Ayahs 92:1–4ان سعیکم .................................... تردی
تمہاری مساعی مختلف ہیں ، اپنی حقیقت کے اعتبار سے بھی تمہاری مساعی مختلف ہیں ، اپنے اسباب اور محرکات کے اعتبار سے بھی مختلف ہیں ، اپنے رخ اور سمت کے اعتبار سے بھی مختلف ہیں اور نتائج کے اعتبار سے بھی مختلف ہیں۔ اس زمین پر بسنے والے انسانوں کے مزاج بھی مختلف ہیں۔ ان کے تصورات و افکار بھی مختلف ہیں ، ان کے ذوق اور مشرب بھی مختلف ہیں ، اس کی ترجیحات بھی مختلف ہیں۔ اور لوگوں کی حالت یوں لگتی ہے کہ گویا ان میں سے ہر شخص شاید ایک علیحدہ سیارے کا باشندہ ہے۔
یہ تو ہے ایک حقیقت ، لیکن ایک دوسری حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے ، وہ یہ کہ ان تمام افراد بشریت کے درمیان ایک قدر مشرک بھی ہے جو انہیں باہم جوڑے ہوئے ہے۔ اور ان تمام اختلافات کے درمیان مابہ الاشتراک بھی ہے۔ یہ اشتراک انہیں دوگروہوں میں رکھتا ہے۔ دوصفوں میں اور دو جھنڈوں کے تلے قائم رکھتا ہے جو ایک دوسرے کے سامنے کھڑے ہیں۔ وہ کیا ہے ۔
فاما ............................ بالحسنی (6:82) ” تو جس نے دیا اور تقویٰ اختیار کیا اور بھلائی کو سچ مانا “۔ ایک تو یہ صف ہے اور دوسری صف۔
من بخل ............................ بالحسنی (9:92) ” جس نے بخل کیا اور بےنیازی برتی اور بھلائی کو جھٹلایا “۔
ایک گروہ ہے جو جان بھی کھپاتا ہے ، مال بھی کھپاتا ہے۔ اللہ کے عذاب اور اللہ کے غضب سے ڈرتا ہے اور سچائی کو مانتا ہے اور سچائی کا نام کیا ہے الحسنیٰ ، اس کا علم کیا ہے الحسنیٰ ۔ یہ دو قسم کے لوگ ہیں جو دو صفوں میں کھڑے ہیں ، مختلف المزاج لوگ ، مختلف قسم کی مساعی ، مختلف قسم کے طریقہ ہائے کار ، مختلف قسم کے مقاصد۔ ان دوصفوں میں صف آرا ہوکر ایک دوسرے کے ساتھ ملتے ہیں ، ہر ایک کا اپنا نظام اور منہاج کار ہے اور ہر ایک کو الگ الگ توفیق بخشی گئی ہے اور طریقہ دیا گیا ہے۔
فاما ........................................ للیسری (5:95 تا 7) ” تو جس نے دیا ، اور پرہیزگاری اختیار کی اور بھلائی کو سچ مانا اس کہ ہم آسان راستے کے لئے سہولت دیں گے “۔ اس لئے کہ جو شخص مال دے ، تقویٰ اختیار کرے اور سچائی کی تصدیق کردے تو گویا اس کے پاس جو کچھ تھا اس نے حاضر کردیا اور اپنے نفس کو پاک کرنے اور راہ راست پر لگانے کے لئے حتیٰ المقدور سعی کرلی۔ اب وہ اس بات کا مستحق ہے کہ اللہ کی نصرت اس کی دستگیری کرے۔ اور اس کو بھلائی کی توفیق دے کیونکہ اللہ نے اپنے اوپر لازم کردیا ہے کہ جس شخص نے اچھا ارادہ کیا ، اسے سہولیات فراہم کرے کیونکہ اللہ کی توفیق اور مشیت کے بغیر تو کچھ بھی نہیں ہوسکتا۔ اور اس کے بغیر انسان کچھ بھی نہیں کرسکتا۔
اور جس کو اللہ نیکی کی سہولیات فراہم کردے تو گویا وہ منزل مقصود تک پہنچ گیا۔ نہایت آسانی اور سکون و اطمینان کے ساتھ وہ پہنچ گیا۔ وہ زمین پر ہوتے ہوئے بھی عالم بالا تک پہنچ گیا ، وہ نہایت آسانی سے اس جہاں میں رہتا ہے ، اس کا ماحول ، اور اس کے ارد گرد رہنے والے سب اس کے لئے سازگار ہوجاتے ہیں ، ان کے قدم سہولت سے اٹھتے ہیں ، اس کی راہ آسان ہوجاتی ہے ، وہ بڑی آسانی کے ساتھ معاملات سے نمٹ لیتا ہے ، غرض تمام کلیات وجزئیات میں اسے سہولیات حاصل ہوجاتی ہیں۔ یہ ایک ایسا مقام و مرتبہ ہے جس کے دائرے میں سب کچھ آجاتا ہے۔ اور اس مرتبہ ومقام کو پانے والا رسول اللہ کے ساتھ حسب وعدہ رہی بڑی سہولیات پاتا ہے۔
فسنیسرہ للیسری (7:92) ” ہم اسے آسان راستے کی طرف سہولت دیں گے “۔
Ayahs 92:5–8واما من .................... اذاتردی (8:92 تا 11) ” اور جس نے بخل اختیار کیا اور اللہ سے بےنیازی اختیار کی اور بھلائی کو جھٹلایا ، اس کو ہم سخت راستے کی طرف سہولت دیں گے ، اور اس کا مال آخر اس کے کس کام آئے گا جبکہ وہ ہلاک ہوجائے “۔
وہ شخص جو اپنے نفس اور مال میں بخل اختیار کرتا ہے اور اللہ کریم سے بےنیازی اختیار کرتا ہے ، اور اس کی ہدایات سے غافل ہوتا ہے اور اللہ کے دین اور اس کی دعوت کی تکذیب کرتا ہے ، تو وہ اپنے نفس کو انتہائی شروفساد کے لئے تیار کرتا ہے ، اور پرلے درجے کے بگاڑ سے اس کو دوچار کرتا ہے ، تو وہ اس بات کے مستحق ہوتا ہے کہ اللہ اس کے لئے ہر چیز مشکل کردے اور اسے سخت راستوں کی سہولیات فراہم کی جائیں اور اسے توفیق دی جائے کہ وہ ہر قدم پر مشکلات سے دوچار ہو ، اس پر آسانیوں کا دروازہ بند کردیا جائے ، اور اسے قدم قدم پر مشکلات درپیش ہوں ، جو اسے راہ راست اور صراط مستقیم سے دور ہی لے جائیں۔ اور یہ شخص بدبختی کے راستے پر ہی آگے بڑھے۔ اگرچہ وہ بظاہر یہ محسوس کرے کہ وہ کامیابی کی راہ پر جارہا ہے۔ حالانکہ وہ تو ٹھوکر کھاتا جاتا ہے اور وہ اپنی ایک ٹھوکر سے بچنے کے لئے دوسری ٹھوکر کھاتا ہے ، جس کی وجہ سے وہ سیدھی راہ سے اور دور ہوجاتا ہے تاکہ وہ اللہ کی رضا سے محروم ہوجائے۔ اور جب وہ ٹھوکروں سے بھرے ہوئے اس منحرف راہ پر آگے بڑھتا ہے اور آخرکار ہلاکت کے گڑھے میں گرتا ہے تو اس وقت پھر اس کا مال اسے کوئی فائدہ نہیں دیتا ، حالانکہ یہ مال ہی تھا جس نے اسے اللہ سے بےنیاز کردیا تھا۔ اب یہ مفید نہیں ہے۔
وما یغنی ............................ تردی (11:92) ” اور اس کا مال اس کے کس کام آئے گا جبکہ وہ ہلاک ہوجائے “۔ کسی کو شر اور فساد کے لئے سہولیات فراہم کرنا اور اسے معصیت کی توفیق دینا دراصل اسے سخت کام اور سخت راستے کی طرف موڑنا ہے۔ اگرچہ ایسا شخص اس دنیا میں کامیاب نظر آئے۔ حقیقت یہ ہے کہ جہنم سے کوئی مشکل منزل اور مشکل جائے قیام نہیں ہے اور العسریٰ سے یہاں مراد جہنم ہی ہے۔
یوں اس سورت کا پہلا پیراگراف ختم ہوتا ہے اور اس میں تمام انسانی سوسائٹیوں کے لئے دوراستے ، دو طریقے اور دو نظام متعین کردیئے جاتے ہیں اور یہ دوراستے ہر زمان ومکان کے لئے ہیں۔ معلوم ہوا کہ دراصل یہ دوبادشاہ اور دو جھنڈے ہیں ، اگرچہ ان کی شکل اور رنگ مختلف ہوں۔ اور یہ کہ ہر انسان مختار ہے ، کہ اپنے لئے جو راستہ چاہے اختیار کرے اور جو طریقہ چاہے اپنائے۔ اللہ ہر کسی کو وہی سہولت دیتا ہے جو وہ چاہتا ہے ، یا سہولت کا راستہ اور یا سختی کا راستہ۔
رہا اگلا پیراگراف تو اس میں ان دونوں فریقوں میں سے ہر ایک کا انجام بنایا گیا ہے۔ یہ دکھایا گیا کہ وہ شخص دوڑتے بھاگتے کہاں تک پہنچ جائے گا۔ جس کو آسان راستوں کی سہولت دی گئی اور اس کی گاڑی کہاں جاکر رکے گی جس کو سخت راستوں پر چلایا گیا اور اس پیراگراف میں بتایا جاتا ہے کہ جس فریق کا جو انجام ہوگا وہ حق ہوگا اور نہایت منصفانہ ہوگا اور ایسا ہی ہوتا ہے اور یقینا ہوتا ہے۔ کیونکہ الہل نے لوگوں کو صحیح راستہ بھی بتلایا اور اگر وہ برے راستوں پر چلیں تو ان کو دہکتی ہوئی آگ سے بھی ڈرایا۔
Ayahs 92:9–12ان علینا .................................... یرضی
اللہ نے محض اپنے فضل وکرم کی وجہ سے اپنے اوپر یہ بات فرض کردی کہ لوگوں کی اس فطرت کے سامنے اور لوگوں کو دی ہوئی قوت مدرکہ کے سامنے ہدایت کا راستہ واضح طور پر بیان فرمادیں۔ اسی طرح تمام رسولوں کا بھی یہ فرض قرار دیا گیا کہ وہ دعوت اسلامی کی تشریح کریں اور تمام دعوتی تحریکات اور تمام کتب سماوی اور معجزات بھی اس غرض کے لئے لائے گئے تاکہ کسی کے پاس کوئی بہانہ نہ رہے اور نہ کسی کے اوپر کوئی ظلم ہو۔
ان علینا للھدی (12:92) ” بیشک راستہ بتانا ہماری ذمہ داری ہے “۔ یہ تو تھی پہلی حقیقت۔
دوسری حقیقت یہ ہے کہ یہاں ایک قوت قاہرہ ہے ، جس نے تمام لوگوں کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے ۔ اس قوت کے مقابلے میں لوگوں کے لئے کوئی جائے پناہ نہیں ہے۔
Ayah 92:13وان ................ والاولی (13:92) ” اور بیشک آخرت اور دنیا ، دونوں کے ہم مالک ہیں “۔ لہٰذا جو شخص اللہ سے دور ہونا چاہتا ہے وہ کہاں جاسکتا ہے۔ اس کے مقابلے میں تو کوئی جائے پناہ نہیں ہے۔
ان دونوں حقائق کو پیش نظر رکھتے ہوئے کہ راستہ بتانا اللہ نے اپنے ذمہ فرض قرار دیا ہے اور پھر سب لوگوں کو اللہ کے سامنے آنا ہے اور اللہ کے مقابلے میں ان کے لئے کوئی جائے پناہ نہیں ہے۔ آغاز و انجام کا مالک اللہ ہے ، تو اللہ نے انسانوں کو خبردار کردیا کہ تم بھڑکتی ہوئی آگ کے سامنے کھڑے ہوگئے۔
Ayah 92:14فانذرتکم نارا تلظی (14:92) ” پس میں نے تم کو خبردار کردیا ہے بھڑکتی ہوئی آگ سے “۔ اور یہ بھڑکتی ہوئی آگ ہر کسی کے لئے نہیں ہے ، بلکہ یہ تو بھڑکائی گئی ہے۔
Ayah 92:15لا یصلھا الا الا شقی (15:92) ” اس میں نہیں جھلسے گا مگر وہ انتہائی بدبخت “۔ اور یہ انتہائی بدبخت وہ ہوگا جس کا نصیبہ تمام انسانوں میں برا ہوگا۔ سوال یہ ہے کہ آگ میں جھلس جانے کے بعد پھر وہ کہاں جائے گا اور اس بدبخت کی مزید تشریح۔
Ayah 92:16الذی ............ وتولی (16:92) ” جس نے جھٹلایا اور منہ پھیرا “۔ یعنی اس کے سامنے دعوت اسلامی پیش کی گئی اور اس نے تکذیب بھی کی اور منہ بھی پھیرا ، حالانکہ اللہ نے حسب وعدہ اسے راستہ دکھانے کے لئے اس کے سامنے دعوت پیش کی تھی اور یہ وعدہ کیا تھا کہ جو شخص بھی دلی خواہش سے اللہ کی طرف آئے گا ، وہ اسے راستہ دکھائے گا۔
Ayah 92:17وسیجنبھا الاتقی (17:92) ” اور اس سے دور رکھا جائے گا وہ نہایت پرہیز گار ہوگا “۔ اور یہ متقی شخص ہی نیک بخت ہے بمقابلہ بدبخت (اشقی) کے ۔ اور اس کی مزید تشریح۔
Ayah 92:18الذی ........................ یتزکی (18:92) ” جو پاکیزہ ہونے کی خاطر اپنا مال دیتا ہے “۔ یعنی وہ اپنا مال خرچ کرتا ہے تاکہ اس انفاق سے وہ پاک ہوجائے ، مال خرچ کرنے کا مقصد مال کی پاکیزگی ہے ، دکھاوا یا بڑائی حاصل کرنا نہیں ہے۔ وہ خوشی سے خرچ کرتا ہے اور اس لئے خرچ نہیں کرتا کہ کسی کا اس پر احسان تھا اور وہ اس کا بدلہ چکانا چاہتا تھا ، نہ اس لئے کہ لوگ اس کا شکر ادا کریں ، یہ خالص لو جو اللہ خرچ کرتا ہے ، جو اس کا اعلیٰ رب ہے۔
Ayah 92:19وما لاحد ............................ الاعلی (20:92) ” اس پر کسی کا کوئی احسان نہیں ہے ، جس کا بدلہ اسے دینا ہو وہ تو صرف اپنے رب برتر کی رضاجوئی کے لئے یہ کام کررہا ہے “۔
ایسے شخص کو کیا انعام ملنے والا ہے ؟ جو متقی ہے ، جو اپنے مال کو محض پاک کرنے کے لئے خرچ کرتا ہے ، اور رب برتر کی خوشنوی کے لئے خرچ کرتا ہے۔ وہ جزاء اور وہ انجام جو ان صالح ارواح کو یہاں دکھائی جاتی ہے۔ بہت عجیب جزاء وانعام ہے۔ مروج طریقے سے ہٹ کر یہاں بالکل ایک نئے انعام کا اعلان کیا جاتا ہے۔
Ayahs 92:20–21ولسوف یرضیٰ (21:92) ” اور ضرور وہ خوش ہوگا “۔ اس متقی کے کاسہ دل کو رضا سے بھر دیا جائے گا ، اس کی روح رضا سے بھر جائے گی ، اس کے تمام اعضاء راضی برضا ہوجائیں گے ، اس کے وجود کے روئیں روئیں میں رضامندی سرایت کرجائے گی اور اس کی پوری زندگی تروتازہ ہوجائے گی۔ کیا ہی خوب جزاء ہے اور کیا ہی خوب اور عظیم نعمت ہے یہ !
ولسوف یرضی (21:92) ” اور ضرور وہ خوش ہوگا “۔ اپنے دین پر خوش ہوگا ، اپنے رب سے راضی ہوگا ، اپنی تقدیر پر راضی ہوگا ، اپنے نصیبے پر راضی ہوگا۔ خوشی اور غم دونوں پر راضی ہوگا ، مالداری اور ناداری دونوں پر راضی ہوگا ، آسانی اور مشکل دونوں پر راضی ہوگا۔ نرمی اور سختی دونوں پر راضی ہوگا ، وہ قلق و اضطراب سے دور ہوگا۔ تنگدستی ، جلدبازی ، بوجھل پن اور مایوسی سے دور ہوگا۔ غرض یہ رضامندی وہ انعام ہوگا جس سے بڑا انعام اور کوئی نہ ہے اور نہ ہوگا۔ یہ ایسا انعام ہے جس کے لئے کوئی مال اور جان دونوں خرچ کرسکتا ہے۔ جو اپنے مال کو خرچ کرتا ہے تاکہ اس کا رب اس سے راضی ہو۔
یہ وہ انعام ہے جو اللہ ہی دے سکتا ہے اور یہ جزاء ان دلوں میں بھردی جاتی ہے جو خالص اللہ کے ہوجاتے ہیں ، جن کو اللہ کے سوا کچھ نظر ہی نہیں آتا۔
ولسوف یرضیٰ (21:92) اور وہ عنقریب راضی ہوگا “۔ وہ راضی ہوگا ، خوش ہوگا اس نے معمولی قیمت دے دی اور اس کے بدلے اسے بہت کچھ دے دیا گیا۔
غرض اس مقام پر یہ اچانک خوشخبری ہے ، البتہ ان لوگوں کے دلوں میں اس کی توقع ضرور ہے جو اپنے مال کو پاک کرنے کے لئے خرچ کرتے ہیں ، ایسی صورت میں خرچ کرتے ہیں کہ کسی کا ان کے اوپر کوئی احسان نہیں ہے ، پھر بھی خرچ کرتے ہیں۔ محض رضائے ربانی کے لئے خرچ کرتے ہیں ، تو ” ایسا شخص لازماً خوش ہوگا “۔ ولسوف یرضی (21:92) ۔