Ayah 92:1والیل اذا یغشی . یعنی رات کی قسم جب وہ سورج کو یا دن کو ڈھانک لیتی ہے ‘ جیسا کہ دوسری آیت میں آیا
ہے : یغشی اللّیل النھار یا جب وہ ہر چیز کو ڈھانک لیتی ہے اپنی تاریکی میں چھپا لیتی ہے۔ اذا یغشٰی کا تعلق فعل قسم محذوف سے ہے یا مضاف محذوف سے اور اذا ظرف زمان ہے اور اللیل کی صفت ظرفیہ نہیں ہے بلکہ اذا کا معنی ہے وقت۔ یہ پوری تفصیل اذا یغشاھَا میں گزر چکی ہے۔
Ayah 92:2والنھار اذا تجلی . اور قسم دن کی جو رات کی تاریکی دور ہونے سے یا سورج کے نکلنے سے نمودار ہوتا ہے۔
Ayah 92:3وما خلق الذکر والانثی . مَا بمعنی مَنْ ہے یعنی قسم ہے اس قدرت والے خدا کی جس نے ہر توالد و تناسل رکھنے والی مخلوق کی دو صنفیں پیدا کیں ‘ نر اور مادہ یا صرف آدم و حوا مراد ہیں ما مصدریہ بھی ہوسکتا ہے یعنی نر و مادہ کو پیدا کرنے کی قسم۔ جواب قسم آئندہ آیت میں ہے۔
Ayah 92:4ان سعیکم الشتی . کہ تمہارے اعمال مختلف ہیں ‘ کوئی دوزخ سے گلو خلاصی اور مراتب جنت و مدارج قرب کے حصول کی کوشش کرتا ہے اور کوئی اپنے نفس کو ہلاک کرنے کی۔ بغوی نے حضرت ابو مالک اشعری کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : سب لوگ صبح کو نکلتے ہیں اور اپنے نفوس کو بیچتے ہیں۔ کچھ (دوزخ سے) نفس کو آزاد کرتے ہیں اور کچھ ہلاک کرتے ہیں۔ اس سے آگے اللہ نے اختلاف سعی (اور ہر سعی کے نتیجہ) کی تفصیل بیان کی اور فرمایا۔
Ayah 92:5فاما من اعطی . یعنی جس نے راہ خدا میں مال دیا یا اپنے ہر فرض کو ادا کیا۔
واتقی . اور اللہ کے عذاب سے بچ گیا (جس کا ثبوت یہ ہے) کہ عذاب میں مبتلا کردینے والے گناہوں سے اس نے اجتناب کرلیا۔ حدیث میں آیا ہے دوزخ سے بچو اگرچہ چھوارہ کا نصف حصہ دے کر ہو۔
(بخاری و مسلم عن عدی بن حاتم و احمد عن عائشۃ ؓ والبزار والطبرانی فی الاوسط عن انس ؓ و فی الکبیر عن ابن عباس ؓ و ابی امامۃ والبراء عن نعمان بن بشیر و ابی ہریرۃ ؓ
Ayah 92:6و صدق بالحسنی . ابو عبدالرحمن سلمیٰ اور ضحاک نے کہا : الحسنٰی یعنی لا الٰہ الاّ اللہ بروایت عطیہ حضرت ابن عباس کا بھی یہ قول آیا ہے اور مجاہد کے نزدیک جنت مراد ہے۔ اللہ نے فرمایا : للذین احسنوا الحسنٰی۔ نیک اعمال کرنے والے کے لیے الحسنیٰ ہے۔ یعنی مطلب یہ ہے کہ اس کو یقین ہوگیا کہ اللہ اس کو جنت میں جگہ دے گا۔
عکرمہ کی روایت سے حضرت ابن عباس کا یہی قول آیا ہے۔ قتادہ ‘ مقاتل اور کلبی نے کہا اللہ کا وعدہ مراد ہے یعنی جس نے تصدیق کی کہ اللہ اپنا وعدہ ضرور پورا کرے گا۔
Ayah 92:7فسنیسرہ للیسری . تو ہم اس کے لیے سہولت کردیں گے ‘ اس کو توفیق دیں گے۔ یسرٰی کی یعنی ایسے خصائل کی جو اس کو یسر اور راحت تک پہنچا دیں گے۔ مطلب یہ ہے کہ ایسے عمل کی توفیق دیں گے جو اللہ کی خوشنودگی اور جنت کے حصول کا ذریعہ ہوگا یہ لفظ یسر الفرس کے محاورہ سے ماخوذ ہے۔ یسر الفرس کا معنی ہے گھوڑے کو زین اور لگام لگا دی۔
Ayah 92:8واما من بخل . اور جس نے راہ خیر میں خرچ کرنے میں بخل کیا یا امر خدا کی تعمیل میں بخل کیا۔ حدیث میں آیا ہے بخیل وہ شخص ہے جس کے پاس میرا ذکر کیا جائے اور وہ مجھ پر درود نہ پڑھے۔ (ترمذی و نسائی از علی و حاکم و ابن حبان از انس) واستغنی . اور دنیوی خواہشات میں مشغول ہو کر آخرت کے ثواب اور ثواب دینے پر قدرت رکھنے والے خدا سے لاپروا ہوگیا۔
Ayah 92:9و کذب بالحسنی . اور سب سے اچھی بات (یعنی کلمۂ توحید و رسالت) کو نہ مانا ‘ جھوٹ قرار دیا تو
Ayah 92:10فسنیسرہ للعسری . ہم اس کو ایسی خصلتوں کی توفیق دیں گے جو اس کو دشواری ‘ شدت اور دوزخ کی طرف لے جائیں گے۔ یعنی ان اعمال کی توفیق دیں گے جو اللہ کو پسند نہیں ہیں۔ مقاتل نے (عسریٰ کی تشریح میں) کہا : بھلائی کے کام کرنا اس کے لیے دشوار ہوجائے گا۔
حضرت علی کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم میں سے کوئی ایسا نہیں کہ اس کی جنت والی اور دوزخ والی جگہ نہ لکھ دی گئی ہو۔ صحابہ ؓ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! تو پھر کیا اسی تقدیر لکھے پر اعتماد کر کے ہم عمل نہ چھوڑ دیں ؟ فرمایا : کیے جاؤ ‘ توفیق ہر ایک کو اسی کی ملے گی جس کے لیے اس کو پیدا کیا گیا ہو۔ جو خوش نصیب ہوگا اس کو اہل سعادت کے اعمال کی توفیق مل جائے گی ‘ جو بدنصیب ہوگا اس کے لیے اہل شقاوت کے اعمال سہل کردیئے جائیں گے۔ یہ فرمانے کے بعد آپ نے پڑھا : فامّا من اعطٰی و اتقی و صدق بالحسنٰی فسنلیسرہ للیسریٰ ۔ (متفق علیہ) بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت ابوبکر ؓ نے امیہ بن خلف سے حضرت بلال کو ایک غلام اور دس اوقیہ (چاندی) دے کر خرید لیا (پھر آزاد کردیا) تو اس کے متعلق سورة اللیل ان سعیکم لشتّٰی تک نازل ہوئی۔ حضرت ابوبکر ؓ نے بھی ایک سعی کی تھی اور امیہ نے بھی۔ (ایک نے جنت کے لیے دوسرے نے صرف دنیوی فائدہ کے لیے) حضرت ابن مسود ؓ سے بھی یہ روایت آئی ہے۔ ابن ابی حاتم ؓ نے باسناد حاکم بن ابان از عکرمہ حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ ایک آدمی کا کھجور کا درخت تھا۔ درخت کی کوئی شاخ ایک عیالدار غریب آدمی کے گھر کے اوپر آگئی تھی ‘ درخت کا مالک گھر میں آکر جب پھل توڑنے کے لیے درخت کے اوپر چڑھتا تھا تو کچھ پھل نیچے بھی گرپڑتے تھے اور غریب آدمی کے بچے ان کو اٹھا لیتے تھے لیکن وہ شخص درخت سے اتر کو وہ کھجوریں بچوں کے ہاتھوں سے چھین لیتا تھا بلکہ اگر کسی کے منہ میں کھجور ہوتی تھی تو اس کے منہ میں بھی انگلیاں ڈال کر نکال لیتا تھا۔
اس غریب نے اس کی شکایت رسول اللہ ﷺ سے کی۔ فرمایا : تو جا پھر حضور ﷺ درخت کے مالک سے ملے اور فرمایا : مجھے اپنا وہ درخت دے دے جس کی شاخ فلاں شخص کے گھر میں ہے۔ تجھے جنت میں اس کے عوض ایک درخت خرما ملے گا۔ اس نے جواب دیا ‘ میں دے تو دیتا اور میرے پاس بکثرت درخت اور بھی ہیں مگر کسی درخت کا پھل اس درخت کے پھلوں سے زیادہ مجھے پسند نہیں۔
یہ جواب دے کر درخت کا مالک چلا گیا۔ اس گفتگو کو ایک تیسرا آدمی سن رہا تھا۔ وہ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! (کیا اس درخت کے عوض) مجھے وہ چیز (یعنی جنت کا درخت) دیدیں گے جو آپ ﷺ اس درخت کے مالک کو دے رہا تھے ؟ فرمایا : ہاں ! یہ بات سن کر یہ تیسرا آدمی جا کر درخت کے مالک سے ملا اور اس آدمی کے پاس بھی بہتیرے درخت تھے۔ درخت کے مالک نے کہا : کیا تم کو معلوم ہے کہ رسول اللہ ﷺ اس درخت کے عوض مجھے جنت کا ایک درخت دے رہے تھے مگر میں نے کہہ دیا کہ دے تو دیتا مگر مجھے اس کے پھل پسند ہیں۔ میرے بہت درخت ہیں مگر کسی درخت کا پھل اس درخت کے پھل سے زیادہ مجھے پسند نہیں۔ اس تیسرے شخص نے کہا : تو کیا تم اس کو بیچنا چاہتے ہو ؟ درخت کے مالک نے کہا : نہیں مگر میری مراد کے موافق اگر وہ قیمت دے دیں تو دیدوں گا۔ مگر میرا خیال ہے کہ وہ اتنی قیمت نہیں دیں گے۔ اس نے پوچھا : وہ کتنی قیمت ہے ؟ مالک درخت نے کہا : اس کے عوض چالیس درخت لوں گا۔ اس شخص نے کہا : بڑی قیمت مانگ رہے ہو۔ یہ کہہ کر خاموش ہوگیا پھر بولا میں چالیس درخت دوں گا ‘ اگر سچ کہہ رہے ہو تو اس بات کا کسی کو گواہ بنا لو۔ درخت کے مالک نے اپنی قوم والوں کو بلوا کر اس بیع کا شاہد بنا لیا۔ اس کے بعد وہ شخص خدمت گرامی میں حاضر ہوا اور عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! اب وہ درخت میرا ہوگیا اور میں حضور ﷺ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں۔ یہ سن کر رسول اللہ ﷺ اس غریب مکان والے کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا : اب یہ درخت تیرا ہوگیا (یعنی میں نے تجھے دے دیا) اس پر اللہ نے (سورۂ ) واللّیل اذا یغشٰی نازل فرمائی۔ ابن کثیر نے کہا یہ روایت بہت ہی غریب ہے۔
بغوی نے بھی عطاء کی روایت سے یہ حدیث بیان کی ہے لیکن اس روایت کی عبارت اس طرح ہے کہ درخت والے نے حاضر ہو کر اپنے پڑوسی کے بچوں کے متعلق رسول اللہ ﷺ سے شکایت کی کہ وہ میرے درخت کے پھل لے لیتے ہیں۔ حضور ﷺ نے اس سے فرمایا : اپنا درخت میرے ہاتھ جنتی درخت کے عوض فروخت کر دے۔ اس نے انکار کردیا اور چلا گیا۔ پھر اس کی ملاقات ابو الدحداح سے ہوئی ‘ اس پر (سورۂ ) واللّیل اذا یغشٰی ان سعیکم لشتّٰی نازل ہوئی۔
پہلی روایت صحیح ہے یعنی حضرت ابوبکر ؓ اور امیہ بن خلف کے متعلق آیات کا نزول صحیح ہے کیونکہ سورت مکی ہے اگر کسی درخت کے مالک اور ابو الدحداح کے متعلق نزول مانا جائے تو اس کو مدنی کہنا پڑے گا لیکن اگر دوسری روایت کو صحیح تسلیم کرلیا جائے تو اس طرح تشریح کی جائے گی کہ آیت کا نزول ابو الدحداح کی مدح میں ہوا اور تصدیق بالحسنیٰ سے مراد ہے رسول اللہ ﷺ کے وعدہ کی تصدیق یعنی ابو الدحداح کی طرح جس نے اپنا مال دیا اور دوزخ سے بچا اور رسول اللہ ﷺ کے وعدہ کو سچا جانا تو ہم اس کے لیے جنت کو سہل الحصول بنا دیں گے اور چونکہ خصوصیت مورد کے باوجود حکم میں عموم تھا اس لیے (وعدۂ جنت کے بعد) بخل استغناء اور تکذیب کرنے والے کے لیے وعید عذاب بھی ذکر کردی اور فرمایا : واما من بخل واستغنٰی و کذب بالحسنٰی فسنیسرہٗ للعسرٰی۔ لیکن یہ وعید اصل مالک درخت کے لیے نہ ہوگی۔ وہ تو انصاری تھا۔ اللہ کے ثواب اور جنت سے لاپرواہ نہ تھا ‘ نہ کلمۂ توحید و رسالت کو غیر صحیح جانتا تھا ‘ نہ درخت کو بیچنے سے انکار موجب دوزخ ہوسکتا ہے ‘ صرف فرض زکوٰۃ سے انکار موجب جہنم ہے۔
Ayah 92:11وما یغنی عنہ مالہ اذا تردی . اور جب وہ ہلاک ہوگا تو اس کا مال اس کو کوئی فائدہ نہیں پہنچائے گا۔ مَا نفی کے لیے ہے یا استفہام انکاری کے لیے تردّٰی ماضی (باب تفعل) ردیٰ (مادہ) بمعنی ہلاکت اور ہلاکت سے مراد ہے استحقاق عذاب ‘ یا ردی کا معنی ہے ‘ گرنا یعنی جب قبر کے گڑھے میں یا جہنم میں گرے گا۔ قتادہ اور ابو صالح نے دوزخ میں گرنے کا ہی معنی بیان کیا ہے۔
Ayah 92:12ان علینا . علیٰ کا لفظ تاکید کا معنی ظاہر کر رہا ہے۔ بیشک ہم پر لازم ہے یعنی ہم نے اپنی قضاء سابق کی وجہ سے یا اپنے حکم کے مقتضا کے بموجب خود ہدایت کا ذمہ لے لیا ہے (یعنی فی نفسہٖ خدا پر کوئی چیز لازم نہیں لیکن چونکہ اس نے ازل میں خود فیصلہ قضائی کردیا ہے یا وعدہ کرلیا ہے اس لیے وہ خود ذمہ دار بن گیا ہے) ۔
للھدی . حق کا راستہ بتادینا یعنی دلائل آفاقی (جو عقلی ہیں) اور آسمانی شریعتوں کا بیان اللہ کی طرف سے راہ حق دکھانے والا ہے۔ یہ قول زجاج اور قتادہ کا ہے۔ فراء نے (علیٰ کو بمعنی الیٰ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جو شخص راہ ہدایت پر چلتا ہے اس کا راستہ خدا پر ہی (یعنی خدا تک ہی) پہنچتا ہے۔ جیسا کہ دوسری آیت میں آیا ہے : و علٰی اللہ قصد السبیل۔ اللہ ہی تک سیدھا راستہ پہنچتا ہے یعنی جو اللہ تک پہنچنا چاہتا ہے وہ سیدھے راستے پر ہوتا ہے۔ مراد یہ ہے کہ جو ہدایت کے راستہ پر چلتا ہے وہ اللہ تک پہنچ جاتا ہے۔
Ayah 92:13وان لنا للاخرۃ والاولی . آخرت اور دنیا ہماری ہی ہے ‘ یعنی ہماری ہی ملک ہے اور ہماری ہی مخلوق ہے۔ پس جو شخص مالک کو چھوڑ کر دوسرے سے مانگے گا وہ مانگنے میں غلطی کرے گا ‘ یا یہ مراد ہے کہ چونکہ ہم ہی مالک اور خالق ہیں اس لیے ہدایت یافتہ لوگوں کو ہم ہی ثواب دیں گے۔ تمہارے ہدایت یافتہ نہ ہونے سے ہمارا کچھ نقصان نہ ہوگا۔
Ayah 92:14فانذرتکم نارا تلظی . فاء سببی ہے اللہ کا مالک دارین اور خالق کونین ہونا ‘ سبب تخویف ہے پس میں تم کو بھڑکتی آگ سے ڈراتا ہوں ‘ جس میں صرف
Ayah 92:15لا یصلھا الا الاشقی . بدنصیب ہی داخل ہوگا۔ اس جگہ اشقٰی (اسم تفضیل) بمعنی شقی (صفت مشبہ) کے ہے۔ اس لیے کافر بھی اس میں داخل ہے اور وہ مسلم فاسق بھی جس کی مغفرت نہ کی جائے۔
Ayah 92:16الذی کذب و تولی . جو رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کرتا اور ایمان سے روگردانی کرتا ہے۔
یہ اشقٰی کے بعض افراد (یعنی کافر) کی صفت ہے (کیونکہ مسلم فاسق تکذیب رسول نہیں کرتا ‘ نہ ایمان سے روگردانی کرتا ہے) اور یہ صفت احترازی نہیں ہے (کہ وہ اشقٰی جو تکذیب رسول اور ایمان سے اعراض نہ کرتے ہوں اس قید کی وجہ سے حکم دخول ناران کو شامل نہ ہو) کیونکہ عادۃً (اور عموماً ) ایمان کا تقاضا یہی ہے کہ مؤمن شقی نہیں ہوتا۔ ایمان پرہیزگاری اور سعادت ہی چاہتا ہے۔ بدنصیب اور گنہگار عموماً کافر ہی ہوتا ہے ‘ پس شقی کو تکذیب اور اعراض کی قید سے مقید کرنا اظہار واقعہ کے طور پر ہے جیسے آیت : و ربائبکم التی فی حجورکم میں (گود میں ہونے اور زیر پرورش رہنے کی قید ربائب کے لیے احترازی نہیں کیونکہ تمام ربائب زیر پرورش ہی ہوتی ہے بلکہ واقعہ کا اظہار ہے) یا یوں کہو کہ تکذیب صریحی ہو یعنی کفر یا دیکھنے میں تکذیب معلوم ہوتی ہو واقع میں تکذیب نہ ہو جیسے حرمت کا عقیدہ رکھنے کے باوجود ممنوعات کا ارتکاب۔ لفظ تکذیب دونوں کو شامل ہے یا یوں کہا جائے کہ تکذیب لسانی اور قلبی ہو جو کفر اور نفاق ہے یا نفس امارہ مکذب ہو دل ایمان پر مطمئن ہو اور زبان بھی مقرر ہو لفظ تکذیب میں عموم سے ہر طرح کی تکذیب اس میں داخل ہے۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ اشقٰی اس جگہ تفضیلی معنی میں ہی مستعمل ہے اور اس سے مراد کافر ہی ہے (مگر دوزخ میں تو مسلم فاسق بھی جائے گا پھر دخول جہنم کا حصر کافر میں کیوں کیا گیا ؟ تو اس کی وجہ یہ ہے کہ) اس جگہ داخلۂ جہنم سے مراد عام داخلہ نہیں بلکہ لزومی اور دوامی داخلہ مراد ہے (اور یہ صرف کافر کے لیے ہی ہوگا) اس لیے بیضاوی (رح) نے آیت کی تفسیر میں لکھا ہے کہ شدت جہنم کو برداشت کرنے والا اور دوامی طور پر داخل ہونے والا صرف اشقٰی یعنی کافر ہوگا مسلم بدکار بھی جہنم میں اگرچہ داخل ہوگا لیکن اس کا داخلہ دوامی نہ ہوگا۔ اس توضیح کے بعد آیت کا عمومی حصر (یعنی صرف کافر کا ہی داخل جہنم ہونا) صحیح ہوجاتا ہے۔ بعض نے کہا : ان توجیہات کی ضرورت ہی نہیں ہے کیونکہ لا یصلاھا میں ھا ضمیر نارًا تلظّٰی کی طرف راجع ہے (صرف ناراً کی طرف راجع نہیں ہے) مطلب یہ ہے کہ بھڑکتی ہوئی ‘ متصلہ زن آگ میں صرف کافر جائے گا ‘ یا فاسق۔ مسلمان وہ بھی جہنم میں داخل ہوں گے مگر بھڑکتی آگ میں داخل نہ ہوگا ‘ کافر کی آگ سے اس کی آگ کا درجہ کم ہوگا یعنی جہنم کے بالائی طبقہ میں مسلم فاسق کا داخلہ ہوگا۔
میرے نزدیک الاشقٰی سے مراد کافر ہی ہے اور نار کا لفظ بھی اپنے عموم پر ہے کیونکہ جب دنیا کی آگ بھی بھڑکتی اور شعلہ زن ہوتی ہے تو جہنم کی آگ جو دنیا کی آگ سے بہرحال زیادہ تیز ہے خواہ کتنی ہی کمزور ہو ضرور شعلہ زن ہوگی (جہنم کی آگ خواہ بالائی طبقہ کی ہو التہاب واشتعال سے خالی نہیں ہوسکتی) مگر آیت میں حصر (حقیقی نہیں کہ صرف کافر ہی جہنم میں جائینگے ‘ بدکارمؤمن نہ جائینگے بلکہ) اضافی ہے یعنی رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں جو مؤمن مرد موجود تھے وہ جہنم میں نہیں جائینگے (انکو آیت کے عموم حکم سے نکالنا مقصود ہے) پس آیت بتارہی ہے کہ کوئی صحابی جہنم میں نہیں جائیگا کیونکہ باجماع اہل سنت ثابت ہے کہ تمام صحابہ عادل تھے (کوئی فاسق نہ تھا) ۔
اللہ نے بھی فرمایا ہے : وَکُلًّا وَّ عَدَ اللہ الْحُسْنٰی۔ ہر ایک سے اللہ نے جنت کا وعدہ فرما لیا ہے۔ دوسری آیت میں (صحابہ کو خطاب کرتے ہوئے) فرمایا : کنتم خیر امۃ اخرجت للناس۔ تیسری آیت میں ہے : محمد رسول اللہ والّذین معہ اشدّا علی الکفار رحمآء بینھم۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس مسلمان نے مجھے دیکھ لیا اسکو آگ نہیں لگے گی۔ (رواہ الترمذی عن جابر) یہ بھی حضور ﷺ نے فرمایا : اصحابی کالنجوم بایھم اقتدیتھم اھتدیتم۔ میرے صحابہ ؓ ستاروں کی طرح ہیں ‘ جسکے پیچھے چلو گے ہدایت پاؤ گے۔ (رواہ رزین عن عمر بن الخطاب) اگر کسی صحابی ؓ سے کسی گناہ کا صدور ہو بھی گیا ہو تو اوّل تو ایسا ہوا ہی کم ہے پھر اسکو توبہ کی توفیق بھی عطا فرما دی گئی اور اس نے توبہ کرلی۔ حدیث ابن مسعود ؓ میں ہے : التائب من الذنب کمن لاذنب لہ۔ گناہ سے توبہ کرنے والا گناہ نہ کرنے والے کی طرح ہوجاتا ہے۔ (رواہ ابن ماجہ)
یا رسول اللہ ﷺ کی صحبت کی برکت سے اللہ کی رحمت اس کو اپنی آغوش میں لے لے گی کیونکہ (برکت صحبت کے متعلق) رسول اللہ ﷺ نے اپنی امت کے نیک لوگوں کی بابت فرمایا تھا وہ ایسے لوگ ہوں گے کہ ان سے انس رکھنے والا نامراد نہ ہوگا۔ (بخاری ‘ ترمذی ‘ مسلم بروایت حضرت ابوہریرہ ؓ جب عام صالحین کی صحبت میں رہنے والوں کی یہ کیفیت ہے تو ان لوگوں کی کیا حالت ہوگی جو مدت تک سیّد المرسلین ﷺ کی صحبت میں رہے ‘ واللہ اعلم۔
چونکہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں دو ہی گروہ تھے : 1) کامل مؤمن متقی ‘ 2) کافر۔ اسی لیے اللہ کا کلام انہی دونوں گروہوں کے تذکرہ سے بھرا ہوا ہے۔ گناہگار مسلمانوں کا ذکر تو بہت کم آیا ہے کیونکہ کلام کا رخ عموماً حاضرین کی طرف ہوتا ہے (اور آنے والوں کے لیے حکم کا شمول بطور نیابت ہوتا ہے اگر حاضرین کے ساتھ اس حکم کی خصوصیت نہ ہو) ۔
فرقہ مرجیہ نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ داخلۂ جہنم کافروں کے لیے مخصوص ہے۔ کوئی بدکار مسلمان آگ میں نہیں جائے گا۔ گناہ چھوٹا ہو یا بڑا اگر ایمان موجود ہو تو ضرر رساں نہیں ہوسکتا۔ مگر یہ استدلال صحیح نہیں ہے کیونکہ کفر کی حالت میں جب کوئی نیکی سود مند نہیں تو ایمان کی حالت میں گناہ ضرر رساں کس طرح نہ ہوگا۔ رافضیوں کا بھی یہی قول ہے۔ معتزلہ نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ کبیرہ گناہ کرنے والا ہمیشہ دوزخ میں رہے گا ‘ وہ مؤمن ہی نہیں ہے کیونکہ مرجیہ کو چھوڑ کر اور سب لوگ قائل ہیں کہ گناہ کبیرہ کا ارتکاب موجب جہنم ہے۔ اب اگر مرتکب کبیرہ کو مؤمن کہا جائے گا تو وہ اشقٰی نہ ہوگا اور اشقٰی نہ ہوگا تو جہنم میں کیسے جائے گا۔ اہل سنت نے آیت کی توضیح مختلف وجوہ کے ساتھ کی ہے جن کا ذکر ہم نے اوپر کردیا۔ ان توجیہات کی ضرورت (مختلف) نصوص کا تعارض دور کرنے کے لیے پڑتی ہے پھر تمام علماءِ (سلف و خلف) کا اجماع بھی ہے کہ اللہ شرک کو معاف نہیں فرمائے گا اور شرک کے سوا جس کو چاہے گا بخش دے گا ‘ خواہ اس نے توبہ کی ہو یا نہ کی ہو۔
اللہ نے فرمایا ہے : یا عبادی الذین اسرفوا علٰی انفسھم لا تقنطوا من رحمۃ اللہ ان اللہ یغفر الذنوب جمیعا انہ ھو الغفور الرحیم۔ اے میرے بندو ! جنہوں نے اپنے اوپر خود زیادتی کی ہے ‘ اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو ‘ اللہ سب گناہ بخش دے گا۔ بلاشبہ وہی غفور و رحیم ہے۔
دوسری آیت ہے : یغفر لمن یشاء و یعذب من یشاء۔ جس کو چاہے گا بخش دے گا اور جس کو چاہے گا عذاب دیگا۔ تیسری آیت میں ہے : من یعمل مثقال ذرۃ خیرا یرہٗ ۔ جو شخص ذرّہ برابر نیکی کرے گا وہ اس کے سامنے آئے گی۔ لہٰذا مؤمن کے لیے دوامی دوزخ کا قول درست نہیں خواہ وہ بدکار ہو اور اس کے گناہ معاف نہ کیے جائیں۔
رسول اللہ ﷺ کی حدیث : من قال لا الٰہ الاّ اللہ دخل الجنّۃ تو حد تواتر تک پہنچ گئی ہے جس نے لا اِلٰہ الاّ اللہ کہا وہ جنت میں داخل ہوگیا (یعنی اس کے لیے دوامی دوزخ نہیں ‘ خواہ گناہوں کا عذاب اس کو ایک مدت تک ہوتا رہے) ۔
پھر اللہ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ جو ذرّہ برابر بدی کرے گا تو وہ اس کے سامنے آئے گی یعنی اگر اللہ اس کو معاف نہ کرے گا اور عذاب دینا چاہے گا تو دوزخ کے اندر گناہ کی سزا اس کے سامنے آئے گی۔ اگر ممنوعات کے ارتکاب اور واجبات کے ترک کا تقاضا جہنم نہیں تو شریعت کے اوامرو نواہی فریب سے زیادہ حیثیت نہیں رکھیں گے اور اس کا قائل سوائے کاہن یا دیوانہ کے اور کوئی نہیں ہوسکتا۔
Ayah 92:17و سیجنبھا . اور دوزخ سے ضرور بچایا جائے گا۔ سین تحقیق کے لیے ہے۔
الاتقی . شرک جلی و خفی اور جسمانی ‘ قلبی اور نفسانی گناہوں سے پرہیز رکھنے و الا۔ اتقٰی کا درجہ اسی وقت حاصل ہوتا ہے جب نفس مزکّٰی اور مطمئنہ ہوجائے۔
Ayah 92:18الذی یوتی مالہ . جو اپنا مال غریبوں کو اور بردے آزاد کرنے کیلئے اور دوسرے مصارف خیر میں دیتا ہے۔
یتزکی . یؤتی سے بدل ہے یا یؤتی کے فاعل کی حالت کا اظہار ہے یعنی وہ مصارف خیر میں اس غرض سے مال خرچ کرتا ہے کہ وہ اللہ کے نزدیک پاک ہوجائے۔ ریاکاری اور شہرت طلبی اس کے پیش نظر نہیں ہوتی ‘ یا یتزکّٰی باب تفعل سے واحد مذکر مضارع غائب کا صیغہ ہے اور اس سے مراد ہے زکوٰۃ دینا۔ چونکہ مفہوم مخالف ہمارے نزدیک قابل اعتبار نہیں ‘ اس لیے آیت سے یہ نہیں معلوم ہوتا کہ جو اتقٰی نہ ہو یعنی تقی ہو وہ جہنم میں جائے گا اور شافعی (اگرچہ مفہوم مخالف کا اعتبار کرتے ہیں مگر ان) کے نزدیک بھی اس جگہ تقی کا داخل جہنم ہونا غیر معتبر ہے کیونکہ آیت کا نزول ایک واقعہ کے سلسلہ میں ہوا ہے گویا یہ کلام اس واقعہ کا بیان ہے کیونکہ باتفاق اہل تفسیر یہ آیت حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے متعلق نازل ہوئی تھی اور اس سے غرض یہ تھی کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ انبیاء کے علاوہ سب لوگوں سے زیادہ متقی ہیں۔ النّاس سے انبیاء کا استثناء بھی ہم نے عقل اور اجماع علماء اور مختلف نصوص شرعیہ کی بناء پر کیا ہے (ورنہ اس جگہ الف لام استغراقی ہی ہے اور حضرت ابوبکر ؓ کے اتقی الناس ہونے کی صراحت ہے) ۔
آیت میں لفظ اتقٰی احترازی نہیں کہ تقی کے جہنم میں داخل ہونے کا حکم بطور مفہوم مخالف سمجھا جائے اور اگر اتقٰی کے مخالف تقی کو مانا بھی جائے اور مفہوم مخالفت کے طور پر تقی کا جہنم میں داخل ہونا سمجھ بھی لیا جائے تب بھی تقی سے مراد وہ شخص ہوگا جو صرف شرک سے مجتنب ہو۔ شرک اور معاصی سب سے پرہیز کرنے والا (جو اتقٰی کے درجہ تک ابھی نہ پہنچا ہو۔ اس حکم میں داخل نہ ہوگا (اور صرف شرک سے بچنے والے کو عذاب جہنم ہونا جائز ہے) ۔
ابن ابی حاتم نے عروہ کی روایت سے لکھا ہے کہ حضرت ابوبکر ؓ نے ایسے سات غلام (خرید کر) آزاد کیے تھے جن کو مسلمان ہونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا تھا۔ اس پر آیت : و سیجنبھا الاتقٰی الذی ...... نازل ہوئی۔
میں کہتا ہوں تو اس صورت میں الف لام عہدی ہوگا اور (معہود حضرت ابوبکر صدیق ؓ حاکم نے بروایت عامر بن عبداللہ بن زبیر ؓ لکھا ہے کہ ابو قحافہ نے ابوبکر سے کہا : میں دیکھتا ہوں کہ تم کمزور غلاموں کو (خرید کر) آزاد کرتے ہو (جو آزاد ہونے کے بعد تمہاری کوئی مدد نہیں کرسکتے) اگر تم طاقتور مردوں کو (خرید کر) آزاد کرو تو وہ تمہاری حفاظت بھی کریں اور تمہاری خدمت بھی کریں۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے فرمایا : ابّا ! میں اس چیز کا طالب ہوں جو اللہ کے پاس ہے (یعنی جنت) اس پر آیت : فاما من اعطٰی واتقٰی ..... آکر سورت تک نازل ہوئی۔ محمد بن اسحاق نے بیان کیا ہے کہ حضرت بلال ؓ کے باپ کا نام رباح اور ماں کا نام حمامۃ تھا۔ آپ خاندان بنی جمح میں سے کسی کے غلام تھے ‘ مگر آپ اسلام میں سچے اور پاکیزہ دل والے تھے۔ امیّہ بن خلف تپتی دوپہر میں آپ کو باہر نکال کر مکہ کی وادی میں پشت کے بل لٹا دیتا تھا اور اوپر سے ایک بڑا بھاری پتھر رکھوا دیتا تھا ‘ پھر کہتا تھا یا تو محمد ﷺ کا انکار کر ورنہ اسی حالت میں مرجائے گا (مرنے تک یونہی رکھوں گا) مگر حضرت بلال ؓ اس تکلیف میں بھی احد ‘ احد ہی کہتے تھے۔
محمد بن اسحاق نے بروایت ہشام بن عروہ۔ عروہ کا قول نقل کیا ہے کہ ایک روز حضرت بلال کی طرف سے حضرت ابوبکرؓ کا گزر ہوا۔ لوگ بلال کے ساتھ یہی حرکت کر رہے تھے۔ حضرت ابوبکر کا مکان بھی بنی جمح کے محلہ میں ہی تھا۔ آپ ؓ نے امیہ سے فرمایا : اس بیچارے کے معاملہ میں تم کو ڈر نہیں لگتا۔ امیّہ نے کہا : تم ہی اس کو لے کر اس مصیبت سے رہائی دلا دو ۔
حضرت ابوبکر ؓ نے فرمایا : میں ایسا کروں گا ‘ میرے پاس ایک بڑا طاقتور قوی حبشی غلام ہے ‘ میں اس کے عوض وہ غلام تم کو دیتا ہوں۔ امیہ نے کہا میں نے (تبادلہ) کرلیا۔ حضرت ابوبکر ؓ نے اپنے غلام کو دے دیا اور بلال کو لے کر آزاد کردیا پھر ہجرت سے پہلے ہی حضرت بلال کے ساتھ چھ (ایسے ہی غلام) اور بھی آزاد کیے۔ بلال ساتویں تھے۔ ان میں سے ایک عامر بن فہیرہ تھے جو بدر میں شریک تھے اور بئر معونہ کے واقعہ میں شہید ہوئے۔ ایک امّ امیس تھی ‘ آزادی کے وقت ان کی نگاہ جاتی رہی تھی جس پر قریش کہنے لگے تھے کہ آزادی نے اس کی نگاہ کھو دی۔ ایک امّ عمیس کی بیٹی ہدنہ تھی ‘ یہ دونوں ماں بیٹیاں خاندان عبدالدار کی ایک عورت کی باندیاں تھیں اور ان کی مالکہ ان سے آٹا پسواتی تھی اور کہتی تھی ‘ خدا کی قسم میں تم کو آزاد نہیں کروں گی۔ حضرت ابوبکر ؓ نے اس سے فرمایا : اری فلاں کی ماں ان دونوں کا بند خلاص کر دے۔ اس نے جواب دیا تم ہی ان کا عوض دے کر ان کو آزاد کر دو ۔ حضرت نے پوچھا : کیا قیمت لے گی ؟ اس نے کچھ قیمت بتائی۔ حضرت ابوبکر ؓ نے فرمایا : میں نے (اس قیمت پر) ان کو لیا اور یہ دونوں آزاد ہیں۔
بنی مؤمل کے خاندان کی ایک لونڈی تھی جس کو اسلام کی وجہ سے دکھ دیئے جاتے تھے۔ حضرت ابوبکر ؓ نے اس کو بھی خرید کر آزاد کردیا۔ سعید بن مسیب نے کہا : مجھے اطلاع ملی ہے کہ حضرت ابوبکر ؓ نے جب بلال کو خریدنے کی خواہش کی تو امیہ بن خلف نے جواب دیا : ہاں ! میں بلال کو بیچتا ہوں مگر نسطاش کے عوض بیچوں گا۔ نسطاش حضرت ابوبکر کا غلام تھا۔ حضرت ابوبکر ؓ کے پاس دس ہزار دینار اور بہت باندی ‘ غلام اور مویشی تھے۔ آپ نے نسطاش کو مسلمان ہونے کی ترغیب دی تھی اور فرمایا تھا کہ اگر تو مسلمان ہوجائے تو یہ سب مال تیرا ہوگا لیکن نسطاش نے انکار کردیا تھا ‘ آپ کو اس سے نفرت ہوگئی۔
جب امیہ نے بلال کو نسطاش کے عوض بیچنے کا اظہار کیا تو حضرت ابوبکر ؓ نے اس کو غنیمت جانا اور تبادلہ کرلیا اس پر مشرک کہنے لگے : بلال کا ابوبکر پر کوئی احسان ہوگا جس کی وجہ سے ابوبکر نے یہ سودا کیا۔ اس پر مندرجہ ذیل آیت نازل ہوئی۔
Ayah 92:19وما لاحد عندہ من نعمۃ تجزی . یعنی بلال یا کسی دوسرے غلام کا ابوبکر ؓ پر کوئی ایسا احسان نہ تھا ‘ جسکا
بدلہ دیا جاتا۔
بزار نے حضرت ابن زبیر کی روایت سے بیان کیا ہے کہ یہ آیت حضرت ابوبکر ؓ کے متعلق نازل ہوئی تھی۔ پورا جملہ یؤتی کے فاعل سے حال ہے یامستانفہ ہے اور ایک وہمی سوال کا جواب ہے (سوال ہوسکتا تھا کہ ابوبکر پر اس غلام کا کچھ احسان ہوگا جس کے بدلہ میں حضرت نے اس کو خرید کر آزاد کیا تو اس کو دور کرنے کے لیے فرمایا کہ) کسی کا ابوبکر ؓ پر کوئی احسان نہ تھا کہ وہ مال خرچ کرتے اور اس کو خرید کر آزاد کرتے اور اس طرح احسان کا بدلہ چکاتے۔
Ayah 92:20الا ابتغا وجہ ربہ الاعلی . یا تو استثناء منقطع ہے بلکہ اپنے ربِّ برتر کی خوشنودی کی طلب میں اس نے ایسا
کیا یا استثناء متصل ہے مگر مستثنیٰ منہ محذوف ہے یعنی وہ کسی غرض کے لیے اور احسان کا بدلہ چکانے کے لیے ایسا نہیں کرتا ‘ سوائے اس کے کہ اپنے رب کی مرضی طلب کرتا ہے اور اس کی خوشنودگی کا خواستگار ہے۔
Ayah 92:21ولسوف یرضی . اور اللہ اس کے اس فعل سے ضرور راضی ہوگا یا وہ اللہ کی عطاء کردہ جزاء اور عزت سے آخرت میں خوش بھی ہوجائے گا۔ یہ آیت حضرت ابوبکر ؓ کے متعلق اسی طرح ہے جس طرح رسول اللہ ﷺ کو خطاب کر کے اللہ نے فرمایا ہے : ولسوف یعطیک ربک فترضٰی۔
انبیاء کے علاوہ حضرت ابوبکر ؓ کا سب لوگوں سے زیادہ متقی ہونا بتارہا ہے کہ آپ سب سے افضل بھی تھے کیونکہ اللہ نے فرمایا : ان اکرمکم عند اللہ اتقٰکم۔ اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ معزز تم میں سے وہی ہے جو سب سے زیادہ متقی ہو۔ اجماع اہل سنت بھی اسی پر ہے۔ حضرت ابن عمر ؓ نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں ہم حضرت ابوبکر ؓ کے ہم پلہ کسی کو نہیں سمجھتے تھے۔ آپ ؓ کے بعد حضرت عمر ؓ تھے ‘ پھر حضرت عثمان ؓ تھے پھر باقی صحابہ کو ہم یوں ہی چھوڑ دیتے تھے ‘ کسی کو کسی پر فضیلت نہیں دیتے تھے۔ (بخاری)
محمد بن حنفیہ نے حضرت علی ؓ سے پوچھا : رسول اللہ ﷺ کے بعد سب سے افضل کون تھا ؟ فرمایا : ابوبکر ؓ ۔ پوچھا : پھر کون ؟ فرمایا : عمر ؓ ۔ (بخاری)
ہم نے اس مبحث کی پوری تفصیل اور اس سلسلہ کی احادیث ‘ آثار اور روایات اجماع اپنی کتاب السیف المسلول میں جمع کردی ہیں۔