Ayah 92:1(92:1) والیل اذا یغشی : جملہ قسمیہ ہے۔ اذا۔ ظرف زمان۔ بمعنی جب۔ یغشی مضارع واحد مذکر غائب۔ مفعول یغشی محذوف ہے۔ اس کی یہ صورتیں ہوسکتی ہیں۔:۔
(1) یغشی کا مفعول الشمس ہے۔ جیسا کہ والیل اذا یغشھا (91:3) میں آیا ہے۔ قسم ہے رات کی جب سورج کو ڈھانپ لے
(2) یا النھار اس کا مفعول ہے۔ جیسا کہ دوسری آیت میں آیا ہے یغشی الیل النھار رات سورج کو ڈھانپ لے۔ (7:54)
(3) یا اس کا مفعول ہے ہر چیز جو رات کے اندھیرے میں چھپائی جاتی ہے جیسے آیت زیر مطالعہ۔ قسم ہے رات کی جب وہ (ہر چیز پر) چھا جائے۔ (ترجمہ تفسیر ضیاء القرآن)
Ayah 92:2(92:2) والنھار اذا تجلی : النھار کا عطف الیل پر ہے۔
تجلی ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب تجلی (تفعل) مصدر سے۔ وہ روشن ہوا ۔
ترجمہ :۔ اقر قسم ہے دن کی جب وہ روشن ہوجائے۔
Ayah 92:3(92:3) وما خلق الذکر والانثی۔ اس جملہ کا عطف جملہ سابقہ پر ہے۔ واؤ قسمیہ ہے۔ ما کی آیات (91:5-7) کی دو صورتیں ہیں
(1) ما مصدریہ ہے۔
(2) یا موصولہ ہے ۔ پہلی صورت میں ترجمہ ہوگا :۔ قسم ہے نر و مادہ پیدا کرنے کی اور دوسری صورت میں ترجمہ ہوگا :َ اور قسم ہے اس ذات پاک کی (یعنی اپنی) کہ جس نے نر و مادہ پیدا کئے۔
Ayah 92:4(92:4) ان سعیکم لشتی۔ جواب قسم ہے۔ ان حرف تحقیق۔ بیشک تحقیق، حرف مشبہ بالفعل۔ سعیکم مضاف مضاف الیہ۔ تمہاری کوشش۔ اسم ان لشتی اس کی خبر۔ لام تاکید کا۔ شتی۔ طرح طرح ۔ جدا جدا۔ متفرق، مختلف، پراگندہ۔
بعض کے نزدیک یہ لفظ مفرد ہے اور بعض نے اس کو شتیت کی جمع بیان کیا ہے جیسے مریض کی جمع مرضی۔
ان سعیکم لشتی۔ بیشک تمہارے اعمال ، تمہاری کوششیں مختلف ہیں کوئی دوزخ سے گلو خلاصی اور مراتب جنت و مدارج قرب کے حصول کی کوشش کرتا ہے۔ اور کوئی اپنے نفس کو ہلاک کرنے کی۔
Ayah 92:5(92:5) فاما من اعطی واتقی وصدق بالحسنی : (یہ اختلاف سعی کی صورتیں بیان ہو رہی ہیں) ۔
جملہ شرطیہ ہے۔ اما حرف شرط۔ بمعنی سو۔ پھر۔ من شرطیہ جس نے اعطی ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ اعطاء (افعال) مصدر۔ اس نے دیا۔ اس نے عطا کیا۔
واؤ عاطفہ، اتقی ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب اتقاء (افتعال) مصدر وہ ڈرا۔ اس نے پرہیز کیا۔ اور اس نے پرہیزگاری اختیار کی۔ اتقی کا عطف اعطی پر ہے۔
ترجمہ ہوگا :۔ پھر جس نے (اللہ کی راہ میں) دیا۔ اور پرہیزگاری اختیار کی۔
Ayah 92:6(92:6) وصدق بالحسنی۔ واؤ عاطفہ۔ اس کا عطف فاما من اعطی پر ہے۔ صدق ماضی واحد مذکر غائب تصدیق (تفعیل) مصدر اس نے سچ مانا۔ اس نے تصدیق کی۔ وہ یقین لایا۔
الحسنی : حسن سے بروزن فعلی افعل التفضیل کا صیغہ واحد مؤنث ہے ۔ اچھی۔ عمدہ بات۔ (یعنی کلمہ توحید) اور اس نے نیک بات (کلمہ توحید) کو سچ جانا۔
Ayah 92:7(92:7) فسنیسرہ للیسری۔ جملہ جواب شرط ہےجواب شرط کے لئے ہے۔ س بمعنی سوف۔ عنقریب۔ نیسر مضارع جمع متکلم تیسیر (تفعیل) مصدر سے۔ ہم آسان کردیتے ہیں۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب جس کا مرجع من ہے۔ یسری اسم تفضیل کا صیغہ واحد مؤنث معرف باللام ۔ ایسر واحد مذکر یسر مصدر۔ آسان طریقہ، یعنی وہ عمل جو رضائے الٰہی کا موجب ہو۔ تو ہم اس کے لئے سہولت پیدا کردیں گے۔ اس کو توفیق دیں گے ۔ یسری کی۔ یعنی ایسے خصائل کی جو اس کو یسر اور راحت تک پہنچا دیں گے۔
یہ لفظ یسر الفرس کے محاورہ سے ماخوذ ہے۔ یسر الفرس کا معنی ہے اس نے گھوڑے کو زین اور لگام دی۔
Ayah 92:8(92:8) واما من بخل واستغنی۔ جملہ عاطفہ اور شرطیہ ہےعاطفہ اور من شرطیہ ہے۔ بخل ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب بخل (باب سمع) مصدر۔ اس نے بخل کیا۔ اس نے کنجوسی کی۔
واؤ عاطفہ استغنی ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب استغناء (استفعال) مصدر اس نے بےپروائی کی۔ اس کا عطف بخل پر ہے۔ اور جس نے کنجوسی کی اور (آخرت کی) پرواہ نہ کی۔
Ayah 92:9(92:9) وکذب بالحسنی اس کا عطف جملہ سابقہ پر ہے اور اس نے سچ بات کو جھٹلایا۔ کذب تکذیب (تفعیل) مصدر سے۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔
Ayah 92:10(92:10) فسنیسرہ للعسری۔ ہم اس کے لئے سہولت پیدا کردیتے ہیں۔ (ملاحظہ ہو 92:7 مذکورہ بالا)
للعسری : عسری، شختی، دشواری، سخت چیز۔ مشکل کام۔ عسر سے بروزن فعلی افعل التفضیل کا صیغہ واحد مؤنث ہے اعسر صیغہ واحد مذکر۔
جملہ کا مطلب یہ ہے کہ اگر وہ کلمہ توحید و رسالت کا انکار کرے اور جھٹلائے تو ہم اس کو ایسی خصلتوں کی توفیق دیں گے جو اس کو دشواری، شدت ، اور دوزخ کی طرف لیجائیں گی۔
مقاتل نے عسری کی تشریح میں کہا :۔ بھلائی کے کام کرنا اس کے لئے دشوار ہوجائے گا۔
الیسری اور العسری کی تفسیر میں علماء کے متعدد اقوال ہیں :۔
(1) یسری سے مراد جنت ہے اور عسری سے مراد دوزخ ہے۔
(2) یسری سے مراد خیر ہے اور عسری سے مراد شر ہے۔
(3) یسری سے مراد طاعت کی طرف مڑنا اور عسری سے مراد قبائح کی طرف رجوع کرنا۔
مثلا بخل سے کام لینا۔ توحید اور رسولت سے انکار کرنا۔
Ayah 92:11(92:11) وما یغنی : مضارع منفی واحد مذکر غائب اغناء (افعال) مصدر کام نہیں آئے گا۔ فائدہ نہیں پہنچائے گا۔ دفع نہیں کرے گا۔
اذا ظرف زمان۔ تردی ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب تردی (تفعل) مصدر نیچے گرنا۔ گڑھے میں گرنا۔ (ردی مادہ) یہاں مراد قبر کے گڑھے میں گرنا یا جہنم کے گڑھے میں گرنا۔ یعنی جب وہ قبر کے گڑھے میں چلا جائے گا۔ مرنے کے بعد تو اس کا مال اوروں کے کام آئے گا اس کے اپنے کسی کام نہ آئے گا اور اگر جہنم میں پہنچ گیا تو یہ مال اس سے عذاب کو دفع نہ کرسکے گا۔
Ayah 92:12(92:12) ان علینا للھدی : ان حرف تحقیق مشبہ بالفعل الھدی اسم ان علینا اس کی خبر۔ تحقیق ہم پر (صرف) رہنمائی کردینا ہے۔
Ayah 92:13(92:13) وان لنا للاخرۃ والاولی ۔ للاخرۃ معطوف علیہ والاولی معطوف۔ دونوں مل کر اسم ان ۔ لنا خبر ان۔ مجموعا جملہ عطف جملہ سابقہ پر ہے اور آخرت و دنیا (دونوں) ہمارے ہی بس میں ہیں۔
Ayah 92:14(92:14) فانذرتکم نارا تلظی :سببیہ ہے اللہ کا مالک دارین اور خالق کونین ہونا سبب تحویف ہے۔ نارا متعلق انذرتکم ہے اور موصوف ہے۔ تلظی اس کی صفت ہے۔ صیغہ واحد مؤنث غائب۔ وہ بھڑکتی ہے۔ وہ شعلہ مارتی ہے۔ تلظی (تفعل) مصدر سے۔ جس کے معنی آگ کے لپیٹیں مارنے، شعلے بلند کرنے اور بھڑکنے کے ہیں۔ یہ اصل میں تتلظی تھا۔ تخفیفاً ایک تاء کو حذف کردیا گیا۔
ترجمہ :۔ پس میں تم کو بھڑکتی آگ سے ڈراتا ہوں۔
Ayah 92:15(92:15) لایصلھا الا الاشقی : لا یصلی مضارع منفی واحد مذکر غائب صلی (باب سمع) مصدر۔ وہ داخل ہوگا۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع نارا ہے۔ اس آگ میں نہیں کوئی داخل ہوگا۔
الا الاشقی۔ استثناء متصل۔ یعنی سوائے اشقی (بدبخت) کے کوئی دوامی طور پر اس میں داخل نہیں ہوگا۔
اور اشقی وہ کافر اور مشرک ہے الذی کذب وتولی (اگلی آیت) اس جگہ اشقی (اسم تفضیل) بمعنی شقی (صفت مشبہ) کے ہے۔ اس لئے کافر بھی اس میں داخل ہے اور وہ مسلم فاسق بھی جس کی مغفرت نہ کی جائے۔
Ayah 92:16(92:16) الذی کذب وتولی : الذی کذب اسم موصول وصلہ تولی معطوف علی تولی۔ دونوں جملے صفت ہیں الاشقی کی۔
تولی ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب تولی (تفعل) مصدر سے۔ پیٹھ پھیرنا۔ روگردانی کرنا۔ جو (دین حق کو) جھٹلاتا رہا۔ اور اس سے منہ موڑے رکھا۔
Ayah 92:17(92:17) وسیجنبھا الاتقی۔ واؤ عاطفہ۔ س بمعنی تحقیق۔ یجنب مضارع مجہول واحد مذکر غائب۔ یجنب (تفعیل) مصدر۔ ایک جانب رکھا جائے گا۔ ایک طرف رکھا جائے گا۔ بچایا جائے گا۔ محفوظ رکھا جائے گا۔ ھا ضمیر مفعول واحد مذکر غائب کا مرجع نارا ہے۔
الاتقی : وقی سے افعل التفضیل کا صیغہ ہے یہ بھی اشقی کی طرح بمعنی تقی (صفت مشبہ) آیا ہے ۔ اور یجنب کا مفعول مالم یسم فاعلہ ہے۔
ترجمہ ہوگا :۔ اور تحقیق اس آگ سے محفوظ رکھا جائے گا وہ پکا پرہیزگار ۔۔
Ayah 92:18(92:18) الذی یؤتی مالہ یتزکی : الذی اسم موسول واحد مذکر یؤتی صلہ مالہ متعلق یؤتی ۔ یتزکی حال ہے ضمیر فاعل یؤتی سے ۔ جملہ صفت ہے۔ الاتقی کی۔
یؤتی مضارع واحد مذکر غائب۔ ایتاء (افعال) مصدر سے۔ وہ دیتا ہے۔ یتزکی مضارع کا صیغہ واحد مذکر غائب تذ کی (تفعل) مصدر سے۔ وہ پاک کرتا ہے (کہ وہ پاک ہوجائے) ۔ دونوں آیات کا ترجمہ ہوگا :۔
اور تحقیق اس آگ سے وہ پکا پرہیزگار محفوظ رکھا جائے گا جو اپنا مال (خدا کی راہ میں) خرچ کرتا ہے کہ وہ پاک رہے۔
Ayah 92:19(92:19) وما لاحد عندہ من نعمۃ تجزی۔ جملہ فاعل یؤتی سے حال ہے۔ اور (حال یہ ہے کہ) اس پر کسی کا احسان بھی نہیں کہ جس کا بدلہ اسے تارنا ہو۔
لاحد کسی کا۔ عندہ میں ضمیر ہ واحد مذکر غائب مؤتی (خرچ کرنے والا) کی طرف راجع ہے۔
تجزی مضارع مجہول واحد مؤنث غائب جزاء (باب ضرب) مصدر سے وہ بدلہ دی جائے گی۔ اس کا بدلہ دیا جائے گا۔ وہ بدلہ ہوگی۔
Ayah 92:20(92:20) الا انتغاء وجہ ربہ الاعلی۔ یہ یا تو استثناء منقطع ہے۔ بلکہ اپنے رب کی خوشنودی کی طلب میں ایسا کیا۔
یا استثناء متصل ہے مگر مستثنیٰ منہ محذوف ہے۔ یعنی وہ کسی غرض کے لئے اور احسان کا بدلہ چکانے کے لئے ایسا نہیں کرتا سوائے اس کے کہ وہ اپنے رب کی مرضی طلب کرتا ہے اور اس کی خوشنودی کا طلب گار ہے۔
ابتغاء (افتعال) مصدر ہے بمعنی چاہنا۔ تلاش کرنا۔ مضاف ربہ مضاف مضاف الیہ مل کر مضاف الیہ وجہ کا جو مضاف ہے۔ مضاف اور مضاف الیہ مل کر مضاف الیہ ہوئے ابتغاء کے۔
الا علی : علو سے افعل التفضیل کا صیغہ سب سے برتر، سب سے اعلیٰ ، سب سے اوپر، غالب۔
ترجمہ ہوگا :۔ سوائے (اس کے کہ) اپنے پروردگار اعلیٰ کی خوشنودی کی طلب میں (خرچ کرتا ہے)
Ayah 92:21(92:21) ولسوف یرضی۔ واؤ عاطفہ۔ لام موطتہ القسم ہے۔ ای وت اللہ لسوف یرضی بما نؤتیہ من الاجر العظیم۔ خدا کی قسم وہ عنقریب اس اجر عظیم پر خوش ہوجائے گا جو اسے دیا جائے گا۔