا سلوک رکھا جائیگا پھر سب سے بڑی روحانی اعانت جو فرمائی ، وہ یہ تھی کہ روح کے شوق اور جستجو نے حق کی پیاس کی تسکین کا سامان بہم پہنچایا اور آپ کو ایک مکمل دستورالعمل مرحمت فرمایا جو سارے عالم انسانی کے کے لئے باعث صدبرکت وسعادت ہے ۔ مالی طور پر…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(5) اور آپ کا پروردگار آگے چل کر آپ کو اتنا کچھ دے گا کہ آپ خوش ہوجائیں گے - یعنی آگے آپ کو اتنی نعمتیں عطا کی جائیں گی کہ آپ ان نعمتوں کے ملنے سے خوش ہوجائیں گے دنیا اور آخرت میں آپ کو اس قدر بیشمار نعمتیں ملنے والی ہیں کہ آپ راضی اور خوش ہوجائیں گے۔ نبی کریم ﷺ ایک دن رو کر دعا فرما رہے تھے اللھم امتی اللھم امتی حضرت جبرئیل حاضر ہوئے اور انہوں نے کہا اللہ تعالیٰ آپ کو سلام فرماتا ہے اور ارشاد فرماتا ہے کہ ہم تمہاری امت کے بارے میں تم کو خوش کردیں گے حضور ﷺ نے فرمایا اے جبرئیل اگر میری امت کا ایک شخص بھی دوزخ میں رہ جائے گا تو میں خوش نہ ہوں گا۔ بہرحال آخرت میں شفاعت عامہ اور خاصہ اور مقام…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 1۔ مقسم بہ کو بشارت سے مناسبت یہ ہے کہ وحی کا تتابع وابطاء مشابہ لیل و نہار کے تبدل کے ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اور عنقریب آپ ﷺ کا رب آپ ﷺ کو وہ کچھ عطا کر دے گا کہ تو راضی ہوجائے گا 5 ؎ جو کسی کا مطمع نظر ہوتا ہے اگر وہ پورا ہوتا نظر آئے تو جو خوشی اس وقت اس کو نصیب ہوتی ہے جس کا مطمع نظر پورا ہو رہا ہو اس کا ذکر قلم کی نوک بیان نہیں کرسکتی ۔ رسول اللہ ﷺ دین کی اشاعت و ترقی کے لیے ہر وقت فکر مند رہا کرتے تھے اور دین حق کی سر بلندی کے لے ج آپ ﷺ نے اپنی تمام قوتیں اور کوششیں مرکوز کررکھی تھیں ۔ ایک لمحہ بھی چین سے نہیں گزرتا تھا کہ آپ ﷺ کو اپنی امت کی بخشش و مغفرت کا خیال ہر وقت مضطرب رکھتا تھا اور آپ ﷺ کے دل کی گہرائیوں تک یہ خواہش سرایت کرچکی تھی کہ ان لوگوں کی ہدایت کی کوئی سبیل نکل آئے اور یہ راہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَ‌بُّكَ فَتَرْ‌ضَىٰ (And of course, your Lord will give you so much that you will be pleased....93:5). Allah does not specify here what he will give him. The statement is open and general. The Holy Prophet ﷺ will be granted everything he desires so much that he will be pleased. Among his desired thing is the progress of Islam; the general spread of Islam in the world; fulfillment of every need of the Ummah; triumph of the Holy Prophet himself over his enemies and raising the word of Allah in the land of the enemy. When this verse was revealed, the Holy Prophet ﷺ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

5 That is "Although it will take some time, yet the time is not far when your Lord will bless you with so much that you will be well pleased "This promise was fulfilled during the lifetime of the Holy Prophet and all Arabia, from the southern coasts to the Syrian frontiers of the Byzantine empire and the Iraqi frontiers of the Persian empire in the north, and from the Persian Gulf in the east to the Red Sea in the west, carne under his control. For the first time in the history of Arabia this land became subject to one law and rule. Whichever power clashed with it was doomed to destruction.…

Read the full tafseer →