Ayahs 93:1–37 روایات صحیحہ میں ہے کہ جبرائیل (علیہ السلام) دیر تک رسول اللہ ﷺ کے پاس نہ آئے (یعنی وحی قرآنی بند رہی) مشرکین کہنے لگے کہ (لیجئے) محمد ﷺ کو اس کے رب نے رخصت کردیا۔ اس کے جواب میں یہ آیات نازل ہوئیں میرا گمان یہ ہے (واللہ اعلم) کہ یہ زمانہ فترت الوحی کا ہے جب سورة " اقراء " کی ابتدائی آیات نازل ہونے کے بعد ایک طویل مدت تک وحی رکی رہی تھی اور حضور ﷺ خود اس فترت کے زمانہ میں سخت مغموم و مضطرب رہتے تھے، تاآنکہ فرشتہ نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے " یا ایھا المدثر " کا خطاب سنایا۔ اغلب ہے کہ اس وقت مخالفوں نے اس طرح کی چہ میگوئیاں کی ہوں۔ چناچہ ابن کثیر (رح) عنہ نے محمد بن اسحاق وغیرہ سے جو الفاظ نقل کئے ہیں وہ اسی احتمال کی تائید کرتے ہیں۔ ممکن ہے اسی دوران میں وہ قصہ بھی پیش آیا ہو جو بعض احادیث صحیحہ میں بیان ہوا ہے کہ ایک مرتبہ حضور ﷺ بیماری کی وجہ سے دو تین رات نہ اٹھ سکے، تو ایک (خبیث) عورت کہنے لگی۔ اے محمد ! معلوم ہوتا ہے تیرے شیطان نے تجھ کو چھوڑ دیا ہے (العیاذباللہ) غرض ان سب خرافات کا جواب سورة " والضحی " میں دیا گیا ہے۔ پہلے قسم کھائی دھوپ چڑھتے وقت کی اور اندھیری رات کی۔ پھر فرمایا کہ (دشمنوں کے سب خیالات غلط ہیں) نہ تیرا رب تجھ سے ناراض اور بیزار ہوا نہ تجھ کو رخصت کیا۔ بلکہ جس طرح ظاہر میں وہ اپنی قدرت و حکمت کے مختلف نشان ظاہر کرتا، اور دن کے پیچھے رات اور رات کے پیچھے دن کو لاتا ہے، یہی کیفیت باطنی حالات کی سمجھو۔ اگر سورج کی دھوپ کے بعد رات کی تاریکی کا آنا اللہ کی خفگی اور ناراضگی کی دلیل نہیں، اور نہ اس کا ثبوت ہے کہ اس کے بعد دن کا اجالا کبھی نہ ہوگا۔ تو چند روز نور وحی کے رکے رہنے سے یہ کیونکر سمجھ لیا جائے کہ آجکل خدا اپنے منتخب کیے ہوئے پیغمبر سے خفا اور ناراض ہوگیا اور ہمیشہ کے لئے وحی کا دروازہ بند کردیا ہے۔ ایسا کہنا تو خدا کے علم محیط اور حکمت بالغہ پر اعتراض کرنا ہے۔ گویا اسے خبر نہ تھی کہ جس کو میں نبی بنا رہا ہوں وہ آئندہ چل کر اس کا اہل ثابت نہ ہوگا ؟ العیاذباللہ۔
Ayah 93:48 یعنی آپ ﷺ کی پچھلی حالت پہلی حالت سے کہیں ارفع واعلیٰ ہے وحی کی یہ چند روزہ رکاوٹ آپ ﷺ کے نزول و انحطاط کا سبب نہیں بلکہ بیش از بیش عروج و ارتقاء کا ذریعہ ہے اور اگر پچھلی سے بھی پچھلی حالت کا تصور کیا جائے۔ یعنی آخرت کی شان و شکوہ کا، جبکہ آدم اور آدم کی ساری اولاد آپ ﷺ کے جھنڈے تلے جمع ہوگی۔ تو وہاں کی بزرگی اور فضیلت تو یہاں کے اعزازو اکرام سے بیشمار درجہ بڑھ کر ہے۔
Ayah 93:59 یعنی ناراض اور بیزار ہو کر چھوڑ دینا کیسا، ابھی تو تیرا رب تجھ کو (دنیاو آخرت میں) اس قدر دولتیں اور نعمتیں عطا فرمائے گا کہ تو پوری طرح مطمئن اور راضی ہوجائے۔ حدیث میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ محمد راضی نہیں ہوگا جب تک اس کی امت کا ایک آدمی بھی دوزخ میں رہے
Ayah 93:610 حضرت محمد ﷺ کی ولادت باسعادت سے پہلے ہی آپ ﷺ کی والد وفات پاچکے تھے۔ چھ سال کی عمر تھی کہ والدہ نے رحلت کی۔ پھر آٹھ سال کی عمر میں تک اپنے دادا (عبدالمطلب) کی کفالت میں رہے۔ آخر اس دُرِ یتیم اور نادرہ روزگار کی ظاہری تربیت و پرورش کی سعادت آپ ﷺ کے بیحد شفیق چچا ابو طالب کے حصہ میں آئی۔ انہوں نے زندگی بھر آپ ﷺ کی نصرت و حمایت اور تکریم و تبجیل میں کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھا۔ ہجرت سے کچھ پہلے وہ بھی دنیا سے رخصت ہوئے۔ چند روز بعد یہ امانت الہٰی اللہ کے حکم سے انصار مدینہ کے گھر پہنچ گئی۔ " اوس " اور " خزرج " کی قسمت کا ستارہ چمک اٹھا۔ اور انہوں نے اس کی حفاظت اس طرح کی جس کی نظیر چشم فلک نے کبھی نہ دیکھی ہوگی۔ یہ سب صورتیں درجہ بدرجہ ایواء کے تحت میں داخل ہیں۔ کما اشار الیہ ابن کثیر رحمہ اللّٰہ۔
Ayah 93:711 جب حضور ﷺ جوان ہوئے، قوم کے مشرکانہ اطوار اور بیہودہ رسم و راہ سے سخت بیزار تھے اور قلب میں خدائے واحد کی عبادت کا جذبہ پورے زور کے ساتھ موجزن تھا۔ عشق الہٰی کی آگ سینہ مبارک میں بڑی تیزی سے بھڑک رہی تھی۔ وصول الی اللہ اور ہدایت خلق کی اس اکمل ترین استعداد کا چشمہ جو تمام عالم سے بڑھ کر نفس قدسی میں ودیعت کیا گیا تھا۔ اندرہی اندر جوش مارتا تھا، لیکن کوئی صاف کھلا ہوا راستہ اور مفصل راستہ اور مفصل دستور العمل بظاہر دکھائی نہ دیتا تھا جس سے اس عرش و کرسی سے زیادہ وسیع قلب کو تسکین ہوتی۔ اسی جوش طلب اور فرط محبت میں آپ ﷺ بےقرار اور سرگرداں پھرتے اور غاروں اور پہاڑوں میں جا کر مالک کو یاد کرتے اور محبوب حقیقی کو پکارتے۔ آخر اللہ تعالیٰ نے " غارِحرا " میں فرشتہ کو وحی دے کر بھیجا اور وصول الی اللہ اور اصلاح خلق کی تفصیلی راہیں آپ ﷺ پر کھول دیں۔ یعنی دین حق نازل فرمایا۔ (مَا كُنْتَ تَدْرِيْ مَا الْكِتٰبُ وَلَا الْاِيْمَانُ وَلٰكِنْ جَعَلْنٰهُ نُوْرًا نَّهْدِيْ بِهٖ مَنْ نَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِنَا) 42 ۔ الشوری :52) (تنبیہ) یہاں " ضالا " کے معنی کرتے وقت سورة " یوسف " کی آیت (قَالُوْا تَاللّٰهِ اِنَّكَ لَفِيْ ضَلٰلِكَ الْقَدِيْمِ ) 12 ۔ یوسف :95) کو پیش نظر رکھنا چاہئے۔
Ayah 93:812 اس طرح کہ حضرت خدیجہ ؓ کی تجارت میں آپ ﷺ مضارب ہوگئے۔ اس میں نفع ملا۔ پھر حضرت خدیجہ ؓ نے آپ ﷺ سے نکاح کرلیا اور اپنا تمام مال حاضر کردیا۔ یہ تو ظاہری غناء تھا۔ باقی آپ ﷺ کے قلبی اور باطنی غناء کا درجہ تو وہ غنی عن العالمین ہی جانتا ہے۔ کوئی بشر اس کا کیا اندازہ کرسکے۔ مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ ابتداء سے مورد انعامات رہے ہیں۔ آئندہ بھی رہیں گے۔ جس پروردگار نے اس شان سے آپ ﷺ کی تربیت فرمائی۔ کیا وہ خفا ہو کر آپ ﷺ کو یونہی درمیان میں چھوڑ دیگا۔ استغفراللّٰہ !۔
Ayah 93:91 بلکہ اس کی خبر گیری اور دلجوئی کر۔ جس طرح تم کو یتیمی کی حالت میں اللہ تعالیٰ نے ٹھکانا دیا۔ تم دوسرے یتیموں کو ٹھکانا دو ۔ اسی طرح کے مکارم اخلاق اختیار کرنے سے بندہ اللہ کے رنگ میں رنگا جاتا ہے۔ " صِبْغَةَ اللّٰهِ ۚ وَمَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰهِ صِبْغَةً ۡ حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا۔ " انا وکافل الیتیم کھاتین " " واشار الی السبابۃ والوسطی۔ "
Ayah 93:102 یعنی تم نادار تھے، اللہ تعالیٰ نے غناء عطا فرمایا۔ اب شکر گزار بندے کا حوصلہ یہی ہونا چاہیے کہ مانگنے والوں سے تنگ دل نہ ہو اور حاجتمندوں کے سوال سے گھبرا کر جھڑکنے ڈانٹنے کا شیوہ اختیار نہ کرے۔ بلکہ فراخدلی اور خوش اخلاقی سے پیش آئے۔ احادیث میں سائلین کے مقابلہ پر آپ ﷺ کی وسعت اخلاق کے جو قصے منقول ہیں وہ بڑے سے بڑے مخالف کو آپ ﷺ کے اخلاق کا گرویدہ بنا دیتے ہیں (تنبیہ) صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ سائل کے زجر کی ممانعت اس صورت میں ہے جب وہ نرمی سے مان جائے۔ ورنہ اگر اڑی لگا کر کھڑا ہوجائے اور کسی طرح نہ مانے اس وقت زجر جائز ہے۔
Ayah 93:113 محسن کے احسانات کا بہ نیت شکر گذاری (نہ بقصد فخرو مباہات) چرچا کرنا شرعاً محمود ہے۔ لہذا جو انعامات اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ پر فرمائے ان کو بیان کیجئے۔ خصوصاً وہ نعمت ہدایت جس کا ذکر " ووجدک ضالافھدی " میں ہوا۔ اس کا لوگوں میں پھیلانا اور کھول کھول کر بیان کرنا تو آپ ﷺ کا فرض منصبی ہے۔ شاید آپ ﷺ کے ارشادات وغیرہ کو جو حدیث کہا جاتا ہے۔ وہ اسی لفظ فحدث سے لیا گیا ہو۔ واللہ اعلم۔