Ayah 93:1(93:1) والضحی واؤ قسمیہ، الضحی مقسم بہٖ ۔ اس کے معنی ہیں وقت چاشت ۔ دن چڑھے۔ وہ وقت جبکہ دھوپ چڑھ جائے اور سورج روشن ہوجائے، آفتاب کی روشنی کی قسم۔ (ض ح و مادہ)
Ayah 93:2(93:2) والیل اذا سجی۔ واؤ قسمیہ اذا قسمیہ اذا ظرف زمان ، بمعنی جب۔ سجی ماضی واحد مذکر غائب۔ سجو (باب نصر) مصدر سے۔ وہ چھا گیا۔ اس نے آرام لیا۔ اس نے قرار پکڑا۔
ابن خالویہ لکھتے ہیں :۔ جب رات میں ہوا تھم جائے اور اس کی اندھیاری خوب بڑھ جائے تو کہا جاتا ہے لیل ساج : اسی طرح جب سمندر تھم جاتا ہے تو بحر ساج بولتے ہیں۔
ترجمہ ہوگا :۔ اور قسم ہے رات کی جب اس کا اندھیرا خوب چھا جائے۔ (س ج و مادہ)
Ayah 93:3(93:3) ما ودعک ربک۔ جواب قسم ہے۔ ما نافیہ، ودح ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب تودیع (تفعیل) مصدر۔ بمعنی چھوڑنا۔
تودیع کے اصل معنی ہیں مسافر کو الوداع کہنا۔ آیر ہذا میں بمعنی چھوڑنا مستعمل ہوا ہے۔ ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔
تیرے پروردگار نے تجھے نہیں چھوڑا۔
وما قلی : واؤ عاطفہ ما نافیہ۔ قلی ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب قلی اسم مصدر۔ بمعی سخت نفرت۔ انتہائی بغض، قلی یقلی (باب ضرب) اور قلی یقلوا (باب نصر) کے معنی ہیں پھینکنا۔ پھینک دینا۔ قابل نفرت چیز یا دشمن کو دل اپنے اندر جگہ نہیں دیتا۔ باہر نکال کر پھینک دیتا ہے۔ قلی اس نے نفرت کی۔ وما قلی اور نہ ہی اس نے (تجھ سے) نفرت کی یا بیزاری کی۔
اور جگہ قرآن مجید میں آیا ہے :۔ وقال انی لعملکم من القالین (26:168) اور (لوط (علیہ السلام) نے) کہا کہ میں تمہارے کام سے سخت بیزار ہوں۔
Ayahs 93:4–5(93:4) وللاخرۃ خیر لک من الاولی۔ لام جواب قسم کے لئے ہے یا بہ قسم محذوف ہے یا یہ آیت گزشتہ آیت کے جواب قسم سے ملحق ہے۔ تفسیر مظہری میں ہے کہ :۔
ممکن ہے یہ آیت گزشتہ آیت سے پیوستہ ہو۔ وابستگی کی وجہ یہ ہے کہ آیت ما ودعک ربک وما قلی کے ضمن میں یہ بات آگئی ہے کہ اللہ وحی بھیج کر تم کو اپنے ساتھ ملائے رکھے گا۔ تم حبیب خدا ہو اور اس سے زیادہ فضیلت اور کیا ہوسکتی ہے ۔ اب اس آیت میں بتایا کہ آخرت میں تمہارا درجہ اس سے بڑا ہوگا۔ وہ تمہارے لئے اس سے بہتر ہوگی۔ تمام انبیاء کی سرداری ہوگی۔ مقام محمود عطا کیا جائے گا۔ جس پر پچھلے اگلے رشک کریں گے۔
یا آیت کا یہ معنی بھی ہوسکتا ہے کہ دوسری حالت پہلی حالت سے تمہارے لئے بہتر ہوگی اور انجام امر آغاز سے اچھا ہوگا۔
” آخرت میں آپ کو نعمتیں اس سے بھی کہیں بڑ ھ چڑھ کر ملیں گی۔ آخرت کے لفظی معنی لے کر ترجمہ یوں بھی ہوسکتا ہے ” آپ کی پچھلی حالت پہلی حالت سے بہتر رہے گی “ مراد یہ کہ آپ کی زندگی کا ہر دور ماقبل سے بہتر ہی ہوگا “۔ (تفسیر ماجدی)
Ayah 93:6(93:6) الم یجدک یتیما فاوی۔ أ ہمزہ استفہام انکاری۔
لم یجد مضارع نفی جحد بلم۔ نفی کی نفی۔ اتبات۔ گویا الم یجدک کا ہے۔ مطلب ہوا قد وجدک : یتیما حال ہے ک ضمیر مفعول ہے۔
لفظی ترجمہ ہوگا :۔ کیا اس نے تمہیں یتیمی کی حالت میں نہیں پایا ؟ (مطلب یہ کہ بیشک اس نے تمہیں یتیمی کی حالت میں پایا) ۔
فاوی :تعقیب کا ہے۔ اوی ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ ایواء (افعال) مصدر سے۔ اس نے جگہ دی۔ اس نے اتارا۔ پھر اس نے (تمہیں) جگہ دی یعنی تمہاری عافیت کا انتظام کیا۔
Ayah 93:7(93:7) ووجدک ضالا فھدی۔ اس جملہ کا عطف جملہ سابقہ پر ہے۔ ضالا ۔ ضلال (باب ضرب) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر ۔ ناواقف ۔ بیخبر ۔ حیران۔ ضل یضل گمراہ ہوا۔ بہکا۔ بھٹکا۔ دور جا پڑا۔ کھوگیا۔ ضائع ہوگیا۔ ہلاک ہوگیا۔
ترجمہ ہوگا :۔ اور آپ کو راستہ سے ناواقف پایا تو سیدھا راستہ دکھا دیا۔
Ayah 93:8(93:8) ووجدک عائلا فاغنی۔ اس جملہ کا عطف کلام سابق پر ہے۔
عائلا : عیل وعیلۃ (باب ضرب) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر تنگ دست۔ عیالدار۔ نادار۔ محتاج۔
اغنی : ماضی واحد مذکر غائب اغناء (افعال) مصدر سے۔ اس نے غنی بنادیا۔
امام راغب لکھتے ہیں :۔ ارشاد ہے ووجدک عائلا فاغنی اور تجھ کو فقیر پایا سو غنی کردیا۔ یعنی فقر نفس کا دور کرکے تجھے غناء اکبر عطا کی۔ چناچہ آپ ﷺ نے اس غناء کی طرف اشارہ کرکے فرمایا الغنی عن النفس (کہ اصل غنی تو نفس کی بےنیازی ہے
Ayahs 93:9–10(93:9) فاما الیتیم فلا تقھر : اما بمعنی لیکن یا سو۔ حرف شرط ہے اور اکثر حالت میں تفصیل کے لئے آتا ہے اور کبھی تاکید کے لئے بھی۔ یہاں تفصیل کے لئے آیا ہے۔
لاتقھر فعل نہی کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ تو نہ دبا۔ تو ظلم نہ کر۔ قھر (باب فتح) سے جس کے معنی دوسرے پر غلبہ کرنے۔ دبانے اور ذلیل کرنے کے ہیں۔
قھر کے معنی غلبہ اور تذلیل دونوں ایک ساتھ ملحوظ ہیں اور ان دونوں میں سے ہر ایک معنی میں علیحدہ علیحدہ بھی استعمال ہوتا ہے۔
چناچہ وھو القاھر فوق عبادہ (6:18) (وہی غالب ہے اپنے بندوں پر) میں محض غلبہ کے معنی میں آیا ہے۔ اور آیر زیر مطالعہ میں محض تذلیل کے معنی میں آیا ہے کہ یتیم کو ذلیل مت کرو۔
تفسیر الخازن میں ہے :۔ ای لا تحقر الیتیم فقد کنت یتیما۔ یتیم کی تحقیر مت کرو آپ بھی تو یتیم تھے ۔
یہاں سے اخیر سورة تک معترضہ جملے ہیں۔ یا رسول اللہ ﷺ کے یتیم اور عائل یعنی نادار ہونے کا ذکر کرکے ذیل میں یتیم اور سائل کے احکام کا ذکر کردیا۔ (تفسیر مظہری)
Ayah 93:11(93:11) واما بنعمۃ ربک فحدث واؤ عاطفہ، اما (ملاحظہ ہو 93:9 مذکورہ بالا) نعمۃ۔ انعامات۔ مضاف ، ربک مضاف مضاف الیہ مل کر نعمۃ کا مضاف الیہ ۔
حدث فعل امر واحد مذکر حاضر کا صیغہ ، تحدث (تفعیل) مصدر سے۔ تو بیان کر تو بیان کرتا رہ۔ شکر ادا کر۔ یا ۔ کرتارہ۔
نعمتوں سے کیا مراد ہے ؟ تین نعمتیں تو اوپر بیان ہوئیں ۔ (1) یتیمی میں سہارے کا بندوبست۔ (2) راہ حق کی طلب میں راہ نمائی۔ (3) تنگ دستی سے خلاصی دلا کرکے غنی بنادینا۔
علاوہ ازیں بعض کے نزدیک فھدی میں ہدایت کی نعمت سے مراد نبوت ہے۔ جو بلاشبہ بہت بڑی نعمت ہے۔ ان کے علاوہ اور ان گنت نعمتیں جو پروردگار عالم نے اپنے حبیب ﷺ پر ہر طرف سے نش اور کیں ان سب نعمتوں کے شکر ادا کرنے کا حکم ہو رہا ہے