وَالضُّحٰی ۟ۙوَالضُّحٰىۙ
آفتاب کی روشنی کی قسم
— Fateh Muhammad Jalandhari
By the morning brightness
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 18 of juz
The Morning Hours · Meccan · 11 ayahs · 1 ruku
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
وَالضُّحٰی ۟ۙوَالضُّحٰىۙ
آفتاب کی روشنی کی قسم
— Fateh Muhammad Jalandhari
By the morning brightness
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 18 of juz
Read the whole surah · Surah Ad-Dhuhaa
قسم ہے روز روشن کی
آفتاب کی روشنی کی قسم
قسم ہے چاشت کے وقت کی
(اے پیغمبر) قسم ہے چڑھتے دن کی روشنی کی۔
چاشت کی قسم
قَسم ہے چاشت کے وقت کی (جب آفتاب بلند ہو کر اپنا نور پھیلاتا ہے)۔ (یا:- اے حبیبِ مکرّم!) قَسم ہے چاشت (کی طرح آپ کے چہرۂ انور) کی (جس کی تابانی نے تاریک روحوں کو روشن کر دیا)۔ (یا:- قَسم ہے وقتِ چاشت (کی طرح آپ کے آفتابِ رِسالت کے بلند ہونے) کی (جس کے نور نے گمراہی کے اندھیروں کو اجالے سے بدل دیا)،
قسم ہے دھوپ چڑھنے کے وقت کی !
چاشت کے وقت کی قسم
شاہد ہے وقت چاشت
قسم ہے روز روشن کی
قسم ہے دن کی روشنی کی
قسم ہے دھوپ چڑھنے کے وقت کی۔
آفتاب کی روشنی کی قسم
By the bright forenoon,
By the forenoon.
By the morning hours
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
By the morning brightness
By the midday brightness
I swear by the early hours of the day,
By the morning brightness,
By the Glorious Morning Light,
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–11
مسند احمد میں ہے کہ حضور ﷺ بیمار ہوگئے اور ایک یا دو راتوں تک آپ تہجد کی نماز کے لیے نہ اٹھ سکے تو ایک عورت کہنے لگی کہ تجھے تیرے شیطان نے چھوڑ دیا اس پر یہ اگلی آیتیں نازل ہوئیں (بخاری مسلم وغیرہ) حضرت جندب فرماتے ہیں کہ جبرائیل کے آنے میں کچھ دیر ہوئی تو مشرکین کہنے لگے کہ یہ تو چھوڑ دئیے گئے تو اللہ تعالیٰ نے والضحٰی سے ماقلفی تک کی آیتیں اتاریں، اور روایت میں ہے کہ حضور ﷺ کی انگلی پر پتھر مارا گیا تھا جس سے خون نکلا اور جس پر آپ نے فرمایا : ھل انت الا اصبع دمیت وفی سبیل اللہ ما لقیت یعنی تو صرف ایک انگلی ہے اور راہ اللہ میں تجھے یہ زخم لگا ہے۔ طبعیت کچھ ناساز ہوجانے کی وجہ سے دو تین رات…
Read the full tafseer →سورة الضُّحٰی 1 یہاں لفظ ضحی رات کے مقابلہ میں استعمال ہوا ہے اس لیے اس سے مراد روز روشن ہے۔ اس کی نظیر سورة اعراف کی یہ آیات ہیں " أَفَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَىٰ أَن يَأْتِيَهُم بَأْسُنَا بَيَاتًا وَهُمْ نَائِمُونَ أَوَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَىٰ أَن يَأْتِيَهُم بَأْسُنَا ضُحًى وَهُمْ يَلْعَبُونَ " (97۔ 98) " کیا بستیوں کے لوگ اس سے بےخوف ہیں کہ ان پر ہمارا عذاب رات کو آجائے جبکہ وہ سو رہے ہوں ؟ اور کیا بستیوں کے لوگ اس سے بےخوف ہیں کہ ان پر ہمارا عذاب دن دہاڑے آجائے جبکہ وہ کھیل رہے ہوں ؟ " ان آیات میں بھی چونکہ ضحی کا لفاظ رات کے مقابلہ میں استعمال ہوا ہے اس لیے اس سے مراد چاشت کا وقت نہیں بلکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
خلاصہ تفسیر قسم ہے دن کی روشنی کی اور رات کی جب کہ وہ قرار پکڑے (قرار پکڑنے کے دو معنی ہو سکتے ہیں ایک حقیقی یعنی اس کی ظلمت کا کامل ہوجانا کیونکہ رات میں اندھیری رفتہ رفتہ بڑھتی ہے، کچھ رات گزرنے پر مکمل ہوجاتی ہے، دوسرے مجازی یعنی جانداروں کا اس میں سو جانا اور چلنے پھرنے اور بولنے چالنے کی آوازوں کا ساکن ہوجانا، آگے جواب قسم ہے) کہ آپ کے پروردگار نے نہ آپ کو چھوڑا اور نہ آپ سے بیزار ہوا (کیونکہ اول تو آپ سے کوئی بات ایسی نہیں ہوئی دوسرے حضرات انبیاء (علیہم السلام) کو اللہ تعالیٰ نے اس سے محفوظ و معصوم بنایا ہے۔ پس آپ کفار کے خرافات و لغویات سے محزون حضرات انبیاء (علیہم السلام) کو اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
’ضُحٰی‘ چاشت کے وقت کو کہتے ہیں جب دن کی سرگرمیوں کا آغاز ہوتا اور انسان رات میں آرام کے بعد، ازسرنو تازہ دم ہو کر، جدوجہد کے میدان میں اترتا ہے۔ رات اور دن کی باہمی سازگاری: رات کی شہادت قرآن میں، موقع کی مناسبت سے، مختلف پہلوؤں سے پیش کی گئی ہے جن کی وضاحت ان کے محل میں ہو چکی ہے۔ یہاں اس کے ساتھ ’اِذَا سَجٰی‘ کی قید لگی ہوئی ہے۔ ’سَجٰی‘ کے معنی ’رَکَد‘ اور ’سَکَن‘ یعنی ٹک جانے اور ساکن ہو جانے کے آتے ہیں جس سے معلوم ہوا کہ یہاں رات کا وقت پیش نظر ہے جب وہ دن کے شور و شغب اور ابتدائے شب کے ہنگاموں سے نکل کر اچھی طرح ٹک جاتی اور انسان کو سکون و راحت بخشنے کے قابل بن جاتی ہے۔ گویا لفظ ’ضُحٰی‘…
Read the full tafseer →1۔ 1 چاشت اس وقت کو کہتے ہیں، جب سورج بلند ہوتا ہے۔ یہاں مراد پورا دن ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
والضحیٰ............................ فترضیٰ اللہ تعالیٰ ان دو خوبصورت اوقات کی قسم اٹھاتا ہے جن میں غوروفکر کے بہتر اور زیادہ مواقع ہوتے ہیں۔ یہ اوقات ہی اپنے اندر اشارات رکھتے ہیں۔ یوں اس کائنات کے مظاہر اور نفس انسانی کے درمیان ایک ربط پیدا کردیا جاتا ہے ، اور قلب بشری کو یہ اشارہ دیا جاتا ہے کہ یہ خوبصورت کائنات ایک روح رکھتی ہے ، جو نفس انسانی کے ساتھ ہمقدم ہوکر چلتی ہے ، اور یہ ورح ہر زندہ مخلوق کے ساتھ ایک گونہ محبت رکھتی ہے ، اس طرح ہر زندہ دل ، اس کائنات کے اندر نہایت ہی انس و محبت کے ساتھ زندہ رہتا ہے ، وہ اس میں اجنبی نہیں ہوتا اور نہ پریشان ہوتا ہے۔ اور اس سورت میں اس کائنات کے ساتھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
7 روایات صحیحہ میں ہے کہ جبرائیل (علیہ السلام) دیر تک رسول اللہ ﷺ کے پاس نہ آئے (یعنی وحی قرآنی بند رہی) مشرکین کہنے لگے کہ (لیجئے) محمد ﷺ کو اس کے رب نے رخصت کردیا۔ اس کے جواب میں یہ آیات نازل ہوئیں میرا گمان یہ ہے (واللہ اعلم) کہ یہ زمانہ فترت الوحی کا ہے جب سورة " اقراء " کی ابتدائی آیات نازل ہونے کے بعد ایک طویل مدت تک وحی رکی رہی تھی اور حضور ﷺ خود اس فترت کے زمانہ میں سخت مغموم و مضطرب رہتے تھے، تاآنکہ فرشتہ نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے " یا ایھا المدثر " کا خطاب سنایا۔ اغلب ہے کہ اس وقت مخالفوں نے اس طرح کی چہ میگوئیاں کی ہوں۔ چناچہ ابن کثیر (رح) عنہ نے محمد بن اسحاق وغیرہ سے جو الفاظ نقل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
آیت 2{ وَالَّیْلِ اِذَا سَجٰی۔ } ”قسم ہے رات کی جبکہ وہ سکون کے ساتھ چھا جائے۔“ رات میں اندھیرا اور سکون ہے ‘ جبکہ دن اجالے اور حرکت کا مظہر ہے۔ ان دو آیات میں رات اور دن کی متضاد خصوصیات کو اس فرمان پر بطور شہادت پیش کیا گیا کہ :
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1 سَجٰی کا لغوی مفہوم :۔ (سَجٰی) یعنی رات کا سنسان اور خاموش ہونا، نیز اس لفظ میں دوسری چیزوں کو چھپا لینے کا تصور بھی پایا جاتا ہے۔ خواہ یہ تصور ظاہری طور پر ہو جیسے سَجَی الْمَیّت بمعنی میت پر چادر ڈال کر اسے چھپا دینا یا معنوی طور پر ہو جیسے سَج معائب اخیک بمعنی اپنے بھائی کے عیبوں کو چھپاؤ۔ گویا اس لفظ میں پرسکون ہونے اور چھپانے کے دونوں معنی پائے جاتے ہیں۔ یعنی رات کا اتنا حصہ گزر چکا ہو کہ سب لوگ سو چکے ہوں اور تاریکی بھی پوری طرح چھا چکی ہو۔ پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے چاشت کے وقت کی قسم کھائی ہے۔ جب سورج بلند ہوچکا ہوتا ہے اور لوگ اپنے اپنے کام کاج میں مشعول ہوجاتے ہیں۔ اور یہ وقت اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1۔ یعنی دن کی خوب پھیلی ہوئی روشنی اور رات کی خوب گہری تاریکی، دونوں اس حقیقت پر جو ابھی آگے آرہی ہے، زبان حال سے شہادت دے رہی ہیں۔ (آیت) ” سجی “۔ کے (2) مفہوم ہیں، ایک یہ کہ رات کی تاریکی خوب گہری ہوجائے، دوسرا یہ کہ اس میں ہر جاندار کی آوازیں چلنے پھرنے، بولن چالنے کی ساکن ہوجائیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
ترجمہ :۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، قسم ہے شروع دن کی یا پورے دن کی اور قسم ہے رات کی جب وہ اپنی تاریکی کے ساتھ چھا جائے یا پرسکون ہوجائے (اے محمد ﷺ ! ) تمہارے رب نے تم کو ہرگز نہیں چھوڑا اور نہ وہ آپ سے ناراض ہوا یہ سورت اس وقت نازل ہوئی جب آپ ﷺ سے پندرہ روز تک وحی کا سلسلہ منقطع ہوگیا تو کفار نے کہا تھا کہ : محمد ﷺ کو تو اس کے رب نے چھوڑ دیا اور اس سے نارضا ہوگیا اور یقینا آپ ﷺ کے لئے آخرت دنیا سے بہتر ہے اس لئے کہ آخرت میں (آپ ﷺ کے لئے) عظمتیں ہیں اور عنقریب یقینا آپ ﷺ کا رب آپ ﷺ کو آخرت میں خیر سے اور بےانتہا انعامات سے نوازے گا، کہ آپ ﷺ اس سے خوش…
Read the full tafseer →والضحی . قسم ہے وقت چاشت کی یا دن کی۔ بعض کا قول ہے کہ ضحی سے مرا دن ہے اس لیے کہ لیل کے مقابل آیا ہے۔ اللہ نے فرمایا : ان یاتیھم باسنا ضحًی۔ یعنی دن میں۔ قتادہ (رح) اور مقاتل (رح) نے کہا : وقت ضحی مراد ہے یعنی سورج کے چڑھنے کا وقت اس وقت کی خصوصیت کی وجہ بعض لوگوں نے یہ بیان کی ہے کہ سردی میں ‘ گرمی میں ‘ جاڑے میں ‘ موسم گرما میں ‘ ہر موسم میں اس وقت اعتدالی کیفیت رہتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
(1۔ 5) قسم ہے پورے دن کی اور رات کی جب کہ وہ تاریک اور سیاہ ہوجائے، جس وقت سے اللہ تعالیٰ نے آپ کے پاس وحی بھیجی ہے نہ آپ کو چھوڑا ہے اور نہ جب سے آپ کو محبوب بنایا ہے آپ سے دشمنی کی ہے۔ رسول اکرم ﷺ انشاء اللہ کہنا بھول گئے تھے تو اس کے بعد پندرہ روز تک وحی آنا بند رہی۔ تو اس وقت کافر کہنے لگے کہ آپ کے پروردگار نے آپ کو چھوڑ دیا ہے اور آپ سے دشمنی کرلی ہے اس وقت یہ آیات نازل ہوئیں اور آخرت کا ثواب آپ کے لیے ثواب دنیا سے بدرجہا بہتر ہے، اور اللہ تعالیٰ آپ کو آخرت میں مقام شفاعت ہی عطا فرمائے گا کہ جس سے آپ خوش ہوجائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
(1) والضحی ، والیل اذا سجی …”الضحی ‘ ‘ سورج طلوع ہونے کے بعد جب پوری طرح روشن ہوجاتا ہے۔ ”سجی“ ”سجا یسجو سجوا“ (ن) پر سکون ہونا۔ ”ودع“ ”ودع یدع“ (چھوڑنا) سے باب تفعیل ہے جو چھوڑنے میں مبالغے کا معین رکھتا ہے۔ ”قلی““ ”قلی یقلی قلی وقلاء“ (ض ، س)”الرجل ابغضہ“ کسی سے بغض رکھنا۔ (2) جندب بن سفیان ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ بیمار ہوگئے تو دو یا تین رتایں (تہجد کے لئے) نہ اٹھے۔ ایک عورت ائٓی اور کہنے لگی :”اے محمد ! مجھے امید ہے کہ تمہارا شیطان تمہیں چھوڑ گیا ہے، دو تین راتوں سے میں نے اسے تمہارے پاس آتے نہیں دیکھا۔“ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل فرمائی۔ (بخاری، التفسیر، باب قولہ :(ماودع ربک و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
تفسیر 1 تا 3۔ والضحیٰ ، والیل اذا سجیٰ ۔ الضحیٰ کے بارے میں گفتگو گزرچکی ہے اس سے مراد دن ہے کیونکہ اس کے مقابل اللیل ہے اور سورة اعراف میں ہے، افامن اھل القری ان یاتیھم باسنا بیاتا وھم نائمون۔ اوامن اھل القری ان یاتیھم باسنا ضحی وھم یلعبون۔ (اعراف) کیا بستیوں والے اس سے بےخوف ہوگئے ہیں کہ ہمارا عذاب انہیں رات کو پہنچے جب کہ وہ سوئے ہوئے ہوں یابستیوں والے بےخوف ہوگئے ہیں کہ ہمارا عذاب دن کو پہنچے جب کہ وہ سوئے ہوئے ہوں یابستیوں والے بےخوف ہوگئے ہیں کہ ہمارا عذاب دن کو پہنچے جب کہ وہ کھیل کود میں مصروف ہوں قتادہ، مقاتل اور مام صادق نے کہا، اللہ تعالیٰ نے اس چاشت کے وقت کی قسم اٹھائی جس میں…
Read the full tafseer →1۔ ابن الضریس والنحاس وابن مردویہ وبیقہی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة الضحی مکہ میں نازل ہوئی۔ 2۔ الحاکم وصححہ وابن مردویہ والبیہقی فی شعب الایمان من طریق ابوالحسن البزی المقری (رح) سے روایت کیا کہ میں عکرمہ بن سلیمان (رح) کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے اسماعیل بن قسطنطین پر قرائت کی جب میں والضحی پر پہنچا تو انہوں نے کہا کہ ہر سورت کے خاتمے پر تکبیر کہنا یہاں تک کہ تو اس کو ختم کرلے کیونکہ میں نے عبداللہ بن کثیر کے پاس قرآن مجید پڑھا جب میں والضحیٰ پر پہنچا تو انہوں کہ ہر سورت کے خاتمے پر تکبیر کہنا یہاں تک کہ تو اس کو ختم کرلے کیونکہ میں نے عبداللہ بن کثیر کے پاس قرآن مجید پڑھا جب میں…
Read the full tafseer →[وَالضُّحٰى: قسم ہے چاشت کے وقت کی ] نوٹ۔ 1: اس سورة میں پہلے آفاق کے شواہد سے اس حقیقت کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ جس طرح اس دنیا کی مادی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لیے دن کی حرارت و روشنی کی ضرورت ہے اور رات کی خنکی اور تاریکی کی بھی، اسی طرح انسانی فطرت کی مخفی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے ضروری ہے کہ انسان کو تنگی اور آسانی، دکھ اور سکھ، رنج اور راحت، دونوں طرح کے حالات سے گزارا جائے۔ جو لوگ زندگی کی تربیت میں ان امتحانوں کا مقام سمجھتے ہیں اور ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں، ان کی اعلیٰ صلاحیتیں پروان چڑھتی ہیں اور جو لوگ ان امتحانوں کی حکمت سے ناواقف ہوتے ہیں یا اپنی کم ہمتی کی وجہ سے ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
اوپر سورة الضحیٰ کا ترجمہ لکھا گیا ہے یہ سورة مکہ معظمہ میں نازل ہوئی اس کے سبب نزول کے بارے میں معالم التنزیل میں ایک تو یہ لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بیماری کی وجہ سے دو تین رات نماز نہیں پڑھی یعنی نماز تہجد ناغہ ہوگیا، ایک عورت (فتح الباری میں ہے کہ یہ بات ابو لہب کی بیوی ام جمیل نے کہی تھی) نے کہا کہ بس جی سمجھ میں آگیا کہ جو شیطان ان کے پاس آتا تھا اس نے ان کو چھوڑ دیا، دو تین رات سے قریب نہیں آیا اور ایک بات یہ لکھی ہے کہ یہودیوں نے رسول اللہ ﷺ سے ذوالقرنین، اصحاب کہف اور روح کے بارے میں دریافت کیا تھا۔ آپ نے فرمایا کہ کل کو بتاؤں گا انشاء اللہ کہنا رہ گیا تھا لہٰذا چند دن تک وحی نازل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
انعامات خاصہ : برذات اقدس نبی کریم علیہ الصلوۃ والتسلیم وامر باواء شکر : قال اللہ تعالیٰ (آیت) ” والضحی والیل اذا سجی ......... الی ......... واما بنعمۃ ربک فحدث “۔ (ربط) گزشتہ چند سورتوں میں آنحضرت ﷺ کی نبوت و رسالت کو ثابت کیا گیا تھا اور ایمان کا دارومدار آخرت پر ایمان یقین کی شکل میں ہے تو اس کے دلائل بھی ذکر فرما دیئے گئے اب اس سورت میں ان خصوصی انعامات کا ذکر ہے جن سے آنحضرت ﷺ کی ذات اقدس کو سرفراز فرمایا گیا اور ان انعامات کے ضمن میں آپ کی رسالت کے دلائل بھی ذکر کردئیے گئے اور جن خاص کمالات اور اخلاق حسنہ سے پیغمبر کی ذات متصف ہونی چاہئے، ان کو بھی بیان کردیا گیا، ارشاد ہے۔ قسم ہے دھوپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
2:۔ ” والضحیٰ “ جمہور مفسرین نے لکھا ہے کہ کسی مصلحت سے چند دن جبریل (علیہ السلام) وحی لے کر نہ آئے تو مشرکین نے کہنا شروع کردیا کہ محمد ﷺ کا خدا اس سے ناراض ہوگیا ہے اور اس نے اس کو چھوڑ دیا ہے۔ اس پر یہ سورت نازل ہوئی جس میں مشرکین کی خرافات کا جواب دیا گیا اور آنحضرت ﷺ کو تسلی دی گئی کہ اللہ تعالیٰ نہ آپ سے ناراض ہوگیا ہے اور نہ اس نے آپ کو چھوڑ ہی دیا ہے۔ (خازن، ابن کثیر، کبیر وغیرہ) ۔ ” الضحیٰ “ چاشت کا وقت، دن کا اجالا۔ ” سجی “ ای غطی بظلامہ (جلالین) ہر چیز کو اپنی تاریکی میں چھپا لے روز روشن اور شب تاریک شاہد اور گواہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے نہ آپ کو چھوڑ دیا ہے اور نہ وہ آپ سے ناراض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
مضمون سورة سورۃ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے ان بیہودہ خیالات اور طعن وتشنیع کی تردید فرمائی ہے۔ جن کا ذکر اوپر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ کے ان انعامات کا ذکر کیا ہے۔ جو اس نے اپنے پیغمبر علیہ اسللام پر کئے اور آخر میں ان انعامات کا شکریہ ادا کرنے کا ذکر ہے۔ نیز حضور ﷺ کو تسلی دی گئی کہ آپ مخالفین کی ان باتوں سے دل برداشتہ نہ ہو۔ ان کا توشیہ ہی ایذاء رسانی ہے۔ اس طرح آپ کو تسلی دی گئی ہے۔ ضحی اور اشراق ابتداء میں دن اور رات کی قسمیں کھا کر بات کو واضح کیا گیا ہے۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے والضحی قسم ہے دھوپ چڑھتے وقت کی ضحیٰ دن کے اس حصے کو کہتے ہیں۔ جب دن خوب روشن ہوجاتا ہے۔ یعنی…
Read the full tafseer →وَالضُّحٰى 1 ۙ ضحی الضُّحَى: انبساطُ الشمس وامتداد النهار، وسمّي الوقت به . قال اللہ عزّ وجل : وَالشَّمْسِ وَضُحاها[ الشمس/ 1] ، إِلَّا عَشِيَّةً أَوْ ضُحاها [ النازعات/ 46] ، وَالضُّحى وَاللَّيْلِ [ الضحی/ 1- 2] ، وَأَخْرَجَ ضُحاها [ النازعات/ 29] ، وَأَنْ يُحْشَرَ النَّاسُ ضُحًى [ طه/ 59] ، وضَحَى يَضْحَى: تَعَرَّضَ للشمس . قال : وَأَنَّكَ لا تَظْمَؤُا فِيها وَلا تَضْحى[ طه/ 119] ، أي : لك أن تتصوّن من حرّ الشمس، وتَضَحَّى: أَكَلَ ضُحًى، کقولک : تغدّى، والضَّحَاءُ والغداءُ لطعامهما، وضَاحِيَةُ كلِّ شيءٍ : ناحیتُهُ البارزةُ ، وقیل للسماء : الضَّوَاحِي ولیلة إِضْحِيَانَةٌ ، وضَحْيَاءُ :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
ترکیب ¦ والضحٰی الوا وللقسم وھو اول النھار اذا تجلٰی وارتفعت الشمس وقیل المراد بہ النھار کلہ مجازًا من اطلاق الجزاء و ارادۃ الکل بدلیل مقابلۃ بالیل اذا سجیٰ والیل عطف علیہ اذا العامل فیہ معنی القسم سجٰی ای سکن قالہ قتادہ و مجاھد و ابن زید و عکرمۃ وغیرھم یقال لیلۃ ساجیۃ ای ساکنۃ ویقال سجا الشیء یسجو سجوًا اذا سکن وعن ابن الاعرابی سجٰی امتد ظلامہ وقال الاصمعی سجو اللیل تعظیۃ النھار ما ودعک الخ ھذا جواب القسم قر۔ الجمہور بتشدید الدال من التودیع وقری ٔ بتخفیفھا من قولھم ودعہ ترکہ وما قلی عطف علیٰ ماودعک وانقلاء البغض یقال قلاہ یقلیہ قلاً ولم یقل ما قلاک لموافقۃ روس الآیٔ وللاخرۃ اللام جواب قسم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
وَالضُّحٰی۔ وَالَّیْلِ اِذَا سَجٰی۔ (الضحیٰ : 1، 2) (قسم ہے روز روشن کی۔ اور رات کی جب وہ سکون کے ساتھ چھا جائے۔ ) ضُحٰی اور سَجٰی کا مفہوم ضُحٰی چاشت کے وقت کو کہتے ہیں کیونکہ اس وقت سورج پوری آب و تاب سے چمکنے لگتا ہے۔ لیکن جب اس کا استعمال رات کے مقابلہ میں کیا جائے تو اس وقت اس سے مراد صرف چاشت کا وقت نہیں بلکہ سارا دن ہوتا ہے۔ اہل لغت بھی اور اکثر آئمہ ٔ تفسیر بھی اسی کی تائید میں ہیں۔ اور قرآن کریم نے بھی سورة الاعراف میں اسی معنی میں اس لفظ کو استعمال کیا ہے۔ ارشاد ہے اَفَاَمِنَ اَہْلُ الْقُرٰی اَنْ یَّاتِیَھُمْ بَاسُنَا بَیَاتًا وَّھُمْ نَائِمُوْنَ اَوَاَمِنَ اَہْلُ الْقُرٰی اَنْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
فہم القرآن ربط سورت : سورة الّیل کے آخر میں نیک لوگوں کے بہتر انجام کا ذکر فرمایا اور سورة الضّحٰی میں تین قسمیں کھانے کے بعد نبی ﷺ کی ذات کے حوالے سے بتلایا ہے کہ آپ کی زندگی کا آنے والا دور پہلے دور سے بہتر ہوگا مقصد یہ ہے جو شخص نیک کام کرے گا اللہ تعالیٰ اس کی دنیا اور آخرت بہتر کردیں گے۔ الضّحٰی کا معنٰی ہے روشن دن اور سجٰی رات کے اس وقت کو کہتے ہیں جب رات اپنی تاریکی اور سکون کے ساتھ ہر چیز پر چھا جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان اوقات کی قسمیں اٹھا کر اس بات کی وضاحت فرمائی ہے کہ آپ ﷺ کے رب نے آپ کو نہ چھوڑا ہے اور نہ آپ پر ناراض ہوا ہے، چھوڑنا اور ناراض ہونا تو درکنار اس نے آپ کی زندگی کا…
Read the full tafseer →1 : وَالضُّحٰی (اور قسم ہے دن کی روشنی کی) اس سے مراد چاشت کا وقت ہے اور وہ دن کا ابتدائی حصہ ہے۔ جبکہ سورج خوب بلندہو۔ وجہ تخصیص : چاشت کے وقت کو قسم کیلئے خاص اس لئے فرمایا کیونکہ یہ وہ گھڑی ہے جس میں موسیٰ (علیہ السلام) سے کلام فرمایا اور اسی میں جادو گر سجدہ ریز کئے گئے۔ نمبر 2۔ چاشت بول کر تمام دن مراد ہے۔ کیونکہ مقابلہ میں وَالَّیْلِ اِذَا سَجٰی ہے۔
Read the full tafseer →1 ۔” والضحیٰ “ چاشت کے وقت کی قسم کھائی ہے اور اس سے مراد تمام دن ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ اس کے مقابلہ ” واللیل اذا سجیٰ “ لائے ہیں۔ اس کی نظیر اللہ تعالیٰ کا قول ہے ” ان یاتیھم باسنا ضحی “ یعنی دن میں اور قتادہ اور مقاتل رحمہما اللہ فرماتے ہیں یعنی چاشت کا وقت اور یہ وہ گھڑی ہے جس میں سورج بلند ہوتا ہے اور دن کا اعتدال سردی و گرمی میں ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
1۔ 11۔ اگرچہ مفسروں نے اس سورة کی شان نزول میں طرح طرح کی باتیں لکھی ہیں سب سے زیادہ صحیح شان نزول وہی ہے جس کا ذکر صحیحین 1 ؎ کی جندب ؓ کی روایت میں ہے کہ حضرت ﷺ ہجرت سے پہلے مکہ میں کچھ بیمار ہوگئے تھے اس بیماری کے سبب سے دو تین راتوں تک آپ تہجد کی نماز کو نہیں اٹھے یہ دیکھ کر ام جمیل ابو لہب کی بی بی نے کہا محمد کے رب نے محمد کو چھوڑ دیا۔ اس لئے انہوں نے رات کو اٹھنا بند کردیا۔ ام جمیل کی اس بات سے آنحضرت ﷺ کو رنج ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کے رنج رفع ہوجانے کی غرض سے یہ سورة نازل فرمائی اور فرمایا کہ اے نبی اللہ کے ‘ نہ اللہ نے تم کو چھوڑ دیا ہے نہ وہ تم سے کچھ خفا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
اللہ تبارک وتعالی نے اپنے رسول کے لیے اپنی عنایت پر دن کی قسم کھائی ہے جب چاشت کے وقت اس کی روشنی پھیل جائے اور رات کی قسم کھائی ہے جب وہ ٹھہر جائے اور اس کی تاریکی چھا جائے۔
Read the full tafseer →1 ۔ ضحی کی قسم اور اس سے مقصود و مراد ؟ سو ارشاد فرمایا گیا کہ قسم ہے " ضحی " کے اصل معنی چاشت کے ہیں لیکن چونکہ اس کے بالمقابل رات کے ساتھ " اذا سجی " کی قید لگی ہوئی ہے، اس لیے اس تقابل کے قرینے کی بنا پر ہم نے اس کا ترجمہ اس طرح کیا ہے۔ یعنی قسم ہے روز روشن کی، یعنی " ضحی " سے یہاں پر چاشت کے مشہور و معروف معنی مراد نہیں بلکہ اس سے مراد روز روشن ہے کیونکہ اس کے بالمقابل اس کے بعد والی آیت کریمہ میں فرمایا گیا " واللیل اذا سجی " سو لیل کے اس تقابل سے یہ امر واضح ہوجاتا ہے کہ یہاں پر " ضحی " سے مراد چاشت نہیں بلکہ روز روشن ہے، جیسا کہ سورة اعراف میں ارشاد فرمایا گیا ( آیت، اعراف 97، 98 پ 9)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
اللہ کی رحمتیں اور نبی پاک ﷺ تشریح : بڑی خوبصورت سورت پاک ہے۔ اللہ کی رحمتوں برکتوں ' فضیلتوں ' لطف وکرم اور قدرت و عظمت کا بیان بڑے خوبصورت انداز میں کیا گیا ہے۔ اور اس خاص محبت کا ذکر جو اللہ جل شانہ کو اپنے پیارے رسول ﷺ سے ہے بڑے محبت بھرے انداز میں کی گئی ہے۔ وحی کے رک جانے سے جو آپ ﷺ پریشان ہوئے تو حق تعالیٰ نے آفتاب کی روشنی اور رات کے گھپ اندھیرے کی قسم کھا کر یقین دلایا کہ آپ ﷺ پریشان نہ ہوں جس طرح دن رات کا نظام انسان کے کام اور آرام کا ذریعہ ہے اسی طرح آپ ﷺ کی وحی کے اترنے کا وقفہ محض آپ ﷺ کو اعصابی آرام دینے کے لیے دیا گیا ہے تاکہ آپ ﷺ پر وحی کی وجہ سے جو مشقت پڑتی ہے وہ وقفہ وقفہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
سورة الضحی۔ آیات 1 تا 11۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے دن کی روشنی کی اور رات کی جب وہ چھاجاتی ہے یعنی دن کی روشنی اور رات کی تاریکی گواہ ہیں کہ دن کے بعد رات بھی آسکتی ہے پھر خود رات گواہ ہے کہ جب مکمل ہوچکتی ہے تو تاریکی کم ہونے لگتی ہے اور پھر دن آجاتا ہے۔ قبض وبسط۔ یہی حال کیفیات قلب کا بھی ہے کہ کبی واردات بہت تیزا ورروشن ہوتی ہیں یعنی بسط ہوتا ہے اور کبھی قبض کی کیفیت وارد ہوتی ہے اور قبض سے یہ نہیں سمجھاجاسکتا کہ پھر بسط نہ ہوگا چند روز نزول وحی نہ ہواتوکفار نے طعنہ دیا کہ رب نے انہیں چھوڑ دیا ہے تو رب کریم نے جو اباارشاد فرمایا کہ آپ کے پروردگار نے نہ تو آپ کو چھوڑا ہے اور نہ وہ آپ سے خفا ہے…
Read the full tafseer →ف 15 مراد سا ارا دن ہے اس لئے کہ اگلی آیت میں رات کی قسم کھائی جا رہی ہے۔ (ابن جریر)
Read the full tafseer →(93:1) والضحی واؤ قسمیہ، الضحی مقسم بہٖ ۔ اس کے معنی ہیں وقت چاشت ۔ دن چڑھے۔ وہ وقت جبکہ دھوپ چڑھ جائے اور سورج روشن ہوجائے، آفتاب کی روشنی کی قسم۔ (ض ح و مادہ)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
لغات القرآن۔ سجی۔ چھا گیا۔ ماقلی۔ نہ بیزار ہوا۔ سوف یعطی۔ بہت جلد عطا کرے گا۔ ترضی۔ تو خوش ہوجائے گا۔ اوی۔ ٹھکانا رہا۔ ضال۔ تلاش حق میں سرگرداں ۔ عائل ۔ مفلس و غریب۔ اغنی۔ مال دار کردیا۔ لا تقھر ۔ مت ڈانٹ۔ لا ینتھر۔ نہ جھڑک ۔ حدت ۔ بیان کر۔ تشریح : نبی کریم حضرت محمد ﷺ پر ابتداء میں پہلی وحی کے بعد تیس چالیس دن تک وحی کا سلسلہ بند رہا۔ پھر اس کے بعد لگاتار وحی کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ وحی بند ہونے کے زمانہ میں ایک طرف تو آپ پریشان تھے۔ ادھر کفار مکہ کی طنز آمیز باتوں اور طعنوں سے آپ بہت غمگکین رہتے تھے۔ وہ کہتے کہ اے محمد ﷺ ! کیا تمہارا رب تم سے ناراض ہوگیا اور وحی کا سلسلہ بند ہوگیا ؟ ابو لہب کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
(ف 1) شان نزول : ایک مرتبہ ایسا اتفاق ہوا کہ چند روز وحی نہ آئی تو کفار نے بطریق طعن کہا کہ محمد ﷺ سے ان کا رب روٹھ گیا اس پر والضحی نازل ہوئی سورة ضحیٰ میں چالیس کلمے اور ایک سو بہتر حروف ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
ف 1: اس زمانہ میں چند دنوں کے لئے نزول وحی میں توقف ہوگیا تھا تو مخالفین نے یہ مشہور کرنا شروع کردیا کہ محمد ﷺ سے معاذ اللہ خدا نے اب اپنی توجہ ہٹالی ہے ۔ اس پر ان آیات کا نزول ہوا اور بتایا کہ یہ بات غلط ہے ۔ جس طرح آفتاب نکلتا ہے اور پھر جب تک اپنا دور ختم نہیں کرلیتا اس وقت تک غروب نہیں ہوتا اور جس طرح رات کی تاریکی چھاجاتی ہے اور صبح تک برابر قائم رہتی ہے ۔ درمیان میں پلٹ نہیں جاتی ۔ اسی طرح دنیائے روحانیت میں نبوت کا آفتاب طلوع ہوتا ہے ۔ حق وصداقت کا خادر درخشاں نکلتا ہے ۔ تب ناممکن کہ وہ وقت سے پہلے بےتوجہی کے افق میں غروب ہوجائے اور اگر تم اس کو سورج نہ قرار دے سکو تو پھر بھی یہ اگر…
Read the full tafseer →(1) قسم کھاتا ہوں میں دن چڑھے کی - یعنی چاشت کے وقت کی
Read the full tafseer →قسم ہے دھوپ کے رب کی 1 ؎ (ضحی) (ضحی) وقت چاشت ، دن چڑھے ۔ وہ وقت جب کہ دھوپ اچھی طرح چڑھ جائے۔ ضحی کے معنی دھوپ کے پھیلنے اور دن کے چڑھنے کے ہیں ۔ نیز اس وقت کو بھی ( ضحی) کہتے ہیں ۔ ( ضحی) مؤنث ہے اس کی تصغیر ضحیۃ ہے اور بہتریہ ہے اسکی تصغیر ضحی کہے بغیر ھاء کے تاکہ اس کی تصغیر ضحوۃ کی تصغیر کے مشابہ نہ ہو اور ضحی کے معنی دن چڑھنے کے ہیں۔ ( کتاب اعراب ثلاثین سورة من القرآن العظیم ص 95 مصر) ” جس نے اس کو مؤنث کہا اس نے ضحوۃ کی جمع کہا اور جس نے مذکر کہا اس نے کہا کہ یہ اسم ہے بروزن فعل جیسے ضرر اور ظرف غیر متمکن ہے مثل سحر کے۔ ( صراح) یہ مضمون بطور شہادت بیان کیا گیا ہے جیسا کہ ان مکی سورتوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
Commentary Occasion of Revelation Bukhari, Muslim and Tirmidhi have narrated from Sayyidna Jundub ؓ that once a finger of the Holy Prophet ﷺ was wounded and started bleeding, he said: ان انت الّا اصبع دمیت وفی سبیل اللہ ما لقیت 'You are merely a finger that is bleeding; [ what does it matter ] if you are hurt: it all happened in Allah's cause.' Sayyidna Jundub ؓ عنہ narrated this incident and said that revelation of the Qur'an to the Holy Prophet ﷺ came to a halt, and that Jibra'il (علیہ السلام) stopped coming to him for a while. The unbelievers taunted, saying: "Mulhammad's Lord has…
Read the full tafseer →1 Here, the word duha has been used in contrast to the night; therefore, it implies the bright hours of the day. A precedent of it are vv. 97-98 of Surah AI-A'raf, which say: Do the people of the settlements now feel secure that Our punishment will not come to them all of a sudden at night, while they might be fast asleep? Or, do they feel secure that Our punishment will not smite them all of a sudden during the day while they might be engaged in pastimes?" In these verses also since the word duha has been used in contrast to the night, it implies the day and not just forenoon.
Read the full tafseer →