92. Surah Al-Lail

الليلThe Night · 21 ayahsبیان القرآن

Ayahs 92:1–7

وَ الَّیْلِ اِذَا یَغْشٰىۙ Open ayah 92:1 in the Quran reader

قسم ہے رات کی جب وہ (آفتاب کو اور دن کو) چھپا لے۔

وَ النَّهَارِ اِذَا تَجَلّٰىۙ Open ayah 92:2 in the Quran reader

اور (قسم ہے) دن کی جب کہ وہ روشن ہوجاوے۔

وَ مَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَ الْاُنْثٰۤىۙ Open ayah 92:3 in the Quran reader

اور قسم ہے اس (ذات) کی جس نے نر اور مادہ کو پیدا کیا۔

اِنَّ سَعْیَكُمْ لَشَتّٰىؕ Open ayah 92:4 in the Quran reader

کہ بیشک تمہاری کوشش (یعنی اعمال) مختلف ہیں۔

فَاَمَّا مَنْ اَعْطٰى وَ اتَّقٰىۙ Open ayah 92:5 in the Quran reader

سو جس نے (حقوق واجبہ سے) بخل کیا اور (بجائے خدا سے ڈرنے کے خدا سے) بےپروائی اختیار کی۔

وَ صَدَّقَ بِالْحُسْنٰىۙ Open ayah 92:6 in the Quran reader

اور اچھی بات (یعنی ملت اسلام) سچا سمجھا۔

فَسَنُیَسِّرُهٗ لِلْیُسْرٰىؕ Open ayah 92:7 in the Quran reader

تو ہم اس کو راحت کی چیز کے لیے سامان دے دیں گے۔ (ف 4)

ف 4۔ تکلیف کی چیز سے بدعمل اور بواسطہ بدعمل کے دوزخ مراد ہے کہ عسر کا سبب اور محل ہے، اس لئے اس عسر کو عسری کہہ دیا گیا۔ اور سامان دینے سے مراد دونوں جگہ یہ ہے کہ اچھے یا برے کام اس سے بےتکلف سرزد ہوں گے اور ویسے ہی اسباب جمع ہوجائیں گے اور پھر نیک اعمال کا سامان جنت ہونا اور اعمال بد کا سامان دوزخ ہونا ظاہر ہی ہے۔ حدیث میں ہے فاما من کان من اھل السعادة فسیسیر لعمل اھل السعادة و کذا فی الشقاوة۔
Ayahs 92:8–10

وَ اَمَّا مَنْۢ بَخِلَ وَ اسْتَغْنٰىۙ Open ayah 92:8 in the Quran reader

اور جس نے (حقوق واجبہ سے) بخل کیا اور (بجائے خدا سے ڈرنے کے خدا سے) بےپروائی اختیار کی۔

وَ كَذَّبَ بِالْحُسْنٰىۙ Open ayah 92:9 in the Quran reader

اور اچھی بات (یعنی اسلام) کو جھٹلایا۔

فَسَنُیَسِّرُهٗ لِلْعُسْرٰىؕ Open ayah 92:10 in the Quran reader

تو ہم اس کو تکلیف کی چیز کے لیے سامان دے دیں گے۔ (ف 5)

5۔ یعنی دونوں میں ہماری ہی حکومت ہے، اس لئے دنیا میں ہم نے احکام مقرر کئے اور آخرت میں ان کی مخالفت و موافقت پر سزا و جزا دیں گے جس کا بیان دو جگہ فسنیسرہ میں ہوا ہے۔
Ayahs 92:11–13

وَ مَا یُغْنِیْ عَنْهُ مَالُهٗۤ اِذَا تَرَدّٰىؕ Open ayah 92:11 in the Quran reader

اور اس کا مال اس کے کچھ کام نہ آوے گا جب وہ برباد ہونے لگے گا۔

اِنَّ عَلَیْنَا لَلْهُدٰى٘ۖ Open ayah 92:12 in the Quran reader

(بربادی سے مراد جہنم میں جانا ہے) واقعی ہمارے ذمہ راہ کا بتلا دینا ہے۔

وَ اِنَّ لَنَا لَلْاٰخِرَةَ وَ الْاُوْلٰى Open ayah 92:13 in the Quran reader

اور (جیسا راہ کوئی شخص اختیار کرے گا ویسا ہی ثمرہ اس کو دیں گے کیونکہ ہمارے ہی قبضہ میں ہے آخرت اور دنیا۔ (ف 6)

ف 6۔ تاکہ ایمان وطاعت اختیار کر کے اس سے بچو اور کفر و معصیت اختیار کر کے اس میں نہ جاو کیونکہ اس میں جانے اور نہ جانے کی یہی اسباب ہیں۔
Ayah 92:14

فَاَنْذَرْتُكُمْ نَارًا تَلَظّٰىۚ Open ayah 92:14 in the Quran reader

(آگے بطور تو ضیح کے ارشاد ہے کہ) تو میں تم کو ایک بڑھکتی ہوئی آگ سے ڈرا چکا ہوں۔ (ف 7)

ف 7۔ اس میں نہایت ہی مبالغہ ہے اخلاص میں کیونکہ کسی کے احسان کا بدلہ اتارنا بھی فی نفسہ انفاق مندوب و مطلوب ہے، مگر فضیلت میں احساب ابتدائی کی برابر نہیں، پس جب اس شخص کا انفاق اس سے بھی مبرا ہے تو ریا وغیرہ معاصی کی آمیزش سے تو بدرجہ اولی بری ہوگا اور یہ کمال اخلاص ہے۔
Ayahs 92:15–20

لَا یَصْلٰىهَاۤ اِلَّا الْاَشْقَىۙ Open ayah 92:15 in the Quran reader

اس میں (ہمیشہ کے لیے وہی بدبخت داخل ہوگا جس نے (دین حق کو) جھٹلایا۔

الَّذِیْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰىؕ Open ayah 92:16 in the Quran reader

اور (اس سے) روگردانی کی۔

وَ سَیُجَنَّبُهَا الْاَتْقَىۙ Open ayah 92:17 in the Quran reader

اور اس سے ایسا شخص دور رکھا جاویگا جو بڑا پرہیزگار ہے۔

الَّذِیْ یُؤْتِیْ مَالَهٗ یَتَزَكّٰىۚ Open ayah 92:18 in the Quran reader

جو اپنا مال (محض) اس غرض سے دیتا ہے کہ (گناہوں سے) پاک ہوجاوے۔

وَ مَا لِاَحَدٍ عِنْدَهٗ مِنْ نِّعْمَةٍ تُجْزٰۤىۙ Open ayah 92:19 in the Quran reader

اور بجز اپنے عالی شان پروردگار کی رضا جوئی کے (کہ یہی اس کا مقصود ہے) اس کے ذمہ کسی کا احسان نہ تھا کہ (اس دینے سے) ۔

اِلَّا ابْتِغَآءَ وَجْهِ رَبِّهِ الْاَعْلٰىۚ Open ayah 92:20 in the Quran reader

اس کا بدلہ اتارنا (مقصود) ہو۔ (ف 8)

ف 8۔ ہرچند کہ آیت کے الفاظ عام ہیں مگر اس کا سبب حضرت ابوبکر صدیق ؓ کا واقعہ ہے کہ انہوں نے حضرت بلال ؓ کو کافروں سے خرید کر للہ آزاد کردیا تھا۔
Ayah 92:21

وَ لَسَوْفَ یَرْضٰى۠ Open ayah 92:21 in the Quran reader

اور یہ شخص عنقریب خوش ہوجاوے گا (ف 9) (یعنی آخرت میں ایسی ایسی نعمتیں ملیں گی) ۔

ف 9۔ ایک بار آپ نے کسی بیماری کی وجہ سے دو تین رات شب بیداری نہ کی، ایک کافرہ نے کہا معلوم ہوتا ہے کہ تمہارے شیطان نے تم کو چھوڑ دیا ہے دیر ہوگئی، اس پر یہ سورت نازل ہوئی۔