Explained with ayahs 1–11
مسند احمد میں ہے کہ حضور ﷺ بیمار ہوگئے اور ایک یا دو راتوں تک آپ تہجد کی نماز کے لیے نہ اٹھ سکے تو ایک عورت کہنے لگی کہ تجھے تیرے شیطان نے چھوڑ دیا اس پر یہ اگلی آیتیں نازل ہوئیں (بخاری مسلم وغیرہ) حضرت جندب فرماتے ہیں کہ جبرائیل کے آنے میں کچھ دیر ہوئی تو مشرکین کہنے لگے کہ یہ تو چھوڑ دئیے گئے تو اللہ تعالیٰ نے والضحٰی سے ماقلفی تک کی آیتیں اتاریں، اور روایت میں ہے کہ حضور ﷺ کی انگلی پر پتھر مارا گیا تھا جس سے خون نکلا اور جس پر آپ نے فرمایا :
ھل انت الا اصبع دمیت وفی سبیل اللہ ما لقیت
یعنی تو صرف ایک انگلی ہے اور راہ اللہ میں تجھے یہ زخم لگا ہے۔
طبعیت کچھ ناساز ہوجانے کی وجہ سے دو تین رات…
Read the full tafseer →سورة الضُّحٰی 4
یہ خوشخبری اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو ایسی حالت میں دی تھی جبکہ چند مٹھی بھر آدمی آپ کے ساتھ تھے ساری قوم آپ کی مخالف تھی بظاہر کامیابی کے آثار دور دور کہیں نظر نہ آتے تھے۔ اسلام کی شمع مکہ میں ٹمٹما رہی تھی اور اسے بجھا دینے کے لیے ہر طرف اٹھ رہے تھے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے فرمایا کہ ابتدائی دور کی مشکلات سے آپ ذرا پریشان نہ ہوں۔ ہر بعد کا دور پہلے دور سے آپ کے لیے بہتر ثابت ہوگا۔ آپ کی قوت، آپ کی عزت و شوکت اور آپ کی قدر و منزلت برابر بڑھتی چلی جائے گی اور آپ کا نفوذ و اثر پھیلتا چلا جائے گا۔ پھر یہ وعدہ صرف دنیا ہی تک محدود نہیں ہے، اس میں یہ وعدہ بھی شامل ہے کہ…
Read the full tafseer →ولاخرة خیرلک من الاولی، یہاں آخرت کو اپنے معروف معنی میں اور اس کے بالمقابل اولیٰ کو دنیا کے معنے میں لیا جائے تو تفسیر وہ ہے جو خلاصہ تفسیر میں اوپر آ چکی ہے کہ یہ کفار و مشرکین جو طعنے آپ کو دے رہے ہیں یہ دنیا میں تو دیکھ ہی لیں گے کہ وہ سراسر لغو اور غلط تھے ہم اس سے آگے آخرت کے انعامات کا بھی آپ سے وعدہ کرتے ہیں کہ آپ کو دنیا سے بہت زیادہ انعامات سے نوازا جائے گا اور یہ بھی کچھ بعید نہیں کہ اس جگہ آخرت کو اس کے لفظی منے میں لیا جاوے یعنی پچھلی حالت جیسا کہ لفظ اولیٰ کے لفظی معنے پہلی حالت کے ہیں تو مطلب آیت کا یہ ہوگا کہ آپ پر اللہ تعالیٰ کے انعامات برابر زیادہ ہی ہوتے چلے جائیں گے کہ ہر…
Read the full tafseer →تسلی کے مضمون کی مزید وضاحت: یہاں ’اٰخِرَۃ‘ اور ’اُوْلٰی‘ کے الفاظ دنیا اور آخرت کے اصطلاحی مفہوم میں نہیں بلکہ عام مفہوم یعنی دعوت کے دور آخر اور دور اول یا اس کے حاضر و مستقبل کے مفہوم میں استعمال ہوئے ہیں۔
یہ اسی تسلی کے مضمون کی مزید وضاحت ہے کہ اس وقت جو حالات ہیں وہ بدل جائیں گے اور مستقبل ماضی و حاضر سے بہت بہتر ہو گا۔ اس مضمون کی بشارت خفی اور جلی دونوں طرح قرآن نے جگہ جگہ دی ہے اور قدیم صحیفوں میں بھی آنحضرت ﷺ سے متعلق جو پیشین گوئیاں وارد ہیں ان میں آپ کی دعوت کے آغاز کو رائی کے دانے کی تمثیل سے سمجھایا ہے جو ہوتا تو نہایت چھوٹا ہے لیکن جب اُگتا ہے تو اس کا پودا سب ترکاریوں سے بڑا…
Read the full tafseer →4۔ 1 یا آخرت دنیا سے بہتر ہے، دونوں مفہوم معانی کے اعتبار سے صحیح ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
2: آگے آنے والے حالات سے مراد آخرت کی نعمتیں بھی ہوسکتی ہیں، اور پہلے حالات سے دنیا، اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی مبارک زندگی میں ہر آن آپ کے درجات میں ترقی ہوتی رہے گی، اور دشمنوں کی طرف سے آپ کو تکلیفیں پہنچ رہی ہیں، آخر کار وہ دور ہو کر آپ ہی کا بول بالا ہوگا۔
Read the full tafseer →وللاخرة .................... الاولی (4:93) ” آخرت تمہارے لئے اس جہاں سے بہتر ہے “۔ وہ تو پہلے بھی اچھی ہے اور انجام کار بھی اچھا ہے۔
دعوت اسلامی کا مستقبل روشن ہے ، تمہارے راستے سے تمام رکاوٹیں دور ہوجائیں گی ، تمہارا نظام زندگی غالب ہوگا ، اور جس سچائی کے تم حامل ہو ، وہ غالب ہوکر رہے گی۔ یہی باتیں تو آپ کو پریشان کررہی تھیں کہ لوگ آپ سے عناد رکھتے تھے ، جھٹلاتے تھے ، پھر اذیت دیتے تھے ، پھر سازشیں کرتے تھے ، پھر آپ کے ساتھ ہر وقت مذاق کرتے تھے لیکن۔
Read the full tafseer →8 یعنی آپ ﷺ کی پچھلی حالت پہلی حالت سے کہیں ارفع واعلیٰ ہے وحی کی یہ چند روزہ رکاوٹ آپ ﷺ کے نزول و انحطاط کا سبب نہیں بلکہ بیش از بیش عروج و ارتقاء کا ذریعہ ہے اور اگر پچھلی سے بھی پچھلی حالت کا تصور کیا جائے۔ یعنی آخرت کی شان و شکوہ کا، جبکہ آدم اور آدم کی ساری اولاد آپ ﷺ کے جھنڈے تلے جمع ہوگی۔ تو وہاں کی بزرگی اور فضیلت تو یہاں کے اعزازو اکرام سے بیشمار درجہ بڑھ کر ہے۔
Read the full tafseer →آیت 4{ وَلَلْاٰخِرَۃُ خَیْرٌ لَّکَ مِنَ الْاُوْلٰی۔ } ”اور یقینا بعد کا وقت آپ کے لیے بہتر ہوگا پہلے سے۔“
یعنی اس وقفے اور ’ انقباض ‘ کی کیفیت کے بعد آنے والی اب ہر گھڑی اور ہر ساعت آپ ﷺ کے لیے ’ انبساط ‘ اور انشراح کا نیا پیغام لے کر آئے گی۔ ان آیات میں انقباض و انبساط کے حوالے سے جو اصول بیان ہوا ہے اس کی حیران کن حد تک درست ترجمانی غالب ؔنے اپنے اس مصرع میں کی ہے : ع ”رکتی ہے مری طبع تو ہوتی ہے رواں اور !“ یعنی اشعار کی آمد کے حوالے سے کبھی کبھی مجھ پر انقباض کی کیفیت طاری ہوجاتی ہے لیکن جب اس وقفے کے بعد دوبارہ آمد شروع ہوتی ہے تو پھر میری طبیعت کی روانی پہلے سے بھی کہیں زیادہ ہوتی ہے۔…
Read the full tafseer →3 اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو ایک عظیم الشان خوشخبری دی اور اس وقت دی جبکہ اس کے پورا ہونے کے آثار دور دور تک کہیں نظر نہ آتے تھے۔ نیز اس میں آپ ﷺ کو تسلی بھی دی گئی ہے کہ آپ ﷺ کفار مکہ کی ایذا دہی اور ظلم و جور سے نہ گھبرائیں۔ کیونکہ آپ کی زندگی کا ہر آنے والا دور اپنے پہلے دور سے بہتر ہوگا۔ بالفاظ دیگر رفتہ رفتہ آپ کے عز و شرف میں لگاتار ترقی ہوتی رہے گی۔ پھر یہ وعدہ صرف دنیا کی زندگی تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ آخرت میں آپ کو جو بلند مقام عطا ہوگا وہ کائنات میں کسی دوسرے کو عطا نہیں ہوگا۔
Read the full tafseer →3۔ یعنی وہاں آپ کو نعمتیں اس سے بھی کہیں بڑھ چڑھ کرملیں گی، اخرۃ۔ کے لفظی معنی لے کر ترجمہ یوں بھی ہوسکتا ہے۔” آپ ﷺ کی پچھلی حالت سے بہتر رہے گی “۔ مراد یہ ہوگی کہ آپ ﷺ کی زندگی کا ہر دور اپنے دور ماقبل سے بہتر رہے گی “۔ مراد یہ ہوگی کہ آپ ﷺ کی زندگی کا ہر دور اپنے دور ماقبل سے بہتر ہی ہوگا۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آپ ﷺ کی ہر لاحق حالت سابق حالت سے افضل واکمل تھی۔
Read the full tafseer →ولاخرۃ خیر لک من الاولی بعض مفسرین نے آخرت اور اولیٰ سے دنیا و آخرت مراد لی ہے اور بعض دیگر مفسرین نے اولی سے ابتدائی دور اور آخرۃ سے بعد کا دور مراد لیا ہے، یہ خوشخبری اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو ایسی حالت میں دی تھی جب کہ چند مٹھی بھر افراد آپ ﷺ کے ساتھ تھے، ساری قوم آپ ﷺ کی مخالف تھی، بظاہر کامیابی کے آثار دور دور تک نظر نہیں آرہے تھے اسلام کی شمع مکہ میں ٹمٹما رہی تھی اور اسی کو بجھانے کے لئے چاروں طرف سے طوفان اٹھ رہے تھے اس وقت اللہ نے اپنے نبی ﷺ سے فرمایا کہ ابتدائی دور کی مشکلات سے آپ ﷺ کی عزت و شوکت اور آپ ﷺ کی قدر و منزلت برابر بڑھتی چلی جائے گی اور آپ ﷺ کا نفوذ واثر پھیلتا چلا جائے…
Read the full tafseer →وللاخرۃ خیر لک من الاولی . اور آخرت تمہارے لیے دنیا سے بہتر ہے۔ ممکن ہے یہ آیت گزشتہ آیت سے پیوستہ ہو ‘ وابستگی کی وجہ یہ ہے کہ آیت : ماو دعک ربک وما قلٰی کے ضمن میں یہ بات آگئی کہ اللہ وحی بھیج کر تم کو اپنے ساتھ ملائے رکھے گا۔ تم حبیب خدا ہو اور اس سے زیادہ فضیلت اور کیا ہوسکتی ہے۔ اب اس آیت میں بتایا کہ آخرت میں تمہارا درجہ اس سے بڑا ہوگا۔ وہ تمہارے لیے اس سے بہتر ہوگی۔ تمام انبیاء کی سرداری حاصل ہوگی ‘ مقام محمود عطا کیا جائے گا۔ جس پر پچھلے اگلے سب رشک کریں گے۔ تمہاری امت دوسری امتوں کی شاہد ہوگی۔ آخرت میں رسول اللہ ﷺ کے خصوصی فضائل کا ذکر ہم سورة بقر کی آیت : تلک الرسل فضلنا بعضھم علٰی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
(1۔ 5) قسم ہے پورے دن کی اور رات کی جب کہ وہ تاریک اور سیاہ ہوجائے، جس وقت سے اللہ تعالیٰ نے آپ کے پاس وحی بھیجی ہے نہ آپ کو چھوڑا ہے اور نہ جب سے آپ کو محبوب بنایا ہے آپ سے دشمنی کی ہے۔ رسول اکرم ﷺ انشاء اللہ کہنا بھول گئے تھے تو اس کے بعد پندرہ روز تک وحی آنا بند رہی۔
تو اس وقت کافر کہنے لگے کہ آپ کے پروردگار نے آپ کو چھوڑ دیا ہے اور آپ سے دشمنی کرلی ہے اس وقت یہ آیات نازل ہوئیں اور آخرت کا ثواب آپ کے لیے ثواب دنیا سے بدرجہا بہتر ہے، اور اللہ تعالیٰ آپ کو آخرت میں مقام شفاعت ہی عطا فرمائے گا کہ جس سے آپ خوش ہوجائیں گے۔
Read the full tafseer →(ولاخرۃ خیرلک من اولی :) اس میں آپ کو تسلی دلائی کہ ہر آنے والا لمحہ آپ کے لئے پہلے لمحہ سے بہتر آیا ہے۔ اسی طرح آئندہ بھی بعد کی ہر حالت آپ کے لئے پہلی سے بہتر ہوگی۔ نبوت کے بعد کی زندگی آپ کے لئے پہلے سے بہتر اور آخرت کی زندگی دنیا سے بہتر ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
تفسیر 4، 5۔
سلمہ نے ابواسحاق سے روایت نقل کی ہے کہ آیت کا معنی ہے، اے محمد ﷺ میری طرف لوٹنے پر جو میرے پاس موجود ہے وہ اس سے بہتر ہے جو میں نے تجھے دنیا میں کرامت سے نوازا ہے حضرت ابن عباس نے فرمایا، اللہ تعالیٰ آپ کی امت پر جن ممالک کو فتح کرنے والا تھا خواب میں وہ ممالک حضور ﷺ کو دکھائے گئے تو اس وجہ سے آپ ﷺ خوش ہوئے تو جبرائیل امین یہ دونوں آیات لے کر نازل ہوئے۔
ابن اسحاق نے کہا : دنیا میں فتح و کامرانی اور آخرت میں ثواب۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، اس سے مراد حوض اور شفاعت ہے حضرت ابن عباس سے یہ بھی مروی ہے سفید موتی کے ایک ہزار محل جس کی مٹی کستوری کی ہوگی۔ امام اوزاعی نے اسے مرفوع نقل کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
وحی کا منقطع ہونا
19۔ ابن ابی شیبہ فی مسندہ والطبرانی وابن مردویہ نے ام حفص ؓ سے روایت کیا کہ وہ اپنی والدہ سے روایت کرتی ہیں۔ اور وہ رسول اللہ ﷺ کی خادمہ تھیں کہ ایک کتے کا چھوٹا سا بچہ نبی ﷺ کے گھر میں داخل ہوگیا۔ اور وہ چارپائی کے نیچے داخل ہو کر مرگیا۔ نبی اکرم ﷺ چار دن تک انتظار فرماتے رہے۔ آپ پر وحی نازل نہیں ہوئی۔ آپ نے فرمایا اے خولہ ! رسول اللہ ﷺ کے گھر میں کیا ہوا کہ جبریل (علیہ السلام) میرے پاس نہیں آرہے۔ میں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی ! ہمارے اوپر کوئی دن ایسا نہیں آیا جو ہمارے لیے بہتر ہو آج یک دن سے پھر آپ نے اپنی چادر مبارک کو پہنا اور باہر تشریف لے گئے میں نے اپنے دل میں کہا…
Read the full tafseer →[وَلَلْاٰخِرَةُ : اور یقینا بعد میں آنے والی (حالت)][ خَيْرٌ لَّكَ : بہتر ہے آپ ﷺ کے لیے ][ مِنَ الْاُوْلٰى: پہلی سے ]
نوٹ۔ 3: آیت۔ 4 ۔ میں اٰخرۃ اور اُولٰی کے الفاظ دنیا اور آخرت کے اصطلاحی مفہوم میں نہیں بلکہ عام مفہوم میں ہیں۔ یعنی دعوت کے آخری دور اور ابتدائی دور کے یا دعوت کے موجودہ دور اور اس کے مستقبل کے مفہوم میں استعمال ہوئے ہیں۔ اور یہ اسی تسلی کی مزید وضاحت ہے کہ اس وقت جو حالات میں وہ بدل جائیں گے اور مستقبل موجودہ حال سے بہت بہتر ہوگا۔ قدیم صحیفوں میں آنحضرت ﷺ سے متعلق جو پیشن گوئیاں وارد ہوئی ہیں ان میں آپ 1 کی دعوت کے آغاز کو رائی کے دانے کی تمثیل سے سمجھایا ہے جو ہوتا تو…
Read the full tafseer →﴿وَ لَلْاٰخِرَةُ خَيْرٌ لَّكَ مِنَ الْاُوْلٰى ؕ004﴾ (اور آخرت آپ کے لیے دنیا سے بدرجہ ہا بہتر ہے) ۔ اس میں آپ کو مزید تسلی دی اور بتادیا کہ دشمنوں کی باتوں سے دلگیر نہ ہوں۔ دنیا والوں کی باتیں اعراض اور اعتراض سب کچھ یہیں رہ جائے گا۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جو کچھ آخرت میں عطا فرمائے گا بہت زیادہ ہوگا، دائمی ہوگا، اس دنیا سے بہت ہی زیادہ ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
انعامات خاصہ :
برذات اقدس نبی کریم علیہ الصلوۃ والتسلیم وامر باواء شکر :
قال اللہ تعالیٰ (آیت) ” والضحی والیل اذا سجی ......... الی ......... واما بنعمۃ ربک فحدث “۔
(ربط) گزشتہ چند سورتوں میں آنحضرت ﷺ کی نبوت و رسالت کو ثابت کیا گیا تھا اور ایمان کا دارومدار آخرت پر ایمان یقین کی شکل میں ہے تو اس کے دلائل بھی ذکر فرما دیئے گئے اب اس سورت میں ان خصوصی انعامات کا ذکر ہے جن سے آنحضرت ﷺ کی ذات اقدس کو سرفراز فرمایا گیا اور ان انعامات کے ضمن میں آپ کی رسالت کے دلائل بھی ذکر کردئیے گئے اور جن خاص کمالات اور اخلاق حسنہ سے پیغمبر کی ذات متصف ہونی چاہئے، ان کو بھی بیان کردیا گیا، ارشاد ہے۔
قسم ہے دھوپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
3:۔ ” وللاخرۃ “ آخرت کا حال بیان کر کے مزید تسلی فرما دی۔ دنیا میں تو مختلف احوال آتے ہی رہیں گے کبھی راحت، کبھی مشقت، اگرچہ دنیا میں بھی سراسر بہتری ہی ہے۔ لیکن آخرت آپ کے لیے دنیا کے مقابلے میں بہت ہی بہتر ہے، کیونکہ آخرت میں سب سے اونچا اور عظیم مقام یعنی مقام محمود آپ کیلئے مخصوص ہے۔ یا مطلب یہ ہے کہ ہر پچھلی حالت آپ کے لیے پہلی حالت سے بہتر ہوگی کیونکہ رفتہ رفتہ تمام تکلیفیں اور مشقتیں ختم ہوجائیں گی اور آپ کو غلبہ حاصل ہوتا جائے گا۔ ” ولسوف یعطیک ربک فترضی “ آخرت میں اللہ تعالیٰ آپ کو ایسی نعمتیں اور ایسا شرف عطا فرمائیگا کہ آپ دنیا کی مشقتیں بھول کر خوش ہوجائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
مضمون سورة
سورۃ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے ان بیہودہ خیالات اور طعن وتشنیع کی تردید فرمائی ہے۔ جن کا ذکر اوپر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ کے ان انعامات کا ذکر کیا ہے۔ جو اس نے اپنے پیغمبر علیہ اسللام پر کئے اور آخر میں ان انعامات کا شکریہ ادا کرنے کا ذکر ہے۔ نیز حضور ﷺ کو تسلی دی گئی کہ آپ مخالفین کی ان باتوں سے دل برداشتہ نہ ہو۔ ان کا توشیہ ہی ایذاء رسانی ہے۔ اس طرح آپ کو تسلی دی گئی ہے۔
ضحی اور اشراق
ابتداء میں دن اور رات کی قسمیں کھا کر بات کو واضح کیا گیا ہے۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے والضحی قسم ہے دھوپ چڑھتے وقت کی ضحیٰ دن کے اس حصے کو کہتے ہیں۔ جب دن خوب روشن ہوجاتا ہے۔ یعنی…
Read the full tafseer →وَلَلْاٰخِرَۃُ خَيْرٌ لَّكَ مِنَ الْاُوْلٰى 4 ۭ
آخرت
آخِر يقابل به الأوّل، وآخَر يقابل به الواحد، ويعبّر بالدار الآخرة عن النشأة الثانية، كما يعبّر بالدار الدنیا عن النشأة الأولی نحو : وَإِنَّ الدَّارَ الْآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوانُ [ العنکبوت/ 64] ، وربما ترک ذکر الدار نحو قوله تعالی: أُولئِكَ الَّذِينَ لَيْسَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ إِلَّا النَّارُ [هود/ 16] . وقد توصف الدار بالآخرة تارةً ، وتضاف إليها تارةً نحو قوله تعالی: وَلَلدَّارُ الْآخِرَةُ خَيْرٌ لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ [ الأنعام/ 32] ، وَلَدارُ الْآخِرَةِ خَيْرٌ لِلَّذِينَ اتَّقَوْا «1» [يوسف/ 109] .
وتقدیر الإضافة : دار الحیاة الآخرة .…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
ترکیب ¦ والضحٰی الوا وللقسم وھو اول النھار اذا تجلٰی وارتفعت الشمس وقیل المراد بہ النھار کلہ مجازًا من اطلاق الجزاء و ارادۃ الکل بدلیل مقابلۃ بالیل اذا سجیٰ والیل عطف علیہ اذا العامل فیہ معنی القسم سجٰی ای سکن قالہ قتادہ و مجاھد و ابن زید و عکرمۃ وغیرھم یقال لیلۃ ساجیۃ ای ساکنۃ ویقال سجا الشیء یسجو سجوًا اذا سکن وعن ابن الاعرابی سجٰی امتد ظلامہ وقال الاصمعی سجو اللیل تعظیۃ النھار ما ودعک الخ ھذا جواب القسم قر۔ الجمہور بتشدید الدال من التودیع وقری ٔ بتخفیفھا من قولھم ودعہ ترکہ وما قلی عطف علیٰ ماودعک وانقلاء البغض یقال قلاہ یقلیہ قلاً ولم یقل ما قلاک لموافقۃ روس الآیٔ وللاخرۃ اللام جواب قسم…
Read the full tafseer →وَلَـلْاٰخِرَۃُ خَیْرٌلَّـکَ مِنَ الْاُوْلٰی۔ (الضحیٰ : 4)
(اور یقیناآنے والی گھڑی آپ کے لیے پہلی سے بہتر ہے۔ )
آنحضرت ﷺ کو تسلی اور بشارت
یعنی دشمن یہ طعنہ دے رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو چھوڑ دیا ہے لیکن ہم آپ کو خوشخبری سناتے ہیں کہ ہر آنے والی گھڑی آپ کی گزشتہ گھڑیوں سے بہتر ہوگی۔ ہر آنے والی ساعت گزری ہوئی ساعت سے بہتر پیغام لے کر آئے گی۔ یہ خوشخبری ایسے وقت میں دی جارہی ہے جب گنتی کے چند افراد نے اللہ تعالیٰ کا دین قبول کیا تھا۔ باقی تمام اہل مکہ آپ کے خون کے پیاسے تھے۔ وہ یہ تہیہ کرچکے تھے کہ توحید کے چراغ کو بجھا کے دم لیں گے۔ اس وقت کوئی شخص یہ خیال بھی نہ کرسکتا تھا کہ یہ دین چند…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
فہم القرآن
ربط سورت : سورة الّیل کے آخر میں نیک لوگوں کے بہتر انجام کا ذکر فرمایا اور سورة الضّحٰی میں تین قسمیں کھانے کے بعد نبی ﷺ کی ذات کے حوالے سے بتلایا ہے کہ آپ کی زندگی کا آنے والا دور پہلے دور سے بہتر ہوگا مقصد یہ ہے جو شخص نیک کام کرے گا اللہ تعالیٰ اس کی دنیا اور آخرت بہتر کردیں گے۔
الضّحٰی کا معنٰی ہے روشن دن اور سجٰی رات کے اس وقت کو کہتے ہیں جب رات اپنی تاریکی اور سکون کے ساتھ ہر چیز پر چھا جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان اوقات کی قسمیں اٹھا کر اس بات کی وضاحت فرمائی ہے کہ آپ ﷺ کے رب نے آپ کو نہ چھوڑا ہے اور نہ آپ پر ناراض ہوا ہے، چھوڑنا اور ناراض ہونا تو درکنار اس نے آپ کی زندگی کا…
Read the full tafseer →4 : وَلَلْاٰخِرَۃُ خَیْرٌ لَّکَ مِنَ الْاُوْلٰی (اور آخرت آپ کے لئے دنیا سے بدرجہا بہتر ہے) یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ کے لئے آخرت میں جو مقام محمود تیار کر رکھا ہے اور حوض کوثر اور وہ بھلائی جس کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ کر رکھا ہے وہ اس سے بہت بہتر ہے جو آپ کو دنیا میں پسند ہے۔
ایک قول یہ ہے :
ماقبل سے اس کا ربط یہ ہے کہ چھوڑنے اور ناراض ہونے کی نفی کے ضمن میں وحی کے ذریعہ آپ سے تعلق جوڑنے والا ہے۔ اور آپ حبیب اللہ ہیں۔ اور آپ خیال فرماتے ہیں کہ یہ سب سے بڑی عظمت ہے۔ اس آیت میں خبردی کہ آپ کا حال آخرت میں اس سے بڑھ کر ہے۔ آپ ﷺ کو انبیاء (علیہم السلام) سے آگے بڑھایا جائے گا۔ اور آپ کی امت کو تمام…
Read the full tafseer →4 ۔” وللآخرۃ خیر لک من الاولیٰ “ عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بیشک ہم اہل بیت اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے آخرت کو دنیا پر اختیار کیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
1۔ 11۔ اگرچہ مفسروں نے اس سورة کی شان نزول میں طرح طرح کی باتیں لکھی ہیں سب سے زیادہ صحیح شان نزول وہی ہے جس کا ذکر صحیحین 1 ؎ کی جندب ؓ کی روایت میں ہے کہ حضرت ﷺ ہجرت سے پہلے مکہ میں کچھ بیمار ہوگئے تھے اس بیماری کے سبب سے دو تین راتوں تک آپ تہجد کی نماز کو نہیں اٹھے یہ دیکھ کر ام جمیل ابو لہب کی بی بی نے کہا محمد کے رب نے محمد کو چھوڑ دیا۔ اس لئے انہوں نے رات کو اٹھنا بند کردیا۔ ام جمیل کی اس بات سے آنحضرت ﷺ کو رنج ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کے رنج رفع ہوجانے کی غرض سے یہ سورة نازل فرمائی اور فرمایا کہ اے نبی اللہ کے ‘ نہ اللہ نے تم کو چھوڑ دیا ہے نہ وہ تم سے کچھ خفا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
رہامستقبل میں آپ کا حال تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا (وَلَلْاٰخِرَةُ خَيْرٌ لَّكَ مِنَ الْاُوْلٰى) یعنی آپ کے احوال میں سے ہر متاخر حال کو سابقہ احوال پر فضیلت حاصل ہے چناچہ رسول اللہ درجات عالیہ پر ترقی کرتے رہے اللہ تعالیٰ آپ کے دین کو تمکن عطا کرتارہا، آپ کے دشمنوں کے خلاف آپ کو فتح ونصرت سے بہرہ مند کرتا رہا اور آپ کے احوال کے درست کرتا رہا یہاں تک کہ آپ نے وفات پائی۔ آپ فضائل اللہ تعالیٰ کی نعمتوں آنکھوں کی ٹھنڈک اور دل کے سرور کے ایسے حال پر پہنچ گئے جہاں اولین وآخرین نہیں پہنچ سکے۔ پھر اس کے بعد آخرت میں آپ کے حال سے متعلق اکرام و تکریم اور انواع و اقسام کے انعامات کی تفصیلات کے بارے میں…
Read the full tafseer →4 ۔ پیغمبر کے لیے ایک خاص اور عظیم الشان بشارت کا ذکر وبیان : ارشاد فرمایا گیا اور پیغمبر کے لیے ایک خاص بشارت کے ذکرو بیان کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ یقینا آپ ﷺ کے لیے بعد والی حالت پہلی حالت سے بہتر ہوگی، کہ آپ کے ذریعے خلق خدا کو ہدایت و ایمان کے جس نور اور انعام سے نوازا گیا ہے اس کا اجر و صلہ آپ ﷺ کو برابر ملتا رہے گا، وہ کبھی اور کسی حال میں بھی ختم نہیں ہوگا اور اس طرح آپ ﷺ کو اس کا اجر وثواب برابر ملتا ہے گا، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا وَاِنَّ لَكَ لَاَجْرًا غَيْرَ مَمْنُوْنٍ ( القلم 3 پ 29) یعنی یقینا آپ کے لیے ( اے پیغمبر) ایک ایسا عظیم الشان اجر ہے جو کبھی ختم ہونے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
اللہ کی رحمتیں اور نبی پاک ﷺ
تشریح : بڑی خوبصورت سورت پاک ہے۔ اللہ کی رحمتوں برکتوں ' فضیلتوں ' لطف وکرم اور قدرت و عظمت کا بیان بڑے خوبصورت انداز میں کیا گیا ہے۔ اور اس خاص محبت کا ذکر جو اللہ جل شانہ کو اپنے پیارے رسول ﷺ سے ہے بڑے محبت بھرے انداز میں کی گئی ہے۔ وحی کے رک جانے سے جو آپ ﷺ پریشان ہوئے تو حق تعالیٰ نے آفتاب کی روشنی اور رات کے گھپ اندھیرے کی قسم کھا کر یقین دلایا کہ آپ ﷺ پریشان نہ ہوں جس طرح دن رات کا نظام انسان کے کام اور آرام کا ذریعہ ہے اسی طرح آپ ﷺ کی وحی کے اترنے کا وقفہ محض آپ ﷺ کو اعصابی آرام دینے کے لیے دیا گیا ہے تاکہ آپ ﷺ پر وحی کی وجہ سے جو مشقت پڑتی ہے وہ وقفہ وقفہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
سورة الضحی۔
آیات 1 تا 11۔
اسرار ومعارف۔
قسم ہے دن کی روشنی کی اور رات کی جب وہ چھاجاتی ہے یعنی دن کی روشنی اور رات کی تاریکی گواہ ہیں کہ دن کے بعد رات بھی آسکتی ہے پھر خود رات گواہ ہے کہ جب مکمل ہوچکتی ہے تو تاریکی کم ہونے لگتی ہے اور پھر دن آجاتا ہے۔
قبض وبسط۔
یہی حال کیفیات قلب کا بھی ہے کہ کبی واردات بہت تیزا ورروشن ہوتی ہیں یعنی بسط ہوتا ہے اور کبھی قبض کی کیفیت وارد ہوتی ہے اور قبض سے یہ نہیں سمجھاجاسکتا کہ پھر بسط نہ ہوگا چند روز نزول وحی نہ ہواتوکفار نے طعنہ دیا کہ رب نے انہیں چھوڑ دیا ہے تو رب کریم نے جو اباارشاد فرمایا کہ آپ کے پروردگار نے نہ تو آپ کو چھوڑا ہے اور نہ وہ آپ سے خفا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
ف 1 اس لئے آنحضرت دنیا سے بےرغبت اور آخرت کی طرف متوجہ رہتے۔ ایک حدیث میں آنحضرت نے دنیا کی بےثباتی بیان فرماتے ہوئے انسان کی مثال ایک مسافر سے دی ہے جو چند ساعتیں کسی درخت کے سایے میں آرام کرتا ہے اور پھر چل دیتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
(93:4) وللاخرۃ خیر لک من الاولی۔ لام جواب قسم کے لئے ہے یا بہ قسم محذوف ہے یا یہ آیت گزشتہ آیت کے جواب قسم سے ملحق ہے۔ تفسیر مظہری میں ہے کہ :۔
ممکن ہے یہ آیت گزشتہ آیت سے پیوستہ ہو۔ وابستگی کی وجہ یہ ہے کہ آیت ما ودعک ربک وما قلی کے ضمن میں یہ بات آگئی ہے کہ اللہ وحی بھیج کر تم کو اپنے ساتھ ملائے رکھے گا۔ تم حبیب خدا ہو اور اس سے زیادہ فضیلت اور کیا ہوسکتی ہے ۔ اب اس آیت میں بتایا کہ آخرت میں تمہارا درجہ اس سے بڑا ہوگا۔ وہ تمہارے لئے اس سے بہتر ہوگی۔ تمام انبیاء کی سرداری ہوگی۔ مقام محمود عطا کیا جائے گا۔ جس پر پچھلے اگلے رشک کریں گے۔
یا آیت کا یہ معنی بھی ہوسکتا ہے کہ دوسری حالت پہلی حالت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
لغات القرآن۔ سجی۔ چھا گیا۔ ماقلی۔ نہ بیزار ہوا۔ سوف یعطی۔ بہت جلد عطا کرے گا۔ ترضی۔ تو خوش ہوجائے گا۔ اوی۔ ٹھکانا رہا۔ ضال۔ تلاش حق میں سرگرداں ۔ عائل ۔ مفلس و غریب۔ اغنی۔ مال دار کردیا۔ لا تقھر ۔ مت ڈانٹ۔ لا ینتھر۔ نہ جھڑک ۔ حدت ۔ بیان کر۔
تشریح : نبی کریم حضرت محمد ﷺ پر ابتداء میں پہلی وحی کے بعد تیس چالیس دن تک وحی کا سلسلہ بند رہا۔ پھر اس کے بعد لگاتار وحی کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ وحی بند ہونے کے زمانہ میں ایک طرف تو آپ پریشان تھے۔ ادھر کفار مکہ کی طنز آمیز باتوں اور طعنوں سے آپ بہت غمگکین رہتے تھے۔ وہ کہتے کہ اے محمد ﷺ ! کیا تمہارا رب تم سے ناراض ہوگیا اور وحی کا سلسلہ بند ہوگیا ؟ ابو لہب کی…
Read the full tafseer →(ف 1) جس وقت کہ آفتاب بلند ہو، کیونکہ یہ وقت وہی ہے جس میں اللہ نے حضرت موسیٰ کو اپنے کلام سے مشرف کیا اور اسی وقت جادوگر سجدے میں گرے۔
مسئلہ : چاشت کی نماز سنت ہے اس کا وقت آفتاب کے بلند ہونے سے قبل زوال تک ہے ۔ امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک چاشت کی نماز دورکعتیں ہیں یا چار ایک سلام کے ساتھ۔ بعض مفسرین کے نزدیک الضحیٰ سے دن مراد ہے بعض نے فرمایا کہ چاشت اشارہ ہے نورجمال مصطفیٰ کی طرف اور شب کنایہ ہے آپ کے گیسوے عنبریں سے (روح البیان) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–11
[3] یعنی آنے والے حالات آپ کے لئے گزشتہ حالات سے بہتر و برتر ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–8
ف 2: ان آیتوں میں یہ بتایا ہے کہ آپ دیکھ لیجئے ۔ ابتداہی سے اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی تربیت کا خاص خیال رکھا ہے ۔ آپ یتیم پیدا ہوئے تو دادا نے آغوش شفقت میں لے لیا ۔ دادا نے آنکھیں بند کیں تو جوانی تک آپ ﷺ کے چچا ابوطالب ساتھ رہے اور انتہائی محبت کے ساتھ آپ کی مدد کی ۔ جب آپ ﷺ کو ایک عظیم خدمت کے لئے منتخب فرمایا ہے تو کیا آپ ﷺ سے بےاعتنائی اور بےتوجہی کا سلوک رکھا جائیگا پھر سب سے بڑی روحانی اعانت جو فرمائی ، وہ یہ تھی کہ روح کے شوق اور جستجو نے حق کی پیاس کی تسکین کا سامان بہم پہنچایا اور آپ کو ایک مکمل دستورالعمل مرحمت فرمایا جو سارے عالم انسانی کے کے لئے باعث صدبرکت وسعادت ہے ۔ مالی طور پر…
Read the full tafseer →(4) اور اے پیغمبر یقینا پچھلی حالت آپ کے لئے پہلی حالت سے بہتر ہے - عام طریقے سے مفسرین نے پچھلی حالت کو آخرت اور اولیٰ کو دنیا سے تعبیر کیا ہے اور یہ معنی صاف اور ظاہر ہیں کہ آخرت پیغمبر ﷺ کے لئے دنیا سے بدرجہا بہتر ہے مگر آپ کی شرعی اور روحانی ترقی کی حالت یہ تھی کہ آپکی ہر پچھلی حالت پہلی حالت سے بہتر ہوتی تھی۔ کما قال بعض اہل الاشارات آپ کی ترقی کا کچھ ٹھکانا نہ تھا اور اسلامی ترقی کے اعتبار سے بھی کہا جاسکتا ہے کہ ہر پچھلی حالت پہلی سے بہتر ہے اور دنیا سے آپ کے لئے آخرت کا بہتر ہونا اور آپ کے درجات کی بلندی کا نمایاں ہونا تو بالکل ظاہر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
ف 11۔ کیونکہ اولا تو آپ سے کوئی بات ایسی نہیں ہوئی، ثانیا انبیاء (علیہم السلام) کے واسطے یہ امر عادة اللہ میں محال ہے، پس آپ کفار کے خرافات و لغویات سے مخزون نہ ہوجایئے، آپ برابر نعمت وحی سے مشرف رہیں گے۔
Read the full tafseer →اور آپ ﷺ کے لیے ہر پیچھے آنے والی گھڑی پہلی سے بہتر ہو گی
4 ؎ گزشتہ آیات کریمات میں جو آپ ﷺ کے دل میں ایک طرح کا خیال گزرا جس کا ذکر کیا گیا ہے تو آپ ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا ہے کہ اے میرے رسول محمد رسول اللہ ﷺ آپ ﷺ کی زندگی کی ہر آنے والی گھڑی جانے والی گھڑی سے بہتر ہوگی اور یہ انعام ایسا ہے جس انعام سے آپ ﷺ برابر مستفید ہوتے رہیں گے اور ہر آنے والی ساعت گزارنے والی ساعت سے بہتر ہوگی اور ہر آنے والی حالت گزشتہ حالت سے اعلیٰ سے اعلیٰ بہتر سے بہتر اور ارفع سے ارفع ہوتی چلی جائے گی اور یہ بیان ایسا بیان تھا کہ اس کی تصدیق وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہوتے چلے جانا ضروری تھا اور…
Read the full tafseer →وَلَلْآخِرَةُ خَيْرٌ لَّكَ مِنَ الْأُولَىٰ (And the Hereafter is much better for you than the present life....93:4). The word 'akhirah may be taken in its popular sense of the 'Hereafter' and its opposite ula may be taken in the sense of the present 'world'. With these words, Allah tells the Holy Prophet not to be disturbed by the taunts of the pagans, because they will see in this world that their assumptions and accusations were absolutely false. In the Hereafter, he will be blessed with Divine favours to his heart's content - much more than what he will receive in this fleeting world.…
Read the full tafseer →4 This good news was given by Allah to the Holy Prophet (upon whom be peace) in a state when he had only a handful of Muslims with him, the entire nation was hostile and there was no remote chance of success even. The candle of lslam was flickering only in Makkah and storms were brewing all around to blow it out. At that juncture Allah said to His Prophet "Do not at all grieve at the hardships of the initial stage: every later period of life will be better for you than the former period. Your power and glory, your honour and prestige, will go on enhancing and your influence will go on…
Read the full tafseer →