وَلَسَوْفَ یَرْضٰی ۟۠وَلَسَوۡفَ يَرۡضٰى
اور وہ عنقریب خوش ہو جائے گا
— Fateh Muhammad Jalandhari
And he is going to be satisfied.
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 17 of juzع
وَلَسَوْفَ یَرْضٰی ۟۠وَلَسَوۡفَ يَرۡضٰى
اور وہ عنقریب خوش ہو جائے گا
— Fateh Muhammad Jalandhari
And he is going to be satisfied.
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 17 of juzع
Read the whole surah · Surah Al-Lail
اور ضرور وہ (اُس سے) خوش ہوگا
اور وہ عنقریب خوش ہو جائے گا
یقیناً وه (اللہ بھی) عنقریب رضامند ہو جائے گا
یقین رکھو ایسا شخص عنقریب خوش ہوجائے گا۔
اور بیشک قریب ہے کہ وہ راضی ہوگا
اور عنقریب وہ (اﷲ کی عطا سے اور اﷲ اس کی وفا سے) راضی ہو جائے گا،
اور یقینا عنقریب وہ راضی ہوجائے گا۔
اور جلد ہی وہ خوش ہوجائے گا
اور وہ نہال بھی ہوجائے گا
اور وہ ضرور اس سے راضی ہوگا
اور وہ عنقریب یقیناً خوش ہوجائے گا۔
اور وہ عنقریب راضی ہوجائے گا۔
اور وہ عنقریب خوش ہوجائے گا
He will surely be well-pleased (with him).
And surely he will soon be happy.
And surely he will soon be happy.
He, surely, will be pleased.
He verily will be content.
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
And he is going to be satisfied.
and the reward (of their Lord) will certainly make them happy.
And he shall soon be well-pleased.
And presently he shall become wellpleased.
And soon will they attain (complete) satisfaction.
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 12–21
مومن کی منزل اللہ تعالیٰ کی رضا : یعنی حلال و حرام کا ظاہر کردینا ہمارے ذمے ہے، یہ بھی معنی ہیں کہ جو ہدایت پر چلا وہ یقینا ہم تک پہنچ جائیگاجی سے فرمایا وعلی اللہ قصد السبیل آخرت اور دنیا کی ملکیت ہماری ہی ہے۔ میں نے بھڑکتی ہوئی آگ سے تمہیں ہوشیار کردیا ہے مسند احمد میں ہے کہ حضرت نعمان بن بشیر ؓ نے اپنے خطبہ میں فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ سے میں نے خطبہ کی حالت میں سنا ہے آپ بہت بلند آواز سے فرما رہے تھے یہاں تک کہ میری اس جگہ سے بازار تک آواز پہنچے اور بار بار فرماتے جاتے تھے لوگو ! میں تمہیں جہنم کی آگ سے ڈرا چکا۔ لوگو ! میں تمہیں جہنم کی آگ سے ڈرا رہا ہوں، بار بار یہ فرما رہے تھے یہاں تک کہ…
Read the full tafseer →سورة الَّیْل 11 اس آیت کے دو معنی ہو سکتے ہیں۔ اور دونوں صحیح ہیں۔ ایک یہ کہ ضرور اللہ اس سے راضی ہوجائے گا۔ دوسرے یہ کہ عنقریب اللہ اس شخص کو اتنا کچھ دے گا کہ وہ خوش ہوجائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
اسی کے مناسب آیت کا آخری جملہ ہے وما لاحد عندہ من نعمة تجزیٰ یعنی جن غلاموں پر حضرت صدیق اکبر نے یہ احسان عظیم فرمایا کہ زر کثیر خرچ کر کے خریدا اور آزاد کردیا، ان کا کوئی سابقہ احسان بھی ان کے ذمہ نہیں تھا جس کے بدلے میں یہ اقدام کرتے بلکہ الا ابتغآء وجہ ربہ الاعلیٰ یعنی ان کا مقصد اللہ تعالیٰ عالیشیان کی رضا جوئی کے سوا کچھ نہ تھا۔ مستدرک حاکم میں حضرت زبیر سے منقول ہے کہ صدیق اکبر کی یہ عادت بھی تھی کہ جس مسلمان کو کفار کے ہاتھ میں قیدی دیکھتے اس کو خرید کر آزاد کردیتے تھے اور یہ لوگ عموماً صنعفاء ہوتے تھے، صدیق اکبر کے والد حضرت ابوقحافہ نے ان سے فرمایا کہ جب تم غلاموں کو آزاد ہی کرتے ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
انفاق وہ مقبول ہے جو رضائے الٰہی کے لیے ہو: یہ ’یُؤْتِیْ مَا لَہٗ یَتَزَکّٰی‘ کی وضاحت ہے۔ یعنی تزکیۂ نفس کے مقصد کے لیے وہ انفاق اللہ تعالیٰ کے نزدیک وزن رکھتا ہے جو صرف اس کی خوشنودی اور رضا جوئی کی خاطر کیا جائے، یہ غرض نہ ہو کہ کسی کو ممنون احسان کر کے اس سے کسی شکل میں اس کا بدلہ چاہا جائے۔ اوپر سورۂ دہر کی آیت ’لَا نُرِیْدُ مِنْکُمْ جَزَآءً وَّلَا شُکُوْرًا‘ (الدہر ۷۶: ۹) (ہم کسی بدلے یا شکریہ کے طالب نہیں ہیں) ہم نقل کر آئے ہیں۔ جومضمون اس آیت کا ہے۔ وہی مضمون دوسرے لفظوں میں یہاں بھی ہے۔ ایک غلط فہمی کا ازالہ: بعض لوگوں نے اس کا ترجمہ یوں کیا ہے کہ ’اور کسی کا اس پر احسان نہیں جس کا…
Read the full tafseer →21۔ 1 یعنی جو شخص ان صفات کا حامل ہوگا، اللہ تعالیٰ اسے جنت کی نعمتیں اور عزت و شرف عطا فرمائے گا۔ جس سے وہ راضی ہوجائے گا، اکثر مفسرین نے کہا ہے بلکہ بعض نے اجماع تک نقل کیا ہے کہ یہ آیات حضرت ابوبکر کی شان میں نازل ہوئی ہیں۔ تاہم معنی و مفہوم کے اعتبار سے عام ہیں جو بھی ان صفات عالیہ سے متصف ہوگا، وہ بارگاہ الہی میں ان کا مصداق قرار پائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
7: اس مختصر جملے میں نعمتوں کی ایک کائنات پوشیدہ ہے۔ یعنی جنت میں اس کو اپنے اعمال کا ایسا صلہ ملے گا کہ وہ صحیح معنوں میں خوش ہوجائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
ولسوف یرضیٰ (21:92) ” اور ضرور وہ خوش ہوگا “۔ اس متقی کے کاسہ دل کو رضا سے بھر دیا جائے گا ، اس کی روح رضا سے بھر جائے گی ، اس کے تمام اعضاء راضی برضا ہوجائیں گے ، اس کے وجود کے روئیں روئیں میں رضامندی سرایت کرجائے گی اور اس کی پوری زندگی تروتازہ ہوجائے گی۔ کیا ہی خوب جزاء ہے اور کیا ہی خوب اور عظیم نعمت ہے یہ ! ولسوف یرضی (21:92) ” اور ضرور وہ خوش ہوگا “۔ اپنے دین پر خوش ہوگا ، اپنے رب سے راضی ہوگا ، اپنی تقدیر پر راضی ہوگا ، اپنے نصیبے پر راضی ہوگا۔ خوشی اور غم دونوں پر راضی ہوگا ، مالداری اور ناداری دونوں پر راضی ہوگا ، آسانی اور مشکل دونوں پر راضی ہوگا۔ نرمی اور سختی دونوں پر راضی ہوگا ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
6 یعنی خرچ کرنے سے کسی مخلوق کے احسان کا بدلہ اتارنا مقصود نہیں۔ بلکہ خالص رضاء مولیٰ کی طلب اور دیدار الہٰی کی تمنا میں گھر بار لٹا رہا ہے، تو وہ اطمینان رکھے کہ اسے ضرور خوش کردیا جائے گا، اور اس کی یہ تمنا ضرور پوری ہو کر رہے گی۔ " ان اللہ لا یضیع اجرالمحسنین۔ " (تنبیہ) اگرچہ مضمون آیات کا عام لیکن روایات کثیر شاہد ہیں کہ ان آخری آیات کا نزول سیدنا حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی شان میں ہوا۔ اور یہ بہت بڑی دلیل ان کی فضیلت و برتری کی ہے زہے نصیب اس بندے کے جس کے اتقاء ہونے کی تصدیق آسمان سے ہو۔ ( اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْ ) 49 ۔ الحجرات :13) اور خود حضرت حق سے اس کو ولسوف یرضٰی…
Read the full tafseer →آیت 21{ وَلَسَوْفَ یَرْضٰی۔ } ”اور وہ عنقریب راضی ہوجائے گا۔“ یہاں پر یَرْضٰی کی ضمیر کا اشارہ بیک وقت اللہ تعالیٰ کی طرف بھی ہے اور اس شخصیت کی طرف بھی جس کی صفات کا ذکر ان آیات میں ہو رہا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ بھی راضی ہوجائے گا اور ابوبکر صدیق رض بھی راضی ہوجائیں گے۔ گویا یہ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمْ وَرَضُوْا عَنْہُ جیسی بشارت ہے کہ اگر اللہ کا یہ بندہ اپنا مال صرف اللہ تعالیٰ کی رضاجوئی کے لیے لٹارہا ہے تو اللہ تعالیٰ ضرور اس سے راضی ہوجائے گا اور پھر اللہ تعالیٰ اس کو آخرت میں اتنا کچھ عطا کرے گا کہ وہ بھی خوش ہوجائے گا۔ یہاں یہ اہم نکتہ بھی نوٹ کر لیجیے کہ معنوی اعتبار سے اس آیت کا اگلی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–21
9 یعنی جو مال اس نے خرچ کیا اس سے شہرت یا نمود و نمائش مقصود نہیں تھی بلکہ مقصود یہ تھا کہ اس کا دل بخل کے مرض سے پاک ہوجائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
9۔ (ان نعمتوں سے جو اسے جنت میں حاصل ہوں گی) حدیث صحیح میں آیا ہے کہ یہ بشارت جب نازل ہوئی، تو حضور ﷺ نے دوسری بڑی بشارت اپنی زبان مبارک سے دی، یعنی یہ فرماما کہ میں تو اسی وقت خوش ومطمئن ہوں گا، جب میری امت میں سے ایک فرد بھی دوزخ میں نہ رہ جائے، مفسرین نے کہا ہے کہ آیت سے اشارہ خصوصی صدیق امت حضرت ابوبکر ؓ کی جانب ہے، جس طرح کہ اس سے قبل کی آیتوں میں اس کے مقابل (آیت) ” الاشقی “۔ سے اشارۂ خصوصی ابوجہل کی طرف ہے۔ (آیت) ” ولسوف “ ‘۔ ل تاکید مضمون کے لئے ہے۔ واللام الداخلۃ علی سوف لام الابتداء المؤکدۃ لمضمون الجملۃ (مدارک) آیت سے مومن متقی کے کمال اخلاص کا اظہار منظور ہے۔ کسی کے احسان کا بدلہ…
Read the full tafseer →ولسوف یرضی یعنی جس شخص نے اپنا مال خرچ کرنے میں صرف اللہ ت عالیٰ کی رضا کو دیکھا اپنا کوئی دنیوی فائدہ پیش نظر نہ رکھا تو اللہ تعالیٰ بھی آخرت میں اس کو راضی فرما دیں گے، شان نزول کے واقعہ سے ان آیات کا صدیق اکبر ؓ کی شان میں نازل ہونا ثابت ہے اس لئے یہ آخری کلمہ صدیق اکبر ؓ کے لئے عظیم خوشخبری اور اعزاز ہے کہ ان کو دنیا ہی میں اللہ کی طرف سے راضی کردیئے جانے کی خوشخبری سنا دی گئی۔
Read the full tafseer →ولسوف یرضی . اور اللہ اس کے اس فعل سے ضرور راضی ہوگا یا وہ اللہ کی عطاء کردہ جزاء اور عزت سے آخرت میں خوش بھی ہوجائے گا۔ یہ آیت حضرت ابوبکر ؓ کے متعلق اسی طرح ہے جس طرح رسول اللہ ﷺ کو خطاب کر کے اللہ نے فرمایا ہے : ولسوف یعطیک ربک فترضٰی۔ انبیاء کے علاوہ حضرت ابوبکر ؓ کا سب لوگوں سے زیادہ متقی ہونا بتارہا ہے کہ آپ سب سے افضل بھی تھے کیونکہ اللہ نے فرمایا : ان اکرمکم عند اللہ اتقٰکم۔ اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ معزز تم میں سے وہی ہے جو سب سے زیادہ متقی ہو۔ اجماع اہل سنت بھی اسی پر ہے۔ حضرت ابن عمر ؓ نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں ہم حضرت ابوبکر ؓ کے ہم پلہ کسی کو نہیں سمجھتے تھے۔ آپ ؓ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–21
(17۔ 21) اور دوزخ سے ایسا شخص یعنی حضرت ابوبکر صدیق دور رکھا رکھا جائے گا جو بڑا پرہیزگار ہے اور جو اپنا مال اللہ کی راہ میں محض اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے خرچ کرتا ہے سوائے اپنے عالیشان پروردگار کی رضا جوئی کے اس کے ذمہ کسی کا احسان نہ تھا کہ اس دینے سے اس کا بدلہ اتارنا مقصود ہو اور حضرت ابوبکر صدیق کو اس قدر ثواب اور بدلہ عطا کیا جائے گا کہ وہ خوش ہوجائیں گے۔
Read the full tafseer →(ولسوف یرضی :) یعنی جنت کی بےبہا نعمتیں اور بلند مراتب پا کر ضرور خوش ہوگا۔ اکثر مفسرین نے صحیح احادیث و آثار کی رو سے کہا ہے کہ اس سورت میں خرچ کرنے والے سے مراد ابوبکر صدیق ؓ ہیں کہ وہ کمزور مسلمان غلاموں کو کفار کے مظالم سے بچانے کے لئے خرید کر آزاد کردیتے اور نیکی کا ہر کام خوشی خوشی محض رضا الٰہی کے لئے کرتے تھے۔ یقیناً ابوبکر صدیق ؓ عنہماان آیات کا اولین مصداق ہیں مگر الفاظ عام ہیں، اس لئے ان میں ہر وہ مسلمان داخل ہے جو ان صفات کا حامل ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
تفسیر 19 تا 21 وہ اس لیے صدقہ نہیں کرتا کہ وہ کسی احسان کا بدلہ اسے دینا ہو بجز اس کے کہ وہ اپنے برتر پروردگار کی خوشنودگی کا طلب گار ہے اور وہ ضرور (اس سے) خوش ہوگا۔ اور وہ اسلیے بھی صدقہ نہیں کرتا کہ وہ کسی احسان کا بدلہ چکائے وہ تو اپنے عظیم رب کی رضا چاہتا ہے وہ جزا پر ضرور راضی ہوگا عطا اور ضحاک نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ مشرکوں نے حضرت بلال کو اذیتیں دیں اور حضرت بلال احد، احد، کہتے نبی کریم ان کے پاس سے گزرے تو ارشاد فرمایا، احد تجھے نجات دے گا۔ پھر حضرت ابوبکر سے فرمایا، اے ابابکر، حضرت بلال کو اللہ کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے حضرت ابوبکر صدیق رسول اللہ ﷺ کا ارادہ بھانپ گئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
41۔ البزار وابن جریر وابن المنذر والطبرانی وابن عدی وابن مردویہ وابن عساکر نے دوسری سند سے عامر بن الزبیر ؓ سے روایت وما لا حد عندہ من نعمۃ تجزی الا ابتغاء وجہ ربہ الاعلی۔ ولسوف یرضی۔ ابوبکر صدیق ؓ کے بارے میں نازل ہوئی۔ 42۔ ابن جریر نے سعید ؓ سے روایت کیا کہ یہ آیت وما لاحد عندہ من نعمۃ تجزی ابوبکر ؓ کے بارے میں نازل ہوئی کہ انہوں نے ایسے لوگوں کو آزاد کیا جن میں نہ کسی جزاء اور بدلے کی طلب کی اور نہ شکر کی امدی رکھی اور وہ چھ یا سات افراد تھے جن کو خرید کر آزاد کیا ان میں سے بلال اور عامر بن فہیرہ ؓ وغیرہ ہیں۔ 43۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آتی وسیجنبہا الاتقی اور اس آگ سے وہ…
Read the full tafseer →[وَلَسَوْفَ يَرْضٰى: اور یقینا عنقریب وہ راضی ہوگا ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
﴿وَ مَا لِاَحَدٍ عِنْدَهٗ مِنْ نِّعْمَةٍ تُجْزٰۤىۙ0019﴾ جو فرمایا ہے اس میں اسی بات کی فضیلت بیان فرمائی ہے یہ مطلب نہیں کہ بطور مکافات کسی کے ساتھ احسان کیا جائے تو اس میں ثواب نہ ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–21
تقسیم جہو عملیہ در حیات انسانی وترتب ثمرات سعادت وشقاوت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والیل اذا یغشی ....... الی ......... ولسوف یرضی “۔ (ربط) گزشتہ سورت میں فوز و فلاح اور شقاوت وبدنصیبی کے اسباب پر کلام تھا اور یہ کہ انسانی نفس اگر طہارت وتزکیہ سے آراستہ ہو تو اس پر دنیا کی عزت وسربلندی اور آخرت کی کامیابی نصیب ہوتی ہے اور اگر نفس کو شہوات کی گندگی میں آلودہ کرلیا جائے تو انسانی شرف سے محرومی کے بعد دنیا کی تباہی اور عذاب آخرت میں مبتلا ہونے کے سوا کوئی نتیجہ نہیں ہوتا، اور دنیا میں بڑی سے بڑی طاقت ور قومیں اسی شقاوت وبدنصیبی کا شکار ہو کر ہلاک ہوئیں اور تاریخ عالم اس کی گواہی دیتی ہے، تو اب…
Read the full tafseer →8:۔ ” ولسوف یرضی “ بہت جلد وہ اللہ تعالیٰ سے راضی ہوجائے گا۔ اس نے ہر کام اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے کیا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ اس کو آخرت میں اس قدر اجر وثواب عطا فرمائے گا کہ وہ بھی راضی ہوجائے گا۔ ای سوف یعطیہ فی الجنۃ مایرضی وذالک انہ یعطیہ اضعافا انفق (قرطبی ج 20 ص 89) ۔ مفسرین کا تقریبا اس پر اتفاق ہے کہ یہ آیتیں حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے حق میں نازل ہوئی ہیں۔ اس سے حضرت صدیق اکبر ؓ کے نہایت اعلی اوصاف معلوم ہوتے ہیں کہ وہ انبیاء (علیہم السلام) کے بعد سب سے زیادہ متقی اور پرہیز گار تھے اور انہوں نے اللہ کی راہ میں جو کچھ خرچ کیا یا جو غلام آزاد کیے یہ سب کچھ انہوں نے ریاء و نمائش کے لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–21
گزشتہ سے پیوستہ گزشتہ درس میں یہ بیان ہوا تھا کہ جس طرح رات اور دن میں اختلاف ہے اور جس طرح نر اور مادہ میں اختلاف ہے اسی طرح انسانوں کی سعی اور کوشش میں بھی اختلاف ہے۔ جس کی کوشش اس طرح کی ہے کہ اس نے مال اللہ کی راہ میں خرچ کیا اور خدا تعالیٰ سے ڈرتا رہا برائیں سے بچتا رہا پھر اچھی بات یعنی کلمہ توحید اور کلمہ ایمان کی تصدیق کی ، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم اس کو آہستہ آہستہ آسانی تک پہنچائیں گے اور جس نے بخل کیا ، مال کو راہ خدا میں صرف نہ کیا۔ کنجوسی سے اکم لیا اور اپنی جگہ مستغنی یعنی بےپرواہ رہا ، آخرت کی فکر نہ کی آخرت کی تکذیب کی۔ کلمہ توحید کی تکذیب کی۔ تو ہم اس کو آہستہ آہستہ…
Read the full tafseer →وَلَسَوْفَ يَرْضٰى 21 رضي يقال : رَضِيَ يَرْضَى رِضًا، فهو مَرْضِيٌّ ومَرْضُوٌّ. ورِضَا العبد عن اللہ : أن لا يكره ما يجري به قضاؤه، ورِضَا اللہ عن العبد هو أن يراه مؤتمرا لأمره، ومنتهيا عن نهيه، قال اللہ تعالی: رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ [ المائدة/ 119] ، وقال تعالی: لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ [ الفتح/ 18] ، وقال تعالی: وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلامَ دِيناً [ المائدة/ 3] ، وقال تعالی: أَرَضِيتُمْ بِالْحَياةِ الدُّنْيا مِنَ الْآخِرَةِ [ التوبة/ 38] ، وقال تعالی: يُرْضُونَكُمْ بِأَفْواهِهِمْ وَتَأْبى قُلُوبُهُمْ [ التوبة/ 8] ، وقال عزّ وجلّ : وَلا يَحْزَنَّ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–21
ترکیب ¦ للھدٰی اسم ان علینا خبرھا۔ ای علینا ان نبی ن طریق الھدٰی من طریق الضلال وقدفعلنا ذلک حیث بینا طریق کلا الفریقین ترغیبًا و ترہیبًا۔ قالہ الزجاج للآخرۃ معطوف علیہ والاولیٰ معطوف وکلاھما ان اسم ان لنا خبرھا والجملۃ معطوفتہ علی الجملۃ السابقۃ ومعناہ لنا کل ما فی الآخرۃ وکل ما فی الدنیا فمن ارادھما فلیطلب منا تلظٰی صفۃ نار و اصلہ تتلظی فحذفت احدی التاء ین تخفیفاً وقری علی الاصل ومعناہ تتوقد وتتلھب یقال تلظت النار تلظیا ومنہ سمیت جہنم لظٰی لا یصلاھا الجملۃ صفۃ ناروھوبیان لمنھی الا الاشقٰی استثناء متصل ای لا ید خلھا دخولا موبدا احد الا الاشقیٰ وھو الکافر والمشرک الذی کذب وتولیٰ وصف للاشقی…
Read the full tafseer →وَلَسَوْفَ یَرْضٰی۔ (الیل : 21) (وہ ضرور اس سے خوش ہوگا۔ ) یَرْضٰیکا فاعل اللہ تعالیٰ اور صدیق اکبر دونوں ہوسکتے ہیں۔ اگر فاعل اللہ تعالیٰ ہو تو جملہ کا مطلب یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ ابوبکر پر راضی ہوجائے گا۔ اس کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے جس طرح اس نے اپنا سب کچھ قربان کردیا ہے اس کی رضا اس کو حاصل ہوجائے گی۔ اور اگر فاعل ابوبکر صدیق ہوں تو مطلب یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ اپنی نعمتوں کی ایسی بارش فرمائیں گے کہ ابوبکر اپنے رب کریم کے لطف و کرم اور جودوعطاء کو دیکھ کر نہال ہوجائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–21
فہم القرآن ربط کلام : بدبخت شخص کے مقابلے میں نیک بخت کا کردار اور اس کا انعام۔ جہنم سے ہر وہ شخص دور رکھا جائے گا جس نے کفر و شرک سے توبہ کی اور اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی سے بچتا رہا اور اس نے اپنے مال کو پاک کرنے اور اپنے آپ کو بخل سے بچانے کے لیے صدقہ کیا۔ وہ کسی پر صدقہ اس لیے نہیں کرتا کہ اس نے اس کے احسان کا بدلہ چکانا ہے۔ کسی کے احسان کا بدلہ احسان کے ساتھ دینا نہایت ہی بہتر عمل ہے لیکن بہترین صدقہ یہ ہے کہ جس پر وہ خرچ کررہا ہے اس میں اللہ تعالیٰ کی رضا کے سوا کسی قسم کا مفاد نہ پایا جائے۔ اسی بات کو سورة الدّھر میں یوں بیان کیا گیا ہے۔ ” اور اللہ کی محبت میں مسکین اور یتیم اور…
Read the full tafseer →21 : وَلَسَوْفَ یَرْضٰی (یہ شخص عنقریب خوش ہوجائے گا) اس میں اس ثواب کا وعدہ کیا گیا ہے جو اس کو راضی اور اس کی آنکھوں کو ٹھنڈک بخشے گا اور یہ اس ارشاد الٰہی کی طرح ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی حضرت محمد ﷺ کو فرمایا۔ وَلَسَوْفَ یُعْطِیْکَ رَبُّکَ فَتَرْضٰی ] الضحٰی : 5[
Read the full tafseer →21 ۔” ولسوف یرضیٰ “ اس کے ساتھ جو اس کو اللہ تعالیٰ آخرت میں دیں گے جنت اور اعزاز اس پر جوا س نے کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–21
12۔ 21۔ مستدرک حاکم 2 ؎ مسند بزار تفسیر ابن ابی حاتم وغیرہ میں جو روایتیں ہیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ حضرت بلال ؓ اور عامر بن فہیرہ اور زنیرہ وغیرہ میں یہ سات شخص لونڈی غلام ایسے تھے جو اسلام لے آئے تھے اور وہ مشرک لوگ جن کے یہ لونڈی غلام تھے ان پر روز طرح طرح کی سختی اور مار پیٹ کیا کرتے تھے حضرت ابوبکر صدیق نے ان ساتوں مرد و عورتوں کو ان کے مشرک آقاؤں سے خرید کیا اور ساتوں شخصوں کو آزاد کردیا۔ حضرت ابوبکر صدیق کے باپ ابوقحافہ نے ایک روز حضرت ابوبکر صدیق سے کہا کہ تم کو اگر غلام آزاد کرنے منظور تھے ایسے قوی لوگ آزاد کئے ہوتے جو وقت پڑے پر تمہاری کچھ مدد کرسکتے۔ ان عورتوں کے آزاد کرنے سے کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
(وَمَا لِاَحَدٍ عِنْدَهٗ مِنْ نِّعْمَةٍ تُجْزٰٓى) یعنی اس متقی پر مخلوق میں سے کسی کا کوئی احسان نہیں کہ جس کا بدلہ دیا جا رہا ہو، اس نے نعمت کا بدلہ اتار دیا ہے بسا اوقت لوگوں پر اس کا فضل و احسان باقی رہ جاتا ہے پس وہ بندے پر اللہ تعالیٰ کے لیے مخلصانہ ہمدردی وخیر خواہی کرتا ہے کیونکہ وہ اکیلے اللہ تعالیٰ کے احسان ہی کے زیر بار ہے۔ رہا وہ شخص جس پر لوگوں کا احسان باقی ہے اور اس نے اس کا بدلہ نہیں دیا تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ لوگوں کے لیے چھوڑ دیا جائے گا جس کی وجہ سے وہ ان کی خاطر کوئی ایسا فعل سرانجام دے گا جو اس کے اخلاص میں نقص ڈالے گا۔ آیت کریمہ کا مصداق اگرچہ حضرت ابوبکر صدیق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–21
14 ۔ انجام اور مآل کار کی تذکیر و یاد دہانی : سو آخر میں انجام اور مآل کار کی تذکیر و یاد دہانی کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ میں نے تم لوگوں کو خبردار کردیا دہکتی بھڑکتی آگ سے جس میں وہی داخل ہوگا جو سب سے بڑا بدبخت ہوگا جس نے حق کو جھٹلایا اور اس سے منہ موڑا اور اس سے بچا لیا جائے گا اس خدا ترس کو جو اپنا مال دیتا ہے تاکہ وہ پاک ہوجائے۔ مال کی محبت اور دوسرے اخلاقی رذائل سے کیونکہ مال کی محبت جب کسی کے دل میں جڑ پکڑ لیتی ہے والعیاذ باللہ تو اس سے آگے کئی طرح کے مفاسد جنم لیتے اور خرابیاں رونما ہوتی ہیں، سو ایسا شخص اس طرح کے مفاسد سے بچنے اور ایسی خرابیوں سے پاک ہونے کے لیے اپنا مال خرچ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–21
اچھی بری نیت اعمال اور بدلہ تشریح : اس سورت میں اللہ تعالیٰ قسم کھاتے ہیں کہ دن رات کی نرو مادہ کی اور خود اپنی ' اس بات کے لیے کہ ہر انسان کی فطرت انداز اور ماحول فرق ہوتا ہے اور انہی حالات کے مطابق سب کا رویہ بھی فرق ہوتا ہے یہ حقیقت ہے کہ ہر شخص کے کام کا انداز فرق ہوتا ہے اور پھر یہ اعمال کا انداز دوراہوں میں منقسم ہے۔ یعنی کچھ تو نیک فطرت ہوتے ہیں ان کو شیطان کتنا ہی بہلائے مگر وہ اس کا شکار نہیں ہوتے یعنی ان کی سرشت میں نیکی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے ان کو برا راستہ ' برے کام اور برے لوگ بالکل اچھے نہیں لگتے یعنی ان کو کوئی بھی لالچ برائی پر آمادہ نہیں کرسکتا وہ کہتے ہیں کہ کسی کو دیکھ کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–21
سورة اللیل۔ آیات 1 تا 21۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے رات کی جب چھاجاتی ہے اور دن کی جب روشن ہوتا ہے اور اس کی جس نے بقائے نسل کے لیے ایک جیسے دو بندوں کو نرومادہ پیدا فرمادیا یعنی یہ سب نظام اس بات پر گواہ ہے کہ تمہاری محنت ومشقت بھی دو طرح سے ہے جس طرح رات کا اثر تاریکی اور دن کا اجالا ہے یانر کا کام الگ اور مادہ کے اوصاف الگ ہیں ایسے ہی تمہارے کردار کے نتائج دو طرح کے ہیں کہ جن لوگوں نے دینے کارویہ اپنایا اور اللہ کی محبت اور قربت کی تلاش میں اپنایا اور ارشادات نبوی کی تصدیق کی دل سے زبان سے اور کردار سے۔ دینے کارویہ۔ زندگی کا مدار دینے پر ہے سورج ، چاند ، ہوا ، بادل ، بارش ، روئیدگی ، پیداوار سب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
ف 13 یعنی آخرت میں بیش بہا نعمتیں اور بلند مرتاب پا کر خوش ہوجائے گا۔
Read the full tafseer →(92:21) ولسوف یرضی۔ واؤ عاطفہ۔ لام موطتہ القسم ہے۔ ای وت اللہ لسوف یرضی بما نؤتیہ من الاجر العظیم۔ خدا کی قسم وہ عنقریب اس اجر عظیم پر خوش ہوجائے گا جو اسے دیا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–21
لغات القرآن۔ شتی۔ مختلف۔ الگ الگ۔ نیسر۔ ہم آسان کردیں گے۔ العسری۔ تنگی۔ تردی۔ وہ نیچے گرا۔ تلظی۔ بھڑک دار۔ یجنب۔ بچ جائے گا۔ تشریح : اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں رات، دن، نر اور مادہ کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ جس طرح رات دن سے اور نر مادہ سے الگ اور مختلف چیزیں ہیں اسی طرح دنیا میں جتنے بھی انسان، ان کے گروہ اور قومیں ہیں وہ اپنے عمل اور کوششوں میں بہت مختلف ہیں۔ رات کے وقت دن کا تصور اور دن میں رات کا تصور ممکن نہیں ہے۔ نر مادہ ہوسکتا اور مادہ نر نہیں ہوسکتی اسی طرح نیکی اور برائیوں پر چلنے والے بھی اپنے انجام کے اعتبار سے یکساں نہیں ہوسکتے۔ ایک وہ شخص ہے جو نہایت خلوص اور اللہ کی رضا کے لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
(ف 1) شان نزول : جب حضرت صدیق اکبر نے حضرت بلال کو بہت گراں قیمت پر خریدا اور آزاد کیا تو کفار کو حیرت ہوئی اور انہوں نے کہا کہ حضرت صدیق اکبر نے ایسا کیوں کیا ؟ شاید بلال کا ان پر کوئی احسان ہوگا، جو انہوں نے اتنی گراں قیمت دے کر خریدا اور آزاد کیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور ظاہر فرمادیا کہ حضرت صدیق اکبر کا یہ فعل محض اللہ کی رضا کے لیے ہے کسی کے احسان کا بدلہ نہیں، اور نہ ان پر بلال وغیرہ کا کوئی احسان ہے ، حضرت صدیق اکبر نے بہت سے لوگوں کو ان کے اسلام کے سبب خرید کر آزاد کردیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–21
[6] یعنی ہماری حکمت اس کی مقتضی نہیں کہ کسی آدمی کو زبردستی نیک یا بد بننے پر مجبور کردیں۔ ہاں یہ ہم نے اپنے ذمے لیا ہے کہ لوگوں کو نیکی اور بدی کی راہ سمجھا دیں۔ پھر جو شخص جو راہ اختیار کرے دنیا اور آخرت میں اسی کے موافق ہم اس سے برتاؤ کریں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–21
سورة الیل 1 ۔ یعنی جس طرح تاریک رات اور روشن دن میں اختلاف ہے اور خدا کی اس تقسیم میں اختلاف ہے اللہ تعالیٰ نے مرد کو بھی پیدا کیا اور عورت کو بھی ۔ نر کو بھی اور مادہ کو بھی ۔ اسی طرح کفر و ایمان کی مساعی یکساں نہیں ہیں ۔ نہ فطرت اور ساخت کے اعتبار سے اور نہ نتائج وثمرات کے اعتبار سے ۔ کفر ہمہ تاریکی ہے اور ایمان ہمہ روشنی ۔ کفر انوثیت اور نامرادی ہے اور ایمان جرات وجسارت ۔ نتائج وثمرات کے لحاظ سے بھی دونوں مختلف ہیں ۔ وہ شخص جو دولت ایمان سے بہرہ مندی کی وجہ سے اس کی راہ میں اپنا مال صرف کرتا ہے اور اس سے ڈرتا ہے اور ہر نیک بات کی عمل سے تصدیق کرتا ہے ۔ اس کے لئے تیسیر کی نعمتیں اس کی طرف…
Read the full tafseer →(21) اور یہ شخص عنقریب خوش ہوجائیگا - یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو بزرگی اور اجروثواب اور سعادت دارین اس کو عطا ہوگی وہ اس سے خوش اور راضی ہوجائیگا۔ ہرچند کہ سورة والیل کا مقہوم عام ہے لیکن جمہور مفسرین نے اس سورت کا تعلق اور اس کے شان نزول میں حضرت صدیق اکبر ؓ اور امیہ بن خلف کا ذکر کیا ہے، موخرالذکر ایک ملعون منکر تھا جو مکہ میں بڑا مالدار اور بہت سے لونڈی غلاموں کا مالک تھا اور اس کا جو غلام یا لونڈی اسلام قبول کرلیا کرتا تھا اس کو بہت تکلیف دیتا تھا اور بہت مارتا تھا اور اس کو اسلام ترک کرنے پر مجبور کردیا کرتا تھا مال خرچ کرنے میں بڑا بخیل تھا توحید الٰہی کا مخالف نبی کریم ﷺ کا بدترین…
Read the full tafseer →ف 9۔ ایک بار آپ نے کسی بیماری کی وجہ سے دو تین رات شب بیداری نہ کی، ایک کافرہ نے کہا معلوم ہوتا ہے کہ تمہارے شیطان نے تم کو چھوڑ دیا ہے دیر ہوگئی، اس پر یہ سورت نازل ہوئی۔
Read the full tafseer →اور وعدہ الٰہی ہے کہ وہ شخص عنقریب خوش ہوجائے گا 21 ؎ بندہ جب اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور رضا چاہے گا تو پھر ایسا کیوں نہیں ہوگا کہ اس کا اللہ اس سے راضی ہوجائے ، وہ ضرور اپنے بندہ سے راضی ہوجائے گا کیونکہ اس کا وعدہ ہے کہ جو شخص اس کی طرف ایک بالشت آگے بڑھتا ہے وہ اس کی طرف ایک ہاتھ بڑھتا ہے اور جو شخص اس کی طرف ایک ہاتھ بڑھے وہ اس کی طرف ایک باغ بڑھتا ہے۔ ( برضیٰ ) کا فاعل کون ہے ؟ اگر فاعل اللہ تعالیٰ ہے تو اوپر بیان کیا گیا مضمون صادق آتا ہے اور اگر فاعل بندہ ہے تو اس کا مفہوم یہ ہو سکتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اپنے بندہ پر اپنی نعمتوں کی بارش کرے گا تو یقینا بندہ بھی اپنے رب کریم کے لطف و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
وَمَا لِأَحَدٍ عِندَهُ مِن نِّعْمَةٍ تُجْزَىٰ (while no one has conferred any favour on him for which he would give a return,...92:19) Sayyidna Abu Bakr ؓ did this great favour by spending abundant wealth. The emancipated slaves had not done him any favour in the past, so that one could say that he was returning their favour. He took this step for one purpose only as the verse says: إِلَّا ابْتِغَاءَ وَجْهِ رَبِّهِ الْأَعْلَىٰ (but [ he gave his wealth in charity ] only to seek the Countenance of his Lord, the Most High....92:20). Mustadrak of Hakim records that it was a usual practice of…
Read the full tafseer →11 This verse can have two meanings and both are correct: (1) "That Allah certainly will be well pleased with him;" and (2) "that Allah soon will bless this man with so much that he will be happy."
Read the full tafseer →