Ad-Dhuhaa 93:2

Ad-Dhuhaa · from ayah 2

93:2

وَالَّیْلِ اِذَا سَجٰی ۟ۙوَالَّيۡلِ اِذَا سَجٰىۙ

اور رات (کی تاریکی) کی جب چھا جائے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And [by] the night when it covers with darkness,

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 18 of juz

Read the whole surah · Surah Ad-Dhuhaa

All translations of 93:2

اور رات کی جبکہ وہ سکون کے ساتھ طاری ہو جائے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور رات (کی تاریکی) کی جب چھا جائے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور قسم ہے رات کی جب چھا جائے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور رات کی جب اس کا اندھیرا بیٹھ جائے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور رات کی جب پردہ ڈالے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور قَسم ہے رات کی جب وہ چھا جائے۔ (یا:- اے حبیبِ مکرّم!) قَسم ہے سیاہ رات کی (طرح آپ کی زلفِ عنبریں کی) جب وہ (آپ کے رُخ زیبا یا شانوں پر) چھا جائے)۔ (یا:- قَسم ہے رات کی (طرح آپ کے حجابِ ذات کی) جب کہ وہ (آپ کے نورِ حقیقت کو کئی پردوں میں) چھپائے ہوئے ہے)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور رات کی جب وہ چھا جائے !

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور رات کی جب وہ سنسان ہوجائے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور شاہد ہے رات جب پرسکون ہوجاتی ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور رات کی جب کہ وہ چھا جائے

— مولانا اسحاق مدنی

اور رات کی جب وہ قرار پکڑے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

قسم ہے رات کی جبکہ وہ سکون کے ساتھ چھا جائے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور رات کی تاریکی کی جب چھپ جائے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

and by the night when it covers the world with peace:

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and by the night when it becomes peaceful,

— Muhammad Taqi Usmani

and by the night when it becomes peaceful,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

By the night when it darkens.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And [by] the night when it covers with darkness,

— Saheeh International

and by the calm of night,

— Muhammad Sarwar

And the night when it covers with darkness.

— Muhammad Habib Shakir

By the night when it darkeneth,

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 93:2

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–11

مسند احمد میں ہے کہ حضور ﷺ بیمار ہوگئے اور ایک یا دو راتوں تک آپ تہجد کی نماز کے لیے نہ اٹھ سکے تو ایک عورت کہنے لگی کہ تجھے تیرے شیطان نے چھوڑ دیا اس پر یہ اگلی آیتیں نازل ہوئیں (بخاری مسلم وغیرہ) حضرت جندب فرماتے ہیں کہ جبرائیل کے آنے میں کچھ دیر ہوئی تو مشرکین کہنے لگے کہ یہ تو چھوڑ دئیے گئے تو اللہ تعالیٰ نے والضحٰی سے ماقلفی تک کی آیتیں اتاریں، اور روایت میں ہے کہ حضور ﷺ کی انگلی پر پتھر مارا گیا تھا جس سے خون نکلا اور جس پر آپ نے فرمایا : ھل انت الا اصبع دمیت وفی سبیل اللہ ما لقیت یعنی تو صرف ایک انگلی ہے اور راہ اللہ میں تجھے یہ زخم لگا ہے۔ طبعیت کچھ ناساز ہوجانے کی وجہ سے دو تین رات…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الضُّحٰی 2 اصل میں رات کے لیے سجی استعمال ہوا ہے جس میں صرف تاریکی چھانے ہی کا نہیں بلکہ سکوت اور سکون طاری ہوجانے کا مفہوم بھی شامل ہے۔ رات کی اس صفت کا اس مضمون سے گہرا تعلق ہے جو آگے بیان ہو رہا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–3

خلاصہ تفسیر قسم ہے دن کی روشنی کی اور رات کی جب کہ وہ قرار پکڑے (قرار پکڑنے کے دو معنی ہو سکتے ہیں ایک حقیقی یعنی اس کی ظلمت کا کامل ہوجانا کیونکہ رات میں اندھیری رفتہ رفتہ بڑھتی ہے، کچھ رات گزرنے پر مکمل ہوجاتی ہے، دوسرے مجازی یعنی جانداروں کا اس میں سو جانا اور چلنے پھرنے اور بولنے چالنے کی آوازوں کا ساکن ہوجانا، آگے جواب قسم ہے) کہ آپ کے پروردگار نے نہ آپ کو چھوڑا اور نہ آپ سے بیزار ہوا (کیونکہ اول تو آپ سے کوئی بات ایسی نہیں ہوئی دوسرے حضرات انبیاء (علیہم السلام) کو اللہ تعالیٰ نے اس سے محفوظ و معصوم بنایا ہے۔ پس آپ کفار کے خرافات و لغویات سے محزون حضرات انبیاء (علیہم السلام) کو اللہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 1–2

’ضُحٰی‘ چاشت کے وقت کو کہتے ہیں جب دن کی سرگرمیوں کا آغاز ہوتا اور انسان رات میں آرام کے بعد، ازسرنو تازہ دم ہو کر، جدوجہد کے میدان میں اترتا ہے۔ رات اور دن کی باہمی سازگاری: رات کی شہادت قرآن میں، موقع کی مناسبت سے، مختلف پہلوؤں سے پیش کی گئی ہے جن کی وضاحت ان کے محل میں ہو چکی ہے۔ یہاں اس کے ساتھ ’اِذَا سَجٰی‘ کی قید لگی ہوئی ہے۔ ’سَجٰی‘ کے معنی ’رَکَد‘ اور ’سَکَن‘ یعنی ٹک جانے اور ساکن ہو جانے کے آتے ہیں جس سے معلوم ہوا کہ یہاں رات کا وقت پیش نظر ہے جب وہ دن کے شور و شغب اور ابتدائے شب کے ہنگاموں سے نکل کر اچھی طرح ٹک جاتی اور انسان کو سکون و راحت بخشنے کے قابل بن جاتی ہے۔ گویا لفظ ’ضُحٰی‘…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

2۔ 1 جب ساکن ہوجائے، یعنی جب اندھیرا مکمل چھا جائے، کیونکہ اس وقت ہر چیز ساکن ہوجاتی ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 1–2

والضحیٰ............................ فترضیٰ اللہ تعالیٰ ان دو خوبصورت اوقات کی قسم اٹھاتا ہے جن میں غوروفکر کے بہتر اور زیادہ مواقع ہوتے ہیں۔ یہ اوقات ہی اپنے اندر اشارات رکھتے ہیں۔ یوں اس کائنات کے مظاہر اور نفس انسانی کے درمیان ایک ربط پیدا کردیا جاتا ہے ، اور قلب بشری کو یہ اشارہ دیا جاتا ہے کہ یہ خوبصورت کائنات ایک روح رکھتی ہے ، جو نفس انسانی کے ساتھ ہمقدم ہوکر چلتی ہے ، اور یہ ورح ہر زندہ مخلوق کے ساتھ ایک گونہ محبت رکھتی ہے ، اس طرح ہر زندہ دل ، اس کائنات کے اندر نہایت ہی انس و محبت کے ساتھ زندہ رہتا ہے ، وہ اس میں اجنبی نہیں ہوتا اور نہ پریشان ہوتا ہے۔ اور اس سورت میں اس کائنات کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 1–3

7 روایات صحیحہ میں ہے کہ جبرائیل (علیہ السلام) دیر تک رسول اللہ ﷺ کے پاس نہ آئے (یعنی وحی قرآنی بند رہی) مشرکین کہنے لگے کہ (لیجئے) محمد ﷺ کو اس کے رب نے رخصت کردیا۔ اس کے جواب میں یہ آیات نازل ہوئیں میرا گمان یہ ہے (واللہ اعلم) کہ یہ زمانہ فترت الوحی کا ہے جب سورة " اقراء " کی ابتدائی آیات نازل ہونے کے بعد ایک طویل مدت تک وحی رکی رہی تھی اور حضور ﷺ خود اس فترت کے زمانہ میں سخت مغموم و مضطرب رہتے تھے، تاآنکہ فرشتہ نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے " یا ایھا المدثر " کا خطاب سنایا۔ اغلب ہے کہ اس وقت مخالفوں نے اس طرح کی چہ میگوئیاں کی ہوں۔ چناچہ ابن کثیر (رح) عنہ نے محمد بن اسحاق وغیرہ سے جو الفاظ نقل…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 1–2

آیت 2{ وَالَّیْلِ اِذَا سَجٰی۔ } ”قسم ہے رات کی جبکہ وہ سکون کے ساتھ چھا جائے۔“ رات میں اندھیرا اور سکون ہے ‘ جبکہ دن اجالے اور حرکت کا مظہر ہے۔ ان دو آیات میں رات اور دن کی متضاد خصوصیات کو اس فرمان پر بطور شہادت پیش کیا گیا کہ :

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 1–2

1 سَجٰی کا لغوی مفہوم :۔ (سَجٰی) یعنی رات کا سنسان اور خاموش ہونا، نیز اس لفظ میں دوسری چیزوں کو چھپا لینے کا تصور بھی پایا جاتا ہے۔ خواہ یہ تصور ظاہری طور پر ہو جیسے سَجَی الْمَیّت بمعنی میت پر چادر ڈال کر اسے چھپا دینا یا معنوی طور پر ہو جیسے سَج معائب اخیک بمعنی اپنے بھائی کے عیبوں کو چھپاؤ۔ گویا اس لفظ میں پرسکون ہونے اور چھپانے کے دونوں معنی پائے جاتے ہیں۔ یعنی رات کا اتنا حصہ گزر چکا ہو کہ سب لوگ سو چکے ہوں اور تاریکی بھی پوری طرح چھا چکی ہو۔ پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے چاشت کے وقت کی قسم کھائی ہے۔ جب سورج بلند ہوچکا ہوتا ہے اور لوگ اپنے اپنے کام کاج میں مشعول ہوجاتے ہیں۔ اور یہ وقت اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 1–2

1۔ یعنی دن کی خوب پھیلی ہوئی روشنی اور رات کی خوب گہری تاریکی، دونوں اس حقیقت پر جو ابھی آگے آرہی ہے، زبان حال سے شہادت دے رہی ہیں۔ (آیت) ” سجی “۔ کے (2) مفہوم ہیں، ایک یہ کہ رات کی تاریکی خوب گہری ہوجائے، دوسرا یہ کہ اس میں ہر جاندار کی آوازیں چلنے پھرنے، بولن چالنے کی ساکن ہوجائیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–3

ترجمہ :۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، قسم ہے شروع دن کی یا پورے دن کی اور قسم ہے رات کی جب وہ اپنی تاریکی کے ساتھ چھا جائے یا پرسکون ہوجائے (اے محمد ﷺ ! ) تمہارے رب نے تم کو ہرگز نہیں چھوڑا اور نہ وہ آپ سے ناراض ہوا یہ سورت اس وقت نازل ہوئی جب آپ ﷺ سے پندرہ روز تک وحی کا سلسلہ منقطع ہوگیا تو کفار نے کہا تھا کہ : محمد ﷺ کو تو اس کے رب نے چھوڑ دیا اور اس سے نارضا ہوگیا اور یقینا آپ ﷺ کے لئے آخرت دنیا سے بہتر ہے اس لئے کہ آخرت میں (آپ ﷺ کے لئے) عظمتیں ہیں اور عنقریب یقینا آپ ﷺ کا رب آپ ﷺ کو آخرت میں خیر سے اور بےانتہا انعامات سے نوازے گا، کہ آپ ﷺ اس سے خوش…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

واللیل اذا سجی . اور رات کی قسم جب وہ چھا جائے۔ اذا ظرفیہ فعل قسم محذوف سے متعلق ہے یا لیل سے پہلے مضاف محذوف ہے یعنی حصول اللیل حصول سے اذا کا تعلق ہے یا اللیل کی صفت ہے لیکن بتقدیر مضاف یا اذا ظرفیہ نہیں ہے بلکہ وقت کے معنی میں ہے۔ سَجٰی کا ترجمہ حسن نے کیا ہے : اقبل بظلام ‘ تاریکی کو لے کر آئے یعنی تاریکی کے ساتھ آتی رات کی قسم۔ عوفی کی روایت میں حضرت ابن عباس کا یہی قول آیا ہے۔ والبی نے ذَھَبَ ترجمہ کیا۔ یعنی جاتی رات کی قسم۔ عطاء اور ضحاک نے کہا : رات کی قسم جب ہر چیز کو وہ اپنی تاریکی سے ڈھانک لے۔ مجاہد نے کہا : بالکل ٹھیک ہوجائے۔ قتادہ اور ابن سکن نے کہا : جب اس کی تاریکی ٹھہر جائے کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 1–5

(1۔ 5) قسم ہے پورے دن کی اور رات کی جب کہ وہ تاریک اور سیاہ ہوجائے، جس وقت سے اللہ تعالیٰ نے آپ کے پاس وحی بھیجی ہے نہ آپ کو چھوڑا ہے اور نہ جب سے آپ کو محبوب بنایا ہے آپ سے دشمنی کی ہے۔ رسول اکرم ﷺ انشاء اللہ کہنا بھول گئے تھے تو اس کے بعد پندرہ روز تک وحی آنا بند رہی۔ تو اس وقت کافر کہنے لگے کہ آپ کے پروردگار نے آپ کو چھوڑ دیا ہے اور آپ سے دشمنی کرلی ہے اس وقت یہ آیات نازل ہوئیں اور آخرت کا ثواب آپ کے لیے ثواب دنیا سے بدرجہا بہتر ہے، اور اللہ تعالیٰ آپ کو آخرت میں مقام شفاعت ہی عطا فرمائے گا کہ جس سے آپ خوش ہوجائیں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 1–3

(1) والضحی ، والیل اذا سجی …”الضحی ‘ ‘ سورج طلوع ہونے کے بعد جب پوری طرح روشن ہوجاتا ہے۔ ”سجی“ ”سجا یسجو سجوا“ (ن) پر سکون ہونا۔ ”ودع“ ”ودع یدع“ (چھوڑنا) سے باب تفعیل ہے جو چھوڑنے میں مبالغے کا معین رکھتا ہے۔ ”قلی““ ”قلی یقلی قلی وقلاء“ (ض ، س)”الرجل ابغضہ“ کسی سے بغض رکھنا۔ (2) جندب بن سفیان ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ بیمار ہوگئے تو دو یا تین رتایں (تہجد کے لئے) نہ اٹھے۔ ایک عورت ائٓی اور کہنے لگی :”اے محمد ! مجھے امید ہے کہ تمہارا شیطان تمہیں چھوڑ گیا ہے، دو تین راتوں سے میں نے اسے تمہارے پاس آتے نہیں دیکھا۔“ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل فرمائی۔ (بخاری، التفسیر، باب قولہ :(ماودع ربک و…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 1–3

تفسیر 1 تا 3۔ والضحیٰ ، والیل اذا سجیٰ ۔ الضحیٰ کے بارے میں گفتگو گزرچکی ہے اس سے مراد دن ہے کیونکہ اس کے مقابل اللیل ہے اور سورة اعراف میں ہے، افامن اھل القری ان یاتیھم باسنا بیاتا وھم نائمون۔ اوامن اھل القری ان یاتیھم باسنا ضحی وھم یلعبون۔ (اعراف) کیا بستیوں والے اس سے بےخوف ہوگئے ہیں کہ ہمارا عذاب انہیں رات کو پہنچے جب کہ وہ سوئے ہوئے ہوں یابستیوں والے بےخوف ہوگئے ہیں کہ ہمارا عذاب دن کو پہنچے جب کہ وہ سوئے ہوئے ہوں یابستیوں والے بےخوف ہوگئے ہیں کہ ہمارا عذاب دن کو پہنچے جب کہ وہ کھیل کود میں مصروف ہوں قتادہ، مقاتل اور مام صادق نے کہا، اللہ تعالیٰ نے اس چاشت کے وقت کی قسم اٹھائی جس میں…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

14۔ فریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت والیل اذا سجی سے مراد ہے اذا استوی جب وہ رات چھا جائے۔ 15۔ عبدالرزاق نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آتی اذا سجی جب وہ لوگوں کو چھپالے۔ 16۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت اذا سجی یعنی جب وہ آجائے۔ 17۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے آیت والیل اذا سجی کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد ہے قسم ہے رات کی جب وہ آجائے اور ہر چیز کو ڈھانک لے۔ 18۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابن المنذر وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت اذا سجی۔ جب رات چلی گئی۔ یعنی جب وہ چلی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَالَّيْلِ اِذَا سَـجٰى: اور قسم ہے رات کی جب سناٹا ہوجاتا ہے ] س ج و [سَجْوًا : (ن) رات کا پرسکون ہونا۔ سنسان ہونا۔ خاموش ہونا۔ پھر اس سے مراد لیتے ہیں رات کا چھا جانا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 2 ۔ (اس کا مادہ ناقص واوی ہے اور اس کا ماضی کا صیغہ سجا یا ییلکھا جاتا ہے یہاں اس کو سبحیٰ (ناقص پاپی کی طرح لکھنا قرآن کا مخصوص املا ہے) ترکیب : (آیت۔ 2) سَبحٰی ماضی ہے لیکن اِذَا کی وجہ سے ترجمہ حال میں ہوگا۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 1–3

اوپر سورة الضحیٰ کا ترجمہ لکھا گیا ہے یہ سورة مکہ معظمہ میں نازل ہوئی اس کے سبب نزول کے بارے میں معالم التنزیل میں ایک تو یہ لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بیماری کی وجہ سے دو تین رات نماز نہیں پڑھی یعنی نماز تہجد ناغہ ہوگیا، ایک عورت (فتح الباری میں ہے کہ یہ بات ابو لہب کی بیوی ام جمیل نے کہی تھی) نے کہا کہ بس جی سمجھ میں آگیا کہ جو شیطان ان کے پاس آتا تھا اس نے ان کو چھوڑ دیا، دو تین رات سے قریب نہیں آیا اور ایک بات یہ لکھی ہے کہ یہودیوں نے رسول اللہ ﷺ سے ذوالقرنین، اصحاب کہف اور روح کے بارے میں دریافت کیا تھا۔ آپ نے فرمایا کہ کل کو بتاؤں گا انشاء اللہ کہنا رہ گیا تھا لہٰذا چند دن تک وحی نازل…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–11

انعامات خاصہ : برذات اقدس نبی کریم علیہ الصلوۃ والتسلیم وامر باواء شکر : قال اللہ تعالیٰ (آیت) ” والضحی والیل اذا سجی ......... الی ......... واما بنعمۃ ربک فحدث “۔ (ربط) گزشتہ چند سورتوں میں آنحضرت ﷺ کی نبوت و رسالت کو ثابت کیا گیا تھا اور ایمان کا دارومدار آخرت پر ایمان یقین کی شکل میں ہے تو اس کے دلائل بھی ذکر فرما دیئے گئے اب اس سورت میں ان خصوصی انعامات کا ذکر ہے جن سے آنحضرت ﷺ کی ذات اقدس کو سرفراز فرمایا گیا اور ان انعامات کے ضمن میں آپ کی رسالت کے دلائل بھی ذکر کردئیے گئے اور جن خاص کمالات اور اخلاق حسنہ سے پیغمبر کی ذات متصف ہونی چاہئے، ان کو بھی بیان کردیا گیا، ارشاد ہے۔ قسم ہے دھوپ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 1–3

2:۔ ” والضحیٰ “ جمہور مفسرین نے لکھا ہے کہ کسی مصلحت سے چند دن جبریل (علیہ السلام) وحی لے کر نہ آئے تو مشرکین نے کہنا شروع کردیا کہ محمد ﷺ کا خدا اس سے ناراض ہوگیا ہے اور اس نے اس کو چھوڑ دیا ہے۔ اس پر یہ سورت نازل ہوئی جس میں مشرکین کی خرافات کا جواب دیا گیا اور آنحضرت ﷺ کو تسلی دی گئی کہ اللہ تعالیٰ نہ آپ سے ناراض ہوگیا ہے اور نہ اس نے آپ کو چھوڑ ہی دیا ہے۔ (خازن، ابن کثیر، کبیر وغیرہ) ۔ ” الضحیٰ “ چاشت کا وقت، دن کا اجالا۔ ” سجی “ ای غطی بظلامہ (جلالین) ہر چیز کو اپنی تاریکی میں چھپا لے روز روشن اور شب تاریک شاہد اور گواہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے نہ آپ کو چھوڑ دیا ہے اور نہ وہ آپ سے ناراض…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–4

مضمون سورة سورۃ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے ان بیہودہ خیالات اور طعن وتشنیع کی تردید فرمائی ہے۔ جن کا ذکر اوپر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ کے ان انعامات کا ذکر کیا ہے۔ جو اس نے اپنے پیغمبر علیہ اسللام پر کئے اور آخر میں ان انعامات کا شکریہ ادا کرنے کا ذکر ہے۔ نیز حضور ﷺ کو تسلی دی گئی کہ آپ مخالفین کی ان باتوں سے دل برداشتہ نہ ہو۔ ان کا توشیہ ہی ایذاء رسانی ہے۔ اس طرح آپ کو تسلی دی گئی ہے۔ ضحی اور اشراق ابتداء میں دن اور رات کی قسمیں کھا کر بات کو واضح کیا گیا ہے۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے والضحی قسم ہے دھوپ چڑھتے وقت کی ضحیٰ دن کے اس حصے کو کہتے ہیں۔ جب دن خوب روشن ہوجاتا ہے۔ یعنی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَالَّيْلِ اِذَا سَـجٰى۝ 2 ۙ ليل يقال : لَيْلٌ ولَيْلَةٌ ، وجمعها : لَيَالٍ ولَيَائِلُ ولَيْلَاتٌ ، وقیل : لَيْلٌ أَلْيَلُ ، ولیلة لَيْلَاءُ. وقیل : أصل ليلة لَيْلَاةٌ بدلیل تصغیرها علی لُيَيْلَةٍ ، وجمعها علی ليال . قال اللہ تعالی: وَسَخَّرَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهارَ [إبراهيم/ 33] ( ل ی ل ) لیل ولیلۃ کے معنی رات کے ہیں اس کی جمع لیال ولیا ئل ولیلات آتی ہے اور نہایت تاریک رات کو لیل الیل ولیلہ لیلاء کہا جاتا ہے بعض نے کہا ہے کہ لیلۃ اصل میں لیلاۃ ہے کیونکہ اس کی تصغیر لیلۃ اور جمع لیال آتی ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ إِنَّا أَنْزَلْناهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ [ القدر/ 1] ہم نے اس قرآن کو شب قدر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–5

ترکیب ¦ والضحٰی الوا وللقسم وھو اول النھار اذا تجلٰی وارتفعت الشمس وقیل المراد بہ النھار کلہ مجازًا من اطلاق الجزاء و ارادۃ الکل بدلیل مقابلۃ بالیل اذا سجیٰ والیل عطف علیہ اذا العامل فیہ معنی القسم سجٰی ای سکن قالہ قتادہ و مجاھد و ابن زید و عکرمۃ وغیرھم یقال لیلۃ ساجیۃ ای ساکنۃ ویقال سجا الشیء یسجو سجوًا اذا سکن وعن ابن الاعرابی سجٰی امتد ظلامہ وقال الاصمعی سجو اللیل تعظیۃ النھار ما ودعک الخ ھذا جواب القسم قر۔ الجمہور بتشدید الدال من التودیع وقری ٔ بتخفیفھا من قولھم ودعہ ترکہ وما قلی عطف علیٰ ماودعک وانقلاء البغض یقال قلاہ یقلیہ قلاً ولم یقل ما قلاک لموافقۃ روس الآیٔ وللاخرۃ اللام جواب قسم…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 1–2

وَالضُّحٰی۔ وَالَّیْلِ اِذَا سَجٰی۔ (الضحیٰ : 1، 2) (قسم ہے روز روشن کی۔ اور رات کی جب وہ سکون کے ساتھ چھا جائے۔ ) ضُحٰی اور سَجٰی کا مفہوم ضُحٰی چاشت کے وقت کو کہتے ہیں کیونکہ اس وقت سورج پوری آب و تاب سے چمکنے لگتا ہے۔ لیکن جب اس کا استعمال رات کے مقابلہ میں کیا جائے تو اس وقت اس سے مراد صرف چاشت کا وقت نہیں بلکہ سارا دن ہوتا ہے۔ اہل لغت بھی اور اکثر آئمہ ٔ تفسیر بھی اسی کی تائید میں ہیں۔ اور قرآن کریم نے بھی سورة الاعراف میں اسی معنی میں اس لفظ کو استعمال کیا ہے۔ ارشاد ہے اَفَاَمِنَ اَہْلُ الْقُرٰی اَنْ یَّاتِیَھُمْ بَاسُنَا بَیَاتًا وَّھُمْ نَائِمُوْنَ اَوَاَمِنَ اَہْلُ الْقُرٰی اَنْ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–5

فہم القرآن ربط سورت : سورة الّیل کے آخر میں نیک لوگوں کے بہتر انجام کا ذکر فرمایا اور سورة الضّحٰی میں تین قسمیں کھانے کے بعد نبی ﷺ کی ذات کے حوالے سے بتلایا ہے کہ آپ کی زندگی کا آنے والا دور پہلے دور سے بہتر ہوگا مقصد یہ ہے جو شخص نیک کام کرے گا اللہ تعالیٰ اس کی دنیا اور آخرت بہتر کردیں گے۔ الضّحٰی کا معنٰی ہے روشن دن اور سجٰی رات کے اس وقت کو کہتے ہیں جب رات اپنی تاریکی اور سکون کے ساتھ ہر چیز پر چھا جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان اوقات کی قسمیں اٹھا کر اس بات کی وضاحت فرمائی ہے کہ آپ ﷺ کے رب نے آپ کو نہ چھوڑا ہے اور نہ آپ پر ناراض ہوا ہے، چھوڑنا اور ناراض ہونا تو درکنار اس نے آپ کی زندگی کا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

2 : وَالَّیْلِ اِذَا سَجٰی (اور رات کی جبکہ وہ قرار پکڑنے) سجیؔ سکن : ٹھہرنا، قرار پکڑنا، مرادلوگوں اور آوازوں کا سکون پکڑنا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

2 ۔” واللیل اذا سجیٰ “ حسن (رح) فرماتے ہیں اپنی تاریکی کے ساتھ آئے اور یہی عوفی کی ابن عباس ؓ سے روایت ہے اور والبی کی ان سے روایت ہے کہ جب چلی جائے۔ عطاء اور ضحاک رحمہما اللہ فرماتے ہیں ہر چیز کو تاریکی کے ساتھ ڈھانپ لے اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں برابر ہوجائے اور قتادہ اور ابن زید رحمہما اللہ فرماتے ہیں ساکن ہوجائے اور اس کا اندھیرا ٹھہر جائے اس کے بعد نہ بڑھے۔ کہا جاتا ہے ” لیل ساج وبحر ساج “ جب وہ ساکن ہو۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–11

1۔ 11۔ اگرچہ مفسروں نے اس سورة کی شان نزول میں طرح طرح کی باتیں لکھی ہیں سب سے زیادہ صحیح شان نزول وہی ہے جس کا ذکر صحیحین 1 ؎ کی جندب ؓ کی روایت میں ہے کہ حضرت ﷺ ہجرت سے پہلے مکہ میں کچھ بیمار ہوگئے تھے اس بیماری کے سبب سے دو تین راتوں تک آپ تہجد کی نماز کو نہیں اٹھے یہ دیکھ کر ام جمیل ابو لہب کی بی بی نے کہا محمد کے رب نے محمد کو چھوڑ دیا۔ اس لئے انہوں نے رات کو اٹھنا بند کردیا۔ ام جمیل کی اس بات سے آنحضرت ﷺ کو رنج ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کے رنج رفع ہوجانے کی غرض سے یہ سورة نازل فرمائی اور فرمایا کہ اے نبی اللہ کے ‘ نہ اللہ نے تم کو چھوڑ دیا ہے نہ وہ تم سے کچھ خفا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–2

اللہ تبارک وتعالی نے اپنے رسول کے لیے اپنی عنایت پر دن کی قسم کھائی ہے جب چاشت کے وقت اس کی روشنی پھیل جائے اور رات کی قسم کھائی ہے جب وہ ٹھہر جائے اور اس کی تاریکی چھا جائے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

2 ۔ رات کی قسم جبکہ وہ چھا جائے : سو ارشاد فرمایا گیا " اور قسم ہے رات کی جبکہ وہ چھا جائے " یعنی وہ چھا جائے سب مخلوق پر اور وہ اپنی سیاہ چادر تان لے ان سب پر، تاکہ یہ اس کے فرحت بخش سکون میں آرام کرسکیں اور اس میں سو کر وہ ن بھر کی اپنی ساری تکان دور کرسکیں، اور اپنی کھوئی ہوئی طاقت کو بحال کر کے تازہ دم ہو کر اٹھ کھڑے ہوں، سو یہ سب کچھ اللہ پاک کی عظیم الشان قرت اور اس کی بےپایاں رحمت و عنایت کا ایک عظیم الشان مظہر بھی ہے، اور بعث بعد الموت کے لیے عملی درس، اور ریہرسل بھی کہ رات کی نیند اور خاموشی موت کے مشابہ ہے اور اس کے بعد دن کو اٹھنے اور چلنے پھرنے کی ہنگامہ خیزی حشر میں اٹھ کھڑے ہونے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–11

اللہ کی رحمتیں اور نبی پاک ﷺ تشریح : بڑی خوبصورت سورت پاک ہے۔ اللہ کی رحمتوں برکتوں ' فضیلتوں ' لطف وکرم اور قدرت و عظمت کا بیان بڑے خوبصورت انداز میں کیا گیا ہے۔ اور اس خاص محبت کا ذکر جو اللہ جل شانہ کو اپنے پیارے رسول ﷺ سے ہے بڑے محبت بھرے انداز میں کی گئی ہے۔ وحی کے رک جانے سے جو آپ ﷺ پریشان ہوئے تو حق تعالیٰ نے آفتاب کی روشنی اور رات کے گھپ اندھیرے کی قسم کھا کر یقین دلایا کہ آپ ﷺ پریشان نہ ہوں جس طرح دن رات کا نظام انسان کے کام اور آرام کا ذریعہ ہے اسی طرح آپ ﷺ کی وحی کے اترنے کا وقفہ محض آپ ﷺ کو اعصابی آرام دینے کے لیے دیا گیا ہے تاکہ آپ ﷺ پر وحی کی وجہ سے جو مشقت پڑتی ہے وہ وقفہ وقفہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–11

سورة الضحی۔ آیات 1 تا 11۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے دن کی روشنی کی اور رات کی جب وہ چھاجاتی ہے یعنی دن کی روشنی اور رات کی تاریکی گواہ ہیں کہ دن کے بعد رات بھی آسکتی ہے پھر خود رات گواہ ہے کہ جب مکمل ہوچکتی ہے تو تاریکی کم ہونے لگتی ہے اور پھر دن آجاتا ہے۔ قبض وبسط۔ یہی حال کیفیات قلب کا بھی ہے کہ کبی واردات بہت تیزا ورروشن ہوتی ہیں یعنی بسط ہوتا ہے اور کبھی قبض کی کیفیت وارد ہوتی ہے اور قبض سے یہ نہیں سمجھاجاسکتا کہ پھر بسط نہ ہوگا چند روز نزول وحی نہ ہواتوکفار نے طعنہ دیا کہ رب نے انہیں چھوڑ دیا ہے تو رب کریم نے جو اباارشاد فرمایا کہ آپ کے پروردگار نے نہ تو آپ کو چھوڑا ہے اور نہ وہ آپ سے خفا ہے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 2–4

ف 1 اس لئے آنحضرت دنیا سے بےرغبت اور آخرت کی طرف متوجہ رہتے۔ ایک حدیث میں آنحضرت نے دنیا کی بےثباتی بیان فرماتے ہوئے انسان کی مثال ایک مسافر سے دی ہے جو چند ساعتیں کسی درخت کے سایے میں آرام کرتا ہے اور پھر چل دیتا ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(93:2) والیل اذا سجی۔ واؤ قسمیہ اذا قسمیہ اذا ظرف زمان ، بمعنی جب۔ سجی ماضی واحد مذکر غائب۔ سجو (باب نصر) مصدر سے۔ وہ چھا گیا۔ اس نے آرام لیا۔ اس نے قرار پکڑا۔ ابن خالویہ لکھتے ہیں :۔ جب رات میں ہوا تھم جائے اور اس کی اندھیاری خوب بڑھ جائے تو کہا جاتا ہے لیل ساج : اسی طرح جب سمندر تھم جاتا ہے تو بحر ساج بولتے ہیں۔ ترجمہ ہوگا :۔ اور قسم ہے رات کی جب اس کا اندھیرا خوب چھا جائے۔ (س ج و مادہ)

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–11

لغات القرآن۔ سجی۔ چھا گیا۔ ماقلی۔ نہ بیزار ہوا۔ سوف یعطی۔ بہت جلد عطا کرے گا۔ ترضی۔ تو خوش ہوجائے گا۔ اوی۔ ٹھکانا رہا۔ ضال۔ تلاش حق میں سرگرداں ۔ عائل ۔ مفلس و غریب۔ اغنی۔ مال دار کردیا۔ لا تقھر ۔ مت ڈانٹ۔ لا ینتھر۔ نہ جھڑک ۔ حدت ۔ بیان کر۔ تشریح : نبی کریم حضرت محمد ﷺ پر ابتداء میں پہلی وحی کے بعد تیس چالیس دن تک وحی کا سلسلہ بند رہا۔ پھر اس کے بعد لگاتار وحی کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ وحی بند ہونے کے زمانہ میں ایک طرف تو آپ پریشان تھے۔ ادھر کفار مکہ کی طنز آمیز باتوں اور طعنوں سے آپ بہت غمگکین رہتے تھے۔ وہ کہتے کہ اے محمد ﷺ ! کیا تمہارا رب تم سے ناراض ہوگیا اور وحی کا سلسلہ بند ہوگیا ؟ ابو لہب کی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–3

(ف 1) شان نزول : ایک مرتبہ ایسا اتفاق ہوا کہ چند روز وحی نہ آئی تو کفار نے بطریق طعن کہا کہ محمد ﷺ سے ان کا رب روٹھ گیا اس پر والضحی نازل ہوئی سورة ضحیٰ میں چالیس کلمے اور ایک سو بہتر حروف ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[1] اصل میں لفظ '' سجٰی '' استعمال ہوا ہے جس میں صرف تاریکی چھا جانے ہی کا نہیں بلکہ سکون طاری ہونے کا مفہوم بھی شامل ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–3

ف 1: اس زمانہ میں چند دنوں کے لئے نزول وحی میں توقف ہوگیا تھا تو مخالفین نے یہ مشہور کرنا شروع کردیا کہ محمد ﷺ سے معاذ اللہ خدا نے اب اپنی توجہ ہٹالی ہے ۔ اس پر ان آیات کا نزول ہوا اور بتایا کہ یہ بات غلط ہے ۔ جس طرح آفتاب نکلتا ہے اور پھر جب تک اپنا دور ختم نہیں کرلیتا اس وقت تک غروب نہیں ہوتا اور جس طرح رات کی تاریکی چھاجاتی ہے اور صبح تک برابر قائم رہتی ہے ۔ درمیان میں پلٹ نہیں جاتی ۔ اسی طرح دنیائے روحانیت میں نبوت کا آفتاب طلوع ہوتا ہے ۔ حق وصداقت کا خادر درخشاں نکلتا ہے ۔ تب ناممکن کہ وہ وقت سے پہلے بےتوجہی کے افق میں غروب ہوجائے اور اگر تم اس کو سورج نہ قرار دے سکو تو پھر بھی یہ اگر…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 10۔ قرار پکڑنے کے دو معنی ہوسکتے ہیں، ایک حقیقی یعنی اس کی ظلمت کا کامل ہوجانا کہ اس کے قبل اس کا تزائد مثل حرکت کے تھا۔ دوسرے مجازی یعنی جانداروں کا اس میں سو جانا اور چلنے پھرنے اور بولنے چالنے کی آوازوں کا ساکن ہوجانا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اور قسم ہے رات کے رب کی جب وہ چھا جائے 2 ؎ قرآن کریم نے جہاں بھی دن کا ذکر کیا ساتھ رات کا ذکر کردیا ہے اور جہاں بھی رات کا ذکر کیا ہے ساتھ دن کا کردیا ہے۔ رات اور دن ایسے بھی لازم و ملزوم ہیں اور ایک کا ذکر آئے تو دوسرے کا خود بخود آجاتا ہے اور آنا ہی چاہیے۔ زیر نظر آیت میں رات کے ساتھ (سجیٰ ) کا لفظ آیا ہے (سجیٰ ) کے معنی چھا جانے کے ہیں کہ وہ چھا گیا ۔ اس نے آرام پکڑا ۔ اس نے قرار پکڑا سجر کے جس کے معنی سکون پانے اور قرار پکڑنے کے ہیں ۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ۔ جب رات میں ہوا تھم جائے اور اس کی اندھیاری سخت بڑھ جائے تو کہا جاتا ہے لل ساج اسی طرح جب سمندر تھم جاتا ہے تو بحر ساج بولتے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 1–3

Commentary Occasion of Revelation Bukhari, Muslim and Tirmidhi have narrated from Sayyidna Jundub ؓ that once a finger of the Holy Prophet ﷺ was wounded and started bleeding, he said: ان انت الّا اصبع دمیت وفی سبیل اللہ ما لقیت 'You are merely a finger that is bleeding; [ what does it matter ] if you are hurt: it all happened in Allah's cause.' Sayyidna Jundub ؓ عنہ narrated this incident and said that revelation of the Qur'an to the Holy Prophet ﷺ came to a halt, and that Jibra'il (علیہ السلام) stopped coming to him for a while. The unbelievers taunted, saying: "Mulhammad's Lord has…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

2 The word raja in the original does not only signify the spreading of darkness but it also contains the meaning of stillness and peace that prevails at night. This quality of night deeply relates to the theme that follows.

Read the full tafseer →