Ayahs 92:1–3(1۔ 3) قسم ہے رات کی جب وہ دن کی روشنی کو چھپا لے، اور قسم ہے دن کی جب وہ رات کی تاریکی کو روشن کردے اور قسم ہے اس ذات کی جس نے نر و مادہ کو پیدا کیا۔
شان نزول : وَالَّيْلِ اِذَا يَغْشٰى، وَالنَّهَارِ اِذَا تَجَلّٰى الخ۔
ابن ابی حاتم نے حکم بن ابان عن عکرمہ کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ ایک شخص کا کھجوروں کا درخت تھا اور کھجور کی شاخیں ایک محتاج بال بچوں والے کے مکان پر تھیں چناچہ جب وہ شخص باغ میں آتا اور کھجور کے درخت پر چڑھتا تاکہ اس کا پھل توڑے تو بعض اوقات کوئی کھجور نیچے گر جاتی تھی جس کو اس محتاج کے بچے اٹھا لیتے تو فوراً درخت سے اتر کر کھجور کو ان کے ہاتھوں میں سے لے لیتا تھا اور اگر کھجور کو بچوں میں سے کسی کے منہ میں پاتا تو انگلی ڈال کر اس کے منہ میں سے نکال لیتا تھا چناچہ اس محتاج آدمی نے اس بات کی رسول اکرم ﷺ شکایت کی، آپ نے فرمایا اچھا تم جاؤ اور پھر حضور ﷺ نے اس کھجور کے مالک سے ملاقات کی اور اس سے فرمایا کہ مجھے وہ کھجور کا درخت دے دو جس کی شاخیں فلاں آدمی کے مکان میں ہیں اور اس کے بدلے تمہیں جنت میں کھجور کا درخت ملے گا وہ شخص کہنے لگا میں آپ کو ایسا ہی دوسرا درخت دے دیتا ہوں کیونکہ میرے پاس کھجوروں کے بہت سے درخت ہیں اور اس سے زیادہ پسندیدہ مجھے اور کوئی درخت نہیں چناچہ وہ شخص چلا گیا اس کے بعد ایک آدمی سے ملاقات ہوئی جو اس کھجور کے مالک کی اور حضور کی گفتگو سن رہا تھا اور پھر وہ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یارسول اللہ ! جو آپ فلاں آدمی کو انعام دے رہے تھے اگر میں اس سے وہ کھجور کا درخت خرید لوں تو کیا مجھے بھی وہی صلہ ملے گا، آپ نے فرمایا ہاں چناچہ اس شخص نے جا کر کھجور کے مالک سے ملاقات کی اور ان دونوں کے پاس کھجوروں کے درخت تھے تو اس سے اس کھجور کے مالک نے کہا کہ تم نے رسول اکرم ﷺ کی بات سنی ہے کہ آپ مجھے اس کھجور کے درخت کے بدلے میں جس کی شاخیں فلاں آدمی کے مکان میں جھکی ہوئی ہیں جنت میں ایک کھجور کا درخت دے رہے ہیں ان میں اس سے زیادہ کوئی پسندیدہ نہیں۔ تو اس آنے والے آدمی نے کہا کیا تم اس کو فروخت کرنا چاہتے ہو اس نے کہا نہیں البتہ اس کے بدلے میں وہ مجھے دے دیا جائے جو میں چاہتا ہوں اور میں سمجھتا ہوں کہ اتنی قیمت مجھے نہیں ملے گی، تو یہ شخص کہنے لگا تو اس درخت کے بارے میں تمہارا کیا ارادہ ہے تو وہ کہنے لگا چالیس درخت، تو یہ بولے تم نے تو بڑی بھاری بات کا ارادہ کیا پھر تھوڑی دیر خاموش رہ کر بولے میں اس درخت کے بدلے میں تمہیں چالیس درخت دیتا ہوں اگر تم سچے ہو تو اس پر گواہ قائم کردو چناچہ اس کھجور والے نے اپنی قوم کو بلا کر اس معاملے پر گواہ بنادیے۔ پھر یہ شخص حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یارسول اللہ وہ کھجور کا درخت اب میرا ہوگیا ہے اور میں آپ کو دیتا ہوں چناچہ حضور ﷺ اس مکان والے کے پاس گئے اور فرمایا یہ کھجور کا درخت تیرے اور تیرے بال بچوں کے لیے ہے۔ اس پر یہ سورت نازل ہوئی وَالَّيْلِ اِذَا يَغْشٰى۔ حافظ ابن کثیر فرماتے ہیں۔ یہ حدیث بہت غریب ہے۔ ابن ابی حاتم نے عنوہ سے روایت کیا ہے کہ حضرت ابوبکر ؓ نے ساتھ آدمیوں کو خرید کر آزاد کیا جن کو اسلام لانے پر عذاب دیا جارہا تھا اور ان ہی کے بارے میں وَسَيُجَنَّبُهَا الْاَتْقَى سے اخیر تک یہ آیات نازل ہوئی ہیں۔
Ayah 92:4کہ تمہارے اعمال مختلف ہیں کہ بعض رسول اکرم صلی اللہ اور قرآن کریم کو جھٹلانے والے ہیں اور بعض تصدیق کرنے والے ہیں یا یہ کہ بعض جنت کے لیے کوشاں اور بعض دوزخ کے لیے۔
Ayahs 92:5–7سو جس نے اللہ کی راہ میں مال دیا اور نو مسلمانوں کو کفار سے خرید کر اور ان کی تکالیف سے نجاد دلا کر ان کو آزاد کردیا اور کفر و شرک اور فواحش سے بچا، اور اللہ کے وعدے کی، یا یہ کہ جنت کی، یا یہ کہ کلمہ اسلام کی تصدیق کی سو ہم اس پر اطاعت خداوندی کو آسان کردیں گے یا یہ کہ بار بار نیکیوں اور اللہ کے راستہ میں خرچ کرنے کی توفیق دیں گے ان آیات سے حضرت ابوبکر صدیق مراد ہیں ان ہی کی فضیلت میں یہ آیات نازل ہوئی ہیں۔
شان نزول فَاَمَّا مَنْ اَعْطٰى وَاتَّقٰى الخ
حاکم نے بواسطہ عامر بن عبداللہ، حضرت عبداللہ بن زبیر سے روایت کیا ہے کہ حضرت ابو قحافہ نے حضرت ابوبکر سے فرمایا اے بیٹے تو کمزوروں کو خرید کر آزاد کرتا ہے تو اگر طاقتور آدمیوں کو آزاد کرتا جو تیری مدد اور تیری حفاظت کے لیے کھڑے ہوتے تو اچھا تھا تو اس پر حضرت ابوبکر ؓ نے فرمایا میں صرف اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے کمزوروں کو آزاد کراتا ہوں اس پر فَاَمَّا مَنْ اَعْطٰى وَاتَّقٰى اخیر تک یہ آیات نازل ہوئی اور بزاز نے ابن زبیر سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت وَمَا لِاَحَدٍ عِنْدَهٗ مِنْ نِّعْمَةٍ تُجْزٰٓى اخیر تک حضرت ابوبکر صدیق کے بارے میں نازل ہوئی۔
Ayahs 92:8–11(8۔ 11) اور جس نے اپنے مال کو اللہ کی راہ میں دینے سے بخل کیا یعنی ولید بن مغیرہ اور حضرت ابو سفیان یہ اس وقت تک اسلام نہیں لائے تھے اور اللہ سے بےپروائی اختیار کی اور وعدہ خداوندی، یا یہ کہ جنت، یا یہ کہ کلمہ اسلام کو جھٹلایا سو ہم اس کو بارہا نافرمانیوں اور امساک عن الصدقة فی سبیل اللہ میں مبتلا کریں گے اور جو مال اس نے دنیا میں جمع کیا ہے جب وہ مرنے لگے گا یا یہ کہ دوزخ میں گرے گا اس کے کچھ کام نہ آئے گا۔
Ayahs 92:12–16(12۔ 16) واقعی خیر و شر کا بیان کردینا ہمارے ذمہ ہے اور دنیا و آخرت کا ثواب ہمارے قبضہ میں ہے، یا یہ کہ آخرت میں ثواب و سرفرازی عطا کرنا اور دنیا میں معرفت و توفیق دینا ہمارے قبضہ میں ہے سو مکہ والو میں تمہیں بذریعہ قرآن کریم ایک بھڑکتی ہوئی آگ سے ڈرا چکا ہوں دوزخ میں وہی بدبخت داخل ہوگا جس نے توحید کو جھٹلایا یا یہ کہ اطاعت خداوندی میں کوتاہی کی اور ایمان، یا یہ کہ توبہ سے روگردانی کی۔
Ayahs 92:17–21(17۔ 21) اور دوزخ سے ایسا شخص یعنی حضرت ابوبکر صدیق دور رکھا رکھا جائے گا جو بڑا پرہیزگار ہے اور جو اپنا مال اللہ کی راہ میں محض اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے خرچ کرتا ہے سوائے اپنے عالیشان پروردگار کی رضا جوئی کے اس کے ذمہ کسی کا احسان نہ تھا کہ اس دینے سے اس کا بدلہ اتارنا مقصود ہو اور حضرت ابوبکر صدیق کو اس قدر ثواب اور بدلہ عطا کیا جائے گا کہ وہ خوش ہوجائیں گے۔