Ad-Dhuhaa 93:3

Ad-Dhuhaa · from ayah 3

93:3

مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلٰی ۟ؕمَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلٰىؕ‏

کہ (اے محمدﷺ) تمہارے پروردگار نے نہ تو تم کو چھوڑا اور نہ (تم سے) ناراض ہوا

— Fateh Muhammad Jalandhari

Your Lord has not taken leave of you, [O Muhammad], nor has He detested [you].

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 18 of juz

Read the whole surah · Surah Ad-Dhuhaa

All translations of 93:3

(اے نبیؐ) تمہارے رب نے تم کو ہرگز نہیں چھوڑا اور نہ وہ ناراض ہوا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کہ (اے محمدﷺ) تمہارے پروردگار نے نہ تو تم کو چھوڑا اور نہ (تم سے) ناراض ہوا

— مولانا فتح محمد جالندہری

نہ تو تیرے رب نے تجھے چھوڑا ہے اور نہ وه بیزار ہو گیا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

کہ تمہارے پروردگار نے نہ تمہیں چھوڑا ہے اور نہ ناراض ہوا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کہ تمہیں تمہارے رب نے نہ چھوڑا، اور نہ مکروہ جانا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

آپ کے رب نے (جب سے آپ کو منتخب فرمایا ہے) آپ کو نہیں چھوڑا اور نہ ہی (جب سے آپ کو محبوب بنایا ہے) ناراض ہوا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

نہ تیرے رب نے تجھے چھوڑا اور نہ وہ ناراض ہوا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کہ آپ کے پروردگار نے نہ تو آپ کو چھوڑا ہے اور نہ ناراض ہوا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کہ تیرے خداوند نے نہ تجھے چھوڑا اور نہ تجھ سے بیزار ہوا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

نہ تو چھوڑا ہے آپ کو آپ کے رب نے (اے پیغمبر !) اور نہ ہی وہ آپ ﷺ سے ناراض ہوا ہے

— مولانا اسحاق مدنی

کہ آپ کے پروردگار نے آپ کو نہ چھوڑا ہے اور نہ آپ سے بیزار ہوا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

آپ ﷺ کے رب نے آپ کو رخصت نہیں کیا اور نہ ہی وہ آپ ﷺ سے ناراض ہوا ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اے نبی ﷺ ! تمہارے رب نے نہ تو تمہیں چھوڑا اور نہ تم سے ناراض ہوا

— محترمہ رفعت اعجاز

(O Prophet), your Lord has neither forsaken you, nor is He displeased.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

your Lord (O Prophet,) has neither forsaken you, nor has become displeased.

— Muhammad Taqi Usmani

your Lord (O Prophet,) has neither forsaken you, nor has become displeased.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Your Lord has neither forsaken you nor hates you.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Thy Lord hath not forsaken thee nor doth He hate thee,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Your Lord has not taken leave of you, [O Muhammad], nor has He detested [you].

— Saheeh International

(Muhammad), your Lord has not abandoned you (by not sending you His revelation), nor is He displeased with you.

— Muhammad Sarwar

Your Lord has not forsaken you, nor has He become displeased,

— Muhammad Habib Shakir

Thy Lord hath not forsaken thee, nor is He displeased.

— Abdul Majid Daryabadi

Thy Guardian-Lord hath not forsaken thee, nor is He displeased.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 93:3

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–11

مسند احمد میں ہے کہ حضور ﷺ بیمار ہوگئے اور ایک یا دو راتوں تک آپ تہجد کی نماز کے لیے نہ اٹھ سکے تو ایک عورت کہنے لگی کہ تجھے تیرے شیطان نے چھوڑ دیا اس پر یہ اگلی آیتیں نازل ہوئیں (بخاری مسلم وغیرہ) حضرت جندب فرماتے ہیں کہ جبرائیل کے آنے میں کچھ دیر ہوئی تو مشرکین کہنے لگے کہ یہ تو چھوڑ دئیے گئے تو اللہ تعالیٰ نے والضحٰی سے ماقلفی تک کی آیتیں اتاریں، اور روایت میں ہے کہ حضور ﷺ کی انگلی پر پتھر مارا گیا تھا جس سے خون نکلا اور جس پر آپ نے فرمایا : ھل انت الا اصبع دمیت وفی سبیل اللہ ما لقیت یعنی تو صرف ایک انگلی ہے اور راہ اللہ میں تجھے یہ زخم لگا ہے۔ طبعیت کچھ ناساز ہوجانے کی وجہ سے دو تین رات…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الضُّحٰی 3 روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ کچھ مدت تک رسول اللہ ﷺ پر وحی کا نزول بند رہا تھا۔ مختلف روایات میں یہ مدت مختلف بیان کی گئی ہے۔ ابن جریح نے 12 روز، کلبی نے 15 روز، ابن عباس نے 25 روز، سدی اور مقاتل نے 40 روز اس کی مدت بیان کی ہے۔ بہرحال یہ زمانہ اتنا طویل تھا کہ رسول اللہ ﷺ اس پر سخت غمگین ہوگئے تھے اور مخالفین بھی آپ کو طعنے دینے لگے تھے، کیونکہ حضور پر جو نئی سورت نازل ہوتی تھی اسے آپ لوگوں کو سنایا کرتے تھے، اس لیے جب اچھی خاصی مدت تک آپ نے کوئی نئی وحی لوگوں کو نہیں سنائی تو مخالفین نے سمجھ لیا کہ وہ سرچشمہ بند ہوگیا ہے جہاں سے یہ کلام آتا تھا۔ جندب بن عبداللہ البجلی کی روایت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–3

خلاصہ تفسیر قسم ہے دن کی روشنی کی اور رات کی جب کہ وہ قرار پکڑے (قرار پکڑنے کے دو معنی ہو سکتے ہیں ایک حقیقی یعنی اس کی ظلمت کا کامل ہوجانا کیونکہ رات میں اندھیری رفتہ رفتہ بڑھتی ہے، کچھ رات گزرنے پر مکمل ہوجاتی ہے، دوسرے مجازی یعنی جانداروں کا اس میں سو جانا اور چلنے پھرنے اور بولنے چالنے کی آوازوں کا ساکن ہوجانا، آگے جواب قسم ہے) کہ آپ کے پروردگار نے نہ آپ کو چھوڑا اور نہ آپ سے بیزار ہوا (کیونکہ اول تو آپ سے کوئی بات ایسی نہیں ہوئی دوسرے حضرات انبیاء (علیہم السلام) کو اللہ تعالیٰ نے اس سے محفوظ و معصوم بنایا ہے۔ پس آپ کفار کے خرافات و لغویات سے محزون حضرات انبیاء (علیہم السلام) کو اللہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

رنج اور راحت دونوں انسان کی تربیت کے لیے ہیں: یہ وہ اصل مدعا ہے جس کو مبرہن کرنے کے لیے اوپر کے آفاقی شواہد کی قسم کھائی گئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس طرح اس دنیا میں سورج کی روشنی اور حرارت بھی ضروری ہے اور رات کی تاریکی اور سکون بھی اسی طرح انسان کی روحانی اور اخلاقی تربیت کے لیے عُسر اور یُسر، نرمی اور درشتی، فقر اور غنٰی کی آزمائشیں بھی ضروری ہیں۔ انہی کے ذریعے اللہ تعالیٰ، جیسا کہ سورۂ فجر میں وضاحت فرمائی ہے، اپنے بندے کے صبر یا شکر کا امتحان کرتا ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ اس وقت اگر تم مخالفوں کی مخالفت، اعوان و انصار کی قلت اور اسباب و وسائل کی کمی سے دوچار ہو یا آسمانی و روحانی کمک کی جتنی ضرورت…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

1: نبوت کے بعد شروع شروع میں کچھ دن ایسے گزرے جس میں حضور اقدس ﷺ کے پاس کوئی وحی نہیں آئی اس پر ابولہب کی بیوی نے طعنہ دیا کہ تمہارے پروردگار نے ناراض ہو کر تمہیں چھوڑدیا ہے، اس پر یہ سورت نازل ہوئی تھی، ضحی عربی میں دن چڑھنے کے وقت جو روشنی ہوتی ہے اس کو کہتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے پہلی آیت میں اس کی قسم کھائی ہے اس لئے اس سورت کا نام سورة الضحی ہے۔ اور چڑھتے دن اور اندھیری رات کی قسم کھانے سے غالباً اس طرف اشارہ ہے کہ رات کو جب اندھیرا ہوجاتا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ اب دن کی روشنی نہیں آئے گی، اسی طرح اگر کسی مصلحت کی وجہ سے وحی کچھ دن نہیں آئی تو اس سے یہ نتیجہ نکالنا کسی طرح درست…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ما ودعک .................... ومام قلی (3:93) ” تمہارے رب نے تم کو ہرگز نہیں چھوڑا ، اور نہ وہ ناراض ہوا “۔ نہ اللہ نے آپ کو چھوڑا دیا ہے اور نہ آپ سے ناراض ہوا ہے۔ ان لوگوں کو غلط فہمی ہے جو آپ کی روح کو اذیت دیتے ہیں ، جو آپ کے قلبی اطمینان پر حملہ آور ہوتے ہیں اور جو آپ کے لئے غبار خاطر بنتے ہیں۔ اللہ تو ” تمہارا رب “ ہے اور آپ اس کے ہیں۔ اس کی ربوبیت میں ہیں۔ لہٰذا وہ آپ کا نگراں اور کفیل ہے۔ اللہ کے فضل وکرم کے سوتے خشک نہیں ہوگئے ، اور اس کے فیوض وکرم رک نہیں گئے۔ آپ کے لئے آخرت میں وہ کچھ ہے جو اس جہاں کی ہر قسم کی دادودہش سے بہتر ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 1–3

7 روایات صحیحہ میں ہے کہ جبرائیل (علیہ السلام) دیر تک رسول اللہ ﷺ کے پاس نہ آئے (یعنی وحی قرآنی بند رہی) مشرکین کہنے لگے کہ (لیجئے) محمد ﷺ کو اس کے رب نے رخصت کردیا۔ اس کے جواب میں یہ آیات نازل ہوئیں میرا گمان یہ ہے (واللہ اعلم) کہ یہ زمانہ فترت الوحی کا ہے جب سورة " اقراء " کی ابتدائی آیات نازل ہونے کے بعد ایک طویل مدت تک وحی رکی رہی تھی اور حضور ﷺ خود اس فترت کے زمانہ میں سخت مغموم و مضطرب رہتے تھے، تاآنکہ فرشتہ نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے " یا ایھا المدثر " کا خطاب سنایا۔ اغلب ہے کہ اس وقت مخالفوں نے اس طرح کی چہ میگوئیاں کی ہوں۔ چناچہ ابن کثیر (رح) عنہ نے محمد بن اسحاق وغیرہ سے جو الفاظ نقل…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 3{ مَا وَدَّعَکَ رَبُّکَ وَمَا قَلٰی۔ } ”آپ ﷺ کے رب نے آپ کو رخصت نہیں کیا اور نہ ہی وہ آپ ﷺ سے ناراض ہوا ہے۔“ یعنی وحی کے تسلسل میں یہ وقفہ اس وجہ سے نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ آپ ﷺ سے ناراض ہوگیا ہے ‘ بلکہ یہ وقفہ ہماری حکمت و مشیت کا حصہ اور آپ ﷺ کی تربیت کا جزو تھا۔ ظاہر ہے نظام کائنات میں دن کے اجالے کے ساتھ رات کی تاریکی کا وجود بھی ناگزیر ہے۔ چناچہ جس طرح دن کے بعد رات کا آنا ضروری ہے اسی طرح نفس انسانی کے لیے بسط و کشاد کی لذت کے ساتھ ساتھ ”انقباض“ کی کیفیت سے آشنا ہونا بھی ضروری ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

2 اس سورت کے نزول کا پس منظر یہ ہے کہ پہلی وحی آپ ﷺ پر غار حرا میں نازل ہوئی جو سورة العلق کی ابتدائی پانچ آیات تھیں۔ اس بار وحی کی کوفت کا تو یہ حال تھا کہ آپ ﷺ نے گھر آکرسیدہ خدیجہ ؓ کو یہ واقعہ سنایا تو بتایا کہ انی خشیت علٰی نفسی کہ مجھے تو اپنی جان کے لالے پڑگئے تھے اور لذت و سرور کا یہ حال تھا کہ آپ اس واقعہ کے بعد ہر وقت جبرائیل کی آمد کے منتظر رہتے تھے لیکن وحی کچھ عرصہ کے لیے بند ہوگئی یہ عرصہ کتنا تھا ؟ اس کے متعلق مختلف اقوال ہیں۔ کم سے کم تین دن اور زیادہ سے زیادہ چھ ماہ۔ واللہ اعلم بالصواب۔ اسی وقفہ کو فترۃ الوحی کہتے ہیں۔ اس دوران آپ کو خود بھی بعض دفعہ یہ خیال آنے لگتا کہ کہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

2۔ (بلکہ آپ ﷺ تو پہلے ہی مورد الطاف تھے، اور آئندہ بھی مورد الطاف ہی رہیں گے) 13 ء ؁ قبل ہجرت میں ایسا ہوا کہ جب آپ ﷺ پر وحی نازل ہونے لگی، تو اس کے کچھ ہی روز بعد، کسی حکمت ومصلحت سے سلسلہ نزول موقوف رہا، اس پر معاندوں کو طرح طرح کی حاشیہ آرائی کا موقع مل گیا، آیت کا مضمون انہیں بداندیشوں کے جواب میں ہے۔ (آیت) ” ماودعک ربک “۔ حق تعالیٰ اپنے کسی پیغمبر کو بھی نہیں چھوڑ دیتا، تو بھلا آپ ﷺ کو کیا چھوڑ دے گا۔ آیت سے ضمنا مسیحیوں کے اس عقیدہ کی بھی تردید نکل آئی کہ خدا اپنے پیغمبروں کو کبھی کبھی چھوڑ دیتا ہے، یہاں تک کہ اپنے ” محبوب اکلوتے فرزند ‘ کو بھی۔” اور تیسرے پہر کے قریب یسوع نے بڑی آواز…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–3

ترجمہ :۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، قسم ہے شروع دن کی یا پورے دن کی اور قسم ہے رات کی جب وہ اپنی تاریکی کے ساتھ چھا جائے یا پرسکون ہوجائے (اے محمد ﷺ ! ) تمہارے رب نے تم کو ہرگز نہیں چھوڑا اور نہ وہ آپ سے ناراض ہوا یہ سورت اس وقت نازل ہوئی جب آپ ﷺ سے پندرہ روز تک وحی کا سلسلہ منقطع ہوگیا تو کفار نے کہا تھا کہ : محمد ﷺ کو تو اس کے رب نے چھوڑ دیا اور اس سے نارضا ہوگیا اور یقینا آپ ﷺ کے لئے آخرت دنیا سے بہتر ہے اس لئے کہ آخرت میں (آپ ﷺ کے لئے) عظمتیں ہیں اور عنقریب یقینا آپ ﷺ کا رب آپ ﷺ کو آخرت میں خیر سے اور بےانتہا انعامات سے نوازے گا، کہ آپ ﷺ اس سے خوش…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ما ودعک ربک . یعنی تمہارے رب نے تم کو بالکل نہیں چھوڑ دیا ‘ تم سے قطع تعلق نہیں کیا۔ وما قلی . اور تم کو مبغوض نہیں بنا لیا ‘ تم سے متنفر نہیں ہوگیا۔ یہ جملہ اصل میں ما قلاک تھا۔ ک ضمیر مفعول محذوف کردی گئی کیونکہ ودّعک میں مفعول موجود ہے۔ مزید ذکر کی ضرورت نہیں یا سجع آیات کے لحاظ سے مفعول کا ذکر نہیں کیا گیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 1–5

(1۔ 5) قسم ہے پورے دن کی اور رات کی جب کہ وہ تاریک اور سیاہ ہوجائے، جس وقت سے اللہ تعالیٰ نے آپ کے پاس وحی بھیجی ہے نہ آپ کو چھوڑا ہے اور نہ جب سے آپ کو محبوب بنایا ہے آپ سے دشمنی کی ہے۔ رسول اکرم ﷺ انشاء اللہ کہنا بھول گئے تھے تو اس کے بعد پندرہ روز تک وحی آنا بند رہی۔ تو اس وقت کافر کہنے لگے کہ آپ کے پروردگار نے آپ کو چھوڑ دیا ہے اور آپ سے دشمنی کرلی ہے اس وقت یہ آیات نازل ہوئیں اور آخرت کا ثواب آپ کے لیے ثواب دنیا سے بدرجہا بہتر ہے، اور اللہ تعالیٰ آپ کو آخرت میں مقام شفاعت ہی عطا فرمائے گا کہ جس سے آپ خوش ہوجائیں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 1–3

(1) والضحی ، والیل اذا سجی …”الضحی ‘ ‘ سورج طلوع ہونے کے بعد جب پوری طرح روشن ہوجاتا ہے۔ ”سجی“ ”سجا یسجو سجوا“ (ن) پر سکون ہونا۔ ”ودع“ ”ودع یدع“ (چھوڑنا) سے باب تفعیل ہے جو چھوڑنے میں مبالغے کا معین رکھتا ہے۔ ”قلی““ ”قلی یقلی قلی وقلاء“ (ض ، س)”الرجل ابغضہ“ کسی سے بغض رکھنا۔ (2) جندب بن سفیان ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ بیمار ہوگئے تو دو یا تین رتایں (تہجد کے لئے) نہ اٹھے۔ ایک عورت ائٓی اور کہنے لگی :”اے محمد ! مجھے امید ہے کہ تمہارا شیطان تمہیں چھوڑ گیا ہے، دو تین راتوں سے میں نے اسے تمہارے پاس آتے نہیں دیکھا۔“ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل فرمائی۔ (بخاری، التفسیر، باب قولہ :(ماودع ربک و…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 1–3

تفسیر 1 تا 3۔ والضحیٰ ، والیل اذا سجیٰ ۔ الضحیٰ کے بارے میں گفتگو گزرچکی ہے اس سے مراد دن ہے کیونکہ اس کے مقابل اللیل ہے اور سورة اعراف میں ہے، افامن اھل القری ان یاتیھم باسنا بیاتا وھم نائمون۔ اوامن اھل القری ان یاتیھم باسنا ضحی وھم یلعبون۔ (اعراف) کیا بستیوں والے اس سے بےخوف ہوگئے ہیں کہ ہمارا عذاب انہیں رات کو پہنچے جب کہ وہ سوئے ہوئے ہوں یابستیوں والے بےخوف ہوگئے ہیں کہ ہمارا عذاب دن کو پہنچے جب کہ وہ سوئے ہوئے ہوں یابستیوں والے بےخوف ہوگئے ہیں کہ ہمارا عذاب دن کو پہنچے جب کہ وہ کھیل کود میں مصروف ہوں قتادہ، مقاتل اور مام صادق نے کہا، اللہ تعالیٰ نے اس چاشت کے وقت کی قسم اٹھائی جس میں…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 3–4

وحی کا منقطع ہونا 19۔ ابن ابی شیبہ فی مسندہ والطبرانی وابن مردویہ نے ام حفص ؓ سے روایت کیا کہ وہ اپنی والدہ سے روایت کرتی ہیں۔ اور وہ رسول اللہ ﷺ کی خادمہ تھیں کہ ایک کتے کا چھوٹا سا بچہ نبی ﷺ کے گھر میں داخل ہوگیا۔ اور وہ چارپائی کے نیچے داخل ہو کر مرگیا۔ نبی اکرم ﷺ چار دن تک انتظار فرماتے رہے۔ آپ پر وحی نازل نہیں ہوئی۔ آپ نے فرمایا اے خولہ ! رسول اللہ ﷺ کے گھر میں کیا ہوا کہ جبریل (علیہ السلام) میرے پاس نہیں آرہے۔ میں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی ! ہمارے اوپر کوئی دن ایسا نہیں آیا جو ہمارے لیے بہتر ہو آج یک دن سے پھر آپ نے اپنی چادر مبارک کو پہنا اور باہر تشریف لے گئے میں نے اپنے دل میں کہا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ : نہ الوداع کہا آپ ﷺ کو آپ ﷺ کے رب نے ][ وَمَا قَلٰى: اور نہ وہ بیزار ہوا (آپ ﷺ سے)]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 1–3

اوپر سورة الضحیٰ کا ترجمہ لکھا گیا ہے یہ سورة مکہ معظمہ میں نازل ہوئی اس کے سبب نزول کے بارے میں معالم التنزیل میں ایک تو یہ لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بیماری کی وجہ سے دو تین رات نماز نہیں پڑھی یعنی نماز تہجد ناغہ ہوگیا، ایک عورت (فتح الباری میں ہے کہ یہ بات ابو لہب کی بیوی ام جمیل نے کہی تھی) نے کہا کہ بس جی سمجھ میں آگیا کہ جو شیطان ان کے پاس آتا تھا اس نے ان کو چھوڑ دیا، دو تین رات سے قریب نہیں آیا اور ایک بات یہ لکھی ہے کہ یہودیوں نے رسول اللہ ﷺ سے ذوالقرنین، اصحاب کہف اور روح کے بارے میں دریافت کیا تھا۔ آپ نے فرمایا کہ کل کو بتاؤں گا انشاء اللہ کہنا رہ گیا تھا لہٰذا چند دن تک وحی نازل…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–11

انعامات خاصہ : برذات اقدس نبی کریم علیہ الصلوۃ والتسلیم وامر باواء شکر : قال اللہ تعالیٰ (آیت) ” والضحی والیل اذا سجی ......... الی ......... واما بنعمۃ ربک فحدث “۔ (ربط) گزشتہ چند سورتوں میں آنحضرت ﷺ کی نبوت و رسالت کو ثابت کیا گیا تھا اور ایمان کا دارومدار آخرت پر ایمان یقین کی شکل میں ہے تو اس کے دلائل بھی ذکر فرما دیئے گئے اب اس سورت میں ان خصوصی انعامات کا ذکر ہے جن سے آنحضرت ﷺ کی ذات اقدس کو سرفراز فرمایا گیا اور ان انعامات کے ضمن میں آپ کی رسالت کے دلائل بھی ذکر کردئیے گئے اور جن خاص کمالات اور اخلاق حسنہ سے پیغمبر کی ذات متصف ہونی چاہئے، ان کو بھی بیان کردیا گیا، ارشاد ہے۔ قسم ہے دھوپ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 1–3

2:۔ ” والضحیٰ “ جمہور مفسرین نے لکھا ہے کہ کسی مصلحت سے چند دن جبریل (علیہ السلام) وحی لے کر نہ آئے تو مشرکین نے کہنا شروع کردیا کہ محمد ﷺ کا خدا اس سے ناراض ہوگیا ہے اور اس نے اس کو چھوڑ دیا ہے۔ اس پر یہ سورت نازل ہوئی جس میں مشرکین کی خرافات کا جواب دیا گیا اور آنحضرت ﷺ کو تسلی دی گئی کہ اللہ تعالیٰ نہ آپ سے ناراض ہوگیا ہے اور نہ اس نے آپ کو چھوڑ ہی دیا ہے۔ (خازن، ابن کثیر، کبیر وغیرہ) ۔ ” الضحیٰ “ چاشت کا وقت، دن کا اجالا۔ ” سجی “ ای غطی بظلامہ (جلالین) ہر چیز کو اپنی تاریکی میں چھپا لے روز روشن اور شب تاریک شاہد اور گواہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے نہ آپ کو چھوڑ دیا ہے اور نہ وہ آپ سے ناراض…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–4

مضمون سورة سورۃ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے ان بیہودہ خیالات اور طعن وتشنیع کی تردید فرمائی ہے۔ جن کا ذکر اوپر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ کے ان انعامات کا ذکر کیا ہے۔ جو اس نے اپنے پیغمبر علیہ اسللام پر کئے اور آخر میں ان انعامات کا شکریہ ادا کرنے کا ذکر ہے۔ نیز حضور ﷺ کو تسلی دی گئی کہ آپ مخالفین کی ان باتوں سے دل برداشتہ نہ ہو۔ ان کا توشیہ ہی ایذاء رسانی ہے۔ اس طرح آپ کو تسلی دی گئی ہے۔ ضحی اور اشراق ابتداء میں دن اور رات کی قسمیں کھا کر بات کو واضح کیا گیا ہے۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے والضحی قسم ہے دھوپ چڑھتے وقت کی ضحیٰ دن کے اس حصے کو کہتے ہیں۔ جب دن خوب روشن ہوجاتا ہے۔ یعنی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلٰى۝ 3 ۭ ودع الدّعة : الخفض . يقال : ودعت کذا أدعه وَدْعاً. نحو : تركته، وادعا وقال بعض العلماء : لا يستعمل ماضيه واسم فاعله وإنما يقال : يَدَعُ ودَعْ «2» ، وقد قرئ : ( ما وَدَعَكَ ربّك) [ الضحی/ 3] وقال الشاعر : ليت شعري عن خلیلي ما الذي ... غاله في الحبّ حتی ودعه والتودّع : ترک النّفس عن المجاهدة، وفلان متّدع ومتودّع، وفي دعة : إذا کان في خفض عيش، وأصله من التّرك . أي : بحیث ترک السّعي لطلب معاشه لعناء، والتّودیع أصله من الدّعة، وهو أن تدعو للمسافر بأن يتحمّل اللہ عنه كآبة السّفر، وأن يبلّغه الدّعة، كما أنّ التّسلیم دعاء له بالسّلامة فصار ذلک متعارفا في تشييع…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–5

ترکیب ¦ والضحٰی الوا وللقسم وھو اول النھار اذا تجلٰی وارتفعت الشمس وقیل المراد بہ النھار کلہ مجازًا من اطلاق الجزاء و ارادۃ الکل بدلیل مقابلۃ بالیل اذا سجیٰ والیل عطف علیہ اذا العامل فیہ معنی القسم سجٰی ای سکن قالہ قتادہ و مجاھد و ابن زید و عکرمۃ وغیرھم یقال لیلۃ ساجیۃ ای ساکنۃ ویقال سجا الشیء یسجو سجوًا اذا سکن وعن ابن الاعرابی سجٰی امتد ظلامہ وقال الاصمعی سجو اللیل تعظیۃ النھار ما ودعک الخ ھذا جواب القسم قر۔ الجمہور بتشدید الدال من التودیع وقری ٔ بتخفیفھا من قولھم ودعہ ترکہ وما قلی عطف علیٰ ماودعک وانقلاء البغض یقال قلاہ یقلیہ قلاً ولم یقل ما قلاک لموافقۃ روس الآیٔ وللاخرۃ اللام جواب قسم…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

مَا وَدَّعَکَ رَبُّکَ وَمَا قُلٰی۔ (الضحیٰ : 3) (نہ آپ کے رب نے آپ کو چھوڑا اور نہ وہ ناراض ہوا۔ ) یہ جوابِ قسم ہے اس کی وضاحت ان آیات کے شان نزول میں روایات کا اختلاف پایا جاتا ہے۔ لیکن یہ اختلاف حقیقت میں نہیں، تعبیر میں ہے۔ مقصود دونوں سے نزول وحی کے انقطاع سے پیدا ہونے والی صورتحال ہے۔ شیخین کی روایت تو یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ علالتِ طبع کے باعث دو تین روز سحری کے وقت بیدار ہو کر مصروفِ عبادت نہ ہوئے۔ ابولہب کی بیوی ام جمیل جس کا مکان حضور ﷺ کے پڑوس میں تھا اور وہ آپ کی چچی بھی لگتی تھی۔ وہ آئی اور کہنے لگی ما اریٰ شیطانک الا قد ترکک لم ارہ قربک منذلیلتین اوثلاث ” میں دیکھتی ہوں کہ تمہارے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–5

فہم القرآن ربط سورت : سورة الّیل کے آخر میں نیک لوگوں کے بہتر انجام کا ذکر فرمایا اور سورة الضّحٰی میں تین قسمیں کھانے کے بعد نبی ﷺ کی ذات کے حوالے سے بتلایا ہے کہ آپ کی زندگی کا آنے والا دور پہلے دور سے بہتر ہوگا مقصد یہ ہے جو شخص نیک کام کرے گا اللہ تعالیٰ اس کی دنیا اور آخرت بہتر کردیں گے۔ الضّحٰی کا معنٰی ہے روشن دن اور سجٰی رات کے اس وقت کو کہتے ہیں جب رات اپنی تاریکی اور سکون کے ساتھ ہر چیز پر چھا جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان اوقات کی قسمیں اٹھا کر اس بات کی وضاحت فرمائی ہے کہ آپ ﷺ کے رب نے آپ کو نہ چھوڑا ہے اور نہ آپ پر ناراض ہوا ہے، چھوڑنا اور ناراض ہونا تو درکنار اس نے آپ کی زندگی کا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

نہ چھوڑا نہ ناراض ہوا : 3 : مَا وَدَّعَکَ رَبُّکَ وَمَا قَلٰی (اور آپ کے پروردگار نے نہ آپ کو چھوڑا اور نہ دشمنی کی) قلٰیؔ یعنی آپ کو جب سے چنا آپ کو چھوڑا نہیں اور جب سے محبوب بنایا آپ سے ناراض نہیں ہوا۔ التودیعؔ الودع کا مبالغہ ہے۔ کیونکہ جو آدمی جدائی اختیار کر کے چھوڑتا ہے وہ چھوڑ نے میں انتہاء کرنے والا ہوتا ہے۔ روایت میں ہے کچھ دنوں تک وحی آپ ﷺ پر نہ اتری۔ تو مشرکین کہنے لگے۔ محمد ﷺ کو اس کے رب نے چھوڑ دیا۔ اور اس سے ناراض ہوگیا پس یہ آیت اتری۔ (ابن مردویہ بحوالہ کشاف 4/766) قلٰی کے ساتھ ضمیر کو حذف کردیا۔ جیسا کہ الذاکرات سے ضمیر کو اس آیت میں حذف کردیا۔ والذاکرین اللہ کثیرًا والذاکرات…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

3 ۔” ماودعک ربک وما قلیٰ “ یہ جواب قسم ہے یعنی جب سے آپ کو چنا ہے تب سے آپ کو نہیں چھوڑا اور جب سے آپ کو محبوب بنایا ہے آپ سے ناراض نہیں ہوئے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–11

1۔ 11۔ اگرچہ مفسروں نے اس سورة کی شان نزول میں طرح طرح کی باتیں لکھی ہیں سب سے زیادہ صحیح شان نزول وہی ہے جس کا ذکر صحیحین 1 ؎ کی جندب ؓ کی روایت میں ہے کہ حضرت ﷺ ہجرت سے پہلے مکہ میں کچھ بیمار ہوگئے تھے اس بیماری کے سبب سے دو تین راتوں تک آپ تہجد کی نماز کو نہیں اٹھے یہ دیکھ کر ام جمیل ابو لہب کی بی بی نے کہا محمد کے رب نے محمد کو چھوڑ دیا۔ اس لئے انہوں نے رات کو اٹھنا بند کردیا۔ ام جمیل کی اس بات سے آنحضرت ﷺ کو رنج ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کے رنج رفع ہوجانے کی غرض سے یہ سورة نازل فرمائی اور فرمایا کہ اے نبی اللہ کے ‘ نہ اللہ نے تم کو چھوڑ دیا ہے نہ وہ تم سے کچھ خفا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

فرمایا (مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ ) یعنی جب سے آپ پر اللہ تعالیٰ کی عنایتے اس نے آپ کو نہیں چھوڑا اور جب سے اس نے آپ کی نشونما کی اور آپ پر مہربانی کی، اس نے آپ پر توجہ اور عنایت کو ترک نہیں کیا بلکہ وہ آپ کی کامل ترین طریقے سے تربیت کرتا رہتا ہے اور درجہ بدرجہ آپ کو بلندی عطا کرتا رہتا ہے۔ ( وَمَا قَلٰى) اور وہ آپ سے بیزار نہیں ہوا۔ یعنی جب سے اللہ تعالیٰ نے آپ سے محبت کی ہے وہ آپ سے ناراض نہیں ہوا۔ کیونکہ ضد کی نفی، اس کی ضد کے ثبوت کی دلیل ہے محض نفی جب تک ثبوت کمال کی متضمن نہ ہومدح نہیں ہوتی۔ یہ رسول اللہ کے ماضی کا حال ہے، جبکہ موجودہ حالت اللہ تعالیٰ کی آپ کے ساتھ محبت اس میں استمرار کمال…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

3 ۔ پیغمبر کے لیے تسلی و تسکین کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور اوپر کی دونوں قسموں کے جواب اور آفاقی شواہد کے مقصود و مدعا کے ذکرو بیان کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ نہ تو آپ کے رب نے آپ کو چھوڑا ہے اے پیغمبر اور نہ ہی وہ آپ سے ناراض ہوا ہے۔ پس جس طرح روشن دن کے بعد پرسکون اندھیری رات کا چھا جانا، کسی سے راضی یا ناراض ہونے کا نتیجہ نہیں ہوتا، بلکہ یہ دونوں اصل اللہ پاک کی بےپایاں حکمت اور اس کی رحمت بےنہایت کے دو الگ الگ مظہر ہیں اسی طرح آپ سے ( اے پیغمبر) کچھ دونوں کے لیے سلسلہ وحی کا منقطع ہوجانا بھی اسی حکمت وقدرت اور عنایت ربانی کا مقتضا ہے، پس آپ کو اس سے غمگین اور متفکر ہونے کی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–11

اللہ کی رحمتیں اور نبی پاک ﷺ تشریح : بڑی خوبصورت سورت پاک ہے۔ اللہ کی رحمتوں برکتوں ' فضیلتوں ' لطف وکرم اور قدرت و عظمت کا بیان بڑے خوبصورت انداز میں کیا گیا ہے۔ اور اس خاص محبت کا ذکر جو اللہ جل شانہ کو اپنے پیارے رسول ﷺ سے ہے بڑے محبت بھرے انداز میں کی گئی ہے۔ وحی کے رک جانے سے جو آپ ﷺ پریشان ہوئے تو حق تعالیٰ نے آفتاب کی روشنی اور رات کے گھپ اندھیرے کی قسم کھا کر یقین دلایا کہ آپ ﷺ پریشان نہ ہوں جس طرح دن رات کا نظام انسان کے کام اور آرام کا ذریعہ ہے اسی طرح آپ ﷺ کی وحی کے اترنے کا وقفہ محض آپ ﷺ کو اعصابی آرام دینے کے لیے دیا گیا ہے تاکہ آپ ﷺ پر وحی کی وجہ سے جو مشقت پڑتی ہے وہ وقفہ وقفہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–11

سورة الضحی۔ آیات 1 تا 11۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے دن کی روشنی کی اور رات کی جب وہ چھاجاتی ہے یعنی دن کی روشنی اور رات کی تاریکی گواہ ہیں کہ دن کے بعد رات بھی آسکتی ہے پھر خود رات گواہ ہے کہ جب مکمل ہوچکتی ہے تو تاریکی کم ہونے لگتی ہے اور پھر دن آجاتا ہے۔ قبض وبسط۔ یہی حال کیفیات قلب کا بھی ہے کہ کبی واردات بہت تیزا ورروشن ہوتی ہیں یعنی بسط ہوتا ہے اور کبھی قبض کی کیفیت وارد ہوتی ہے اور قبض سے یہ نہیں سمجھاجاسکتا کہ پھر بسط نہ ہوگا چند روز نزول وحی نہ ہواتوکفار نے طعنہ دیا کہ رب نے انہیں چھوڑ دیا ہے تو رب کریم نے جو اباارشاد فرمایا کہ آپ کے پروردگار نے نہ تو آپ کو چھوڑا ہے اور نہ وہ آپ سے خفا ہے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 2–4

ف 1 اس لئے آنحضرت دنیا سے بےرغبت اور آخرت کی طرف متوجہ رہتے۔ ایک حدیث میں آنحضرت نے دنیا کی بےثباتی بیان فرماتے ہوئے انسان کی مثال ایک مسافر سے دی ہے جو چند ساعتیں کسی درخت کے سایے میں آرام کرتا ہے اور پھر چل دیتا ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(93:3) ما ودعک ربک۔ جواب قسم ہے۔ ما نافیہ، ودح ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب تودیع (تفعیل) مصدر۔ بمعنی چھوڑنا۔ تودیع کے اصل معنی ہیں مسافر کو الوداع کہنا۔ آیر ہذا میں بمعنی چھوڑنا مستعمل ہوا ہے۔ ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ تیرے پروردگار نے تجھے نہیں چھوڑا۔ وما قلی : واؤ عاطفہ ما نافیہ۔ قلی ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب قلی اسم مصدر۔ بمعی سخت نفرت۔ انتہائی بغض، قلی یقلی (باب ضرب) اور قلی یقلوا (باب نصر) کے معنی ہیں پھینکنا۔ پھینک دینا۔ قابل نفرت چیز یا دشمن کو دل اپنے اندر جگہ نہیں دیتا۔ باہر نکال کر پھینک دیتا ہے۔ قلی اس نے نفرت کی۔ وما قلی اور نہ ہی اس نے (تجھ سے) نفرت کی یا بیزاری کی۔ اور جگہ…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–11

لغات القرآن۔ سجی۔ چھا گیا۔ ماقلی۔ نہ بیزار ہوا۔ سوف یعطی۔ بہت جلد عطا کرے گا۔ ترضی۔ تو خوش ہوجائے گا۔ اوی۔ ٹھکانا رہا۔ ضال۔ تلاش حق میں سرگرداں ۔ عائل ۔ مفلس و غریب۔ اغنی۔ مال دار کردیا۔ لا تقھر ۔ مت ڈانٹ۔ لا ینتھر۔ نہ جھڑک ۔ حدت ۔ بیان کر۔ تشریح : نبی کریم حضرت محمد ﷺ پر ابتداء میں پہلی وحی کے بعد تیس چالیس دن تک وحی کا سلسلہ بند رہا۔ پھر اس کے بعد لگاتار وحی کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ وحی بند ہونے کے زمانہ میں ایک طرف تو آپ پریشان تھے۔ ادھر کفار مکہ کی طنز آمیز باتوں اور طعنوں سے آپ بہت غمگکین رہتے تھے۔ وہ کہتے کہ اے محمد ﷺ ! کیا تمہارا رب تم سے ناراض ہوگیا اور وحی کا سلسلہ بند ہوگیا ؟ ابو لہب کی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–3

(ف 1) شان نزول : ایک مرتبہ ایسا اتفاق ہوا کہ چند روز وحی نہ آئی تو کفار نے بطریق طعن کہا کہ محمد ﷺ سے ان کا رب روٹھ گیا اس پر والضحی نازل ہوئی سورة ضحیٰ میں چالیس کلمے اور ایک سو بہتر حروف ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[2] روایات صحیحہ میں ہے کہ جبرائیل (علیہ السلام) کچھ عرصے تک رسول اکرم ﷺ کے پاس نہ آئے، یعنی وحی کا سلسلہ بند رہا۔ مشرکین نے طعنہ دینا شروع کردیا کہ محمد ﷺ کو (نعوذ باللّٰہ) اس کے رب نے ناراض ہو کر چھوڑ دیا ہے۔ اس پر یہ سورت نازل ہوئی۔ اس میں دن اور رات کی قسم کھا کر نبی ﷺ سے فرمایا گیا کہ تمہارے رب نے تمہیں چھوڑا ہے اور نہ تم سے ناراض ہوا ہے۔ اس بات پر دن اور رات کی قسم جس مناسبت سے کھائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ ظاہر میں اپنی قدرت و حکمت کے مختلف نشان ظاہر کرتا ہے، دن کے پیچھے رات کو اور رات کے پیچھے دن کو لاتا ہے۔ یہی کیفیت باطنی حالت کی سمجھنا چاہیے۔ اگر دن کے بعد رات کا آنا…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–3

ف 1: اس زمانہ میں چند دنوں کے لئے نزول وحی میں توقف ہوگیا تھا تو مخالفین نے یہ مشہور کرنا شروع کردیا کہ محمد ﷺ سے معاذ اللہ خدا نے اب اپنی توجہ ہٹالی ہے ۔ اس پر ان آیات کا نزول ہوا اور بتایا کہ یہ بات غلط ہے ۔ جس طرح آفتاب نکلتا ہے اور پھر جب تک اپنا دور ختم نہیں کرلیتا اس وقت تک غروب نہیں ہوتا اور جس طرح رات کی تاریکی چھاجاتی ہے اور صبح تک برابر قائم رہتی ہے ۔ درمیان میں پلٹ نہیں جاتی ۔ اسی طرح دنیائے روحانیت میں نبوت کا آفتاب طلوع ہوتا ہے ۔ حق وصداقت کا خادر درخشاں نکلتا ہے ۔ تب ناممکن کہ وہ وقت سے پہلے بےتوجہی کے افق میں غروب ہوجائے اور اگر تم اس کو سورج نہ قرار دے سکو تو پھر بھی یہ اگر…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(3) کہ آپ کے پروردگار نے نہ تو آپ کو چھوڑ اور نہ آپ سے ناراض اور بیزار ہوا۔ دن کے اجالے اور رات کیا ندھیرے کی قسم کھا کر فرمایا کہ اگر روشنی کے بعد تاریکی اور تاریکی کے بعد روشنی ہماری خفگی اور ناراضگی کی دلیل نہیں ہے تو نزول وحی اور اس کی کچھ وقت کے لئے فترۃ کو کیوں خفگی کی دلیل سمجھا گیا، یہ تو قدرت خداوندی کی ڈھلتی پھرتی شانیں ہیں جو ظاہر میں بھی دیکھنے میں آتی ہیں اور باطن میں بھی اہل باطن دیکھتے اور سمجھتے ہیں یہ کوئی الزام کی بات نہیں بلکہ اہل اللہ پر اکثر قبض وبسط کی واردات ہوتی رہتی ہیں ۔ یہ آیت ماودعک جواب ہے قسم کا آگے ارشاد ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 3–4

ف 11۔ کیونکہ اولا تو آپ سے کوئی بات ایسی نہیں ہوئی، ثانیا انبیاء (علیہم السلام) کے واسطے یہ امر عادة اللہ میں محال ہے، پس آپ کفار کے خرافات و لغویات سے مخزون نہ ہوجایئے، آپ برابر نعمت وحی سے مشرف رہیں گے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

نہ آپ ﷺ کے رب نے آپ ﷺ کو چھوڑا اور نہ ہی وہ آپ ﷺ سے ناراض ہوا 3 ؎ یہی وہ مضمون ہے جس کو مؤکد کر کے بیان کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی اور اس طرح یہ بیان کیا گیا جیسے تعارف میں ہم نے اشارہ کیا ہے کہ جب نبی اعظم و آخر ﷺ چو طرفہ مصائب و آلام میں گھیر لیے گئے ، ایک طرف منکرین اور معاندین نے گھیرا تنگ کر رکھا تھا اور دوسری طرف سے اللہ تعالیٰ نے پیغام رسانی کا کام ذرا ڈھیلا کردیا خواہ وہ آزمائش کی صورت میں اور خواہ اس کی ضرورت ہی نہ تھی لیکن آپ ﷺ کو احساس ہو رہا تھا کہ اس فرشتہ نے دیر کیوں لگائی جو غار حرا میں مجھے ملا تھا اور جس کا ذکر ہم پیچھے تفصیل کے ساتھ کرچکے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو ان الفاظ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 1–3

Commentary Occasion of Revelation Bukhari, Muslim and Tirmidhi have narrated from Sayyidna Jundub ؓ that once a finger of the Holy Prophet ﷺ was wounded and started bleeding, he said: ان انت الّا اصبع دمیت وفی سبیل اللہ ما لقیت 'You are merely a finger that is bleeding; [ what does it matter ] if you are hurt: it all happened in Allah's cause.' Sayyidna Jundub ؓ عنہ narrated this incident and said that revelation of the Qur'an to the Holy Prophet ﷺ came to a halt, and that Jibra'il (علیہ السلام) stopped coming to him for a while. The unbelievers taunted, saying: "Mulhammad's Lord has…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

3 Traditions show that Revelations to the Holy Prophet (upon whom be peace) had remained suspended. for some period of time. Different traditions have mentioned different durations of this period. Ibn Juraij has mentioned it to be 12 days, Kalbi 15 days, Ibn 'Abbas 25 days, and Suddi and Muqatil have stated that it extended to 40 days. In any case the period was so long that it made the Holy Prophet (upon whom be peace) sorrowful, and the opponents also had the opportunity to taunt him. For whenever a new Surah came down, the Holy Prophet would recite it before the people. Therefore, when he…

Read the full tafseer →