93. Surah Ad-Dhuhaa

الضحىThe Morning Hours · 11 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 93:1–11

وَ الضُّحٰىۙ Open ayah 93:1 in the Quran reader

آفات کی روشنی کی قسم

وَ الَّیْلِ اِذَا سَجٰىۙ Open ayah 93:2 in the Quran reader

اور رات (کی تاریکی) کی جب چھا جائے

مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَ مَا قَلٰىؕ Open ayah 93:3 in the Quran reader

(اے حبیب ﷺ آپ کے پروردگار نے نہ آپ کو چھوڑا اور نہ (آپ سے) ناراض ہوا

وَ لَلْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لَّكَ مِنَ الْاُوْلٰىؕ Open ayah 93:4 in the Quran reader

اور آخرت آپ کے لئے پہلی (حالت یعنی دنیا) سے کہیں بہتر ہے

وَ لَسَوْفَ یُعْطِیْكَ رَبُّكَ فَتَرْضٰىؕ Open ayah 93:5 in the Quran reader

اور آپ کو آپ کا پروردگار عنقریب وہ کچھ عطا فرمائے گا کہ آپ خوش ہوجائیں گے

اَلَمْ یَجِدْكَ یَتِیْمًا فَاٰوٰى۪ Open ayah 93:6 in the Quran reader

بھلا اس نے آپ کو یتیم پاکر جگہ نہیں دی

وَ وَجَدَكَ ضَآلًّا فَهَدٰى۪ Open ayah 93:7 in the Quran reader

اور آپ کو جستجو میں پایا تو سیدھا راستہ دکھایا

وَ وَجَدَكَ عَآئِلًا فَاَغْنٰىؕ Open ayah 93:8 in the Quran reader

اور تنگدست پایا تو غنی کردیا

فَاَمَّا الْیَتِیْمَ فَلَا تَقْهَرْؕ Open ayah 93:9 in the Quran reader

سو آپ بھی یتیم پر سختی نہ کیجئے

وَ اَمَّا السَّآئِلَ فَلَا تَنْهَرْؕ Open ayah 93:10 in the Quran reader

اور مانگنے والے کو نہ جھڑکیں

وَ اَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ۠ Open ayah 93:11 in the Quran reader

اور اپنے پروردگار کی نعمتوں کا بیان کرتے رہیے

سورة الضحی۔ آیات 1 تا 11۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے دن کی روشنی کی اور رات کی جب وہ چھاجاتی ہے یعنی دن کی روشنی اور رات کی تاریکی گواہ ہیں کہ دن کے بعد رات بھی آسکتی ہے پھر خود رات گواہ ہے کہ جب مکمل ہوچکتی ہے تو تاریکی کم ہونے لگتی ہے اور پھر دن آجاتا ہے۔ قبض وبسط۔ یہی حال کیفیات قلب کا بھی ہے کہ کبی واردات بہت تیزا ورروشن ہوتی ہیں یعنی بسط ہوتا ہے اور کبھی قبض کی کیفیت وارد ہوتی ہے اور قبض سے یہ نہیں سمجھاجاسکتا کہ پھر بسط نہ ہوگا چند روز نزول وحی نہ ہواتوکفار نے طعنہ دیا کہ رب نے انہیں چھوڑ دیا ہے تو رب کریم نے جو اباارشاد فرمایا کہ آپ کے پروردگار نے نہ تو آپ کو چھوڑا ہے اور نہ وہ آپ سے خفا ہے کہ آپ معصوم عن الخطانبی ہیں اور اللہ کے محبوب رسول ہیں امام الانبیاء ہیں خود اللہ نے آپ کو ظاہری اور باطنی طور پر ایسے کمالات بخشے ہیں کہ مخلوق میں آپ جیسا کوئی دوسرا نہیں بھلا آپ سے کیوں ہوگابل کہ آپ کی حالت توہرآن پہلے سے بہتر ہوتی چلی جائے گی اور مسلسل ترقی نصیب ہوگی۔ آپ ﷺ کو ہر آن ترقی نصیب ہوگی۔ نبی کریم کو مبعوث ہونے سے لے کر ہمیشہ ہمیشہ ترقی نصیب ہوتی رہے گی کہ دنیا کی زندگی کا ہر لمحہ ترقی پذیر تھا جب اپ برزق میں جلوہ افروز ہوئے تو قیامت تک جہاں کوئی اللہ کا نام لے گایانی کی کرے گا اس کا اجر آپ کو بھی دیاجائے گا کہ سب آپ کی تعلیمات ہیں فرشتوں کا درود اور خود رب اعلی کا درود اس کے علاوہ ہیں عین میدان حشر میں آپ کا ارشاد ہے کہ مجھے ایسے کلمات سکھائیں جائیں گے جن سے میں دعا کروں گا وہاں بھی ترقی ہورہی ہے اور جنت میں تو آپ کی شان بہت بلند ہے ہر جنتی کو ہر لمحہ پہلے سے بہتر نصیب ہوگایہی حال اہل سلوک کا ہوتا ہے کہ ہر آن ترقی پذیر رہتے ہیں بشرطیکہ اللہ اتباع نبوت پر قائم رکھے کہ ان کی ترقی بوساطت رسول ہوتی ہے۔ اور دنیا میں بھی ہر روز ترقی نصیب ہوتی رہی دین پھیلتا گیا پھر ریاست مدینہ منورہ بنی پھر فتوحات نصیب ہوئیں کفر تباوہ ہوتاچلا گیا اور آپ کا دین ہر روز ترقی کرتاچلا گیا اللہ آج کے مسلمانوں کو بھی یہ توفیق دے ورنہ اسلام کی ترقی کارک جانا ہمارے مسلمان ہونے کو مشکوک بنارہا ہے اور آپ کو آپ کا رب اتنی نعمتیں عطا کرے گا کہ آپ راضی ہوجائیں گے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی دنیا میں امت کو بڑھا کر اور آخرت میں امت کو بخشوا کر بھلا آپ یتیم تھے یہ اس کی حکمت مگر کس نازونعم سے پہلے یہ اس کا انعام اور آپ متلاشی تھے سو آپ کو منزل عطا کردی۔ عجیب بات ہے یہاں ترجمہ ، بھٹکتا ہواپایا ، لکھ دیا جاتا ہے جس پر بیشمار سوالات پیدا ہوجاتے ہیں اگر ترجمہ متلاشی یاجستجو اور تلاش میں لکھا جائے جو درست ہے تو بات صاف ہوجاتی ہے جیسے ہر شے فطری کمال کے لیے بےقرار ہوتی ہے کلی بنتی ہے تو چٹک کر غنچہ بننے کو ترپٹی ہے اور غنچہ پھول بننے کے لیے بےقرار ہوتا ہے ایسے ہی نبی اکرم کے مزاج گرامی میں ظہور نبوت اور بعثت کے لیے بےقراری رہتی تھی جس کے باعث آپ مہینوں الگ تھلگ ذکر کرتے تھے اور حرا میں تشریف لے جاتے یہاں اسی کا ذکر ہے کہ آپ کو جستجو تھی ہم نے منزل عطا کردی وہ اس کی حکمت تھی یہ اس کا انعام اور آپ کو ضرورت مند پایا کہ کوئی بندہ ساتھ نہ تھا مال و اقتدار نہ تھا پھر اس قدر محبت کرنے والے خادم عطا فرمائے کہ جہاں بھرگیا اور مال ومنال اور اقتدار آپ کے قدموں کی دھول بن گیا لہذا آپ کی بعثت پر اللہ کا شکر ایسے ادا ہوگا کہ یتیم وبے کس کو اس کا حق ملے اور کسی کمزور کو جھڑک کر اس کا حق نہ چھین سکے اور کسی ضرورت مند سے اس کی ضرورتوں کو روکا نہ جائے اور نہ اس کی سبکی کی جائے یعنی کمزور وبے نواکو بھی اس کا حق بھی ملے اور احترام بھی ، بحیثیت انسان اس کی عزت نفس محفوظ ہو یہ تمام امت پہ ہمیشہ واجب ہے کہ نبی (علیہ السلام) کی معرفت کا حکم دیاجارہا ہے۔ رہائش لباس وغیرہ حیثیت کے مطابق ہوناچاہیے۔ اللہ کی نعمتوں کو زبان سے بھی اور اپنے حال سے بھی بیان کیا کیجئے کہ رب جلیل نے جو کمالات دیے ہیں علم ، قوت ، اقتدار ، یا دولت وہ اسکے بندوں کو فائدہ پہنچائے اور اپنی رہائش صورت ، لباس ، سواری وغیرہ اپنے حال اور حیثیت کے مطابق ہو کہ یہ بھی اظہار نعمت ہے۔